Translater

22 نومبر 2014

جونیئر انجینئرسے 100کروڑ کا مالک کیسے بن گیا رامپال؟

ہندوستان کے آئین میں شہریوں کو کسی بھی مذہب اور عقیدت کو ماننے کی آزادی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عقیدت کے نام پر اس آئین کی دھجیاں اڑائی جائیں۔ خود کو سنت کہلوانے والے رامپال اوراس کے پیروکارو نے ہریانہ کے حصار میں واقع بروالا میں اپنے آشرم کے باہر جس طرح سے ہنگامہ مچوایا وہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ساڑھے33 گھنٹے کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعدہریانہ پولیس جب ستلوک آشرم میں گھسی تو تلاشی کے دوران پولیس کومتنازعہ خواتین کا سامان بیت الخلاء میں خفیہ کیمرے اور نشیلی ادویا اور بے ہوشی کی حالت میں پہنچانے والی گیس اور فحاشی کتابیں بھاری تعداد میں برآمد ہوئیں۔ بدھوار کو آشرم سے باہر آنے والی عورتوں نے بھی چونکانے والی بہت سی باتیں بتائیں۔ ان کے مطابق رامپال کے پرائیویٹ کمانڈو انہیں یرغمال بنا کر ان سے بدفعلی کیا کرتے تھے اور ایسی جگہ رکھتے تھے کہ کسی آواز باہر نہیں پہنچ سکتی تھی۔ آشرم سے باہر آئی ایک عورت نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ یہاں آئی تھی اور پچھلے7 دنوں سے وہ آشرم میں ہی موجود تھی اس نے کہا کچھ دنوں سے اس سے بدفعلی کی جارہی تھی۔ پانچ دنوں سے شوہر کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ ہریانہ کے محکمہ باغبانی میں بطور جونیئر انجینئر نوکری کرنے والا رامپال 100 کروڑ کا مالک کیسے بن گیا؟رامپال کے پاس 100 کروڑ روپے کی املاک ہیں ۔16 ایکڑ میں پھیلے بروالا میں واقع آشرم کی قیمت تقریباً20 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ اس کے اندر عیش و آرام کی تمام سہولیات موجود ہیں۔ ہر کمرے میں ایئر کنڈیشن ہے۔ اس کے پاس تقریباً70 لکژری کاریں ہیں جس میں مرسڈیز ، بی ایم ڈبلیو، یو ایس وی اور آر سی وی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ20 ٹریکٹر ،2 ٹرک قریب5 بسیں بھی ہیں۔ اس کے پاس بروالا میں ایک اور آشرم ہے جو قریب6 ایکڑ میں بن رہا ہے۔بروالا میں ہیں رامپال نے50 ایکڑ زمین اور خریدی ہے اس کی قیمت آج کے دور میں28 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ روہتک ضلع میں جھجھر روڈ پر واقع گاؤں کروندھا میں 4 ایکڑ کا ایک اور آشرم میں جس کی قیمت 5 کروڑ روپے ہے۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی میں بھی رامپال کی کروڑوں کی زمین بتائی جاتی ہے۔ ستلوک آشرم رامپال کے25 لاکھ پیروکار ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ رامپال سوٹ بوٹ میں رہ کر ست سنگ کرتا ہے۔ رامپال نے گرفتاری سے بچنے کیلئے اپنے پیروکاروں کو منصوبہ بند طریقے سے استعمال کیا۔ آشرم میں گھسنے کیلئے صرف ایک ہی بڑا دروازہ ہے اس لئے رامپال کے آشرم کے مین گیٹ کے باہر بزرگ اور لڑکوں اور عورتوں اور بچوں کو بہت ہی منظم طریقے سے ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی تاکہ پولیس ملازمین بھی کسی طرح اندر نہ آسکیں۔ آشرم کے گیٹ پر تقریباً200 عورتیں، مرد، بچوں کو لگایا گیا تھا۔ اس کے بعد 4-5 ہزار بھگت اور نجی کمانڈو آشرم کی 50 فٹ اونچی دیوار کے پیچھے تعینات تھے جو 8-10 گھنٹوں میں بدلتے رہتے تھے۔ رامپال کے پیروکاروں میں ریٹائرڈ فوجی، پولیس ملازم اندر بیٹھ کر پورے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور منصوبے کو انجام دینے میں لگے ہوئے تھے۔ آشرم کے سامنے دروازے پر سب سے پہلے بچوں کو بٹھایاگیا۔ ان کے پیچھے عورتیں اور لڑکیوں کو معمور کیا گیا تھا۔ ایسی عورتوں کو تعینات کیا گیا جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں، ان کے پیچھے بزرگ عورتیں اور مرد تھے ان سب کے پیچھے لڑکوں کی ایک ٹولی بیٹھی تھی جو آشرم کی دیوار سے لگی تھی۔ یہیں پر پیٹرول بم ،ڈیزل ،تیزاب کی تھیلیاں وغیرہ جمع تھیں جیسے ہی پولیس نے کارروائی شروع کی تو ان لوگوں نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔ پانچویں مرحلے میں آشرم کی چھت پر 4-5 ہزار لڑکوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ان میں بابا کے نجی کمانڈو بھی تھے یہ رائفل، بندوق، ریوالور، پیٹرول بم وغیرہ سے حملہ کرنے کے لئے معمور تھے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اتنی تیاری کے ساتھ رامپال نے اپنے آشرم میں انتظام کیا تھا پولیس اگر زور زبردستی کرتی تو سینکڑوں لوگ مر سکتے تھے۔ پولیس انتظامیہ نے بہت ہی ضبط سے کام لیا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ100 سے اوپر پولیس ملازم اس 33 گھنٹے کی لڑائی میں زخمی ہوئے اور 4 لوگ مرے بھی ،وہ آشرم کے اندر ہی مرے۔رامپال سونی پت ضلع کے دھنونا گاؤں میں 8 ستمبر 1951ء کو بھگت نند رام کے گھر میں پیدا ہوا۔انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا اور محکمہ باغبانی میں ایک جونیئر انجینئر کی نوکری کی۔ نوکری کے دوران دبنگئی کی وجہ سے انہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا۔رامپال جب کبیر پنتھ کے رامدیو آنند مہاراج کی قربت میں آیا تو اس کی زندگی کی سمت کی بدل گئی۔ اس نے 1999ء میں کروندھا میں ستلوک آشرم بنایا۔ 2006ء میں سوامی دیانند سرسوتی کی ستیارتھ پرکاش پر متنازعہ رائے زنی کر سنت رامپال سرخیوں میں آگیا۔ آریہ سماجیوں میں اور رامپال حمایتیوں میں خونی جھڑپ میں ایک شخص کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد ایچ ڈی ایم نے 13 جولائی 2006ء میں اس کے آشرم کو قبضے میں لیکر رامپال سمیت 24 حمایتیوں کو گرفتار کرلیا۔ ڈیڑھ سال جیل میں رہے رامپال ضمانت پر چھوٹا۔ 13 جولائی کو ایک بار پھر رامپال اور آریہ سماج کے ماننے والوں میں جھڑپ ہوگئی جس میں تین لوگوں کی موت ہوئی۔ اس کے بعد ایک بار پھر پولیس نے آشرم پر قبضہ جمایا۔ رامپال اور ستلوک آشرم کے منتظمین کے خلاف پولیس نے بغاوت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ان کے علاوہ دفعہ(121) جنگ چھیڑنے کی کوشش، دفعہ21(a) یعنی سرکار کے خلاف مجرمانہ سازش، دفعہ122 (بھارت سرکار کے خلاف جنگ چھیڑنے کے ارادے سے ہتھیار جمع کرنے) جیسی دفعات کے تحت مقدمے درج ہیں۔ رامپال جیسے نام نہاد سنتوں کا نہ تو کوئی دھرم ہوتا ہے اور نہ روحانیت اور نہ ہی اخلاق سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے اپنے آشرموں کو بدفعلی کا اڈہ بنا دیا ہے۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ جونیئرانجینئر سے سنت رامپال بننے کے سفر میں اسے کتنی سیاسی سرپرستی ملی ہے۔ بغیر سیاسی سرپرستی سے ان داغدار جرائم پیشہ شخص اتنی دور تک نہیں پہنچ پاتے۔ اب جب بابا گرفت میں آچکے ہیں پنجاب ۔ہریانہ ہائی کورٹ نے ہریانہ پنجاب کے سارے ڈیروں کے بارے میں رپورٹ مانگی ہے۔ اگر جانچ صحیح طریقے سے ہوئی تو اور باباؤں کی بھی پول کھلے گی اور ان کا گورکھ دھندہ سامنے آسکتا ہے۔
(انل نریندر)

21 نومبر 2014

آئی ایس کی بڑھتی طاقت امریکہ اور یوروپ کیلئے خطرہ!

عراق اور شام میں سرگرم خطرناک دہشت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے ایک اور خوفناک کارروائی میں امریکی یرغمال پٹرکیسنگ سمیت19 لوگوں کا سر قلم کردیا ہے۔ آئی ایس نے اپنے دعوے میں پٹر اور 18 شام کے فوجی حکام کا سرقلم کرنے کا ویڈیو بھی جاری کیا ہے جس میں اس نے بتایا کہ یہ قدم اس نے امریکہ ، برطانیہ سمیت مغربی ممالک کو خبردار کرنے کیلئے اٹھایا ہے۔ پٹر کو آتنکوادیوں نے شام سے اغوا کیا تھا۔ حالانکہ آئی ایس کے ذریعے جاری اس ویڈیو کی ابھی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں ویڈیو کی سچائی جاننے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ قتل خوف پھیلانے والے ہیں۔ دو برطانوی اور دیگر امریکی شہریوں کا سر قلم کرنے والے آئی ایس کے ایک برطانوی جہادی جان کے امریکی ہوائی حملے میں زخمی ہونے کی خبر ہے۔ انگلینڈ کے اخبار ’ڈیلی میل‘ نے برطانوی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جہادی جان نام کا یہ خطرناک اور برطانوی معاشرے میں زندگی گزارنے والا آئی ایس کا قاتل شمالی عراق میں ایک بنکر پر حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ہمیں خبر ملی ہے جہادی جان زخمی ہے۔ پٹر کیسنگ امریکہ کا سابق فوجی بھی تھا اور اسلام مذہب قبول کر چکا تھا۔ ویڈیو میں آئی ایس دہشت گرد ایک کٹا سر لئے کھڑا ہے جو کیسنگ جیسا دکھائی پڑتا ہے۔ ویڈیو میں آتنک وادی کہہ رہا ہے کہ ہم یہاں دبق میں پہلے امریکی کو دفن کررہے ہیں اور آپ کی باقی فوج کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔ اس کے پہلے ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ دہشت گرد 18 شامی فوجیوں کو ایک قطار میں لیکر آئے ہیں ۔ انہیں گھٹنے کے بل بٹھایا اور ان کا سر قلم کردیا۔ قابل ذکرہے 16 ویں صدی کا یہ وہ میدان جنگ ہے جو اب شمالی شام میں واقع ہے۔ یہاں ترکی کے آٹومن اقتدار اعلی نے مملوک لوگوں کو ہرایا تھا اور اپنے عہد اور خلافت کو فروغ دیا تھا جس کا جانشین آئی ایس خود کو مانتا ہے۔ یہ تنظیم اپنا احتجاج کرنے والے اب سینکڑوں کی تعداد میں شامی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ تنظیم ان ملکوں کے گروپوں میں قتل کرنے اور ان کی عورتوں کو بیچنے اور انہیں اپنی باندی بنانے و کیمرے کے سامنے کئی لوگوں کا سر قلم کرنے جیسی کارروائی کر چکاہے۔ امریکی صدر براک اوبامہ الجھن کی حالات میں ہیں اور مغربی ملکوں کے ذریعے آئی ایس کی طاقت کو کم کرکے بھانپنے کی وجہ سے اس سنی کٹر پسند اسلامک تنظیم کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکہ یہ نہیں طے کرپارہا ہے کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے کیسی حکمت عملی اپنائے۔ آئی ایس نے 2 لاکھ لڑاکو کی فوج تیار کرلی ہے۔عراق میں امریکی ہوائی حملوں کی کامیابی کے باوجود اس دہشت گرد تنظیم نے امریکی صحافی کے قتل کا ویڈیو جاری کیا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کا پھیلاؤ شام تک ہے۔ کیا امریکہ اب آئی ایس کے پیچھے شام تک جانے کو تیارہے؟ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ امریکی سابق نائب وزیر خارجہ پی جے کراؤلی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کھلے طور سے بہت سوچ سمجھ کر اور اکیلے میں دوٹوک بولتے ہیں۔ جب براک اوبامہ نے صاف کہا کہ ہمارے پاس اسلامک اسٹیٹ سے نمٹنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے تو یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔ اس طرح دوٹوک بولنا سمجھداری ہو یا نہ ہولیکن ان کا مقصد آئی ایس کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے عراق سے شام میں پھیلانے کی قیاس آرائیوں پر روک لگانا تھا۔ صحافی جیمس فالی اور اسٹیون سیٹلاگ کے دل دہلانے والے قتلوں نے جتادیا ہے کہ شام میں امریکہ کی عزت داؤ پر ہے۔ اس کے باوجود اسلامک اسٹیٹ کے پیچھے شام میں نہ گھسنے کا امریکہ کا فیصلہ کچھ معنی میں صحیح ہے کیونکہ آئی ایس بھی یہی چاہتا ہے کہ امریکہ اس کے پیچھے شام میں آئے ۔ بتا دیں کہ آئی ایس دنیا کی سب سے امیر دہشت گرد تنظیم ہے جس کا بجٹ 2 ارب ڈالر ہے۔ دنیامیں زیادہ تر مسلم آبادی والے خطوں کو سیدھے اور اپنے سیاسی کنٹرول میں لینا اس کا پہلا مقصد ہے جس میں وہ کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ میں امریکیوں کے سر قلم کرنے سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے اور لوگ اوبامہ کی نکتہ چینی کررہے ہیں کہ وہ اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں؟
(انل نریندر)

مہاراشٹر میں 4-6 مہینے میں ہوسکتے ہیں چناؤ، تیار رہیں!

ناگپور میں8 دسمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں دیویندر پھڑنویس حکومت کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال جو پارٹی لائن کی پوزیشن ہے اس میں بھاجپا کے 121 ممبر ہیں جبکہ عام طور پر اکثریت کیلئے انہیں149 ممبران کی حمایت چاہئے۔ قریب12 دیگر ممبران کو بھی جوڑ لیا جائے تو یہ نمبر144 تک نہیں بنتا۔ شیو سینا کے63، کانگریس کے42، این سی پی کے41 اور دیگر 8 ہیں۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی بھاجپا۔ شیو سینا میں سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ سودے بازی جاری ہے ناگپور میں ہونے والے اسمبلی اجلاس میں پھڑنویس سرکار کے خلاف اپوزیشن کے سخت تیور اپنائے جانے کی امید ہے کیونکہ سرکار نے بھلے ہی صوتی ووٹ سے ایوان میں اکثریت حاصل کر لی ہو مگر اپوزیشن پارٹی اسے ابھی بھی اقلیتی سرکار مانتی ہے۔حالانکہ سرکار کو راشٹروادی کانگریس پارٹی کی باہر سے مشروط حمایت حاصل ہے لیکن بھاجپا این سی پی پر بھروسہ نہیں کرسکتی۔ خاص کر جب اس کے سربراہ شرد پوار اس طرح کا بیان دیں ۔تیار رہیں مہاراشٹر میں 4-6 مہینے میں پھر چناؤ ہوسکتے ہیں۔ دیویندر پھڑنویس سرکار کو حمایت کے معاملے پر این سی پی کے سر بدلنے لگے ہیں۔ پارٹی صدر شرد پوار نے منگلوار کو اپنے ورکروں کو وسط مدتی چناؤ کیلئے تیار رہنے کوکہا ہے۔ پوار رائے گڑھ کے علی باغ میں پارٹی کے دو روزہ اجلاس میں بول رہے تھے۔ مہاراشٹر میں مضبوط حکومت دینا این سی پی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں ریاست میں غیر یقینی سیاسی پائیداری کے اشارے نہیں ملتے۔ این سی پی نے اسمبلی چناؤ کے فوراً بعد بھاجپا کو آنے والی سرکار کو حمایت دینے کا اعلان کیا تھا۔ دیویندر پھڑنویس کے وزیر اعلی بننے کے بعد بھی شرد پوار نے کہا تھا کہ سرکار پورے پانچ سال چلے گی۔ این سی پی اعتماد کے ووٹ کے دوران اسمبلی سے غیر حاضر رہ کر یا سیدھے حق میں ووٹ دے کر سرکار کو بچانے کی تیاری بھی کرلی تھی۔ شاید اسی طرح وہ بھاجپا پر اخلاقی دباؤ بنانا چاہتی تھی۔ جسے اس نے چناؤ کے دوران نیچرل کرپٹ پارٹی کہا تھالیکن پھڑنویس سرکار نے صوتی ووٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا اور این سی پی ممبر چپ چاپ اپنی میزوں پر بیٹھے رہ گئے۔ شرد پوار اور ان کے بھتیجے اجیت پوار کو شاید یہ ناگوار گزرا۔ شرد پوار کے وسط مدتی چناؤ کے امکان کے بیان پر وزیر اعلی پھڑنویس نے فوراً جواب دیا کہ مجھے نہیں لگتا ریاست میں وسط مدتی چناؤ ہوں گے۔ کوئی پارٹی ایسا نہیں چاہتی۔ وہیں شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے نے کہا ہم نے سرکار میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ مستقبل کے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ شیو سینا کے ہاتھ میں سرکار کے مستقبل کی چابی ہے جب تک وہ اپوزیشن کے ساتھ نہیں جاتی تب تک سرکار گر نہیں سکتی اس لئے وہ چاہتی ہے کہ این سی پی پھڑنویس سرکار سے حمایت واپس لے اور وہ بھاجپا کو آئینہ دکھائے۔ اپنی شرطوں پر سرکار میں شامل ہونا اور اسے بچانے کا سہرہ اپنے سر لینا چاہتی ہے۔
(انل نریندر)

20 نومبر 2014

رامپال کے ستلوک آشرم میں خونی جنگ!

ستلوک آشرم کے مکھیہ رامپال کا معاملہ تشدد کا موڑ لے چکا ہے۔ پنجاب ،ہریانہ ہائی کورٹ کے حکم پر جب منگلوار کو رامپال کے ہریانہ کے حصار کے بروالا میں واقع ستلوک آشرم پولیس پہنچی تو اسے رامپال کے پیروکاروں کی طرف سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے پولیس پر آشرم کمپلیکس سے جم کر پتھراؤ کیا تو پولیس کو اپنے دفاع میں ان پر لاٹھی چارج اور بعد میں آنسو گیس چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پولیس کی مانیں تو آشرم کمپلیکس سے پولیس پر فائرننگ بھی کی گئی۔ گھنٹوں ستلوک آشرم کے باہر میدان جنگ جیسا منظر دکھائی دیا۔ اس خونی ٹکراؤ میں 200 سے زائد لوگ زخمی ہوگئے اور بھیڑ کے حملے میں 12 پولیس ملازم بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حدتو اس وقت ہوگئی جب پولیس نے میڈیا والوں تک کو لاٹھی چارج میں نہیں بخشا اور انہیں دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس رامپال کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ جے سی بی مشینوں سے آشرم کی دیوار توڑ کر اس میں پولیس کے جوان گھس گئے تو اس وقت پولیس حیران رہ گئی جب بابا کے پیروکاروں نے وہاں جمع بچوں اور عورتوں اور لڑکوں کو ڈھال کی شکل میں استعمال کرنا شروع کردیا۔ رامپال کے آشرم میں اس کی گرفتاری کولیکر سسپنس بنا ہوا ہے۔ آشرم کے ترجمان نے کہا کہ رامپال آشرم میں نہیں ہیں جبکہ ہریانہ کے ڈی جی پی ان کے اپنے آشرم میں ہی کسی جگہ چھپے ہونے کا دعوی کررہے ہیں۔ آشرم سے نکلنے والے لوگوں نے کہا کہ کافی لوگ باہر آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں نکلنے نہیں دیا جارہا ہے بلکہ انہیں زبردستی ڈھال کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ آج یعنی بدھوار کے روز آشرم میں پھنسے ہزاروں لوگوں نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر خود آشرم سے نکلنا شروع کردیا ہے۔رامپال کے آشرم میں موجود ترجمان نے دعوی کیا ہے آنسو گیس اور پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے9 لوگوں کی موت ہوگئی ہے جبکہ ڈی جی پی نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔ سنت رامپال کے معاملے میں جو کہا جارہا ہے اس سے غلط پیغام جارہا ہے۔ یہ تلخ تبصرہ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کے جسٹس جے پال اور جسٹس درشن سنگھ کی بنچ نے کورٹ کے بار بار حکم کے بعد بھی رامپال کو گرفتار کر عدالت پیش کرنے میں ناکام رہنے میں ہریانہ پولیس کی سخت سرزنش کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پولیس رامپال کو گرفتار نہ کر کے جرائم پیشہ اور قانون توڑنے والوں کو غلط پیغام دے رہی ہے۔کل ہرحال میں ملزم خود کو قانون کے حوالے کرنے سے بچانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گا اس طرح تو انتظامی مشینری ہی فیل ہوجائیگی۔ ہائی کورٹ نے اگلی سماعت21 نومبر یعنی جمعہ کا دن مقرر کیا ہے اور پولیس کو سخت حکم دیا ہے کہ رامپال کو صبح10 بجے ہر حال میں پیش کرے۔ مذہب کی آڑ میں غلط کام کرنے والے ڈھونگی سنتوں کو چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔ رامپال پر قتل کا الزام ہے۔ سال 2006ء میں رامپال حمایتی اور ایک دوسرے گروپ میں ہوئے جھگڑے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی۔2008ء میں اس معاملے میں رامپال کو ضمانت مل گئی تھی۔14 جولائی2014ء کو رامپال کو کورٹ نے حصار کورٹ میں ویڈیو کانفرسنگ کے ذریعے پیش ہونے کو کہا تھا۔ رامپال کے حمایتیوں نے تب بھی اس کی مخالفت کی تھی اور حصار عدالت کا گھیراؤ کرلیا تھا۔ عدالت کمپلیکس میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔ اس کے بعد حصار ضلع بار ایسوسی ایشن نے معاملے کی شکایت ہائی کورٹ میں کی تھی اور عدالت ہذا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کے تحت مقدمے کی سماعتکے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔وسیع عریض کمپلیکس میں پھیلے ستلوک آشرم کی 50 فٹ اونچی چار دیواری بنی ہوئی ہے۔ اس قلعہ نما کمپلیکس میں باہر سے داخلہ بہت مشکل ہے۔ رامپال کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ ان کے سنت (بھگوان) کو زبردستی مقدمے میں پھنسایا جارہا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو بھی ان کے حمایتیوں کو اس طرح سے تشدد پر نہیں اترنا چاہئے بلکہ وہ اپنے قدم سے اپنے سنت کو ہی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر انہیں زبردست پھنسایا جارہاہے تو عدالت میں ہی انصاف مل جائے گا۔انہیں عدالت پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ پولیس نے ابھی بھی ضبط سے کام لیا ہے۔ اگر وہ اپنے ہتھکنڈوں پر اتر آئی تو بھاری مال و جان کا نقصان ہوگا۔ہریانہ کی کھٹر حکومت کی یہ سخت اگنی پریکشا ہے دیکھیں وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹتے ہیں؟
(انل نریندر)

نیویارک اور لندن سے کم نہیں ہے اپنی دہلی!

دہلی والے بھلے ہی نیویارک اور لندن جیسے شہروں میں بسنے کا خواب دیکھتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ اپنی دہلی ان شہروں سے کم نہیں ہے۔ پھر چاہے قتل اور یا قانون و انتظام کی بات ہویا آمدنی کا موازنہ ہو یا ٹرانسپورٹ وغیرہ سبھی معاملوں میں دہلی کسی بھی معیار سے کم نہیں ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے اس کے مطابق دھیمی رفتار سے ترقی کے شہری پس منظر کے باوجود دہلی معاشیاتی طور پر مضبوط شہر نیویارک جیسا ہے اور رقبے میں بھی اس سے دو گنا زیادہ ہے۔ اگر ہم جرائم اور لا اینڈ آرڈر کی بات کریں تو اس رپورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ دہلی میں تشدد یا جرائم کی سطح بھی نیویارک اور استنبول جیسے شہروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ نیویارک میں فی لاکھ لوگوں میں قتل جیسے گھناؤنے جرائم کا اوسط شرح 5.6 فیصدی ہے جبکہ وہیں دہلی میں یہ محض2.7 فیصدی ہے لیکن امریکی ممالک میں جیسی سہولیات ہیں اس میں فی لاکھ امیر لوگوں کی شرح16.1 فیصدی ہے جبکہ شہری بساست کم ہونے کے باوجود دہلی کا معیار زندگی دنیا کے بڑے شہروں جیسا ہے۔ لندن ،بگوٹہ، لاگوس، ٹوکیو، نیویارک، استنبول اور برلن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہلی کازمینی حدود اربع 19698 مربع فی کلومیٹر ہے۔وہیں نیویارک میٹرو علاقے کا حدود اربع11531 مربع فی کلو میٹر ہے یعنی دہلی میں ایک کلو میٹر رقبے میں 19698 لوگ رہتے ہیں وہیں نیویارک میں یہ تعداد 11531 ہے۔ اس طرح نیویارک کے مقابلے میں قومی راجدھانی کی آبادی دوگنا ہے۔ اگر آمدنی کی بات کریں تو 2012-30 کے درمیان دہلی میں فی شخص کی آمدنی 7 فیصد سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ لندن میں اس دوران صرف 2.8 فیصدی بڑھ سکتی ہے۔ ٹوکیو میں یہ 1.1 ، لاگوس میں 6.6 فیصدی کی شرح سے بڑھنے کی امید لگائی گئی ہے۔بیداری:اسمبلی چناؤ میں دہلی میں 66 فیصدی ووٹروں نے اپنی رائے دیہی کا استعمال کیا تھا۔ لندن جیسے شہر میں ووٹنگ فیصد 39 فیصدی ہے جبکہ نیویارک میں یہ24 فیصدی درج کیا گیا۔ آمدورفت کے سیکٹر میں دہلی میں بس کا کرایہ لندن جیسے شہروں سے10 گنا سستا ہے۔ ہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے میں دہلی ٹوکیو جیسے شہروں سے تھوڑا پیچھے۔ دہلی میں42 فیصدی لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ٹوکیو میں 67 فیصدی اور لاگوس میں 70فیصدی لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دہلی کے شہری اپنی ذاتی گاڑیوں موٹر سائیکل، اسکوٹر وغیرہ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ میٹرو ریل کے آنے سے پبلک ٹرانسپورٹ میں یقینی اضافہ ہوا ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس نے دنیا کے 8 شہروں پر مبنی اس اسٹڈی میں یہ حقائق سامنے رکھے ہیںیہ شہر ہیں دہلی، لندن، نیویارک، ٹوکیو، برلن، لاگوس، بگوٹہ اور استنبول۔ ایک کوآپریٹی بینک کے ایک معاون ڈائریکٹر آشو جین کے مطابق بھارت کو ترقی کو برقرار رکھنے کیلئے اگلی کچھ دہائیوں میں نیو شکاگو کی برابر ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں سرکار کی0 10 اسمارٹ سٹی بنانے کی پہل کافی اہمیت کی حامل ہے۔
(انل نریندر)

19 نومبر 2014

دوا کے نام پر زہر کھارہے ہیں لوگ!

چھتیس گڑھ کے بلاس پور ضلع میں ایک سرکاری نسبندی کیمپ میں آپریشن کے بعد 18 عورتوں کی موت نے پورے دیش کو ہلا رکھ دیا اس کیمپ میں نا تو اچھے ڈاکٹر تھے اور نہ اچھی دوائیں ۔چونکانے والی حقیقت یہ سامنے آئی کہ دوا کے نام پر زہر دیا گیا اور اب سوال اٹھ رہا برسوں سے بک رہی اسپرن کی گولیاں کھا کر کتنے لوگ مرے ہونگے ؟شاید ان کی موت کیلئے کبھی اس دوا کو ذمہ دار مانا ہی نہیں گیا ۔دواؤں کی جانچ نہ ہوتی تو یہ راز نہ کھلتا ۔چھتیس گڑھ کے ہیلتھ سیکریٹری ڈاکٹر الوک بھلہ نے کہا کہ پینڈاری اور گوریلا پینڈرا کے نسبندی کیمپ میں عورتوں کو میسرز مہاور دھامی پرائیویٹ لمیٹیڈ کی اسپرن 500 گولیا کھانے کے بعد الٹیاں ہوئیں جو جان لیوا ہوئیں اس کمپنی کیخلاف مقدمہ درج کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ۔ہیلتھ سکریٹری نے مقامی لیب میں جانچ کے بعد دعوا کیا ہے کہ اسپرن 500 میں زہریلا زنک فاسٹفیٹ ملا ہوا تھا جس کا استعمال چوہا مارنے کی دوا میں ہوتا ہے حالانکہ کی ان کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کے لیب میں اس جانچ کے بعد ہی نتیجے میں پہنچا جا سکتا ہے ابھی تک چھتیس گڑھ کی دوا دکانوں سے 43 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط ہو چکی ہیں ۔یہ انتہائی دکھ بات ہے کہ گھٹیا دواؤں کی اس سپلائی کمپنی کو اپنے پروڈکٹ کی خراب کوالیٹی کی وجہ سے پہلے بھی کارروائی کا سامنا کر ناپڑا تھا ۔ریاستی حکومت نے انکوائری بٹھا کر فوری طور پر ڈاکٹروں کو معطل کر دیا ہے اور ان کے مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے متوفی خاندان کو 2 لاکھ روپے بطور معاوضہ دیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ سے بات کر کے پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کر نے اور ایکشن لینے کو کہا کہ وزیر اعلی نے مانا ہے کہ کیمپ میں لاپرواہی ہو ئی ہے بلاس پور چھتیس گڑھ کارروائی ہوئی ہے کہ وزیر صحت امر اگروال اسمبلی حلقہ ہے چھتیس گڑھ کانگریس کے پردھان بگھیل نے کہا شرما رائے کانڈ اور بانگ بہیڑا سے سبق نہ لیتے ہوئے وزیر اعلی نے محکمہ صحت امر اگروال کو سونپا ہے ۔الزامات سے گھرے شخص کو وزیر صحت بنا کر وزیر اعلی نے سرکار کی نیت ظاہر کر دی ہے ۔نقلی دواؤں کالا دھندہ پورے دیش میں چل رہا ہے اور پیشوں کے خاطر انسان کی زندگی کی قیمت کتنی گر گئی ہے چونکانے والی بات یہ ہے کہ قصوار لوگوں کو سخت سے سخت سزا ملی تا کہ ایسے جرائم پیشہ لوگوں میں ڈر پیدا ہو ۔کوالیفائڈ ڈاکٹروں کوبھی کمی ہے ایسے کیمپوں تبھی لگایا جائے جب پورا انتظام ہو ۔حالانکہ ڈاکٹر وں سے زیادہ دواؤں کی جانچ کرنا سرکار کا کام ہے جس میں چھتیس گڑھ کی حکومت پوری طرح ناکام ہوئی ہے۔
انل نریندر 

بالی ووڈ میں مرد میک اپ آرٹسٹوں کی بالادستی ختم !

سپریم کورٹ نے 59 سال سے جاری مردوں کے ایک طرفہ منوپلی کو ختم کرتے ہوئے بالی ووڈ میں خواتین میک اپ آرٹسٹوں کے کام پر پابندی ہٹا دی ہے اس سیکٹر میں مردوں کی بالادستی کی لمبی روایت نے اب تک فلمی سیٹوں پر عورت میک اپ آرٹسٹوں کا راستہ روکا ہوا تھا صرف عورتیں ہےئر کٹنگ کرنے کی کام کی چھٹ تھی ۔بالی ووڈ کی یونین نے مردوں کی روز مرہ زندی پر پڑنے والے اثر حوالہ دیتے ہوئے اب تک مہلا میک اپ آرٹسٹوں کے کام کرنے پر پابندی لگائی ہوئی تھی سپریم کورٹ نے روک ہٹا تے ہوئے کہا کہ ہم 2014 کے دور میں ہیں 1935 کے دور میں نہیں سینئر عدالت نے کہا کہ فلم کاسٹیو م میک اپ آرٹسٹ اینڈ ہےئر ڈریسرز ایسویشن خود اس بارے میں ہٹا دے تو بہتر ہوگا عرضی گذار چارو کھورانہ نے کہا کہ اسے ایسویشن کے قاعدوں کو چنوتی دی تھی اس کے قاعدوں میں فلم انڈسٹریز میں صرف مردوں کو بھی میک اپ آرٹسٹ بننے کا اختیار دیا گیا تھا ۔غور طلب ہے کہ ریاستی حکومت نے بھی اس قاعدے کو ہٹانے کیلئے ایسویشن سے کہا تھا لیکن اس نے نہیں مانا جنوری 2013 کو نو مہلا میک اپ آرٹسٹوں نے عدالت میں عرضی دائر کی تھی ان کی شکایت تھی کہ بالی ووڈ کے طاقتور یونین انہیں میک اپ آرٹسٹ کام کرنے نہیں دے رہی ہے جسٹس دیپک مشرا اور یویو للت کی بنچ نے کہا کہ اب تک اس طرح کا امتیاز کیسے جاری ہے ۔عدالت اس کی اجازت قطعی نہیں دے سکتی ۔ہمارے آئین میں بھی اس کی اجازت نہیں ہے میک اپ آرٹسٹ کا کام مرد ہی کیوں کریں؟ اگر عورت میک اپ آرٹسٹ قابل ہے تو ایسے کوئی وجہ نہیں ان کے کام کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ عدالت نے فلم کاسٹیوم میک اپ آرٹسٹ اینڈ ہےئر ڈریسرز ایسویشن کو حکم دیا ہے کہ وہ مرد میک اپ آرٹسٹو پر لگائی پابندی کو فوراً ختم کرے ججوں نے کہا کہ ہم 1935 میں نہیں ہیں بالکہ 2014 میں جی رہے ہیں ایسے رواجوں ایک دن میں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا عرضی گذار کھوارنہ کہتی ہے کہ انہوں نے میک اپ ٹریننگ کیلی فورنیا اسکول سے لی لیکن بالی ووڈ میں انہیں کام کرنے نہیں دیا کھورانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ میں نے کچھ فلموں میں کا م تو کیا ہے لیکن تجربہ کافی برا رہا یہاں کی یونین بیحد طاقتور اور دبنگ ہے فلم میں مہلا میک اپ آرٹسٹ کے کام کرنے کی خبر ملتے ہی وہ اس فلم پر روک لگادیتے ہیں پروڈیوسروں کو جرمانہ بھی بھرنا پڑتا ہے وہ بتاتی ہے کہ ایسی کئی مہلا میک اپ آرٹسٹ ہیں جو بالی ووڈ میں کام کرنا اچاہتی ہیں ادارکارؤں لیڈی آرٹسٹ کو بھی ان سے میک اپ کاروانے میں سہولت رہتی ہے فلموں میں کام پانے کی کوشش کرنے والی کئی لیڈی میک اپ آرٹسٹوں کے ساتھ مار پیٹ تک ہو سکتی ہے پانچ سال تو انصاف پانے لگے لیکن اب آگے کا راستہ کھل جائے گا ۔
انل نریندر

18 نومبر 2014

جسٹس مدگل کمیٹی کے انکشاف سے کرکٹ دنیا میں مچی کھلبلی!

جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں آئی پی ایل اسپارٹ فکسنگ معاملے کی جانچ کے لئے قائم جسٹس مدگل کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ اس کے جو نتیجے سامنے آئے ان سے صاف ہے کہ بی سی سی آئی کے متنازعہ چیئرمین این سرینواسن اور ان کے داماد گوروناتھ میپن راجستھان رائلس کے معاون مالک راج کندرا اور آئی پی ایل کے سی ای او سندر لکشمن اس گھوٹالے میں شامل ہیں۔ مدگل کمیٹی کی رپورٹ میں ان شخصیتوں کا نام آنا ظاہر کرتا ہے کہ مہذب کھیلے کہے جانے والے کرکٹ کے انتظام میں کیسا کیسا غیر اخلاقی گیم چل رہا ہے۔بڑی عدالت کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہے جس میں پورا امکان ہے کہ کرکٹ کو داغدار کرنے میں ملوث کچھ کھلاڑیوں کے نام بھی سامنے آجائیں۔ مدگل کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان کے مشتبہ رول کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور یہ انکشاف ہوتے ہی بورڈ نے بی سی سی آئی کے آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف 20 نومبر کو ہونے والی میٹنگ بلکہ چناؤ بھی ٹال دئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس انکشاف سے ہندوستانی کرکٹ میں بڑا طوفان آنے والا ہے اور اس کھیل کے بھروسے اور مقبولیت پر الٹا اثر پڑے گا۔ کرکٹ کے وقار اور ناظرین کے بھروسے سے کھلواڑ کرنے والے ان غیر آئینی کھیل کا انکشاف ہونا چاہئے۔ دوسری طرف الزامات کے گھیرے میں آنے کے بعد این سرینواسن بورڈ پر اپنا قبضہ بنائے رکھنے کے لئے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں اور ان کے اس کھیل میں بورڈ کے کچھ سینئر عہدیداران ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ بورڈ کا آئین کہتا ہے کہ 30 ستمبر سے پہلے اے جی ایم ہونا ضروری ہے۔ ورکنگ کمیٹی کی پچھلی میٹنگ میں جس میں این سرینواسن بھی شامل ہوئے تھے، اے جی ایم کی 20 نومبر کو یہ سوچ کر تاریخ رکھی گئی تھی کہ شاید ان کا اور ان کے داماد کا نام رپورٹ میں شامل نہ ہو۔لیکن نتیجہ الٹا آنے کے بعد سرینواسن خیمے کے طوطے اڑ گئے۔ معاملے کی اصلی سماعت24 نومبر کو ہونی ہے اس لئے ان لوگوں نے یکطرفہ طور پر اے جی ایم کو ٹال دیا ہے۔ کورٹ نے این سرینواسن کے چناؤ لڑنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس لئے وہ چناؤ آگے بڑھا کر اپنے لئے یا اپنے کسی وفادار کیلئے راستہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک ٹھوس معاشی دلیل یہ ہے کہ کرکٹ اب کھیل سے زیادہ کاروبار بن چکا ہے اس سے ملک گیر رسوخ اور کروڑوں کی پراپرٹی حاصل ہونے لگی ہے۔ ایسے میں اسپاٹ فکسنگ نہ صرف ایک گھوٹالہ ہے بلکہ اس مقبول کھیل کی ساکھ اور بھروسہ بچانے کے سلسلے میں بھی دیکھا جانا چاہئے۔ یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ این سرینواسن نے شروع سے ہی اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ سرینواسن نے اپنی من چاہی جانچ کمیٹی بنا کر پورے معاملے پر لیپا پوتی کی ہے۔ بھلا ہو عدلیہ کا جس نے نہ صرف بی سی سی آئی کی جانچ کمیٹی کو غیر قانونی ٹھہرایا ہے بلکہ سپریم کورٹ نے جانچ کی ذمہ داری جسٹس مدگل کو سونپ کر پوری سچائی سامنے آنے کا کردار طے کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سرینواسن سمیت جن شخصیتوں کے نام جانچ میں سامنے آئے ہیں ان پر کیا کارروائی ہوتی ہے۔ آئی پی ایل کے قاعدے قواعد میں یہ بات تھی کہ اگر کوئی ٹیم کا مالک مینجمنٹ سے جڑا شخص فکسنگ یا سٹے بازی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس ٹیم کو مقابلے سے باہر کردیا جائے۔ ضروری ہے کرکٹ کو بدنام کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث منتظمان اور ٹیم مالکوں اور کھلاڑیوں پر بیحد سخت کارروائی ہو تاکہ مستقبل میں کوئی کرکٹ کی ساکھ سے کھلواڑ کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔
(انل نریندر)

سنندا پشکر کی موت کا معمہ گہرا ہوا!

سابق مرکزی وزیر اور کانگریسی لیڈر ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی موت کی جانچ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔ سنندا پشکر کی موت زہر سے ہوئی تھی۔ یہ پچھلے دنوں پولیس کو سونپی گئی میڈیکل رپورٹ میں میڈیکل بورڈ نے بتایا ہے لیکن زہر سنندا نے خود کھایا یا کسی نے کھلایا۔ زہر کس کیمیکل سے بنایا گیا ہے اس کا پتہ میڈیکل بورڈ نہیں لگا سکا۔ خیال رہے کہ سنندا پشکر کی لاش دہلی کے ایک عالیشان ہوٹل میں برآمد ہوئی تھی۔ بورڈ نے 12 صفحات کی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ زہر میں ایسے کئی کیمیکل ہیں جن کا پتہ فورنسک ماہرین بھی نہیں لگا سکتے۔ کئی کیمیکل پیٹ میں جانے کے بعد زہریلی شے بن جاتے ہیں۔ ہندوستانی لیب اتنے ایڈوانس نہیں ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھنے لگے تھے کہ میڈیکل سے متعلق جانکاری رکھنے والے شخص نے تو سنندا کا قتل نہیں کیا؟ بورڈ نے مانا کے دیش میں ایسی تکنیک کی کمی ہے جس سے زہرکی جانچ کے وقت یہ پتہ لگایا جاسکے کہ اس میں کیا کیمیکل ملا ہوا تھا۔ ایسے کئی کیمیکل ہیں جن کا لوگ استعمال کرتے ہیں۔ مفاد عامہ کا خیال رکھتے ہوئے ان کا تذکرہ نہیں کیا جاسکتا۔ میڈیکل بورڈ میں ایمس کے فورنسک محکمے کے چیئرمین ڈاکٹر سدھیر گپتا ایڈیشنل پروفیسر ڈاکٹر آدیش کمار و سینئر ریزیڈینٹ ڈاکٹر ششانت پنیا شامل تھے۔ دہلی پولیس نے مبینہ طور سے دوبئی اور پاکستان سے 17 جنوری کو بھارت آنے اور وہاں سے جانے والے لوگوں کی فہرست مانگی ہے۔ اسی دن سنندا پشکر کی راجدھانی کے ہوٹل لیلا پیلس میں موت واقع ہوگئی تھی۔ پولیس کے اس قدم سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ اس قتل میں کسی باہری شخصیت کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس سنندا پشکر کے وسرا کی جانچ لندن میں کرانے پر بھی غور کررہی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ اگر انہیں زہر دیا گیا ہے تو یہ کون سا زہر تھا؟ پولیس کے پاس امریکہ میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایس بی آئی) کی لیباریٹری میں وسرا بھیجنے کا متبادل ہے۔ جہاں سی بی آئی خاص معاملوں کی جانچ کے لئے رابطہ قائم کرتی رہی ہے۔غور طلب ہے کہ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا تھا کہ سنندا پشکر کو روس کا کوئی شخص زہر دے گیا تھا۔ لیکن اس پر ششی تھرور نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ سوامی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ دوبئی اور پاکستان سے آنے جانے والے لوگوں کے نام کی فہرست دہلی پولیس اس لئے چاہتی ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرسکے کہ17 جنوری کو آئے لوگ دہلی کے اس پانچ ستارہ ہوٹل میں تھے یا نہیں۔ اس کے ساتھ پولیس اس بات کی جانکاری چاہتی ہے کہ 17 جنوری یا ایک دو دن آگے پیچھے کوئی شخص آئے گئے تھے یا نہیں؟ امید کی جانی چاہئے اس معاملے میں آخر کار سچائی سامنے آئے گی اور یہ فیصلہ کن طور سے پتہ چل سکے گا سنندا پشکر نے خودکشی کی تھی یا خود زہر کھایا یا پھر ان کو ماراگیا؟
(انل نریندر)

16 نومبر 2014

مدرسوں میں جہادی تعلیم سے خفیہ ایجنسیوں کا انکار!

دیش کے زیادہ تر مدارس میں جہاد کی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ کہنا ہے دیش کی خفیہ ایجنسیوں کا۔ وزارت داخلہ نے اپنی تمام سکیورٹی ایجنسیوں سے ملی رپورٹس کی بنیاد پر مدرسوں کو لیکر ایک اندرونی رپورٹ تیار کرائی ہے۔ اس کے مطابق ہندوستانی مدرسوں کا جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے دارالعلوم دیوبند ،اہل حدیث ،جماعت اسلامی اور بریلوی مسلک کے تحت چل رہے مدارس سے کوئی جہادی سرگرمی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہاں زیر تعلیم طلبا کو اس طرح کا کوئی سبق دیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اداروں کے مدارس اپنی اسلامی روایات کے مطابق ہی درس دے رہے ہیں۔ حالانکہ سرکار بنگلہ دیش سے ملحق آسام اور مغربی بنگال ریاستوں کے سرحدی علاقوں میں چل رہے مدرسوں کو لیکر ضروری چوکس ہے۔ یہاں کافی مدرسے بنگلہ دیشی شہریوں کے اشتراک سے چل رہے ہیں۔ یہاں کے کئی ٹیچر بھی بنگلہ دیشی ہیں۔ ان مدرسوں کے بارے میں الگ سے رپورٹ تیار ہورہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے بردوان دھماکے کے واقعہ میں ایک مدرسے کے استاد کو بھی مبینہ طور پر ملوث پایاگیا تھا اس کا تعلق بھی بنگلہ دیش سے بتایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا ان کا محکمہ مدرسوں کے استادوں اور دیگر ملازمین سے تفتیش کررہا ہے جو دوسرے ملکوں کے ہیں خاص کر ایسے کئی مدرسے سرحدی علاقوں میں چل رہے ہیں جہاں غیرملکی استاد یا ملازم ہیں۔ ایسے مدرسے پاکستان کی سرحدوں پر بھی چل رہے ہیں۔ مدرسوں پر پچھلے سال سے نظر رکھی جارہی ہے۔ تمام خفیہ ایجنسیوں نے ایک ساتھ ان مدرسوں پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی مدرسے سے ایسی کوئی معلومات نہیں حاصل ہوئی جو کسی بھی طرح سے قابل اعتراض ہو۔ افسر کا کہنا ہے مغربی بنگال، یوپی ، بہار اور کیرل کے مدرسوں نے اپنا رجسٹریشن کرایا ہوا ہے۔ دیگر ریاستوں میں مدرسوں کاکوئی رجسٹریشن نہیں ہے۔ زیادہ تر مدرسوں میں اساتذہ مقامی لوگ ہیں ان میں سے کسی میں بھی قابل اعتراض حرکتیں یا باتیں سننے کو نہیں ملی ہیں۔ غور طلب ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ انجمنوں نے اس طرح کے الزام لگائے تھے کہ دیش میں چل رہے مدرسوں میں دہشت اور جہاد کی تعلیم دی جارہی ہے لیکن خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھیجی رپورٹ میں اس الزام سے انکار کیا گیا ہے۔ہمیں ان پر بھروسہ کرنا ہوگا کیونکہ اس وقت وزارت داخلہ کے انچارج سرکردہ لیڈر راجناتھ سنگھ ہیں اور دیش میں نریندر مودی کی سرکار ہے حالانکہ خفیہ ایجنسیوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ کچھ مدرسوں میں غیرملکی ٹیچر نقلی شناختی کارڈ کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔ سرکار کے پاس جو اعدادو شمار ہیں اس کے مطابق بنگلہ دیش کی سرحد پر قریب 1700 مدرسے چل رہے ہیں۔یہ سبھی مدرسے مغربی بنگال ، آسام، تریپورہ اور میگھالیہ میں پڑتے ہیں اور یہ سبھی بین الاقوامی سرحد سے محض20 کلو میٹر کے دائرے میں واقع ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ بیروز گاری کی وجہ سے اس طرح کے مدرسے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان مدرسوں میں بغیر کسی سلیبس یا پروگرام کی بنیاد پر تعلیم نہیں دی جاتی۔
(انل نریندر)

اکیلے روہت شرما سے ہاری پوری سری لنکائی ٹیم!

رنوں کی سیاہی اور چوکوں کی قلم اور چھکوں کی عبارت سے ونڈے کرکٹ کی تاریخ نئے سرے سے کولکاتہ کے ایڈین گارڈنس میں لکھی گئی ہے۔ سری لنکا کے خلاف بھارت کے روہت شرما کے بلے سے نکلنے والے طوفانی رنوں سے تمام ریکارڈ ٹوٹتے چلے گئے۔ سری لنکا کے خلاف چوتھے ونڈے مقابلے میں رنوں کی یہ آندھی رکی تو روہت نے ونڈے کی سب سے بڑی پارٹی اپنے نام کرڈالی۔کچھ پاریاں ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ میں یادگار بن جاتی ہیں اور ناظرین کے دل و دماغ میں ایک نایاب چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک پاری کرکٹر روہت شرما نے جمعرات کو کولکاتہ کے ایڈین گارڈن میں سری لنکا کے خلاف چوتھے ونڈے میچ کے دوران کھیلی۔ انہوں نے 264 رنوں کی ریکارڈ پاری کھیلیں۔ ایڈین گارڈن کے تاریخی اسٹیڈیم میں روہت نے ونڈے کی تاریخ کی سب سے بڑی پاری کھیل کر اپنا نام سنہرے الفاظ میں درج کرالیا۔ روہت نے 173 گیندوں کی پاری میں33 چوکے،9 چھکے مارے۔5 جنوری1971ء میں جب ونڈے کی تاریخ کاپہلا میچ کھیلا گیا تھا تب شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ محدود اووروں کے اس خاکے میں کوئی بلے باز 200 رنوں کا نمبر پار کرسکے گا۔ لیکن اس نظریئے کو کرکٹ کے بھگوان سچن تندولکر نے 2010ء میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف ناٹ آؤٹ 200 رن کی پاری کھیل کر توڑ دیا تھا۔ سچن نے جہاں ونڈے میں دوہری سنچری کے ریکارڈ کوتوڑا وہیں روہت شرما نے ونڈے تاریخ میں میل کا پتھر قائم کیا اور 250 رنوں کا نشانہ پار کر پہلے بلے باز بنے۔روہت کی اس پاری نے ونڈے کرکٹ کو ایک نئے مقام پر لاکر کھرا کردیا جہاں اب 300 رنوں کی پاری ان کے لئے کوئی مشکل نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ روہت کی یہ پاری اس لئے بھی خاص مانی جاتی ہے کیونکہ انگلی کی چوٹ کے سبب وہ اس سیریز میں اپنا میچ کھیل رہے تھے۔ یہ پاری اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ انہوں نے ونڈے میں دوسری بار دوہری سنچری لگائی اور ایسا کرنے والے وہ پہلے بلے باز بن گئے ہیں۔ مستقبل میں کرکٹروں کے لئے روہت نے ایک ایسی لائن کھینچ دی ہے جسے پارکر ایک نئی تاریخ بنانا ہوگا۔روہت نے اس پاری کے دوران ونڈے میں سب سے زیادہ شخصی طور پر پاری کے ہموطن ویریندر سہواگ کے 219 رنوں کے ریکارڈ کوتوڑا جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف2011ء میں یہ ریکارڈ بنایا تھا۔
روہت کو اتنی لمبی پاری کھیلنے میں سری لنکا نے بھی مدد دی۔جب انہوں نے روہت کو دو بار جیون دان دیا۔ پہلا کیچ کو تب ڈراپ ہوا جب روہت 4 رن پر تھے۔روہت کی اس طویل پاری کو یاد کیا جائے گا۔ چمنڈا ایرونگ کی گیند پر تھرڈ مین پر کھڑے تیسارا پریرا کو بھی یاد کیا جائے گا جنہوں نے آسان سا کیچ چھوڑدیا۔ روہت نے پورے50 اوور تک بلے بازی کی اور پاری کی آخری گیند پر ایک اور چھکا مارنے کی کوشش میں بانڈری لائن پر کیچ ہوگئے۔ یہ ضروری نہیں تھا وہ ناٹ آؤٹ بھی رہ سکتے تھے۔ ہم روہت شرما کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں انہوں نے دیش کی شان کو چار چاند لگا دئے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...