Translater

24 دسمبر 2016

راہل گاندھی کا ’’بھوکمپ‘‘

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے گجرات کے مہسانہ میں ایک بڑے عوامی جلسے کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر صنعتی گھرانوں سے کروڑوں روپئے لینے کا جو الزام لگایا ہے وہ سننے میں بھلے ہی سنسنی خیز لگتا ہو پر اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہی الزام دہلی کے وزیرا علی اروندکیجریوال دہلی اسمبلی میں بھی لگا چکے ہیں۔اسی الزام کوثابت کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے مناسب ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسے بے بنیاد تک بتادیا ہے جبکہ کورٹ میں کیس کرنے والے وکیل بھی اب تک کوئی نئے حقائق نہیں لا پائے۔ کل ملاکر معاملہ یہ ہے کہ دو صنعتی گھرانوں کے یہاں سے ایک انکم ٹیکس ریٹ میں کئی دستاویز برآمدہوئے تھے۔ برآمد دستاویزات میں کئی سیاسی لیڈروں کو سال 2013ء میں رشوت دینے کی بات درج ہے۔ اس طرح کے خلاصے کوئی پہلی بار نہیں ہوئے ہیں۔ قریب دو دہائی پہلے جین بندھوؤں کی ڈائری میں بھی ایسے ہی کئی سیاسی لیڈروں کو پیسے دینے کا خلاصہ ہوا تھا۔ اس واقعہ نے بھارتیہ سیاست کو جھنجھوڑ کر بھلے ہی رکھ دیاتھا لیکن آخر کر کچھ بھی ثابت نہیں ہو پایا تھا۔اس سے بھی پہلے وشوناتھ پرتاپ سنگھ بوفورس معاملہ میں سورگیہ راجیو گاندھی پر رشوت لینے کا الزام لگا کر انہیں اقتدار سے باہر کردیا تھا۔ وی پی سنگھ نے بیشک ایسا ماحول بنا دیا تھا جس کا خمیازہ راجیو گاندھی کو اٹھانا پڑا حالانکہ وہ نہ تو کسی رشوت خور کا نام بتا سکے اور نہ کبھی اپنے الزامات ثابت کرسکے اس لئے صرف دستاویز میں نام ہونے یا الزام لگانے سے کوئی مجرم نہیں ہوجاتا۔ یہاں تھوڑا فرق ضرور ہے ، یہا ں پر الزام ان دستاویزوں کی بنیاد پر لگایا جارہا ہے جو انکم ٹیکس محکمہ کو چھاپوں میں ملے۔ یہ کوئی ذاتی ڈائری میں لکھا کوئی صفحہ نہیں ہے۔
کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر لگے الزام کی جانچ کی مانگ کی ہے۔ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے بدھوار کو کہا کہ وزیر اعظم کے اعتماد پر سوال اٹھے ہیں ایسے میں انہوں نے پیسے لئے ہیں یا نہیں ؟ اگر وزیر اعظم نے پیسے نہیں لئے ہیں تو انہیں جانچ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ سرجے والا نے کہا کہ بھاجپا نیتاؤں کو گالی گلوچ پر اترنے کی ضرورت نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے صرف اتنا سوال پوچھا ہے کہ وزیراعظم نے پیسے لئے یا نہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم پاک صاف ابھر کر آئیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کے کچھ ہی دن بعد ان پر الزام لگانے کی ہڑبڑی میں راہل نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ کوئی نیا الزام نہیں ہے جسے عدالت عظمیٰ ناکافی بتا چکی ہے اس کے بعد بھی وہ یہ دعوی کررہے ہیں کہ سنسد میں اس بارے میں ان کے بولنے پر ’’بھوکمپ‘‘ آسکتا ہے اس لئے انہیں سنسد میں بولنے نہیں دیا جارہا ہے۔سیاست میں موجودہ بدعنوانی کو بے نقاب کرنا ہی چاہئے پر ثبوتوں کی بنیاد پر۔ بے بنیاد الزاموں سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

پے ٹی ایم کا استعمال کتنا محفوظ

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے نوٹ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ جن کمپنیوں کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے ان میں موبائل پیمنٹ کی سہولت دینے والی کمپنی ’پے ٹی ایم‘ بھی ہے لیکن کیا پے ٹی ایم 100 فیصد محفوظ ہے؟ کیا پے ٹی ایم پر بھروسہ کرنا صحیح ہے؟ آر ایس ایس سے متعلقہ تنظیم نے سوال اٹھائے ہیں پے ٹی ایم میں چین کی کمپنی کی حصہ داری کو لے کر منچ کا کہنا ہے کہ قاعدے کے مطابق کسی ہندوستانی کمپنی میں حصہ داری اس کمپنی کے شیئروں میں 50 فیصد سے کم ہے تو وہ بھارتیہ کمپنی نہیں ہے اس لئے ہم نے لوگوں کو پے ٹی ایم کو نہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سودیشی جاگرن منچ کے نائب کنوینر اشونی مہاجن نے بتایا کہ ہم نے پے ٹی ایم میں چینی کمپنی ’علی بابا‘ کی حصہ داری کی کئی رپورٹ پڑھی ہیں۔ ہم’ کیش لیس‘ نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ایسے میں ہمیں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی بھارتیہ کمپنی کسی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ اپنا ڈاٹا شیئر نہ کرے۔ ہم پے ٹی ایم کا بائیکاٹ کریں گے۔ اب آتے ہیں پے ٹی ایم کی سکیورٹی کے مدعہ پر۔ پے ٹی ایم کا استعمال کرنے والے ہوشیار ہوجائیں۔ اس کا سسٹم فول پروف نہیں ہے۔ اس کے استعمال سے آپ اپنے اکاؤنٹ کا پورا پیسہ گنوا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کمپنی والوں سے رجوع کیا تو وہاں سے بھی نا امیدی ہاتھ لگے گی۔ پوربی دہلی کے شاہدرہ علاقہ میں ایک بیگ کی دوکان چلانے والے دوکاندارکا پے ٹی ایم سے ادائیگی کرنا مہنگا پڑ گیا۔ لوکیش جین نام کا یہ دوکاندار پے ٹی ایم کے ذریعے اپنے بجلی کا بل آن لائن جمع کرا رہاتھا۔پیمنٹ کے دوران ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) مانگا گیا ، پاسورڈ دیتے ہی ان کے کھاتے میں جمع 17580 روپئے کی رقم اڑ گئی۔ انہوں نے فوراً اس کی شکایت پے ٹی ایم میں کی۔ وہاں سے ٹکا سا جواب دے دیا گیا کہ پہلے ای۔ میل کرو پھر دیکھتے ہیں۔متاثرہ دوکاندار نے پے ٹی ایم کمپنی کے آپریٹروں کے اس عمل سے دکھی ہوکر تھانے کی راہ پکڑ لی ہے۔متاثر دوکاندار کی شکایت پر شاہدرہ تھانہ پولیس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ پے ٹی ایم کمپنی کو بھی چونا لگانے کے معاملے سامنے آرہے ہیں۔
ڈیجیٹل کمپنی پے ٹی ایم کو 6.15 لاکھ روپئے کا چونا لگانے والے 15 گراہکوں کے خلاف سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے۔ ڈیجیٹل لین دین کی سہولت دینے والی والٹ کمپنی پے ٹی ایم نے سی بی آئی سے شکایت کی ہے کہ 48 گراہوں نے اس کے ساتھ 6.15 لاکھ روپئے کی دھوکہ دھڑی کی ہے۔ ملزم گراہک آرڈر کے پروڈکٹ وصول کر لیتے تھے لیکن اپنے پیکٹ میں دوسری چیزیں ڈال کر ریٹرن کی رکویسٹ کرتے تھے۔ پیکٹ چونکہ بند ہوتا تھا اس لئے واپس چلا جاتا تھا اور پیسے واپس مل جاتے تھے۔ اس طرح وہ پروڈکٹ بھی لیتے تھے اور ریفنڈ بھی ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک بھارت میں ڈیجیٹل لین دین کا سسٹم فول پروف نہیں ہے جوکھم بھرا ہے۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2016

عالمی آتنک واد کا بڑھتا خطرہ

ترکی کی راجدھانی انقرہ میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کا قتل ،جرمنی کی راجدھانی برلن میں ٹرک سے جان لیوا حملہ، سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں اسلامک سینٹر میں فائرننگ یہ واقعات آتنکواد کے بڑھتے دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج یوروپ و کئی ملکوں میں اسلامی آتنک واد نے قہر ڈھا رکھا ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں ترکی میں روسی سفیر آندرے کارلوف کے قتل کی۔ ترکی کی راجدھانی انقرہ میں روسی سفیر کا تب قتل کردیا گیا جب وہ ایک آرٹ نمائش دیکھنے گئے تھے۔ وہاں جب وہ اسٹیج پر تقریر کررہے تھے تو ایک نامعلوم شخص نے کارلوف کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرننگ کی۔ گولی چلاتے ہوئے وہ اللہ اکبر،حلب کا بدلہ جیسے الفاظ نکال رہا تھا۔ سیریا میں روس کے رول کو لیکر ترکی میں اس کے خلاف احتجاج کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔ گزشتہ سال نومبر میں ترکی میں سیریائی مہم میں شامل روس کا ایک جنگی ہوائی جہاز مارگرایاتھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بہت بڑھ گیا تھا۔روسی سفیر کے قتل کو لیکرترکی کے افسران نے منگلوار کو 6 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ہمیں جاننا ہوگا کہ قاتل کو کس نے احکام دئے تھے۔ سفیر آندرے کارلوف کو ترکی کے پولیس ملازم مویلوت مت الیتاس (22 ) نے چار گولیاں ماری تھیں۔ ادھر جرمنی کی راجدھانی برلن میں بھیڑ بھاڑ والی کرسمس مارکیٹ میں ایک شخص نے سوموار رات قہر برپا دیا۔ اس نے جشن کی تیاریوں اور خریداری میں جٹے سینکڑوں لوگوں کو ٹرک سے روند ڈالا۔ بری طرح کچلے 12 لوگوں کی تو موقع پر ہی موت ہوگئی اور 50 دیگر زخمی ہوئے۔ شروع میں حملہ آور ٹرک ڈرائیور ہونے کے شک میں پاکستان سے آئے رفیوجی نوید (23) کو موقع سے دو کلو میٹر دور پکڑا گیا لیکن بعد میں سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اصلی ملزم اب بھی فرار ہے۔ لوگ اندازہ بھی نہیں لگا پائے تھے کہ ایکا ایک ٹرک بھیڑ کو روندتا چلا گیا۔ وہاں موجودہ لکڑی کے اسٹال اور دوسری چیزیں بھی تہس نہس ہوگئیں۔اس حملہ نے اسی سال جولائی میں فرانسیسی شہر نیس میں ہوئے ٹرک اٹیک کی یاد تازہ کردیں جس میں 86 لوگوں نے جان گنوائی تھی۔ یہ واقعہ برلن کے مشہور قیصر ولہم میموریل چرچ کے پاس انجام دیاگیا، جو علاقہ ٹورسٹوں کے درمیان خاصا مقبول ہے۔ ٹرک کا رجسٹرڈ ڈرائیور جو پولینڈ کا رہنے والا بتایا جاتا ہے، پیسنجر سیٹ پر مرا ہوا پایا گیا۔ پولیس کے مطابق اصلی ڈرائیور نے گاڑی نہیں چلائی۔ 25دسمبر کو دنیا بھر میں کرسمس ہے، یوروپ میں سیلیبریشن کے ماحول کے درمیان ایک بار پھر لوگوں کو ٹیرر کا درد ملا ہے۔ ایک دیگر واقعہ میں ترکی کی راجدھانی انقرہ میں ہی امریکی امبیسی نے ایک بیان میں کہا کہ ایک شخص امریکی امبیسی انقرہ کے مین گیٹ کی طرف آیا اور اس نے گولی چلا دی۔ا س سے کچھ ہی گھنٹے پہلے روسی سفیر کی ہتیا کی گئی تھی۔ یوروپ پوری طرح اسلامی آتنک واد کی چپیٹ میں ہے۔
(انل نریندر)

چائے والا ارب پتی اور درزی کروڑ پتی:واہ کیا بات ہے

نوٹ بندی کے بعد مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کالے دھن کے کبیروں کے خلاف کی جارہی کارروائی سے روز روز نئے نئے چونکانے والے خلاصے ہورہے ہیں۔ایسے ایسے لوگوں سے اتنی موٹی رقم پکڑی جارہی ہے جس کا تصور بھی کرنا مشکل ہے۔مثال کے طور پر گجرات کے سورت شہر میں ٹھیلے پر چائے پکوڑے بیچنے سے اپنے کیریئر کی شروعات کرنے والے شخص کے پاس سے 400 کروڑ روپے کی جائیداد ملنا۔ وہیں چنڈی گڑھ میں لوگوں کے کپڑے سل کر گزر بسر کرنے والے درزی کے پاس بھی قریب1 کروڑ سے زیادہ جائیداد ملی۔ ذرائع نے بتایا کہ کشور بھجیا والاکے ٹھکانوں پر چار دن پہلے چھاپہ مارا گیا تھا۔ اس کے ٹھکانوں اور لاکروں کی تلاشی میں ابتک 14 کلو سونا، 1 کلو کے ہیرو جواہرات جڑے زیورات،180 کلو چاندی، 95 لاکھ روپے کے نئے 2000 روپے کے نوٹوں سمیت1.33 کروڑ روپے سے زیادہ کی نقید برآمد ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ غیر منقولہ جائیدادکی کاغذات ملے ہیں جن کی تخمینہ قیمت قریب400 کروڑ روپے ہے۔ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے چنڈی گڑھ میں نجی بینک ایچ ڈی ایف سی کے کسٹمر چیف بھوپندر سنگھ گل کو گرفتار کیا ہے۔ ای ڈی نے بتایا کہ چنڈی گڑھ کے کپڑا کاروباری اندر پال مہاجن کے گھر سے 13 دسمبر کو 2.19 کروڑ روپے کے نئے۔ پرانے نوٹ ملے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے لدھیانہ کے ایک زیورات کی دوکان پر چھاپے ماری کر 9 لاکھ روپے کے نئے نوٹ ضبط کئے۔ اس دوران دوکان کے مالک نے 15.40 کروڑ روپے کی بے حساب جائیداد بھی افسران کو سونپی۔ بینکوں سے کالے دھن کو سفید کرنے کی کارگزاری کے روٹ کی جانچ ایجنسیوں نے پتہ لگا لی ہے۔ سرکار کو بینکوں میں معطل پڑے کھاتوں اور ڈورمینٹ کھاتوں میں اچانک لین دین کی جانکاری ملی ہے۔
وزارت مال کے ذرائع کی مانیں تو بینکوں میں فرضی کھاتوں اور جن دھن کھاتوں کے علاوہ ایسے کھاتوں کا پتہ چلا ہے جس میں پرانے نوٹ جمع کر نئے نوٹ اکھٹا کئے جارہے ہیں۔ان میں وہ کھاتے ہیں جو ایک سال سے زیادہ وقت سے کام نہیں کررہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ڈورمینٹ کھاتے بھی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ایسے کھاتے ہوتے ہیں جن میں قریب 24 ماہ تک کوئی لین دین نہیں ہوا ہوتا۔ بینک میں باقاعدہ اس کی فہرست رکھی جاتی ہے اور نوٹ بندی کے بعد اس فہرست کا استعمال کچھ بینک ملازم اور افسران نے پرانے نوٹوں کو نئے سے بدلنے میں کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہربینک برانچ میں ایسے کھاتوں کی تعداد 4سے6 فیصد تک ہوتی ہے۔ سی بی ڈی ٹی کے ذرائع کے مطابق بینکوں کی چیسٹ سے اے ٹی ایم میں نئی کرنسی کو بھیجنے کے عمل میں بھی بڑی تعداد میں گڑ بڑیاں پائی گئی ہیں۔ اس معاملے میں بینکوں کے اعلی افسران کو متعلقہ بینک ملازمین سے روزانہ رپورٹ لیکر ایک رپورٹ ایل آئی یو کو بھیجنے کوکہا گیا ہے۔ 65 سے70 فیصد اے ٹی ایم آؤٹ سورسنگ پر کام کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2016

نئے فوجی سربراہ کی تقرری پر بے مطلب کا تنازع!\

فوجی سربراہ کے عہدے پر لیفٹیننٹ جنرل وپن راوت کی تقرری کو لیکر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اس طرح ایک بار پھر نریندر مودی سرکار اہم عہدوں پر تعیناتی کو لیکر اپوزیشن کی نکتہ چینی کی زد میں آگئی ہے۔ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں نے دو اعلی جنرلوں کو نظرانداز کرکے لیفٹیننٹ جنرل راوت کو فوجی سربراہ بنائے جانے کو فوج میں غلط روایت کی شروعات اور فوجی افسران کے حوصلہ پر منفی اثر ڈالنے والا فیصلہ بتایا ہے۔ ان پارٹیوں کا ماننا ہے کہ دو اعلی فوجی افسران کو درکنار کرکے لیفٹیننٹ جنرل راوت کو ترجیح دی گئی لہٰذا ان کی تقرری متنازع ہے۔ ہماری رائے میں یہ تنقید بھی صحیح نہیں اور اس سے بچنا چاہئے۔ نئے فوجی سربراہ کی تقرری و چناؤ سرکار کا خصوصی اختیار ہے۔ بیشک اس میں سینئرٹی کا دھیان رکھا جاتا ہے لیکن وہ اکلوتی آخری وجہ ہوتی ہے تو پھر سرکار کے فیصلے کی شاید ہی کوئی درکار ہی نہیں تھی۔ سینئر افسر کو اپنے آپ فوجی سربراہ مان لیا جاتا کیونکہ ایسا نہیں ہے اس لئے اپنے وقت میں ہر سرکار کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے سب سے مناسب شخص کااس عہدے پر تقرر کرے۔ اپوزیشن کو سرکار کے کام کاج کی تنقید کرنے کا لوک تانترک اختیار ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرکار کہ ہر قدم اور خاص کر فوج سے متعلق مسئلوں پر بھی تنقیدی رخ اپنائے۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ فوج کے کام کاج کی جوابدہی سرکار کی ہوتی ہے اگرفوج کسی جنگ میں ناکام ہوتی ہے تو آخر کار یہ سرکار کی ہار مانی جاتی ہے۔ اس لئے اگر سرکارسینئر کے مقابلے کسی جونیئر افسر کو زیادہ باصلاحیت اور زیادہ اہل مانتی ہے تو اسے چننے کا حق بھی ملنا ہی چاہئے۔ موجودہ سرکار نے بھی اپنی سمجھ سے ایسا کیا ہے اور اس پر اعتراض کی کوئی وجہ ہمیں تو نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب فوجی سربراہ کے عہدے پر تقرری کے سوال کو ہلکے میں لینا بھی شاید ٹھیک نہیں ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب ایک نئی دو دو اعلی جنرلوں کو درکنار کرتے ہوئے تیسرے افسر کو یہ عہدہ دیا گیا۔ اس سے پہلے صرف ایک بار جنرل ایس۔ کے۔ سنہا کی سینئرٹی کو اندیکھا کرتے ہوئے جنرل ارون وید کی تقرری کی گئی تھی۔ حالانکہ اس وقت کی اندراگاندھی سرکار نے مبینہ طور پر جنرل سنہا کے سیاسی خیالات کے چلتے یہ فیصلہ کیا تھا پھر بھی اسے اچھی مثال کے طور پر یاد نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل سبھی فوجی افسر اہل ہوتے ہیں لیکن کئی افسروں پر خصوصی صلاحیت کو دھیان میں رکھ کر ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ موجودہ وقت میں پاک اور چین سے ہمارے رشتے کشیدہ ہیں اور جنرل راوت دونوں سے ہی نمٹنے میں زیادہ موزوں لگتے ہیں۔
(انل نریندر)

سرکار کو راحت :نوٹ بندی میں دخل سے انکار

مودی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے پر سرکار کو سپریم کورٹ نے راحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر دخل نہیں دے گی۔ نوٹ بندی کے فیصلے کو سرکاری خزانہ نیتی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ نے فی الحال اس میں دخل دینے سے انکارکردیا۔ نوٹ بندی کا مدعہ سیاسی اور سماجی طور سے اہم تو ہے ہی اب یہ قانونی طور سے بھی اہم ہو گیا ہے۔ گذشتہ نومبر کو 500 اور 1000 روپے کے نوٹ چلن سے باہر کرنے کے بعد عوام الناس کے دل میں یہی سوال تھے جو شکروار کو سپریم کورٹ نے بھی اٹھائے۔ آخرکسی شہری کو پراپرٹی کے حق سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے؟ ایسا مناسب قانونی عمل سے کیا جاسکتا ہے لیکن مرکز ی سرکار کے ذریعے اٹھائے گئے قدم آئین اور قانون کی نظر میں کتنے ٹکتے ہیں اس پر عام لوگوں کے ساتھ ساتھ قانون کے جانکاروں کی نگاہیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ نوٹ بندی سے متعلق مختلف ہائی کورٹوں اور دیگر عدالتوں میں چل رہے مقدموں کو اب صرف سپریم کورٹ ہی سنے گی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو پانچ ممبری آئینی بینچ کے پاس بھیجتے ہوئے اس کے سامنے ٹیسٹ کے لئے 9 سوال رکھے ہیں۔ یہ فیصلہ بینچ نے اس لئے لیا ہے کہ نوٹ بندی کو لیکر الگ الگ اختلافی آرڈر سے دو چار نہ ہونا پڑے۔عدالت عظمیٰ نے 24 ہزار روپیہ فی ہفتے بینک سے نکالنے کی حد میں بھی کوئی ترمیم نہیں کی۔
عدالت عظمیٰ نے امید جتائی ہے کہ سرکار عام جنتا کو ہو رہی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جتنا ممکن ہوسکے گا اپنے اس وعدے کو پورا کرے گی۔ اٹارنی جنرل نے قبول کیا کہ پرانے نوٹوں کے بدلنے میں کچھ گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پانچ ممبری آئینی بینچ کی جانچ کے لئے 9 سوال رکھے ہیں کیا 8 نومبر کو جاری نوٹیفکیشن آر بی ایکٹ کی دفعہ 26(2),7,17 وغیرہ کی خلاف ورزی ہے۔ کیا نوٹیفکیشن آئین کی دفعہ 300(a) کی خلاف ورزی ہے؟ اگر یہ مانا جائے کہ یہ آر بی ایکٹ کے تحت جائز ہے لیکن کیا یہ آئین کی دفعہ 14 اور 19 کے خلاف تو نہیں ہے۔ کیا 8 نومبر کا نوٹیفکیشن اور اس کے بعد جاری نوٹیفکیشن کی عمل آوری میں خامیاں ہیں یا وہ غیر معقول تو نہیں ہیں؟ بینکوں۔ اے ٹی ایم سے رقم نکاسی کی حد طے کرنا حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں؟ کورٹ مالی پالیسیوں میں دخل دے سکتا ہے؟ کیا کوآپریٹیو بینکوں پر لگائی گئی روک مناسب ہے؟ کیا آئین کی دفعہ ۔32 کے تحت سیاسی پارٹیاں اپیل دائر کرسکتی ہیں؟ اور آخر میں اگر دفعہ ۔26 کے تحت نوٹ بندی کی اجازت دی گئی تو کیا ایگزیکٹیو پاور کا ضرورت سے زیادہ استعمال تو نہیں؟ کیا اس وجہ سے یہ آئین کے خلاف تو نہیں؟
(انل نریندر)

21 دسمبر 2016

نوٹ بندی سے چھنتا روز گار

ملک میں معاشی معاملوں کے کئی ماہرین دعوی کررہے ہیں کہ نوٹ بندی سے آئندہ وقت میں ملک کے معاشی حالات سدھریں گے اور معاشیات کالے دھن سے پاک ہونے کی وجہ سے مضبوط ہوگی۔ بیشک ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن فی الحال تو ہمیں نوٹ بندی کی وجہ سے کئی دقتیں نظر آرہی ہیں۔اس کے برے نتائج سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ سرکار کی نوٹ بندی سے عام لوگوں و مزدوروں کے روبرو روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیاہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے مزدوروں کے بے روزگار ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے مرکزی سرکار پر حملہ بولتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے نے دہلی میں بے روزگاری بڑھا دی ہے۔ دہلی پردیش ادھیکش اجے ماکن نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے 48.63 لاکھ غیر منظم مزدوروں کا روزگار چھننے کی کگار پر ہے۔ ان پر بے روزگاری کی تلوار لٹک گئی ہے۔ ماکن نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے خوردہ بکری میں 88-90 فیصدی تک کمی آئی ہے۔ پیداوار میں 80 فیصدی تک کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں نوکریوں میں کمی آنے کی وجہ سے بے روزگاری بڑھی ہے۔ کالے دھن پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ’’سرجیکل اسٹرائک‘‘ کے بعد 1857 کی میرٹھ کا صرافہ کاروبار سونا۔چاندی کے زیورات بنانے کے کاروبار کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی ہے وہیں پشچمی بنگال میں اور مہاراشٹر سے آکر زیورات بنا کر خاندان کا پیٹ پالنے والے 30 ہزار سے زیادہ کاریگر اب روزی روٹی کے مسئلے سے جوجھ رہے ہیں۔ نوٹ بندی کی وجہ سے پشچمی بنگال میں دو بیڑی کارخانے بند ہوگئے ہیں۔ ایک کارخانے کے مالک ریاست کے وزارت محنت کے وزیر مملکت ذاکر حسین خود ہیں۔ دونوں کارخانے مرشید آباد ضلع میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے نقد میں کاریگروں کو ادائیگی میں قاصر رہنے کے بعد کارخانہ مالکوں نے تالہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔اس میں قریب پونے تین لاکھ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ سرکار کی نوٹ بندی سے عام لوگوں و مزدوروں کے الگ الگ مسئلے پیدا ہوگئے ہیں۔ نوٹ بندی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں و دوکانوں کی مرمت بھی نہیں کرا پارہے ہیں جس سے دیہاڑی مزدوروں کے سامنے کام نہ ملنے سے روزی روٹی کا مسئلہ گہرانے لگا ہے۔ شہری و دیہی علاقوں میں پھیرے لگا کر روز مرہ کے ضروری سامان بیچنے والے الگ پریشان ہیں۔بازار پرمندی کی مار پڑی ہوئی ہے۔ شادی بیاہ کا سیزن ہونے کے باوجود ویاپاری گراہک کے نہ آنے سے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔ نوٹ بندی کی مار سے اناج منڈی بھی نہیں بچی ہے۔ کئی دنوں سے نئے نوٹ نہ ہونے کی وجہ سے منڈی کا کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے بڑی تعداد میں روز گار چھننے کی اطلاعات سے سرکار بھی پریشان ہے۔ حالات کا اندازہ کرنے کے لئے وزارت محنت و روزگار کے اعلی افسران کو پورے ملک میں بھیجا جارہا ہے۔ سرکار ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اس کے پاس روزگار سے متعلق جو اعدادو شمار ہیں وہ ستمبر تک کے ہیں جس میں نوٹ بندی کے بعد روزگار پر پڑے اثر کا اندازہ ابھی تک نہیں ہوپا رہا ہے۔ روزگار کے اعدادو شمار سہ ماہی ہی مل پاتے ہیں جو سرکاری طور پر جنوری میں ہی دستیاب ہو سکیں گے۔ وزارت محنت و روزگار کو یہ خبر پہنچ چکی ہے کہ نقدی کی کمی کے چلتے بہت بڑی تعداد میں چھوٹے اور درمیانہ سطح کی صنعتی اکائیوں میں بندی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سرکار کو بھی لگاتار یہ جانکاری مل رہی ہے کہ کھیتی ہر مزدور سے لیکر تعمیری صنعت اور سروس سیکٹر کا بڑا برا حال ہے۔ وہاں یا تو بڑی تعداد میں روزگارچھن گئے ہیں یا پھر ہاتھ سے نکلنے کی حالت میں پہنچ گئے ہیں۔ عمارتی تعمیر ، ٹورازم ، صنعت اور ہوٹل میں کام کافی متاثر ہوا ہے۔ کام گھٹ کر 30 فیصد پر آجانے سے بڑے پیمانے پر چھٹنی کے آثار بنے ہیں۔ لارسن اینڈ ٹوبرو جیسی بڑی کمپنی نے اپنے 14 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے۔ کل ملا کر ہمیں تو نوٹ بندی سے ملک آئندہ کچھ وقتوں کے لئے ابھی تو بری طرح متاثر ہوتا نظر آرہا ہے ، جب فائدہ ہوگا تب ہوگا۔
(انل نریندر)

کشمیر میں 2016ء میں جوانوں پرحملوں کا اضافہ

سرجیکل اسٹرائک کے ڈھائی مہینے بعد ہی آتنکی تنظیم لشکر طیبہ نے دکشنی کشمیر کوپھرسے مضبوط قلع بنا لیا ہے۔ لشکر کے نیٹورک میں اضافہ سے سکیورٹی ایجنسیاں چوکنا ہوئی ہیں۔ ایجنسیوں کو جہلم ندی سے آتنکیوں کی گھس پیٹھ کی خبریں مسلسل مل رہی ہیں۔ جہلم سے لگے پمپور میں فوج کے قافلے پر ہوئے حملے سے گھس پیٹھ کی اطلاع کی تصدیق ہوتی ہے۔ آتنکی پمپور میں اس سے پہلے بھی سی آر پی ایف اور فوج کے قافلوں کو نشانہ بنا چکے ہیں یاد رہے کہ پمپور میں ہی اپ ضلع وکاس سنستھان کی عمارت پر آتنکیوں نے قبضہ کرلیا تھا جسے خالی کرانے میں سکیورٹی فورسز کو 60 گھنٹے لگ گئے تھے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے آتنکیوں اور دہشت گردوں کو نقدی ملنا بند ہوگیا تھا۔ اس وجہ سے تشدد گڑبڑی اور آتنک وادی حملے کی وارداتوں میں بھی کچھ دنوں تک کمی آئی۔ لشکر نے اب کشمیر میں بینک لوٹ سے نقدی لوٹنے کی واردات کو انجام دینا شروع کردیا ہے۔ حوالہ نیٹ ورک بھی سرگرم ہوا ہے۔ اس کے ذریعے سے بھی اگروادیوں کو فنڈ ملنے لگے ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو ان پٹ ہے کہ آتنکیوں کے فدائین حملے اور بڑھ سکتے ہیں۔ اس سال اب تک 7 فدائین حملے ہوچکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں سال 2016ء سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے لئے مشکل بھرا رہا ہے۔ آتنکیوں نے اس سال 87 جوانوں کی جان لے لی ہے۔ 2008ء کے بعد یہ سال سب سے زیادہ خونخوار رہا ہے۔ فوجی کیمپوں پر گھات لگا کر حملے کئے گئے ہیں۔ سینا کے ہیڈ کوارٹر سے لیکر ہوائی اڈے تک پر آتنکی حملے ہوئے ہیں۔ 2015 ء کے مقابلے2016ء میں سکیورٹی فورسز کے ممبران کی موت میں 82 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔یہ نتیجہ امور داخلہ کی 6 دسمبر کو لوک سبھا میں رکھی گئی 4 سال کی رپورٹ سے نکلا ہے۔ اس میں سرکار نے 27 نومبر تک کے اعدادو شمار دئے ہیں۔ ستمبر میں اڑی میں آرمی کیمپ پر آتنکی حملے میں بھی 19 جوان شہدی ہوئے تھے۔اس حملے کے بعد بھارتیہ فوج نے آتنکیوں کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کی تھی۔فوج نے پی او کے میں گھس کر کئی آتنکی کیمپوں کو نیست و نابود کیا تھا لیکن سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر آتنکی حملوں کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دکشنی کشمیر کے پلوامہ میں ابھی سنیچر کو ہی فوج کے قافلے پربائیکل سوار دو آتنکیوں نے حملہ کیا تھا۔ دکھ کے ساتھ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لشکر طیبہ نے سرجیکل اسٹرائک نے تباہ ہوئے پی او کے کے کیمپوں اور لانچنگ پیڈوں کو پھرسے زندہ کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں پیش سرکار کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان نے 2016ء (26 نومبر) میں کشمیرمیں لائن آف کنٹرول پر 216 بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2016

راہل کی پی ایم سے ایسے وقت ملاقات کے معنی

دودن پہلے وزیر اعظم نریندرمودی پر شخصی بدعنوانی کے بہت سنگین الزام لگانے کے بعد کانگریس نائب صدر کی شکروار کو وزیر اعظم سے ملاقت کرنا اپوزیشن کو سمجھ نہیں آیا ہے۔ کہا یہ گیا ہے کہ راہل گاندھی کانگریس ڈیلی گیشن کے ساتھ پی ایم سے کسانوں کے قرضے معافی کے مدے پر ملے۔ راہل گاندھی نے کسانوں کی بدحالی کا مدعا اٹھاتے ہوئے ان کے قرض معافی کی مانگ کے سلسلے میں میمورنڈم وزیرا عظم کو سونپا۔ اس دوران مودی نے بھی سیاسی دشمنی سے اوپر اٹھ کر گرمجوشی دکھاتے ہوئے راہل کو ایسی ملاقاتوں کیلئے ملتے رہنے کو کہا۔ نوٹ بندی پر سنسد کے چارہفتوں کا وقت برباد کرنے کے بعد پی ایم اور کانگریس نائب صدر کی اس ملاقات پر کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ نوٹ بندی پر بنے اپوزیشن اتحاد کا اس ملاقات میں غبارہ پھوڑدیا ہے۔نریندر مودی پر کانگریس کے ساتھ آئی 15 پارٹیوں میں سے کئی پارٹیوں نے کسانوں کے مدعے پر راہل کو اکیلے وزیر اعظم سے ملنے پر بیحد ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اس کی وجہ سے اپوزیشن نیتاؤں نے راشٹرپتی بھون تک مارچ میں شامل ہونے سے انکارتک کردیا۔اس طرح موسم سرما کا سیشن ختم ہونے کے ساتھ ہی نوٹ بندی کے مدعے پر بنا اپوزیشن اتحاد بھی چاروں خانے چت ہوگیا۔ کانگریسی لیڈروں کی پی ایم سے ملاقات سے خفا کمیونسٹ پارٹیوں ، سپا، بسپا، ڈی ایم کے، این سی پی نے سونیا گاندھی کی لیڈر شپ میں راشٹرپتی پرنب مکھرجی سے ملنے گئے ڈیلی گیشن سے کنارہ کرلیا۔اس بکھراؤ نے نوٹ بندی پر اپوزیشن اتحاد کی وجہ سے پارلیمنٹ سیشن کے دوران پریشانی میں رہی سرکار کو یقینی طور پر راحت دی ہوگی۔ ساتھ ہی اپوزیشن گول بندی کی سیاست کو تھام رہے راہل گاندھی کو اس ملاقات سے کرارا جھٹکا لگا۔ سونیا کی لیڈر شپ میں راشٹرپتی سے ملنے گئے اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندوں میں شامل ہونے سے انکارکرنے والی ان پارٹیوں کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی کو پی ایم سے ملنے کے لئے کم سے کم سیشن کا آخری دن نہیں چننا چاہئے تھے کیونکہ اس ملاقات نے نوٹ بندی پر مخالف دلوں کے مہینے بھرسے متحد سنگھرش کو ٹھنڈا کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے راہل وزیر اعظم کے خلاف بھرشٹاچار کے نجی معاملوں کا زور شور سے دعوی کر سیاسی پارے کو نئی اونچائیوں پر لے جاتے ہیں اور پھر پی ایم سے مل کر خود ہی اس پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ دہلی کے وزیرا علی اروند کیجریوال نے دوسری جانب شکروار کو کہا کہ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں خلاصہ کرنے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ کانگریس نائب صدر کو اپنے جیجا رابرٹ واڈرا کے خلاف کارروائی کا ڈر ہے۔انہوں نے کہا کہ راہل میں مودی جی کے خلاف کچھ بھی خلاصہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ جس دن وہ ایسا کریں گے مودی جی رابرٹ واڈرا کو گرفتار کر لیں گے۔ کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور بھاجپا اس طرح کی رشوت میں ملوث ہے لیکن کوئی خلاصہ نہیں کرتے۔ 
(انل نریندر)

کالے دھن پر سیاسی پارٹیوں کو کھلی چھوٹ

پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے مودی سرکار نے نوٹ بندی کے معاملے میں سیاسی پارٹیوں کو بڑی راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔ ریونیو سیکریٹری ہنس مکھاڑھیا نے بتایا کہ 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ اپنے کھاتے میں جمع کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو انکم ٹیکس میں پہلے سے مل رہی چھوٹ جاری رہے گی لیکن نقد شکل میں یہ رقم 20 ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ ساتھ ہی چندہ دینے والے کی رسید اور اس کی صحیح پہچان بھی ضروری ہوگی۔ موجودہ قانون کے تحت کسی بھی سیاسی پارٹی کو ایک شخص سے ملنے والی رقم 20 ہزار سے زیادہ ہونے پر چیک یا ڈرافٹ سے ہی قبول کیا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر اس رقم پر بھی انکم ٹیکس دینا ہوگا۔ دراصل سیاسی پارٹیوں کے بینک کھاتے میں جمع رقم کو پہلے سے ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے۔ بھارت میں لگ بھگ 1886 رجسٹرڈ پارٹیاں ہیں۔ سرکار نے بھرشٹاچار اور کالے دھن کا ایک سب سے بڑے ذریعے کو کالا دھن سفید کرنے کی چھوٹ دے دی ہے۔ آپ کسی بھی پارٹی کو لے لیجئے اس کے لئے چندے کے طور پر 20 ہزاررسیدیں 20 ہزار روپے کی کٹوانا مشکل نہیں ہے۔ اس طرح ایک جھٹکے میں 4 کروڑ روپیہ آجاتا ہے۔ اسے واپس دینے کے لئے ( کچھ فیصد چندہ کاٹ کرکے) چندہ دینے والے کو کسی ریلی کا انتظام کرنے کو کہا جاتا ہے اور اسے ریلی کے لئے کروڑوں کا چیک (خرچ کی مد میں) دے دیا جاتا ہے۔ ہو گیا نہ اس شخص کا کالا دھن سفید۔اگلے کچھ ماہ میں ملک کی کچھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ چناؤ کے لئے سبھی سیاسی دل کمر کس چکے ہیں اور انہوں نے اپنی ریلیاں اور پرچار مہم بھی شروع کردی ہے۔ دہلی میں بھی نگر نگم چناؤ ہونے ہیں آنے والے چناؤ میں کالے دھن کا استعمال بھی اس بار جم کر ہوگا۔ نوٹ بدلنے کی اس مہم سے آنے والے چناؤ میں کالے دھن کے استعمال پر قطعی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سبھی سیاسی پارٹیاں پہلے سے ہی بے نامی کھاتے کھلوا کر اس میں اس قسم کا پیسہ جمع کر کے سونا ،ہیرا اور منقولہ جائیداد میں بدل چکے ہیں۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم (اے ڈی آر)کے اترپردیش کے پرمکھ سنیوجک ڈاکٹر لینن نے کہا ’’سیاسی دل اپنی رقم کا استعمال ورکروں کو 10-10 ،20-20 ہزار یا ان کی مالی حیثیت کے حساب سے بانٹنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ سیاسی پارٹیاں چناؤ سے پہلے اپنے کارکنوں کو پیسہ بٹواتی ہیں لیکن لینن نے اے ڈی آر تنظیم کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اترپردیش کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے پاس پیسے کے بڑی تعداد میں نامعلوم ذرائع ہیں۔ بسپا کی کل آمدنی 585 کروڑ روپے ہے۔ جس میں سے 307 کروڑ روپے اسے رضاکار طور پر چندہ سے ملتے ہیں جو 20 ہزار روپے سے کم دیتے ہیں ۔ پارٹی کو20 ہزار روپے سے کم کی رقم دان کرنے والے کا نام بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اے ڈی آر کی ہی ایک دیگر رپورٹ کے مطابق یوپی میں اس بار کے اسمبلی انتخابات میں 84 فیصد امیدوار ٹھیکیدار، بلڈر، کان مافیہ، ایجوکیشن مافیہ اور چٹ فنڈ کمپنی چلانے والے لوگ ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کی سیاسی پارٹیوں کو کالے دھن کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ٹکٹوں کی بولی سے لیکر پارٹی کو چندہ تک چاہئے ہوتا ہے۔ دیش میں بدعنوانی کا ایک طرح سے سب سے بڑا ذریعہ پولٹیکل فنڈنگ ہوتی ہے اور کالے دھن کے معاملے میں ساری پارٹیاں ایک جیسی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار نے نوٹ بندی سے بچانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو باہر نکلنے کا راستہ تھما دیاہے۔ کچھ معنی میں تو نوٹ بندی کے اہم مقصد کو ہی ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں میں کالے دھن پر روک کی کوشش کے تحت حکومت ہند کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ قانونوں میں ترمیم کرکے جس سے کہ ٹیکس میں چھوٹ انہی پارٹیوں کو ملے جو سیٹیں جیتیں 2000 روپئے اور اس کے اوپردئے جانے والے پوشیدہ چندے کی تفصیل بتائی جائے۔اگر سیاسی جماعتیں اس تجویزکو مان لیتی ہیں تو ممکن ہے بدعنوانی پر نکیل لگ سکے ورنہ نہ تو بدعنوانی بند ہوگی نہ ہی کالا دھن۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2016

سال میں کئی بار کہیں نہ کہیں 16 دسمبر دوہرایا جارہاہے

16 دسمبر آتے ہیں ہمیں وسنت وہار میں رونما نربھیا کانڈ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ 16 دسمبر 2012ء کانڈ آج بھی سبھی دیش واسیوں کو دہلا دیتا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنے برس گزرنے پر بھی کچھ بھی نہیں بدلا۔ اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ کے گھروالوں سے کئے گئے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔ نربھیا ہم شرمندہ ہیں ، تمہارے قاتل آج بھی زندہ ہیں، ایسا کوئی دن نہیں جاتا جب شام ہونے کے بعد خواتین کے ساتھ کوئی نہ کوئی واردات نہیں ہوتیں۔ بھارت سرکار کے اعدادو شمار کی مانیں تو عورتوں کے تئیں جرائم میں 18 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چار سال پہلے کے مقابلے میں 10 ہزار سے زیادہ محض آبروریزی کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکانے والے حقائق یہ ہیں کہ سزا کی شرح محض 29 فیصدی پر آ ٹکی ہے۔ مطلب ایک سال میں 100 میں سے29 ملزمان کو ہی سزا ہوپا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نربھیا کانڈ کے بعد ہوئے تمام ہنگامے اور وعدے، اعلانات کے باوجود کیا اس طرح کی واردات کو روکا جا سکے ؟ نہیں بالکل نہیں۔ دیش کی راجدھانی ہونے کے باوجود خواتین جرائم میں کمی نہیں آئی ہے۔ 16 دسمبر کے سانحہ کے بعد دیش کی سب سے بڑی عدالت نے کئی فیصلے کئے تھے جس میں عدلیہ اور انتظامیہ کو جوڑا گیا تھا۔ گھناؤنے جرائم کو روکنے کے لئے اعلی اختیار یافتہ رٹائرڈ ججوں کی دو کمیٹی بنی تھیں جس میں ایک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے۔ ایس ۔ ورما کی کمیٹی تھی اور دوسری دہلی ہائی کورٹ کی جج اوشا مہرہ کی کمیٹی تھی۔ دونوں نے کئی سفارشیں کی تھیں اس میں سے زیادہ تر بحث کا اشو بن کر کاغذوں میں سمت گئیں۔ اگر خواتین کرائم میں اضافہ ہورہا ہے تو اس کے لئے عدلیہ اور انتظامیہ قصور وار ہے لیکن سیاسی سطح پر قوت ارادی کی کمی صاف نظر آتی ہے۔ دکھ سے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سماج میں بھی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ پولیس کے مطابق آبروریزی کے زیادہ واقعات قریبی رشتے دار کرتے ہیں اس میں جج کیا کریں گے، پولیس کا کرے گی؟ مہلا سرکشا انتظام کتنے نا کافی ہیں اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی تھانوں میں مہلا ڈیکس نہیں ہے ۔ اتنا طے ہے کہ مہلا سرکشا کو لیکر اب تک کی گئیں کوششیں نا کافی ہیں۔ صرف پولیس کو ہر ٹائم کوسنے سے کام نہیں چلے گا۔ راجدھانی کے ہر علاقے میں پولیس والا نہیں ہوسکتا۔ ذمہ داری تو سبھی کو اپنی طے کرنی ہوگی۔ کہیں بھی کچھ غلط ہو رہا ہے تواپنے پرائے کا فرق کئے بغیر اس کی مخالفت کرنی ہوگی۔ اگر آپ چپ رہتے ہیں تو کل کو دوسرا بھی چپ رہے گا۔ یہی خاموشی ناپاک ارادوں کو تقویت دیتی ہے۔ انہی اسباب سے سال میں کئی بار کہیں نہ کہیں 16 دسمبر کا واقعہ دوہرا دیا جاتا ہے۔ آج بھی وہی سوال کھڑے ہیں جو16 دسمبر 2012ء کو تھے۔
(انل نریندر)

ہائی وے پر شراب ٹھیکوں پر پابندی

قومی و صوبائی شاہراؤں کے کنارے شراب کی فروخت ممنوع کرنے کا عزت مآب سپریم کورٹ کا حکم لائق خیر مقدم ہے۔صحیح بات تو یہ ہے کہ شراب بندی کی بات توسبھی کرتے ہیں لیکن اسے نافذ کرنے میں کوئی بھی سرکار یا ریاستی حکومتیں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ وجہ صاف ہے کہ انہیں زیادہ فکر محصول آمدنی کی رہتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اپنے تازہ فرمان میں صاف کردیا ہے کہ قومی شاہراؤں کے کنارے شراب کی دکانیں چلنے دینے کے پیچھے محصولات کی جائز وجہ نہیں ہوسکتی۔ فیصلے کا پیغام صاف ہے کہ انسانی زندگی اور پبلک ہیلتھ بالا تر ہے۔ پابندی ہائی وے کے 1500 میٹر دائرے میں نافذ ہوتی ہے۔ ہائی وے کے کنارے بنے موجودہ ٹھیکوں کے لائسنس کی بھی 31 مارچ کے بعد سے تجدید نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے ہائی وے کے کنارے لگے شراب کے اشتہار و سائن بورڈ ہٹانے کا بھی حکم دیا ہے۔ پچھلے ہفتے کورٹ نے سڑک حادثوں میں قریب ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی موت پر تشویش جتائی تھی۔ 7 دسمبر کو اس سے وابستہ عرضیوں پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے پنجاب سرکار کو سخت پھٹکار لگائی تھی۔ پنجاب سرکار نے سپریم کورٹ سے راحت کی مانگ کرتے ہوئے کہا تھاکہ ٹھیکے وہاں کھولنے کی اجازت دی جائے جہاں ایلیویٹڈ ہائی وے ہے۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شراب لابی طاقتور ہے اس لئے پنجاب حکومت نے بڑی تعداد میں لائسنس دے رکھے ہیں۔ محکمہ آبکاری و وزیر اور سرکار خوش ہے کیونکہ وہ پیسہ بنا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مرنے والوں کو ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے دئے جاتے ہیں۔ سرکار کو لوگوں کی بھلائی کے لئے بھی سوچنا چاہئے۔ عدالت میں داخل عرضیوں میں حادثات کے جو اعدادو شمار بتائے گئے ہیں وہ خوف پیدا کرنے والے ہیں۔ ان کے مطابق دیش بھر میں سال2015ء میں پانچ لاکھ حادثوں میں اتنی ہے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی موت ہوگئی تھی اس کا مطلب ہے کہ ہر دن 1374 حادثوں میں 400 موت اور ہر گھنٹے اوسطاً 57 حادثوں میں 17 لوگوں کی موت ہوتی ہے۔ اس اندازے کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ حکومتیں قومی شاہراؤں پر شراب کی بکری خود بند کریں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہرحال شراب پی کر گاڑی چلانے کے علاوہ سڑک حادثات کے لئے کئی اور وجوہات بھی ذمہ دار ہیں۔ مثلاً بنیادی ڈھانچے کی خامی، زمینی ٹرانسپورٹ وزیر نتن گڈکری کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے سڑک حادثوں کی اہم وجہ سڑکوں کی خراب ڈیزائننگ بھی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے دیش میں ٹریفک بھلے ہی تیزی سے بڑھتی رہی ہو لیکن ٹریفک سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل بہت کم ہے۔ ہم ہر روز سڑکوں پر دیکھتے ہیں کہ چلانے والے کس طرح لاپرواہی سے گاڑی چلاتے ہیں۔ ٹریفک قاعدے ضوابط کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان قواعد پر عمل بھی محفوظ ٹریفک کا اہم تقاضہ ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...