Translater

15 دسمبر 2019

آخر حافظ سعید پر کس گیا شکنجہ

پاکستان نے بدھوار کو آخری بار ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جمعتہ الدوہ کے چیف حافظ سعید پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے مالی کاروائی ٹاسک فورس کے دباﺅ کے بعد لاہور کی دہشتگردی انسداد عدالت نے آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی سعید پر دہشتگردی کے خلاف مالی فراہمی کے معاملے میں الزامات طے کر دئے ہیں سعید کے علاوہ اس کے تین ساتھیوں پر بھی الزامات طے کئے گئے ہیں پنجاب پولس کے دہشتگردی انسداد محکمے نے 17جولائی کو سعید اور اس کے ساتھیوں پر ایف آئی آر درج کی تھی اورسعید کو گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ لاہور کی کورٹ لکھ پت جیل میں بند ہے ۔معاملے لاہور ،گجراوالہ اور ملتان میں اس کی مختلف مالی ٹرسٹ کی بھی نگرانی کی گئی اور ان ٹرسٹوں کے ذریعہ سے دہشتگردوں کو پیسہ دینے کے لے عطیات اکھٹے کر نے کے مقدمے درج کئے گئے ہیں پاکستان کی عدالت میں سعید کے خلاف الزامات طے ہوئے ہیں تو اب امکانات یہی ہے کہ اس کے پیچھے وہاں کی حکومت کی قوت ارادی کم اور بین الا اقوامی دباﺅ زیادہ رہا سنیچر کو اسی عدالت میں جس طرح کے حالات بنے اس سے یہ اندیشہ کھڑا ہو گیا تھا کہ حافظ سعید کو رعایت دینے کے لے زمین بنائی جا رہی ہے کیونکہ متعلقہ افسر انتہائی پرفائل معاملے کی سماعت میں بھی ایک معاون ملزم کو پیش کرنے میں ناکام رہے تھے ۔حافظ سعید اور دہشتگردی کے سلسلے میں شاید ہی کوئی ثبوت چھپا رہا خاص طور پر ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں الزام لمبے وقت سے مبینہ طور سے سامنے تھے اس واردات سمیت دوسری آتنکی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو حافظ سعید کی انجمنوں نے پیسے میہا کرائے تھے اور اہم سازشی بھی کہا تھا لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ جس حملے میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے اس کے ذمہ دار ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس پہل نہیں کی جبکہ بھارت کی جانب سے پیش کئے گئے ثبوت اس بات کے صاف گواہ تھے وہ حملہ پاکستان کی آتنی تنظمیوں کی طرف سے کروایا گیا تھا لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ اس کی حد میں آتنکی تنظیموں کو یا آتنکیوں کو پناہ دی جاتی ہے لیکن بڑھتے عالمی دباﺅ میں اس مسئلے پر پاکستان کو دفع میں آنا پڑا دیکھیں اب بھی ایمانداری سے پاک آگے بڑھتا ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...