Translater
19 جون 2021
ایک ووٹ سے اسرائیلی پی ایم بنے نفتالی!
اسرائیل میں آخر کار بارہ سال بعد نیتن یاھو دور کا خاتمہ ہوگیا اسرائیل کی پارلیمنٹ نے نسیٹ نے نیتن یاھو کے قریبی رہے 49بینیٹ نفتالی کو ملک کا پی ایم چنا اور انہوں نے اتوار کو ہی عہدے کاحلف لیا پارلیمنٹ میں اپنے پہلے ایڈریس میں انہوں نے کہا کہ دیش ایک نئی سمت میں بڑھ رہا ہے اسرائیل کے شہری ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ان کی امیدوں پر کھرا اترنا ہماری ذمہ داری ہے بنجامن نیتن یاھو کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ انہوں نے دیش کیلئے بہت سی قربانیاں دی ہیں نیفتالی نے نئی اتحادی سرکار بنائی ہے اس میں پہلی بار عرب مسلم پارٹی (رام)بھی شامل ہے پارلیمنٹ میں اکثریت کیلئے اعتماد کی تحریک کے دوران نفتالی کے حق میں ساٹھ ووٹ جبکہ مخالفت میں 59ووٹ پڑے یعنی اتحادی سرکار اور اپوزیشن کے درمیان صرف ایک سیٹ کا فرق ہے اس سرکار میں دو پی ایم بنیں گے اس سرکار کی میعاد ستمبر 2023تک رہے گی۔ نفتالی کے بعد موجودہ سرکار میں وزیر خارجہ لیپیڈ کو وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیں گے وہ نومبر 2025تک اس عہدے پر فائز رہیں گے اسرائیل میں دوسال میں چار بار چناو¿ ہوئے کوئی پارٹی اکثریت نہیں حاصل کر پائی اگر کسی مسئلے پرنفتالی حکومت میں اختلاف ہا تو سرکار گر سکتی ہے لیکن بھارت اسرائیل تعلقات پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور نیتن یاھو کے خوشگوار تعلق رہے ہیں پچھلے کچھ عرصے سے دونوں کے بیچ فوجی اور سیاسی ساجھیداری بڑھ رہی ہے واقف کاروں کے مطابق اسرائیل میں تبدیلی اقتدار سے بھارت کے ساتھ رشتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ نائب وزیر اعظم بینیٹ سے بھی نیتن یاہو کی خارجہ پالیسی پر تعمیل کرنے کی امید کی جاتی ہے ۔
(انل نریندر)
تیسری لہر کیلئے آپ خود ذمہ دار ہونگے !
دہلی کے شہریوں نے دیکھا کہ سیکینڈ لہر کتنی خطرناک تھی اپنے آس پاس کے کئی لوگوں کو کھو دیا ہے اس وقت لوگ سہمے ہوئے تھے لیکن اب جب کورونا کے کیس کم ہوئے ہیں تو لوگوں نے پھر سے لا پرواہی برتنی شروع کر دی ہے بازاروں میں مال کے اندر بے فکر ہوکر نہ تو سماجی دوری بنانے کی تعمیل کر رہے ہیں نا ہی ماسک پہن رہے ہیں اگر وہ کوویڈ پروٹوکال کی تعمیل کریں گے تبھی تیسری لہر نہیں آئے گی لیکن اگر ان کا یہی رویہ رہا تو یہ تیسری لہر ان کی لاپرواہی کی وجہ سے آئے گی جو کئی گنا زیادہ خطرناک ہوگی یہ بات آر ایم ایل اسپتال کے ڈین ڈاکٹر راجیو سود کہتے ہیں کہ دہلی میں تقریباً سب کچھ کھول دیا گیا ہے لوگ خوب باہر آ جا رہے ہیں اور کہیں تو لو گ ماسک بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں پہن رہے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں ماسک پہن ہی نہیں رہے ہیں اور سماجی دوری بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے ایسے میں لوگ خود ہی تیسری لہر کو دعوت دے رہے ہیں ان کو سمجھنا چاہئے کہ اگلی لہر آئی تو ان کی زندگی کیلئے زیادہ خطرناک ہوگی اور پھرسے سب کے روزگار بند ہو جائیں گے اس میں سرکار یا کسی دوسرے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا لوگوں کو چاہئے جب بھی باہر نکلیں تو دوہرا ماسک لگا کر نکلیں سود کا کہنا کہ جلد سے جلد ویکسین لگوائیں اس سے ایک طرح کی حفاظت ملتی ہے اور آپ کی صحت پر مضر اثر نہیں پڑے گا اگر کورونا کے ہلکے اثرات دکھائی دیتے ہیں تو وہ شخص ٹھیک ہوجا تا ہے ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ تیسری لہر کا بچوں پر بھی اثر ہوگا وائرس اپنی شکل بدل کر آئے گا اور یہ اس لئے ہوگا کیونکہ بڑی عمر کے زیادہ لوگو ویکسین لگوا چکیں ہونگے مگر بچوں کیلئے ابھی ویکسین نہیں آئی ہے ایسے میں ان کو بچانے کا سب سے بڑھیاں طریقہ ہے کہ آپ کسی طرح کی لا پرواہی نہ برتیں میٹرو میں اوسطاً دو سو لوگوں کے چالان کاٹے جا رہے ہیں بازارسڑکوں میں چالان کاٹے جانے کی تعداد زیادہ ہے اب بھی سنبھل جاو¿ اسی میں سبھی کی سلامتی ہے ۔
(انل نریندر)
ٹوٹر بنام بھارت سرکار کی جنگ !
ٹوٹر بنام بھارت سرکار کی جنگ اس سال جنوری کی آخر میں شروع ہوئیں یوم جمہوریت کے دن دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی تشدد میں بدل گئی اس دوران ٹوٹر پر مبینہ طور پر کئی فیک نیوز اور بڑھیکلے مواد شیئر کئے جاتے رہے 31جنوری کو حکومت نے ٹوٹر سے کچھ اکاو¿نٹس کے خلاف کاروائی کرنے کو کہا ۔ ٹوٹر نے 257اکاو¿نٹس کو سسپینڈ کر دیا لیکن کچھ دیر بعد ہی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ان ہینڈلس کو بحال کر دیا اس سے سرکار اور ٹوٹر میں چھن گئی ۔ نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی قواعد کو لیکر ٹوٹر نے کہا کہ اس میں کچھ ایسے پہلو ہیں جو اظہار رائے کی آزادی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اس کا کہنا تھا کہ بھارت کی طئیں وہ پوری طرح سے پابند رہا ہے اور اپنے پلیٹ فارم پر اس سلسلے میں پبلک بحث کی سہولت بھی لے رہا ہے ایسے کچھ واقعات ہوئے ہیں جس سے ٹکراو¿ اور بڑھا ہے ۔ ٹوٹر نے لداخ کے کچھ حصے کو غلطی سے چین کے نقشے میں دکھا دیا غلطی درست کرنے میں ٹوٹر نے کئی دنوں کا وقت لے لیا ماحولیات رضا کار گریٹا تھن برگ کے ٹول کٹ کا معاملہ سامنے آگیا کورونا وائرس کےB.1.6ویرینٹ کو انڈین ویرینٹ لکھنے والی پوسٹ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی قواعدکو لیکر ہوا تنازع ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ یوزر والی کمپنیوں پر قواعد لاگو ہوئے اور کمپنیوں کے لئے ہر میسیج کے ذرائع کو پتہ لگانا ضروری ہوگا اتھورائز ایجنسیوں کے اعتراض کے چھتیس گھنٹوں کے اندر قابل اعتراض کنٹینٹ ہٹانا پڑے گا۔ فحاشی پوسٹ کے علاوہ ان تصویروں کو شکایت ملنے کے 24گھنٹے کے اندر ہٹا نا ہوگا جن سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے کمپنیوں کو دیش میں چیف تعمیل افسر ، نوڈل افسر اژالہ افسر کی تقرری کرنی پڑے گی ۔ مہانہ رپورٹ شائع کرنی ہوگی جس میں ملی شکایتوں اور ان پر کی گئی کاروائیوں کی تفصیل دینی ہوگی مرکزی وزیر اطلاعات ٹیکنالوجی و قانون روی شنکر پرساد نے کہا ٹوٹر نئے آئی ٹی قواعد کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے سوشل میڈیا کمپنی نے کئی موقع ملنے کے باوجود جان بوجھ کر قواعد پر تعمیل نہیں کی ۔ مرکزی وزیر کے بیان سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ ٹوٹر کا سوشل میڈیا کا درجہ ختم ہوگیا ہے یوپی کے غازی آباد میں ٹوٹر کے خلاف فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کے معاملے میں قصور وار پائے جانے پر کمپنی کے حکام پر سیدھی کاروائی ہو سکتی ہے یہی نہیں اب ٹوٹر کے 1.75کروڑ یوزرس میں سے کسی کے بھی قابل اعتراض ٹویٹ پر درج کیس میں ٹوٹر کو سیدھے فریق بنایا جا سکے گا روی شنکر پرسادنے بدھوار کو کہا سوال اٹھ رہے ہیں کہ ٹوٹر تحفظ سہولت کا حقدار ہے سیدھی بات یہ ہے کہ ٹوٹر قواعد کی تعمیل نہیں کر رہا ہے ٹوٹر یوزرس کی شکایتیں دور کرنے کیلئے دیش کے قواعد کے مطابق سسٹم نہیں بناتا ساتھ ہی من مانے طریقے سے من گڑھت ڈیجیٹل ٹیگ لگاتاہے ٹوٹر یہ پہلی کمپنی ہے جس کے خلاف درجہ ہٹنے کے بعد کیس درج ہو سکتا ہے غازی آباد میں ایک بزرگ سے مار پیٹ معاملے میں مذہبی سورش بڑھکانے کے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کیس درج ہوا تھا روی شنکر پرساد نے کہا کہ یوپی میں جو کچھ ہوا وہ فرضی خبروں سے نمٹنے کے ٹوٹر کے من مانے رویئے کی مثا ل ہے انہوں نے کہا کہ ٹوٹر اپنے فیکٹ چیک مشینری کے بارے میں زیادہ ہی بڑھا چڑھا رہا ہے یہ مثال اس کی ناکامی کو چونکانے والی ہے غلط اطلاع سے نمٹنے میں اس کے ناکام رہنے کا اشارہ کرتی ہے ۔
(انل نریندر)
18 جون 2021
گوگل کو مات دیتے ہریدوار کے پنڈوکے بہی کھاتے!
اتراکھنڈ کی کمبھ نگری اور ہریدوار کی دنیا بھر میں مشہور ہرکی پوڑی کے پاس گھاٹ پرانے بنے گھروں میں پنڈوں کے بنی الماریوں میں کرینے سے رکھے گئے سینکڑوں برس پرانے بہی کھاتوںمیں درج نسلی اور اطلاعات انقلاب کے جدید ٹول گوگل کو ہی مات دیتے ہیں ۔ ہریدوار کے باشندے تقریباًدوہزار پنڈوں کے پاس کئی پیڈیوں سے اپنے میزبانوں کے نسلی دستاویز موجود ہیں اپنے متوفی رشتے داروں کریا کرم پر جانے والے لوگ یہاں آتے ہیں اور اپنے پروہتوں کے بہی میں اپنے پروجوں کے ساتھ اپنا نام بھی درج کروا لیتے ہیں یہ روایت تب سے چلی آرہی ہے جب سے کاغذ وجود میںآئے اس سے پہلے دھوج پتر پر نسل اس زمانے کی پرانی خط و کتابت ہونے کا ذکر ہے ہوا اب نابودہوگئی ہے یہاں کے مشہور پروہت پنڈت کوشل سکھولہ کے مطابق یہاں کے پنڈے ہریدوار کے ہی بنیادے باشندے بتاتے ہیں کاغذ کے پہلے ان کے پروج پنڈوں کو اپنے لاکھوں مہمانوں کے نام اور نسل و علاقے تک زبانی یاد رکھتے تھے جنہیں وہ اپنے بعد اپنی آنے والی پیڈی کو بتا دیتے تھے ۔ یہاں کے پنڈوں میں گاو¿ں ضلع اور ریاستوں کی بنیاد پر جانشین بنتے ہیں کسی بھی پنڈے کے پاس جانے پر وہ ممکنہ جانکاری دے دیتے ہیں کہ ان کے نسل کے کون کون لوگ ہیں کئی بار کسی شخص کی موت پر ان کی پراپرٹی سے متعلق آپسی جھگڑوں میں نسل درنسل کا فیصلہ بہی کھاتوں کی مدد سے ہی ہوتا ہے ان بہیوں کو دیکھنے باقاعدہ عدالت کے لوگ یہاں آتے ہیں جس کے مطابق عدالتیں اپنا فیصلہ کرتی ہیں ان بہی کھاتوں میں پرانے راجا مہاراجا سے لیکر عام آدمی کی نسل درج ہے ۔ پنڈت کوسل سکھولا بتاتے ہیں کہ کمپیوٹر دور میں ان قدیمی بہی کھاتہ کہ اہمیت کم نہیں ہوئی ہے کیونکہ ان بہی کھاتوں میں ان کے پروجوں کی دستی تحریری باتیں ہیں اور دستخط درج ہوتے ہیں جن کی اہمیت کسی بھی شخص کیلئے کمپیوٹر کی بے جان پرنٹ سے زیادہ یقینی ہوتی ہے ان کا کہنا ہے جہاں ان کی آنے والی پیڈیاں دیگر کاروبار میں جار ہی ہیں وہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان یا ریٹائر کے ہونے کے بعد سرکاری ملازم اپنی روایتی گدی سنبھال رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
لوگوں کی جان بچانے کیلئے سپریم کورٹ کی تعریف !
کیرل کی پانچویں جماعت کی طالبہ لیڈوبنا جوزف نے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو دل کو چھو لینے والا خط لکھا ہے اس میں طالبہ نے کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیتے ہوئے عام لوگوں کے علاج اور آکسیجن کی کمی کو لیکر دیئے گئے احکامات کو لیکر بڑی عدالت کی تعریف کی ہے ،ترچور کی سینٹرل اسکول کی طالبہ لیڈوینا نے خط کے ساتھ ساتھ ہاتھ سے بنائی گئی ایک ڈرائنگ تصویر بھیجی ہے اس میں چیف جسٹس کو عدالت نے اپنے بنچ پر بیٹھے دکھایا گیا ہے ۔ اس خط کا چیف جسٹس رمنا نے جواب بھی دیا ہے چیف جسٹس نے اپنے دستخط کے ساتھ آئین کی ایک کاپی طالبہ کو تحفے میں بھیجی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اس بات سے بے حد متاثر ہیں طالبہ کہ خبروں اور واقعات پر گہری نظر ہے چیف جسٹس نے لکھا ہے مجھے یقین ہے کہ آپ بڑی ہوکر ایک ہوشیار بیدار اور ذمہ دار شہری بنیں گی اور ملک کی تعمیر میں اپنا اشتراک دیں گی غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کے دخل کے بعد آکسیجن سپلائی کو لیکر مرکز اور ریاست نے دلچسپی دکھائی ہے اور وقت سے اسپتالوں میں آکسیجن و کورونا کی دواو¿ں کی سپلائی کی ہے کورٹ نے کورونا سے نمٹنے کیلئے کئی احکامات جاری کئے سپریم کورٹ کے ذریعے اٹھائے گئے حالیہ سوالات کے بعد ہی مرکزی سرکار نے ریاستوں کو مفت ویکسین انجکشن دستیاب کرانے کا اعلان کیا ہے اور قومی ویکسی نیشن پالیسی میں تبدیلی کی ہے اس سے اب 18سے 45کو بھی مفت ٹیکہ لگ سکے گا۔
(انل نریندر)
احتجاج کرنا آتنکی ساز ش نہیں ہے !
دہلی ہائی کورٹ نے نئی دہلی فساد معاملے میں تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے اختلاف کو دبا نے کی چنتا میں سرکار کی نظر میں احتجاج کرنے کو آئینی حق اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بیچ کا فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے اگر یہ ذہنیت ایسی ہی بڑھتی رہی یہ جمہوریت کیلئے کالا دن ہوگا اور خطرناک ہوگا ۔ جسٹس سدھارتھ چندل وجسٹس انوپ کی بنچ نے غیر قانونی سرگرمی روک تھام ایکٹ (UAPA)گرفتار جے این کی طلبا نتاشہ نروال ، دیوانگنا ، کالتا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال کو ضمانت دے دی بنچ نے 113صفحات 83972صفحات کے اپنے تین فیصلوں میں کہا، دہلی فسادات کی سازش کے معاملے میں ملزمان پر یو اے پی اے کے تحت جرائم میں کوئی پہلی نظر معاملہ نہیں پایا گیا ہے ضمانت کے خلاف یو اے پی اے کی سخت دفاع 43d( 5)ان ملزمان پر یہ نافذ نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ ضمانت پانے کے حق دار ہیں بنچ نے کہا پولس کی چارج سیٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے لگائے الزمات کے پیش نظر یو اے پی اے کی دفعہ 15پندرہ کی روشنی میں امکانی دہشت گرد ، دفعہ 17کے تحت آتنکی حرکت کیلئے پیسہ اکٹھا کرنے و دفعہ 18کے تحت آتنکی حرکت کرنے کی تیاری کی شکل میں دیکھا جاسکے بنچ نے ملزم طالبات کی اپیل پر نچلی عدالت کے اس حکم کو خارج کر دیا میں جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا بنچ نے ضمانت پر 18مار چ کو اپنا حکم محفوظ رکھا تھا عدالت نے کہا کہ اس پر کوئی تنازع نہیں کہ انہوں نے سی اے اے کے خلاف ہورہے مظاہروں میں شرکت کی تھی ہمارا خیال ہے کہ احتجاج کا حق اخلاقی حق ہے عدالت نے کہا طالبات کے خلاف الزام ابھر کر سامنے نہیں آرہے ہیں ایسے میں انہیں جوڈیشیل حراست میں رکھنے کی بنیاد نہیں ہے دہلی پولس نے کہا کہ ہم فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی بغاوت کو لیکر کئے گئے تبصرے کا بھی ذکر کیا عدالت نے کہا کہ سرکار اور پارلیمانی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج جائز ہے ایسے احتجاج کے پر امن ہونے کی امید کی جاتی ہے لیکن ان کا قانون طے ادارے کے باہر جانا غیر معمولی نہیں ہے ایک بار ہم مان بھی لیں کہ طالبات نے آئین کے تحت ملے حقوق کی حد کو پار کیا ہے تب بھی وہ دہشت گردانہ سازش رچنے کے برابر نہیں ہے دیوانگنا اور نتاشہ پر الزام ہے کہ انہوں نے دوسرے سازشیوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو بھڑکایا جس کے چلتے دنگا بڑھکا دہلی دنگوں نے کالتا پر چار اور نروال پر تین اور تانہا پر دو معاملے ہیں ۔ اب ان کے جیل سے چھوٹنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے کہ انہیں دیگر معاملے میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے ۔
(انل نریندر)
17 جون 2021
کشمیر میں بڑھیں گی آتنکی سرگرمیاں!
افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ کشمیر میں آتنکی سرگرمیاں بڑھنے کا اندیشہ ہے سی این این نیوز کی رپورٹ کے مطابق ، جمہوریت کی حفاظت کیلئے بنی فاو¿نڈیشن ایف ڈی ڈی سے سینئر فیلو اور لانگ وار جنرل کے مدیر بل روشیو نے کہا کہ امریکی فوجیوں کے افغانستان چھوڑنے کے بعد کشمیر میں پاکستان اسپانسر دہشت گردی بڑھنے کا اندیشہ ہے پاکستان کا آتنک واد کو اسپانسر کرنا اس کی خارجہ پالیسی کا ایک حصہ ہے یہ پالیسی طالبان کے جہادی گروپوں کو حوصلہ افزائی کرتی ہے امریکہ کے ذریعے افغانستان میں 20سال کی جنگ سے خود کو الگ کرنے لینے کے بعد کشمیر میں لڑائی کے حالات اور خراب ہوسکتے ہیں حالانکہ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ امریکہ صرف افغانستان سے اپنی فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے دیش میں اپنی موجودگی ختم نہیں کرے لیکن اس کے باوجود پاکستانی خارجہ پالیسی سہہ پاکر یہ آتنکی گروپ افغانستان کا ساتھ دینے والے ملکوں کے خلاف اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتے ہیں آتنک واد کو پناہ دینے کے ساتھ پاکستان نے آتنکیوں کیلئے بھی پیسہ اکٹھا ہوتا ہے یہ دعویٰ ہے پاکستان کے اپوزیشن پارٹی نیشنل پارٹی نے کہا کہ سرکار افغان طالبان کو مسجد کے ذریعے یہاں چندہ اکٹھا کرنے کے کوشش روکنے کیلئے تیزی سے کاروائی کرے پارٹی کے سابق صوبائی ترجمان ولی خاں نے ایک مرکز میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں کہا مسجدوں میں جاری عطیہ کا اکٹھا ہونے کا انکشاف ہواہے پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی حکومت میں اتحاد ہی نہیں ہے مگر ان دنوں ایک ہی ذریعے سے احکامات مل رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی نہیں ہورہی ہے۔
(انل نریندر)
کورونا اموات کا آڈٹ ہونا چاہئے !
کورونا انفیکشن اور اس سے ہونے والی اموات کو لیکر ریاستوں کی طرف سے روزانہ جاری اعداد و شمار پچھلے کچھ دنوں سے تنازعہ کا اشو بنے ہوئے ہیں کچھ ملکی و غیرملکی میڈیا نے اپنی سطح پرکرائی گئی اسٹڈی کی بنیاد پر بتایا گیا تھا کہ ریاستوں حکومتوں کی طرف سے جاری اموات کی تعداد اور اصل تعداد میں کافی فرق ہے بہار حکومت نے کورونا سے ہوئی موتوں کی تعداد جس طرح سے ٹھیک کیا اس سے یہ شبہہ ہوتا ہے کہیں اس طرح کی غلطیاں اور دوسرے ریاستوں میں تو نہیں ہوئیں بہار کے اعداد و شمار کو لیکر شروع سے ہی شبہہ جتا یا جا رہا تھا مگر وہاں کا ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اپنے موقوف پر قائم تھا اسے لیکر پٹنہ ہائی کورٹ نے سرکار کو لتاڑ ا اور ضلع وار اصل تعداد اکٹھی کرنے کی ہدایت دی تب جا کر سرکار نے اس کیلئے ضلع وار کمیٹیاں بنائیں اور انہوں نے اسپتالوں اور دوسری جگہ ہوئے کورونا اموات کی اعداد و شمار اکٹھے کئے اس سے ظاہر ہے کہ سرکاری سطح پر کورونا سے ہوئی اموات کی تعداد صحیح نہیں بتائی گئی بھارت نے سنیچر کو اس خبر کی تردید کی جن خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا اموات کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے پانچ سے سات گنا تک زیادہ ہے بھارت میں کوویڈ سے ہونے والی اموات کے بارے میں وزارت نے انگریزی اخبار دا ایکونمسٹ کے ذریعے ضائع قیاسی طور پر انفیکشن کی تعداد کو غلط بتایا ہے ادھر کانگریس نے بھاجپا سرکار پر کوروناسے ہوئی اموات کو چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس دیش میں جن ریاستوں میں ان کی سرکاریں ہیں وہاں نمبروں میں ہیر پھیر ہوا اس لئے وزیرا عظم نریندر مودی کو معاملے کی جوڈیشیل انکویری کرانی چاہئے اور وہاں کے وزراءاعلیٰ کو اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دے دینا چاہئے کانگریس پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ وارنسی میں اعداد و شمار چھپانے کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ اپریل میں وہاں 127موتیں دکھائی گئی تھیں جبکہ وہاں کے شمشان گھاٹ پر اس مہینے کے ایک ہفتے میں پندرہ سو رلوگوں کا انتم سنسکار کیا گیا حالات دیکھ کر لگتا ہے گجرات ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، کرناٹک جیسے بھاجپا حکمراں ریاستوں کے درمیان کورونا اعداد وشمار چھپانے کا مقابلہ ہورہاہے لاکھوں ایسے مرنے والے ہیں جن کے بارے میں یہی پتہ نہیں چلا کہ ان کی موت کورونا سے ہوئی یا کسی دیگر بیماری سے ۔ ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے صلاح دی ہے کہ سبھی اسپتالوں میں کورونا دور میں ہوئے انفیکشن سے ہوئی موتوں کی تعدا د کے بارے میں آڈٹ کرائیں گلیریا نے کہا کہ اسپتالوں اور ریاستوں کوکورونا وائرس سے بھی اپنے یہاں موتوں کی تعداد کا آڈٹ کرانا چاہئے تاکہ سچائی سامنے آسکے گھروں میں ہونے والی موتوں کی تعداد جمع کرنے کی کوشش نہیں کی گئی وہ سرکاروں کی جان بوجھ کر گھپلے بازی کہی جائے گی ابھی کورونا کا خطرہ ٹلا نہیں ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روزا یک لاکھ لوگ متاثر ہورہے ہیں پانچ ہزار سے اوپر موتیں ہورہی ہیںاگر اپنی ناکامی چھپانے کی غرض سے سرکاروں کا یہی رویہ رہا تو مشکلیں اور بڑھیں گی۔
(انل نریندر)
پاسوان کی وراثت میں سنبھالنے میں ناکام رہے !
دیش کے بڑے دلت لیڈروں میں شمار رہے رام ولاس پاسوان کی دیش کی سیاست پر اتنی زبردست پکڑ تھی کی بہار کے سابق وزری اعلیٰ لالو پرساد یادو نے انہیں مذاقیہ لہذے میں ایک مرتبہ موسم سائنسداں تک کہہ ڈالا تھا لیکن رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد ان کی پارٹی پر ان کے چھوٹے بھائی نے قبضہ جما لیا اور ان کی وراثت سنبھالنے میں بیٹے چراغ پاسوان کو اس سیاسی تبدیلی کی بھنک تک نہ لگی بہار میں پاسوان کے ووٹ بینک پر قبضے کی لڑائی میں چراغ پاسوان چارو کھانوں چت ہوگئے لوگ جن شکتی پارٹی میں پھوٹ کے تازہ واقعے نے پھر ایک بار یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاست کی دنیا میں بہت کچھ توقعات سے معاملہ کنٹرول ہوتا ہے لیکن اکثر اس وصول اور سروکار کا پردہ ٹانگ دیا جاتا ہے ذرائع کی مانیں تو ایک بڑے سیاسی پریوار میں پیدا ہونے کے باوجود چراغ کو ابتدائی دنوں میں دہلی کے اقتدار کے گلیاروں سے ممبئی کی یاترا نگری زیادہ راس آئی ان کی ایک فلم بھی آئی ملیں نہ ملیں ہم اس فلم میں کنگنا رنوت ان کی ہیروئن تھی بتاتے ہیں کہ سال بیس سو گیار ہ میں یہ فلم ریلیز ہوئی اس فلم کے پریمیئر میں دیش کی جانی مانی ہستیاں شامل ہوئی تھیں یہ فلم رام ولاس پاسوان نے بیٹے کی فلم کا پروموشن بہت زیادہ کوشش کی تھی لیکن فلم فلاپ ہوگئی سال 2014میں چراغ اس وقت سرخیوں میں آگئے جب انہوںنے پاسوان چھوڑ کر یو پی اے چھوڑ کر این ڈی اے میں شامل ہونے کیلئے کے راضی کیا تھا سال 2002گجرات فسادات کے ایشو پر کیبنیٹ سے استعفیٰ دینے والے پاسوان نے تب این ڈی اے کے ساتھ آکر چناو¿ لڑا تھا اور بہار کی چھ سیٹوں پر ان کی پارٹی کامیاب رہی اور چراغ بھی ایم پی چنے گئے لیکن رام ولاس پاسوان کے مرتے ہی حالات بدل گئے اور چراغ نے بہار اسمبلی کے چناو¿ میں این ڈی اے سے الگ رہ کر چناو¿ لڑنے کا فیصلہ کیا اور نتیش کے خلاف تال ٹھوک کر چناو¿ میدان میں اترے ان کی پارٹی نے 147اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے لیکن صرف ایک ہی سیٹ مل پائی حالانکہ ایسا مانا جاتا ہے لوک جن شکتی پارٹی کی وجہ سے نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ کو کم سے کم 45سیٹو ں پر ہار کا سامنا کرنا پڑا چراغ پاسوان سمیت پارٹی کے چھ میں سے پانچ ممبران پارلیمنٹ نے چاچا پشو پتی کمار پارس کی قیادت میں پارٹی کو بچانے کا نعریٰ لگا کر الگ ہونے کا اعلان کر دیا خبروں کے مطابق ایل جے پی کی اس پھوٹ میں جے ڈی یو کا بھی رول رہا اور چناو¿ کے وقت مرکزی سرکار میں کیبنیٹ میں امکانی توسیع کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ رول اداکیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ پشو پتی کمار پارس میں سے الگ ہوا گروپ جے ڈی یو یا بھاجپا میں ملنے کا راستہ چنتا ہے یاآزاد رہ کر این ڈی اے میں اپنی جگہ بناتا ہے دوسری طرف چاچا پشو پتی پارس کو منانے میں ناکام رہنے کے بعد ایک طرح سے چراغ پاسوان نہ صرف سیاست کے میدان اکیلے رہ گئے ہیں بلکہ ان کا پریوار بھی ٹوٹ گیا حالانکہ انہیں بہار میں این ڈی اے کے نیتا کی طرف سے ایک باقاعدہ پرستاو¿ ملا کہ وہ مرکزکی سیاست کریں تیجسوی یادو کے ساتھ رہیں لیکن چراغ پاسوان کا موقوف ابھی سامنے نہیں آیا ہے دیکھنا ا ب یہ ہوگا کہ ٹوٹ کے بعد رام ولاس پاسوان کی ساکھ سے جڑے ایل جے پی حمایتی جنتا چراغ پاسوان اور پشو پتی کمار پارس میں کس فریق کو چنتی ہے ۔
(انل نریندر)
16 جون 2021
ماسک ہے ضروری ہے لیکن صاف ہونا چاہئے !
ماسک ہی کورونا سے بچاو¿ میں اس وقت سب سے بڑا ہتھیار ہے لیکن صحیح طریقے سے ماسک کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کئی طرح کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے ماہرین کے مطابق ماس کی صفائی اور اس کو بدلنے کو لیکر لوگوں میں بیداری کی کمی ہے بہت سے لوگ کافی وقت تک ایک ہی ماسک کا استعمال کرتے رہتے ہیں کرتے رہتے ہیں تو کچھ ماسک صاف نہیں کرتے دوارکا کے ڈاکٹر مکیش شرما کے مطابق ماسک پہننے سے زیادہ ضروری ہے صاف ماسک لگانا گندے ماسک آپ کو کورونا سے بچانے کے بجائے آپ کو کئی دیگر بیماریوں کو ضد میں لے جائے گا ان دنوں کافی لوگ ایسے ہیں جو ماسک کئی کئی دن تک استعمال کر رہے ہیں جس وجہ سے پریشانیاں بڑھ رہی ہیں ساتھ ہی ایک ہی ماسک بہت زیادہ وقت تک استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے گلے میں درد پیٹ سے متعلق بیماریاں اور گلے میں خراس جیسی دکتیں پیدا ہوسکتی ہیں ایک ماسک سانس کو باہر نکالتا ہے اور تازہ ہوا بھی آتی ہے لیکن ماسک کے کافی عرصے تک لگے رہنے سے اس کے اندر گرد کے ذرات بھر جات ہیں جس وجہ سے سانس لینے میں دقت ہوسکتی ہے بتایا جاتا ہے کہ ماسک پہننے سے کھانسی نہیں ہوتی لیکن گنداپہننے سے ہوتی ہے ماسک دھونے کیلئے گرم پانی کریں پانچ سے دس منٹ تک اسے پانی میں ڈبو کر رکھیں اس کے بعد پانی سے دھوئیں چا ر پانچ گھنٹے تک دھوپ میں سوکھنے دیں ۔ گیلے ماسک کا استعمال نہ کریں اس سے دوسری بیماریں پنپتی ہیں پھر ماسک کو دھو کر پہنیں تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے ۔
(انل نریندر)
حکومت ہند کے کچھ قدم جمہوری اصولوںکے منافی !
امریکہ کے ایک سینئر افسر نے ممبرا ن پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ بھارت مضبوط قانون سسٹم کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا جمہوریت بنا ہوا ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں سمیت بھارت سرکار کے کچھ قدموں سے تشویشات پیدا ہو رہی ہیں جو اس کی جمہوری اقدار کی مسلسل منافی ہیں ۔ ساو¿تھ اور وسطی ایشیا کے نگراںاور معاون وزیر خارجہ ڈین تھامسن نے ایشیاو وسطی ایشیا پر ایوان کی خارجی امور کی ڈپٹی کمیٹی کو ہند مہاساگر خطے میں جمہوریت پر بحث کے دوران یہ رائے زنی کی تھامسن کا کہنا تھا بھارت مضبوط قانون و نظام اور آزاد عدلیہ کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کی امریکہ کے ساتھ مضبوط اور بڑھتی حکمت عملی اور شراکت ہے حالانکہ بھارت سرکار کے کچھ اقدام نے تشویشات پیدا کر دی ہیں جو اس کے جمہوری اصولوں کے مسلسل منافی ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر بڑھتی پابندیاں اور انسانی حقوق رضا کاروں اور صحافیوں کو روس میں حراست میں لیا جا رہا ہے انہوں نے کہا امریکہ یقینی طور پر ان مسئلوں پر بات چیت کر تا رہتا ہے بہر حال بھارت نے غیر ملکی حکومتوں اور انسانی حقوق گروپوں کی ان تنقیدوں کو مسترد کر دیا تھا کہ دیش میں شہری آزادی کی خلاف ورزی ہوئی ہے بھارت نے کہا اس کی اچھی طرح سے جمہوری کاروائیاں جاری ہیں اور سبھی کے حقوق کی حفاظت کیلئے مضبوط ادارے ہیں بھارت سرکار نے اس بات پر زورد یا ہے کہ ہمارا آئین انسانی حقوق کی سرپرستی کیلئے ان کے قوانین کے تحت درکار سرپرستی فراہم کرتا ہے سینیٹ کے ممبروں کے ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں صحافیوں پر کچھ پابندیوں کو لیکر امریکہ فکر مند ہے ۔
(انل نریندر)
شیشے کے گھر میں رہنے والے دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتے !
ممبئی کے سابق پولس کمشنر پرمبیر سنگھ کی عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے یہ کہہ کر خارج کر دیا جن کے اپنے گھر شیشے ہوتے ہیں وہ دوسروں کے گھروں میں پتھر نہیں پھینکتے عرضی میں پرمبیر نے اپنے خلاف چل رہے معاملوں کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی فریاد کی تھی جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس وی سبرامنیم کی وکیشن بینچ نے کہا 30برس سے بھی زیادہ وقت تک سیوا کے بعد بھی کیا آپ کو ناراض پولس پر بھروسہ نہیں ہے کیا یہ بات بہت چونکانے والی نہیں ہے عدالت کے رخ کو دیکھ کر پرمبیر سنگھ نے بعد میں اپنی عرضی واپس لے لی پرمبیر سنگھ کو مارچ میں ممبئی پولس کمشنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ ریلائنس گروپ کے چیئر مین مکیس انبانی کے سیکورٹی سے متلعق جانچ کے دوران پرمبیر سنگھ تنازعات میں رہے انہوں نے مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیش مکھ پر کرپشن کا الزام لگا کر دھماکا کر دیا تھا کہ انل دیش مکھ نے ممبئی کے بار اور ریستوراں سے ہر مہینے سو کروڑ روپئے کی وصولی کا کچھ پولس والوں کو ٹارگیٹ دیا تھا بقول پرمبیر سنگھ وزیر داخلہ کے کرپشن کے انکشاف کرنے کے سبب میں نشانہ بنایا جار ہا تھا اور پریشان کیا گیا اسی بنیاد پر انہوں نے اپنے خلاف جاری سبھی جانچ ممبئی پولس سے چھین کر سی بی آئی کو منتقل کرنے کی مانگ کی تھی انل دیش مکھ کے خلاف لگے الزامات کی جانچ سی بی آئی کر رہی ہے پرمبیر سنگھ کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے عدالت کو بتایا کہ پرمبیر سنگھ پر جانچ افسر نے دیش مکھ کے خلاف لکھا خط واپس لینے کا دباو¿ بنایا تھا اور دھمکی دی تھی ایسا نہ کرنے پر انہیں اور معاملوں میں پھنسایا جائے گا جیٹھ ملانی نے بتایا کہ انہیں ایک کے بعد ایک نئے معاملوں میں پھنسایا جا رہا ہے اس پر ججوں نے رائے زنی کی کہ یہ پرانی کہاوت ہے کہ خود شیشے کے گھر میں رہنے والے دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے اب عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کو پرمبیر سنگھ کے خط کے بعد ہی وصولی کا سلسلہ جاری رہا تو ججوں نے انہیں پر یہ کہتے ہوئے پلٹ وار کیا کہ آپ پولس کمشنر تھے اور ناجائز وصولی روکنے کیلئے آپ نے کیا قدم اٹھائے تھے ؟اگر پولس ڈائریکٹر جنرل سطح کا اعلیٰ افسر پر دباو¿ ڈالا جا سکتا ہے تو پھر کوئی نہیں ہوگا جو اس پر دباو¿ نہیں ڈال سکتا انہوں نے کہا کہانیاں بہت بنیں جانچ سی بی آئی کو سونپنے کے مسئلے پر بنچ نے کہا کہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں سابق وزیر کے خلاف جانچ الگ ہے اور آپ کے خلاف جانچ کا معاملہ الگ ہے آپ نے پولس میں 30سال سے زیادہ سیوا دی ہے ۔ آپ کو پولس پر شبہ نہیں ہونا چاہئے جب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آ پ ریاست سے باہر جانچ چاہتے ہیں ۔
(انل نریندر)
15 جون 2021
کیا 5جی سے پھیل رہا ہے کورونا ؟
5جی کو لیکر ان دنوں بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں جانیں5جی کیا ہے ؟یہ نئے زمانے کی فون ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کمیونیکیشن اور ڈیٹا ٹرانسفر تیزی سے ممکن ہوسکے گا اندازہ ہے کہ موجودہ 4جی سے بیس گنا زیادہ تیز ہوگا ۔ تکنیک کی دنیامیں اطلاعات کا تیزی سے تبادلہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے ۔´5جی کے ساتھ ڈاٹا نیٹورک اسپیڈ 2.20جی بی فی سیکینڈ تک ہونے کی امید ہے اس کا اثر میڈیکل اور دیگر سیکٹر میں بھی دیکھنے کو ملے گا ان دنوں سوشل میڈیامیں کورونا سے بگڑتے حالات کیلئے 5جی ٹیکنالوجی کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے لیکن دیگر ملکوں میں ، جہاں 5جی کی شروعات ہوچکی ہے وہاں اس طرح کے کسی بھی معاملے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ایسے میں بھارت میں یہ کورونا انفیکشن پھیلاو¿ کیلئے کیسے ذمہ دار ہوسکتا ہے ؟سیلولر آپریٹرس اسوشیشن آف انڈیا نے کہا کہ 5جی ٹیکنالوجی کے ہیلتھ پر برا اثر پڑنے کو لیکر تشویش جتائی جا رہی ہے وہ پوری طرح سے غلط ہے ابھی تک جو بھی ثبوت دستیاب ہیں ان سے پتہ چلتان ہے کی اگلی پیڈی کی ٹیکنالوجی پوری طرح محفوظ ہے اسوشیشن نے اس بات پر زور دیا کہ 5جی ٹیکنالوجی پاسا پلٹنے والی ہوگی اور اس سے معیشت اور صنعت کو زبردست فائدہ ہوگا سی او آئی ، ریلائنس ، جیو، بھارتی ایئرٹیل ، اور اوڈا فون آئیڈیا جیسی بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے عالمی طور سے پیمانوں کے مقابلے میں بھارت کے قواعد زیادہ سخت ہیں ۔ عالمی سطح پر قبول میعارات کے مقابلے میں بھارت صرف دس فیصد اسٹرالائزیشن کی اجاز ہے سائنسدانوں نے اس بات کی تردید کی ہے کی 5جی ٹیسٹ اور اس کی تکنیک سے کسی طرح کا انفیکشن پھیل سکتا ہے ۔ 5جی ٹاورمائی یوجنگ ریڈیو فری کینسی چھوڑتے ہیں جو انسان کی صحت کے لئے انسا ن کی صحت کیلئے کوئی نقصان دہ نہیں ہے جب بھی کوئی نئی ٹیکنا لوجی آتی ہے تو ایسی ہی افواہیں اڑائی جاتی ہیں ۔
(انل نریندر)
کوہن نے دی موساد کی خفیہ جانکاریاں !
دنیا کی اہم ترین خفیہ ایجنسیوں میں سب سے اوپر نام اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا آتا ہے موساد کی سرگرمیاں اتنی خفیہ ہوتی ہیں کی باقی دنیا کو پتہ نہیں لگ پاتا لیکن کبھی کبھی ان کے بارے میں پتہ چلتا ہے حال ہی میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق چیف کوہن نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ایران کے اندر موساد کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں جن کا کافی تذکرہ ہورہا ہے انٹرویو میں ایسا اشارہ دیا گیا کہ ایران کے زیر زمین نیوکلیائی مراکز پر ہوئے حملے کے پیچھے موساد کا ہی ہاتھ تھا اپنے اس انٹرویو میںکوہن نے کہا کہ ایران کے سائنسدانوں کو بھی وارننگ دی تھی کی اگر وہ نیوکلیائی پروگرام کا حصہ رہے تو انہیں بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے اس سال 11اپریل کو ایران کے علاقے نتانت میں بنے نیوکلیائی ریکٹر پر حملے کے بعد ایرانی حکام میں کہا تھا حملے میں ایران کے سب سے بڑے مرکز کی ہزاروں مشینیں یا تو خراب ہوگئی ہیں یا تو برباد ہوگئی ہیں لیکن تب اسرائیل کی سرکاری ریڈیو پر خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ایک آپریشن تھا نتانت نیوکلیائی مرکز میں 2020میں20جولائی کو بھی آگ لگ گئی تھی تب ایرانی حکام نے اسے سائبر حملے کا نتیجہ بتایا تھا اس واقع کو لیکر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ ایران حملے کا بدلہ ضرو ر لے گا ۔ اس کے بعد اسی سال اپریل میں ایک اور حملہ ہوا جس نے نیوکلیائی ریکٹر کے زیر زمین حال پر تباہ کر دیا تھا ۔ ان حملوں کے لئے ایران نے اسرائیل کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا تھا کوہن نے اپنے انٹرویو میں سیدھے طور پر یہ قبول نہیں کیا کہ ان حملوں کے پیچھے موساد کی ہی ہاتھ تھا لیکن حملوں سے وابسطہ حیران کن معلومات شیئر کی جب ان سے پوچھا گیا ایرانی ریئکٹر میں جانے کو موقع ملے تو وہاں جانا چاہیں گے اس پر انہوں نے کہا سیلار میں جہاں سینٹری فیوز گھوما کرتا تھا ۔ کوہن نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ ہم ایران کو نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنا نے دیں گے کوہن نے مزید کہا کہ نومبر 2020سے پہلے بھی ہمارے لوگ فخری جاوید بہت قریب رہے تھے نومبر 2020میں ایران کے قریب ایک حملے میں فخری جاوید کا قتل کر دیا گیا تھا ایران کے نیوکلیائی پروگرام پرنظر رکھنے والے اس سائنسداں کو بخوبی جانتے تھے ۔ ٹائمس آف اسرائیل اخبار کے مطابق بنجامن نیتن یاہو نے ہی دسمبر 2015میں یوسی کوہن کو موساد چیف بنایا تھا اخبار نے لکھا ہے کہ کوہن نے جس طرح کی جانکاریاں دی ہیں وہ معمولی نہیں ہیں انہوں نے بہت ساری چیزوں پر روشنی ڈالی ہے ان کے انٹرویو سے لگتا ہے کہ ضرور اسرائیلی فوج سے اس کا جائزہ لیکر اس پر کاروائی ہوگی اور ان سے منظوری لی گئی ہوگی اگر ایک خفیہ عہدے دار وہ بھی موساد ایجنسی کا چیف رہے انسان کیلئے اتنا کھل کر بات کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔
(ا نل نریندر)
مکل رائے کی چار سال بعد گھر واپسی !
مکل رائے کی گھر واپسی مغربی بنگال جہاں ترنمول کانگریس کیلئے حوصلہ افزاہے وہیں یہ بھاجپا کیلئے جھٹکا ہے قریب چار سال پہلے بھاجپا میں گئے مکل رائے کے لڑکے سمیت ترنمول کانگریس میں واپسی یقینی تو تھی لیکن ان کے لوٹنے کے بعد اب ترنمول کانگریس میں ایسے بہت سے موقع پرست نیتاو¿ں کی واپسی کا امکان بڑھ گیا ہے جو پانچ سال تک اپوزیشن میں رہنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے مغربی بنگال بھاجپا میں ایسے کئی لیڈر ہیں جنہوں نے چناو¿ سے پہلے ترنمول کانگریس کا ساتھ چھوڑا تھا مکل رائے کے بارے میں زیادہ تجزیہ کرنا مشکل نہیں ہے مرکز میں وزیر بنانے میں دیری و بھاجپا میں شبھندو ادھیکاری کے بڑھتے قد کے سبب مغربی بنگال کے بڑے نیتا میں پھر ترنمول میں چلے گئے ممتا کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی سے مکل کی ملاقات کی خبر ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مکل رائے سے ان کی علیل اہلیہ کہ طیبعت پوچھنے کے بارے میں ان سے بات کی تھی لیکن بھاجپا انہیں روکنے میں ناکام رہی دراصل شبھندو ادھیکاری کے بھاجپا میں شامل ہونے اور ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار بننے سے ہی مکل رائے کی اہمیت کم ہونے لگی تھی چناو¿ میں ان کے کچھ حمایتوں کو ٹکٹ تو ملا لیکن زیادہ تر نمائندگی شبھندو ادھیکاری کے وفا داروں کو ملی ادھر ٹی ایم سی کا دعویٰ ہے بھاجپا کے تیس ممبر اسمبلی شامل ہونگے رہی صحیح کثر شبھندو ادھیکاری کو اپوزیشن لیڈر بنانے سے نکل گئی دیکھا جائے تو یہ حق مکل رائے کا تھا کیونکہ پچھلے چار سال بھاجپا کیلئے اچھا کام کر رہے تھے تمام ترنمول کانگریس نیتاو¿ں کا بھاجپا میں شامل ہونے کے پیچھے مکل رائے کا ہی ہاتھ تھا لگتا ہے شبھندو کو اتنی اہمیت ملنے سے مکل رائے ناراض ہوگئے اور انہوں نے گھر واپسی کر دی جس وجہ سے مغربی بنگال میں بھاجپا کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے قریب چار سال پہلے بھاجپا میں آئے رائے نے لوک سبھا چناو¿ میں پارٹی کی چناوی حکمت عملی کو بنگال میں زمین پر اتارنے میں اہم رول نبھایا تھا جس کے بعد پارٹی نے انہیں قومی نائب صدر کی ذمہ دار ی سونپی لیکن اسمبلی چناو¿ کے بعد بدلے سیاسی حالات میں رائے خود کو ایک نظر انداز محسوس کر رہے تھے موقع کا فائدہ اٹھا کر ممتا نے انہیں واپس لانے میں کامیابی حاصل کر لی مکل ممتا کے قریبی رہے ہیں مانا جاتا ہے چناو¿ سے پہلے تک ترنمول میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ میں بھی مکل رائے کا بھی رول رہا لیکن چناو¿ نتیجے کے بعد ان کو کوئی خاص توجہ نہ ملنے سے وہ دکھی تھے ادھر بھاجپا مرکزی لیڈر شپ کی طرف سے شبھند وکو آگے بڑھانے سے رائے زیادہ خفا ہوگئے اور مانا جاتا ہے رائے کی ترنمول کانگریس میں واپسی سے ورکروں میں بھروسہ بڑھے گا حالانکہ وہ چناو¿ میں شاندار جیت سے پہلے بھی کافی تھا دوسرے ترنمول چھوڑ کر کئی نیتاو¿ں کی گھر واپسی کے آثار بڑھ رہے ہیں دوسری طرف بھاجپا کو حالانکہ رائے کے جانے سے فوری طور پر بھاجپا کو زیادہ نقصان نہیں ہے لیکن مانا جا رہا ہے کہ بھاجپا کی لوک سبھا کی چناو¿ کی تیاروں پر اثر پڑ سکتا ہے اب بھاجپا پر باہر سے آئے لوگوں کو اہم عہدے دینے پر نئے سرے سے غور کرنا پڑتا ہے لیکن ایسے وقت میں جب دوسری پارٹیوں سے مستقبل تلاش میں نیتا بھاجپا میں شامل ہورہے ہوں ایسے میں ایک قومی نائب صدر کا چھوڑ جانا جنتا کو غلط پیغام دیتا ہے ۔ نارد اسٹنگ معاملے میں مکل رائے اب سی بی آئی جانچ سے باہر ہوچکے ہیں جبکہ شبھندو ادھیکاری کیمرے پر پیسے لیتے ہوئے پکڑے گئے تھے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے اجازت کی سی بی آئی کی لوک سبھا اسپیکر کے پاس درخواست التوا میں ہے۔
(انل نریندر)
13 جون 2021
مہنگائی بڑھی تو تھالی میں کھانے کی مقدار گھٹی !
کورونا دورمیں ملک کی معیشت کو ہوئے نقصان نے ایک بار پھر مہنگائی آسمان پر پہونچادیا ہے غذائی اجناس کی بڑھتی قیمتوں کا اثر سیدھے لوگوںکے کھانے کی تھالی پر پڑا کا اس کا اثر خاص طور پر درمیانی آمدنی والے ملکوں میں نظر آرہاہے ورلڈ بینک کے ذریعے 48دیشوں میں کرائے گئے ریپیڈ سروے سے یہ پتہ چلا ہے کی بڑی تعداد میں لوگوں کو کھانے کی مشکل کا سامنہ کر نا پڑ رہا ہے یا پھر کم کھانا مل رہا ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم کیلوری کا استعمال اور غذائیہ سے سمجھوتا اس کا صحت پر بڑا خطرہ ہے اس سے چھوٹے بچوں کی نشو نما پر زیادہ اثر پڑے گا ۔ مئی کے مہینے میں عالمی سطح پر غذائی چیزوں کے داموں میں زبردست اچھال آیا ہے اس مہینے میں کھانے پینتے کی چیزوں کی قیمتوں میں اتنی تیز ی سے اضافہ ہوا ہے جو پچھلے دھائی میں نہیں دیکھا گیا اب اپریل میں بھی یہ مہنگائی 39.7فیصد رہا ہے اس کی کئی وجہ بتائی جا رہی ہیں جن میں بڑھتی دیمانڈ اور پروڈیکشن میں دیری فصل میں رکاوٹ میں گڑ بڑاور سپلائی میں دشواریاں شامل ہیں عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سینٹر فار سسٹینبل ڈیولپمینٹ کے رپورٹ کے مطابق اپریل 2020سے 2021کے درمیان ایک سال میں 23کروڑلوگ افلاس کی زندگی بشر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں آخری مرتبہ جب غریبی پر اقوام متحدہ کی رپورٹ آئی تب دس سالوںمیں ستاویس کروڑ تیس لاکھ لوگو غریبی سے باہر نکل آئے تھے یعنی کورونا کے ایک سال نے غریبی کے معاملے میں دیش کو قریب آٹھ سے نو برس پیچھے دھکیل دیا ہے اور تیئیس کروڑ لوگوں کے غریبی کی ریکھا کے نیچے چلے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
(انل نریندر)
ترنمول ایم پی نصرت جہاں نے شوہر سے ناطہ توڑا!
بنگالی اداکارہ اور ترنمول کانگریس ایم پی نصرت جہاں نے اپنے شوہر نکل جین سے ناطہ توڑد یا ہے اس نے بدھوار کو کہا کہ ہماری شادی لیو ان ریلیشن جیسی تھی یہ ہندوستانی رسم ورواج سے نہیں ہوئی تھی ۔شادی ترکی کے قانون کے مطابق ہوئی تھی جو بھارت میں جائز نہیں ہے ۔اس لئے طلاق کا سوال ہی نہیں اٹھتا ؟نصرت کے شوہر نکھل کے ساتھ ان کی ان بن کی خبریں کافی عرصہ سے زیر بحث رہی ہیں حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایاتھا ۔لیکن نکھل نے منگلوار کو شرعام طور پر قبول کیا تھا نصرت چھ مہینہ سے ان کے ساتھ نہیں رہ رہی ہے ساتھ ہی نصرت کا افیئر کسی دوسرے شخص کے ساتھ چل رہا تھا ۔وہ میرے ساتھ اور میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ۔اس کے بعد نصرت نے بھی اس معاملے پر اپنی زبان کھول دی ۔اور کہا کہ یہ دو الگ مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادی ہے اسے بھارت میں جائز و منظوری دینے کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہیں ہوا میں نے اپنی نجی زندگی کو محدود رکھنے کے چلتے پہلے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا ۔اسے بھارت میں جائز ثابت کرنے کیلئے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحٹ رجسٹرڈ کیا جانا تھا ،جو کبھی نہیں ہوا ایسے میں طلاق کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔نصرت نے 2019 کے لوک سبھا چناو¿ میں بنگال کی بشیر ہارٹ شیٹ سے چناو¿ جیتنے کے بعد ترکی کے بجنس مین نکھل جین سے شادی کی تھی اور اس شادی کا رسپشن کولکاتہ میں ہوا تھا جس میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی بھی شامل ہوئی تھیں ۔نکھل سے ان کی شادی ترکی میں ان کے قانون کے تحت ہوئی تھی بھاجپا نیتا امت مالویہ نے اس کو لیکر سوال اٹھایا ۔وہیں ٹی ایم سی ا یم پی نصرت جہاں روہی جین کی اپنی شخصی زندگی ہے ۔وہ کس کے ساتھ شادی کرتی ہے کس کے ساتھ رہتی ہے اس کا کسی کو مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔بھاجپا نیتا نے ایم پی کا ایک ویڈیو ٹوئیٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ لیکن وہ ایک چنی ہوئی نمائندہ ہے ۔ساتھ ہی پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں نکھل جین کے ساتھ شادی کی بات درج ہے ایسے میں کیا نصرت نے ایوان میں جھونٹ بولا ہے کہ ایک دن پہلے ہی نصرت جہاں نے اپنے شوہر نکھل جین سے ناطہ توڑا ۔نصرت کی شادی کو شوشل میڈیا میں خاصی توجہ ملی ہے ۔نصرت کا نام بنگالی اداکارہ او ر بھاجپا کے ٹکٹ پر چناو¿ لڑے یش داس گپتا سے جوڑا جارہا ہے ۔دونوں دسمبر میں اجمیر گئے جہاں دونوں کی تصویریں وائرل ہوئی تھیں دونوں میں الزام تراشیوں کا دور چل رہا ہے ۔نکھل جین نے دعویٰ کیا کہ وہ نصرت کے خلاف سول کورٹ میں مقدمہ درج کر چکے ہیں نصرت کے کسی کی طرف جھکنے کی جانکاری ملتے ہی انہوں نے مقدمہ دائر کر دیا تھا ۔اس پر جولائی میں سماعت ہونی ہے ۔نکھل نے نصرت کے حاملہ ہونے کی خبروں پر کہا کہ اگر ایسا ہے تو وہ بچے کے پتا نہیں ہیں ۔وہیں نصرت جہاں نے کہا جو مجھ پر الزام لگا رہا ہے اس نے خود کو رئیس بتا کر غیر حقانی طور سے میرے بینک سے پیسے نکال لیے اب بھی یہ جاری ہے میں بینک حکام کو بتایا ہے اب وہ پولیس میں شکایت درج کرائیں گی ۔مجھے بتانے میں یہ دکھ ہو رہا ہے کہ میرے پستینی زیورات جو گھر والوں سے مجھے تحفہ میں دئیے گئے وہ سب اسی کے پاس ہیں ۔
(انل نریندر)
یہ ڈرگ گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے !
دہلی میں اب کاکٹیل اینٹی باڈیز ڈرگ یعنی مونو کلونل اینٹی باڈیز کا پازیٹیو اندر سے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے ۔ جہاں ایک طرف ایک کے بعد ایک اسپتال کوویڈ وبا کے خلاف اس دواکا استعمال شروع کر رہے ہیں وہیں اب اس کا پازیٹیو اثر دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے پہلے میدنتا اسپتال میں بی ایل کے سپر اسپیشلٹی اسپتال میں دو مریض کی دوا کے بعد منفی پائے گئے وہیں اب گنگا رام اسپتال میں دوا کے استعمال کے بارہ گھنٹے بعد ہی دو مریضوں کو چھٹی مل گئی گنگا رام اسپتال میں میڈیشن ڈیپارٹمینٹ کی ڈاکٹر پوجا کھوسلہ نے بتایا کہ دو مریض مونوکلونل اینٹی باڈیز کا استعمال کیا جاتا ہے پہلا مریض ایک ہیلتھ کیئر ورکر ہے جس کی عمر چھتیس سال ہے اثرات سامنے آنے کا چھٹا دن تھا اسے ہائی گریڈ بخار، باڈی اور مثل پین شروع ہورہا تھا جب جان گئے تو اس کا ٹی ایس ٹی 2600تھا اس کے سٹی اسکین میں پایا گیا کہ لنگس میں بھی تبدیلی شروع ہوگئی ہے اسے یہ کاکٹیل دوا دی گئی اور دو ا دینے کے چھ گھنٹے کے بعد ہی اثر دکھائی دینا شروع ہوگیا اس کے ٹی ایل سی میں بہت بہتری ہوئی بخار ختم ہوگیا آکسیجن لیول میں بھی بہتری آئی اس کی ریکوری کو دیکھتے ہوئے اسے اسپتال سے چھٹی بارہ گھنٹے میں ہی مل گئی ڈاکٹر پوجا نے کہا کہ ایک 80سال کے آر کے راجدان کو بھی دوا دی گئی وہ سوگر اور بلڈ پریسر کے بھی مریض ہیں جب وہ اسپتال آئے تھے تو ان کو ہائی گریڈ بخار تھا ان کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی سٹی اسکین میں مائل ڈزیز پائی گئی انہیں اثرات سامنے آنے کے پانچویں دین دوا دی گئی اور بارہ گھنٹے کے اندر ان کے سبھی پیرا میٹر میں بہتری آنے لگی ۔ انہوں نے کہا یہ تھیراپی ڈے کیئر میں کی جاتی ہے اگر مریض مائیلڈ ہے تو اسے گھر بھیجا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر پوجا نے بتایا کہ پوسٹ کوویڈ کئی طرح کے پریشانی پیدا کر رہی ہے اس کے استعمال سے ان پریشانیوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے سارا سسٹم میں تبدیلی ہو سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ڈے کیئر علاج کا پروسیس ہے ہائی رسک مریض میں اگر یہ دوا دی جا تی ہے تو 70فیصد تک اس کی بے چینی کو روکا جاسکتا ہے ضرورت ہے کہ کوویڈ انفیکشن کے پانچ سے سات د ن کے اندر لے لیں تو انہیں سنگین بیماری ہونے کے خطرہ بہت حد تک کم ہوسکتا ہے ہمارے پاس اس دوا کے استعمال کے کلینکل ثبوت بھی ملنے لگے ہیں اس کی ایک ڈوز 59750روپئے کی ہے اور روسو اور سپلا فارم کمپنی کی اس دوا کو بنا رہی ہے یہ دوا ہلکے اور ماڈریٹ والے ان مریضوں کو دی جا رہی ہے جن میں تیزی سے انفیکشن بڑھ رہا ہے اور مریضوں کے نازک حالت میں جانے کا اندیشہ بنا رہتا ہے یقینی طور سے کوویڈ 19کے خلاف یہ ڈرگ گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...