Translater

08 جون 2013

ان ضمنی چناؤ نتیجوں کا کیا مطلب ہے؟

پانچ ریاستوں کی4 سیٹوں اور اسمبلی کی6 نشستوں پر ہوئے ضمنی چناؤ نتائج بدھوار کو آگئے۔ بڑی اپوزیشن پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے لئے الگ الگ اشارے لے کر آئے ہیں۔ حالانکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو ضمنی چناؤ ہیں اور ان کے نتائج سے اتنا فرق نہیں پڑتا لیکن ہوا کا رخ کس طرف ہے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے اس ضمنی چناؤ کے نتیجے سے۔ مثلاً جہاں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اپنی ریاست میں پکڑ کو برقرار دکھاتے ہیں وہیں حکمراں فریق کی ہار بہار میں نتیش کمار کے لئے بھاری جھٹکا ہے۔ کانگریس کا تو تقریباً صفایا ہی ہوگیا ہے۔ گجرات ضمنی چناؤ میں لوک سبھا اور 4 اسمبلی سیٹیں بھاجپا نے کانگریس سے چھین لی ہیں تو بہار کی مہاراج گنج لوک سبھا سیٹ پر لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی نے جنتا دل (یو) کو ہراکر بڑی کامیابی درج کی ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کا جادو ابھی بھی پھینکا نہیں پڑا۔ اترپردیش میں ہڑیا سیٹ سپا نے جیت لی ہے۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں گجرات اور نریندر مودی کی 6 سیٹیں بھاجپا نے بچائی ہی نہیں بلکہ کانگریس سے چھینی بھی ہیں۔ مودی کی طاقت بڑھی ہے اس جیت سے نریندر مودی گووا میں شروع ہوئی بھاجپا کی اہم میٹنگ میں نئی طاقت سے پہنچے ہیں اور قومی سطح پر وہ اہم کردار ادا کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ادھر نتیش کے لئے مہاراج گنج کی سیٹ پر پارٹی کی ہار کئی محاذ پر ان کی شخصی ہار ہے۔ نتیش کے لئے مہاراج گنج کا چناؤ وقار کا سوال تھا انہوں نے اپنی پوری طاقت اس سیٹ کو جیتنے پر لگادی تھی۔ مگر پی کے سہائی کی ہار کے بعد پردیش میں انہیں بھاجپا کی بیساکھی کی اب شاید پہلے سے زیادہ ضرورت نہیں ہوگی۔ نتیش کی ہار بھاجپا کی جیت ہے۔ بھاجپا نے دکھا دیا ہے کہ اس کے بغیر نتیش کمار اتنے طاقتور نہیں جتنا وہ پچھلے کچھ عرصے سے خود کو دکھانا چاہتے ہیں۔ بہار میں مودی حمایتی بھاجپا نیتاؤں کو نتیش پر دباؤ بڑھانے کا موقعہ مل گیا۔ نتیش کو دیکھنا ہوگا کہ جس مودی کی وہ مسلسل مخالفت کررہے ہیں ریاست میں وہ ان کے بڑے دشمن ہیں یا لالو؟ یقینی طور پر لالو یادو کیونکہ نتیش کی وزیر اعلی کی کرسی چھین سکتے ہیں نریندر مودی نہیں۔ اتنا تو نتیش کو سمجھ میں آ ہی گیا ہوگا کہ خود کے بل پر وہ بہار نہیں جیت سکتے۔ بھاجپا کو ساتھ لینا ان کی مجبوری ہوگی اور نریندر مودی پر نتیش کو نرم رویہ کرنا پڑے گا۔ بہار کے مہاراج گنج سیٹ کا نتیجہ اس تپتی گرمی میں لالو پرساد یادو کے لئے مانسون سے پہلے ٹھنڈی پھوار جیسا آرام دہ لگا ہے۔ لالو نے بھی نتیجے کا رخ بھانپتے ہوئے رد عمل ظاہر کرنے میں دیر نہیں کی اور اسے وزیر اعلی نتیش کمار کی ہار قراردیا۔ ان کا کہنا ہے یہ نتیش کمار کے غرور کی ہار ہے یا آنے والے لوک سبھا چناؤ کے نتائج کا اشارہ ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہارے ہوئے جنتا دل( یو) امیدوار پی کے ساہی نے نتیجے کے بعد تبصرہ کیا کہ بھاجپا نے آر جے ڈی سے مل کر جنتادل (یو ) کو ہرایا۔ اب بات کرتے ہیں کانگریس کی۔ اگلے عام چناؤ سے سال بھر پہلے پورے ضمنی چناؤ نتیجوں سے آئندہ کی سیاست کو لیکر بھلے ہی کانگریس بہت کچھ نتیجے نہ نکالے لیکن یہ نتیجے کانگریس کے لئے تشویش کا موضوع ہونا چاہئیں۔ کانگریس کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ وہ یوپی اے کے اپنے ساتھی لالو پرساد یادو کو ملی جیت میں شامل نہیں ہوسکتی کیونکہ اس نے وہاں بھی اپنا امیدوار کھڑا کررکھا تھا۔ کانگریس کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ اس کی حالت اب پہلے جیسی نہیں رہی اس لئے اسے آئندہ لوک سبھا چناؤ میں اپنے ساتھیوں کو پہلے سے زیادہ سیٹ دینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ کرناٹک اسمبلی چناؤ میں ملی جیت کا جشن ابھی کانگریس ٹھیک سے منا بھی نہیں پائی تھی کہ ان چناؤ نتائج نے پارٹی کا موڈ ہی بگاڑ دیا۔ گجرات کے نتیجوں سے کانگریس کو سب سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ نریندر مودی جسے اپنا دشمن نمبر ون مانتی ہے کو دن رات کوسنے کے بعد بھی ہرا نہیں سکی۔ بھاجپا نے وہ سیٹیں جیتی ہیں جو پہلے کانگریس کے ہاتھ میں تھیں۔ بناس کانٹھا اور کوربندر دونوں پارلیمانی سیٹوں کے علاوہ چار اسمبلی سیٹیں بھی کانگریس کے پاس تھیں۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کو ہار ہی نہیں ملی بلکہ کراری ہار ملی۔ دوسری ریاستوں سے بھی کانگریس کو اچھی خبر نہیں ملی۔ ممتا سے گٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد کانگریس نے ہاوڑا پارلیمانی سیٹ پر پہلی بار اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔ اس سیٹ پر جہاں ترنمول امیدوار پرسن بینرجی 424000 سے زیادہ اور لیفٹ امیدوار کو9 لاکھ ووٹ ملے۔ کانگریس امیدوار سناتھن مکھرجی کومحض97 ہزار ووٹ ہی ملے۔ کل ملاکر یہ نتیجے مختلف پارٹیوں اور نیتاؤں کے لئے الگ الگ اشارے لیکر آئے ہیں۔ 
(انل نریندر)

اب 84ء دنگا متاثرین کے معاوضے میں بھی فکسنگ

یہ فکسنگ کی نئی بیماری اب ایک وبا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ اب1984ء کے دنگوں میں کروڑوں کے معاوضے کو لیکر فکسنگ کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہوئے 1984ء کے سکھ مخالف دنگوں میں بانٹے جارہے معاوضے میں زبردست گھوٹالہ اور جعلسازی روشنی میں آئی ہے۔ 41 زندہ سکھوں کو مردہ دکھا کر 2 کروڑ 87 لاکھ روپے معاوضے لینے کی کوشش کے ثبوت ملنے پر منگلوار کی شام ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس جعلسازی میں شامل ریکٹ اتنا شاطر ہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کی فسادیوں کے ہاتھوں قتل کی پولیس رپورٹ بنا لی تھی جو اب بھی زندہ ہیں۔ یہ ہی نہیں اس رپورٹ پر پولیس کی انسداد فساد سیل کے ڈی سی پی کے فرضی دستخط بھی کردئے گئے۔ گھوٹالے بازوں نے منگولپوری، سلطانپوری میں 41 زندہ لوگوں کو کاغوں میں مرا ہوا بتا کر دہلی پولیس کی اینٹی رائٹ سیل کے حوالے سے رپورٹ تیار کرکے مرنے والوں کے نام سے7-7 لاکھ روپے لینے کی تیاری کر لی تھی۔ اسکریننگ کمیٹی کی میٹنگ میں پولیس حکام نے یہ گڑبڑی پکڑ لی ہے۔ رپورٹ کی دہلی پولیس کے دنگے انسداد سیل کے جانچ کرانے پر یہ جعلسازی پکڑ میں آگئی تو سیل کے انسپکٹر کی طرف سے کرائم برانچ کی اقتصادی ونگ میں معاملہ درج کرلیا گیا ہے اور برانچ کے ڈی سی پی سنجے تیاگی کے مطابق 41 زندہ لوگوں کو مرا ہوا بتا کر 2 کروڑ 87 لاکھ روپے معاوضہ لینے کی کوشش کی گئی۔ ایک سینئر افسر کے مطابق گذشتہ مارچ مہینے میں وزارت داخلہ کی طرف سے ہدایت آئی تھی کہ فساد متاثرین کو معاوضہ دینے سے پہلے اس کی پوری جانچ کرلی جائے اور اس ہدایت کے تحت10 دن پہلے دہلی سرکار کے محکمہ محصولات اور دہلی پولیس اینٹی رائٹ سیل کی جوائنٹ اسکریننگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تو پتہ چلا کہ منگولپوری، سلطانپوری کے جن 41 لوگوں کو مرا ہوا دکھا کر رپورٹ تیار کی گئی تھی اس میں سبھی کے بارے میں تقریباً ایک ہی طرح کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں ۔ ایسے میں یہ بات جب اسکریننگ کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تو حکام کو شبہ ہوا۔ پولیس افسر کے مطابق ابتدائی جانچ میں تین سطح پر گڑ بڑی کا شبہ ہوا ہے۔ ایک ریوینیو اسٹاف اور دوسرا دہلی پولیس کا اسٹاف اور تیسرا وہ لوگ جن کے نام پر معاوضہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ 84ء کے دنگوں میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 1553 لوگوں کی موت ہوئی تھی لیکن معاوضہ2200 کو بانٹا گیا۔ اینٹی رائٹ سیل کے ریکارڈ مطابق دنگوں میں مرنے والوں کی تعداد1551 تھی جبکہ ذرائع کے مطابق اب تک قریب2200 لوگوں کو 7-7 لاکھ روپے کے حساب سے معاوضہ دیا جاچکا ہے۔ معاوضہ دینے کی کارروائی اب بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق فساد متاثرین کے نام پر اب تک45 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوچکا ہے اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسے بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ متاثرہ کنبوں کو اتنا نقصان ہوا ہے جس کی کمی پوری نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہاں تو متاثرین کے نام پر اتنی دھوکہ دھڑی ہورہی ہے کہ لاشوں پر بھی پیسہ کمایا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

07 جون 2013

اسپاٹ فکسرس پرعائد مکوکا ثابت کرنا آسان نہ ہوگا

اسپاٹ فکسنگ کے تار سیدھے طور پر انڈر ورلڈسے جڑے ہیں۔ یہ اندیشہ ہم نے اسی کالم میں دو دن پہلے ہی ظاہر کردیا تھا۔ ابھی تک واضح طور پر داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل کا نام لینے سے بچ رہی دہلی پولیس نے پکڑے گئے سبھی ملزمان پر مکوکا لگانے کے بعد انڈرورلڈ سرغنہ داؤد ابراہیم اور چھوٹا شکیل کے اسپاٹ فکسنگ کنکشن سے جڑے ہونے کی بات کہیں ہے۔ کرکٹر سری سنت ،اجیت چندیلا، انکت چوہان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق داؤد اور چھوٹا شکیل کے اشاروں پر یہ دونوں کام کررہے تھے۔ انہی کھلاڑیوں پر مکوکا لگانے سے بہرحال ضرور کچھ سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ پولیس منظم طور پر جرم کرنے پر مکوکا کے تحت کیس درج کرتی ہے۔ اسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے معاملے میں بھی پولیس کا دعوی ہے کہ ملزم برا کام اسی شکل میں کررہے تھے۔ اس معاملے میں سٹے باز کھلاڑی اور ٹیم انتظامیہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ سب داؤد ابراہیم کے لئے کام کررہے تھے۔ دوبئی، کراچی اور پاکستان کے دیگرشہروں سے اس دھندے کو چلایا جارہا تھا۔ انڈر ورلڈ کے لوگ کھلاڑیوں کو دھمکی دیتے تھے۔ کام نہ کرنے پر سبق سکھانے کی بات کرتے تھے۔ دھندے میں سبھی شامل لوگوں کو پیسے بانٹتے تھے۔ قانونی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے صرف اپنی کھال بچانے کے لئے مکوکا لگایا ہے تو کچھ اسے ایک دم صحیح بتا رہے ہیں۔ اس معاملے میں تین لوگوں کی ضمانت ہوچکی ہے۔ اس سے پولیس کی کرکری ہوئی ہے۔ اب مکوکا لگانے سے ضمانت لینا بہت مشکل ہوجائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا دلی پولیس ان پر مکوکا ثابت کر پائے گی؟ دلی پولیس نے مکوکا لگانے کی جو دلیلیں پیش کی ہیں اسے ثابت کرنا ٹیڑھی کھیر ہوگا۔ پولیس کے مطابق دلال اشونی اگروال داؤد کے رابطے میں تھا لیکن پولیس نے عدالت میں ایسا نہیں بتایا۔ دیگر ملزمان کو اس حقیقت کی جانکاری تھی یا نہیں ،فکسنگ میں داؤد ملوث ہے پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا۔ملزم اس حقیقت سے واقف تھے۔ فکسنگ میں جو پیسہ مل رہا ہے وہ ڈی کمپنی یا اس کے اشارے پر دیا جارہا ہے۔ اشونی اگروال کے رابطے پر سبھی کو داؤد کا ساتھی یا پھر گروہ کا ممبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پولیس نے پہلے سبھی کے خلاف مجرمانہ سازش و دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج کیاتھا لیکن بعد میں دفعہ 409 میں جوڑ کر سبھی کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ اب مکوکا کی پریشانی اور بڑھ گئی ہے۔
ویسے بھی پولیس کا مکوکا معاملوں میں ریکارڈ کوئی حوصلہ افزا نہیں رہا۔ پچھلے 11 سال میں دلی پولیس ایک بھی ملزم کو سزا نہیں دلا پائی۔ مکوکا میں ملزمان رہا ہوتے جارہے ہیں۔ اس کا استعمال سزا دلانے کے بجائے ملزموں کو جیل میں بند رکھنے میں کیاجارہا ہے۔ 2002ء میں دلی میں مکوکا کو نوٹیفائی کرایا گیا۔آج تک اس اسپیشل قانون کے تحت 35 معاملوں میں گرفتار 203 ملزموں میں سے35 فرد جرم عائد کرنے کی اسٹیج پر ہی چھوڑدئے گئے جبکہ 2 بری ہوئے۔ مکوکا میں آج تک دلی پولیس ایک بھی ملزم کو صحیح طور پر سزا نہ دلا سکی۔ کرشن پہلوان ،مرحوم احمد، منا بجرنگی اور کچھ ایسے خطرناک بدمعاشوں کے معاملے ہیں جہاں پولیس نے مکوکا لگایا اور عدالت نے اسے مسترد کردیا۔ 
(انل نریندر)

ضیاء خان کی موت نے بالی ووڈ کے پرانے ستاروں کی موت کی یاد تازہ کردی

راتوں رات مشہور ہونے کی چاہ اور گلیمر کی دنیا میں چھا جانے اورا میر بننے کی خواہش کبھی کبھی شخصکو ڈوبا دیتی ہے۔ایسا ہی کچھ قصہ بالی ووڈ کی نوجوان ابھرتی اداکارہ ضیاء خان کاہے۔فلم ’نشبد‘ سے امیتابھ بچن کے ساتھ فلمی کیریئر شروع کرنے والی اداکارہ ضیاء خان نے خودکشی کرلی۔ اس کی لاش اس کے گھر میں پھنکے سے لٹکی ملی۔ اس نے دوپٹے سے پھانسی لگا لی۔ اس وقت گھر میں ضیاء کی ماں اور بہن تھی۔ پولیس کو موقعے سے کوئی سوسائڈ نوٹ نہیں ملا اس لئے موت کے اسباب کا پتہ نہیں چل سکا۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ ضیاء فلم میں کام نہ ملنے سے پریشان تھی۔ اس کی آخری فلم ’ہاؤس فل‘ 2010 میں آئی تھی۔ ضیاء کی ماں رابیعہ نے بتایا کہ 2 جون کو وہ حید ر آباد میں آڈیشن دینے گئی تھی۔ وہاں تیلگوفلم کے ڈائریکٹر نے اسے وزن بڑھانے کا مشورہ دیا تھا جسے اس نے منع کردیاتو اسے ریجیکٹ کردیاگیا۔ اس سے وہ ڈپریشن میں آگئی۔ اسی سلسلے میں آدتیہ پنچولی و زرینہ وہاب کے بیٹے سورج پنچولی سے منگلوار کو پوچھ تاچھ ہوئی ۔ کیونکہ پیر کی رات کو اپنی خودکشی سے پہلے ضیاء نے اس سے آخری بار فون پر بات کی تھی۔ پولیس کے مطابق ضیاء نا کام کیریئر اور لو افیئرس میں کچھ پریشانی کو لیکر خودکشی کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس واقعے سے پورا بالی ووڈ حیرت میں ہے لیکن اس شو بزنس میں اچانک موت کا یہ اکیلا معاملہ نہیں ہے۔ ضیاء کی موت سے گورودت، دویا بھارتی، سلک اسمتا جیسی فلم ہستیوں کی اچانک ہوئی موت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ 1993 ء میں نوجوان اور خوش مزاج دویا بھارتی کی 19 سال کی عمر میں عمارت کی پانچویں منزل سے گر کر موت بھی ایک ایسی ہی ٹریجڈی تھی۔ اس کی موت کا معمہ ابھی تک برقرار ہے۔پروین بابی کے معاملے میں بھی ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ انہوں نے خودکشی کی یا پھر وہ فطری موت تھی۔ ’امر،اکبر،اینتھونی‘ فلم ساز منموہن ڈیسائی کی موت نے پورے بالی ووڈ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ 1994ء میں ممبئی کے گرانٹ روڈ میں واقع اپنی گھر میں گر کر موت ہوئی تھی۔ ان کی موت کا بھی معمہ آج تک سلجھ نہیں سکا۔ 
گزرے دور کے مشہور اداکار گورو دت 1964ء میں نیند کی گولیاں اور شراب زیادہ پینے کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے خودکشی کی تیسری بار کوشش کی تھی۔ خودکشی کی بات پر بحث آج بھی جاری ہے۔ سلک اسمتا نام سے مشہور ساؤتھ کی اداکارہ وجے لکشمی نے 1996ء میں زہر کھا لیا تھا۔17 برس تک450 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی اور کامیاب رہی۔ مانا جاتا ہے کہ وہ بھی پیار میں ناکامی کی وجہ سے ڈپریشن میں تھیں اور اس غم میں زیادہ شراب پینا شروع کردی جو اس کی موت کا سبب بنی۔ راتوں رات پیسے کی چاہ، شہرت اور گلیمر کی قیمت کبھی کبھی بہت بھاری پڑتی ہے۔
(انل نریندر)


06 جون 2013

سی آئی سی کا تاریخی فیصلہ:پارٹیاں آر ٹی آئی میں جوابدہ

سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے سیاست میں شفافیت لانے کی راہ ہموار کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ سی آئی سی نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرے میں آتی ہیں۔ اپنے54 صفحات پر مبنی فیصلے میں کہا کہ سیاسی پارٹیاں سرکار سے اقتصادی مدد لیتی ہیں ساتھ ہی دفتروں کے لئے زمین اور دفعہ13(a) کے تحت انکم ٹیکس چھوٹ پاتی ہیں۔ یہ درپردہ سرکاری فنڈنگ ہے اس لئے انہیں آر ٹی آئی کے دائرے میں رکھا جانا چاہئے۔ کمیشن کے چیئرمین چیف انفارمیشن کمشنر ستندر مشرا کی فل بنچ نے کانگریس، بھاجپا، مارکسوادی پارٹی، این سی پی، ڈی ایس پی کو آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی اطلاعات کا جواب دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سبھی پبلک ادارے آرٹی آئی قانون کے دائرے میں ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ آئین کی 10 ویں شق کے تحت آئینی درجہ بھی رکھتی ہیں۔ انہیں کسی بھی چنے ہوئے نمائندہ پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی کو دلبدل کرنے پر پارٹی سے باہر کرنے کی طاقت بھی حاصل ہے۔ چناؤ کے دوران انہیں سرکار سے فری بیلٹ پیپر چناؤ پبلسٹی کے لئے ٹیلی ویژن ،ریڈیو پر وقت ملتا ہے وہیں رجسٹرڈ ہونے پر چناؤ کمیشن انہیں دفعہ29 کے تحت چناؤ نشان الاٹ کرتا ہے۔ چناؤ کے دوران وہ ان سے خرچ کا حساب بھی مانگتا ہے۔ دفعہ29 کے تحت پارٹیوں کو20 ہزار روپے سے زیادہ کے عطیہ کی تفصیل کمیشن کو دینی ہوتی ہے۔ بنچ نے این سی پی کی یہ دلیل خارج کردی کہ پارٹیوں کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لان سے چناؤ کے وقت اپوزیشن پارٹی غیر ضروری عرضیا ں دائر کر پریشان کریں گی اور ان کا کام کرنا مشکل کردیں گی۔ بنچ نے کہا کہ کسی بھی قانون کے جواز کو اور اس کے بیجا استعمال کے اندیشے کی بنیادپر غلط نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ لوگوں کویہ جاننے کا حق ہے کہ چناؤ کے دوران ہونے والے خرچ کا ذریعہ کیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو چناؤ حق قانون کے تحت جمہوریت کیلئے اچھی خبر مانی جائے گی۔ اب پارٹیوں کو جنتا کے سامنے حساب کتاب رکھنا ہوگا اور انہیں کہاں سے کتنا پیسہ ملا اور اس کا استعمال کیسے ہوا۔ اس انقلابی فیصلے کے لئے جہاں ہم اطلاعات حق کمیشن کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں وہیں یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے سیاستدانوں کو شاید ہی یہ منظور ہو کہ انفارمیشن کمیشن اس مسئلے پر ایک سال سے سماعت کررہا تھا اور ایک بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کو چھوڑ کر تمام باقی پارٹیاں اس کی مخالفت کررہی تھیں۔ جمہوریت اقتدار نظام کی بنیاد چناؤ عمل پر ٹکی ہوتی ہے اور یہ ہی سیاسی پارٹیوں کا وجود بنتا ہے۔ پارٹیوں کو تنظیم چلانے چناوی خرچ کے لئے پیسہ اکٹھا کرنے کا حق آئین دیتا ہے۔ دفتروں کے لئے مہنگی زمین کوڑیوں کے بھاؤ کرائے پر عمارتیں دی جاتی ہیں اور ان کی اعلان کردہ آمدنی کو انکم ٹیکس سے چھوٹ ملتی ہے۔ تب اپنی آمدنی اور خرچ کا ذریعہ بتانے یا تفصیل دینے میں اتنی آنا کانی کیوں؟ہماری سیاسی پارٹیاں بیشک خود کو غیر سرکاری کہتی ہیں لیکن جب چناؤ لڑتی ہیں تو یہ شکل سرکار میں بدل جاتی ہے اور جب وہ سرکار کی شکل اختیار کرلیتی ہیں تو انہیں قانون بنانے کا حق بھی بھارت کا آئین دیتا ہے۔سرکار میں شفافیت لانے کے مقصد سے ہی آر ٹی آئی قانون بنایا گیا تھااب یہ ہی پارٹیاں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ کانگریس کے میڈیا انچارج ،جنرل سکریٹری جناردن دویدی کہہ رہے ہیں کہ ہم اس سے پوری طرح غیر متفق ہیں۔ ہمیں یہ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے انقلابی قدم کے چکر میں ہم کہیں بڑا نقصان نہ کرلیں۔ کانگریس کی رائے سے مارکسوادی پارٹی بھاجپا کی اتحادی پارٹیاں جنتا دل (یو) بھی متفق نظر آئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہے جسے چھپانے میں ان پارٹیوں کو ملکی مفاد و جمہوری مفاد میں لگتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی آمدنی آج سینکڑوں کروڑوں میں ہے اس کے باوجود تفصیل دینے کی ذمہ داری سے بھاگنا اگر دال میں کالا جیسا اندیشہ لگتا ہے تو تعجب کیسا۔پارٹیوں میں ویسے ہی جمہوریت کی کمی ہے اور شخص یاپریوار خاص کے ارد گرد پارٹی کی کمان اس سے نمٹنے کے پیچھے اس آمدنی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ انفارمیشن کمیشن کا یہ قدم اگر مختلف سیاسی پارٹیاں مان لیں تو ان کی نہ صرف ساکھ سدھرے گی بلکہ زیادہ ذمہ دار اور پروفیشنل بنے گی۔
  1. (انل نریندر)

محض جوا نہیں یہ تو ٹیررفائننسنگ سے جڑا ہے

جوا کھیلنے کی دیش واسیوں کی عادت بہت پرانی ہے۔ یہ مہا بھارت کے دور سے چلی آرہی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے سٹے بازی کا کھیل اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ بکسے، کھوکے کے درمیان چلنے والا سیکریٹ کرکٹ کا کالا بازار اب سٹے بازی کی شکل لے چکا ہے۔ عالمی سطح پرچلنے والے اس کالے کاروبار میں راجدھانی میں اکیلے ہی قریب1500 بڑے دلال بے خوف اس دھندے سے جڑے ہوئے ہیں۔ راجدھانی میں یہ دلال ایک دن میں تقریباً400 سے500 کروڑ روپے کا دھندہ کر بھاری رقم کما لیتے ہیں۔ یہ سٹہ آخر کھیلا کیسے جاتا ہے؟ سٹے سے جڑے ایک کاروباری نے بتایا سٹے کا جنم وہاں سے ہوتا ہے جب ہم کوئی شرط لگاتے ہیں۔ کوئی شرط میں کہتا ہے کہ آج انڈیا جیتے گی تو کوئی کہتا ہے بری طرح ہارے گی اور اپنی بات کو صحیح اور دوسرے کی بات کو غلط بتاتے ہوئے تب کہتے ہیں ہو جائے 50-50 روپے کی شرط۔ یہ شرط سٹے کا دوسرا نام ہے۔ پہلے سٹہ اسی طرح گھروں یا دفتروں میں مستی کے لئے کھیلا جاتا تھا لیکن 80 کی دہائی میں جب انڈرورلڈ نے اس میں دلچسپی لی تو یہ پریشان کن دھندہ بن گیا۔ آج یہ کروڑوں روپے کا دھندہ چل رہا ہے۔ سٹے کے اس پیشے میں بنیادی طور سے دو کردار ہوتے ہیں دلال اور پنٹر۔دلال اسے کہا جاتا ہے جو بازی لیتا ہے اور جو بازی لگاتا ہے اسے پنٹر کہتے ہیں۔ کسی بھی میچ میں ہار جیت کا کتنا بھاؤ رہے گا یہ طے کرنے کا حق صرف دلال کو ہوتا ہے۔ پنٹر اس بھاؤ پر کوئی سوال نہیں اٹھاسکتا۔ اسے اسی بھاؤ پر یا تو کھیلنا پڑے گا یا پھر خاموش رہنا پڑے گا۔ لندن کی ایک ویب سائٹ’ بیٹ فیئر ‘ کسی میچ میں کسی ٹیم کی جیت ہار کا جو بھاؤ وہ فکس کرتی ہے عموماً اسی بھاؤ کو دلال انڈیا میں بھی اپناتے ہیں لیکن ہر گیند یا رن ریٹ دلال اپنے حساب سے میچ کی بدلتی تصویر سے فکس کرتے ہیں۔ مثلاً اگر 30 گیند پر 30 رن جیت کے لئے باقی ہیں اور وکٹ5 باقی ہیں تو دلال سٹے کا ریٹ بہت کم رکھتا ہے۔ اگر12 گیندوں میں 30 رن کا چیلنج کسی ٹیم کے پاس ہے تو فطری ہے کہ سٹے کا بھاؤ اسی حساب سے بڑھ جاتا ہے۔ اس کھیل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ محض جوا نہیں جو نفع نقصان کے لئے کھیلا جاتا ہے۔
ممبئی پولیس نے ایک عدالت کو بتایا کہ آئی پی ایل میچ میں سٹے بازی سے ہونے والی کمائی کا استعمال دہشت گردوں کو پیسہ دینے کے لئے ہو رہا ہے پولیس نے عدالت کو سٹے بازی کا گیم کتنا بڑا ہے اس کی جانکاری بھی دی۔ اس میں ہزاروں تاجر اور بزنس مین شامل ہیں۔ یہ لوگ بھارت میں ایک لینڈ لائن نیٹ ورک کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں اور آئی پی ایل سیزن میں روز کروڑوں روپے کی سٹے بازی لگاتے ہیں۔ ممبئی کرائم برانچ نے عدالت کو بتایا کہ انگلش بیٹنگ سے جو پیسہ آرہا ہے اسے کسی طرح دوبئی کے راستے پاکستان بھیجا جارہا ہے۔ پیسہ بھیجنے کے لئے حوالہ چینل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس انسپکٹر نند کمار گوپالے نے بتایا کہ ہم اس بات کو ثابت کرسکتے ہیں کہ کیسے پیسہ دوبئی بھیجا جارہا ہے اور اس کے بعد پاکستان پہنچ رہا ہے۔ اس پیسے کا استعمال شاید دہشت گرد تنظیموں پیسہ دینے کے لئے ہورہا ہے۔ اگر ہمیں معاملے کی جانچ کرنے کا موقعہ ملتا ہے تو ہم اس کنکشن کو ثابت کرسکتے ہیں۔ ہمارے پاس 30 انٹرنیشنل ٹیلی فون نمبروں کی فہرست ہے اس کا استعمال دہشت گردی یا دہشت گرد تنظیمیں کررہی تھیں۔ ہمیں اس معاملے کی اور جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کے میں نے کہا یہ محض جوے کی بات نہیں رہی بلکہ یہ تو دہشت گردی سے جڑتی نظر آرہی ہے۔
(انل نریندر)

05 جون 2013

جہادی آتنک واد سے کہیں زیادہ خطرناک ماؤ وادی دہشت گردی ہے

ہمارے دیش کی سب سے بڑی چنوتی لا اینڈ آرڈر سیکٹر میں دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔یہ اتنی سنگین شکل اختیار کرتی جارہی ہے جس کا سرکاریں نہ تو صحیح طریقے سے تجزیہ کرپارہی ہیں اور نہ ہی اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لئے دوررس حکمت عملی طے کرپارہی ہیں اور جب تک یہ نہیں ہوگا یوں ہی ہمارے سکیورٹی جوان اور سیاستداں مرتے رہیں گے۔ نکسلی اور ماؤواد میں فرق ہے۔ اب جو ہورہا ہے وہ ماؤ واد ہے ،نکسلواد غریب کسانوں و زمینداروں کے مظالم اور سرکار کی لاچاری کے خلاف زراعت سے جڑی تحریک تھی۔اب جو ہورہا ہے وہ تو جنگ پانے کے لئے بندوق کی حکمت عملی پر عمل میں لایا جارہا ہے۔ ان ماؤوادیوں کا مقصد اقتدار ہتھیانا ہے اور اس کام میں وہ کسی کی بھی مدد لینے سے نہیں کتراتے۔ ماؤوادی مخالف مہم میں لگی سکیورٹی ایجنسیوں کی سنسنی خیز تازہ رپورٹ ہاتھ لگی ہے جو میری بات کی تصدیق کرتی ہے۔ ایجنسیوں کو ملی جانکاری کے مطابق نکسلیوں اور ماؤوادیوں کو جرمنی، ترکی اور فلپائن سمیت 27 ملکوں کی ماؤ وادی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ ان سبھی ماؤ وادی تنظیموں کو وہاں کی سرکار نے دہشت گردتنظیم قرار دے رکھا ہے۔ ان میں سے کئی تنظیموں نے ماؤ وادیوں کو شہری درمیانے طبقے کا بھروسہ جیتنے کی حکمت عملی پر کام کرنے کی صلاح دی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے باخبر ذرائع کے مطابق بھارت میں سی پی آئی (ماؤ وادی) کے پولٹ بیورو کے نمبر 2 مانے جانے والے کرکم سدرشن نے اپنے کیڈر کو لکھی چٹھی میں غیر ملکی حمایت کا ذکر کیا ہے۔ سکیورٹی فورس کو یہ چٹھی قریب دو مہینے پہلے چھتیس گڑھ کے گول کنڈہ میں کی گئی چھاپہ ماری کے دوران ہاتھ لگی تھی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق25 مئی کو چھتیس گڑھ کے سکما میں کانگریسی لیڈروں پر کیا گیا بربریت آمیز حملہ سدرشن کی رہنمائی میں ہوا۔ نارتھ ایسٹ میں سرگرم آتنکی تنظیم پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے گرفتار نکسلی انتہا پسندوں نے نکسلیوں کو انتہائی حساس ترین اطلاعاتی تکنیک کے سازو سامان و ہتھیار چین میں موجود پرانی ماؤ وادی تنظیموں کی جانب سے سپلائی کئے جاتے ہیں۔ چین میں ابھی بھی ماؤتسے تنگ کی پیپلز وار کی گائڈ لائن پر کام کرنے والے لوگوں کا بڑا طبقہ موجود ہے۔ اسی طرح ماؤ کمیونسٹ پارٹی (ترکی) فلپائن ،جرمنی، فرانس،کیوبا، جنوبی افریقہ کے کئی سرگرم آتنکی تنظیمیں آپس میں جڑی ہیں۔ بھارت جیسے وسیع ملک میں اپنی سرگرمیاں چلانے کیلئے پیسہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس فرنٹ پر بھی ماؤوادی بہت مضبوط ہیں۔ بیرونی ممالک سے انہیں کہاں کہاں سے اتنا پیسہ ملتا ہے اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن بھارت کے خفیہ حکام کے مطابق ایک میرا اندازہ ہے کہ یہ ماؤ وادی دیش میں ہر سال تقریباً ایک ہزارکروڑ کی کھیپ وصولتے ہیں۔ ان میں سے30 فیصد حصہ اکیلے چھتیس گڑھ سے جاتا ہے۔ بستر میں یہ جو وصولہ جاتا ہے ان میں سے50 فیصدی رقم ماؤ وادیوں کے سینٹرل کمان میں بھیجی جاتی ہے۔ باقی 50 فیصدی کھانے پینے ، وردی اطلاع اور پوسٹر وگولہ بارود اور جدید ترین ہتھیار خریدے جاتے ہیں۔ خفیہ اطلاعات کے لئے مضبوط مخبر سسٹم ہے ۔ مخبروں کو پیسہ دیا جاتا ہے۔ ان ماؤ وادیوں عرف نکسلیوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تعمیراتی کام و تیندوپتا اور پنچایتی سسٹم ہے۔ ماؤ وادی زیر اثر علاقوں میں جو عمارتیں (سرکاری) بنائی جاتی ہیں اس کے عوض میں انہیں کمیشن ملتا ہے۔ پنچایتوں میں جتنے کام ہوتے ہیں اس میں نکسلیوں کا حصہ بندھا ہوتا ہے۔ 2005 ء میں جب 500 سے زیادہ گرام پنچایت پرمکھوں سے استعفیٰ دلایا تھا جس سے ان کی آمدنی کم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد نکسلیوں نے کبھی گرام پنچایتوں کو نہیں چھوڑا۔ ہر نکسلی اپنے مہینے کی تنخواہ سے ایک دن کی تنخواہ عطیہ میں دیتا ہے۔ بستر میں تیندو پتے کا کروڑوں کا ٹھیکہ ہوتا ہے۔ نکسلیوں کو بغیر پیسے دئے پتے کی تڑائی نہیں ہوتی۔ اس علاقے کے چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں کو ماؤ وادی سرکار کی طرح سے ٹیکس وصولتے ہیں۔ ماؤ وادی اپنے آپ کو سیاسی پارٹی بتا کر باقاعدہ چندہ وصولتے ہیں۔ تنظیم سے جڑے لوگوں کو ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ کل ملاکر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جہادی آتنک واد سے کہیں زیادہ خطرناک ماؤ وادی آتنک واد ہے۔
(انل نریندر)

اروندکجریوال بنام شیلا دیکشت

عام آدمی پارٹی پچھلے کچھ مہینوں سے راجدھانی کی سڑکوں پر مختلف اشوز کو لیکر دھرنے مظاہرے وغیرہ زور شور سے کررہی ہے۔ یہ تو سب کو پتہ ہی تھا کے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروندکجریوال سیاسی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے نیتا کجریوال نے ایتوار کو راجدھانی کا دل کہی جانے والی نئی دہلی سیٹ سے چناؤ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی سے دلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت چناؤ جیتتی آئی ہیں ۔اب وہ ان کے خلاف پرچہ داخل کریں گے۔ کجریوال نے اس اعلان کے ساتھ ہی بھاجپا پر بھی حملہ بولا اور کہا پچھلے انتخابات میں پارٹی نے شیلا دیکشت کے خلاف ہمیشہ کمزور امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ لگے ہاتھ کجریوال نے بھاجپا پردیش پردھان وجے گوئل کو اپنے و شیلا کے خلاف لڑنے کی چنوتی دے ڈالی۔ کجریوال نے کہا ہم نے شیلا کے خلاف مقابلہ کرنے فیصلہ اس لئے کیا ہے کیونکہ دلی شیلا سے نجات پانا چاہتی ہے اور وہ کرپشن کی علامت بن گئی ہیں۔ بھاجپا کو دلی کی جنتا پہلے ہی ٹھکراچکی ہے کیونکہ وہ تین بار سے اقتدار سے دور ہے۔ لوگ بھاجپا کو ایسی پارٹی کی شکل میں نہیں دیکھتے جو کانگریس کو ہرا سکے۔ دونوں پارٹیاں 15 سال سے میچ فکسنگ میں لگی ہوئی ہیں۔ ’’آپ‘‘ہی نئی دعویدار ہے اور وہ ہی کانگریس کو ہرا سکتی ہے۔ اس کے لئے پارٹی نے دلی بھر میں ا ب تک80 ہزار پربھاری مقرر کئے ہیں۔ وہ اگلے 10 دنوں میں سوا لاکھ تک کر دئے جائیں گے۔ یہ پربھاری کالونیوں میں کانگریس کے کرپشن کو جنتا کے بیچ جاکر اجاگر کرنے کا کام کریں گے۔ کجریوال نے سیاسی خاندانی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے بھاجپا کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایماندار امیدواروں کو ہی ٹکٹ دے۔ کچھ ورکروں نے تو کجریوال سے پوچھا کہ آپ وجے گوئل کے خلاف چناؤ نہیں لڑتے تو پارٹی نیتا کمار وشواس نے اپنے طنزیہ لہجے میں کہا کہ مچھروں کو مارنے کے لئے بوفورس توپوں کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ شیلا جی پچھلے تین چناؤ سے یہاں جمی ہیں اور اسمبلی چناؤ میں اس سیٹ کی نمائندگی کررہی ہیں۔ 1998ء و2003ء کے اسمبلی چناؤ میں یہ سیٹ گول مارکیٹ کے نام سے جانی جاتی تھی اور حد بندی کے بعد 2008ء میںیہ سیٹ نئی دہلی بنا دئی گئی۔ یہ دلی کی سیٹ ایسی ہے جہاں پورا ہندوستان بستا ہے۔ راشٹرپتی بھون، پی ایم ہاؤس سے لیکر پورا لٹینس زون مرکزی ملازم کے مکان، این ڈی ایم سی و صفدر جنگ ہسپتال کے اسٹاف کوارٹر،کناٹ پلیس، خان مارکیٹ، سندر نگر، گول مارکیٹ، بنگالی مارکیٹ تک یہاں ہندوستان کے ہر حصے کے لوگ ووٹر ہیں،جن کا ذات پات اور طبقے کی بنیاد پر بانٹنا مشکل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس زون میں قریب18 فیصدی دلت ووٹر ہیں۔ پچھلے چناؤ میں شیلا جی کو 53.95 فیصدی اس کے بعد69.44 فیصدی اور پھر 52.20 فیصدی ووٹ ملے تھے۔ اگر چناؤ میں شیلا کے خلاف ناراضگی کا ووٹ بھی پڑا تو وہ بھاجپا و آپ دونوں کو پڑے گا اور ووٹ کی تقسیم ہوگی۔ ایسے میں یہ سوال قدرتی ہے کہ کیا اروند کجریوال شیلا دیکشت کو ان کے گڑھ میں زبردست چیلنج دے پائیں گے؟
(انل نریندر)

04 جون 2013

اسپاٹ ، میچ فکسنگ پر بلائی گئی میٹنگ خود تھی فکس

سارے دیش کے کرکٹ شائقین کی نظریں ایتوار کو ہوئی بی سی سی آئی کی ہنگامی میٹنگ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ میٹنگ تو بے نتیجہ رہی۔ کہاوت ہے کہ’ کھودا پہاڑ نکلی چوہیا ‘اسی طرح اس میٹنگ کا نتیجہ ہوا۔اسپاٹ فکسنگ معاملے میں داماد اور چنئی سپر کنگ ٹیم کے سی ای او گوروناتھ میپپن کا نام آنے کے بعد بی سی سی آئی چیئرمین این سری نواسن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی ساری کوششیں بیکار ہوگئیں۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک چلی بی سی سی آئی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ خود فکس تھی۔سری نواسن نے سارے دباؤ کے باوجود چیئرمین کا عہدہ نہیں چھوڑا۔ اتنا ضرور کہہ دیا کہ جانچ ختم ہونے تک صرف وہ عہدے سے دور رہیں گے اورتب تک سابق چیئرمین جگموہن ڈالمیہ کرکٹ بورڈ کے روز مرہ کام کاج دیکھنے و چلانے کے لئے عارضی سسٹم کے طور پر چار نفری پینل کی صدارت کریں گے۔ یعنی جگموہن ڈالمیہ کو انترم صدر تک نہیں بنایا گیا۔ سری نواسن نے بعد میں کہا کہ میں نے اعلان کیا ہے کہ جانچ پوری ہوجانے تک میں عہدہ نہیں چھوڑوں گا۔ میٹنگ کے دوران مجھ سے کسی نے استعفیٰ دینے کے لئے بھی نہیں کہا۔ آئی ایس بندرا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سوائے میرے کسی نے بھی سری نواسن سے استعفیٰ نہیں مانگ۔ میٹنگ میں ہنگامے جیسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ مختلف خیموں میں بی سی سی آئی میں لگتا ہے کہ کوئی اتفاق رائے نہیں بن پایا۔ شردپوار حمایتی گروپ چاہتا تھا کہ سری نواسن استعفیٰ دیں اور ششانک منوہر کو ان کی ذمہ داری ملے لیکن باقی ممبران میں اتحاد ہوجانے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ آئی ایس بندرا اور کچھ دیگر ممبران نے ورکنگ کمیٹی کے فیصلوں پر اعتراض جتایا تھا لیکن انہیں درکنارکر دیا گیا۔ارون جیٹلی، راجیو شکلا اور انوراگ ٹھاکر جیسی سرکردہ ہستیوں نے بھی این سری نواسن کے تئیں رخ نرم رکھا۔ پبلک میں تو نیتا کچھ کہتے ہیں اور اندر میٹنگ میں کچھ اور کہتے ہیں۔ سری نواسن تو جائیں گے ہی لیکن انہیں بھی ضرور ساتھ لے ڈوبیں گے۔ ان سیاستدانوں کا دوہرا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔ یہ میٹنگ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بکواس میٹنگ رہی۔ لگتا تو یہ ہی ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ نتیجہ صفر ہے ۔ سری نواسن نے صدر کے عہدے کی ذمہ داریوں سے کنارہ کرنے کی بات تو کہی لیکن اہم اشوز پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار اب بھی انہی کے پاس ہوگا کیونکہ انہوں نے بی سی سی آئی کے چیف کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ بورڈ کے آئین کے مطابق ساری طاقت بورڈ کے پریسیڈنٹ کے پا س ہے۔ ایسے میں صاف ہے کہ سبھی فیصلوں پر صدر کی مہر ضروری ہوگی۔ اسی حیثیت سے وہ آئی سی سی میں بھارت کی نمائندگی کرنے کو بھی آزاد ہوں گے۔
اب دیکھئے فکسنگ کرنے کے لئے بلائی گئی یہ اہم میٹنگ کیسے فکس کی گئی؟ این سری نواسن کو ہٹانے کے لئے 15 دن سے مچا شور اس وقت رک گیا جب بورڈ کی ہنگامی میٹنگ بلانے کی بات کہی گئی تھی۔ مگر سنیچر کو جب اس میٹنگ کی جگہ بدل کر ممبئی سے چنئی کردی گئی اور شام ہوتے ہوتے میٹنگ کا وقت بھی 11 بجے سے بدل کر2.30 بجے کردیا گیا تو کرکٹ کے تمام واقف کاروں نے اس میٹنگ کے ممکنہ نتیجوں کا اندازہ لگا لیا تھا۔ یعنی سب کچھ پہلے سے ہی طے تھا۔
بی سی سی آئی کے پاس ممبئی میں چرچ گیٹ پر واقع کرکٹ سینٹر کے نام سے وسیع ہیڈ کوارٹر ہونے کے باوجود یہ میٹنگ چنئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں کیوں بلائی گئی اور میٹنگ کا وقت دوپہر بعد کیوں بدلا گیا۔ اس کا جواب دہلی میں بیٹھے بی سی سی آئی کے دوممبروں تک کے پاس نہیں ہے جبکہ ان دو سوالوں پر سنیچر سے بحث شروع ہوگئی اور بی سی سی آئی کے باہر احتجاج کرنے والے ان دونوں کی تبدیلی کی الگ الگ قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ سری نواسن نے نہ صرف اپنی کرسی بچا لی بلکہ اپنی مخالت کرنے والے سیاستدانوں کو بھی بتا دیا کے وہ کھیل فیڈریشنوں کی سیاست میں ابھی ادھورے ہیں۔ میٹنگ میں سبھی ممبر چپ رہے۔ صرف ایک ممبر آئی ایس بندرا ہی نے استعفے کی مانگ کی تھی جبکہ کہا جارہا تھا کہ بورڈ کے30 میں سے20 ممبر سری نواسن کے خلاف ہیں۔ مگر ہنگامی میٹنگ میں یہ سب کیوں خاموش رہے ، اس کا جواب دینے کے لئے اب یہ ہی ممبر میڈیا سے بچ رہے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو میٹنگ کی جگہ اسلئے بدلی گئی کیونکہ ممبئی میں کرکٹ پریمی ہنگامہ کرسکتے تھے اور شرد پوار کا یہ گڑھ ہے۔ 
سری نواسن ان دنوں سابق چیئرمین شرد پوار کے سخت مخالفت ہیں۔ مہاراشٹر میں پوار کے حمایتیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ممبئی میں اگر میٹنگ سے پہلے ہنگامہ ہوجاتا تو کچھ امید تھی کہ بندرا جیسے ممبران کے ساتھ کچھ اور ممبر آجاتے لیکن چنئی میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ جو بھی ہوا وہ سب پہلے سے طے تھا۔ میٹنگ کا وقت بدلنے کے پیچھے وجہ بتائی جارہی ہے کہ آئی پی ایل کے سابق چیئرمین راجیو شکلا سمیت کچھ اور ممبران نے بھی اس میٹنگ میں شامل ہونے سے انکارکردیا تھا لیکن بی سی سی آئی عہدیداران نے دیگر ممبران کو یہ دلیل دے کر میٹنگ کا وقت بدل دیا کہ کچھ ممبر دہلی و بھوپال سے صبح جہاز سے آرہے ہیں۔ بعد میں جب یہ ممبر نہیں پہنچے تو انہیں ٹیلی فون کر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس میٹنگ میں شامل مان لیا گیا۔ 
دراصل سری نواسن نے استعفے کا من بنا لیا تھا تو ان کے حمایتیوں نے انہیں یہ سمجھا کہ اگر وہ باہر ہوئے تو ان کا حشر کہیں آئی پی ایل کے سابق چیئرمین للت مودی جیسا نہ ہوجائے۔ جہاں تک بی سی سی آئی وائس چیئرمین ارون جیٹلی کا سوال ہے تو انہوں نے دیکھا کانگریس ہائی کمان کی سختی اور وزیر اعظم کے تلخ تبصرے کے فوراً بعد راجیو شکلا نے استعفیٰ دیا تو چناوی برس ہونے کے چلتے انہوں نے نگراں صدر بننے کی پیشکش ٹھکرادی کیونکہ چناؤ مہم ان کے ذمہ رہتی ہے اس لئے انہوں نے ڈالمیہ کے ساتھ ششانک منوہر کا نام بھی تجویز کیا اور کیونکہ ششانک منوہر بورڈ میں نہیں ہیں اس لئے جگموہن ڈالمیہ کے نام پر مہر لگنی تھی اور وہ بھی سری نواسن کی شرطوں پر۔ جیسا کے ہم نے اوپر کہا کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔
(انل نریندر)

02 جون 2013

سونیا گاندھی کی بھی نہیں سنتے منموہن سنگھ؟

ایک زمانہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا بھارت کا پردھان منتری لوک سبھا سے چنا جانا چاہئے۔قاعدے کے مطابق لوک سبھا کا لیڈر پی ایم ہی ہوتا ہے لیکن ہمارے موجودہ وزیر اعظم نے تو ساری روایت ہی توڑ کر رکھ دی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ پانچویں مرتبہ راجیہ سبھا سے چنے گئے ہیں یعنی کے پچھلے 30 سالوں سے وہ راجیہ سبھا میں ہیں اگر وہ لوک سبھا کا چناؤ لڑتے تو جنتا کی نبض کا کچھ اندازہ ہوتا ۔ اسی لئے ایک ٹپیکل افسر شاہ کی طرح برتاؤکرتے ہیں۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس خبر کی تنقید کی گئی اور یہ بتانے کی کوشش کی کے ان میں اختلاف نہیں ہیں اور سونیا گاندھی نے پبلک لائیو سے منموہن سنگھ کی پیٹھ تھپتھپائی تھی لیکن جب سونیا کے خاص کہے جانے والے منموہن سنگھ کی تو سونیا کی بھی نہیں سنتے تو اس کو تو سنجیدگی سے ہی لینا پڑے گا۔ یوپی اے چیئرپرسن محترمہ سونیا گاندھی کی سربراہی والی قومی مشاورتی کونسل سے کنارہ کرتے ہی سماجی رضاکار ارونا رائے نے وزیر اعظم منموہن سنگھ پر براہ راست تلخ تبصرہ کرڈالا۔ وزیر اعظم پر سونیاگاندھی کی بھی نہ سننے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ منریگا میں کم از کم مزدوری پر منموہن سنگھ کانگریس صدر کی صلاح کو نظرانداز کردیا حالانکہ کانگریس نے ارونا کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے وزیراعظم اور سونیا گاندھی کے درمیان اختلافات کی بات کو مسترد کردیا مگر ارونا کے اس تلخ تبصرے نے گزشتہ کئی دنوں سے سرکار اور پارٹی کے درمیان اختلافات سے متعلق قیاس آرائیوں کو پھر سے طول دے دیا ہے۔ عام جنتا کو اطلاعات کا حق دلانے کے لئے زبردست جدوجہد کرنے والی ارونا رائے نے 7 فیصدی غریبوں کی پریشانی سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے قومی مشاورتی کونسل کو چھوڑدیا ہے۔ ان کا کہنا ہے سرکار نے منریگا میں مزدوروں کی کم از کم مزدوری بڑھانے کے معاملے میں ہی نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ غذائی سکیورٹی کو لیکر بھی رویہ ٹال مٹول والا رہا۔ اس لئے انہوں نے سسٹم سے تنگ آکر سونیا گاندھی کی سربراہی والی قومی مشاورتی کونسل کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ارونا رائے کا استعفیٰ اس خیال کو کمزور کرتا ہے کہ منموہن سرکار اور سونیا کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ ان کی مانیں تو دونوں کے درمیان سرکاری پالیسیوں کو لیکر نظریئے میں بنیادی فرق پایاجاتا ہے۔ یہ ہی فرق حکومت اور سونیا کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ ہے۔ سونیا گاندھی چاہتی ہیں کہ سرکار سماجی اشوز کو ترجیح دے جبکہ منموہن سنگھ ی ترجیح میں وہ نہیں ہیں۔ منریگا میں کم از کم مزدوری دینے کی کونسل کی سفارشوں کو سرکار کی منظوری نہ ملنے پر سونیا خفا بتائی جاتی ہیں رائے کا استعفیٰ بھی اسی ناراضگی کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔ منموہن سنگھ سرکار کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ نہ تو عام جنتا سے جڑی پالیسیوں کو نافذ کرپارہی ہے اور نہ ہی دیش میں اچھا کاروباری ماحول بنانے میں کامیاب ہورہی ہے جبکہ تکنیکی اقتصادی ترقی کے نام پر سماجی ایجنڈے کو نظرانداز کررہی ہے۔ سونیا اسے گیم چینجر مانتی ہیں۔
(انل نریندر)

کھوٹ فکسنگ میں ہے نہ کے آئی پی ایل میں

لگاتار 2 سال اسپاٹ فکسنگ معاملے سے انڈین پریمیر لیگ آئی پی ایل کی ساکھ ملیا میٹ ہوئی ہے۔ اس پرکشش لیگ کو بند کرانے کی مانگ زور دار طریقے سے ہورہی ہے لیکن ہمارا کہنا ہے کہ عام آدمی فکسنگ سے خفا ہے آئی پی ایل سے نہیں۔ قصور کھلاڑیوں کا ہے کھیل کا نہیں۔ آئی پی ایل سے درجنوں نوجوانوں کو اپنا ہنر دکھانے کا فلیٹ فارم ملا ہے۔ ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو بھی روزگار ملا ہے۔ پورے دیش کی ہوٹل انڈسٹری ،ٹریول ایجنسیوں اور گراؤنڈ اسٹاف نئے اسٹیڈیم بھی بنے ہیں۔ یہ سب آئی پی ایل کی وجہ سے ہی ہوسکا ۔ نہیں تو رانچی جیسی جگہ میں اتنا شاندار اسٹیڈیم بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ فضول کے سماج مخالف ٹی وی سیریلوں سے بھی نجات ملی ہے۔ قصور سی بی آئی کا سب سے زیادہ ہے اور اس میں بھی چیئرمین این سری نواسن کا ہے۔ان کو سارا دیش ہٹانے کی مانگ میں لگا ہوا ہے۔ تعجب تو یہ ہے کرکٹ سیاست سے جڑے لیڈروں کو میں جوترادتیہ سندھیا وزیر کھیل جتندر سنگھ کے علاوہ کسی میں بھی اخلاقیت کے ٹھیکیداروں نے سری نواسن سے استعفیٰ مانگنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ راجیو شکلا پہلے تو سری نواسن کی حمایت میں کھڑے رہے اب وہ تھوڑے ان سے دور ہوئے ہیں انہوں نے اپنے اور ارون جیٹلی کی جانب سے سری نواسن سے اپنی جانچ سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یہ دونوں سیاست میں اپنی اپوزیشن پارٹی کے کسی نیتا پر کرپشن کا الزام لگتے ہی استعفے کی مانگ کو طوطے کی طرح رٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ سری نواسن صاحب استعفیٰ تو آپ کو دینا ہی پڑے گا۔ اب تو بی سی سی آئی میں بھی ان کے خلاف تیور تیز ہونے لگے ہیں۔ 31 میں سے18 ممبر انہیں ہٹائے جانے کے حق میں ہیں۔شریک چیئرمین اجے شرکے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر سری نواسن اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے تو احتجاج میں وہ اپنا عہدے چھوڑدیں گے۔ ادھر سری نواسن اپنے عہدے پر بنے رہنے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ تمام دباؤ کے باوجود وہ اپنی کرسی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ شبہ بڑھتا جارہا ہے کہ کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ کا مایا جال آئی پی ایل کے کچھ میچوں تک محدود نہیں رہا۔ ایسے گندے کھیل کی جڑیں بہت گہری لگتی ہیں۔ اسپاٹ فکسنگ معاملے میں چنئی سپر کنگ کے مالک گوروناتھ میپپن پورے طور پر شک کے دائرے میںآچکے ہیں۔ میپپن سری نواسن کے دامادہیں۔ الزام ہیں کہ وہ کرکٹ میچ کی اندرونی حکمت عملی کی جان کاری سٹے بازوں کو دیتا تھا تاکہ کروڑوں روپے کی کمائی ہوسکے۔ اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں اب تک 3 کھلاڑی، دو درجن سٹے باز بھی گرفت میںآچکے ہیں۔ سٹے بازی کے اس کھیل میں میپپن کا سرگرم رول رہا ہے۔ اسی سے سری نواسن کے استعفے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے ۔ کرکٹ کے نامی پرموٹر اور سہارا کمپنی کے چیف سبرت رائے سہارا سری نواسن کے خلاف کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سری نواسن کے رول کے چلتے بھارتیہ کرکٹ کی ساکھ گری ہے اور مرکزی وزیر اور انٹر نیشنل کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شرد پوار بھی سری نواسن کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ چوطرفہ گھرجانے کے بعد بھی سری نواسن کرسی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ جس کرکٹ کے لئے دیش کے کروڑوں لوگ دن رات دیوانے رہتے ہیں اس کا انتظامیہ اگر اتنا ہی بے شرمی کے لئے تیار ہے تو سوچنا ہوگا کہ کہیں یہ چکر کچھ اور زیادہ سنگین تو نہیں؟ داؤ پر ہے آئی پی ایل کا بھروسہ لیکن سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا سری نواسن کے استعفیٰ دینے سے یہ روگ دور ہوگا؟ بیشک نہیں لیکن استعفیٰ صحیح سمت میں ایک صحیح قدم ہوگا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...