Translater

10 دسمبر 2015

سونیا ۔راہل گاندھی عدالت میں حاضر ہوں

آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے وابستہ انگریزی اخبار ’’نیشنل ہیرالڈ‘‘ کی اربوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب راہل گاندھی ،خزانچی موتی لال ووہرا، آسکر فرنانڈیز سمیت7 لوگوں کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ ہائی کورٹ نے ان سبھی کے خلاف ٹرائیل کورٹ کے ذریعے جاری سمن کو صحیح مانتے ہوئے ان کی عرضی خارج کردی۔ عدالت نے صاف کیا کہ سبھی ایک قومی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہیں اور ان پر لگے جرائم کے الزامات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ان کے مشتبہ برتاؤ کی سچائی کا پتہ لگانے کے لئے جانچ ضروری ہے۔ معاملے کی سماعت منگلوار کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے طے کی تھی۔ عدالت میں سونیا اور راہل گاندھی کی طرف سے وکیل پیش ہوئے اور انہوں نے منگلوار کو چھوٹ دینے کی عرضی داخل کی تھی ، عدالت نے اسے قبول کرلیا ہے۔ اب عدالت نے تمام ملزمان کو19 دسمبر کو شخصی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے، جسے کانگریس نیتاؤں کے وکیلوں نے منظور کرلیا ہے اور عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ19 دسمبر دوپہر3 بجے سبھی ملزمان عدالت میں پیش ہوں گے۔ نیشنل ہیرالڈ کو شائع کرنے والی کمپنی ’دی ایسوسی ایٹڈ جرنل لمیٹڈ‘ کا قیام 1938 ء میں ہوا تھا۔ دیش کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ذریعے یہ اخبار شروع کیا گیا تھا۔ یہ اکتوبر 2008ء میں بند ہوگیا۔ ایک نئی کمپنی ’ینگ انڈیا‘ نے 2010ء میں اس کو ایکوائر کرلیا۔ اس اکوائر کے پیچھے کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ بتاتے ہیں کہ نیشنل ہیرالڈ نے 90 کروڑ کا قرض آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے لینے کا حوالہ دیتے ہوئے ’ینگ انڈیا‘ پرائیویٹ لمیٹڈ کو 50 لاکھ میں بیچ دیا۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ ’ینگ انڈیا‘ کمپنی میں سونیا اور راہل گاندھی کے 76 فیصدی شیئر ہیں۔ اس طرح ان دونوں کا اس کمپنی پر مالکانہ حق ہے۔نچلی عدالت نے 26 جون 2014ء کو بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی کی عرضی پر کیس درج کیا تھا۔ سوامی کا الزام ہے کہ ایسوسی ایٹڈ جرنل لمیٹڈ کی املاک لینے کے لئے کانگریس پارٹی نے جو 90 کروڑ روپے بطور قرض لیا تھا وہ بھی غیر قانونی ہے۔ سبرامنیم سوامی ہی اس معاملے کو عدالت لے کر گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں جو عرضی دائر کی ہے اس میں الزام لگایا گیا کہ سونیا گاندھی ۔ راہل گاندھی نے کانگریس پارٹی سے قرض لینے کے نام پر نیشنل ہیرلڈ کی 2 ہزار کروڑ روپے کی پراپرٹی ضبط کرلی ہے۔ کانگریس نیتاؤں کی طرف سے پیش ہوئے کپل سبل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو برسوں سے ڈونیشن ملتا رہا ہے۔ پارٹی اسے جیسے چاہے خرچ کرسکتی ہے۔ کوئی دیگر اس کے علاوہ سوال نہیں اٹھا سکتا۔ سوامی کے علاوہ اب تک کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔ اب تک پارٹی کو جو بھی ڈونیشن ملا تھا وہ سرکاری قواعد کے مطابق ملا تھا۔ یہ انکم تھی اور انکم غیر منقولہ جائیداد اور دوسری طرف سوامی نے اس 90 کروڑ روپے کے معاملے میں حوالہ کاروبار پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے۔ سوامی کا یہ بھی الزام ہے کہ یہ سب کچھ دہلی میں بہادرشاہ ظفر مارگ پر واقع ہیرالڈ ہاؤس کی 1600 کروڑ روپے کی بلڈنگ پر قبضہ کرنے کے لئے کیا گیا۔ سوامی نے یہ بھی کہا کہ سازش کے تحت ’ینگ انڈیا‘ کمپنی کو اے جے ایل املاک کا حق دیا گیا ہے۔ ہیرالڈ ہاؤس کو فی الحال پاسپورٹ آفس کے لئے کرائے پر دیا گیا ہے جس سے کئی لاکھوں کا کرایہ وصولہ جارہا ہے۔ سوامی کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ ہاؤس کو مرکزی سرکار نے اخبار چلانے کے لئے زمین دی تھی اس لحاظ سے اسے کمرشل مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس پورے معاملے کو سیاسی رقابت سے دیکھ رہی ہے اور پارلیمنٹ سے سڑکوں تک مظاہرے اور نعرے لگا رہی ہے۔ منگلوار کو تو پارلیمنٹ بھی نہیں چلنے دی۔ ہماراسوال ہے کہ اس معاملے میں مودی سرکار کا کیا لینا دینا ہے؟ یہ ایک مجرمانہ مقدمہ ہے جو ایک شخص نے دائر کیا ہے۔ ان سب حرکتوں سے بہتر ہوگا کہ کانگریس عدالت میں لڑے اور ثابت کرے کہ یہ جھوٹا معاملہ ہے۔ دوسری طرف اب معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔ دیکھیں عدالت میں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

ان دہشت گرد تنظیموں کے سلیپر سیل

اگر عالمی دہشت گردی پچھلے کچھ برسوں میں اتنی خوفناک شکل اختیار کرگئی ہے تو اس کے پیچھے ایک خاص وجہ ہے ان کا اپنا نیٹورک بنانا۔ اسلامک اسٹیٹ ہو، القاعدہ ہو، لشکر طیبہ ہو انہوں نے اپنے سلیپر سیل بنانے میں بھاری کامیابی پائی ہے۔ برسوں پہلے یہ ایسے یکساں نظریئے والے لڑکوں کی بھرتی کیا کرتے تھے۔ انہیں ٹریننگ دیتے ہیں، پیسے دیتے ہیں اور انہیں مختلف ملکوں کے شہروں میں چھپے رہنے کو کہتے ہیں۔ انہیں وقت آنے پر سرگرم کردیا جاتا ہے۔ سلیپر سیل دہشت کاوہ چہرہ ہے جو آپ کے اورہمارے بیچوں بیچ رہتا ہے لیکن وہ اپنی اصل پہچان اتنی اچھی طرح چھپاتا ہے کہ ہم اسے پہچان نہیں پاتے۔ وہ عام انسان کی طرح نوکری پیشہ یا کاروباری کوئی بھی ہوسکتا ہے لیکن دہشت کے آقاؤں کا پیغام ملتے ہی دہشت گردی کی واردات کو انجام دینے چل پڑتا ہے۔ یہ لوگ بیرونی ملک سے آئے دہشت گردوں کی رہائی سے لیکر ٹوہ لینے تک میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے بدلے آتنکی تنظیم انہیں قیمت چکاتی ہے یا پھر قوم کے نام پر ورغلاتے ہیں۔ عراق اور شام میں اپنی جڑیں جما چکی آئی ایس دنیا بھر میں ایسے ہی سلیپرسیل بناتی جارہی ہے۔ پیرس اور امریکہ میں حملے اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ انہی سلیپرسیل کے ذریعے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) پوری دنیا میں اپنے پاؤں پھیلانے میں کامیاب ہے۔ ایک نئی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ان سلیپر سیلوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ پیرس اور کیلیفورنیا حملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بیحد خوبصورت ہیں لیکن بیحد خطرناک اور کم عمر کی ہیں لیکن ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ پہچان ہے دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد البغدادی کی لیڈی برگیڈ کی۔ یہ ایسی ہلاکو گارڈز ہیں جنہیں بے قصوروں کا خون بہانے میں مزہ آتا ہے۔ انہیں بھی ہتھیار چلانے سے لیکر بم دھماکے تک کی سخت ٹریننگ دی جاتی ہے۔ جو لڑکیاں ان کے کام نہیں آتیں انہیں آئی ایس اپنے لڑکوں کی حوس بجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیم نے اپنے سلیپر سیل سرگرم کرنے کے لئے انٹر نیٹ کا استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ کورڈ زبان میں یہ ایسے پیغام بھیجتے ہیں جو پہلی نظر میں نارمل لگتے ہیں اور آپ ان پر غور نہیں کریں گے لیکن الفاظ کے اندر سمبلوں میں وہ کوڈ یافتہ پیغام لکھاہوگا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ ان آتنکی تنظیموں کے پاس تربیت یافتہ انٹر نیٹ ماہر بھی موجود ہیں جو اس تکنیک کو اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کی زیادہ تر خفیہ ایجنسیوں نے ایسے پیغامات کو پکڑنے میں کامیابی تو پا لی ہے لیکن ابھی تک پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ماڈرن دہشت گردی میں ان سلیپر سیل کا بہت بڑا کردار ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)

09 دسمبر 2015

ایک بار پھر دہلی لشکر طیبہ کے نشانے پر

دہلی ایک بار پھر دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے نشانے پر ہے۔ وہ پھر کسی بڑے حملے کی فراق میں ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے راجدھانی سمیت دیش کے دیگر شہروں میں فدائین اور گرینیڈ حملے کی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے لشکر انتہائی اہم شخصیتوں و بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں بازاروں میں ایسا حملہ کرسکتا ہیں۔ اس سازش کا اس وقت پتہ لگا جب اسپیشل سیل کو لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں دورجانا اور اوکاشا کے بارے میں خفیہ جانکاری ملی تھی۔ دونوں نے پاکستان مقبوضہ کشمیر سے دیش کی سرحد میں گھس پیٹھ کی ہے۔ یہ دونوں کافی وقت سے جموں و کشمیر میں رہ رہے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ پہچان چھپانے کے لئے لوگوں میں نعمان، زید اور خورشید جیسے ناموں کا استعمال کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے پاس دو پلان ہیں۔ پہلا پلان وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی کے دوران ان کی کسی ریلی پر پیرس یا 26/11 جیسا حملہ کرنا۔ دوسرا پلان یہ ہے کہ اگر وہ پی ایم کی سکیورٹی میں سیند لگانے میں ناکام رہتے ہیں تو خود کو دھماکے سے اڑا لیں گے یا پھر بھیڑ پر گرینیڈ سے حملہ کریں گے۔ پہلا پلان فیل ہوجانے پر لشکر کے پاس ایک پلان ’بی‘ بھی تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کو دہلی میں کسی بڑے نیتا یا کسی بڑی شخصیت کا قتل کرنا تاکہ سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل جائے۔ فون ٹیپنگ کے دوران مشتبہ دہشت گردوں نے کئی بار وی آئی پی لفظ استعمال کیا۔ اگر ہم جموں و کشمیر سرحد پر دہشت گردوں سے جاری جھڑپوں کو چھوڑ دیں تو عام طور پر پچھلے کچھ عرصے سے دیش کے دیگر حصوں میں دہشت گرد اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوپائے۔ ہم سمجھتے ہیں بہتر خفیہ جانکاری اور مختلف خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں میں بہتر تال میل و سرکار کی واضح پالیسی کا ہی یہ نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالورینس پالیسی کا اعلان کررکھا ہے لیکن سمجھنا یااطمینان رکھنا کہ اب لشکر جیسی جہادی تنظیم حملہ نہیں کرسکتی، یہ بھول ہوگی۔ دیش کے اندر بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں جو ان جہادیوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ان جہادی خطرناک تنظیموں پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان سرکار بھی بے بس ہے۔ یہ اگر کسی کے اشارے پر چلتے ہیں تو وہ ہے پاکستانی فوج اور خاص کر اس کا خفیہ محکمہ آئی ایس آئی۔ بہرحال ویسے بھی 26 جنوری قریب آرہی ہے اور یہ آتنکی ایسے خاص موقعوں کی تلاش میں ہمیشہ رہتے ہیں اس لئے ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکسی برتنی چاہئے۔
(انل نریندر)

پہلے بیوی کا علاج کراؤ پھر بات کرنا طلاق کی

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ آپسی رضامندی سے طلاق لینے کے معاملے میں اگر بیوی بیمار ہے تو اس کی رضامندی جائز نہیں مانی جائے گی۔ دراصل سپریم کورٹ کے سامنے ایک ایسا معاملہ آیا ہے جس میں سنگین طور سے بیمار بیوی نے 12.50 لاکھ روپے لینے کے بعدطلاق کے لئے رضامندی دے دی تھی۔ جدید ہندوستانی قانون کے مطابق میاں بیوی کی آپسی رضامندی طلاق کی جائز بنیاد ہے لیکن اس جوڑے کے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے طلاق کی عرضی نامنظور کردی۔ اس معاملے میں بریسٹ کینسر کے مرض میں مبتلا بیوی نے ساڑھے بارہ لاکھ روپے کی شکل میں تاحیات گزارا بھتے کی شکل میں طلاق لینے کی اجازت دے دی تھی۔ بیوی کا کہنا تھا کہ اسے علاج کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اس پر جسٹس این۔ وائی ۔اقبال کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ شوہر کا پہلا فرض ہے کہ وہ بیوی کا علاج صحت اور سلامتی کا خیال رکھے۔ اس کے علاج کے لئے سہولیات مہیا کرائے۔ عدالت نے ہندو روایت کے مطابق میاں بیوی کے رشتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہندو بیوی کے لئے شوہر بھگوان ہوتا ہے، اس کی پوری زندگی بلا مفاد شوہر کے لئے وقف ہوتی ہے۔ وہ شوہر کے ساتھ زندگی اور پیار ہی شیئر نہیں کرتی بلکہ سکھ دکھ میں بھی ساتھ دیتی ہے۔ وہ شوہر کی زندگی کا ایک جز ہے اور اس کے اچھے برے دنوں میں سب سے اہم ساتھی بھی ہوتی ہے۔ ایسے میں شوہر اسے ناگزیں حالات میں چھوڑ نہیں سکتا۔ عدالت نے کہا موجودہ معاملے میں شوہر نے بیوی کے علاج کے لئے پیسے دینے کی بات کہی ہے لیکن اتنا کافی نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ طلاق کی عرضی پر بیوی کے ٹھیک ہونے کے بعد ہی غور ہوسکتا ہے۔ عدالت نے اندیشہ ظاہر کیا کہ بیوی کو علاج کے لئے پیسے کی ضرورت ہے اس لئے ممکن ہے کہ اس نے ساڑھے بارہ لاکھ روپے کی رقم پانے کیلئے شوہر سے علیحدگی پر حامی بھر دی ہو۔ اس لئے بیوی نے جس دستخط کو اس کی رضامندی بتایا جارہا ہے ، ہو سکتا ہے وہ شوہر کے ذریعے کی گئی سودے بازی کا نتیجہ ہو۔ رشتوں میں ایسا نظریہ سرے سے غیرا نسانی ہے۔ واجب ہی ہے کہ کورٹ نے اسے منظور نہیں کیا۔ بنچ نے کہا کہ جب بیوی شدید طور سے بیمار ہو تو یہ ضروری ہے کہ اس وقت شوہر اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ صاف ہے کہ عدالت نے لکیرکے فقیر بن کر قانون کی تعمیل کرنے کی حمایت نہیں لی بلکہ اسے دھیان میں رکھا کہ آپسی رضامندی سے طلاق کی سہولت۔ میاں بیوی کے رشتوں میں دو اشخاص کی خواہش کو بالاتر ماننے کیلئے کہاگیا ہے لیکن صرف مکمل اہل اور آزاد شخص ہی حقیقت میں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ لے سکتے ہیں۔ انصاف کے لئے قانون کی مناسب تشریح کی اتنی اہمیت ہے جتنا اسے لاگو کرنے کی۔ اس سے انسانی جواز سسٹم قائم ہے۔
(انل نریندر)

08 دسمبر 2015

کیجریوال کی سم۔وشم اسکیم پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا

زہریلی ہوا کی مارجھیل رہی راجدھانی دہلی کو بچانے کیلئے دہلی سرکار نے ایک ساتھ آدھا درجن سے زیادہ بڑے فیصلے لئے ہیں۔ سب سے بڑا فیصلہ یکم جنوری سے سبھی پرائیویٹ گاڑیاں (اسکوٹر ہو یا کار) کو آوڈ اینڈ ایون(سم اور وشم) کے حساب سے چلانے کا ہے۔ اب ایک دن وشم اور دوسرے دن سم نمبر کی گاڑیاں سڑک پر چلیں گی۔ پبلک اور ایمرجنسی گاڑیوں کو چھوٹ ہوگی۔ اس کے علاوہ دہلی سرکار 1 جنوری سے بدرپور ، راج گھاٹ بجلی گھر بھی بند کرے گی جبکہ یوپی میں چل رہے تھرمل پاور پلانٹ کو بندکروانے کیلئے نیشنل گرین ٹریبیونل میں درخواست دے گی۔ دہلی ہائی کورٹ کے بڑے ریمارکس کے ایک دن بعد جمعہ کو وزیر اعلی اروند کیجریوال نے یہ اعلانات کئے ہیں۔ گاڑیوں کی ایسے ہوگی پہچان۔ گاڑیوں کے نمبر کاآخری ہندسہ دیکھا جائے گا۔0,2,4,6,8 سم نمبر ہیں اور 1,3,5,7,9 وشم نمبر ہیں۔اس وقت راجدھانی میں 2790566 کاریں دوڑ رہی ہیں۔ 56 لاکھ80 ہزار اسکوٹر اور 3 لاکھ57 ہزار پبلک ٹرانسپورٹ رجسٹرڈ ہیں۔ دہلی میں ہوا میں آلودگی اس وقت انتہا پر ہے 860 ۔دنیا کے کئی ملکوں میں ایسا تجربہ ہورہا ہے۔چین کی راجدھانی بیجنگ میں ایک دن چھوڑ کر گاڑی چلانے کا تجربہ 2013ء میں کیا گیا تھا لیکن یہ کامیاب نہیں ہوپایا اور بعد میں اسے نافذ نہیں کیا گیا۔ لاطینی امریکی دیش میکسیکو شہر میں ہفتے میں ایک دن گاڑیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ فرانس کی راجدھانی پیرس میں پہلے 1997 اور پھر مارچ2014ء میں سم اور وشم قاعدہ لاگو کیاگیاتھا لیکن جلد ہی اسے ہٹانا پڑا۔ کولمبیا کے شہربگوٹا میں بھی کاروں کی نمبرپلیٹ بھی اسی سسٹم سے بنائی گئی لیکن وہاں بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ اسی طرح برازیل کے شہر ساؤپاولو میں بھی یہ اسکیم فیل ہوگئی۔ ہمارا کہنا ہے کہ دہلی میں بڑھتی آلودگی اور آب و ہوا میں بڑھتے زہر کو روکنے کی سخت ضرورت ہے۔ جہاں دہلی سرکارکے ان اقدامات کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں وہیں دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ جو بھی طریقہ اپنایا جائے وہ کامیاب ہوگا بھی یا نہیں؟جب تک پبلک ٹرانسپورٹ اورمضبوط نہیں کیاجاتا گاڑیوں پر روک لگانا شاید ممکن نہ ہوسکے۔ دوسرے دیشوں میں بسوں، میٹرو کا اتنا بڑا نیٹ ورک ہے کہ لوگ نجی کاروں سے دفتر آنا جانا بند کرسکتے ہیں کوئی بھی نیا قدم چیلنج ہوتا ہے۔ ہمیں ان چیلنجوں کا سامناکرنا ہے اور دقتوں کا حل نکالنا چاہئے۔ ایک بہت بڑی چنوتی اس سسٹم کو لاگو کرانے میں ہوگی۔ دہلی پولیس کے ٹریفک محکمے میں شاید اتنی ورک فورس نہیں ہے جو سم اور وشم نمبر کی کاروں و بائیک پر کنٹرول کر سکے۔ دہلی پولیس کمشنر بھیم سین بسی نے کہا کہ ابھی تک دہلی سرکارکی طرف سے اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ جانکاری نہیں ملی ہے۔ اگر اس طرح کی کوئی تجویز ہمارے پاس آتی ہے تو ٹریفک محکمہ اس کی جانچ کرے گا اور لوگوں کے مفاد میں فیصلہ لیا جائے گا۔ شری کیجریوال نے کہا کہ وہ عوام سے سبھی محکموں سے صلاح مشورہ کرکے ہی فیصلہ کریں گے۔ سنیچر کوایک کانفرنس میں کیجریوال نے کہا کہ اسکیم کو لاگو کرنے کیلئے15 دنوں کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس سے عوام کو زیادہ پریشانی ہوگی تو فیصلے کو واپس لے لیا جائیگا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس تجویز کو سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جاناچاہئے۔ اس کی مخالفت صرف اس لئے نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ عام آدمی کی طرف سے آئی ہے۔ ہمیں اسکیم کی اچھائیوں اور پیدا پریشانیوں پر سنجیدگی سے غور کرکے ہی کسی آخری فیصلے پر پہنچنا چاہئے۔ آخر کار اس بات سے کون انکارکرسکتا ہے کہ دہلی میں آلودہ ہوا اور آب و ہوا کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

کیلیفورنیا میں پاک جوڑے نے 14 کوگولیوں سے بھونا

امریکہ میں ایک طرف فائرننگ کا واقعہ رونما ہوا ہے۔ ویسے تو آئے دن ہی امریکہ میں ایسے فائرننگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن گذشتہ بدھوار کی رات کو رونما یہ واردات ایک آتنکی واردات بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیلیفورنیا کے شہر میں ہتھیاروں سے مسلح پاکستانی نژاد میاں بیوی نے جسمانی و ذہنی طور سے کمزور لوگوں کے لئے منعقدہ کرسمس پارٹی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی جس میں 14 لوگوں کی موت ہوگئی اور17 دیگر زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فائرننگ کرنے والی عورت کو مار گرایا جبکہ دوسرے مشتبہ کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق مڈبھیڑ میں ماری گئی عورت کی پہچان 27 سالہ ترفین ملک اورمرد کی پہچان 28 سالہ سید رضوان فاروق کے طور پر کی ہے۔ فائرننگ کے دوران پارٹی میں500 سے زیادہ لوگ موجود تھے۔ پولیس نے اگلے ہی دن جمعہ کو بتایا کہ حملہ آور سید رضوان فاروق اور اس کی بیوی ترفین ملک کے گھر کی تلاشی میں انہیں ہتھیاروں اور دھماکو سامان کا ذخیرہ ملا ہے جن میں ایک درجن پائپ بم اور3 ہزار کارتوس بھی شامل ہیں۔ دونوں پاکستانی ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ ریجنل سینٹر میں قریب 150 گولیاں چلائیں بعد میں پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میں دونوں مارے گئے۔ فاروق حملے سے ایک دن پہلے اپنے ڈاٹا ڈلیٹ کرنا شروع کردیا تھا۔ حملے کے پیچھے حالانکہ ابھی بھی مقصد صاف نہیں ہوا ہے لیکن ایف بی آئی اسے ایک دہشت گردانہ وارادات ماننے سے انکار کررہی ہے۔ یہ پتہ چلا ہے سید رضوان فاروق آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے متاثر تھا۔ پاکستانی نژاد سید رضوان فاروق اور اس کی بیوی پاک شہری ترفین ملک نے برین واش کیا تھا۔ کیلیفورنیا فائرنگ معاملے سے وابستہ حکام نے بتایا کہ خاتون نے فیس بک پوسٹ پر لکھا جس میں اس نے آئی ایس چیف البغدادی کے تئیں وفادار ہونے کی بات کہی تھی۔ ترفین نے دوسرے نام سے فیس بک اکاؤنٹ بنایا اور اس میں آئی ایس کے تئیں اپنے خیالات کے بارے میں لکھا۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ جانکاری کیسے ملی۔ انہوں نے حملے کیلئے آئی ایس کے ذریعے ہدایت کی بات کولیکر کوئی تصدیق نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس کے بغیر آئی ایس کا ہاتھ ہونے کی بات کہی جاسکے۔کیلیفورنیا کے اس واقعہ کے بعد امریکہ میں رہ رہے مسلمان سکتے میں ہیں۔ اس خوفناک فائرنگ کے بعد اسلام مذہب کے ساتھ بڑھتے امتیاز کے تئیں تشویش ظاہر کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی وکالت کرنے والی بڑی تنظیم ایڈوکیسی گروپ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن کے ترجمان ابراہیم ہوپر نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسے شخصی جرائم کی طرح دیکھنا چاہئے نہ کہ اس کے پیچھے مذہبی بنیادکو۔ کسی شخص کے کام کو پورے مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ اس واقعہ کے بعد نیویارک پوسٹ میں اپنے صفحہ اول پر بڑے الفاظ میں چھاپا تھا۔ ’’مسلم ہتھیارے نے انجام دی شوٹنگ‘‘ ۔
(انل نریندر)

06 دسمبر 2015

ماحولیات اور آب وہوا سے کھلواڑ کا خوفناک نتیجہ

ادھر پیرس میں دنیا کے موسم کے بدلنے اور گلوبل وارمنگ پر چرچا ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ بھارت کے چنئی میں بارش سے قیامت آگئی۔ غیرمعمولی بارش نے چنئی پر ناقابل یقین گہر ڈھایا ہے۔ سوموار رات سے شروع ہوئی موسلا دھار بارش نے 100 سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا گزشتہ نومبر میں وہاں ہفتے بھر بارش نے پورے راجیہ کی روزمرہ کی زندگی کو ٹھپ کردیا تھا اور شہر نواسی بڑی مشکل سے اس آفت سے نکلے ہی تھے کہ اب دوبارہ شروع ہوئی بارش نے تروولور، چنئی اور کانچی پورم کی حالت خراب کرکے رکھ دی۔ ہزاروں لوگ گھر چھوڑ کر کیمپوں میں جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ موتوں کااعداد وشمار 200 کے آس پاس پہنچ چکا ہے۔ یہ کتنا سنگٹ ہے، یہ اس سے بھی سمجھاجاسکتا ہے کہ چنئی ایئر پورٹ کئی دنوں سے بند پڑا ہوا ہے اور جہاز پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں 133سالوں میں پہلی بار دی ہندو اخبار سمیت کل 4 اشو نہیں چھپ سکے۔ چنئی میں لگاتار بارش کی وجہ سے جس طرح کی حالت بنی ہوئی ہے وہ یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ قدرت اور ماحول کے ساتھ اپنے رشتے کو ایک ذمہ دارعمل میں شکل نہیں دیتے تو مستقبل کا خطرہ نزدیک آتاجائے گا۔ راجیہ کی جے للیتا سرکار اور ایڈمسٹریٹو آفیسر اس آفت کے پیچھے اشور کاہاتھ بتا رہے ہیں ۔ اس سے انکار نہیں کہ یہ قدرتی آفات ہے، لیکن چنئی سمیت پورے تامل ناڈو میں گزشتہ کچھ سالوں سے لوگ آسمان کو چھوتی جو ترقی ہوئی اس نے بھی اس آفت کو دعوت دی ہے ۔ قریب ایک دہے پہلے بارش نے ممبئی جیسے مہانگر کا جو حال کیا تھا قاعدے سے وہی سبنھلنے کے لئے کافی ہوناچاہئے تھا۔ لیکن ہم نے نہ تو گزشتہ سال سری نگر سمیت پورے کشمیر کی اس زبردست باڑھ سے سبق لیا جو نقص زدہ شہری کرن، ندیوں، تالابوں کے کنارے یا اس پر نرمان پانی کے نکاسی کے تئیں اداسینتا اور شہروں میں آبادی کے بڑھتے دباؤ سے سبق لیا نہ ہی بار بار گلوبل وارمنگ اور ماحولیات کی چیتاؤنیوں پر توجہ دی۔ دراصل ماحولیاتی ماہرین لگاتار چیتاؤنی دے رہے ہیں کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے بارش یا باڑھ سوکھے کی غیرمعمولی حالات کا سامنا ہمیں کرنا پڑے گا۔ چنئی میں بھاری بارش سے پیدا شدہ حالات سے نپٹنے کے لئے فوج، نیوی اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں راحت بچاؤ کام میں جٹ گئی ہیں۔مرکزی اور ریاستی سرکار ملک کر متاثرہ لوگوں کو بچانے اور راحت پہنچانے میں جٹی ہوئی ہیں۔ صاف ہے کہ جو حالات وہاں بنے ہیں اس سے پھر سے روزمرہ کی زندگی کو بحال ہونے میں وقت لگے گا۔ معاشی طور سے جو نقصان ہوا ہے اس کا اثر تو خیرپورے دیش پر پڑے گا۔آج سارا دیش تامل ناڈو کے ساتھ ہے اور سبھی ہرممکن مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

سزا میں نرمی اور دیری سے پھیلتی ہے اراجکتا

عزت مآب سپریم کورٹ نے بھی مانا ہے کہ سنگین جرائم کے ملزمین کو سزا دینے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتنی چاہئے کیونکہ اس سے بے ترتیبی اور نفسا نفسی پھیلتی ہے۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی صدارت والی پانچ ممبری آئین بنیچ نے بدھوار کو کہا ہے کہ یہ ایک سخت حقیقت ہے کہ راجیہ کی مشینری عام آدمی کی زندگی اور آزادی کی گارنٹی دینے میں فعال نہیں ہے۔ ایسے حالات میں کم سے کم پھانسی کی سزا یا عمر قید کے معاملے میں نرمی برتی جاتی ہے تو صرف یہی کہاجاسکتا ہے کہ اس سے اور نفسا نفسی پھیلے گی اور قانون کی حکومت نہیں رہے گی اور دیش میں نفسا نفسی کاراج ہوگا جس میں مجرم اور ان کے گروہ حکومت کریں گے۔ سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ معاملوں کو نپٹانے میں بہت زیادہ دیری سے اندر ڈرائل مجرموں کو اور سنگین جرموں میں شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے یہ رائے راجیو گاندھی قتل میں مجرموں کے ا مید کی کرن کی سوچ کو بھی نامنظور کردیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ایسے کٹر اپرادھیوں کے لئے امید کی کرن کے تصور کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کارحم برتنا غلط ہوگا۔بہت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ راجیو گاندھی کے قاتل آج بھی ہماری لچر انصاف کے طریقے کی وجہ سے پھانسی نہیں پاسکیں۔میں یہاں اپنے پڑوسی ملک پاکستان کی ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان میں ابھی ایک سال پورا نہیں ہواجب خوفناک آتنکیوں نے پشاور میں بچوں کے اسکول پر آتنکی قہربرپا کیا۔ اس آتنکی حملے میں ملوث 4 طالبانی آتنکیوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ان آتنکوادیوں کو حملے کی برسی سے پہلے پھانسی دے دی گئی جس میں قریب 150 معصوم بچوں کو مار دیا گیا تھا۔ اس قتل عام کے واقعہ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف نے ان کی اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر رحم نہیں کیاجاسکتا۔ پشاور کے پاس کوہٹ میں ایک غیر فوجی جیل میں 4آتنکیوں مولوی عبدالسلام، حضرت علی، مجیب الرحمن اور سبھی عرف یحییٰ کو پھانسی دی گئی۔ سپریم کورٹ نے اگست مہینے میں ایک حکم میں فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی اختیار دیا تھا جس کے بعد آرمی چیف نے پہلی بار اس طرح کی سزا پر مہر لگائی۔ساتوں مجرمین میں سے چھ توحید جہاد گروپ کے ہے وہی ایک تحریک طالبان پاکستان کاسرگرم رکن ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس واقعہ کو 16 دسمبر کو ایک سال پورا ہونے سے پہلے ہی انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کیا بھارت اس سے کوئی سبق لے گا؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...