Translater

14 اگست 2025

عاصم منیر کی کھلی دھمکی!

امریکہ کے شہر فلوریڈہ میں پاکستانی فوج کے چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی سرزمین سے بھارت کو دھمکی بھرا بیان دیا ہے ۔کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں اس لڑائی کے تین مہینے بعد اب پاکستانی فوج کے چیف کا بیان سامنے آیا ہے ۔منیر نے دعویٰ کیا ہے کہ مئی میں ہوئی لڑائی میں پاکستان کو کامیابی ملی تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھارت ورلڈ گرو بننے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے ۔عاصم منیر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سنیچر اور اتوار کو آپریشن سندھور پر ہندوستانی زمینی فوج اور ایئر فورس سربراہوں کے الگ الگ بیان سامنے آئے ہیں ۔پہلے بتادیں کہ ہندوستانی تھل سینا کے چیف جنرل اوپندر دویدی جی نے کیا کہا تھا ان کا کہنا تھا پہلگام حملے کے جواب میں بھاجپا میں چلائی گئی آپریشن سندھور کسی روایتی مشن سے الگ تھا ۔سنیچر کو انڈین ایئر فورس کے چیف ایئر مارشل اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ مئی میں ہوئی لڑائی کے دوران بھارت نے چھ پاکستانی جہازوں کو مار گرایا تھا ۔حالانکہ اسی روز پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ عاصف نے بیان جاری کر اس کی تردید کی تھی۔10 مئی کو جنگ بندی پر رضامندی بننے کے بعد فائرنگ تھم گئی تھی اس وقت پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی جہاز گرانے کا دعویٰ کیا تھا جسے بھارت نے سرے سے مسترد کر دیا تھا۔فلوریڈہ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک پرائیویٹ پروگرام میں دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بھارت کے امتیازی اور دہرے برتاو¿ والی پالیسیوں کے خلاف ایک کامیاب ڈپلومیٹک جنگ لڑی ہے ۔انہوںنے الزام لگایا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را بین الاقوامی دہشت گردی میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کنیڈا میں ایک سکھ نیتا کے قتل ،قطر میں آٹھ بحری حکام کا معاملہ اور کلبھوشن جادھو جیسے واقعات کی مثال دی ۔غور طلب ہے کہ بھارت پہلے ہی سبھی الزامات کی تردید کر چکا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بے حد مشکورہے جن کی سیاسی لیڈر شپ نے نہ صرف بھارت پاک جنگ کو روکا بلکہ دنیا میں کئی مسئلوں کو بھی روکا۔فیلڈ مارشل منیر نے اپنی تقریر میں کشمیر کو ایک ادھورا یجنڈہ بتایا ۔منیر یہیں نہیں رکے انہوں نے بھارت کو کھلی دھمکی دے ڈالی ۔منیر نے کہا اگر بھارت نے سندھو ندی کا پانی روکنے کے لئے باندھ بنایا تو ہمارے پاس میزائلوں کی کمی نہیں ہے ہم دس میزائل مار کر باندھ کو اڑا دیں گے۔منیر نے کہا ہم بھارت کے سندھو ندی پر ڈیم بنانے کا انتظار کریں گے اور جب وہ ایسا کریں گے تو ہم دس میزائلوں سے اسے تباہ کر دیں گے ۔پاکستان کے فیلڈ مارشل منیر یہ گیدڑ بھپکی بھی دینے سے نہیں چوکے کہ اگر مستقبل میں بھارت کے ساتھ جنگ میں ان کے دیش کے وجود کو خطرہ ہوا تو وہ اس پورے خطہ کو نیوکلیائی جنگ میں جھونک دیں گے۔منیر نے کہا کہ ہم نیوکلیائی کفیل ملک ہیں اور اگر ہمیں لگتاہے کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو ہم آپ کی دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے ۔منیر کا یہ بیان اس لحاظ سے سنسنی خیز ہے کہ پہلی بار امریکی سرزمین سے کسی تیسرے دیش کو نیوکلیائی جنگ کی دھمکی دی گئی ہے ۔پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر نے جس طرح کھل کر نیوکلیائی جنگ کی دھمکی دی ہے اسے سنجیدگی سے لیاجانا چاہیے اس پر اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے بہرحال اس سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہی ہے کہ پاکستان کے پاس نیوکلیائی پاور ہونا صرف بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔یہ تکلیف دہ ہے کہ منیر کا یہ بیان امریکی سرزمین سے آیا ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب کسی نے امریکی سرزمین سے لے کر کسی تیسرے دیش کے لئے اس طرح کی دھمکی بھرے لفظوں کا استعمال کیا ہے ۔یہ بھی پہلی بار ہے جب کسی فوجی سربراہ نے کہا کہ ضرورت پڑھنے پر نیوکلیائی ہتھیار کا بھی استعمال کر سکتا ہے ۔منیر کے بیان کا ہندوستانی وزارت خارجہ نے صحیح جواب دیا کہ جس دیش میں فوج دہشت گردی گروپوں کے ساتھ ملی ہو وہاں نیوکلیائی کمان اور کنٹرول کے بھروسہ پر شبہہ ہونا فطری ہے ۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کسی نیوکلیئر بلیک میل کے آگے نہیں جھکے گا ۔آپریشن سندھور کے دوران بھی سرکار کا یہی رخ تھا ۔منیر کے بیان کا استعمال بھارت کو پاکستان پر بین الاقوامی دباو¿ بڑھانے اور اس کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے لئے کرنا چاہیے ۔بھارت کو امریکی سرکار سے یہ پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی سرزمین کا ایسے بیہودہ ،دھماکو ،بھڑکاو¿ بیان دینے کی اجازت کیسے دی؟ (انل نریندر)

12 اگست 2025

ووٹ چوری پر آر پار کی لڑائی!

لوک سبھا چناو¿ کے 14 ماہ بعد ایس آئی آر اور ووٹ بندی کے مسئلے پر اپوزیشن کو متحد کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔بھارت میں سیاست اس وقت ٹاپ گیئر پر ہے ۔یہ صحیح ہے کہ بھارت جیسے بڑے دیش میں چناو¿ کروانا آسان نہیں ہے ۔یہی نہیں بھارت میں اتنے چناو¿ ہوتے ہیں جو چناو¿ کمیشن کی صلاحیت کو چنوتی ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت کاچناو¿ کمیشن کافی حد تک ایک آزاد اور منصفانہ چناو¿ کرانے میں کامیاب رہا ہے ۔ووٹ کرنا ہر ووٹر کا آئینی اور جمہوری حق ہے ۔یہ بھی ضروری ہے اس کا ووٹ اسے ہی ملے جسے اس نے ووٹ دیا ہے ۔جب یہ اندیشہ پیدا ہو جائے کہ اس کا ووٹ دیا کسی کو اور گیا کہیں اور تو بڑا شبہ اور مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔کسی بھی دیش میں جمہوریت کی مضبوطی اور بھروسہ مندی اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ اس میں سرکار کو چنے جانے کی کھاناپوری کتنی صاف اور آزادانہ اور شفاف پر مبنی ہے اس کے لئے چناو¿ منعقد کرنے والے ادارے کو یہ یقینی کرتا ہوتا ہے کہ کوئی بھی شہری ووٹ دینے کے حق سے محروم نہ رہے ۔پولنگ کی پوری کاروائی شفاف و چناو¿ میں حصہ داری لینے والی سبھی پارٹیوں کے لئے بھروسہ مند ہو اور نتیجوں کو لے کر سبھی فریق مطمئن ہوں ۔کانگریس نیتا اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے حال ہی میں کرناٹک کے ایک اسمبلی حلقہ کا ڈیٹا رکھتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں گڑ بڑی ہوئی ہے ۔دستاویز کا ڈھیر میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ میں فہرست چناو¿ کمیشن کے ذریعے دستیاب ووٹر لسٹ کے ڈھیر سے نکلی ہے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی چوری ہوئی ہے ۔پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے چناو¿ کمیشن پر سنگین الزام لگائے اور دعویٰ کیا کہ لوک سبھا چناو¿ مہاراشٹرا ور ہریانہ اسمبلی کے چناو¿ میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانہ پر دھاندلی کی گئی ۔ثبوتوں کے ساتھ راہل گاندھی نے ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ووٹر لسٹ میں گڑ بڑی ،فرضی ووٹر ،غلط پتے ،ایک پتے پر کئی ووٹر ایک ووٹر کا نام کئی جگہ فہرست میں ہونے جیسے کچھ خاص طریقوں پر مبنی ووٹ چوری کرنے کے اس ماڈل کو کئی چناوی حلقوں میں عمل میں لایا گیا تھا تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ مل سکے ۔حالانکہ چناوی گڑ بڑیاں ای وی ایم میں کھیلے کی شکایتیں توپہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن عام طور پر وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکیں یا پھر الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں بے بنیاد قراد دیاجاتا رہا ہے ۔اب اس بار جس سنگین شکل میں اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے اس کے بعد دیش بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے اگر ان الزاما ت کا مضبوط بنیاد ہے تو اس سے ایک طرح سے پورے چناوی عمل کے جواز کو کٹھگرے میں کھڑا ہوتا ہے ۔اس مسئلے پر چناو¿ کمیشن نے فی الحال کوئی تشفی بخش جواب دینے کے بجائے راہل گاندھی سے حلف نامہ پر دستخط کر دینے کی ہدایت دینے یا پھر دیش کی عوام کو گمراہ نہ کرنے کو کہا ہے مگر راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا دعویٰ کرتے ہوئے جس طرح اپنے الزامات کو ثبوتوں کی بنیاد پر رکھا ہے اس کے بعد چناو¿ کمیشن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ پورے چناوی عمل پر بھروسہ کو بحال رکھنے کے لئے شفافیت کے ساتھ اس سلسلے میں اٹھے سوالوں کا جواب سامنے رکھے ۔بہرحال اس الزام کی سنجیدگی کو سمجھنا ضروری ہے ۔دو کمروں میں 80/46 لوگ کیسے رہ سکتے ہیں ۔ان میں تمام ووٹروں کی تصوروں کے سائز میں کتنے چھوٹے ہیں پہچان کرنا مشکل ہے ان الزامات کی تصدیق بغیر کسی الزام یا نکتہ چینی کے کرنی چاہیے ۔ووٹر لسٹ کے تئیں کمیشن کااپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا ۔جو بھی کمیاں سامنے آتی ہیں ان کے بارے میں صاف طور سے پبلک طور پر جواب دینا چاہیے ۔سوال الزمات در الزامات کا نہیں ہے سوال دیش میں آئین کی حفاظت کا ہے جس کی حفاظت تبھی ہو سکتی ہے جب ہر شہری کو اپنے ووٹ دینے کاحق اور اس کے ووٹ اسے ہی جائے جسے اس نے دیا ہے ۔ہماری جمہوریت کی جڑیں آزاد اور منصفانہ اور شفاف چناو¿ ہے مگر اس میں بھی ہیر پھیر ہوتا ہے تو ہمارے آئین و جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔امید ہے کہ چناو¿ کمیشن اٹھے سوالوں کا تسلی بخش جواب دے گا اور چناوی عمل کو مضبوط اور شفاف بنائے گا ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...