Translater

12 دسمبر 2020

دہلی کو دہلانے کی بڑی سازش ناکام !

راجدھانی دہلی کی سرحد پر جاری کسان تحریک کے درمیان دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے پیر کو پاکستانی خفیہ ایجسنی آئی ایس آئی ،دہشت گروپ ہسب المجاہدین اور خالستان کی بڑی سازش کا انکشاف کیا ہے پولس نے پیر کی صبح مشرقی دہلی کے رمیش پارک میں مونڈ بھیڑ کے بعد پانچ مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے ان میں سے دو پنجاب اور تین جموں کشمیر کے رہنے والے ہیں ۔ پنجابی باشندہ دونوں مشتبہ آئی ایس آئی اور خالستان گروپ کے اشارے پر دہلی میں آر ایس ایس کے لیڈروں کو مارنے آئے تھے جبکہ کشمیری ان دونوں کو نائیکو دہشت گردی کے ذریعے پیسہ دینے آئے تھے خالستان حمایتی مشتبہ ان افراد نے ہی شہری میڈل ونر بلوندر سنگھ سندھو کے قتل میں اہم رول اد ا کیا تھا اسپیشل سیل کے پولس ڈپٹی کمشنر پرمود سنگھ کشواہا نے بتایا کہ ٹیم کو خبر ملی تھی کی خالستانی سکھ بھکاری لال نے پنجاب سے مبینہ دہشت گرد و شارپ سوٹر دہلی بھیجے ہیں یہ کشمیری آتنکی شارپ سوٹروں کو پیسے کے لئے نقدی و ہیروئن سونپیں گے قریب 3716کروڑ روپئے کی ہیروئن بیچ کر پیسے کا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا صبح قریب پونے سات بجے اسپیشل ٹیم نے ان مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولس ٹیم پر فائرنگ کردی لیکن بارہ راو¿نڈ کی فائرنگ کے بعد دبوچ لیا گیا ۔ گرفتا ر پانچوں افراد کی نشان دہی پر دہلی پولس اور سیکورتی ایجنسیوں کی رپورٹ کی مدد سے خالستانی ہینڈلر سکھ بھکاری لال کو دبئی سے دبوچ لیا گیا ۔ بھار ت سرکار نے اس کو ہندوستان لانے کےلئے دبئی سرکار سے بات چیت و قانونی کاروائی شروع کردی ہے ۔ بھکاری لال بڑا ہینڈلر تھااور پنجاب اور آس پاس کے علاقوں میں خالستان کے خلاف آواز اٹھانے والے آٹھ سے زیادہ لوگوں کو مرواچکا تھا اس میں بلوند ر سنگھ سندھو کا قتل بھی شامل ہے دہلی میں گرفتار اس کے ساتھیوں نے پولس کو بتایا کہ ان کی بھکاری لال سے روز بات ہوتی تھی اور انہوں نے دبئی میں ہونے کی جانکاری دی جو وزارات داخلہ کو بھیج دی گئی اس کی بنیاد پر جس کی کوشش پر وہاں کی پولس نے اس پکڑ لیا ہے اس کو بھار ت لایا جارہا ہے حالانکہ اس مرتبہ ایک بات ضرور تو جہ دلانی چاہئے کہ وبا سے لڑنے سمیت کسان تحریک کے مسئلے پر راجدھانی دہلی میں چوکسی کے باوجو د پانچ مشتبہ ہتھیار کے ساتھ یہ کیسے اپنے ٹھیکانے پر پہونچ گئے ؟ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔دہشت گرد تنظیموں کے ممبران کے زریعے ممنوعہ نسیلی چیزوں اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے جمع پیسوں کو استعمال بھار میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کےساتھ ساتھ آتنکی دہشت گردی سرگرمیوں کو انجام دینے میں کیا جاتا رہا ہے یہ بھی دنیا جان رہی ہے کہ زیادہ تر دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں اپنے ٹھکانوں سے اپنی سرگرمیاں چلاتے ہیں دہلی پولس کی اس بروقت کاروائی نے ایک بڑی سازش کا پردہ فاش کرکے بڑے آتنکی حملے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے ۔ (انل نریندر)

نہ تم مانو ،نہ ہم تو بات کیسے بنے گی ؟

نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہے کسانوں اور مرکزی سرکار کے درمیان ٹکراو ٹالنے کا کوئی راستہ فی الحال نکلتا نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ بدھوار کو مرکزی سرکار کے ذریعے پرستا و ملنے کے بعد چالیس سے زیادہ کسانوں کے لیڈروں کی میٹنگ ہوئی اس میں اتفاق رائے سے سبھی نے مرکزی حکومت کی تجاویز کو مسترد کردیا خبر ملتے ہی مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے چلے گئے کیونکہ تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد کسانوں نے شام میں احتجاج تیز کرنے کی دھمکی کا اعلان کردیا انہوں نے اب ایک نئی بات احتجاج میں جوڑ دی ہے انہوں نے کہا کہ امبانی ،اڈانی کے سامان کا بائیکاٹ کریں گے اور دیش بھر میں دھرنے دیں گے بھاجپائیوں کا گھیراو¿ کریں گے ۔ دوسری طرف کیبنیٹ کی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ ایم ایس پی اے پی ایم سی دونوں برقرار رہیں گے ویسے راجستھا ن بلدیاتی چناو¿ کے نتائج نے بتادیا ہے کہ کسان زرعی قوانین کے حق میں ہیں ۔ وہیں وزیر صارفین امور راو¿ صاحب دانوے نے کہا کہ چین اور پاکستان نے سی اے اے کے نام پر پہلے مسلمانوں کو اکسایا اور اب وہ کسانوں کو اکسا رہے ہیں ۔مرکزی حکومت نے 32صفحات کا پرستا و جو کسانوں کو بھیجا تھا اس پر کسانوں کو کہنا تھا یہ پرستاو گول مول ہیں ۔ 22صفحات میں بارہ صفحات تمہید، باندھنے۔ پش منظر ،فائدے اور تحریک ختم کرنے کی اپیل اور شکریہ پر مبنی ہیں ۔ ترمیم کی جگہ ہر مسئلے پر لکھا ہے کہ ایسے کرنے پر غور کرسکتے ہیں قانون منسوخ کرنے کے جواب میں سیدھے ہاں یا نا میں جواب دینے کی جگہ تجویز پر غور کرنے کی بات لکھی ہے ۔ یہ ہیں سرکار کی طرف سے کسانوں کے دیئے گئے پرستاو کے جواب ایم ایس پی کی موجودہ خرید سسٹم پر تحریری یقین دھانی دے گی۔ ریاستی سرکاریں چاہیں تو پرائیویٹ منڈیوں پر بھی ٹیکس یا فیس لگا سکتی ہیں ۔ اور ریاستی سرکار چاہیں تو منڈی تاجروں کا رجسٹریشن ضروری کر سکتی ہیں ۔ سول کوٹ کچہری جانے کا کسانوں کا متابدل دیا گیا ہے ۔ کمپنی کے درمیان ٹھیکے کی تیس دن اند ر رجسٹری ہوگی ٹھیکہ قانون میں صاف کریں گے ،کھیتی کی زمین یا بلڈنگ گروی نہیں رکھ سکتے ۔ کسان کی زمین قرقی نہیں ہوگی پرانی بجلی سسٹم رہے گا اس کے علاوہ کسانوں کے دیگر تجاویز ہونگی تو ان پر غورکیا جائے سرکار اور بی جے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک پر سیاسی رنگ پوری طرح چڑھتا دکھائی دے رہا ہے سرکار کی تجاویز کو مسترد ہوئے کچھ کسان نیتاو¿ں نے کانگریسی لیڈر راہل گاندھی کے انداز میں امبانی اڈانی کی مخالفت کا اعلان کردیا ہے وہیں لیفٹ کے نیتاو¿ں نے چاروں طرف سے دہلی کو جام کرنے اور دوسرے اعلانات کئے ہیں ۔ 35سے زیادہ کسان نیتاو¿ں کا منانا آسان کام نہیں ہے ایک طبقہ مانتا ہے کہ کسانوں کا ایک طبقہ ایم ایس پی پر گارنٹی اور اے پی ایم سی جاری رہنے اور پرائیویٹ منڈیوں پر بندشیں جیسی کچھ تقاضوں کو کافی مان کر تحریک ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن اس تحریک پر لیفٹ نظریہ والی پارٹیوں کا اثر ہے ،کسان ایکتا کا سوال ہے اس لئے سرکاری پرستاو ماننے کی سوچ رکھنے والے طبقے کی چل نہیں رہی ہے ؟دوسری طرف کسان لیڈروں کا کہنا ہے جب سرکار تین قوانین میں ترمیم کی بات مان رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ قانون غلط ہے اس لئے انہیں واپس لیا جائے ایم ایس پی گارنٹی اور دیگر اشوز پر نیا قانون لایا جائے کسانوں کے اس طبقے نے ایک اور تحریک تیز کرنے کی تیاری میں ہیں ۔ انہیں اس بات کی فکر ہے کہ کہیں یہ تحریک تشدد میں نہ بدل جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو حالات اور بگڑ سکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

11 دسمبر 2020

لگتا ہے سرکار مہنگائی بڑھانا چاہتی ہے ؟

پیٹرول کے دام دو سال میں سب سے اونچائی سطح پر پہونچ گئے ہیں ۔رزرو بینک آف انڈیا نے پچھلے دنوں بینک سوشروں میں کوئی تبدیلی نا کرتے ہوئے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ بڑھتی مہنگائی کو روکنے کے حق میں نہیں ہے اور اب تیل کمپنیوں کے ذریعے مسلسل بڑھتے دام یہ بتا رہے ہیں مرکزی حکومت بھی مہنگائی کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے تبھی تو مسلسل پٹرول ڈیزل کے دام بڑھتے جا رہے ہیں دہلی میں پٹرول کے دام 83.71فی لیٹر ہو گئے ہیں ۔انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق ڈیز ل کے دام بھی 73.87روپے فی لیٹر ہو گئے ہیں ۔دو سال کی ریکارڈ قیمت پر بک رہے پٹرول ڈیزل اور مہنگے ہو سکتے ہیں ۔اگر مرکز یا ریاستی حکومتوں نے پٹرول ڈیزل پر ٹیکس کم نہیں کیا تو اگلے دو مہینوں مین اس کی قیمت سو روپے فی لیٹر کے پار چلی جائیگی اس کی وجہ بین الاقوامی سطح پر کچے تیل کے بھاو¿ میں تیزی آرہی ہے ۔اکتوبر میں تیل کی اوسط قیمت 35.79ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 45.34ڈالر فی بیرل ہو گئی ۔کیڈیا کے ایڈوائزی ڈائرکٹر کہتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کچے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لئے حوصلہ افزائی کررکھی ہے اس وقت امریکہ کچے تیل کے اصل در آمد کی وجہ سے یہ تیل اہمیت بن گیا ہے ۔بیشک بین الاقوامی سطح پر کچے تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو قیمت بڑھانی پڑھ رہی ہے ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیمتوں کو کہا تک بڑھنے دیا جائیگا ۔پٹرول ڈیزل کی قیمت کا سیدھا اثر مہنگائی پر پڑتا ہے مہنگائی کے سبب غریب جنتاکسان پہلے سے ہی پس رہے ہیں ۔اور کتنا بوجھ ان پر ڈالوگے ؟ (انل نریندر )

سپریم کورٹ نے ارنب گوسوامی کی عرضی خارج کر دی !

سپریم کورٹ نے رپبلک ٹی وی کی اس عرضی پر پیر کو سماعت سے انکار کردیا جس میں میڈیا نیٹ ورک نے اپنے گروپ کے ملازمین کو مہاراشٹر میں درج مقدموں سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست لگائی تھی ۔عرضی جسٹس دھنن جے یشونت چندرچور سربراہی والی بنچ کے سامنے یہ عرضی آئی تھی جس میں کہا گیا تھا جس میں فریادی ایک وی آئی پی شخص ہے ۔جسٹس چندرچور نے آر جی آو¿ٹ لوک میڈیا کے وکیل ملین ساٹھے سے کہا کہ آپ چاہتے ہیں مہاراشٹر پولیس آپ کے کسی بھی ملازم کو گرفتار نا کرے آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ معاملے کی سماعت کو سی بی آئی کے سپر د کر دیں بہتر ہوگا کہ آپ عرضی واپس لیں اس پر وکیل ساٹھے نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ مہاراشٹر پولیس کو ان کے میڈیا نیٹ ورک کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور ملازمین پر ایکشن کرنے سے روکا جاسکے ۔ساٹھے سے کہا آپ نے تمام راحتوں کی مانگ کی ہے یہ سب ایک عرضی کے ذریعے نہیں ہوسکتا ۔اس پر ساٹھے نے کہا کہ وہ اپنی عرضی واپس لے لیں گے بتا دیں ممبئی پولیس نے مبینہ ٹی آر پی گھٹالے کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا تھا عدالت نے عرضی واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ مناسب قانون کے تحت مناسب طریقہ استعمال کر سکتے ہیں ۔ (انل نریندر )

چین سے آئے کوروناکے خاتمے کی شروعات!

آخر کار اس منہوس بیماری کورونا وائرس سے نجات پانے کا وقت قریب آگیا ہے ۔مہینوں سے انتظار کی گھڑی اب قریب آرہی ہے برطانیہ میں 90سال کی نارتھ آئر لینڈ کی ایک خاتون کو امریکی کمپنی کافائزر بنایاگیا ہے ۔پہلا کورونا ٹیکا لگائے جانے کے ساتھ ہی اب یہ امید زیادہ روشن ہو گئی ہے کہ سال ختم ہونے سے پہلے کچھ اور ملکوں میں یہ کورونا ویکسین انجیکشن دستیاب ہوگا ۔کورونا کا ٹیکہ ایجاد کرنے کو لیکر دنیا کے کئی ملکوں میں دوڑ لگی ہے اور بھار ت سمیت کچھ دیش اس کے کافی قریب پہونچ چکے ہیں سنٹرل بریٹین کے کونٹری میں واقع یونیورسٹی ہاسپٹل میں مائیگریٹ کینن نام کی خاتون کو یہ ٹیکہ لگایا گیا انہوں نے کہا وہ بہت اپنے آپ کو قابل فخر محسوس کرررہی ہیں ۔کورونا نے لوگوں کو یہ ویکسین ٹیکہ لگوانے کے لئے حوصلہ دیا ہے اگر 90سال کی عمر میں میں اس دوا کا ٹیکہ لگوا سکتی ہوں تو باقی لوگ کیوں نہیں برطانیہ میں 80برس سے زیادہ لوگوں اور ہیلتھ کئیر میں لگے ملازمین کو پہلے یہ دوا دینے کا فیصلہ لیا گیا ۔اس اسکیم کے تحت ان لوگوں کو پہلے محفوظ کیا جارہا ہے جنہیں اس وبا سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے ۔برطانیہ پہلا دیش ہے جس نے فائزر کے ذریعے ایجاد کووڈ ویکسین کے استعمال کی منظوری دی ہے ۔برطانیہ کی ریگولیٹری اتھارٹی نے فائزر کو ویکسین کے ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کی منظوری دی ہے ساتھ ہی کہا ہے یہ ٹیکہ جو کووڈ 19سے 95فیصد تک بچاو¿ کا دعویٰ کر تا ہے وہ استعمال میں لائے جانے کے لئے محفوظ ہے پچھلے ہفتہ ہی برطانیہ کی میڈیسن اتھارٹی نے اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی ۔حالانکہ برطانیہ میں ویکسین لگوانا ضروری نہیں ہے ۔دوا کمپنی فائزرا نڈیا نے بھارت میں بھی اپنی کووڈ ویکسین کے ہنگامی حالات میں استعمال کے لئے انڈین میڈیسن ریگولیٹری ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا سے اجازت مانگی ہے ۔برطانیہ اور بحرین میں منظوری ملنے کے بعد کمپنی چاہتی ہے کہ اسے ہندوستان میں بھی اپنی دوا کی فرخت اور تقسیم کا اختیار ملے کمپنی کے مطابق یہ ٹیکہ دو مرتبہ دو ڈوس میں دیا جاتا ہے ۔فائزر اس ٹیکہ کو بحرین میں بھی منظوری مل گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے بھارت میں اس ویکیسن کے سامنے کچھ چنوتیاں ہیں جیسے مائنس 70ڈگری پر اس ٹیکہ کو اسٹور کرنے کی ضرورت ،بھارت جیسے ملکوں میں اس ویکسین کی ڈلیوری بڑی چنوتی ہے خاص کر چھوٹے قصبوں یا شہر سے دور دراز علاقوں میں ٹیکہ کو مائنس 70ڈگری پر رکھنا ہندوستان کے انتظامیہ کے لئے بہت بڑی چنوتی ہوگی کسی بھی بیماری یا وبا کا ٹیکہ یا دوا بنانے سے لیکر اسے بازار میں لانے تک کی کاروائی بہت لمبی اور پیچیدہ ہے ۔حالانکہ کورونا کے قہر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے کئی دیسوں نے ٹیکہ ایجاد کرنے کی مہم میں جیسی فرتی دکھائی ہے ۔اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا عام طور پر ٹیکہ ایجاد کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں اس لئے اسے ایک کارنامہ کی شکل میں دیکھاجانا چاہیے ۔سائنسی طریقہ کے فروغ میں سالوں سے گھٹا کر مہینوں میں لے آئے ہیں یہ ہی وجہ ہے ٹیکہ کے اثرکو لیکر سوال اٹھ رہے ہیں اسی طرح جنگی سطح پر کام ہوتا رہا اور کامیابی کے ساتھ ویکسینیشن کو انجام دیا گیا ۔تو یقینی طور پر بھارت کورونا کو ہرا دے گا ۔ (انل نریندر )

10 دسمبر 2020

سیمی کا دہشت گرد دانش عبداللہ!

حکومت ہند کے زریعے سال 2001میںاسلامک مومنٹ (سیمی )ممنوع قرار دیئے جانے کے بعد سے ہی فرار چل رہے تنظیم کے اہم ممبر اسلامک مومنٹ ہندی میگزین کے چیف ایڈیٹر عبداللہ دانش کو کافی تلاش کے بعد آخر کار دہلی پولس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے اوکھلا اسمبلی حلقے کے ذاکر نگر علاقے سے دبوچ لیا ہے اس کی پہچان 58سالہ عبداللہ دانش کے طور پر کی گئی ۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم سیمی کو نئے نام سے لانچ کرنے کی تیاری میں لگے تھے ممبئی آحمدآباد سلسلہ وار دھماکوں کے گناہ گار دہشت گردوں سے جیل میں مسلسل رابطہ بنائے ہوئے تھے دانش بنیادی طور پر یوپی کے علی گڑھ کے دودھ پور گاو¿ں کا باشندہ ہے پولس نے ملزم کو ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سنیچر کے روز جال بچھا کر گرفتار کیا وہ 19سال سے فرار تھا اسپیشل سیل کے ڈی سی پی پرمود سنگھ کشواہا نے بتایا ملزم عبداللہ دانش ور دیش دشمنی کا مقدمہ درج ہونے کے علاوہ دہلی و دیش ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام ہیں پولس کو تب سے ہی تلاش تھی کافی عرشے تک فرار رہنے کی وجہ سے اسے 2002میں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ ملزم پچھلے پچیس برسوں سے کئی مسلم لڑکوں کا برین واش کروا کر انہیں آتنکی تنظیموں اور سیمی سے جوڑ چکا ہے ملزم دہلی کے علاوہ اترپردیش مدھیہ پردیش گجرات جیسی ریاستوں سے مسلم لڑکوں کو جوڑتا تھا ۔ عبداللہ کے پریوار میں چار بھائی تین بہنیں ہیں پولس کی تفتیش کی مطابق اس کے ماں باپ پہلے ہندو تھے بعد میں انہوں نے اسلام مذہب اپنا لیا تھا ۔ عبداللہ دانش اعظم گڑھ کے مدرسے میں بھی پڑھا تھااس کے بعد وہ سیمی سے وابستہ ہوگیا اور وہ مسلسل لڑکوں کو سیمی سمیت دیگر ممنوعہ تنظیموں سے جوڑتا رہا ےہ ۔ دانش این آرسی اور سی اے اے کے خلاف منظم ہونے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کے لئے کٹر پسندی نظریات کو پروپیگنڈہ کر رہا تھا ساتھ ہی فرضی ویڈو کا استعمال کر رہا تھا مسلمانوں پر ہورے مظالم کا جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے 27ستمبر 2001میں بھار ت سرکار نے سیمی پر پابندی لگائی تھی ۔ تنظیم کے عہدے داران نے جب پریس کانفرنس کی تبھی پولس نے چھاپے ماری کی اور سیمی کے کئی ورکروں کو گرفتار کیا اور بہت سے ورکر موقع سے فرار ہوگئے ان میں عبداللہ دانش بھی تھا اور تبھی سے یہ فرار چل رہا تھا سنیچر کو آخر کار وہ دہلی پولس کے شکنجے میں آگیا ۔ دہلی پولس اسپیشل کی ٹیم اس کی دیش دشمنی سرگرمیوں کی جانچ کررہی ہے ممکن ہے اس کی حرکتوں پردہ فاش ہوسکے ۔ (انل نریندر)

کسانوں کو ڈرہے ایم ایس پی سسٹم بے جواز ہوجائے گا!

نئے کھیتی قانون کی مخالفت کررہے کسانوں سے بات کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سامنے آئے اور انہوں نے منگل کی رات تیرہ کسنا لیڈروں کے گروپ سے ملاقات کی لیکن یہ بھی بے نتیجہ رہی بات چیت کے بعد کسان لیڈروں نے کہا بدھ کے روز مرکزی سرکار کے ساتھ ہونے والی چھٹے دور کی ملاقات منسوخ ہوگئی ہے ۔ اب سرکار کی طرف سے تحریری تجاویز ملے گی جس پر کسان انجمنیں غورکریں گی یہ تجویز قانون میں ترمیم کولیکر ہوگی ۔ کسان لیڈر ہنان ملا نے بتایا کہ سرکار قانون کو پوری طرح واپس لینے کے لئے راضی نہیں ہے ایسے میں ہم ان کی تجویز پر غور کریں گے اس کے بعد آگے کی حکمت عملی طے ہوگی کسان انجمنوں کا کہنا ہے اگر مودی سرکار نے زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا تو آنے والے وقت میں ان کی پیداوار اجناس کو آنے پونے دام ملنے والی ایم ایس پی کی گارنٹی ختم ہوجائے گی ۔ دا فارمرس پروڈیوژ ہیڈ ٹریڈ اینڈ کامرس 2020زرعی قانون کے مطابق کسان اپنی پیداوار اے پی ایم سی یعنی اگریکلچر پرودیوژ مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے نوٹی فائیڈ منڈیوں سے باہر بے غیر دوسری ریاستوں کا ٹیکس دیئے بیچ سکتے ہیں ۔ دوسرا قانون کامرس امپاور مینٹ اینڈ پروٹیکشن اگریمینٹ آن پرائس اینسورینس اینڈ فارمرس سروس قانو ن 2020کے مطابق اگر کسان ٹھیکے والی کھیتی کر سکتے ہیں اور سیدھے اس کی مارکیٹنگ کرسکتے ہیں ۔تیسرا قانون ہے اشئیائے ضروریہ ترمیم قانون اس میں پیداوار اسٹوریج کے علاوہ اناج دال خوردونی تیل پیاز کی بکری کو غیر معمولی حالات کو چھوڑ کر کنٹرول سے آزاد کردیا گیا ہے ۔ سرکار کی دلیل ہے نئے قانون سے کسانوں کے لئے زیادہ متبادل کھلیں گے ان قیمت کو لیکر اچھا بھاو¿ ملے گا ۔ کسانوں کا احتجاجی مظاہرے میں سب سے بڑا جو ڈر ہے ڈر ابھر کر سامنے آیا ہے جو یہ ہے کہ ایم ایس پی کا سسٹم بے جواز ہوجائے گا اور انہیں اپنی پیداوار لاگت سے بھی کم قیمت اپنی پیداوار کو بیچنے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا ۔ ایم ایس پی سسٹم کے تحت مرکزی سرکار زرعی لاگت کے بھاو سے کسانوں کی فصل خریدنے کے لئے ایم ایس پی طے کرتی ہے فصلوں کی بوائی کے موسم میں کل 23فصلوں کے لئے سرکار ایم ایس پی طے کرتی ہے ۔2015 میں شاندار کمیٹی نے نیشنل سیمپل سروے کا جو ڈاٹا استعمال کیا تھا اس کے مطابق صرف 6فیصدی کسان ہی ایم ایس پی شرح پر اپنی فصل بیچ پاتے ہیں کسانوں کو یہ بھی ڈر ہے کہ اے ایم سی منڈی کے باہر ٹیکس مستثنیٰ کاروبار کے سبب منڈی سے لیکر پرائیویٹ منڈی تک ضروری بنائی جائے تاکہ سبھی طرح کے خریدار چاہے سرکاری ہو یا پرائیویٹ سب ایم ایس پی کی طے شدہ شرح سے نیچے اناج نہ خریدیں سرکار جو فصل خریدتی ہے اس کا سب سے بڑا پنجاب و ہریانہ سے آتا ہے پچھلے پانچ سال کے اعداد وشمار دیکھیں تو سب سے زیادہ چاول و گیہوں کی خرید پنجاب و ہریانہ سے ہوئی زرعی لاگت اور سی ایس پی و بینچ مارک سیٹ کرنے کےلئے 22سے زیادہ فصلوں کی ایم ایس پی کا اعلان کرتا ہے سی اے سی پی حالانکہ ہر سال زیادہ فصلوں کے لئے ایم ایس پی کا اعلان کرتا ہے مگر متعلقہ ریاستوں کے زریعے اکٹھا اناج خرید کی ایجنسیاں اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا بھنڈار کرنے کے لئے پیسے کی کمی کے سبب ان وقیمتوں پر صرف چاول اور گیہوں خریدتی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ مرکزی سرکار کسانوں کے خدشات دور کرے گی اور اس پیچیدہ مسئلے کا جلد کوئی حل نکل جائے گا ہمیں نھیں لگتا بنا قانون میں ترمیم کئے کوئی دوسرا راستہ نکلے گا۔ (انل نریندر)

09 دسمبر 2020

امریکی سپریم کورٹ نے ہی ہندوستانی نژاد لوگوں کی دی راحت!

امریکی عدالت نے نابالغ حالت میں بغیر مجاز دستاویزات کے دیش میں داخل ہوئے اور نکالنے سے بچانے کےلئے براک اوباما کے عہد میں نافذ ہوئی اسکیم کو پوری طورسے بحال کرنے کا حکم دیا واضح ہو کہ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو عدالت نے پلٹ دیا ہے ۔ اب بڑی تعداد میں امریکہ میں رہ رہے ہندوستانی نژاد لوگوں کو فائدہ ہوگا ڈونالڈ ٹرمپ نے 2017میں امریکہ آئے لوگوں کے خلاف کاروائی ملتوی کرنے کی یوجنا ڈی اے سی اے کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن امریکی سپریم کورٹ نے اس کی کوشش پر اس سال جون میں روک لگا دی تھی ۔ عدالت نے انٹرنل سیکیورٹی محکمے کو فائدہ اٹھانے والوں پر کاروائی روک میعاد دو سال اور بڑھانے اور نئی درخواست منظور کرنے کےلئے ہدایت دی اس کا مطلب یہ ہے کی ستمبر 2017میں پہلی بار وہ لوگ نئے سرے سے درخواست دے سکیں گیں جو اس کے لئے حق دار نہیں تھے یہ اسکیم ان غیر قانونی تاریکینے وطن کو نکالنے سے سیکیورٹی مہیہ کراتی ہے جو امریکہ میں کم عمری میں داخل ہوئے تھے عدالت کے جسٹس گروفس نے اپنے حکم میں لکھا کہ عدالت مانتی ہے یہ مزید راحت جائز ہے اور پروگرام کے تحت 640000لوگ رجسٹرڈ ہیں امریکہ میں اس وقت 630000ہندوستانی بغیر دستاویزوں کے رہ رہے ہیں ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کرسکتا ہے ۔ایوان نمائندگان کے اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا عدالت نے اوباما کے عہد کی اسکیم کو برقرار رکھا ہے جو امریکی عوام کی خواہش کا سممان ہے۔ (انل نریندر)

چینی کرپٹ حکام کی لاپرواہی کے سبب دنیا میں کورونا پھیلا!

کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے میں ناکامی کو لیکرچین ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آگیا ہے چین کی بڑی امراض کنٹرول ایجنسی میں راز رکھنے اور جانب دار ی کے سبب وسیع پیمانے پر جانچ دھیمی رہی اور اس میں گڑبڑیاں سامنے آئیں جن کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے شروعاتی کوششیں رک گئیں یہ بات جانچ میں سامنے آئی ہے اس کے مطابق چین کے سینٹر فاربیماری کنٹرول و روک تھام نے جانچ کٹوں اور تقسیم کا اختیار خاص طور سے سنگھائی کی تین ایسی کمپنیوں کو دیا جن سے حکام کی ملی بھگت تھی ان کمپنیوں کے بارے میں لوگوں کو زیادہ پتہ نہیں تھا ۔ جانچ چالیس سے زیادہ ڈاکٹروں، سی ڈی سی،ملازمین اور ہیلتھ ماہرین اور صنعت کے بارے میں جانکاری رکھنے والوں کے ساتھ در پردہ دستاویزات اور ٹھیکوں و ملک میں اور ای میل پر پڑے ہوئے ہیں اس معاملے میں لین دین کی جانکاری بھی کمپنیوںسے سامنے آئی ہے اور کنزیومرس میڈیکل ٹیکنالوجی نے بھی چین سی ڈی سی کو اطلاع دینے اور تقسیم کے حق کےلئے پیسہ دیا زرائع کا کہنا ہے کہ ہر ایک کمپنی کو14600ڈالر دیئے گئے لیکن یہ واضح نہیں کہ کیا رقم خاص افراد کے پاس گئی نیشنل ہیلتھ کمیشن نے دوسرے سائنسدانوں اور انجمنوں کو اپنے گھریلو کٹ سے وائرس کی جانچ کرنے سے روکنے کی کوشش کی انہوں نے مریضوں کے وائرس نمونوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور کورونا وائرس سے معاملوں کی تصدیق کے لئے جانچ کے میعارات کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا دیگر غلطیوں اور اور دیری سے جانچ کی پریشانیوں نے وائرس کو اووہان میں بائیو ٹیک اپنی جڑیں جمانے اور دنیا بھر میں پھیلاو¿ کا موقع دیامیڈیکل کونسل آن فار غیر ملکی تعلقات میں عالمی ہیلتھ کے لئے سینئر فیلو ووہانگ نے کہا چونکہ آپ کے پاس جانچ کٹ دستیاب کرانے والی صرف تین کمپنیاں تھی اس وجہ سے جانچ محدود رہ گئی جس سے مریضوں میں اضافہ اور موتوں کی تعداد تیزی سے بڑھی چین کے وزارات خارجہ اور چین کی بڑی ہیلتھ ایجنسی نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اس معاملے پر درخواست کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ وائرس کے عالمی سطح پر پھیلنے میں چین کی سازش اور کرپشن شامل حال تھا ۔ (انل نریندر)

سب سے بڑا پینچ ایم ایس پی قانونی گارنٹی کا ہے !

تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے جاری کسان تحریک میں بڑا پینچ کم از کم ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی کو لیکر بنا ہوا ہے ۔ اس کے سوال پر احتجاجی کسان انجمنیں ہی نہیں بلکہ فیڈریشن کے دیگر انجمنیں بھی سرکار کے خلاف ہیں حالانکہ اس مانگ سے وابستہ پیچیدگیوں کے سبب سرکار پوری طرح شش و پنج میں مبتلا ہے سرکار کے ذرائع کے کہنا ہے کہ اگر ایم ایچ پی کی قانونی گارنٹی کا اعلان کردیا جائے تو تینوں قوانین کو ختم کرنے کی مانگ سے متعلق اٹھ رہی آوازیں دھیمی پڑ سکتی ہیں کیونکہ سرکار پہلے سے ہی ان قوانین کے کئی تقاضوں میں ترمیم کے لئے تیار ہے مثلاً سرکار کسانوں کو سیدھے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے ،این ایس آر سیکٹر سے وابستہ نئے آلودگی قانون میں تبدیلی کرنے، پرائیویٹ خریداروں کے لئے رجسٹریشن ضروری نہ کرنے اور چھوٹے کسانوں کی مفادات کی حفاظت کے تقاضوں میں ضروری تبدیلی کے لئے تیار ہے۔ مشکل یہ بھی رہی ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی سرکاریں کسان اور گراہکوں کے درمیان سیدھے تعلق قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں اس کے سبب گرہکوں کو بھی زیادہ قیمت چکانی پڑی لیکن اس کا معمولی حصہ ہی کسانوں کی جیب تک پہونچا زرعی سیکٹر کا منافع دلالوں کی بھینٹ چڑھتا رہا ۔آزادی کے سات دھائی سے زیادہ وقت گزر جانے باوجود سرکاریں کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں ناکام رہی ہیں ۔ اور کئی بھی ایسے اشو ہیں جس میں ابھی بھی الجھن کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ سرکار کا مقصد زرعی سیکٹر میں پرائیویٹ ساجھیداری بڑھانے کی ہے ایم ایس پی کو سرکار قانونی شکل تو دے گی پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ساجھیداری بڑھانے کی ہے ۔ایم ایس کو پی سرکار قانونی تو بنا دے گی ،مگر پرائیویٹ سیکٹر کو خریداری کے مجبور نہیں کر پائے ایسے میں اگر خریداری کم ہوئی تو پرائیویٹ سیکٹر خریداری کریں گے یا نہیں ؟ سرکار اوسطا ًکل پیداوار کا چھ فیصدی ہی خرید کرتی ہے موجودہ صلاحیت کے مطابق اسے دس فیصدی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ کسی ایک فصل کی زیادہ پیداوار ہونے کے بعد اس کی مانگ میں کمی آئے گی سرکار ایک حد سے زیادہ فصل نہیں خریدے گی اور اس کے بعد ایم ایس پی سے کم قیمت خرید پر غیر قانونی ہونے پر پرائیویٹ سیکٹر خریدارے معاملے سے نہیں جڑے گیں ۔ ایسے میں کسان فصلوں کا کیاکرےگا؟ ایم ایس پی کے دائرے میں آنے والی فصلوں کی الگ الگ کوالٹی ہوتی ہے ۔کوالٹی کے حساب سے ایک فصل کا الگ الگ پیمانہ طے کرتے ہوئے الگ ایم ایس پی طے کرنی ہوگی ۔ معیارات پر کھرا نہ اترنے والی فصلوں کا کیا ہوگا سرکار کے زرائع اسے بے حد پیچیدہ کاروائی مانتے ہیں سرکار کا کہنا ہے تینوں قوانین کے ذریعے اس کی کوشش زرعی سیکٹر میں مقابلہ کرنے کی تھی ،پرائیویٹ سیکٹر اپنی سوجھ بوجھ اپنی فصلوں کی کھیتی کر پائیں گے جن کی مستقبل میں مانگ زیادہ ہونے کا امکان بنا رہے گا اگر ایم ایس پی کو قانونی بنانے سے نئے زرعی قوانین کا مقصد پورا نہیں ہوگا سرکار مقابلے کےلئے پرائیویٹ سیکٹر پر شرطیں نہیں تھوپنا چاہتی ۔ سرکار کے زرائع کا کہنا ہے ویسے بھی زرعی سیکٹر پرائیویٹ سیکٹر کے لئے کشش کی ترجیحاتی والا سیکٹر نہیں ہے مسئلہ پیچیدہ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

08 دسمبر 2020

جے بالا جی مہاراج !جے شری رام

راجستھا ن کے دوسا کرولی ضلع میں دنیا کے مشہور شری با لا جی مندر کی تزیئین کاری جاری ہے مندر ٹرسٹ نے لاک ڈاو¿ن کے بعد یہ کام شروع کیا تھا ۔مندر کووسیع کمپلیکس کی شکل دے دی گئی ہے اس کے اندر ساٹھ سے ستر فٹ کی جگہ پر بھکتوں کی پندرہ سے بیس قطاروں کی سہولت ہوگی پچہتر فیٹ اونچائی پر مندر ایسا بنا ہے جو دور سے دکھائی دے مہندی پور مند ر میں سبھی ہنومان بھکت سیوا دھام ٹرسٹ کے شری ہنومان سیوا سدن اور دیگر اداروں کے ذریعے فلاحی کام کئے جاتے ہیں مندر ٹرسٹ تو مسلسل سیوا کام کرتا رہا ہے ۔ سمست ہنومان بھکت سیو دھان ٹرسٹ کے پردھان سنجے گرگ کے مطابق بڑے مند کی تزیئن کاری کے علاوہ سڑکوں اور سیور وغیرہ کا کام بھی ہوا ہے ۔اور مند ر کے مہنت شری کشور پوری جی مہاراج نے پچھلے سال مندر کے سامنے والے حصے میں شری رام مندر میں بھی تعمیراتی کام کریا تھا ۔ ان کاموں سے شردھالوں کے درشن اور آنے جانے میں سہولت ہوگی ۔ شری بالا جی مندر میں پچھلے ماہ 24نومبر سے پھر درشن شروع ہوگئے ہیں ابھی کچھ پابندیاں باقی ہیں جس وجہ سے عام دنوں میں دس ہزار بھکتوں کے مقابلے میں ابھی 700سے1000ہزار شردھالو ہی آرہے ہیں ۔ مہندی پور کا ایک حصہ دوسا یہ کرولی ضلع میں پڑتا ہے روایت ہے کہ یہاں ہنومان جی کے بال روپ ان کے ساتھ پریت راج سرکار اور کوتوال کپتان بھیرو ں کا استھل قریب ایک ہزار سال پرانا ہے یہاں ایک مہنت گوسائی کو عجیب سپنا دکھائی دیا وہ اٹھ کر چل دیئے اور کچھ دور چل کر ایک جگہ روک گئے وہاں سینا نے پرڑام کیا اب سے پہلے مہنت گنیش پوری مہاراج کے وقت میں اس جگہ اور مندر کی شہرت ملک میں ہے ۔ اب کشوری جی اور ٹرسٹ نے مندر کو نئی شکل دے دی ہے جو آج کی ضروریات کے مطابق ہے ۔جے بالا جی مہاراج (انل نریندر)

فرانس کی 76مساجد کی چھان بین شروع !

پیرس دو دہشت گرد حملوں کے بعد فرانس نے مساجد کی سختی سے چھان بین شروع کردی ہے دیش کے وزیر داخلہ نے صاف کہہ دیا کہ اگر مساجد میں کچھ غلط ملا تو انہیں بند کردیا جائے گا ۔ فرانس سرکار کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دیش میں کچھ مقامات سے کٹر پسندی اور علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دیا جارہا ہے ۔ اور ان کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں گے واضح ہو فرانس میں ایک تاریخ مضمون کے استاد کا سر کاٹ کر اسے موت کی نیند سلا دیا گیا تھا اس کے بعد پیرس شہر میں کٹر پسندوں نے تین لوگوں کو مار ڈالا تھا ۔ فرانس کے وزیر داخلہ گرالڈ ڈرمینین نے کہا کہ مساجدیں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہیں اس لئے سرکارکی جانچ کے دائرے میں 76مساجد ہیں پیرس کے ایک میٹرو علاقے کی مسجد پہلے ہی 6مہنیے کے لئے بند کیا جا چکا ہے اور تاریخ کے ٹیچر سیومول پیٹری کا قاتل دہشت گردی اسی مسجد سے وابستہ تھااور وہ فرانس میں غیر قانونی طور سے رہ رہا تھا وہ بنیادی طور پر میمونیہ کا باشندہ ہے یوروپ میں جتنے مسلم ممالک ہیں ان میں سب سے زیادہ مسلما ن فرانس میں رہتے ہیں ۔ تاریخ کے ٹیچر کے قتل کے بعد نیز شہر میں تین لوگوں کو مارڈالا گیا تھا اس کے بعد حکومت فرانس کے لوگوں کے صبر کے پیمانہ ٹوٹ گیا فرانس میںبڑی تعداد میں داعش کے دہشت گرد داخل ہوچکے ہیں جن کی وجہ سے حملوں کا اندیشہ بنا رہتا ہے ان کے نشانہ پر فرانس سمیت یوروپ کے کئی ممالک ہیں پھر اس لئے پورا دیش اب ان دہشت گردوں کو روکنے میں لگ گیا ہے چاہے وہ مسجدیں ہوں یا گنجان بستیاں ہوں نئے دہشت گردوں کی گھسانے کی کوشش ہورہی ہے یوروپی یونین کے ممالک کے پاکستان کے انٹرنیشنل پر ایئر لائنس پر لگی پابندی ہٹائی نہیں جائے گی ۔ یونین نے صاف کردیا کہ پی آئی اے نے اپنے چھ مہینے کے اند ر اپنے حفاظتی معاراتی پروٹوکول میں کوئی بہتری نہیں کی اسلئے پابندی رہے گی ۔ پاکستان سرکار نے اس فیصلے پر افسوس ظاہر کیا ہے پاکستان کے وزیر ہوا بازی غلام سرور نے سینیٹ میں کہا تھا دیش کی چالیس فیصد فرضی پائیلیٹ لائسینس اور ڈگری لیکر نوکری کر رہے ہیں بہر حال پی آئی اے کی مشکلیں ختم نہیں ہوپارہی ہیں زیادہ تر ممالک نے پی آئی اے کی ایئر لائنس پر پابندی لگا رکھی ہے فرضی لائسنس تو بہانہ ہے اصل ڈر تو اس کا ہے ان پروازوں میں آتنکی آتے ہیں اور تمام دیشوں میں آتنکی حملے بڑھتے ہیں ۔ (انل نریندر)

آترکی کا کشمیر میں سیریائی جنگبازوںکو بھیجنے کا منصوبہ!

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان ہمیشہ سے ہی پاکستان کے کئی اشوز پر حمایت کرتے رہے ہیں اسی درمیان انہیں لیکر ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ یہ قاہرہ کے ایک مشہور صحافی انڈروچائز ماو¿نٹ جرولی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اردوغان پاکستان کی مدد کے لئے کشمیر میں شام کے جنگباز دہشت گردوں کو بھیجنے کا پلان منصوبہ بنا رہے ہیں اس کے لئے ترکی کے حکام نے کئی دہشت گرد گروپوں سے بات کی ہے ۔ قاہرہ کی نیوز ویب سائٹ پر جاری اپنی اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کی سیریائی نیشنل آرمی ملیشیا کے سلیمان شاہ برگیڈکے کمانڈرمحمد ابو عما نے کچھ دن پہلے ہی اپنے ساتھی ملیشیائی ممبروں سے کہا ہے کہ ترکی یہاں سے کشمیر میں اپنے یونیٹس کو طیعنات کرنا چاہتا ہے ۔ سلیمان بر گیڈس کو ترکی کو کھلی حمایت حاصل ہے جس کا نارتھ شام کے افرین ضلع پر پورا کنٹرول ہے ترکی کے حکام شام کے دیگر ہتھیاردیگر مصلح گرہوں سے اس بارے میں بات کررہے ہیں وہ گروہ کے کمانڈروں سے ان لوگوں کے نام بتانا کہہ رہے ہیں جو کشمیر جانا چاہتے ہیں ابو نے کہا کہ کشمیر جانے والے دہشت گردوں کو ترکی کی طرف سے دو ہزار ڈالر کی رقم بھی دی جائے گی۔کمانڈر نے اپنے گروہ سے کہا ہے کہ کشمیر میں اتنی ہی پہاڑی ہے جتنی آرمینیا کی نگورونا کاراباخ میں ہے ترکی نے آرمینیا کے ساتھ لڑائی میں کھل کر آزربائیجان کا ساتھ دیا تھا۔ اتنا ہی نہیں کہ ترکی نے شام نے اپنی ساتھی آتنکی تنظیم کے جنگبازقوں کو کاراباخ میں لڑائی کے لئے بھی طینات کیا تھا اور فرانس کے صدر مائیکرو نے اس کی تصدیق کی تھی ۔کلین مشین کار جانے والے ان دہشت گردوں کو مسلم دیش آذر بائیجان کے حق میں عیسائی دیش آرمینیا میں جنگ کے لئے کافی پیسہ خرچ دیا تھا ۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ترکی کا صدر اردوغان مسلم ورلڈ کا سب سے بڑا نیتا بننے کی کوشش میں ہے ۔ سعودی عرب کے اسلامی ورلڈ پر بالا دستی کو چنوتی دینے کے لئے صدر اردوغان ایسے قدم اٹھا رہے ہیں ۔ صحافی نے یہاں تک لکھا ہے اردوغان کشمیر مسئلے پر بھارت کو دھمکی بھی دے رہے ہیں صحافی آگے لکھتا ہے ترکی کافی عرصے سے وسطی بر صغیرعلاقے میں قاہرہ ،سائپرس،اور مصر کے خلاف جارہانہ تیاریوں میں لگا ہوا ہے قاہرہ کے صحافی نے دعوی کیا ہے کہ ترکی اورپاکستان آپس میں ڈیفینس تعاون کو بڑھا کر دوسرے دیشوں کی زمین ہتھیانا چاہتے ہیں ۔ حال ہی میں فیلڈ آف میڈیٹیرین جنگی مشق کے دوران پاکستانی جنگ جو جہاز سے ترکی پہونچے اور صدر اردوغان پاکستان کی مدد دے قاہرہ کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اسلئے ہی وہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے کی مدد کے لئے دہشت گرد گروپوں کو بھیجنے کا پلان بنا رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

06 دسمبر 2020

دیہا ت میں تیزی سے بڑھتا کورونا کا قہر !

دیش میں اب ہر ہفتے اوسطاً تین لاکھ کورونا کے مریض آرہے ہیں یعنی اوسطا ہر روز 41ہزار سے زیادہ مریض یہ بھلے ہی بہت زیادہ نہیں لگتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دیش کے کل 718اضلاع میں سے 284ضلعوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اس جائزے میں 633ضلعوں کو ہی شامل کیا جاسکا ۔اعداد شمار بتاتے ہیں دیش کے دیہاتی علاقوں میں کورونا کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں کووڈ بیماری سے تھوڑی راحت ملتی دکھائی دے رہی ہے ۔ خیال رہے ستمبر میں ہر دن اوسطا 90ہزار مریض سامنے آرہے تھے یعنی جن دو سو چوراسی ضلعومیں نئے کورونا مریضوں کا سیلا ب آرہا ہے ان میں 80فیصد سے زیادہ دیہی اور نیم شہری علاقے ہیں ۔ جہاں لچر ہیلتھ سسٹم ہے شہری علاقوں میں تھوڑی سی راحت کی خبر ہے شروعات میں کورونا نے اپنی جڑیں جما لیں تھیں اپریل کے آخری ہفتے میں 77فیصد کورونا مریض شہری علاقوں میں تھے جب کی صرف 10فیصد مریض دیہی علاقوں میں پائے گئے تھے ۔ لیکن 20نومبر کو کورونا مریضوں میں شہری علاقوں کی حصہ داری گھٹ کر 52فیصد رہ گئی تھی ۔ اور دیہی علاقوں کی حصہ دار ی بڑھ کر 24فیصد جبکہ نیم شہری علاقوں میں 21فیصد ہوگئی اگر دیہی اور نیم شہری علاقوں کو ملا دیا جائے تو اپریل کے مقابلے نومبر میں نئے کورونا مریضوں کی رفتا ر گھٹتی نظر آئی اس کی اہم وجہ ہر ضلع کے کل معاملوں اور ٹیسٹینگ ریٹ میں بھاری فرق ہے ۔ کچھ ضلعوں میں بہت زیادہ مریضوں کی وجہ سے باقی ضلع کا اوسط بھی بڑھ گیا ہے ۔ نومبر کے دوران 19ضلعوں میں اب تک کے کل کورونا مریضوں میںآدھے اکیلے نومبر میں آئے ہیں ۔ ان میں صرف گروگرام اور فریدآباد سٹی گنگا نگر اور حصار نیم شہری جبکہ بارہ ضلع دیہات کے ہیں تشویش کا باعث یہ ہے کہ کورونا انفیکشن دیہی علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ جہاں ہیلتھ سسٹم لچر ہے ۔ (انل نریندر)

دلجیت دوسانج اور کنگنا رنوت میں چھڑی ٹیوٹر وار

کسان تحریک سے جڑے بی بی سی کے ایک ویڈیو پر بالو ووڈ اداکار سنگر دلجیت دوسانج اور اداکارہ کنگنا رنوت کے درمیان تلخ بحث بازی جاری ہے ۔یہ ویڈیو بزرگ کسان مہندر کور کے بارے میں ہے جنکی تصویریں اور ویڈیو شوشل میڈیا میں وائرل ہوئیں تھی ۔ 28سالہ مہندر جھکی کمر کے باوجود جھنڈا لئے پنجاب کے کسانوں کے ساتھ مرکزی سرکار کے زرعی قوانین کےخلاف مارچ کرتی نظر آرہی ہے ۔ مہندر کور کی اس تصویر کے بعد شوشل میڈیا پر ان کو معازنہ شاہین باغ کے مظاہرے کی رہنمائی کرنے والی بلقیش دادی سے بھی کی جانے لگی ۔ حالانکہ اس درمیان شوشل میڈیا پر کچھ لوگ مہندر کور اور شاہین باغ کی بلقیش دادی بھی بتانے لگے تھے ۔ اسی درمیان اداکارہ کنگنا رنوت اور بلقیش اور مہندر کور کی الگ الگ تصویریں ایک ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے تنز لکھا تھا ہاں ہاں یہ وہی دادی ہے جنہوں نے ٹایم میگزین کی سو بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا اور یہ سو روپئے میں دستیاب ہے بی بی سی نے پورے اس واقع کے بعد مہندر کور سے بات چیت کی تھی اور کنگنا کے ٹویٹ کے بارے میں رائے جاننا چاہی تھی ۔ مہندر کور نے کنگنا رنوت کے تبصرے پر شخت اعتراض ظاہر کیا تھا کنگنا میرے ساتھ آکر کچھ دیر کھیت میں کام کریں کہ تب انہیں پتہ چلے گا کہ کسانی کا کام کتنا مشکل ہے ۔ کنگنا کو ٹیگ کرتے ہوئے دل جیت دوسانج نے بھی ٹویٹر پر اسے شیئر کیا ہے اور پوچھا ہے لیجئے ٹیم کنگنا ثبوت کے ساتھ سن لیئجے کہ انسان اتنا بھی اندھا نہیں ہونا چاہئے کچھ بھی بولے جارہی ہو اس کے جواب میں کنگنا نے لکھا او کرن جوہر کے پالتو دادی شاہین باغ میں اپنی شہریت کے لئے احتجاج کررہی تھیں وہ بلقیش بانو دادی جی کسانوں کے لئے بھی پروٹیسٹ کرتی ہوئی دکھائی دیں ۔ مہندر کور جی کو میں جانتی بھی نہیں ۔ کیا ڈرامہ مچایا ہے تم لوگوں نے اسے فوراً بند کرو پھر دلجیت نے ٹویٹ کیا کہ تونے جتنے لوگوں کے ساتھ فلم کی تو ان سب کی پالتو ہے ؟ پھر تو لسٹ لمبی ہوجائے گی یہ بالی ووڈ والے نہیں ہیں یہ پنجاب والے ہیں جھوٹ بول کر لوگوں کو بھڑکانا اور جذبات سے کھیلنا تو آپ اچھی طرح سے جانتی ہو اس پر کنگنا نے جواب دیا میں نے صرف شاہین باغ والی دادی پر کمینٹ کیا تھا ۔ اگر کسی نے مجھے غلط ثابت کیا تو میں معافی مانگ لوں گی اور دل جیت کی بحث یہیں نہی رکی بلکہ تیز ہوگئی ہے دونوں نے قابل اعتراض لہجے میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہا مہندر کور پنجا ب کے بھٹنڈا کے ایک گاو¿ں کی باشندہ ہے انہوں نے اپنی پوری زندگی کھیتی باڑی میں لگا دی کسان ہونے کے ناطے مظاہرے میں حصہ لے رہی ہیں انہوں نے پوچھا کہ کنگنا کون ہے وہ مجھے کیوں بدنام کر رہی ہے ؟میں کوئی کھلاڑی نہیں میں کوئی دھاڑی نہیں کرتی ہوں میں کھیتی باڑی کرتی ہوں ۔ میرا بیٹا پانی لگاتا ہے ساتھ میں جاتی ہوں کنگنا خود ایک دن دھاڑی پر آجائے ہمارے ساتھ گھر پر بیٹھیں اور ساتھ انہیں ہم شام کو ہزار روپئے دے دیں گے۔ (انل نریندر)

چلے گئے زندہ دل مصالحہ کنگ مہاشہ دھرم پال!

مہاشہ دھرم پال گلاٹی بھارت سمیت دنیابھر میں لوگوں کے کھانے کو ذائقہ دار اور چٹپٹا بنانے کےلئے جانے جاتے تھے لوگ انہیں مصالحہ کنگ بھی کہا کرتے تھے ۔ ایم ڈی ایچ گروپ کے بانی و مالک دھرم پال گلاٹی نے 97سال عمر پائی کورونا سے ٹھیک ہونے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا جس میں ان کا ندھن ہوگیا پچھلے سال صدر جمہوریہ نے انہیں پدم بھوشن سے سماننت کیا تھا مہاشہ دھرم پال گلاٹی کو 22دن پہلے کورونا ہونے کی وجہ سے ماتا چنا دیوی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ ان کی رپورٹ نیگیٹو آنے پر اسپتال سے چھٹی دے دی گئی یہ فخر کی بات ہے ایم ڈی ایچ مصالحہ کمپنی اپنے شاندار ایک سو سال پورا کرچکی ہے ۔ اس کمپنی نے اپنے قیام سے ہی اصلی اور کوالٹی کو لے کر اپنی الگ پہچان بنائی جس وجہ سے ایم ڈی ایچ کے برانڈ مصالحہ لوگوں کی پہلی پسند بنے ہوئے ہیں آج سے ایک سو سال پہلے ایم ڈی ایچ کمپنی سیال کوٹ پاکستان میں شروع ہوئی تھی ۔ مہاشہ کا جنم 27مارچ 1923کو سیال کوٹ کے با عزت گھرانے میں ہوا تھا اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اسکول میں پانچویں تک حاصل کی اور پڑھائی چھوڑنے کے بعد اپنے پشتینی مصالحوں کے کام میں لگ گئے ۔1947میںتقسیم ہند کے بعد سیال کوٹ میں اپنا سب کچھ چھوٹ کر 1500روپئے کی معمولی رقم کے ساتھ بھارت آئے اور یہاں آکر دہلی کے کرول باغ میں بسے مہاشہ جی نے 650روپئے کا ایک تانگہ خریدا اور اسے کچھ دن چلانے کے بعد انہون نے اپنے پشتینی کاروبار کو مصالحوں کا کام شروع کردیا قوت ارادی اور سخت محنت کے بعد ایم ڈی ایچ کمپنی کو چوٹی پر لے جانے کا پورا عزم دکھایا اور مصالحوں کی اصلی ہونے کے ایک خاص پہچان بنائی مہاشہ جی اپنی زندگی میں اچھے اصولوں پر عمل کرتے رہے ہیں، ایماندار بننا محنت کرنا میٹھا بولنا اور پرم پتا پر ماتمہ کا آشرواد اور ماں باپ اور پیا ر ہی ان کی دنیا تھی ۔ ان کی نیک کوشش سے آج ستر سے زیادہ ادارے جیسے اسکول ،گﺅ شالائیں ،اسپتال اور یتیم خانے بزرگ آشرم اور بیواو¿ں اور غریب لڑکیوں کی شادی اور آدی واشی علاقوں میںبورڈنگ اسکول وغیرہ بنانا یہ سب دھارمک و سماجی کام مہاشہ دھرم پال چیرٹیبل ٹرسٹ اور مہاشہ چنی لال چیرٹیبل ٹرسٹ اور مہاشہ منی لال چیریٹیبل ٹرسٹ کے تحت چلتے ہیں ایسے مہان خدمت گار کو ہم اپنی سردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔ ایک زندہ دل دہلی والا ہمیں چھوڑ کر چلاگیا ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...