Translater
07 اکتوبر 2022
ڈی جی جیل کا قتل : آتنکی سازش؟
جموں کشمیر میں ایک دل دہلانے والا اور حیرت انگیز قتل ہوا ہے یہ جمو ں کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل (جیل) ہیمنت کے لوہیا کا جمو میں قتل کر دیا گیا ۔ لوہیا کے مبینہ قتل کر نے والے ایک گھریلو نوکر کے طور پر کام کر رہے 23سال کے ایک لڑکے کو گرفتار کیا گیا ہے ۔پولیس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ پوری رات سرچ آپریشن کرانے کے بعد 23سالہ لڑکے یاسر لوہا کو کانہا چک علاقے کے ایک کھیت سے گرفتار کیا گیا ہے ۔1992بیچ کے آئی پی ایس افسر پیر کی رات جمو کے باہری علاقے میں اپنے دوست کے گھر پر مر دہ ملے تھے ان کے جسم پر جلنے کے داغ تھے، ان کا گلا کاٹا گیا تھا ۔ حالاںکہ پولیس دعویٰ کر رہی ہے کہ ابتدائی جانچ میں یہ واردات ایک آتنکی حملہ نہیں ہے ۔ ہماری رائے میں تو یہ ایک گہری سازش کی تحت قتل کا معاملہ دکھائی پڑتا ہے ۔ آتنکی گروپ پیپلس انٹی فاسسٹ فرنٹ (پی اے ایف ایف)نے افسر لوہیا کے قتل کی ذمہ داری لی ہے ۔یہ واردات ایسے وقت میں ہوئی جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمو ں کشمیر کے سہ روزہ دورے پر گئے ہوئے تھے ، اس آتنکی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اسپیشل دستے نے اس واردات کو انجام دیا ہے ۔تنظیم نے آن لائن بیان میں کہا کہ یہ اس ہندتو حکمرانی اور اس کی حمایت کرنے والوں کو وارننگ دینے کیلئے ہے ۔اس طرح کے سنسنی خیز کاروائی کی شروعات ہے ہم کبھی بھی اور کہیں بھی حملہ کر سکتے ہیں ۔یہ سیکورٹی سسٹم کے ساتھ دورے پر آئے ان کے وزیر داخلہ کیلئے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے ایشور نے چاہا تو ہم مستقبل میں بھی اس طرح کی کاروائی جاری رکھیں گے ۔ ہیمنت کے لوہیا کے قتل کا ملزم یاسر ہوہار کی ایک ڈائری ملی ہے ،اس میں لکھی ہوئی باتوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ الجھن میں تھا اور لوہیا کے گھر میں کام کرنے والے 23سالہ یاسر نے ڈائری میں لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی سے نفرت کرتا ہوں اور اے موت میں تیرا انتظار کرتا ہوں ساتھ ہی غم سے جڑے بالی ووڈ کے گیت بھی لکھے ملے ہیں ۔ پولیس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے تنگ آگیاتھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یاسرلوہار ڈپریشن میں تھا تو وہ خودکشی کرتا لیکن اس نے ڈائریکٹر جنر ل کا قتل کیوں کیا؟پولیس کو اس کہانی پر یقین نہیں ہو رہا ہے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس قتل کے پیچھے گہری سازش ہے جس کا پتا نہیں کہ پتا لگے گا؟ بہرحال جوبھی ہو اتنے سینئر افسر کا قتل یقینی طور سے بڑی بات ہے اور تشویش کا باعث بھی ہے ۔ جمو کشمیر میں حالات نارمل ہونے کے سرکار کے دعوے کی ایک طرح سے پول کھولتی ہے ۔
(انل نریندر)
دیش کے سامنے راکشس چنوتیاں!
کیا آر ایس ایس آئیڈیولوجی میں حالات کے مطابق تبدیلی آر ہی ہے؟اب تو سنگھ کانگریس و اپوزیشن کی زبان بولنے لگا ہے ۔میں نے تو اسی کالم میں کئی مرتبہ سرکار کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ دیش کی اہم پریشانیوں، مہنگائی ،بے روزگاری ،اقتصادی عدم توازن پر توجہ دیں اور ان کے حل کی طرف پالیسیاں بنائیں۔لیکن حکمراں پارٹی اور حکومت کو لگ رہا ہے کہ دیش میں ہندتو کے تلے سب کچھ دب جائے گا۔اور جنتا کو بانٹو اور راج کرو کے نعرے پر زیادہ یقین ہے لیکن اب تو آر ایس ایس نے بھی وہی زبان بولنا شروع کر دی ہے ۔ آر ایس ایس کے سر نگراں دتاکشہ ہوسبولے نے بھی اتوار کو کہاکہ دیش میں غریبی ،بے روزگاری اور آمدنی میں بڑھتا عدم توازن پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دیش کے سامنے ایک راکشش جیسی چنوتیوںکی شکل میں سامنے آر ہی ہے ۔سرکار کی نااہلی کی وجہ سے دیش میں غریبی بھی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں دیش میں صنعت کاروں کیلئے ایسا ماحول تیار کرنا ہوگا کہ نوکری مانگنے والے نوجوان نوکری دینے والے بنیں ۔ حالاںکہ ہوسبولے نے کہا کہ چنوتی سے نمٹنے کیلئے کچھ برسوں میں کئی قدم اٹھائے گئے ہیں۔سر کاریہ واہک نے آر ایس ایس سے جڑے سودیشی جاگرن منچ کے ذریعے منعقد ایک ویبنار میں کہا کہ ہمیں اس بات کا دکھ ہونا چاہئے کہ 20کروڑ لوگ خط افلاس کی نیچی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور 23کروڑ لوگ یومیہ 375روپے سے بھی کم کما رہے ہیں۔غریبی ہمارے سامنے ایک راکشش جیسی چنوتی ہے یہ اہم ہے کہ اس ٹرینڈ کو ختم کیا جائے شہریت ٹکراو¿ اور خراب سطح پر تعلیم غریبی کی دو اہم وجوہات ہیں۔ دیش بھر میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہیں صرف شہروں میں نوکریوں کی سوچ نے دیہاتوں کو خالی کر شہروں میں زندگی کو جہنم بنا دیا ہے ۔ مقامی سطح پر روزگار کا انتظام ضروری ہے ۔ وہ سودیشی جاگرن منچ کے ایک پروگرام میں بول رہے تھے ۔سنگھ سر کاریہ واہک کی یہ رائے زنی بلا شبہ سرکار کیلئے تشویش پیدا کرنے والی ہے مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ ان مسئلوں کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے اور ضروری قدم اٹھاتی ہے؟ کورونا وبا میں ہم نے دیکھا کہ دیہات میں بھی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں اسی مقصد سے آتم نر بھر بھارت کی شروعات کی گئی ہوسبولے میں آگے کہا کہ ہمیں صر ف آل انڈیا اسکیموں پر ہی دھیان نہیں دینا چاہئے بلکہ مقامی سطح کی پلاننگ بھی ہونی چاہئے یہ زراعت ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ کے سیکٹر میں کیا جانا چاہئے ۔ ہوسبولے نے چھوٹی صنعتوں میں دوبارہ نئی روح پھونکنے اور دیہی علاقوں میں اپنی پکڑ بنا نے کیلئے ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ سیکٹر میں اور زیادہ پہل کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ آر ایس ایس آئیڈلوجسٹس کی نظروں میں سنگھ کی پالیسیوں میں تھوڑی تبدیلی ضروری ہے اس لئے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کبھی مدرسے جا رہے ہیں تو بھی مولاناو¿ں سے گفتگو کررہے ہیں ۔ سنگھ کی آگاہی کا مرکزی سرکار پر کیا اثر ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)
04 اکتوبر 2022
سپریم کورٹ کی لائیو سماعت !
دنیا کی سب سے طاقتور عدالتوں میں شمار ہندوستان کی سپریم کورٹ نے لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے اپنے آپ کو صاف ستھر ا بنانے کی پہل میں ایک اہم ترین قدم اٹھایا ہے ۔ دیش کی تاریخ پہلی بار سپریم کورٹ نے منگل کو آئینی بنچ کی کاروائی کا سیدھا ٹیلی کاسٹ کر وایا ۔ جس کی شروعات ادھو ٹھاکر اور ایکناتھ شندے جھگڑے کی سماعت سے شروع ہوئی ۔چیف جسٹس یو یو للت کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ بڑی عدالت کے پاس جلد ہی یوٹیوب کا استعمال کرنے کے بجائے اپنی سماعت کاروائی کو سیدھے ٹیلی کاسٹ کرنے کا اپنا اسٹیج ہوگا۔ فلموں میں عدالت کے دکھائے جا نے والے تصوراتی مناظر سے ہٹ کر منگل وار کو سپریم کورٹے کے سیدھے درشن ہوئے ۔ تین نفری آئینی بنچ کے الگ الگ کورٹ روم میں سماعتیں کر رہی تھی۔ آئینی بنچ کے ججوںکے ساتھ سا تھ بحث کرنے والے دیش کے نامی گرامی وکیلوں کو بھی احساس تھا کہ سیدھے ٹیلی کاسٹ کے ذریعے لوگ عدالت کی سیدھی کاروائی دیکھ رہے ہیں۔ بند کمروں میں 72سال سے چلی آرہی سماعت کی روایت اب ختم ہو گئی ہے ۔ سیدھے ٹیلی کاسٹ کی سپریم کورٹ کی پہل کی دیش بھر میں تعریف ہو رہی ہے ۔ نامی وکیلوں کی بحث کو دیش بھر کے لوگوں نے بہت دلچسپی سے سنا ۔ ایک اندازے مطابق لائیو اسٹریم کے پہلے دن آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے تینوں آئینی بنچ کی سماعت دیکھی ۔صبح 10:30بجے سماعت شروع ہوئی تھی ۔ چیف جسٹس یویو للت کی سربراہی والی پانچ نفری آئینی بنچ نے اقصادی طور سے کمزور طبقے کو دس فیصدر ریزرویشن دینے کے مودی سرکار کے فیصلے کو چیلنج کردہ عرضیوں پر سماعت شروع کی ۔کئی وکیلوں نے اپنی دلیلیں رکھی کورٹ نمبر دو میں جسٹس چندر چوڑ کی سربراہی والی آئینی بنچ نے پہلے دن کی لائیو اسٹریمنگ سب سے زیادہ لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنی کیوں کہ شیو سینا کے دو گروپوں کی لڑائی میں دیش کے نامی وکیل موٹی موٹی کتابیں لیکر اپنی دلیل پیش کررہے تھے ۔ ان میں وکیل کپل سبل ،ابھیشیک منوسنگھوی ،مہیش جیٹھ ملانی ،نیرج کشن ،تشار مہتا نے اپنے اپنے موکلوں کی طرف سے زور دار بحث کی ۔ادھر علی گڑھ کی ضلع عدالت میں تیس سال سے وکالت کر رہے سنجیو نارائن سکسینہ نے لائیو اسٹریمنگ پر اپنی رائے میں کہا کہ سینئر وکیلوں کو داو¿ پینچ اور قانونی باریکیوںپر ان کی پکڑ نے واقعی متاثر کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کپل سبل کی گنتی دیش کے سب سے تجربہ کار وکیلوں میں ہوتی ہے ۔انہیں سن کر پتا چلا کہ ان کے تجربے اور دلائل سے پتا چلا کہ وہ وکالت میں چوٹی پر کیوں ہیں؟
(انل نریندر)
روسی صدر پوتن کی داداگری!
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو ریفرنڈ م کا حوالہ دیکر لاکھوں باشندوں کی خواہش قرار دیتے ہوئے یوکرین کے چار صوبوں کو الگ کر روس میں شامل کرنے کا اعلان کردیا ۔ اس کے بعد روسی پارلیمنٹ ڈوما نے بھی ان صوبوں کو روس کا حصہ ڈکلیئر کر دیا اس طرح روس نے زبردستی یوکرین کے 18فیصد حصے کو ہڑپ لیا ۔پوتن نے الزام لگایا کہ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے ہی امریکہ اور مغربی دیش روس کو چھوٹے ٹکروں میں بانٹنے کی کوشش کرتے رہے ہیں تاکہ ہم آپس میں لڑتے رہیں اور وہ ہمیں غلام بنا سکیں ۔کریملن میں منعقدہ ایک شاندار پروگرام میں پوتن نے کہا کہ لوہانسک ،ڈونیکس ،خیرسان اور جپورجیا علاقہ ہمیشہ کیلئے ہمارے دیش کا حصہ بن رہے ہیں ہم سبھی دستیاب وسائل اور پوری طاقت سے اپنی زمین کی حفاظت کریںگے ۔ مغربی دیش اپنے فائدے کیلئے کسی بھی دوسرے دیش میں اقتدار مخالف تحریک کو ہوا دیتے ہیں اور سرکاریں گرانے میں لگے رہتے ہیں۔ مغرب ممالک نے سچائی ،آزادی و انصاف کی قیمت پر بھارت جیسے ملکوںکو لوٹا تھا ۔پوتن نے کہا کہ مغربی ممالک نے اپنے سرمایہ دارانہ پالیسی وسط دور سے شروع کردی تھی پھر انہوں نے غلاموں کی تجارت کی ،امریکہ میں اصل شہریوں کا قتل کیا۔ بھارت اور افریقہ جیسے ملکوں کو لوٹا ۔ امریکہ یوکرین قابض والے علاقوں کو روس میں شامل کرنے والے معاہدوں پر دستخط کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ امریکہ نے جمعہ کو یوکرین کے روس کے قبضے سے جڑے ایک ہزار سے زائد لوگوں اور کمپنیوں پر پابندی لگادی ہے ۔اس میں اس کے سینٹرل بینک کے گورنر نیشنل سیکورٹی کاو¿نسل کے ممبران کے پریوار شامل ہیں ۔وہیں برطانیہ نے بھی روس پر پابندی لگادی ہے ۔ امریکی وزارت خزانہ نے روس کی آئین سازیہ کے سیکڑوں ممبروں ،دیش کے معاشی فوجی اداروں کے سربراہ جیسی شخصیتوں ،سپلائروں کے نا م بھی پابندی کی لسٹ میں ڈال دی ہے ۔ یوکرین کے چار علاقوں کے ضم کرنے کے خلاف اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں لایا گیا پرستاو¿ روس کے ویٹو کے بعد گر گیا ۔ بھارت ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہا ۔ یہ ریزولیوشن اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرینفلڈ نے پیش کیا تھا ۔ اس میں کسی دیش کے کسی دیش کو یوکرین کی یکجہتی میں تبدلی کو مسترد کرنے اور روس کی افواج کو ہٹانے کیلئے دباو¿ ڈالنے کی اپیل کی گئی تھی ۔یوکرین کے صدر زیلنسکی نے نیٹو کا فوجی معاون بننے کی رسمی درخواست پر دستخط کردئے ہیں اس سے روس کے مغربی ممالک کے ساتھ سیدھے ٹکراو¿ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ دراصل اتنی لمبی جنگ کے بعد بھی اپنے ارادوں میں ناکام رہاہے ۔ پوتن کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اس ہار کو جیت میں کیسے بدلیں ؟ شاید اسی مقصد سے ان چار صوبوں روس میں جوڑ کر وہ اس جنگ کو جیت میں بدلنا چاہتے ہیں یہ ہاری ہوئی بازی کو زبردستی جیت دکھانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا امریکہ اور مغربی ممالک پوتن کی دادا گری کو قبول کرلیں گے؟
(انل نریندر)
02 اکتوبر 2022
مہندی پور بالاجی کی اہمیت !
ہنومان جی کو کلیگ کا پردھان دیوتا کہا گیا ہے ۔ رام چرتر مانس کے مطابق ماتا سیتا نے انہیں اجرامر کا وردان دیا ہوا ہے اس بات کی تصدیق مہندی پور دھام کرتا ہے ۔شاشتروں میں بھی ہنومان جی کے امر ہونے کے ثبوت ہیں ۔ راجستھان کے دوسا ضلع میں مہندی پور نام کی ایک وادی ہے وہاں کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں پر ہنومان جی بال روپ میں ساکچھاتر ویراج رہے ہیںاور یہاں آنے والے سبھی بھکتوں کے سنکٹ کو پل بھر میں دور کر دیتے ہیں ۔ مہندی پور میں بالاجی مہاراج کی سرکا ر چلتی ہے ۔ یہاں پر آکر جس نے بھی ان کا اشرواد لے لیا اس کی ہر تمنا بالاجی مہاراج پوری کرتے ہیں۔ تبھی تو جو بھکت بالاجی کا درشن کر لیتا ہے وہ باربار مہندی پور جانے کیلئے خواہشمند رہتا ہے ۔روایت ہے کہ سچے دل سے جو بھکت ان کا دھیان کرتا ہے وہ انہیں درشن دیتے ہیں۔ مہندی پور میں بالاجی کے ساتھ ہی شری بھیرو بابا اور پریت راج سرکار کے بھی ساتھ درشن ہوتے ہیں یہاں پر تین دیو موجو د ہیں اس لئے کچھ بھکت اسے تری دیو دھام بھی کہتے ہیں ۔ شری بالاجی دربار کے ٹھیک سامنے سیتا -رام کا دربار ہے دربار آمنے سامنے ہے ایسا لگتا ہے کہ بالاجی مہاراج اپنے پر بھو شری رام اور ماتا سیتا کا درشن کر رہے ہوں ۔ اور پر بھو شری رام اور ماتا انہیں دیکھ کر من میں خوش ہو رہے ہوں ۔ بھوت پریت کے اثرات ہوں یا کسی بھی طرح کا سنکٹ ہوں یہاں آنے سے ہی ٹھیک ہو جا تا ہے ۔مہندی پور سے کھانے پینے کا کچھ بھی سامان گھر نہیں لایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہاں کے پرساد بھی گھر نہیں لایا جاتا ۔ کہتے ہیں کہ مہندی پور دھام سے کوئی بھی بھکت خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ہے ۔ بالاجی مہاراج سبھی کی دلی خواہشات پوری کرتے ہیں۔
(انل نریندر)
مندر منتظمہ کمیٹیاں سیاسی جاگیر نہیں ہو سکتی !
سپریم کورٹ نے پیر کو رائے دی کہ مندروں کی انتظامیہ کمیٹی سیاسی جاگیر نہیں ہو سکتی مندروں کے انتظام کو سیا ست اور پارٹی لائن سے الگ کیا جانا چاہئے ۔ بڑی عدالت نے کسی بھی حکمراں پارٹی کے ذریعے اپنے ممبران اسمبلی اور پارٹی ورکروں کے دھارمک ٹرسٹوںکی منتظمہ کمیٹیوں کو شامل کرنے کی روایت کا نامنظور کردیا ۔ جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کما ر کی بنچ نے شیڑڈی کے سائی بابا کنٹرول ٹرسٹ کی منتظمہ کمیٹی سے جڑے ایک معاملے کی سماعت میں یہ ریمارکس دیا ۔بنچ کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سیا سی پارٹیوں کو پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر بھکتوں کے مفاد می پوجا استھلوں کے انتظامیہ کو مضبوط کرنے کیلئے کام کر نا چاہئے ۔ سیاستداں کچھ مندروں کو لیکر اتنے سرگرم ہوجاتے ہیں کہ وہ انتظام کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ؟ جوبھی منیجمنٹ میں آتا ہے وہ مختلف وجوہات سے اپنے لوگوں کو اس میں شامل کرتا ہے ۔ بنچ نے پایا کی سائی بابا ٹرسٹ کی منیجمنٹ کمیٹی جسے بمبے ہائی کورٹ نے 13ستمبر کو اپنے ایک حکم سے ختم کردیا تھا اس میں این سی پی ،کانگریس اور شیو سینا کے ممبر شامل تھے ۔ مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پیش وکیل تشار مہتا نے بنچ کے فیصلے سے اتفاق جتایا اور کہا کہ مذہبی مقامات کی منیجمنٹ کمیٹیاں سیاسی جاگیر نہیں بن سکتی ۔
(انل نریندر)
بھارت کے نئے سی ڈی ایس!
جنرل بپن راوت کی ہوائی حادثے میں بد قسمت موت سے قریب 10مہینے بعدا ن کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ )انل چوہان کو دیش کا نئے اور دوسرے چیف آف اسٹاف ڈیفنس بنانے سے فوجی اصلاحات کی سمت میں تیزی آنے کا امکان ہے ۔سی ڈی ایس جو تینوں افواج کے چیف ہوتے ہیں اہم ذمہ داری بپن راو¿ت نے سنبھالی تھی ۔ بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کے دوران ڈائریکٹر جنرل آ ف ملیٹری آپریشن رہے اور چین کے امور کے واقف کار لیفٹننٹ جنرل انل چوہان (ریٹائرڈ ) کو نیا سی ڈی ایس مقرر کرنے سے ایک طرح سے انہیں بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کرنے کیلئے ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ وہ ریٹائر ہونے کے بعد اس عہدے پر آنے والے تھری اسٹار جنرل ہیں،فی الحال وہ این ایس اے اجیت ڈوبھال کی سربراہی والے این ایس سی این میں فوجی مشیر ہیں۔قریب 10مہینے بعد سرکار نے خالی پڑے سی ڈی ایس عہدے پر تقرری کی ہے ۔ 2019میں پلوامہ آتنکی حملے کے بعد پاکستان کے اندر گھس کر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپ پر ایئر اسٹرائیک کیا ۔بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کے دوران وہ ڈی جی ایم اوتھے ۔ 18مئی 1961کو پیدا ہوئے چوہان نے 1981میں گورکھا رائفلس میں ذمہ داری سنبھالی چالیس برس کے دوران فوج میں الگ الگ محکموں میں اور محازوں پر خدمات انجام دی ۔ انہیں جمو ں کشمیر اور نارتھ ایسٹ میں آتنکواد کچلنے کی کافی تجربہ ہے ۔ مئی 2021میں ریٹائر ہونے کے وقت وہ فوج کے مشرقی کمان کے جی او سی ان چیف تھے انہوں نے انگولہ اقوام متحدہ مشن میں بھی خدمات دی وہ بری فوج ،ایئر فورس و بحریہ کو یونیفائیڈ کو پور ا کرنے کیلئے نئے سی ڈی ایس کی پہلی چنوتی ہوگی۔ اس سلسلے میں پانچ تھیئٹر کمان بنانے کا کام انہیں آگے بڑھانا ہوگا۔ اس سال کی شروعات میں ایک کمانڈ بن جانی چاہیے تھی لیکن اس میں تاخیر ہوچکی ہے ۔ ایسے ہی فوج میں پرائیویٹ ساجھیداری اور ملک کی ڈیفنس خرید و فروخت بڑھا نا ۔ اگنی پتھ یوجنا کو کامیاب بنانا اور فوجی اصلاحات کے کچھ اشوز پر تینوں افواج کے درمیان بہتر اتفاق رائے اور تال میل بنانے کی سمت میں انہیں کام کرنا ہوگا۔ تجربہ اور سینئریٹی کے حساب سے تینوں فوج کے چیف سے وہ سینئر ہیں۔ سی ڈی ایس کی شکل میں ان کے سامنے چنوتیوں کا پہاڑ کھڑا ہے ۔ بیشک فوج کا چلانے کا اختیار سی ڈی ایس کے پاس نہیں ہوتا لیکن ایل اے سی پر چینی تعطل سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانے میں ان کا اہم ترین رول کا ثبوت بھی ہمیں آنے والے دنوں میں مل سکتاہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...