Translater
23 دسمبر 2023
پاکستان میں چناو ¿ کی الٹی گنتی شروع!
لمبے طویل انتظار کے بعد آخر کار پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام چناو¿ کا پروگرام جاری کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔پاکستان الیکشن کمیشن نے جمع کو دیر رات چناو¿ پروگرام جاری کیا ۔اس سے کچھ گھنٹوں پہلے ہی سپریم کورٹ نے عام چناو¿ کیلئے افسروں کو الیکشن افسر کی شکل میں مقرر کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ملتوی کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو خارج کر دیا تھا ۔الیکشن کمیشن کی نوٹیفکیشن کے مطابق امیدوار ۰۲دسمبر تک اپنی نامزدگی داخل کرسکتے ہیں اور پرچہ داخل کرنے والے امیدواروں کے نام 23 دسمبر کو شائع کئے جائیں گے ان کے دستاویزوں کی جانچ 24 دسمبر سے 30 دسمبر تک کی جائے گی ۔پرچوں کو مسترد یا منظور کرنے کے الیکشن آفیسر کے پرچہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تاریخ 3 جنوری ہوگی۔امیدواروں کی ترمیم شدہ فہرست 11 جنوری کو جاری کی جائے گی ۔امیدواری واپس لینے کی آخری تاریخ 12 جنوری ہے ۔اور پولنگ 8فروری کو ہوگی ۔بتادیں کہ پاکستان میں نئی حد بندی کے بعد نیشنل اسمبلی میں کل 336 سیٹیں ہوں گی ۔اس سے پہلے ان کی تعداد 342 ہوا کرتی تھی ۔پاکستا ں میں صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے چناو¿ کرانے کی کاروائی کو پورا کرنے میں 54 دن کا وقت لگے گا ۔حالانکہ پہلے کی طرح پاکستان میں چناوی ماحول ٹھنڈا ہے ۔توشہ خانہ معاملے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اگلے پانچ سال کے لئے چناو¿ لڑنے سے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔پچھلے کچھ مہینوں سے چناو¿ کمیشن نے پی ٹی آئی (تحریک انصاف ) کو اپنے نشانہ پر لے رکھا تھا اور منتر پارٹی چناو¿ کو متنازعہ اعلان کررد کر دیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے ملک کی چناو¿ کرانے کے لئے پارٹی کو 20 دن کا وقت دیا اور وہ بھی اس ہدایت کے ساتھ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ اپنا چناو¿ نشان ہی کیٹ بیٹ کھو دے گی ۔مانا جا رہا ہے کہ عمران خان کی پارٹی ٹوٹ چکی ہے اور شاید ہی وہ چناو¿ میں کھڑی ہو پائے ۔پاکستان کی دو پارٹیاں قانونی مورچہ پر اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہیں۔عمران خان کے علاوہ نواز شریف کو کئی معاملوں میں 2018/19 میں قصوروار قرار دیا جاچکاہے اور وہ اپنی کلین چٹ پانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔صرف حالات بدلے ہیں ۔پچھلی بار نواز شریف فوج کے خلاف کھڑے تھے اس بار نشانہ پر عمران خان ہیں ۔فوج کو پاکستانی سیاست کا اصلی ٹیم میکر ماناجاتا ہے ۔سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ عمران خان کا مستقبل دھندلا ہے جب کہ نواز شریف اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں ۔اکتوبرمیں جب سے نواز شریف پاکستان لوٹے ہیں کوئی بڑی ریلی نہیں کی ہے ۔چناو¿ سے پہلے وہ اپنے سارے کیس نمٹانے میں لگے ہیں ۔چناو¿ کمیشن لگاتا ر سخت رویہ اپنا رہا ہے ۔اور کہہ رہا ہے کہ چناو¿ طے وقت پر ہی ہوں گے لیکن لگتا ہے کہ لوگوں نے بھروسہ کھو دیا ہے ہم نے پہلے کی پارلیمنٹ معطل ہونے کے 90 دنوں کے اندر چناو¿ کرائے جانے کی میعاد کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے لوگوں کو بھروسہ نہیں ہے ۔ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے اپوزیشن اور سرکار سے لوگوں کا دل ٹوٹ گیا ہے ۔ہوسکتا ہے چناو¿ قریب آتے آتے سیاسی ماحول گرم ہو جائے لیکن فی الحال پاکستان میں چناوی ماحول ٹھنڈا ہے ۔
(انل نریندر)
اپوزیشن سے آزاد پارلیمنٹ!
پیر کو اپوزیشن کے 78 ممبران پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا تھا ،منگل کو ایک بار پھر لوک سبھا سے 49 ایم پی کو معطل کر دیا گیا۔پچھلے ہفتے 14 ایم کو ملا لیں تو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں معطل ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 141 پہونچ گئی تھی ۔ان سبھی ایم پیز کو موجودہ سیشن کی باقی میعاد کے لئے معطل کیا گیا تھا۔سرکار کا کہنا ہے کہ ان ممبران پارلیمنٹ نے اپنی مانگ کی حمایت میں پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا اور کام کاج میں رخنہ ڈالا ۔ہاو¿س میں کام کاج نہ ہونے دینے کی وجہ سے ان ممبران کو معطل کیا گیا۔حالانکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی سرکار من مانی پر اتر آئی اور وہ بے حد اہم بلوں کو بغیر بحث کے من مانے ڈھنگ سے پاس کرانا چاہتی ہے اس لئے وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ممبران کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔مودی سرکار اپوزیشن سے آزاد دیش کی بات اس لئے کرتی ہے تاکہ اپنی من مانی کر سکے ۔کانگریس نے اسے پارلیمنٹ اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے ۔اپوزیشن کا کہنا ہے سرکار اپوزیشن سے آزاد پارلیمنٹ چاہتی ہے تاکہ اہم بلوں کو من مانے طریقے سے پاس کرا سکے۔سرکار پارلیمنٹ کی حفاظت کو نظر ا نداز کر لوگوں کی توجہ بھٹکانے کا کام کررہی ہے ۔دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ سرکار تو اہم بلوں کو پاس کرنے سے روکنے کے لئے اپوزیشن کی سوچی سمجھی سازش تھی ۔اپنے اس نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین بے عزتی کرنے کا الزام لگایا ۔ترنمول کانگریس کے چیف اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مودی سرکار بے حد من مانہ رویہ دکھا رہی ہے اسے ایوان چلانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رہ گیا ہے ۔سرکار ڈری ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا اگر ان کے پاس اکثریت ہے تو اپوزیشن سے کیوں ڈر رہی ہے ۔پارلیمنٹ میں ایم پیز کے نہ رہنے پر لوگوں کی آواز کون اٹھائے گا۔سرکار اس طرح کے قدم اٹھا کر جنتا و جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے ۔مودی اور امت شاہ لوگوں کو ڈرا کر جمہوریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔سپا سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ ڈمپل یادو کا معاملہ نظیر ہے ۔وہ تو اپنی سیٹ سے بھی ہلی نہیں تھی بلکہ وہاں کھڑی تھی لیکن انہیں بھی معطل کر دیا گیا۔بات اتنی سی ہے کہ اپوزیشن 13 دسمبر کو پارلیمنٹ پر حملے کی برسی پر پھر سے تاریخ دہرائے جانے کی طاق میں ہوئی قواعد پر سرکار سے وضاحت مانگ رہی تھی سرکار جو زبردست اکثیرت میں ہے ۔اسمبلیوں میں بھی جس کی لہر چل رہی ہے وہ پارلیمنٹ میں بات چیت کو لیکر بہت کم فکر میں دکھائی دیتی ہے اسے اپوزیشن سرکار کا ڈرانے والا برتاو¿ کہتی ہے ۔پارلیمنٹ کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی معطلی ہے ۔ایم پی کا سوال سرکار کو مانناہوتا ہے جو اقتدار و اپوزیشن کے تعاون سے ہی ممکن ہوتی ہے لیکن اکثریت کی ذمہ داری اس میں سب سے زیادہ مانی گئی ہے لیکن جس طرح سے منظم طریقے پر کثیر تعدا میں ممبران پارلیمنٹ کی معطلی ہو رہی ہے اس سے یہ ذمہ داری بھاگنا ہی نظر آتا ہے یہ دلیل محدود معنی میں ٹھیک ہو سکتی ہے کہ لوک سبھا اسپیکر نے جب کہہ دیا کہ اس کی جانچ کی جا رہی ہے تو اپوزیشن کو خاموش ہو جانا چاہیے تھا لیکن اس سے سرکار کی جوابدہی ختم نہیں ہو جاتی ۔اگر پارلیمنٹ میں وزیراعظم یا وزیر داخلہ دو لائن کا بیان دے دیتے تو سارا معاملہ ٹل سکتا تھا ۔
(انل نریندر)
21 دسمبر 2023
زبردست شکست سے کوئی سبق لے گی کانگریس!
حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں تین ریاستوں میں ملی زبرست شکست سے کانگریس کچھ سبق لے گی ؟ اس شکست کے بعد کانگریس نے ذمہ داری طے کرتے ہوئے تبدیلی شروع کر دی ہے ،ایسے اشارے آنے لگے ہیں اس کا آغاز مدھیہ پردیش سے ہوا ہے ۔پارتی کے سینئر لیڈر ہار کے اہم ذمہ دار کملناتھ اور دگوجے سنگھ کے دائرے سے باہر نکلتے ہوئے تیز ترار لیڈر جیتو پٹواری کو پردیش کانگریس تنظیم کی زمہ داری سونپی گئی ہے ۔جیتو پٹواری کی گنتی پردیش کانگریس کے ان لیڈروں میں ہوتی ہے جو کمل ناتھ ،دگوجے سنگھ کسی کے خیمے میں نہیں ہے ۔وہ پارٹی کی لیڈرشپ کے بھروسہ مند ہیں اور نوجوانوں کو پارٹی کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں اس کے ساتھ وہ سبھی لیڈروں کو ساتھ لیکر چلنے میں یقین رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے پردیش کانگریس میں نسلی تبدیلی کرتے ہوئے صدر کے عہدے کے لئے جیتو پٹواری پر بھروسہ جتایا ہے ۔مدھیہ پردیش میں بھاجپا کو موہن یادو کو وزیراعلیٰ بنانے کے بعد کانگریس پر تبدیلی کا دباو¿ بڑھ گیا تھا ۔کانگریس نے تبدیلی کے ساتھ ذات برادری کے تجزیوں کا بھی خیال رکھنے کی کوشش کی ہے ۔جیتو پٹواری او بی سی برادری سے ہیں ۔وہی نیتا اپوزیشن کا عہدہ سنبھالنے والے ڈیمنگ سنگر بڑے وفادار لیڈر ہیں ۔اور ڈپٹی لیڈر ہیمنت کراکے براہمن چہرہ ہیں ۔پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ کانگریس لیڈر شپ کے جس انداز میں مدھیہ پردیش میں تبدیلی کی ہے ،اس سے صاف ہے کہ پارٹی اب گروپ بندی سے باہر نکل کر نئے لوگوں کو موقع دینا چاہتی ہے ۔امید ہے کہ پارٹی راجستھان میں بھی سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور سینئر لیڈر سچن پائلٹ کو بھی صاف اشارہ دیتے ہوئے فیصلہ لے گی۔پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھلے ہی بھاجپا بھاری اکثریت سے تین ریاستوں میں جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ہو لیکن انتخابات میںکل ووٹ کانگریس کو زیادہ ملے ہیں ۔ہندوستانی الیکشن کمیشن کے اعداد شمار کے مطابق کانگریس کو بھاجپا سے قریب دس لاکھ ووٹ زیادہ ملے ہیں ۔اس کے پیچھے اہم وجہ تلنگانہ میں کانگریس کو ملی شاندار جیت ہونا بھی بتایا جاتا ہے الیکن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجودہ اعداد شمار کے مطابق بھاجپا کو پانچ ریاستوں میں کل چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش،راجستھان ،تلنگانہ ،میزورم میں چار کروڑ اکیساسی لاکھ اڑسٹھ ہزار چھ سو ستاسی ووٹ ملے جبکہ کانگریس کو ان ریاستوں میں کل چار کروڑ بانوے لاکھ چوبیس ہزار ووٹ ملے ۔اس حساب سے کانگریس کو دس لاکھ پچپن ہزار تین سو تیرہ زیادہ ووٹ ملے ۔دراصل چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھاجپا کو زبرست جیت حاصل ہوئی ۔لیکن ووٹوں کا فرق زیادہ نہیں رہا لیکن تلنگانہ میں کانگریس کو زبردست جیت ملی ۔یہاں پر بھاجپا تیسرے نمبر پر رہی ۔یہی وجہ ہے کہ پانچوں ریاستوں میں ملے ووٹوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس بھاجپا سے آگے نکل گئی ۔میزورم میں چالیس اسمبلی سیٹوں میں ایک لاکھ چھیالیس ہزار ایک سو تیرہ یعنی 20.82 فیصدی ووٹ پاکر کانگریس کو ایک سیٹ پر جیت ملی ہے ۔جبکہ بھاجپا 35 ہزار 524 یعنی 05.06 فیصدی ووٹ پاکر نمبر دو پر رہی ہے اور جیتنے میں کامیاب رہی ۔
(انل نریندر)
ناخوش سی جی آئی بولے !الزام لگانا آسان ہے!
معاملوں کو درج فہرس کو لیکر پیدا تنازعہ سے ناخوش چیف جسٹس آف انڈیا ڈی ایس چندر چور کا کہنا ہے کے الزام لگانا اور خط لکھنا بہت آسانا ہے انہوںنے صاف کیا بیماری کی وجہ سے جسٹس اے ایس بوپنا کے دستیاب نا ہونے کی وجہ سے منی لانڈرنگ کے معاملے میںعاپ لیڈر ستیندر جین کی ضمانت عرضی کو جسٹس بیلا تریویدی کی بینچ کے سامنے درجہ فہرس کیا گیا 2 سینئر بار کے ممبر دشنت دوبے ،پرشانت بھوشن نے جسٹس چندر چور کو الگ الگ خطوط لکھ کر معاملوں کو سماعت کی فہرس میں مبینہ گڑبڑی کا معاملہ اٹھایا ہے اور ان کہنا ہے کے عرضیوں کو جس بینچ کے ذریعہ سنا جانا مقرر ہے اسے پلٹ کر بھیجا جا رہا ہے اس نا گذیںتنازعہ کے سلسلہ میں چیف جسٹس نے یہ رائے زنی کی ہے انہوںنے جین کی طرف سے پیش ہوئے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کی اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جس میں دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی ضمانت عرضی ہر جسٹس تریویدی کی بینچ کے ذریعہ کی جانے والی سماعت کو ملتوی کرنے کا درخواست کی تھی چیف جسٹس نے کہا متعلقہ جج ہی فیصلہ لیں گے اور الزام لگانا اور خط لکھنا بہت آسان ہے جسٹس اے ایس بھوپنا کے دفتر سے ایک خط آیا ہے جس میں وہ طبیت خرابی کی وجہ سے وہ عدالت نہیں آئے ہیں بھوپنا کا خد کا کہنا ہے کے وہ ان کے ذریعہ سنے گئے سبھی مقدموں کو جزوی طور پر سنا ہوا کی شکل میں نہیں چھوڑا جانا چاہئے چیف جسٹس نے کہا اس لئے جین کی ضمانت عرضی کو جسٹس تریویدی کو سونپا گیا جنہوںنے آخری بار معاملے کو سنا تھا کیوں کہ یہ انترم ضمانت کی معیاد بڑھانے کے لئے عرضی ہے میں نے سوچا کے کے میں صاف کردوں ۔ جسٹس چندر چور نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا بار کے ممبر کا کہنا ہے یہ عجیب ہے کے مجھے یہ خاص جج چاہئے اس لئے عدالت کے کمرے میں موجود سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا ایسے بدنیتی پر مبنی خطوں سے نپٹارے کا واہد طریقہ یہ ہے کے انہیں نظر انداز کر دیا جائے ان پر رائے زنی نہیں کی جانی چاہئے چیف جسٹس نے اس بات کی وضاحت کرنے کے لئے جسٹس بوپنا اور جسٹس بیلا تریویدی کی بیچ کے کچھ پچھلے احکامات کا ہوالہ دیا وہ چاہتے تھے کے جین کے معاملے میں اس کو تزوی طور سے سنے معاملے کو خیالی نا رکھا جائے انہوںنے کہا بار کا کوئی بھی ممبر یہ کہہ رہا ہے کے اس اہم کیس کو جسٹس سنے اور کسی دیگر جج نا سنے ایسا نہیں ہو سکتا جسٹس بوپنا کو میڈیکل چھوٹی پر جانا پڑا جین کے وکیل نے کہا کے عرضی پر جسٹس تریویدی کی بینچ کے ذریعہ مجوزہ سماعت کو ٹال دیا جانا چاہئے کیوں کہ جسٹس بوپنا جسٹس تریویدی کی بینچ نے معاملے میں کافی دلیلیں سنی تھی اب یہ معاملہ بینچ کے سامنے درجہ فہرست ہے ۔جس میں جسٹس بوپنا شامل نہ ہوں جس جسٹس کے پاس یہ معاملہ ہے وہی اس پر فیصلہ لیں گے ۔
(انل نریندر)
19 دسمبر 2023
سمہا کے وزیٹرس پاس پر ہنگامہ !
پرتاپ سمہا کون ہے جن کے پاس سے لوک سبھا میں پہنچے تھے اور رنگین دھنوا چھوڑنے والے ؟بی جے پی ایم پی پرتاپ سمہا کا نام اب بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ہمیشہ کےلئے درج ہو گیا ہے ۔بدھوار کو پارلیمنٹ میں گھسے 2 لڑکوں سے ملے ان کے پاس پر ایم پی کے ہی دسخت تھے ایک صحافی کی شکل میں چھوٹی عمر سے ہی اپنے خیالات اور اس کے بعد سال 2014 میں میسور کوڈاگو سیٹ سے لوک سبھا چناﺅں چیت کر ایم پی بننے تک انہوںنے کئی کارنامے کئے ہیں گزشتہ 9 برسو کی ایم پی شپ میں سمہا نے نا صرف اپوزیشن بلکہ اپنی پارٹی کے لیڈروں سے بھی ٹکر لی ہے جب کے بی جے پی جےسی ڈسیپلن حامی پارٹی میں ایسا ہونا عام بات نہیں ہے مئی میں بی جے پی کے راجیہ سبھا چناﺅ ہارنے پر پرتاپ سمہا نے بی ایس یدی یورپااور باسو راج بومئی کی سرکار پر انگلی اٹھائی تھی انہوںنے کہا کے پارٹی نے کانگریس کے لیڈروں پر کرپشن کے مبینہ الزامات کی جانچ نہیں کی ان کا الزام تھا کے بی جے پی کی ریاستی حکومت نے کسی معاہدہ کے تحت کانگریس لیڈروں کے خلاف کارروائی نہیں کی بدھ کو پارلیمنٹ میں جو ہوا اس نے پارلیمنٹ کی سکورٹی پر سوال کھڑے کر دئے اب ہر ستح پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور نئے سرے سے پابندیاں لگائی جا رہی ہےں چاہے سکورٹی کا معاملہ ہو یا پھر وزیٹرس پاس کا ہو حالانکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پارلیمنٹ کی سکورٹی انتظام سوالوں کے گھےرے میں ہے ۔پارلیمنٹ میں جانے کا ویزیٹرس پاس کسی بھی ایم پی کے کوٹے کا بنانے کا قائدہ ہے اسی کا فائدہ اٹھاکر دونوں ویزیٹرس گیلری میں پہنچے تھے جہاں سے دونوں لوک سبھا ہاﺅس میں کود گئے اور گرین رنگ کے دھنوے کا استعمال کیا جانچ میں جو باتے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق لوک سبھا میں کودنے والے لڑکوں کے پاس ویزیٹرس پاس تھا جو بی جے پی ایم پی پرتاپ سنہا کے نام سے جاری کیا گیا تھا سمہا نے اس بارے میں اسپیکر سے کہا کے درندازمنورنجن ڈی کے والد اور ان کے واقف کار ہیں اس لئے اسے پاس دے دیا گیا تھا یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کے سبھی ملزم لمبے وقت سے ایم پی میں ہڑدنگ مچانے کا پلان تیار کر رہے تھے سمہا کے دفتر میں بھی یہ اعتراف کیا ہے کے ایک ملزم منورنجن ڈی کے ان کے یہاں ویزیٹرس پاس کے لئے تین مہینے سے چکر لگا رہے تھے اور پاس ویسے لمبے عرصہ سے سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے 2001 میں پارلیمنٹ پر آتنکی حملے کے بعد جے پی سی کمیٹی نے بھی ویزیٹرس پاس کو لیکر سوال کھڑے کئے تھے کہا جا رہا تھا کے نیتا جس طرح سے اپنے لوگوں کے لئے پاس جاری کر رہے ہیں وہ خطرناک ہے ہم نے اس کو لیکر سخت قائدے بنانے کی مان کی ہے جے پی سی کی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئی ہے لیکن اس وقت ذرائع کے حوالے سے چھپی رپورٹ کے مطابق کمیٹی 3-4 اہم سفارشیں لوک سبھا اسپیکر کو سونپ چکی ہے سوال یہ ہے کے اس پورے معاملے میں پرتاپ سمہا کی کتنی غلطی ہے یا پھر ہے معاملہ لوک سبھا سکورٹی کی کوتاہی کا زیادہ ہے ؟(انل نریندر)
کیا بھاجپا میں پیڑھی تندیلی کا دور ہے ؟
بھوپال میں بھارتی جنتا پارٹی کے دفتر میں منگل کے روز پھر ایک بار ورکر چونک گئے 11 دسمبر کو بھی وہ اس وقت بھی حیرانی میں پڑھ گئے جب مدھیہ پردیش میں پارٹی نے اپنے وزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کا اعلان کیا تھا ۔اس ایک دن پہلے بھی چھتیس گڑھ میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کو لیکر پارٹی اعلیٰ کمان میں سب کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔منگل کو راجستھان کی باری آئی کیوں کہ وہاں پر وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان ہونے والا تھا دفتر کے مہمان خانہ میں لگے ٹی وی پر راجستھان کی خبر آ رہی تھی تبھی وسندھرا راجے سندھیا نے بھجن لال شرما کے نام کا اعلان کر دیا بھوپال میں موجود لیڈر اور ورکروں نے کبھی ان کا نام تک نہیں سنا تھا ۔نیتا لوگ آپس میں سوال کر رہے تھے یہ کون ہے بھجن لال شرما ؟پہلے چھتیس گڑھ میں وشنو دیو کے ساتھ پھر مدھیہ پردیش میں موہن یادو اب راجستھان میں بھجن لال شرما کو وزیراعلیٰ بنا دیا ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے چونکانے والی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب مہارت حاصل کر لی ہے ۔غیر مقبول چہروں کو بڑے عہدوں پر ذمہ داری سونپنے کا سلسلہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہی شروع کیا ہے وہ سیاسی مبصرین کی سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ پارٹی کے اس قدم کی الگ الگ انداز سے تشریح کی جا رہی ہے سرکردہ لیڈروں کو درکنار کر پارٹی نے ان نیتاﺅ کے ہاتھوں میں ریاستوں کی کمان سونپی ہے جن کے نام کسی لسٹ میں دور دور تک نہیں تھے جو وزیراعلیٰ کی دوڑ میں بھی نہیں رہے راجستھان کو لیکر تو کمال ہی ہو گیا کیوں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے پہلی بار ممبر اسمبلی بننے والے کسی لیڈر کو وزیراعلیٰ بنا دیا جائےگا ۔راجستھان میں پہلی بار ممبر اسمبلی چنے گئے بھجن لال شرما کو وزیراعلیٰ بنا کر بھاجپا نے سارے اندازوں کو ختم کر دیا کہیں سے بھی اشارے نہیں مل رہے تھے کے وہ گدی کو لیکر چناﺅں میں اترے ہیں ۔چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں جنہیں وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے ان کے پاس بہرحال چناﺅں لڑنے کا پہلے سے لڑنے کا تجربہ رہا ہو مگر بھجن لال کے معاملے میں ساری قیاس آرائیاں ختم ہوں گئی جس طرح سے عام طور پر سیاسی پارٹیاں کام کرتی ہیں یا جیسی روایت رہی ہے اب بھاجپا خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی روایت بدلنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔پارٹی نئے نئے تجربہ کر دہی ہے اور اس کے کئی فیصلے غیر متوقع بھی ہیں ۔جس کا خطرہ کانگریس نے کبھی نہیں مول لیا ۔وہ خطرہ مودہ ،شاہ لے رہے ہیں کانگریس ہمیشہ سے ہی پرانے لیڈروں پر داﺅ لگاتی رہی پارٹی میں نئے لیڈروں کو اپنی جگہ بنانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔مثال کے طور پر کمل ناتھ، اشوک گہلوت ،دگ وجے سنگھ مثال ہیں نئے لیڈر شپ اور نئی پیڑی کو ہمیشہ پیچھے رکھا گیا ہے اس لئے بھی جوترادتیہ سندھیہ کو کانگریس کو الوداع کہنا پڑا پچھلے 10 برسو میں بھاجپا نے پیڑی تبدیلی پر کافی زور دیا ہے اور اسی لئے راجستھان ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں جس طرح وزیراعلیٰ اور نئے وزیراعلیٰ کے ناموں کا اعلان کیا گیا اسے اسی کڑی سے جوڑکر دیکھا جانا چاہئے ۔ایسے چہرے جن کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا یا جن کے نام ریس میں نہیں ہوتے اگر انہیں اہم ترین ذمہ داری دی جاتی ہے تو ہمیشہ کام کے لئے وہ ہمیشہ عہد مند رہتے ہیں اور انہیں رموٹ سے چلایا جا سکتا ہے اب دیکھنا ہے کے مستقبل کے سینئر لیڈروں کا اس حساب سے کیا مستقبل ہوگا ؟(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...