Translater

02 جولائی 2016

ترکی میں اس سال کا 14 واں آتنکی حملہ

یوروپ اب پوری طرح سے دہشت گردی کی زد میں ہوچکا ہے۔ منگلوار کی شام ترکی کی راجدھانی استنبول میں کمال اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے پرآٹومیٹک رائفلوں سے مسلح فدائی حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 41 لوگوں کی جان لے لی جس میں غیر ملکی شہری بھی تھے۔ خبروں کے مطابق یہ فدائین حملہ تھا۔ تین حملہ آور ٹیکسی میں آئے اور مسافروں پر تابڑتوڑ گولیاں چلانا شروع کردیں۔ پولیس نے جب فائرنگ کی تو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ ترکی میں آتنکی حملوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں کم سے کم 14 آتنکی حملے ہوچکے ہیں ان میں 200 لوگوں سے زیادہ کی موت ہوچکی ہے۔ ان حملوں میں کم سے کم 8حملے کرد لڑاکو نے کئے۔ اس کے علاوہ بھیڑ بھاڑ والے مشہور علاقوں میں حملوں کے پیچھے داعش کا ہاتھ رہا ہے۔ یوروپ کے کئی بڑے شہروں میں آئی ایس نے آتنکی حملے کئے ہیں۔ پچھلے دنوں بلجیم کے بروسیلس میں ہوئے آتنکی حملے اور استنبول میں حملے میں کئی یکسانیتیں ہیں جنہیں ایک ہی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہونے کا ثبوت مانا جاسکتا ہے۔ دونوں ہی حملوں میں تین آتنکی شامل تھے۔ دونوں ہی حملوں میں آتنک وادیوں نے ہوائی اڈے میں پہلے اندھا دھند فائرنگ کی پھر خود کو اڑالیا۔ بروسیلس میں تیسرے آتنکی نے جہاں پاس کے میٹرو اسٹیشن میں فدائی دھماکہ کیا وہیں استنبول میں تیسرے آتنکی نے پارکنگ لاٹ میں اپنے آپ کو اڑایا۔ جہاں یوروپ ہی آتنک وادی حملوں کے اندیشے کے نتیجوں سے لڑ رہا ہے وہاں ترکی خاص طور سے غیر محفوظ ہے۔ ترکی ۔ یوروپ اور ایشیا کی سرحد پر ہے ۔ وہ دونوں کے درمیان آمدورفت کا مرکز ہے۔ ان کی سرحدیں عراق اور شام سے ملتی ہیں جہاں کافی حصے میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کا راج ہے ۔شام اور عراق سے یوروپ جانے والے مہاجرین بھی ترکی کے راستے ہی جاتے ہیں اور ان مہاجروں کے درمیان ممکن ہے کچھ آتنک وادی بھی ہوں اس وجہ سے بھی ترکی میں پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ترکی کا سب سے بڑا اور یوروپ کا تیسراسب سے مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ اس ہوائی اڈہ کی ویب سائٹ کے مطابق پچھلے سال4 کروڑ10 لاکھ مسافر یہاں سے گزرے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ استنبول میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب رمضان کا مقدس مہینہ چل رہا ہے جو مسلم فرقے کے لئے سب سے پاک مہینہ مانا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں افغانستان میں طالبان نے بھی قہر برپایا وہ بھی رمضان کے مہینے میں ہوا۔ دراصل طالبان اور آئی ایس جیسی تنظیموں کے لئے اسلام کو صرف اپنی گروہ بندی و اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کے اصولوں اور مسلم فرقے کی مذہبی عقیدتوں سے ان کا کوئی میل نہیں ہے۔ ترکی میں آتنکی حملے کے بعد حیدر آباد میں آئی ایس کے 11 مشتبہ آتنک وادیوں کی گرفتاری سے ظاہر ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتے حملوں کے بعد جہاں آتنکی جواہی کارروائی تیز کررہے ہیں وہیں ان کی سرگرمیوں کا دائرہ بھی پھیل رہا ہے۔ حالانکہ استنبول میں حملے کی ذمہ داری کسی آتنکی تنظیم نے نہیں لی ہے لیکن وہاں کے وزیر اعظم طیب نے اس میں آئی ایس کا ہاتھ ہونے کا دعوی کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے یہ حملہ آتنک کے خلاف لڑائی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہونے والا ہے۔ صاف ہے کہ شام پر ہونے والے حملے میں روس کی سانجھیداری پر اعتراض رکھنے اور روسی جہاز کو مار گرانے والا ترکی حملہ کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور ہوگا اور ترکی کو اپنا نظریہ اور حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ یہ اچھے اور برے آتنک وادی کا فرق ختم کرنا ہوگا۔ پچھلے دنوں جب آئی ایس کا سرغنہ ابو بکر البغدادی کو مار گرانے کی خبر مغربی میڈیا میں آئی تھی جس کا سہرہ لیتے ہوئے امریکی صدر براک اوبامہ نے گروپ کی اعلی لیڈر شپ کو ختم کرنے کا دعوی کیا تھا، تو لگا تھا کہ آئی ایس کمزور ہوا ہے۔ لیکن تازہ حملے نے یہ جتا دیا کہ کچھ اقتصادی اور لیڈر شپ سے متعلق نقصان کے باوجود حملہ کرنے کی اس کی صلاحیت برقرار ہے۔ حملے کا مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ آئی ایس کی طاقت الٹے بڑھ رہی ہے ۔
بیشک عراق اور شام میں اس کا تیزی سے صفایا ہورہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا آئی ایس کو کم کرکے دیکھنا شروع کردے۔ دنیا کے کئی دیشوں میں اسلامک اسٹیٹ کے حمایتی موجود ہیں اور بوکھلاہٹ میں وہ خطرناک حملے کرسکتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کے سبھی دیش اپنی سلامتی پر زیادہ دھیان دیں اور دہشت گردی کے خلاف آپسی تعاون بڑھائیں۔ آنے والے دن زیادہ چیلنج بھرے ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

بہار میں فرضی سر ٹیفکیٹ کا گورکھ دھندہ

ہمیں یہ دیکھ کر حیرانی ہے کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر فرضی طریقے سے سرٹیفکیٹ لینے کا چلن بڑھ گیا ہے۔ یہ رائے زنی پٹنہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نونیت پرساد نے دی ہے۔ عدالت نے بہار کے مظفرپور ڈویژن میں فرضی سرٹیفکیٹ پر ہوئی ڈاک سیوکوں کی بحالی کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم دیتے ہوئے چھ ہفتے میں اسٹیٹس رپورٹ دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت ہذا نے کہا کہ جب ان ڈاک ملازمین کی بحالی سنسکرت شکشا بورڈ سے منظور فرضی کاغذات کی بنیاد پر ہوئی ہے تب ڈاک محکمے کے ساتھ بورڈ کے افسروں کو بھی جانچ کے دائرے میں لایا جائے اور جو بھی افسر یا ملازم ملوث ہو ان پر فوراً چارج شیٹ دائر کریں۔ عدالت نے کہا کہ ان تقرریوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے سب کچھ پہلے سے ہی فکس تھا۔ عرضی گزار کے وکیل نے بتایا کہ مظفر پور ڈویژن میں 60 خالی اسامیوں کے بدلے صرف 66 درخواستیں آئیں اور ایک ہی دن میں سبھی کو بھردیاگیا۔ سبھی منتخب امیدواروں کے پاس مادھیامک سرٹیفکیٹ تھا جو شکشا بورڈ سے جاری ہوئے تھے۔ سیتا مڑھی اور سمستی پور میں مقرر ڈاکیوں کے سرٹیفکیٹ کی جانچ میں سی بی آئی جی جعلسازی پکڑی تھی۔ ادھر بہار ٹاپر اسکینڈل میں روز روز نئے انکشاف ہورہے ہیں۔ گرفتاریاں ہو رہی ہیں بہار ودیالیہ پریکشا سمیتی کے صدر رہے لال کیشور پرساد پہلے ہی جیل میں ہیں اب بورڈ کے دوسرے سب سے بڑے افسر سابق سکریٹری ہری ہر ناتھ جھا کو بھی میرٹ گھوٹالے میں پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اور جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس نے ہری ہر ناتھ جھا کو نگرانی کے اسپیشل جج راگھوندر کمار سنگھ کی کورٹ میں پیش کیا۔کورٹ نے انہیں 8 جولائی تک بیور سینٹرل جیل میں جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا ہے۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں ٹاپر گھوٹالے کے ساتھ ہی بورڈ کے سطح پر دھاندلی میں سابق سیکریٹری جھا کی شمولیت کے ثبوت ملے ہیں۔ میرٹ گھوٹالہ اجاگر ہونے کے بعد اب بہار انٹر میڈیٹ پریکشا کی ٹاپر لسٹ میں تبدیلی کی باری ہے۔ آرٹ میں ٹاپر روبی رائے کا رزلٹ منسوخ ہوگیا ہے۔ دوسرے مقام پر رہنے والی کیرتی اب ٹاپر ہونے کی دوڑ میں آگے ہے لیکن بہار بورڈ کے پردھان آنند کشور کا کہنا ہے کہ پورا جائزہ لینے کے بعد ہی نئی ٹاپر لسٹ جاری ہوگی۔ اس درمیان ایس آئی ٹی نے فراڈ ٹاپروں پر شکنجہ کسنا شرو ع کردیا ہے۔ انٹر آرٹ میں فرضی ٹاپر روبی رائے کو جیل بھیجنے کے بعد دیگر تین طلبا کو پکڑنے کے لئے قانونی کارروائی تیز کردی ہے۔ سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر رگھوونش پرساد سنگھ نے کہا کہ ٹاپر گھوٹالہ میں بہت جلد بڑا خلاصہ کریں گے۔ کاغذات اکھٹا کررہے ہیں۔ انہوں نے روبی رائے کو جیل بھیجنے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ بچوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا قطعاً نامناسب ہے۔
(انل نریندر)

01 جولائی 2016

تنزیل احمد قتل واردات کا ماسٹر مائنڈ منیر گرفتار

قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے ڈی ایس پی تنزیل احمد کے قتل کا اہم ملزم منیر کو ایس ٹی ایف نے منگلوار کو مڈ بھیڑ کے بعد گریٹر نوئیڈا ویسٹ سے گرفتار کرلیا ہے۔ منیرکے ساتھ اس کا ساتھی عدنان بھی ایس ٹی ایف کے ہتھے چڑھ گیا۔ سب سے قریبی دوست آشوتوش مشرا کے ساتھ طلبا کے گروپوں کے معمولی جھگڑوں سے چھوٹی موٹی واردات سے سفر شروع کرنے والا منیر سائکو کلر بن گیا۔ منگلوار کی صبح گرفتاری کے بعد جس انداز میں اس نے ٹیم کے سوالوں کا جواب دیا اس کے ہاؤ بھاؤ دیکھ کر سبھی دنگ رہ گئے۔ اس نے قبول کیا کہ وہ جدید ترین ہتھیار اے کے ۔47 خریدنے جارہا تھا تاکہ مغربی یوپی و این سی آر میں اپنی کلنگ مشین اے کمپنی کا ڈنکا بجا سکے۔ اسی مقصد سے اس نے بجنور میں 90 لاکھ روپے لوٹے تھے۔ اس بات کی بھنک ڈی ایس پی تنزیل کو لگ گئی اور وہ اس کی راہ میں روڑا بنتے دکھائی دے رہے تھے اس لئے منیر نے تنزیل کو ہی مار ڈالا۔ وہ ساؤتھ انڈین فلم ’’گول مال‘‘ کے اہم کردار کے انداز میں بتاتا ہے کہ جو بھی اس کے راستے میں آتا اسے گولی ضرور ماتا۔ اب وہ بچے یا مرے۔ ہر وقت پیٹ پر بیگ جس میں ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کارتوس کا ذخیرہ رہتا تھا۔ پوچھ تاچھ میں منیر نے انکشاف کیا کہ تنزیل احمد اور اس کے دوسرے ایجنسیوں کو اطلاعات دے کر اس کے ساتھیوں کو گرفتار کروا رہے تھے۔ جلدہی اس کی باری بھی آنے والی تھی اسی وجہ سے اس نے تنزیل کو مارڈالا۔ ڈی ایس پی کے قتل میں ان کے بہنوئی کے بھتیجے رومان نے بھی منیرکا ساتھ دیا تھا۔
اپریل میں ڈی ایس پی کے قتل کے معاملے میں ایس پی ایف نے ملزم کی گرفتاری کے لئے زمین آسمان ایک کردیا تھا لیکن لاپروائی کی حدیہ تھی کہ تنزیل کے قتل کے بعد ڈیڑھ دن ک سہس پور میں واقعہ اپنے ہی گھر میں تھا اور اس کے بعد وہ سہس پور سے نکل کر یوپی کے کئی ضلعوں میں رہا۔ غازی آباد کے اے بی ایس انجینئرنگ کالج کے پاس ایک گھر میں فیصل کے ساتھ رہا۔ منیردہلی کے کملا نگر میں گاڈ کا قتل کر اے ٹی ایم سے ڈیڑھ کروڑ روپے لوٹ کر بجنور ۔دھام پور میں پی این بی وین سے 90 لاکھ ، علیگڑھ کے انڈس بینک میں 31 لاکھ لوٹ اور علیگڑھ کے ہی بینک وین سے 45 لاکھ کی لوٹ میں شامل رہا۔ تنزیل کے قتل کے بعد کچھ دن 2 لاکھ کا انعامی بدمعاش نیپال میں بھی رہا اس دوران اس نے دہلی کے اوکھلا سمیت یوپی کے کئی ضلعوں میں پناہ لی۔ایس ٹی ایف یہ بھی جانچ کررہی ہے کہ تنزیل احمد کے ذریعے پتہ لگائے جارہے آتنک وادیوں کے سراغ کے چلتے ان کا قتل تو نہیں ہوا۔ اس دوران منیر آتنک وادیوں کے رابطے میں تو نہیں رہا؟ بیحد شاطر منیر موبائل اور لیپ ٹاپ جیسی کئی الیکٹرانک سامان استعمال میں نہیں لاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اتنے دن تک بچتا رہا۔
(انل نریندر)

بھارت کی تقسیم کی تاریخ کا یادگار دن

دیش کے لئے یہ انتہائی فخر کی بات ہے کہ ہندوستانی فوج کی اگلی لائن کے جنگی جہاز سخوئی۔30 سے دنیا کی سب سے طاقتور کروز میزائل برہموس داغنے کے سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ہوا سے زمین تک مار کرنے والی اس برہموس میزائل کا ایتوار کو ناسک میں کامیاب تجربہ کیا گیا۔ اب مہینے بھر کے اندر ہی اگلے میزائل کے ساتھ اس کا اصلی تجربہ کرنے کی تیاری شروع کرلی گئی ہے۔ آواز سے بھی تیز رفتار سے چلنے والی سپرسونک کروز میزائل داغنے کا یہ دنیا کا پہلا تجربہ ہے۔ یہ طاقتور میزائل دشمن کے علاقے میں کافی اندر تک جا کر مار کرنے میں اہل ہے۔ یہ منظر سرحد(ویزول رینج)کے باہر کے بھی ٹھکانوں پر بالکل صحیح مارکرسکتی ہے۔ سخوئی سے برہموس داغنے کی سہولت سے ایئر فورس کی جنگی صلاحیت میں بڑا اضافہ ہوگا۔ یہ سسٹم دشمن کی مضبوط ہوائی دفاعی سسٹم کو ٹوہ لینے میں بھی اہل ہے۔ برہموس ایرو اسپس کے چیف افسر سدھیر کمار مشرا نے بتایا کہ ڈھائی ہزار کلو گرام وزن کے میزائل کو جنگی جہاز کے ساتھ جوڑ کر اڑانے والا بھارت پہلا دیش بن گیا ہے۔ ونگ کمانڈر پرشاند نائر اور ایم ایس راجو تقریباً 45 منٹ تک برہموس کو ساتھ لیکر ایس یو ۔30 ایم کے آئی جہاز کو اڑاتے رہے۔ ہندوستانی ایروناٹکس لمیٹڈ کے چیف جنرل منیجر پی سورن راجو نے بتایا کہ آج کی کامیابی کے بعد اب اس طرح کے کئی اور تجربے کئے جائیں گے۔ راجو نے مزید بتایا میک ان انڈیا کی یہ ایک شاندار مثال ہے اور بھارت کی جہاز رانی تاریخ میں بھی یادگار دن ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر سبھی ایجنسیاں ایک ساتھ مل کر کسی خاص مشن پر کام کرنے لگیں تو ناممکن کچھ بھی نہیں ہے۔ 
راجو کہتے ہیں برہموس ایروناٹکس کے ساتھ ہم نے2014 ء میں اس کو لیکر سمجھوتہ کیا تھا۔ ہمیں دو سخوئی جہازوں کے ڈیزائن کو بدلنا تھا تاکہ وہ برہموس کو لیکر اڑان بھر سکیں۔ بتا دیں کہ بھارت اور روس نے مل کر اس سپر سونک کا میزائل ڈیولپ کیا ہے۔ اس میں پنڈبی، جنگی بیڑا، زمین اور جہاز سے داغہ جا سکتا ہے۔ سخوئی۔30 ایم کے آئی بھارتیہ ایئر فورس کا ایڈوانس جنگی جہاز ہے۔ یہ جہاز روسی کمپنی سخوئی اور ہندوستان ایروناٹکس کے تعاون سے بنا ہے۔ برہموس میزائل290 کلو میٹر تک مار کرسکتا ہے۔ یہ 200 کلو گرام گولہ باردو لے جانے میں اہل ہے اور یہ میزائل آواز سے 2.8 گنا زیادہ تیزی کوچھونے میں اہل ہے۔ بھارت کی اس شاندار کامیابی پر سبھی متعلقہ عملے کو مبارکباد۔ آہستہ آہستہ بھارت کی فوجیں مضبوط ہوتی جارہی ہیں۔ یہ کارنامہ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کو حاصل کرنے میں ہندوستانی انجینئروں کا قابل قدر اشتراک ہے۔
(انل نریندر)

30 جون 2016

اکھلیش یادو کے نئے تیور

اترپردیش میں جوں جوں اسمبلی چناؤ قریب آتے جارہے ہیں صوبے کی سیاست میں ابال آتا دکھائی دینے لگا ہے۔ سبھی پارٹیوں کی نظر پسماندہ ، دلت اور اقلیتی ووٹروں کو لبھانے میں لگی ہے۔ اکھلیش یادو کو ہی لے لیجئے ان کا ایک نیا چہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ معاملہ چاہے ان کے کیبنٹ میں توسیع کا ہویا مختار انصاری کی قیادت والی قومی ایکتا پارٹی کا، سپا میں انضمام کا ہو اس کو لیکر پر زور مخالفت ہورہی یا پھر وزیر اعلی کے اپنے چاچا اور ریاست کے وزیر شیو پال سنگھ یادو کے خلاف جانے کا ہو، یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ شیو پال قومی ایکتا پارٹی کو سپا میں شامل کرناچاہتے تھے لیکن اکھلیش ایسا نہیں چاہتے تھے۔ یہ ٹکراؤ اتنا بڑھ گیا کہ انضمام میں اہم کردار نبھانے والے بلرام سنگھ یادو کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی صاف کیا کہ مختار انصاری جیسے لوگوں کو پسند نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی میں ان کے شامل ہونے کی مخالفت کی گئی۔ عام طور پر اپنے عہد کے آخری برس میں وزیراعلی چناوی تیاریوں کو ذہن میں رکھ کر ہی اپنی کیبنٹ میں ردوبدل کرتے ہیں لیکن اکھلیش نے اپنے ساتویں اور عہد کے ممکنہ آخری ردوبدل میں جن حالات میں محض ایک ہفتے پہلے ہٹائے گئے بلرام سنگھ یادو کو دوبارہ کیبنٹ میں شامل کیا ، اس سے ان کی مجبوری جھلکتی ہے۔ اس لحاظ سے جیل میں بند مختار انصاری کی پارٹی ایکتا دل کا سپا میں انضمام روکنے کے لئے سخت رخ اختیارکرنا صحیح ہے۔ دراصل 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو واضح اکثریت دلانے میں اکھلیش کی نوجوان صاف ستھری ساکھ اور سخت محنت ذمہ دار تھی لیکن وزیر اعلی بننے کے بعد چوطرفہ خاندانی دباؤ کے چلتے ، حکام کی تعیناتی کو لیکر پالیسی ساز فیصلوں تک میں اکھلیش پھسلتے نظر آئے۔ اب اکھلیش نے ہمت سے کام لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ عوام نے مجھے چن کر بھیجا ہے ، نیتا جی نے مکھیہ منتری کی کرسی پر بٹھایا ہے جو مجھے ٹھیک لگے گا وہ میں کروں گا۔ فیصلہ چاچا بھتیجے کا نہیں بلکہ سماج وادی پارٹی کی سرکار کا ہوتا ہے اور سرکار وہی فیصلہ لیتی ہے جو عوام کے مفاد میں ہے۔ الزام تو لگتے ہی رہتے ہیں ایک بار تو ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کو بھی لوک سبھا میں غنڈہ کہہ دیاگیا تھا، اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ لوہیا جی غنڈے تھے۔سپا اور بسپا اترپردیش کی روایتی طورسے دو بڑی حریف پارٹیاں ہیں اور دونوں کو اس کا احساس ہوگا کہ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا نے 73 سیٹ جیت کر اپنے لئے بڑی جگہ بنالی۔ کیبنٹ ردو بدل میں اکھلیش نے نئے تیور دکھانے شروع کردئے ہیں دیکھئے آگے آگے کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

دنیا کے سب سے بڑے فٹبال کھلاڑی کا 29 سال میں سنیاس

ہار جیت ہر کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن ایک جس کسی کھلاڑی کو 29 برس کی عمر میں ہی کھیل سے سنیاس لینے پر مجبور کردے تو ہر کوئی حیرت میں پڑ جائے گا؟ چلی اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلے گئے کوپا امریکہ فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں میچ کے ونر کا فیصلہ پینلٹی کارنر شوٹ آؤٹ میں ہوا۔ اس شوٹ آؤٹ میں یہ دونوں ٹیمیں اپنی پہلی باری مس کرگئیں۔ چلی کے اتورو وڈال تو ارجنٹینا کے کھلاڑی لیانل میسی پینلٹی ہٹ پر گول نہیں داغ سکے اور چلی جیت گیا۔ لگاتار دوسری مرتبہ کوپا امریکہ کا چمپئن بن گیا۔ میسی اس ہار سے اتنے دکھی ہوئے کہ انہوں نے میڈیا کے سامنے بات چیت کے دوران ہی انٹرنیشنل فٹبال کھیل سے سنیاس لینے کا اعلان کرڈالا۔ میچ ختم ہونے کے چند لمحوں بعد سنیاس لینے کا میسی کے اعلان نے دنیا میں فٹبال کھیل کے شائقین میں طوفان سا مچا دیا ہے۔ سوال کئے جارہے ہیں کہ دنیا بھر کو اپنا دیوانہ بنا دینے والا میسی کیوں ہار کا ذمہ دار ہے؟ جب اسی میسی نے کوپا امریکہ 2016 ء کے پچھلے میچوں میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے ٹیم کو فائنل تک پہنچایا؟ باوجود اس کے میسی کو ہار کا ذمہ دار اس لئے ٹھہرایا جارہا ہے کہ ان سے یہ قطعی امید نہیں تھی کہ وہ فائنل میچ میں پینلٹی ہٹ مس کر جائیں گے۔ پچھلے کچھ برسوں میں میسی کے کھیل کی کارکردگی ، گیم پر کنٹرول اور پاسنگ اور دمدار گول کی بدولت پوری دنیا ان کی دیوانہ ہوگئی۔ یہی خاصیت میسی اور ان کی ٹیم ارجنٹینا کی پہچان بن گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ارجنٹینا میں لاویز ، ڈی ماریہ، فرنانڈیز جیسے اور بھی اسٹار کھلاڑی ہیں جو اس بار چوٹل ہونے کی وجہ سے فائنل میں نہیں کھیل سکے لیکن پانچ بار کے اس چمپئن کھلاڑی سے میدان میں ان کے دیوانہ کچھ زیادہ ہی امیدیں لگا لیتے ہیں۔ ویسے اسی ٹورنامنٹ میں میسی کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ یہاں تک کہ جس چلی کے خلاف ان کا فائنل مقابلہ تھا اسے وہ گروپ مقابلوں میں 2-1 سے ہار چکے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کوپا امریکہ میں جیتنے سے میسی کی عظیم شخصیت کچھ اور بڑھ جاتی لیکن نہیں جیتنے سے کلب کے لئے ہیرو اور دیش کے لئے زیرو کی باتیں پھر سے ہونے لگی ہیں۔
میسی کی نکتہ چینی کرنے والے بھی مانتے ہیں کہ اگر ان کے نام ورلڈ کپ اور کوپا امریکہ خطاب ہوتا تو وہ شارے عام طور پر عظیم کھلاڑی کہلاتے۔صلاحیت کے لحاظ سے انہیں برازیل کے پیلے (ورلڈ لپ) اور ہم وطن ڈیگو ماراڈونا کے برابر رکھا جاتا ہے لیکن ارجنٹینا کیلئے ایک بھی بڑا خطاب نہیں جیت پانے کی وجہ سے وہ بڑے فٹبال کھلاڑی کی چاہ میں پچھڑ گئے۔ ہارکے بعد لیونل میسی نے کہا کہ ہم لگاتار تیسرا فائنل ہارے۔ ہم نے پوری کوشش کی لیکن یہ ٹرافی ہمارے لئے نہیں تھی۔ میرے پینلٹی کارنر مس کرنے سے ہمیں ہار جھیلنی پڑی ہے۔ صرف فائنل تک پہنچنا کافی نہیں بلکہ جیتنا بھی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

29 جون 2016

برگزیٹ برطانیہ و یوروپ میں سیاسی زلزلہ

جمعرات کو برطانیہ میں ہوئے ریفرنڈم میں یوروپ کی سیاست میں زلزلہ آگیا ہے اس ریفرنڈم میں برطانیہ کی عوام نے یوروپی یونین سے الگ ہونے کافیصلہ کیا تھا۔اب اس ریفرنڈم کے خلاف برطانیہ میں ہی آواز تیز ہوتی جارہی ہے۔ اسے منسوخ کرنے اور دوسرا مینڈنٹ لینے کی مانگ زور پکڑتی جارہی ہیں۔ تازہ خبر کے مطابق اس فیصلے کے خلاف سرکاری ویب سائٹ پر عرضی دینے والوں کی تعداد 30لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہیں یہ تعداد اس موضوع پر کے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف کامنز میں بحث کے لئے توقع کی بنیاد پر نمبروں سے ایک لاکھ زیادہ ہے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے دوسرے ریفرنڈم کے امکانات سے انکار نہیں کیا ہے ادھر اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نیوکولا اسٹار جی اون نے ریفرنڈم پر تلخ تیور دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ برطانیہ کے یوروپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلہ کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی انہوں نے کہاکہ وہ پارلیمنٹ میں ممبران سے برگزیٹ پر قانونی منظوری نہ دینے کے لئے اپیل کریں گے۔ ایک خبررساں ایجنسی کے مطابق اگر پارلیمنٹ میں اسکاٹ لینڈ کے وسیع مفادات کو سنجیدگی سے سمجھا گیا توبرگزیٹ کو روکنے کا اشو پارلیمنٹ کی ٹیبل پر ہوگا۔ اسٹار جی اون کی اسکوائسٹش نیشنل پارٹی کے 129 ممبری پارلیمنٹ 63ممبر ہے کنزرویوپارٹی میں ڈیوڈ کیمرون کی جگہ لینے کے لئے نیتاؤں نے جوڑ توڑ شروع کردی ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں نیا لیڈر چنا جائے گا۔ لندن کے سابق میئر گورس جانسن اور وزیرداخلہ تھیرسا کے درمیان بڑا مقابلہ لگ رہا ہے۔ سنڈے ٹائم کے مطابق مائیکل کوئے نے جانسن کو حمایت دی ہے وہی کیمرون کی حمایت میں ساتھ ہے برگزیٹ کے بعد کیا اب فرانس یوروپی یونین سے نکلنے کے لئے فریگزیٹ بنوائے گا؟ صدر فرانسیسیوں اولانڈ نے امکان سے انکار کیاہے لیکن 2017 میں ہونے والے چناؤ کے سبب وہ دباؤ میں ہے۔ کٹر ساؤتھ پنتھی لیڈر میرین لیپیں چاہتی ہے کہ برطانیہ جیسا ریفرنڈم فرانس میں بھی ہو۔ ادھر یوروپی یونین پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو یوروپی یونین سے الگ ہونے کی خانہ پوری 28 جون سے شروع کردینی چاہئے۔ 28 و 29 جون کو یعنی ( آج) یوروپی یونین کی خاص میٹنگ ہوگی اس کے ساتھ ہی یوروپی یونین نے الگ ہونے کے خانہ پوریوں کو کم کرنے کے لئے قدم اٹھانے شروع کردیئے ہیں۔ برطانیہ میں یوروپی یونین کی ممبر شپ پر جمعرات کو کرائے گئے ریفرنڈم میں 52 فیصد لوگوں نے یونین سے باہر آنے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ولیم اولیور ہیلے نے دوبارہ ریفرنڈم کی مانگ کرتے ہوئے اپیل دائر کی تھی۔ اپیل میں لکھا ہے کہ ہم زیادہ حوصلہ افزا لوگ برطانوی سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ قاعدہ لاگو کریں کے اگر برگزیٹ 75 فیصد سے کم لوگ ووٹ دیں اور یوروپی یونین میں بنے رہنے اور الگ ہونے کے لئے 60 فیصد سے کم ووٹ ہوں تودوبارہ ریفرنڈم کرایا جائے۔ برطانیہ میں ابھی ریفرنڈم میں 72.2 فیصد لوگوں نے ووٹ دیاتھا۔ پارلیمنٹ کی اپیل کمیٹی ہی پارلیمانی عرضیوں کے کام کاج کو دیکھتی ہیں اور وہی فیصلہ لیتی ہے اگر کسی اپیل پر ایک لاکھ سے زیادہ دستخط ہوں تو اس پر ہاؤس آف کامنز میں بحث کراوئی جائے یا نہیں۔ ایسا بھی دیکھاجارہا ہے کہ الگ ہونے کے لئے ووٹ دینے والے برطانوی شہری اپنے فیصلہ پر افسوس جتانے لگے ہیں ۔ لندن کے شہری ایک خاتون نے کہاہے کہ موقع دیاجائے تو میں فیصلہ بدلناچاہوں گی۔ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ ریفرنڈم کا نتیجہ برطانوی سرکار پر لاگو نہیں ہے۔ دیکھیں برطانیہ اور یوروپ میں آئے سیاسی زلزلہ میںآگے کیا کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

کشمیر میں سیکیورٹی فورس پر بڑھتے حملے

سرینگر نے باہری علاقے پامپور میں سنیچر کی شام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے کو ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ یہ سیکیورٹی فورس پر پچھلے تین برسوں میں سب سے بڑا حملہ تھا۔ سی آر پی ایف کے قافلے پر کئے گئے حملہ میں آٹھ جوانوں کے شہید ہونے سے پورے دیش میں ناراضگی اور افسوس کا ماحول ہے۔ کسی عام آتنکی حملے میں اتنی بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورس کے جوان نہیں مرتے۔ دکھ کا پہلو یہ بھی اگر سی آر پی ایف نے خفیہ الرٹ کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو اس حملے میں ہمیں آٹھ جوان نہ گنوانے پڑتے۔ سبھی سیکیورٹی ایجنسیوں کو وقت رہتے مطلع کیا گیا تھا۔ کہ سرینگر سے اننت ناگ کے درمیان خاص کر پامپور اور اونتی پورا تک آتنکی کسی بڑی واردات کو انجام دے سکتے ہیں۔ سنیچر کی صبح یہ الرٹ جاری ہوا تھا۔ اس میں صاف کہا گیا تھاکہ سی آر پی ایف کی گاڑیوں کو آتنکی نشانہ بناسکتے ہیں۔ حملے کی جانچ کررہے ایک افسر کے مطابق آتنکیوں کا نشانہ بنے سی آر پی ایف کی گاڑیوں کے ساتھ مبینہ طور پر کوئی اسکاٹ گاڑی بھی نہیں تھی۔ بے شک جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے دو آتنکیوں کو ڈھیر کیا ہے اگر حقیقتا دو آتنکی آلٹو کار میں بھاگنے میں کامیاب رہے تو یہ تشویش کی بات ضرور ہے کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کار میں سوار آتنکی سڑک پر انتظار کررہے تھے۔ لیکن کسی کی نظر ان پر نہیں پڑی۔ لشکر طیبہ کے ترجمان کے ذریعے مقامی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے بیان میں اس حملے کی ذمہ داری لینا ثابت کرتا ہے کہ ایک بار پھر حملہ کی سازش رچی گئی تھی۔جس ڈھنگ سے مسجد کے پاس ایک موڑ کے قریب یہ حملہ ہوا اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ منظم تھا اس جگہ گاڑیاں دھیمی ہوجاتی ہے۔ آتنکیوں کو یہ جانکاری تھی کہ سی آر پی ایف کے جوان مشق کرنے کے بعد یہی سے لوٹنے والے ہیں آتنکیوں نے بس کے آگے ایک کار کھڑی کردی اور اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔ بتایا جارہا ہے کہ حملہ آوروں کی زد میں جوانوں کی پانچ بسیں آگئی تھیں۔ ظاہر ہے جوانوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور دو آتنکیوں کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ پچھلے سال کے مقابلے اس برس اب تک سرحد پار سے دراندازی کے واقعات بڑھے ہیں۔ تمام حقائق آتنکیوں کے خلاف فوری جوابی کارروائی کے علاوہ سیکیورٹی اور خفیہ محاذ پر اور زیادہ چوکسی بھی مانگ کرتے ہیں یہ چوکسی اس لئے بھی ضروری ہے، کیونکہ جلدی ہی امریاترا شروع ہونے والی ہے۔ سرحد پار سے ان دہشت گردو ں کو سخت پیغام دیناضروری ہے۔
(انل نریندر)

28 جون 2016

30 سال بعدہوئٹزر توپ سودے کو منظوری

1980ء کی دہائی میں سوئڈن سے بوفورس توپوں کی خریداری کے بعد پچھلے 30 سال سے زیادہ عرصے میں بھارت نے کوئی ہوئٹزر بندوق کا سودا نہیں کیا۔ حالانکہ بری فوج کو اس کی بھاری ضرورت تھی۔ یوپی اے I- اور یوپی اے ۔II کی حکومت میں بوفورس توپوں کی خرید سے پیدا تنازع کے سبب کانگریس حکومت نے دیش کی فوجی ضروریات کو نظر انداز کیا۔ وہ توپوں کی خرید کے سودے کو منظوری دینے کی ہمت ہی نہیں کرپائی۔ اب مودی حکومت نے سنیچر کو امریکہ سے 145 ایم ایم 770 الٹرالائٹ ہوئٹزر آرٹیلری گنز ( بیحد ہلکی توپوں کی خرید کو منظوری دے دی ہے۔ یہ سودا قریب 75 کروڑ امریکی ڈالر کا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی18 دھنش سودوں کی پروڈکشن کی تجویز کو بھی منظور کیا گیا ہے۔ بوفورس توپوں کی خرید گھوٹالے کے قریب تین دہائی بعد توپوں کی یہ پہلی خرید ہوگی۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر کی رہنمائی والی ڈیفنس اکوائر کونسل 28 ہزار کروڑ روپے کی تجاویزوں جن میں نئی اسکیمیں بھی شامل تھی، کو بحث کے بعد منظوری دی۔ بچ انڈین کیٹگری کے تحت 13 ہزار 600 کروڑ روپے کی لاگت کی اگلی پیڑھی کے میزائل تیار کرنے کے ایک دیگر اہم پروجیکٹ کواے او ایم (ایکسٹنس آف نیسی سٹی) دیا گیا ہے۔
وزارت دفاع کی ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ڈی اے سی نے امریکہ سے غیر ملکی فوجی سازو سامان کی خرید کی وہی کارروائی کو منظوری دی ۔ ان توپوں کی سپلائی بھارت میں ہوگی جس سے ٹرانسپورٹ لاگت کی کافی بچت ہوگی۔ افسر نے بتایا کہ بھارت نے چین سے لگتی سرحد پر اروناچل پردیش اور لداخ کی اونچائی والے علاقوں میں تعینات کی جانی والی ان توپوں کی خرید میں دلچسپی دکھاتے ہوئے امریکی حکومت کو ایک خط لکھا تھا۔ امریکی منظوری خط ملنے کے بعد ڈی اے سی نے قواعد اور شرائط پر غور کیا اور اسے منظوری دے دی۔ ان توپوں کی پروڈکشن کمپنی بی اے ای سسٹم بھارت میں مہندر کے ساتھ سانجھیداری میں 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے اسمبلی انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹ فیسٹلٹی یونٹ قائم کرے گی۔ امریکہ سے 25 توپیں بالکل تیار حالت میں بھارت آئیں گی جبکہ باقی کو ہندوستانی یونٹ میں جوڑ کر تیار کیا جائے گا۔ 
ذرائع نے بتایا کہ سودے کی خاص بات یہ ہے توپوں کی قیمت بھارت میں سپلائی کرنے کی بنیاد پر طے کی گئی ہے جس سے ان کی ٹرانسپورٹ لاگت پر کافی خرچ بچے گا۔ ان ہوٹزرتوپوں کی کچھ خاصیت ہے 25 کلو میٹر دور تک ٹھیک طریقے سے نشانے تک پہنچنے میں یہ اہل ہے۔ 155 ایم ایم کی یہ توپیں ٹائٹینیم کے استعمال کی وجہ سے وزن میں ہلکی ہیں۔ پہاڑی اور پیچیدہ علاقوں میں تعیناتی میں بہتر ہیں۔115 ایم ایم کیبلیٹ کی یہ توپ ایک منٹ میں پانچ راؤنڈ فائر کرتی ہے۔
(انل نریندر)

بھاجپا۔ شیو سینا ہنی مون ختم: طلاق کی تیاری

مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا کا ہنی مون اب ختم ہوتا جارہا ہے اور دونوں کے رشتے طلاق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شیو سینا اور بھاجپا میں کھٹاس اور خلیج بڑھتی ہی جارہی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان مادھو بھنڈاری نے شیو سینا سے پوچھا ہے کہ بھاجپا سے کب طلاق لے رہو ہے؟ جواب میں پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجے راوت نے جمعہ کو بتایا کہ مہاراشٹر میں ہمارے دم پر ٹکی ہوئی ہے اس بات کا خیال رکھنا۔۔۔ ورنہ تم چھگن بھجبل ، سنیل تتکڑے اور اجیت پوار کی حمایت سے سرکار چلانے کیلئے آزاد ہو۔ ایسا کرنے پر عوام کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کرے گی۔ بھاجپا کے ذریعے اودھو ٹھاکر کو فلم شعلے کا اسرانی کہے جانے پر بھڑکے راوت نے کہا کہ اس بیان سے شیو سینا میں زبردست ناراضگی ہے۔ یہ پھوٹ پڑی تو تمہیں بھاری پڑے گا۔ شیو سینا کے صدر اودھو ٹھاکرے کی کو ٹیم کے ممبر مانے جانے والے راوت نے کہا بھاجپا نیتاؤں کے بیان آتھرائزڈ ہیں تو سی ایم پھڑنویس کو اس کا خلاصہ کرنا چاہئے۔ مہاراشٹر میں مقامی بلدیاتی چناؤ جوں جوں قریب آرہے ہیں بھاجپا۔ شیو سینا میں ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے۔ راوت نے سخت الفاظ میں کہا کہ اودھو ٹھاکرے کے خلاف جس طرح کی زبان کا استعمال بھاجپا نیتا کررہے ہیں اگر وہ آگے بھی جاری رہا تو بھاجپا کو راشٹریہ کانگریس پارٹی کی حمایت سے سرکار چلانی پڑ سکتی ہے۔ بھاجپا کا جواب دیتے ہوئے شیو سینا کونسلر کشوری پیڈگونکر نے کہا کہ امت شاہ کو فلم شعلے کے گبر کا کردار زیب دیتا ہے جو حالت گبر کی ہوئی تھی ویسی ہی بھاجپا کی ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ اودھو کے خلاف تلخ تبصرے کے بعد شیو سینا لیڈروں کی دہاڑ سے لگتا ہے کہ بھاجپا پر اثر پڑا ہے۔ پردیش پردھان راؤ صاحب دانوے نے راوت کی دھمکی کے جواب میں کہا کہ سرکار پورے پانچ سال چلے گی۔ 25 سال سے ہم لوگ دوست ہیں دانوے نے کہا دونوں پارٹیوں کے ورکروں کو ایک دوسرے کے لیڈروں کا احترام کرنا چاہئے۔ کسی اخبار میں کوئی خبر شائع ہوئی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پارٹی کا کردار ہے۔ بھاجپا نے اس سلسلے میں اپنے ورکروں کو حکم دیا ہے شیو سینا کو بھی اس طرح کا حکم دینا چاہئے۔
پچھلے کچھ دنوں سے شیو سینا مودی سرکار پر سیدھے حملے کررہی ہے۔ مثال کے طور پر شیو سینا نے جمعہ کو کہا کہ وہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کے خیالات کی تعریف کرتی ہے۔ بھاجپا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی گاندھی پریوار کے خلاف نیشنل ہیرالڈ معاملے میں سوامی کا استعمال کرنے کے بعد اب چیف اقتصادی مشیر سے وابستہ ہے۔ان کے تبصروں سے پلڑا جھاڑ نہیں سکتی۔ شیو سینا نے اخبار میں ایک ادارے میں کہا کہ ہمیں سوامی کے ساتھ وابستگی رکھنا مجبوری ہے۔
(انل نریندر)

26 جون 2016

یوروپی یونین سے الگ ہو گریٹ برٹین

دوسری جنگ عظیم کے بعد برٹین میں یوروپی یونین سے باہر نکلنے (بریکسٹ ) کے لئے ہوا ریفرینڈم دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ یہ ایک ایسا ریفرنڈم ہے جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ اس کے نتیجوں کا جائزہ و نتائج کئی مہینوں تک تجزیہ نگار تجزیہ کرتے رہیں گے۔ موٹے طور پر کچھ اثرات جلد سامنے آسکتے ہیں۔ سب سے پہلے بتا دیں کہ آخر یہ ریفرنڈم تھا کیا؟23 جون یعنی جمعرات کو برطانیہ میں ای یو (یوروپی یونین) کے ساتھ رہنے یا نکلنے کے لئے برطانیہ کی عوام نے ووٹ ڈالا۔ برطانیہ کے ساتھ ساتھ28 دیشوں کے گروپ یوروپی یونین کی تاریخ کی ایک اہم واقعہ تھا۔ ووٹروں کو طے کرنا تھا برطانیہ یوروپی یونین میں بنا رہے گا یا نہیں؟ کیا ہے یوروپی یونین، یہ یوروپی برصغیر میں واقع 28 ملکوں کا سیاسی اور اقتصادی آرگنائزیشن ہے۔ اس کی الگ کرنسی (یورو) پارلیمنٹ، سینٹرل بینک، کورٹ ہیں۔ ای یو نے اندرونی طور سے ایک بازار اور معیشت بنائی ہوئی ہے۔ اس کے قانون سبھی ممبروں پر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ گرین لینڈ کے بعد ای یو سے باہر نکلنے والا برطانیہ دوسرا دیش ہے۔ برطانیہ میں ریفرنڈم سے الگ ہونے کے حق میں 51.9 فیصدی ووٹ پڑے۔ حالانکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یوروپی یونین میں بنے رہنے کے حق میں کافی سرگرمی کے ساتھ کمپین چلائی تھی۔ عوامی رائے شماری کے نتائج کا سرکاری طور پر کچھ دیر بعد اپنا مختصر بیان دینے کے لئے کیمرون 10 ڈاؤن اسٹریٹ سے باہر نکلے اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دینے کی اپنی رائے ظاہر کردی کہ نئے وزیر اعظم یوروپی فیڈریشن سے باہر نکلنے کی کارروائی شروع کرنے کے لئے اکتوبر میں عہدہ سنبھالیں گے۔ جنتا کا احترام ہونا چاہئے۔ برطانیہ ای یو سے باہر کیوں نکلا اس کے اسباب کا تجزیہ تو لمبے وقت تک چلے گا لیکن موٹے طور پر ایک بڑی وجہ برطانیہ میں خرچہ رہا۔ ای یو سے الگ ہونے کے بعد برطانیہ کو99 ہزار 300 کروڑ روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔ یہ رقم برطانیہ کو ای یو میں بننے رہنے کے لئے ممبر شپ فیس کے طور پر چکانی پڑتی تھی۔یوروپی یونین میں جاری افسر شاہی برطانیہ کے لوگوں کو بالکل پسند نہیں تھی۔ بریکسٹ کی حمایت کررہے لوگوں کا کہنا ہے کہ یوروپی یونین تاناشاہی رویہ اپناتی ہے۔ صرف کچھ افسر مل کر برطانیہ سمیت 28 دیشوں کے لوگوں کا مستقبل طے کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یوروپی یونین میں قریب10 ہزار افسر کام کرتے ہیں ان میں سے کئی سابق سیاستداں ہیں اور اپنے دیش میں سیاسی پاری ختم ہونے کے بعد یہ لیڈر یوروپی یونین کا حصہ بن جاتے ہیں اور موٹی تنخواہ لیتے ہیں۔ بریکسٹ کی مانگ کررہے لوگوں کا دعوی ہے کہ یوروپی یونین میں کام کرنے والے زیادہ تر افسروں کی تنخواہ، برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے زیادہ ہے۔ یوروپی یونین کے ممبر ان پارلیمنٹ کو19 ہزار روپے یومیہ بھتہ ملتا ہے اور سال بھر میں الگ سے خرچ کے لئے 31 لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ اسٹاف رکھنے کے خرچ کے نام پر ان ممبران کو سال بھر میں 1 کروڑ 70 لاکھ روپے الگ سے ملتے ہیں۔یوروپی یونین سے الگ ہونے کے بعد اب برطانیہ کو امریکہ اور بھارت جیسے ملکوں سے آزاد تجارت کرنے کی چھوٹ مل گئی ہے۔ برطانیہ میں فی الحال 50 فیصد سے بھی زیادہ قانون یوروپی یونین کے ہی نافذ ہیں۔ یوروپی یونین کے مقابلے برطانیہ باقی دنیا کو قریب دو گنا سے زیادہ درآمدات کرتا ہے۔ ای یو سے الگ ہونے کی مہم کی قیادت بہت حد تک لندن کے سابق میئر بورس کی تھی۔ دوسری طرف کہنا ہے کہ برطانیہ کی پہچان ، آزادی اور کلچر کو بچائے رکھنے کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ یہ لوگ تارکین وطن کی بھی مخالفت کررہے ہیں۔سن 2008ء کی مندی کے بعدیہ احتجاج اور تیز ہوگیا ہے۔ برطانیہ کو تقریباً 9 ارب ڈالر یوروپی یونین کے بجٹ میں دینے ہوتے ہیں۔ اس کی بھی مخالفت ہورہی ہے۔ یوروپی یونین کے اس ریفرنڈم کے فیصلے کا سیاسی پہلو بھی ہے۔ یوروپی یونین ہونے کے برطانوی عوام کے فیصلے کے بعد ای یو کے لئے اور بری خبر آئی ہے۔ ڈچ اینٹی امگریشن لیڈر گاڈ وائلس نے بریکسٹ کے نتیجے کے بعد نیدر لینڈ میں بھی ای یو کو لیکر ریفرنڈم کرانے کی مانگ کی ہے۔ سینئر یوروپی حکام نے خفیہ طریقے سے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی طرز پر کئی دیش یوروپی یونین سے الگ ہونے کی راہ پر بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک انفکشن کی شکل لے سکتا ہے۔ ادھر خود برطانیہ کے اس فیصلے سے برطانیہ کے سیاسی مستقبل اور اتحاد پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ریفرنڈم کے دوران ووٹنگ کا جو پیٹرن دیکھا گیا اس سے صاف ہے اسکاٹ لینڈ اور نارتھ آئر لینڈ کے لوگوں نے یوروپی یونین کے حق میں رہنے کو ووٹ دیا۔ برطانیہ سے الگ ہونے کی آہٹ لمبے عرصے سے سنائی دے رہی ہے۔ نارتھ آئرلینڈ میں پچھلے کئی دہائیوں سے برطانیہ سے الگ ہونے کی تحریک چل رہی ہے تو دو سال پہلے اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے الگ ہونے کا ریفرنڈم معمولی ووٹ سے گر گیا تھا۔ اب وہاں ایک دو سال میں پھر سے ریفرنڈم کرانے کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔ برطانیہ کے اس ریفرنڈم کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔ بھارت پر بھی اس کا سیدھا اثر پڑ سکتا ہے۔ برطانیہ بھارت کا تیسرا سب سے بڑا سرمایہ کار ملک ہے۔ برطانیہ میں اس وقت 800 سے زیادہ ہندوستانی کمپنیاں کاروبار کررہی ہیں۔ برطانیہ میں ہندوستانی کاروباریوں نے 2 لاکھ47 ہزار کروڑ روپے کا داؤ لگا رکھا ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں برطانیہ میں ایک بڑی وجہ ہیں۔ برطانیہ کے راستے یہ کمپنیاں یوروپ کے 28 ملکوں کے بازارتک سیدھی پہنچتی ہیں۔
(انل نریندر)

پاکستان کے مشہور قوال امجد صابری کا قتل!

پاکستان کے کراچی شہرسے چونکانے والی خبر بدھ کے روز آئی یہ حیران اور پریشان اور انتہائی تکلیف دہ خبر تھی۔ قوالی گانے کے میدان کی مشہور جوڑی صابر برادرس نے امجد صابری کو بدھ کو کراچی میں گولی مار کر ہلاک کردیاگیا۔ واردات میں امجدکے ایک ساتھی کی بھی موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق 45 سالہ امجد اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کارسے لیاقت آباد علاقے میں گئے تھے۔ تبھی بائیک سوار نامعلوم بندوقیچوں نے ان کی کار پر اندھا دھند فائرننگ کرنی شروع کردی۔ گولی لگنے سے زخمی امجد اور ان کے ساتھی کو نازک حالت میں شہر کے عباسی شہید اسپتال لے جایاگیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ امجد کے سر میں دو اور کان کے پاس ایک گولی لگی تھی۔توہین شریعت کیس میں پھنسے صابری کا قتل طالبانی دہشت گردوں نے کیا ہوگا۔ حملہ کے وقت صابری خود کار چلا رہے تھے اور وہ ایک پرائیویٹ چینل کے لئے اسٹوڈیو جا رہے تھے۔ طالبان سے الگ ہوئے حکیم اللہ مسعود گروپ نے صابری کے قتل کی ذمہ داری لی ہے۔ دہشت گرد تنظیم کے ترجمان سیف اللہ محمود نے کہا کہ ہم نے صابری کا قتل کیا کیونکہ انہوں نے اسلام کی بے حرمتی کی تھی۔ دراصل صابری نے مذہبی اشخاص سے وابستہ ایک قوالی گائی تھی ۔ جس کو دو چینلوں نے صبح کے شو میں ٹیلی کاسٹ کیا تھا۔ ایک وکیل نے اس قوالی سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ ایش نندا کے کیس میں 2014ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے امجد صابری اور دو پرائیویٹ چینل کے خلاف نوٹس جاری ہوا تھا۔ پاکستان میں ایش نندا کو لیکر قانون بیحد سخت ہیں اس میں پھانسی کی سزا بھی ہے۔ حالانکہ ایش نندا کے معاملوں میں اکثر کٹر پسند خود ہی ملزمان کا قتل کردیتے ہیں۔ امجد صابری پاکستان کے مشہور قوال خاندان سے ہے۔ ان کے والد غلام فرید صابری، ماموں مقبول صابری مشہور قوال تھے۔ امجد صابری نے حال ہی میں فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ میں اپنے والد غلام فرید صابری کی مشہور قوالی ’بھردو جھولی میری‘ کو بغیر اجازت کے شامل کئے جانے کی مخالفت کی تھی۔ فلم میں اس قوالی کو عنان سمیع نے گایا تھا۔ صابری بھائیوں کی ’تاجدارے حرم‘ اور ’میرا کوئی ہے تیرا سیوا‘ جیسی مشہور قوالیاں گالی ہیں۔ صابری کی قوالی کے دیوانے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں تھے۔ انہوں نے یوروپ امریکہ میں بھی اپنے پروگراموں میں شاندار پیشکش دی تھی۔ ان کو قوالی کا راک اسٹار بھی کہا جاتا تھا۔ رمضان کے مقدس مہینے میں خدا کے ایک بندے کے اس بے رحمانہ قتل پرسبھی کو افسوس ہے۔ صابری خاندان خود کو سنگیت سمراٹ تان سین کا سیدھا ونش بتاتا ہے۔ ہم ان کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور ان کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...