08 فروری 2020

این آر سی :پورے دیش میں لاگو کرنے کا کوئی پلان نہیں

دیش میں کئی جگہوں پر شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کو لے کر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں این آر سی کے معاملے پر وزارت داخلہ کی جانب سے لوک سبھا میں این آر سی پر وضاحت کی گئی ہے ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے سرکاری وضاحت پڑھتے ہوئے کہا کہ اسے ابھی تک دیش بھر میں لاگو کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔شاہین باغ میں جاری دھرنے پر بیٹھی خواتین کے چہرے پر اس خبر کے بعد خوشی کی امید کی کرن نظر آئی ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی این آر سی ،سی اے اے اور این پی آر کو لے کر ہے ۔جب تک مرکزی حکومت ان تینوں کو واپس نہیں لیتی یا سی اے اے میں ترمیم کر سبھی مذہب کے لوگوں کو شامل نہیں کرتی ان کا مظاہرہ جاری رہے گا بہر حال مظاہرے کی جگہ تک جانے والی ہر گلی میں بھاری تعداد میں پولیس فورس اور آر اے ایف کے جوان تعینات ہیں ۔وزیر مملکت داخلہ نتیا آنند رائے نے لوک سبھا میں چندن سنگھ ،ناگیشور راﺅ کے سوالات کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی رائے نے کہا کہ ابھی تک این آر سی کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ لیا ہی نہیں گیا دونوں ممبران نے سوال پوچھا تھا کہ کیا سرکار کہ پورے دیش میں این آر سی لانے کی کوئی اسکیم ہے ؟لوک سبھا میں ایم پی نواب خاں نے ایک سوال میں سرکار سے جاننا چاہا کہ کیا مسلم پناہ گزینوں کو اب بھارت میں شہریت فراہم کی جائے گی تب مرکزی وزیر نتیا آنند نے تحریری طور پر بتایا کہ شہریت فراہم کرنے کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہاں ضروری شرطوں کو پورا کرنے والے غیر ملکیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ۔بھلے یہ کسی مذہب کے ہو سکتے ہیں ۔شاہین باغ مظاہرے میں شامل ایک خاتون رخسار بےگم نے کہا صبح جب انہیں یہ خبر ملی کہ این آر سی کو پورے دیش میں نافذ نہ کرنے کا کوئی پلان نہیں ہے تو ان کے اندر تھوڑی سی امید جاگی ۔اور آگے کی باقی لڑائی بھی وہ جلد جیت لیں گی وزیر اعظم کے بیان پر بھی مظاہرین نے ناراضگی دیکھنے کو ملی ایک دوسری خاتون نازیہ نے کہا کہ دہلی چناﺅ کی وجہ سے مرکزی حکومت کی پوری توجہ شاہین باغ پر لگی ہے اگر شاہین باغ تجربہ ہو رہا ہے تو باقی ریاستوں میں سی اے اے این آر سی ،اور این پی آر کو لے کر جو احتجاج ہو رہے ہیں وہ کیا ہیں ؟یہاں پر اتنے دنوں سے عورتیں سڑک پر بیٹھی ہیں وزیر اعظم کو پتہ ہے کہ وہ کس لئے بیٹھی ہیں انہوںنے کہا کہ اگر یہ کسی پارٹی کا پروپگنڈہ ہوتا تو مہلائیں اتنے دن تک سڑک پر نہ بیٹھی ہوتیں ۔الٹا کرپشن ختم کرنے کے نام پر نوٹ بندی ،کے ذریعہ عام لوگوں کو لائن میں کھڑا کیا گیا اسے بھی تجربہ کہتے ہیں جو اپنے پروپگنڈے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے سیاسی پارٹیاں عام لوگوں کو سڑکوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہیں جبکہ شاہین باغ میں جاری احتجاج کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس احتجاج کو کھڑا کرنے میں کسی اپوزیشن پارٹی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

آج دہلی میں پولنگ سبھی پارٹیوں نے جھونکی اپنی پوری طاقت

دہلی میں آ ج اسمبلی چناﺅ کے لئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جنتا فیصلہ کرئے گی کہ دہلی کی گدی پر کون سی پارٹی بیٹھے گی ؟واضح ہو کہ جمعرات کو 6فروری کی شام کو چناﺅ مہم کا آخری دن تھا دہلی اسمبلی چناﺅ کے دنگل میں پارٹیاں آخری ٹائم تک کوئی کسر چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں صبح سے ہ تینوں بڑی پارٹیاں عام آدمی پارٹی،بی جے پی،اور کانگریس سمیت آزاد امیدواروں نے بھی چناﺅ مہم کے آخری دن اپنی پوری طاقت جھونک ڈالی ،پارٹیوں کے ورکر صبح سے ہی امیدواروں کے گھر پہنچے اور ان کے ساتھ گھر گھر جا کر لوگوں سے ووٹ مانگنے نکلے کچھ بڑے نیتاﺅں نے روڈ شو کا سہارا لیا ،تو کچھ نے چھوٹی چھوٹی نکڑ سبھائیں کیں اس چناﺅ میں وکاس کے اشو سے زیادہ توجہ شاہین باغ ،سی اے اے مخالف مظاہرہ زیادہ بڑا اشو بن کر ابھرا ،بی جے پی اور عآپ پارٹی نے ایک دوسرے پر زبردست حملے کئے اروند کجریوال ہنومان چالیسا پڑھیں اور خود کو کٹر ہندو دیش بھگت ثابت کرنے میں لگے رہے ۔حالانکہ بی جے پی کا زیادہ زور اس چناﺅ میں دیش بھگتی کا رہا ۔اس معاملے میں کانگریس نیتا ﺅں نے جم کر دونوں عآپ اور بی جے پی پر جم کر نکتہ چینی کی عآپ نے دہلی کے اصل اشو سے بھاجپا پر مفاد عامہ کے جڑے اشوز کے ذریعہ بی جے پی پر الزام لگایا کہ عآپ پارٹی کے امیدوار اپنے سطح پر علاقے کے کمپینگ سے جڑے رہے ۔سنگ رور(پنجاب)سے عآپ کے ایم پی بھگونت سنگھ مان چھ جگہ رریٹھالہ ،روہنی،شیلم پور،گھنڈا،مصطفی آباد،روہتاش نگر میں روڈ شو کیا ۔آخر ی دن بی جے پی پورے دم خم کے ساتھ چناﺅ مہم میں اتری میڈیا کو 46پروگراموں کی جانکاری دی گئی جس میں روڈ شو ،نکڑ سبھائیں قابل ذکر ہیں ۔بی جے پی کی جانب سے قومی صدر جے پی نڈا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ،اسمرتی ایرانی ،منوج تواری ،دی گریٹ کھلی،سنی دیول،یوراج سنگھ چوہان،پویش گوئل،مہیش شرما ،ہردیپ سنگھ پوری ،نتیا آنند رائے ،سنجیو بالیان،انوراک ٹھاکر،ہنس راج ہنس،برج بھوشن،چرن سنگھ،سائنا این سی ،اور منوہر لال کھٹر جیسے سرکردہ دہلی کی گلیوں میں امیدواروں کے ساتھ ووٹروں کو رجھانے میں لگے رہے ۔دہلی میں کانگریس کے امیدوار اپنی سطح پر چناﺅ مہم میں لگے ۔اور اس میں فلم اداکار راج ببر ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا نے چناﺅ مہم میں حصہ لیا اس سے پہلے راجستھان کے نائب وزیر اعلیٰ سچین پائلٹ ،شتر گھن سنہا،پنجاب کے وزیر اعلٰ کیپٹن امریندر سنگھ ،فلم اداکارہ نغمہ بھی کمپین کر چکی ہیں ۔بعد میں کانگریس نیتا راہل گاندھی سمیت کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزیر اعلیٰ میدان میں اترے بھاجپا کے اسٹار کمپینر پردھان منتری نریندر مودی نے دو ریلیاں کیں ۔جبکہ ان کی کیبنٹ وزیر اعلیٰ اور ممبران پارلیمنٹ نے قریب سو روڈ شو کئے ۔پد یاتراﺅں سے بھاجپا نے دہلی کی سڑکوں کو گنایا عآپ کی طرف سے سی ایم کجریوال نے 55روڈ شو اور 30ریلیوں کے ذریعہ جنتا سے رابطہ مہم میں حصہ لیا راہل پرینکا سمیت ،کئی سرکردہ نیتا بھی چناﺅ مہم میں اترے کانگریس نے اب تک 450پد یاترایں کیں ایک رپورٹ کے مطابق دہلی اسمبلی چناﺅ میں جہاں ایک طرف جھاڑو کی مانگ بڑھ گئی وہیں کمل کے پھول کی ڈیمانڈ معمول پر رہی کئی مقامات پر عآپ کے ورکروں کے ذریعہ جھاڑو بانٹی گئی تو کہیں جھاڑﺅں کو ہاتھ میں لے کر الگ الگ حلقوں میں ریلیاں نکالتے دکھائی دیے ۔پچھلے دنوں جھاڑو بنانے والوں کو کثیر تعداد میں آرڈر ملے ابھی حال ہی میں گاندھی نگر سے عآپ پارٹی کے کسی ورکر نے 1200جھاڑو بنوائی یوں تو عام طور پر ایک دن میں 300سے 400جھاڑو بنتے ہیں لیکن مانگ کو دیکھتے ہوئے یومیہ 600سے 700جھاڑو بنی ۔بھاجپا کے چناﺅ نشان کمل کی فروخت اس چناﺅ مہم میں معمول کے مطابق رہی اور چناﺅ کا کمل کی سیل پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا لوک سبھا چناﺅ ہو یا اسمبلی پارٹی مہم میں پھولوں کا استعمال کم ہی دیکھا گیا ۔اب یہ دیکھنا ہوگا کہ 11تاریخ کو جب ای وی ایم سے کاﺅنٹنگ ہوگی تب پتہ چلے گا کہ کس پارٹی کا چناﺅ نتائج میں پلڑا بھاری رہتا ہے ۔

(انل نریندر)

07 فروری 2020

سیاچین میں جوانوں کےلئے راشن کی کمی

سی اے جی کی تازہ رپورٹ جو پیر کے روز پارلیمنٹ میں رکھی گئی اس نے ہماری تشویش بڑھا دی ہے بجٹ کی کمی کا سامنا کر رہی ہماری ہندوستانی فوج کو سامان کو سپلائی کا ایک انکشاف ہوا ہے سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سیاچین،لداخ اور دیگر اونچائی والے مقامات میں تعینات جوانوں کو ضروری سازو سامان کے ساتھ ساتھ ان کے لئے راشن کی قلت پڑی ہوئی ہے ۔کیگ نے اپن رپورٹ میں مزید بتایا کہ فوجی دستوں کو یومیہ طاقت کی ضروریات کی سپلاءکے لئے راشن کا پیسہ کم دیا جا رہا ہے یہ فورس کی ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ وہاں کھپت کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے ۔وہاں راشن کی قیمت زیادہ ہے اور مہنگی قیمت کے سبب جوانوں کو کم راشن مل پاتا ہے ۔جس وجہ سے انہیں انرجی کی دسیتابی 82فیصد تک ہی کم ہوئی ہے ۔جوانوں کو ضروری سازو سامان دستیاب کرانے میں دیری ہوئی جس کے چلتے یا تو جوانوں نے پرانے ہتھیاروں سے کام چلایا یا بغیر ہتھیار کے رہے کچھ سازو سامان کے معاملے میں بھی 62سے98فیصد کمی درج کی گئی ۔اونچائی والے علاقوں میں جوانوں کے لئے ضروری کپڑے و سازو سامان کی دستیابی میں چار برس کی تاخیر ہوئی اور بہت سو کو نومبر 2015سے اور ستمبر2016کے دوران کثیر المقاصد جوتے نہیں دئے گئے جس کے چلتے انہیں پرانے جوتوں کو ہی مرمت کر کے کام چلانا پڑا ۔اس کے علاوہ جوانوں کے پاس پرانے قسم کے فیس ماسک ،جیکٹ ،سلیپنگ بیگ،وغیرہ خریدے گئے جبکہ نئے طرز کے سامان بازار میں دستیاب تھے ۔ان نا گزیں حالات میں تعینات جوان جدید طرح کے سامان سے محروم رہے ڈیفنس تجربہ کا لیبوٹری کے ذریعہ ریسرچ ڈیولپمینٹ کے معاملے میں پچھڑنے سے اونچائی پر استعمال ہونے والے سازو سامان کے معاملے میں بیرون ملک سے منگانے پر منحصر رہی ۔جبکہ سیاچین وغیرہ میں جدید سامان بے حد ضروری ہے ۔روپورٹ کے مطابق زیادہ اونچائی والے مقامات پر فوجیوں کے لئے رہائشی سہولت دسیتاب کرانے کے لے پروجکٹ عارضی طور سے لٹکے رہے ۔پائلٹ یوجنا کے تحت تیار رہائشی پلان کو استعمال کنندان کو سونپنے میں دیری کی گئی دراصل پہلے اس کے گرمی پھر سردی کے تجرے کئے گئے اس کے بعد ان کی توثیق کے لئے ایک اور تجربہ ہوا اس میں کافی وقت برباد ہو گیا ۔جس وجہ سے خطرناک آب وہوا کی صورتحال میں کام کر رہے فوجیوں کو اور دقتیں ہوئیں حالانکہ فوج نے ان سب الزامات کی تردید کی ہے لیکن وقتا فوقتا ہمارے فوجی بھی یہ کمیاں سامنے لاتے رہتے ہیں ۔

(انل نریندر)

بھاجپا کا وار،سی ایم کجریوال کو پھر بولی آتنکی

چناﺅ میں اب ایک دن بچا ہے 8تاریخ سنیچر کے روز ووٹ پڑیں گے اور پتہ لگے گا کہ دہلی اسمبلی میں کون کامیاب ہوگا؟یا یوں کہیئے کہ دہلی کی گدی پرکون بیٹھے گا؟سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنے سرکردہ لیڈروں کو چناﺅ میدان میں اُتار دیا تھا وہیں چناﺅی بڑھت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ تیز رہا بھاجپا ایم پرویش ورما کی طرف سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال کو آتنکوادی کہے جانے کے معاملے میں کافی طول پکڑا مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر نے بھی کجریوال کو خود آتنکوادی کہہ ڈالا تھا اور ایک بد امنی پسند و دہشتگردی میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا کجریوال کو دہشتگرد کہنا صحیح نہیں مانا جا سکتا ۔ایک بد امنی پسند دیش کے سسٹم کے خلاف ہوتا ہے جبکہ ایک دہشتگرد دیش کے خلاف ہوتا ہے ۔اور وہ دہشتگردانہ واردات انجام دیتا ہے جو تشدد پر مبنی ہوتی ہے ۔اس لئے کسی بد امنی پسند اور دہشتگرد میں تھوڑا فرق ہوتا ہے اس لئے کجریوال کو دہشتگرد کہنے پر چناﺅ کمیشن نے پرویش ورما کو وجہ بتاﺅ نوٹس جار ی کیا تھا اور ان پر چناوءپرچار میں دو مرتبہ پابندیاں بھی لگائی تھیں ۔بھاجپا کے سینئر لیڈر پرکاش جاویڈکر نے میڈیا سے کہا کہ کجریوال اب معصوم چہرہ پیش کر کے سوال کر رہے ہیں کہ کیا میں آتنکوادی ہوں ؟آپ آتنکوادی ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لئے بہت ثبوت ہیں آپ نے یہ خود ہی کہا تھا کہ عآپ پارٹی بد امنی پسند ہے بد امنی پسندی اور دہشتگردی میں بڑا فرق نہیں ہوتا ۔جاویڈکر نے یہ بیان اسمبلی چناﺅ کے دوران موگہ میں خالستانی کمانڈر گریندر سنگھ کے گھرپر رات رکنے کا اشو بھی اُٹھایا انہوںنے کہا کہ آپ جانتے تھے کہ وہ ایک آتنکوادی تھا پھر بھی آپ ا س کے گھر رکے جاویڈکر کے بیان کے بعد عآپ پارٹی میں ناراضگی کی لہر پیدا ہونا فطری تھی ۔عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے پیر کو کہا کہ اور بھاجپا کو جیل بھیجنے کی چنوتی دے دی جیل میں ڈال کر دکھاﺅ سنجے سنگھ نے کہا کہ چناﺅ میں ہار کے ڈر سے بھاجپا کے نیتا اروند کجریوال کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کر رہے ہیں ۔جن کے لئے ان پر مقدمہ درج کر کارروائی ہونی چاہیے پہلے ایک ایم پی نے کجریوال کو آتنکواد کہا تھا پھر اس کے بعد بھاجپا ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے انہیں بندر کہا اس کے بعد اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگیہ آدتیہ ناتھ نے ان کی بیماری کا مذاق اُڑایا انہوںنے کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ دہلی کی راجدھانی جہاں پارلیمنٹ ہاﺅس ہے اور پوری سرکار ہے چناﺅ کمیشن ہے وہاں اس طرح کے بیان بازی کے واقعات ہو رہے ہیں الٹے سیدھے الفاظ کا استعمال ہو رہا ہے ؟

(انل نریندر)

06 فروری 2020

شرجیل کا اعتراف،سارے ویڈیو میرے ہی ہیں

کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی دیش سے آسام کرنے کا ملک مخالف تقریر کرنے والے شرجیل امام سے پوچھ گچ ہو رہی ہے اور ایس آئی ٹی اس کے موبائل کال کی تفصیلات جا ن رہی ہے اُدھر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل یہ جانچ کرنے میں لگی ہے کہ اس کے دماغ میں نفرت کا زہر کیسے آیا ہے؟وہ کسی دہشتگر تنظیم سے تو نہیں رغبت رکھتا ہے ۔اسپیشل سیل کے ڈی سی پی پرمود کشواہا نے اس سے چانکیہ پوری میں واقع کرائم برانچ کے دفتر میں کافی دیر تک پوچھ تاچھ کی یہ ٹیم اسے بہار کے جہاں آباد سے دہلی لائی تھی پوچھ تاچھ کے بعد اسے چار بجے کورٹ میں پیش کیا گیا کرائم برانچ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ شرجیل نے بتایا کہ جامعہ نگر اور یوپی کے علیگڑھ شہر میں اشتعال انگیزی پر مبنی تقریر کرنے کی بات قبولی ہے اس نے پہلے سے کوئی تحریری تقریر نہیں تیار کی تھی اور وہ اسٹیج پر سیدھے آکر دیش مخالف بیان جذبات میں آکر دے گیا کرائم برانچ یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ شرجیل کو ایسا بیان دینے کے لئے کسی نے اُکسایا تو نہیں تھا شرجیل نے بتایا کہ وہ بہار میں اپنے گاﺅں جا رہا تھا اس سے پہلے وہ جامعہ اور علیگڑھ گیا تھا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے تو اس نے اپنا موبائل بند کر دیا اور گاﺅں میں وہ امام باڑے میں چھپ کر رہ رہا تھا ایک دو دن وہ گاﺅں کے لوگوں کے گھروں میں چھپا رہا انسپکٹر پی این جھا کی ٹیم نے اس کو گاﺅں میں پہلے اس کے بھائی کو حراست میں لیا تو اس سے شرجیل کا سراغ مل گیا اور بعد میں اس کو گھر کے پاس سے پکڑا گیا ملک کی بغاوت کے الزام میں پھنسا شرجیل امام بھارت کو اسلامی دیش بنانا چاہتا تھا اسے نہ تو آئین پر بھروسہ ہے اور نہ ہی سرکار پر ذرائع کے مطابق کرائم برانچ کی پوچھ تاچھ میں ملزم نے یہ بات مانی ہے کہ پولیس نے دعویٰ کی کہ اس نے اعتراف کیا ہے کہ سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں اشتعال انگیز بیان دینے کے اس کے جتنے بھی ویڈیو وائرل ہوئے ہیں وہ سبھی اصلی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ شرجیل نے 16جنوری کو اے ایم یو میں قریب ایک گھنٹے تک بھڑکیلی تقریر کی تھی اور اس نے وہاں جوش میں آکر آسام کو دیش سے الگ کرنے کی بات کہہ ڈالی اس کا مقصد دیش سے آسام کا رابطہ کاٹنا تھا نہ کہ دیش سے الگ کرنے کا پولیس کا کہنا ہے کہ شرجیل مذہبی طور پر کٹر ہے اور ہر سوال کے جواب میں دیش مخالف باتیں کرتا ہے کرائم برانچ کو شک ہے کہ شرجیل اسلامی یوتھ فیڈریشن اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے جڑا تو نہیں ہے حالانکہ ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور اس نے پولیس کے ذریعہ لگائے گئے سبھی الزامات کو مستر د کیا ہے ۔

(انل نریندر)

شاہین باغ چکرویوسے کجریوال کو نکلنے کی چنوتی

راجدھانی دہلی میں ساﺅتھ دہلی کے علاقے اوکھلا کی بستی شاہین باغ میں پچھلے قریب پونے دو مہینے سے جاری دھرنا آہستہ آہستہ اسمبلی چناﺅ کا سب سے بڑا اشو بن گیا ہے ۔شہریت ترمیم قانون جب لاگو ہوا تھا اس کے پیچھے شاید یہ ارادہ تھا کہ اس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر حملہ کرنے کا یہ اشو اچھا ہے اور آہستہ آہستہ اس کو لے کر مظاہرہ دووسرے شہروں میں بھی پھیل گیا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بھاجپا نے اسے ہوا دینی شروع کر دی ہے دراصل بھاجپا نے اس چناﺅ میں شاہین باغ میں ہو رہے سی اے اے مخالف دھرنے کو چناﺅی اشو بنا دیا ہے اور ان کے تمام بڑے نیتا جس میں خود وزیر اعظم بھی شامل ہیں نے دھرنے کو لے کر بیان بازی شروع کی ہوئی ہے چونکہ نوئیڈا کالندی کنج روڈ پر جاری اس دھرنے سے آس پاس کے کئی اسمبلی حلقوں کے لوگوں کی آمد رفت متاثر ہو رہی ہے لہذا بھاجپا کے احتجاج کا اثر ان متاثرہ لوگوں پر ہوتا بھی دیکھائی دے رہا ہے ۔مانا جا رہا ہے کہ آس پاس کی آٹھ سے دس سیٹوں پر اثر پڑے گا شاہین باغ اشو کی بدولت ایک وقت پست نظر آرہی بھاجپا اپنے کور ووٹر (30سے35فیصدی)کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی پڑ رہی ہے ۔پارٹی کا جارحانہ ہندتو اشو کا اثر اب تک ان فلوٹنگ ووٹ قریب 20سے22فیصد ی جس کی بدولت بھاجپا نے لوک سبھا چناﺅ میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی اب نہیں دکھائی دے رہا ہے اس کو اسمبلی چناﺅ میں جیت کے لے بھاری مشقت کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ۔لوک سبھا چناﺅ میں عآپ سے بازی ہارنے والی کانگریس پست ہے ۔کانگریس ابھی بھی پست دکھائی پڑتی ہے بھاجپا اپنے ورکروں اور کور ووٹر کو شاہین باغ کے اشو کے چلتے کافی حد تک اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔کجریوال کے پاس بھاجپا کے اس جارحانہ ہندتو کی کاٹ کرنے والا دانشور چہرہ نہیں ہے ۔اس وقت یوگیندر یادو،پرشانت بھوشن،جسٹس ہیگڑے ،کمار وشواش،کی ٹیم ان کے ساتھ ہوتی تو عآپ کی پوزیشن بہتری میں ہوتی دہلی کا چناﺅ مہابھارت کا شاہین باغ ایک ایسا چکر ویو بن گیا ہے جس سے نکلنا دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کے لئے بڑی چنوتی بن گیا ہے ۔اس کی سیاسی تصویر کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے چناﺅ میں ستر میں 67سیٹیں جیت کر ریکارڈ بنانے والے کجریوال کے اقتدار کی واپسی میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر آگیا ہے ۔شاہین باغ میں سنیچر کو جب دوسری بار گولی چلی تو عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے شاہین باغ میں دھرنا دینے والوں سے اپیل کی کہ انہیں اپنے دھرنے کو لے کر دو بار ہ غور کرنا چاہیے تاکہ اس کا سیاسی فائدہ نہ اُٹھایا جا سکے عآپ نیتاﺅں کا خیال ہے کہ شاہین باغ اب انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن عآپ پارٹی ایسے چکر یو میں پھنس گئی ہے کہ اِدھر کنواں تک اُدھر کھائی ۔

(انل نریندر)

04 فروری 2020

47سال بعد برطانیہ سے بریگزیٹ سے الگ ہوا!

یوروپی پارلیمنٹ میں بریگزیٹ معاہدے پر مہر لگنے کے بعد 31جنوری کو برطانیہ یوروپی یونین سے باقاعدہ الگ ہو گیا ہے برطانیہ کے لوگوں کے ذریعے ریفرنڈم کے قریب ساڑھے تین سال بعد برطانیہ جمعہ کو یوروپی یونین سے علیحدہ ہوگیا 23جون 2016کو ریفرنڈم میں 52فیصد ووٹروں نے بریگزیٹ کی حمایت کی جبکہ 48فیصد عوام نے اس کی مخالفت کی تھی اس موقع پر وزیر اعظم بورس جانسن شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے لئے یہ امید کی گھڑی ہے جو انہیں لگا تھاکہ یہ کبھی نہیں آئے گی لیکن بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو پریشان ہیں اور نقصان ہونے جیسا محسوس کر رہے ہیں میں سبھی کے جذبات کو سمجھتا ہوں اور بطور حکومت ہماری ذمہ داری ہے کہ میں دیش کو ساتھ لیکر چلوں اور آگے بڑھاو ¿ں ۔کنزرویٹو پارٹی کے نیتا بورس جانسن نے پچھلے سال ملگزیٹ کی کوشش کو آخری مقام تک پہونچانے کے عہد تک دیش کے وزیر اعظم بنے تھے 2016میں ہوئے ریفرنڈم سے ہوئے اب تک برطانیہ میں دو وزیر اعظم بدل چکے ہیں ۔بریگزیٹ پر آئے عوام کے فیصلے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفی دیا تھا برطانیہ نے بریگزیٹ اس لئے چھوڑا کہ برطانیہ کے لوگ سوچتے ہیں کہ یوروپی یونین بجنس کے لئے بہت ساری شرطیں لگاتا ہے اور کئی بلین پاو ¿نڈ کی سالانہ ممبرشپ فیس لیتا ہے بدلے میں زیادہ فائدہ نہیں ہوتا اس کی وجہ سے برطانیہ پیچھے جارہا ہے۔برطانیہ چاہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی حدود پر کنٹرول پا لے اور ان کے دیش میں کام یا رہنے کے لئے آنے والے باہر ی لوگوں کی تعداد گھٹا دے برطانیہ 1973میں اتحاد کے پیغام کے ساتھ بریگزیٹ میں شامل ہواتھا 47سال بعد برطانیہ اس گروپ کو الوداع کہہ رہا ہے اس طرح اب یوروپی یونین 27ملکوں کاگروپ رہ جائے گا برطانیہ اپنے فیصلے لینے کے لئے مختار ہوگا اور وہ کسی بھی دیش کے ساتھ بغیر یوروپی یونین کی منظوری کے بغیر کاروباری معاہدے کرسکتا ہے لیکن ایسے وقت جب عالمی معیشت مندی کے دور سے گزر رہی ہے بریگزیٹ دو دھار والی تلوار جیسا ہے ایک طرف بریگزیٹ یوروپی یونین کی تجارت سے متعلق شرائط سے باہر نکل جائے گا تو دوسری طرف اس کا ممبرہونے کے ناطے جو رعایت ملتی تھی وہ نہیں ملے گی۔ اس کے بعد وہ یوروپی یونین کے دیگر ممبر ملکوں کے ساتھ بغیر فیس تجارت نہیں کر سکے گا اور فیس سے در آمد کا خرچ بڑھے گا اس لئے اس کی معیشت پر اثر پڑھنا طے ہے ۔بریگزیٹ کے اثر سے بھارت بھی اچھوتا نہیں رہے گا جس کی اسوقت تقریباً سو کمپنیاں برطانیہ میں ہیں اور جیسا کہ ماہرین اندازہ لگارہے ہیں کہ پاو ¿نڈ کی قیمت میں گراوٹ آسکتی ہے ایسے میں ان کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑھ سکتا ہے ۔حقیقت میں بریگزیٹ کے تجزیہ میں تھوڑا وقت لگے گا ۔

(انل نریندر)

کجریوال بنام مودی ،شاہ و تمام بھاجپا نیتا

دہلی اسمبلی انتخابات میں مشکل سے چار یا پانچ دن بچے ہیں بھاجپا نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے بالی ووڈ کی ایک فلم آئی تھی شعلے اس فلم میں ایک طرف سنجیو کمار،دھرمیندر اور امیتابھ بچن جیسے سرکردہ ہیرو تھے تو دوسری طرف اکیلا گبر عرف امجد خان تھے ۔فلم ریلیز ہونے کے بعد امجد اصلی ہیرو بن کر ابھرا کہیں دہلی چناو ¿ میں بھی ایسا ناہو جائے ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی ،وزیر داخلہ ،تمام مرکزی وزیر ،مکھیہ منتری اور دوسری طرف ہے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروندر کیجریوال ۔بھاجپا نے چناو ¿ مہم میں سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں امت شاہ دن رات گلی گلی گھوم کر محنت کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی کڑ کڑ ڈوما سی بی ڈی گراو ¿نڈ میں ریلی تھی جس کو انہوں نے خطاب کیا دہلی اسمبلی چناو ¿ میں کامیابی حاصل کرنے کے مقصد سے بھاجپا کی تابڑ توڑ ریلیاں جاری ہیں 23جنوری سے 31جنوری تک بھاجپا کے تمام نیتاو ¿ں نے دہلی بھر میں 2952چناو ¿ ریلیاں کر لی ہیں ان میں بھاجپا کے قومی صدر سمیت سبھی بڑے نیتا مرکزی وزراءکئی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ اور ایم پی اور عہدے داران نکڑ سبھاو ¿ں میں دہلی کی جنتا سے سیدھا رابطہ کر رہے ہیں دوسری طرف مضبوطی سے ڈٹے اروندر کیجریوال دہلی کے اقتدار پر تیسری مرتبہ قابض ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے وقت کے ساتھ اپنے میں کئی تبدیلیاں کیں ہیں ان کا مزاج ان دنوں بدلہ بدلہ نظر آرہا ہے ۔یہ تبدیلی 2019کے لوک سبھا چناو ¿ میں ہار کے بعد آئی ہے ۔اب وہ مرکز سے بغیر ٹکراو ¿ کے مل جل کر کام کرنے کی بات کرتے نظر آتے ہیں اتنا ہی نہیں کیجریوال نے وزیر اعظم و مرکز سے تعاون ملنے پر شکریہ ادا بھی کیا ہے حال ہی میں جب پاکستان کے ایک وزیر نے مودی کو ہرانے کی بات کہی تھی تو اروندر کیجروال نے ٹوئیٹ کیا کہ نریندر مودی بھارت کے پردھان منتری ہیں اور وہ میرے بھی ہیں ۔دہلی کا چناو ¿ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور ہمیں دہشت گردی کے سب سے بڑے اسپانسروں کی مداخلت برداشت نہیں ہے ۔پاکستان جتنی بھی کوشش کر لے دیش کے اتحاد پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا ۔لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے کئی بار مودی اور مرکز میں مرکز کے خلاف کافی مشتعل ہوا کرتے تھے ۔راج نوا س پر دھرنے کے دوران عآپ کے نشانے پر سیدھے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے ایک مرتبہ کیجریوال نے بھی ٹیم کو بزدل اور ذہنی بیمار تک کہہ ڈالاتھا ۔لیکن لوک سبھا چناو ¿ میں 7توں سیٹوں پر ہار کے بعد کیجریوال نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے ۔پارلیمانی چناو ¿ میں مرکز کو نشانہ بنانے کی مہم ناکام ہونے کے بعد کیجروال نے خود کو جھگڑے والی حکمت عملی سے دور کر لیا اس کی جگہ ان کے رویہ میں نرمی آئی ہے اور اپنی نئی ساخت کے سہارے دہلی چناو ¿ میں اترے ہیں ۔کیجروال کی کوشش عام ووٹروں میں منفی پیغام دینے کی ہے یہ تو 11تاریخ کو پتہ چلے گا کہ کیجرال ہیرو ہیں یا زیرو ۔

(انل نریندر)

02 فروری 2020

پاکستان میں اقلیتوں پر ہوتے جرم

پاکستان میں اقلیتی ہندﺅں پر ظلم کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ہندوﺅں سے زبردستی مذہب تبدیل کے معاملے ہوں یا مندروں کو آئے دن توڑنے یا نقصان پہنچانے کے معاملے ہوں ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حال ہی میں خبر آئی ہے کہ ایک ہندو دلہن کو شادی سے منڈپ سے اغوا کر لیا گیا ۔اس کے بعد اسے زبردستی اسلام قبول کروایا گیا ۔اور ایک پاکستانی مسلم مرد سے اس کی شادی کروا دی گئی ۔پاک میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق یہ واقعہ صوبہ کے سندھ کے میٹ چاری ضلع کے ہالا شہر کا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ آرتی بائی نامی ہندو لڑکی کو کچھ لوگ اس وقت اغوا کر لے گئے جب ان کی شادی کی رسمیں چل رہی تھیں ۔بھارتی کی بعد میں شاح رخ گل نامی مسلم شخص سے شادی کر ا دی گئی ۔پولس نے شکایت کے باوجود اغوا کاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی الٹے ان لوگوں کی مدد کی جو ہندو دلہن کو اغوا کر لے گئے تھے ۔پاکستان میں اقلتیوں اور ان کے مذہبی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں ہیں گرو دوار نانک صاحب پر پتھراﺅ کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ صوبہ سندھ کے ایک گاﺅں کے مندر پر سنیچر کی رات کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا اور مورتیوں کو توڑنے کے بعد ملزم فرار ہو گئے ۔پولس نے چار نا معلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج لیا ہے ان دونوں واقعات پر اعتراض جتایا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر افسر کو طلب کیا اور سخت احتجاج میں اعتراض نامہ پیش کیا ملک میں خاص طور سے ہندو ،سکھ او رعیسائی جیسے اقلتی فرقے کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔پاکستان میں حالیہ مہینوں میں اقلیتی ہندوﺅں پر مظالم کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں اسی طرح گزشتہ اگست میں جگ جیت کور 19سال کی بھی مسلم شخص سے شادی کرائی گئی تھی اور بندوق کی نوک پر مذہب بدلوایا گیا تھا جہاں تک وہاں پولیس کا سوال ہے یہ متاثرہ خاندان کو تو چھوڑو الٹا اغوا کاروں کی مدد کرتی ہے تھار کے ایک سینئر افسر پر زیادہ دباﺅ پڑنے کے سبب کچھ گرفتاریاں کرنی پڑیں اور الزام میں چار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ان لڑکوں پر مندر توڑنے کے الزم ہیں ۔اس بے قصور لڑکی کا بھی کچھ اتا پتہ نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

کمیڈین کنال کامرا پر ائیر لائنوں نے لگائی پابندی

انڈگو ائیر لائن اور ائیر انڈیا کے بعد اسپائس جٹ اور گو ائیر نے بھی بدھ کے روز کامیڈین کنال کامرا پر ہوائی سفر پر روک لگا دی کامرا نے منگل کے روز انڈگو کی لکھنﺅ ممبئی پرواز میں ری پبلک ٹی وی کے مدیر ارنب گوسوامی کو مبینہ طورپر پریشان کیا تھا ۔ائیر انڈیا کے ترجمان نے کہا تھا کہ ائیر لائن کی انٹرنل کمیٹی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور مناسب کارروائی کرئے گی ایسا ہی بیان وستارا ائیر لائن نے دیا ہے روک لگانے کے بعد کنال نے طنز کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ مودی جی کیا میں چل سکتا ہوں یا اس پر بھی پابندی ہے ؟انہوںنے ٹوئٹ کے ساتھ رونے والی ایموجی بھی لگائی ہے ٹوئٹر پر دئیے گئے بیان میں کامرا نے کہا کہ پرواز (ممبئی ،لکھنﺅ )میں کبھی ایسا نہیں ہوا جب انہوںنے کیبن کے عملے کی ہدایت کی تعمیل نہ کی ہو کامرا نے کہا کہ میں نے کبھی سفر کرتے وقت کس مسافر کی سیکورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا میں نے صرف صحافی ارنب گوسوامی کے غرور کو چوٹ پہنچائی ہے اور ہوائی کرنے پر روک لگانا ان کے لئے حیران کرنے والی بات نہیں ہے ۔دفعہ 19کے تحت اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال کرنے پر مجھے عارضی پابندی لگائی ہے ۔میں نے کبھی نا پسندیدہ برتاﺅ نہیں کیا اور ایساکبھی نہیں ہوا جب میں نے کیبین عملے کے الزامات کی تعمیل نہیں کی ہو وزیر ہوا بازی ہردیپ پوری نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کی دیگر ائیر لائنوں کو اس طرح پابندی لگانے کی صلاح دی انہوںنے کہا کہ قابل اعتراض برتاﺅ جو اکساوئے والا ہو اور جہاز کے اندر بد امنی پیدا کرتا ہو وہ پوری طرح سے نا قابل قبول ہے ہوائی سفر کرنے والے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے والا ہے ۔

(انل نریندر)

نفرت کی سیاست

یہ شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ دہلی میں شہریت ترمیم قانون کو لے کر حمایت اور احتجاج کا سلسلہ اتنا خطرناک ہو جائے گا جہاں گولی چلنے کی نوبت آجائے گی سی اے اے پر جاری نفرت کا یہ سلسلہ اس وقت خطرناک موڑ لے گیا جب مہاتما گاندھی کی شہیدگی دوس پر جامعہ نگر میں سی اے اے مظاہرے میں گھسے ایک لڑکے نے گولی چلا دی ۔وہ چلا رہا تھا یہ لو آزادی ،گولی جامعہ کے طالب علم شاداب عالم کے ہاتھ میں لگی کہا جا رہا ہے کہ گولی چلانے والا حملہ آور نابالغ ہے ۔اور بارہویں کلاس کا طالب علم ہے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے ۔اور اس پر اقدام قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے ۔اس واقعہ کے 48گھنٹے کے اندر شاہین باغ میں ایک سرپھرے نے دھرنے کی جگہ سے چند میٹر پہلے بیری کیڈ میں گھس کر گولی چلا دی ۔اس کو پولس نے دبوچ لیا ہے ۔اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ نوئیڈا کے پاس دللو پورہ کا رہنے والا ہے ۔اس واقعہ کے بعد جامعہ اور شاہین باغ میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں ۔وہیں فائرنگ کے واقعات پر کانگریس اور بھارتیہ کمونسٹ پارٹی نے الزام لگایا کہ اس طرح کے فائرنگ کے واقعات بھاجپا نیتاﺅں کے بھڑکانے والے بیانات کا نتیجہ ہیں ۔واضح ہو کہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے 27جنوری کو ایک ریلی میں نعرے لگوائے تھے کہ دیش کے غداروں کو گولی مارو وہیں بھاجپا کے ایم پی پرویش ورما نے بھی شاہین باغ کے مظاہرین کو لے کر کہا تھا کہ یہ گھروں میں گھس کر بہن بیٹیوں سے بد فعلی کریں گے ۔وزیر داخلہ امت شاہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ای وی ایم کا بٹن اتنے غصے سے دبانا کہ کرنٹ شاہین باغ میں لگے ۔اس واقعہ پر سیاست شروع ہو گئی عآپ کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ ہار کے ڈر سے بھاجپا دہلی اسمبلی چناﺅ ٹلوانے کی سازش میں لگی ہے ۔جامعہ میں فائرنگ کے واقعہ پر دہلی اور دیش بھر میں مچے واویلے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کو کہنا پڑا کہ اس طرح کے واقعات برداشت نہیں کیئے جائیں گے اور قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا اور اس کے بعد انہوںنے پولس کمشنر سے بات کر سخت کاروائی کا حکم دیا وہیں وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے امت شاہ سے پوچھا کہ دہلی میں یہ کیا ہو رہا ہے ؟برائے کرم دہلی میں لاءاینڈ آرڈر کو سنبھالیں اور یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ احتجاجی طلباءپر گولی چلانے والے کے پیچھے کون ہیں ؟کسی سرکاری فیصلے کا پر امن اور دلائل پر مبنی احتجاج ہر شہری کا حق ہے ۔اسے تشدد کے طریقے سے روکنے کی کوشش کسی بھی طریقے سے جمہوری نہیں کہی جا سکتی ۔کانگریس کے ترجمان نے نریندر مودی سرکار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دیش کے اقتدار پر نفرت قابض ہے ترجمان منیش تواری نے یہ الزام بھی لگایا کہ معیشت کے محاز پر فیل ہونے کے بعد اب یہ سرکار دیش کو بانٹنے کی سیاست کر رہی ہے ۔جامعہ میں اور اب شاہین باغ میں جو کچھ ہوا وہ نفر ت کے ماحول کا پولرائزیشن ہے دل دہاڑے اور سیکنڑوں لوگوں کے سامنے فائرنگ یہ دکھاتی ہے کہ ماحول کتنا زہریلا ہو چکا ہے ۔

(انل نریندر)