Translater

26 اکتوبر 2019

احتجاجیوں کو کیسے خاموش کرتی ہے پاک فوج -پولس

ساری دنیا میں کشمیر میں انسانی حقوق کو لے کر ڈھنڈورا پیٹنے والے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کبھی اپنے دیش میں دیکھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں آئے دن پاکستان کے ذریعہ بے قصوروں پر ظلم ڈھائے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔چاہے معاملہ ان کی ناپاک کرتوت اجاگر کرنے والوں کا ہو چاہے آزاد کشمیر کا ہو چاہے بلوچستان کا ہو سب جگہ سے پاک سرکار ،فوج کے قہر ڈھائے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔کشمیر میں انسانی حقوق کا راگ رونے والے پاکستان انسانی حقوق کی اناج اُٹھانے والے شہریوں پر کیا حشر کرتا ہے اس کی ایک مثال جولائی میں ایک عورت گلیّ اسماعیل کے مارے جانے کے ڈر سے کسی طرح بچ کر امریکہ پہنچی انسانی حقوق رضا کار کے خاندان کا پاکستان میں جینا مشکل ہو چکا ہے انہیں مسلسل پریشان کیا جا رہا ہے ۔پاکستانی سیکورٹی فورس کے جوان اسلام آباد میں ان کے گھر آٹپکے اور ان کے ریٹائیرڈ پروفیسر س والد محمد اسماعیل سے کہا کہ وہ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن محمد سیکورٹی فورس کی منشا کو بھانپ چکے تھے اس لئے انہوںنے گھر سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا انہوںنے بتایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ بغیر وردی کے ہیں اور آپ کے پاس ہتھیار ہے میں باہر نہیں آﺅں گا پاکستان میں انسانی حقوق کی آواز اُٹھانے والوں اور ان کے رشتہ داروں کو ٹارچر کرنے کے لئے اس طرح کی چھاپے ماری کے واقعات عام ہو گئے ہیں پاکستانی سیکورٹی فورس کی کرتوت کی پول کھولنے والوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرنے کا چلن بڑھ گیا ہے ۔گلی اسماعیل کے والدین پر دہشتگروں کو پیسہ دینے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے گلی اور ان کے خاندان پاکستانی سرکار کی پولس انتظامیہ اور فوج کی مظالمین کے خلاف آواز اُٹھار ہے ہیں ان کی تنظیم پی ٹی ایم بارڈر ایئریا میں پاکستانی فوج کے ذریعہ کارروائی کی مخالفت کرتی ہے جسے پاک فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ بتاتی ہے ۔پختون خواہ میں انسانی حقوق کے مانگ کرنے والے پستونوں کی ہتھیا اور کئی پختون نوجوان غائب ہو چکے ہیں پی او کے میں آئے دن ظلم ڈھانے سے پاک باز نہیں آرہا ہے ۔مظفر آباد میں آزادی کی مانگ کو لے کر پر امن مظاہرہ کر رہی پارٹیوں کے ورکر وں پر پولس نے جم کر فائنرگ اور لاٹھی چارج کیا ۔جس وجہ سے دو مظاہرین کی موت ہو گئی جبکہ کئی زخمی ہونے کی خبریں ہیں ۔خاس بات یہ ہے کہ اسی منگل کے روز پاکستان نے کنٹرول لائن پر اپنے دہشتگردی کیمپ تباہ کئے جانے کی بات کو جھٹلانے کی کوشش میں غیر ملکی حقوق رضا کاروں کاچنی ہوئی جگہوں کا دورہ کرایا ۔پاکستان نے کچھ ملکوں کے سفارت کاروں کو بھی طے کردہ جگہوں کا دورہ کروا کر کنٹرول لائن پر دہشتگردی کیمپ ہونے کی بات مسترد کرنے کی کوشش کی لیکن اسلام آبادکے جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن کے افسروںنے اس دورے کا بائیکاٹ کیا پاکستان کی طرف سے دہشتگردوں کی در اندازی کو ناکام کرتے ہوئے حال ہی میں ہندوستانی فوج نے سرحد پار میں تین دہشتگردوں کے کیمپ تباہ کر دیے تھے ۔

(انل نریندر)

سبھاش چوپڑہ کے آنے سے کانگریسیوں کا ٹوٹا حوصلہ بڑھے گا

لمبی جد و جہد کے بعد کانگریس ہائی کمان نے آخر کار بدھ کے روز دہلی کی کمان اپنے پرانے نیتا سبھاش چوپڑا کو سونپ دی ہے ۔یہ دوسرا موقع ہے جب ان کو دہلی کانگریس کی باگ ڈور سونپی گئی ہے ۔اس سے پہلے وہ سال 1999سے لے کر 2002تک دہلی کانگریس کی کمان سنبھال چکے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس ہائی کمان نے صحیح فیصلہ لیا ہے سبھاش چوپڑا دہلی کانگریس کے سینئر لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ان کے نام پر عام رائے بن گئی ایک وقت تو کیرتی آزاد کو کمان سونپنے کی بات چل رہی تھی لیکن دہلی کانگریس کے لیڈروں کے الگ قومی سطح پر بھی پارٹی کے کچھ نیتاﺅں کے اعتراض پر ان کی تاج پوشی کا اعلان آخر وقت پر روک دیا گیا ۔لیکن چناﺅ کمپین کمیٹی کا چیف بنا کر ایک طرح سے آنے والے اسمبلی چناﺅ میں انہیں دہلی میں پارٹی کا چہرہ بنا دیا ہے ۔سبھاش چوپڑہ سب کو ساتھ لے کر چلنے والے لیڈر ہیں ان کے آنے سے نہ صرف کانگریس میں گروپ بندی رکے گی بلکہ پارٹی نیتاﺅں میں جو بھاگ دوڑ مچی ہوئی تھی اس پر بھی لگام لگے گی ۔خود ایک ہوشیار نیتا ہونے کے ناطے سبھاش چوپڑہ پردیش کانگریس کا خرچہ اُٹھانے میں بھی ایک طرح سے کفیل ہیں ۔حال ہی میں نو بات آگئی تھی کہ دہلی کانگریس کے کئی سنیئر لیڈر دوسری پارٹی میں جانے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔دہلی کی کالکا جی اسمبلی سیٹ سے تین بار ممبر اسمبلی رہ چکے چوپڑہ دہلی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہ چکے ہیں ان کا پنجابی برادری سے بھی تعلق ہے ۔دہلی میں پہلی بار کسی نیتا کو دہلی کانگریس کی صدارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ان کی تقرری سے دہلی میں جہاں پنجابی ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش ہے وہیں کیرتی آزاد کو چناﺅ کمپین کمینٹی کی ذمہ داری دے کر پوروانچل کے ووٹروں پر ڈورے ڈالنے کی کوشش بھی ہے ۔اس طرح سے کانگریس اعلیٰ کمان نے اپنے ترکش سے ایسے دو تیر چھوڑے ہیں جو دہلی کی سیاست میں اپنے پرانے بینک ووٹ کو پالے میں کرنے کا کام کریں گے ۔دہلی اسمبلی چناﺅ سے ٹھیک پہلے ملی باگ ڈور سبھاش چوپڑہ کے لئے حالانکہ آسان نہیں ہے کیونکہ اس وقت انہیں جو کانگریس کمان ملی ہے وہ پارٹی ایک طرح سے حاشیہ پر آچکی ہے ۔ان کے لئے سب سے بڑی چنوتی فی الحال کانگریس سے عام آدمی پارٹی میں شامل ہو رہے نیتاﺅں کو روکنا ہے ۔ابھی ایک درجن سابق با اثر ممبر اسمبلی عآپ میں جانے کو تیار بیٹھے ہیں ایک طرح سے انہیں بھی روکنا ہوگا ۔سبھاش چوپڑہ حالانکہ پہلے بھی دہلی کانگریس کی شاہی انداز میں کمان سنبھالی تھی اور انہی سبھاش چوپڑہ نے کانگریس کو 2002کے ایم سی ڈی چناﺅ میں زبردست ڈھنگ سے بھاجپا سے اقتدار چھیننا تھا 134میں سے 108سیٹ جیت کر پرچم لہرایا تھا ۔سبھاش چوپڑہ کے لئے سب سے ضروری ہے کہ شیلا دکشت کے دیہانت کے بعد کانگریسی ورکروں کا ٹوٹا حوصلہ بڑھانا ہوگا کیونکہ شیلا جی کے دیہانت کے بعد دہلی میں یہ ماحول بن گیا ہے کہ دہلی کانگریس مقابلے سے باہر ہو چکی ہے اور اس مرتبہ بھی اس کا اسمبلی چناﺅ میں کھاتہ کھلنے پر شبہ جتایا جا رہا ہے ۔حالانکہ حالیہ ہریانہ اور مہاراشٹر کے چناﺅ کے نتائج کانگریس کے لئے سنجیونی بن کر آئے ہیں اس سے کانگریسی ورکروں کا حوصلہ بڑھا ہے ۔سبھاش چوپڑہ کے قریبیوں کا کہنا ہے وہ پارٹی کو گروپ بندی سے باہر نکالیں گے ۔اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔ٹکٹ کے بٹوارے کے معاملے میں ایسے لوگوں کو آگے لے جایں گے جن میں جیت کا مادہ ہو اس معاملے میں شاید ہی بھائی بھتیجا واد چلے ممکن ہے کہ کانگریس دہلی میں حیرت انگیز طریقے سے واپسی کرئے ۔سبھاش جی کو بدھائی ۔

(انل نریندر)

25 اکتوبر 2019

پاک حمایت کےلئے ترکی اور ملائیشیا کو بھارت نے جھٹکا

اقوام متحدہ نے کشمیر مسئلے کو اُٹھانے اور حال ہی میں پیرس میں ہوئے فائنشل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ میں پاکستان کی کھل کر حمایت ترکی ملائیشیا نے کی ہے ۔بھارت نے دونوں ترکی اور ملائیشیا کو پاکستان کی طرفداری کرنے پر سخت سندیش دیا ہے وزیر اعظم نے ترکی کے دو دن کے دورے کو منسوخ کر دیا ہے ۔وہ اس مہینے کے آخر میں ترکی جانے والے تھے وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوتا بھارت اس سے پہلے ملائیشیاسے بھی تیل کی کٹوتی کر نے کا اشارہ دے چکا ہے ۔ ملائیشیا نے بھی اقوام متحدہ میں کشمیر مسئلہ اُٹھایا تھا اور پاکستان کی حمایت کی تھی ۔وزیر اعظم مودی ایک بڑی سرمایہ کاری چوٹی کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے 27سے 29اکتوبر تک سعودی عرب جا رہے ہیں ۔وہیں سے وہ ترکی بھی جانے والے تھے جہاں تجارت اور دفاع سیکٹر میں آپسی تعاون پر تبادلہ خیال ہونا تھا لیکن اب ان کا دورہ منسوخ ہو گیا ہے ۔ترکی کے ساتھ بھارت کے رشتوں میں دوری کا اشارہ ہے ۔حالانکہ دونوں دیشوں کے درمیان گرمجوشی والے تعلقات کبھی نہیں رہے ۔میٹنگ میں ترکی کے صدر اردغان کے ذریعہ کشمیر مسئلہ کو اُٹھانے سے دنوں ملکوں میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔بلکہ وہاں بھارت کے ذریعہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے لے کر اقوام متحدہ کی تجویز تک کا ذکر کیا تھا ۔کشمیر کے حالات پر عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوال اُٹھائے گئے تھے ۔وہیں قومیت کے جزبے سے بھر پور ہندوستانی درآمد کاروں کے ذریعہ ملائیشیاسے پام آئیل کی خرید روکنے اور انڈونیشیا کا رخ کرنے سے ملائیشیا کی بے چینی بڑھ گئی ہے وہ ہندوستانی خریداروں کو روکنے میں لگا ہے ۔دراصل بھارت ملائیشیا کے پام آئیل کا سب سے بڑا اموپوٹر ہے سالوینٹ ایکس ٹریکس ٹرس ایسوشی ایشن آف انڈیا کے پردھان اتل چتر ویدی نے کہا کہ بھارت سے پام آئیل کی خرید کے سودے رک جانے سے ملائیشیاکی بے چینی بڑھ گئی ہے ۔اسوسی ایشن نے کہا کہ اگر بھارت ملائیشیا سے پام آئیل نہیں خریدتا تو اُسے اپنے ضرورتوں کی تکمیل کے لئے انڈونیشیا سے بات کرنی ہوگی،انڈونیشیا جو بھی دام مانگے گا بھارت کو اسے تسلیم کرنا ہوگا ہمیں انڈونیشیا سے پام آئیل خریدنا ہے یا نہیں یہ ہمارا اندورنی معاملہ ہے ۔ہمارے لئے دیش کا سوال پہلے ہے ۔اس کے بعد کاروباری رشتے غور طلب ہے کہ کشمیر معاملے کو لے کر ملائیشیاکے وزیر اعظم ماثر محمد نے حال ہی میں اقوام متحدہ میں بھارت پر نکتہ چینی کی تھی اور کشمیر مسئلے پر پرستاو لائے جانے کے باوجود بھارت نے اس پر حملہ کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا اس کے بعد ہندوستانی درآمد کردہ اس مہینے سے ملائیشیا سے پام آئیل کے نئے سودے نہیں کر رہا ہے ۔بھارت نے دونوں دیشوں ترکی اور ملائیشیاکو یہ جتا دیا کہ ان کوبھارت کی مخالفت مہنگی پڑئے گی ۔

(انل نریندر)

نرملا سیتا رمن بنام ڈاکٹر منموہن سنگھ

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا الزام جاری ہے جو طول پکڑتا جا رہا ہے ۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے امریکہ کی نامور کولمبیا یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیرس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور آر بی آئی کے سابق گورنر رگھورام راجن دونوں کی رہنمائی میں ہندوستانی سرکاری بینکوں نے اب تک کا سب سے خراب دور دیکھا ہے سیتا رمن نے کہا کہ آج سرکاری بینکوں کو ایک نئی زندگی دینا ان کا اہم فرض ہے ۔انہوںنے کہا کہ وہ ایک دانشور کے طور پر رگھو رام راجن کا احترام کرتی ہیں اور انہیں اس دور میں آر بی آئی بینک کے لئے چنا گیا تھا جب ملک کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی تھی۔سیتا رمن کولمبیا یونیورسٹی میں ہندوستانی معاشی پالیسویں پر سمپوزیم اور نیرج راج سینٹر کے ذریعہ منعقدہ ایک سیمنار میں بول رہی تھیں ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ اُس وقت وزیر اعظم تھے اور ڈاکٹر راجن اس بات سے متفق ہوں گے کہ ڈاکٹر سنگھ کا بھارت کے لئے ایک واضح ویزن تھا اس پر سامعین نے قہقہ لگائے حالانکہ نرملا نے کہا کہ مجھے اس بات پر شبہ نہیں ہے کہ راجن جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ سرکاری بینکوں نے ڈاکٹر سنگھ اور راجن کے دور میں اپنا سب سے خراب دور دیکھا ۔مرکزی بینک کے چیف کے طور پر راجن کے دفتر میں بینک قرضوں کو لے کر بڑی مشکلات سامنے آئیں ۔یہ رگھو رام راجن کا عہد ہی تھا جب صرف نیتاﺅں کے فون پر ہی قرضے دے دئیے جاتے تھے ۔بھارت کے سرکاری بینک آج بھی اُس بحران سے نکلنے کے لئے سرکار کے سرمایہ پر منحصر ہیں ۔سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جمعرات کو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے الزامات کا جواب دیا ۔انہوںنے کہا کہ سرکار کے مشکلوں کا حل تلاشنے کے بجائے سیاسی حریفوں پر الزام لگانے کی عادت سے مجبور ہے ۔معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اصلی مشکلات اور وجوہات کا پتہ لگانا ضروری ہے ۔اور سرکار کی لاچاری سے دیش کے لوگوں کو توقعات اور مستقبل متاثر ہو رہا ہے ۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نچلی افراط زر کی گراوٹ سے کسانوں پر مشکل اور سرکار کی آمد در آمد پالیسی سے بھی مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں ۔کانگریس میں جو ہوا وہ ہوا کچھ کمزوریاں رہی ہوں گی لیکن اس سرکار کو ان سے سبق لے کر معیشت کی دشواریوں سے نمٹنا چاہیے ۔آپ ہر سال یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے کہ یہ سب یو پی اے سرکار کی دین ہے آپ کوئی حل نہیں نکال پا رہے ہیں ۔ایک وقت مہاراشٹر دیش کی سب سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا کرتا تھا لیکن اب یہ کسانوں کی خود کشی کے معاملے میں آگے ہے سابق وزیر اعظم بولے میرا خیال ہے کہ 2024تک بھارت کو 50ارب ڈالر کی معیشت والا دیش بننے کی کوئی امید نہیں ہے ۔وہ بھی تب جب سال در سال ترقی شرح گر رہی ہو ۔گڈ گورنینس کا ڈنکے کا ماڈل فیل ہو رہا ہے جس پر بھاجپا نے ووٹ حاصل کیا تھا ۔مہا راشٹر سنگین مالی بحران سے گزر رہا ہے ۔ریاست میں مسلسل چوتھے سال مختلف سیکٹروں میں ترقی شرح گری ہے ۔پی ایم سی بینک گھوٹالہ ایک افسوسناک معاملہ ہے ۔

(انل نریندر)

24 اکتوبر 2019

کیا ہریانہ میں معلق اسمبلی آرہی ہے ؟

ہریانہ میں نئی سرکار چننے کو لے کرووٹروں میں زیادہ جوش نہیں دکھائی دیا 2014کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے می اس مرتبہ کم تعدا د میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلے ۔2019اسمبلی چناو ¿ میں کل 64.35فیصدی پولنگ ہوئی جو 2019سال میں سب سے کم پولنگ ہے سال 2000میں 69.01فیصد ووٹ پڑھے تھے اس کے بعد 70فیصد سے نیچے نہیںرہا ۔ویسے تو مہاراشٹر اسمبلی چناو ¿ میں امید سے کم پولنگ ہوئی یہاں 63فیصد ووٹ پڑے جبکہ 2014میں 63.30فیصد ووٹ پڑے تھے وہیں اس سال مئی میںہوئے لوک سبھا چناو ¿ میں 65فیصد ووٹ پرے تھے واقف کاروں کے مطابق پولنگ کی وجہ اپوزیشن و حکمراں پارٹیوں میں کوئی سخت مقابلہ جیسی بات نہیں تھی کہیں کہیں ایسا بھی ہو ا سیٹوں کے بٹوارے پر ناراض فریق نے ووٹ نہیں ڈالے ۔ٹھاکرے خاندان کی طرف سے پہلی بار چناو ¿ لڑنے والے آدتیہ ٹھاکرے کے چناو ¿ حلقے ورلی میں ووٹنگ فیصد محض 44فیصد رہا۔دونوںریاستوں میں ووٹوں میں جوش نہیں دکھائی دیا اگر ٹرینڈ کی بات کریں تو 2014میں دونوں ریاستوں میں 40فیصد ووٹنگ پڑی تو اقتدار بدلا اس مرتبہ کم ووٹنگ ہوئی یہ کس کے حق میں جائے گی ؟اگر زیادہ تر ٹی وی چینلوں کے سروے پر جایا جائے تو دونوں ہی ریاستوں میں بھاجپا پھر سے اقتدار میں مکمل اکثریت سے آرہی ہے ۔انڈیا ٹوڈے کے سروے نے ہریانہ میںدوسری تصویر کی پیش گوئی کی ہے ہریانہ کے کرائے گئے ایگزٹ پول آف دی پولس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 70اور کانگریس اتحاد کو 12سیٹیں ملتی ہوئی دکھائی گئی ہیں جبکہ دیگر کے خاطے میں 8سیٹیں جانے کا اندازہ ہے سی این این نیوز 18کے پول میں بھاجپا کو75اور کانگریس کو 10سیٹوں کا انداہ بتایا گیا ہے جبکہ انگریزی چینل ٹائمس ناو ¿ نے بھاجپا کو 71اور کانگریس کو 11سیٹیں دی ہیںجبکہ دیگر کو 8ایسے ہی متعدد چینلوں نے بھی بھاجپا کو بڑھت دکھائی ہے ۔مہاراشٹر کے بعد ہریانہ کولے کر انڈیا ٹوڈے ایکسس مائی انڈیا کے ایگزٹ پول کی مانیں تو ہریانہ میں معلق سرکار بنتی دکھائی دے رہی ہے مطلب صاف ہے بھاجپاکو اکثریت نہیں مل رہی ہے ۔بی جے پی کو 32سے44ملنے کا اندازہ ہے اگراس سروے کو صحیح مانا جائے تو ریاست میں دشینت چوٹالہ کی پارٹی جے جے پی کنگ میکرکے کردار میں ہوگی ان کی پارٹی کو 6سے 10سیٹیں جبکہ دیگر پارٹیوں کو اتنی ہی سیٹیں ملنے کااندازہ ہے ۔جمعرات کے روز آنے والے نتیجہ اصلیت میں تبدیل ہوتے ہیں تو چھوٹی پارٹیاں کنگ میکر کے رول میں ہوں گی ۔بتادیں کہ ہریانہ میں کل 90سیٹیں ہیں اسلئے سرکار بنانے کے لئے کل 46سیٹیں درکار ہوں گی یااس سے زیادہ جیتنے پر سرکار بن سکتی ہے اب نتیجہ کی گھڑی ختم ہو چکی ہے جمعرات یعنی آج صبح سے ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی اور دوپہر تک پتہ چل جائے گا کہ ہریانہ میں کس کی سرکار بنے گی یا معلق اسمبلی ہوگی ۔

(انل نریندر)

دہلی میںہر ایک کلو میٹر پر ملے گی محلہ کلینک!

دہلی میںسبھی شہریوں کو ایک کلو میٹر کے دائرے میں مفت طبی سہولیات ملیں اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے ؟ آج کے زمانے میں کسی غریب آدمی کو کوئی سنگین بیماری ہو جائے تو سمجھو اسے وہیں موت آجاتی ہے کیوں کہ علاج اتنا مہنگا ہو گیا ہے چھوٹی سے چھوٹی بیماری کے لئے بھی لاکھوں روپئے کا بل بن جاتاہے کسی بھی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لئے خاص کر نچلے طبقے کے لئے مفت علاج کی سہولت مہیا کرائے ۔یہ عام آدمی کی پارٹی کی دلی سرکا ر بخوبی کر رہی ہے سبھی کو اس کی تعریف کرنی چاہئے مفت ہیلتھ سہولت کا اعلان وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سنیچر کو تیمار پور کے سنگم بیہار فلائی اوور کے پاس بنائی گئی محلہ کلینک کے ساتھ 100محلہ کلینکوں کا آغاز کیا ان کا کہنا تھا کہ سبھی کو مفت علاج کی سہولت دینا ہمارا خواب تھا اب ایسا ہونے لگا ہے ایسالگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کا سیاست میں آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے ۔کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ پوری دنیا میں اتنے پرائمری ہیلتھ سینٹر آج تک نہیں کھلے جتنے دہلی میں 5سال میں محلہ کلینک کھلے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا ان کی سیاست نے لوگوں کی زندگی بدلی ہے دلی سرکار کے ذریعہ قائم 1000محلہ کلینکوں میں سے 302محلہ کلینک چل رہے ہیں جبکہ زیادہ تر محلہ کلینک پورٹا کیبن میں چلتے ہیں کچھ کرائے کے مکانوں میں چل رہے ہیں ۔محلہ کلینک 109ضروری دواو ¿ں کی تقسیم کرتی ہیں ان کلینک میں 282جانچ کی سہولت ہے ۔محلہ کلینک میں(ہیلتھ ٹیبلیٹ )ایک میڈیکل آلہ ہے جو 33علاج کا تجربہ کرتا ہے اس کی قیمت تقریباً ساٹھ ہزار روپئے ہے اور دلی سرکار کے وزیر صحت ستیندر جین نے بتایا کہ محلہ کلینک کی وجہ سے لوگوں میں سرکاری علاج پو بھروسہ بڑھا ہے محلہ کلینکوں میں40ہزار سے زیادہ لوگ علاج کرا رہے ہیں ۔دہلی میں یومیہ او ٹی پی جانے والوں کی تعداد کا 20فیصدی ہے محلہ کلینک میں اب تک 1.69کروڑ لوگوں نے او پی ٹی سیوا لی ہے اور16لاکھ لوگ ٹیسٹ کرا چکے ہیں اس میں 75فیصد لوگ ایسے ہیں جنہوں نے دہلی کی ہیلتھ خدمات کا فائدہ اٹھایا ہے ۔اس سے جہاں غریب آدمی کو ہیلتھ سیوا سے لوٹنے سے بچایا جا رہاہے وہیں ان جھولا چھانپ ڈاکٹروں کے پاس جانے سے مجبور غریبوں کو بھی بچایا جا رہا ہے ۔اگلے ڈھائی مہینے میں قریب 200محلہ کلینک کھولنے کی تیاری ہے اس کے بعد دہلی میں محلہ کلینک کی تعداد 500کے پار ہو جائے گی جین نے بتایا 40میٹر مربع گز زمین پر ایک محلہ کلینک کھولنے کی اجازت دی جائے گی پہلے دو سوچالے والی زمین پر کھولنے کی ہی اجازت ملتی تھی ۔بیشک دلی سرکار نے بہبودی اسکیموں کو اس چناوی سال میں پیش کر دیا ہے لیکن اس سے لوگوں کو ہیلتھ سیکٹر سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے اس لئے ہم سرکار کی تعریف کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

23 اکتوبر 2019

رام نواس گوئل کو سزاسنانے پر سیاست

دہلی اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل کو عدالت کے ذریعہ مار پیٹ کے ایک مقدمہ میں چھ مہینے کی سزا سنائی گئی معاملہ کچھ ایسا ہے کہ موجودہ اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل و ان کے بیٹے کو 2015میں اسمبلی چناﺅ مہم کے دوران گھر میں گھسنے اور مار پیٹ کرنے کے الزام میں اے سی ایم مشال نے گوئل و ان کے لڑکے سمت ہتیش کھنہ اتل گپتا،بلبیر سنگھ کو چھ ماہ قید اور ایک ایک ہزار روپئے جرمانہ کی سزا سنائی فیصلے کو چلینج دینے پر عدالت نے دس دس ہزار روپئے کے ذاتی مچلکے پر قصورواروں کو ایک مہینے کے لئے ضمانت دے دی ۔اسمبلی اسپیکر کو سزا سنائے جانے کے بعد دہلی کی سیاست گرما گئی جبکہ رام نواس گوئل کا کہنا ہے کہ وہ قانو ن کی مریادا میں رہ کر کام کریں گے دوسری طرف بھاجپا او ر کانگریس آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو سزا سنائے جانے کے معاملے میں عآپ اور دہلی حکومت پر نکتہ چینی کی ہے ۔ان کا الزام ہے کہ عآپ کے چیف داغدار لیڈروں کا بچاﺅ کر رہے ہیں ۔عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد عآپ کے دہلی کے صدر گوپال رائے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہلی اسمبلی اسپیکر سے استعفی لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بقول گوپال رائے کے قانو ن اپنا کام کر رہا ہے ۔پارٹی ہر ممکن قانونی طریقہ اپنائے گی اور نچلی عدالت کے فیصلے کو بڑی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا ۔پارٹی حالانکہ اسے کوئی بڑا معاملہ نہیں مان رہی ہے دوسری طرف پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پورا معاملہ سیاسی ہے بھاجپا سے جڑے ایک شخص نے کہا ہے کہ قانو ن میں بھی چھ مہینے کی سزا ہونے پر آئینی عہدے پر بیٹھے کسی شخص کا اسعفیٰ لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ بھی جب ضمانت مل گئی ہو دہلی پردیش کانگریس کے نگراں صدر راجیش للوٹھیا کا کہنا ہے کہ کرپشن سے لڑنے کا وعدہ کر ووٹ بٹورنے والی پارٹی کی سچائی سامنے آنے لگی ہے پانچ سال اقتدارمیں رہنے کے بعد بھی اس کے لیڈر کرپشن اور جرائم میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ان کے ممبر اسمبلی کے خلا ف کرپشن جنسی استحصال فرضی ڈگری تشدد سمیت دوسرے سبھی مجرمانہ معاملے سامنے آتے رہتے ہیں ۔آنے والے چناﺅ میں جنتا اس کا جواب دیے گی ۔وہیں دہلی پردیش بھاجپا کے صدر منوج تواری نے گوئل کو چھ مہینے کی سزا ملنے پر طنز کسا ہے ۔تواری کا الزام ہے کہ عآپ کے داغدار لیڈروں کو وزیر اعلیٰ و عآپ کے چیف اروند کجریوال کی کھلی سرپرستی ہے اب عآپ نیتاﺅں کے مجرمانہ چہرے سامنے آنے لگے ہیں ابھی تک پارٹی کے درجنوں ممبر اسمبلی و وزراءپر مجرمانہ مقدمے چل رہے ہیں ۔تواری نے آگاہ کیا کہ دہلی اسمبلی چناﺅ میں عوام ایسے لیڈروں کو معاف نہیں کرئے گی اور انہیں ان کے کرنی کی سزا مل جائے گی ۔بے شک رام نواس گوئل کو مار پیٹ کے مقدمے میں چھ مہینے کی سزا ہو چکی ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی کرسی یا عہدے کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔قانونی طور پر انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں جا سکتا ۔اور وہ ٹھیک ٹھاک طریقے سے کام چلا سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)

چارسال میں ہندوستانی فوج کی تیسری ڈیڈلی اسٹرائک

پاکستانی فوج نے دہشتگردوں کی گھس پیٹھ کرانے کے ارادے سے جب ٹنگ دھار سیکٹر جو کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں اندھا دھند فائنرگ کر کے ہمارے دو جوانوں کو شہید کر دیا تو انہیں شاید اس بات کا اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ بھارت کی جانب سے ایسا منھ توڑ جواب ملے گا ۔ہندوستانی فوج نے قریب دو گھنٹے میں ہی اپنے دو شہید جوانوں کی شہادت کا بدلہ لے لیا فوج نے پاک کے مقبوضہ کشمیر میں تابڑ توڑ گولے برسا کر تین آتنکی کیمپوں کو تباہ کر دیا چوتھے کیمپ کو بھی نقصان پہنچا اور فوج کی اس جوابی کارروائی میں بڑی تعداد میں دہشتگردوں کے ساتھ پاکستان کے چھ سے دس فوجی بھی مارے گئے اس سال 26فروری کو پی او کے کے بالا کوٹ میں ہندوستانی ائیر فورس کی ائیر اسٹرائک کے بعد یہ فوج کی پہلی بڑی کارروائی ہے اس نے یہ کاروائی اُس وقت کی جب ہندوستانی فوج کو ایل او سی پر چار لنچنگ پیڈ کے بارے میں خفیہ اطلاعات ملی تھیں ۔پاکستان ان کیمپوں میں موجود دہشتگردوں کو بھارت میں بھیجنے کو تیار تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں چالیس سے پچاس دہشتگرد موجود تھے ۔پاکستانی فوج انہیں حفاظت اورراشن پانی مہیا کرا رہی تھی بتا دیں کہ پی او کے میں 200سے 300آتنکی سر گرم ہیں ۔پاکستان کے حوصلے والی جوابی کارروائی میں بھارت نے 77بی بو فورس اور ملک میں بنی بو فرس توپوں کا استعمال کیا ۔کارگل میں بھی بھارت نے انہیں کا استعمال کیا تھا اور پاکستان کو دھول چٹائی تھی ۔یہ توپیں چالیس کلو میٹر تک نشانے کو تباہ کر سکتی ہیں ۔یہ ایک منٹ میں دو فائر کر سکتی ہیں اور مسلسل دو گھنٹے تک گولے داغ سکتی ہیں ۔توپوں کا استعمال اس لئے کیا گیا کیونکہ گولہ داغنے والی بندوق سے آتنکی ٹھکانوں پر پختہ نشانہ لگایا جا سکتا ہے ۔اور دشمن کے علاقہ میں بنا گئے کارروائی ہو سکتی ہے ۔ضرورت کے حساب سے رینج کا استعمال ہوتا ہے ۔پی او کے میں ایل او سی کے چار لانچنگ پیڈ کافی قریب ہیں کچھ پیڈ تو صرف پانچ سو میٹر کی دوری پر ہیں ۔فوج کے ذرائع نے بتایا کہ فوج کی کارروائی سرجیکل اسٹرائک جیسی نہیں ہے ۔یہ پاک فوج کو سخت پیغام دینے کی کوشش ہے ۔غور طلب ہے کہ پاکستانی فوج مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔اڑی بالا مولہ اور ٹنگ دھار وغیرہ علاقوں میں لگاتار گولہ باری کر رہی تھی ۔ہندوستانی فوج وارنگ دیتی رہی ہے کہ پاکستانی فوج اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرئے اس کی حرکتوں کا سخت جواب دیا جائے گا مگر وہ سمجھنے کو تیار نہیں پچھلے ایک سال میں پاکستانی فوج نے جتنی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اتنی شاید کبھی نہیں ہوئی ہوگی ۔پاکستان کا مسئلہ یہ ہے یہ وہاں کوئی نظام نہیں ہے ۔وہاں کی سرکار اپنے ڈھنگ سے کام کرنا چاہتی ہے مگر اس پر فوج اور خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی کا شکنجہ رہتا ہے اور اپنی بالا دستی بنائے رکھنے کے لئے کشمیر اور کشمیر اشو بنائے رکھنے کے لئے اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے ۔اس کی بوکھلاہٹ اس لئے بھی ہے کیونکہ آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد انہیں پوری دنیا میں کہیں بھی حمایت نہیں ملی آئے دن وہ نیوکلیائی حملے وجنگ کی دھمکی دیتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ ہندوستانی فوج کے سامنے وہ ٹک نہیں سکتا اس لئے اپنی درپردہ جنگ کے لئے یہ بھاڑے کے فوجیوں کا استعمال کرتا ہے ۔لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔

(انل نریندر)

22 اکتوبر 2019

بینک میں اپنا پیسہ رکھنا ہی گناہ ہو گیا

پی ایم سی بینک گھوٹالے کے سبب بھاری مالی بحران کے ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ایک اور اکاﺅنٹ ہولڈر مرلی دھر کی جمعہ کو دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی متوفی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے انہیں دل کا آپریشن کرانے کی صلاح دی تھی لیکن آربی آئی کے پابندی کے سبب اپنے پیسے پی ایم سی بینک سے نہیں نکال پائے مرلی دھر کے بیٹے پریم دھارا نے کہا کہ ان کے 83سالہ پتا کی موت گھر پر ہی ہوئی پریوار کے کل 80لاکھ روپئے بینک میں جمع ہیں اس سے پہلے کسی بینک میں جمع لاکھوں روپئے جمع کر کے پھنسے دو مزید کھاتے داروں کو 24گھنٹے کے اندر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی ۔یہ دونوں ہی بینک سے اپنا پیسہ واپس پانے کے لئے مظاہر کر رہے تھے ۔بینک سے پیسہ نکالنے پر لگی پابندی کی وجہ سے ان کے کنبہ پیسے کی پریشانی میں گھرے تھے ۔56سالہ سنجے گلزاری اپنے 80سال کے والد کو پیر کے روز بینک کے خلاف مظاہر ہ کر کے لوٹے اور کھانا کھاتے وقت انہیں دل کا دورہ پڑا سپتال لے جانے پر ہی انہیں مردہ قرار دے دیا ۔سنجے کے والد نے بتایا کہ ان کے پریوار کے بینک میں 80لاکھ روپئے جمع تھے سنجے پہلے جیٹ ائیرویز میں انجینر تھے لیکن ائیر لائنس بند ہونے سے کچھ مہینے پہلے ان کی نوکری چلی گئی ۔اُدھر سپریم کورٹ نے پی ایم سی بینک سے پیسہ نکالنے پر آر بی آئی کی مقرر حد ختم کرنے کے لے کھاتے داروں کی عرضیوں پر سماعت سے انکار کر دیا ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ہم دفعہ 32رٹ دائر اختیار کے تحت اس عرضی پر سماعت نہیں کرنا چاہتے پی ایم سی بینک میں 4355کروڑ روپئے کا گھوٹالے کا پردہ فاش ہونے کے بعد میں ریزرو بینک نے اس کے بعد مالی لین دین پر کچھ پابندیاں لگائی تھیں ان پابندیوں کے سبب گراہکوں کو چھ مہینے کی معیاد میں اس سے 40000ہزار روپئے تک نکالنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔عرضی گزار ڈی کمار مشرا کی طر ف سے پیش وکیل سشانت سدھی نے بنچ سے کہا کہ پی ایم سی کے 500کھاتے داروں کی طرف سے یہ عرضی دائر کی گئی ہے ۔جس میں نقدی نکالنے پر آر بی آئی کی طرف سے لگائی گئی روک ہٹانے کی درخواست کی گئی ہے ۔تعجب یہ ہے کہ پی ایم سی میں پچھلے دس سالوں سے گھپلہ جاری تھا پھر بھی کسی کو اس کی بھنک نہ لگی ۔یا د رہے کہ اس گھوٹالے کی جانکاری ریزرو بینک کو ایک وسل برور کے ذریعہ سے ملی جس کے بعد 24ستمبر کو اس نے بینک کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور نقدی نکاسی کی حد طے کر دی پی ایم سی کے کھاتے داروں کے پیسے پھنسنے کا معاملہ نوٹ بندی کی مار جیسا ہے لیکن کچھ معنوں میں نوٹ بندی کے در د سے زیادہ خطرناک ہے ۔جس شخص نے اپنی زندگی کی پوری کمائی 90لاکھ روپئے کی ہو اور وہ معذور بیٹے کا علاج بھی نہ کروا پائے تو اس کے صدمے میں جانا فطر ی ہے لیکن درد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔اسی طرح پچھلے مہینے گردے کا آپریش کروا کر آئے ایک مریض کی پچاس لاکھ روپئے کی ایف ڈی ہے لیکن علاج کے لئے پیسے ہاتھ میں نہیں یہ شخص وزیر خزانہ کے سامنے گڑگڑاتا رہا لیکن کسی کا دل نہیں پسیجا ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ بڑی تعداد میں بزرگوں کی پینشن کا پیسہ جمع ہے لیکن ضرورت بھر کا پیسہ بھی ہاتھ میں نہیں تو کیسے کام چلے گا ۔ایک طرف سرکار نقدی کے لین دین کو کمزور کر رہی ہے بینکوں میں بچت کو جمع کرنے کے لئے لوگوں کو ترغیب دے رہی ہے دوسری طرف بینکوں میں جمع پیسے کی سیکورٹی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کھاتے داروں کا بس قصور اتنا ہے کہ انہوںنے بھروسے کے ساتھ اپنی جمع رقم بینک میں رکھوائی تھی ۔گھپلہ کوئی کرئے ۔بھرے کوئی ابھی تو کئی اور بینک تقریبا اسی پوزیشن میں ہیں ۔پتہ نہیں کتنے بے قصور کھاتے داروں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔

(انل نریندر)

لکھئنو میں ہندو نیتا کا دن دہاڑے قتل

لکھنﺅ میں جمعہ کو گھنی آبادی والے ناکا ہنڈولا علاقہ میں ہندو سماج پارٹی کے نیتا کملیش تواری کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا اس قتل سے کھلبلی مچنا فطری تھا یہ قتل کملیش تواری کے آفس میں ہی کیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ بدمعاشوں نے کملیش سے ان کے گھر میں ہی بنے آفس میں ملاقات کی اور ان کے ساتھ چائے بھی پی بد معاش بھگوا کپڑے پہنے ہوئے تھے مٹھائی کے ڈبے میں پستول و چاقو چھپا کر لائے تھے چائے کے بعد انہوںنے پہلے تو کملیش تواری کا گلا کاٹا پھر گولی ماری تواری ماضی گذشتہ میں ہندو مہا سبھا کے نیتا تھے ۔وادات کے بعد ہندووادی تنظمیوں کے ورکر بھڑک اُٹھے سینکڑوں لوگ سڑکوں پر اترے آئے امین آباد بازار بند ہو گیا ۔دوکانوں میں توڑ پھوڑ ہوئی سی سی ٹی وی کیمروں میں دو مشتبہ دکھائی دئے ۔جبکہ ایک عورت کے بارے میں جانکاری لی جا رہی ہے ۔کملیش آتنکی تنظیم آئی ایس کے نشانے پر تھے ۔2015میں پیغمبر محمدصاحب پر بے ہودہ تبصرہ کرنے کے معاملے میں کملیش نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت جیل میں رہے کملیش کی بیوی کرن کی شکایت پر اس معاملے میں مفتی کاظمی ،انوار الحق اور ایک نا معلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔کرن کا الزام ہے کہ کاظمی اور حق نے 2016میں کملیش کا سر کاٹ کر لانے والے کو 51لاکھ روپئے اور ڈیڑھ کروڑ روپئے کا انعام کا اعلان کیا تھا ۔انہیں لوگوں نے سازش کر ان کے شوہر کو قتل کرایا ہے ۔کملیش قتل معاملے میں ملوث مشتبہ ملزمان کی تلاش تیز ہو گئی ہے ۔یوپی پولس نے بجنور سے مولانا انوار الحق کی گرفتاری سے انکار کیا ہے ۔وہیں صورت سے بھی تین مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں تھا کہ کملیش تواری کو جان کا خطرہ تھا ۔لیکن باوجود اس کے ان کی سیکورٹی پر دھیان نہیں دیا گیا اور صرف ایک پولس والا ہی حفاظت میں لگایا گیا تھا وہ بھی قتل کے وقت موجود نہیں تھا ۔آتنکی تنظیم آئی ایس نے کھلے عام انہیں مارنے کی دھمکی دی تھی یہ انکشاف گجرات اے ٹی ایس کے ذریعہ اکتوبر 2017کو صورت میں گرفتار کئے گئے مشتبہ افراد عبید احمد مرز ااور محمد قاسم سے پوچھ تا چھ سے ہوا تھا ۔20اپریل 2018کو گجرات اے ٹی ایس کے ذریعہ داخل کردہ چارج شیٹ کے مطابق عبید نے اپنے دو ساتھیوں کو کملیش تواری کا متنازعہ بیان والا ویڈیو دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم لوگوںنے اس قتل کرنا ہے یوپی پولس اور خفیہ ایجنسیوں کو شک ہے کہ قتل کا گجرات کی آتنکی کنکشن بھی ہو سکتا ہے ۔اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کا برا حال ہے ایسا لگتا ہے کہ کوئی وارث نہیں ہے ۔اترپردیش کے حالات پر سپریم کورٹ نے بہت تلخ تبصرہ کیا تھا ۔اور کہا تھا ہم اترپردیش سرکار سے تنگ آچکے ہیں ۔ایسا لگتا ہے یوپی میں جنگل راج ہے آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ زیادہ تر معاملوں میں یوپی سرکار کی طرف سے پیش وکیلوں کے پاس متعلقہ اتھارٹی کا کوئی مناسب حکم نہیں ہوتا بلند شہر کے سینکڑوں برس پرانے ایک مندر سے جڑے انتظامیہ کے معاملے کی سماعت کے دوران بنچ نے یہ رائے زنی کی اور دکھی ہو کر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ریاستی سرکار نہیں چاہتی کہ قانون کا راج ہو۔لگتا ہے وہاں جنگل راج ہے مقامی نیتا کملیش تواری کی لاش کا انتم سنسکار سیتا پور کے محمودآباد میں ان کے آبائی گاﺅں میں کیا گیا ۔خاندان والوں نے صاف کہا کہ جب تک سی ایم آدتیہ ناتھ ان سے ملنے نہیں آئیں گے جب تک انتم سنسکار نہیں کریں گے متوفی کی بیوی کرن نے وارنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سی ایم نہیں آتے تو وہ خود کشی کر لیں گی ۔بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے مصروفیت کی وجہ سے کنبہ کے لوگوں کو بلایا اور وعدہ کیا تھا قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

(انل نریندر)

20 اکتوبر 2019

2019میں 4باکسروں کی رنگ میں موت ہو چکی ہے !

عام طور پر کھیلوں میں کسی کی جان نہیں جاتی لیکن سنگین چوٹیں ضرور لگ سکتی ہیں جو جان لیوا نہیں ہوتیں لیکن واکسنگ ایسا کھیل ہے جس میں جان جا سکتی ہے ۔امریکہ کے شکاگو شہر میں پیٹرک ڈے نامی باکسر کی چار لس کارنیوال کے خلا ف مقابلہ ہوا تھا یہ مقابلہ چار دن پہلے ہوا جس میں مکے بازی کے دوران پیٹرک ڈے بری طرح زخمی ہوئے تھے انہیں رنگ سے اسٹریچر پر لے جانا پڑا تھا چار دن علاج چلا لیکن انہیں بچایا نہیں جا سکا پیٹرک نے اچھی شروعات کی تھی لیکن چارلس کے کچھ پنچ کے بعد کچھ لاچار سے دکھائی دینے لگے اور وہ دو بار رنگ میں گرے لیکن لڑائی جاری رکھی لیکن وہ کچھ دیر بعد رنگ میںگرگئے اور اٹھ نہ سکے فوراً زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا سرمیں چوٹ کی وجہ سے وہ کوما میں چلے گئے لیکن بدھوار کو رات میں وہ دنیاسے چلے گئے ۔فائٹ کے پرموٹر لوئیڈی بیلا نے بتایا پیٹرک نے چار دن تک سنگین چوٹ سے لڑ کر غضب کی ہمت دکھائی وہ ایک چمپیئن تھے ۔پیٹرک کے خلاف فائٹ میں اترے ان کے حریف مکے باز کارنیوال بھی اس حادثہ سے صدمے میں ہیں اور باکسنگ چھوڑنے پرغور کر رہے ہیں انہوں نے شوشل میڈیا میں بھی لکھا کہ میں کبھی نہیںکہ میری کسی سے لڑائی میں ایسا حادثہ ہو جائے کاش میں وقت کو پیچھے لے جا پاتا میرے دماغ میں پورے دن اس لڑائی کا منظر گھوم رہا ہے اور اس سے باہر نہیںآ پارہا ہوں۔مجھے نہیں لگتا کہ اب میں کبھی باکسنگ رنگ میں اتر پاو ¿ں گا وہیں پیٹرک ڈے کی موت پر مکے بازی قاعدے اور باکسروں کی حفاظت کو لے کر پھر سے بحث چھڑ گئی ہے ۔2019میں اب تک پیشہ وارانہ باکسروں کی رنگ میں ہوئے حادثوں میں موت ہو چکی ہے ڈے سے پہلے روس کے میکسنگ ڈاٹ روگ ،ارجینٹینا کے الفریڈ ،بلغاریاکے بورس اسٹینا یاف کی فائٹ میں لگی چوٹ سے موت ہو چکی ہے ۔

(انل نریندر) 

دو ہزار کے نوٹ بند ہو رہے ہیں ؟

واٹس اپ پر دو ہزار روپئے کے نوٹ بند ہونے کی افواہ کئی دنوں سے پھیل رہی ہے ۔مسیج میں لکھا ہے کہ رزرو بینک میں دو ہزار کے نوٹ واپس لے رہا ہے آپ پچاس ہزار روپے تک کے نوٹ بدل سکتے ہیں ۔یہ تو جھوٹا مسیج تھا لیکن حقیقت میں دیس بھر میں دو ہزار روپئے کے نوٹ کی کمی ہو گئی ہے عام آدمی کے ذہن میں دو ہزار روپئے کے نوٹ کو لے کر کئی طرح کے کئی اندیشات ہیں معاملے کی پڑتال میں کہ سال 2016-17کے مقابلے 2018-19میں دو ہزار روپئے کے نوٹوں کی مانگ میں98.6فیصدی کی کمی آئی ہے مختلف بینک کھاتے داروں کی مانگ کے مطابق آر بی آئی سے نوٹوں کی مانگ کرتے ہیںآر بی آئی کے مطابق 2016-17اور2018-19میں 3300فیصدی کا اضافہ ہواہے اس سے پہلے سرکار کے معاشیات پر نظر رکھنے والے ادارے نے بھی سفارش کی تھی کہ دو ہزار کے نوٹ بند کر دینا چاہئے جس کی وجہ سے ان کی چھپائی میں کمی آرہی ہے اسلئے مختلف بینکوں میں دو ہزار کے نوٹ کم مل رہے ہیں حالانکہ ایک اخبار سے بات چیت میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ حکومت نے رزرو بینک کو دو ہزار کے نوٹ چھانپنے کا حکم نہیں دیا ہے ۔یہ بھی صاف کیا یہ نوٹ بند کرنے کی تیاری ہو رہی ہے بینکوں اور لوگوں کے ذریعہ ان نوٹوں کی مانگ میں کمی آئی ہے اب ہم نئے نوٹ نہیں چھاپ رہے ہیں اسلئے عام آدمی بڑے نوٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔اس کی ضرورت نوٹ بندی کے وقت تھی کیوں کہ بازارمیں بڑے نوٹ درکار تھے اب دو ہزار روپے کے نوٹ سے کالا دھن جمع ہونے کا اندیشہ ہے اسلئے جنتا بے فکر رہے سرکار دو ہزار روپے کانوٹ بند کرنے نہیں جا رہی ہے ۔

(انل نریندر)

نرملا سیتا رمن کو ان کے شوہر نے ہی معیشت پر گھیرا

اقتصادی مندی پراپوزیشن اور ماہر اقتصادیات کے الزا مات سے انکار کرنے والی مودی حکومت کو اب گھر میں ہی تنقید کا شکار ہونا پڑ رہا ہے ماہراقتصادیات اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے شوہر پراکلاپربھاکر نے کہا ہے کہ سرکار مندی کی اصلیت کو مسترد کر رہے ہے اسے کانگریس کے اقتصادی ماڈل پر معیشت کی حالت بہتر بنانی چاہئے ایک اخبار کے کالم میں لکھے مضمون میں پربھاکر نے مندی کے اشو پر تشویش جتائی ہے اور کہا سرکار آنکھیں بندکر مسئلے سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے جبکہ ایک کے بعد ایک سیکٹر مندی کی چنوتیوں سے لڑ رہاہے ۔تو بھاجپا سرکار کو یہ سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ سستی کی وجہ کیا ہے ؟اس سے مقابلہ کے لئے سرکار کو طریقہ کو بھی پراکلا پربھاکرنے غلط بتایا کہا کہ مودی سرکار کے پاس دیس کی معیشت کے لئے واضح اقدام کی کوئی قوت ارادی نہیں ہے اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کوئی روڈ میپ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ادھر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جواب میںکہا سرکار نے کئی فلاحی اور بڑ ی تبدیلی والے قدم اٹھائے ہیں پربھاکر نے بھاجپا کے نہرو ماڈل کی تقدیر پر لکھایہ باعث تشویش ہے کہ سرکار کی اقتصادی آڈیا لوجی اور اس کا اظہار محض نہرو ماڈل کی تنقید تک محدود ہے جو سیاسی ہو سکتاہے اسے کبھی معیشت پر نکتہ چینی کے طور پر نہیں دیکھاجا سکتا انہوں نے مشورہ دیا کہ نرسمہا راو ¿ اور منموہن سنگھ کی حکومت کی اقتصادی پالیشیوں سے سبق لیں اور اس پر چل کر معیشت کو بحران سے نکالا جاسکتا ہے پربھاکر کی تنقید پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جم کر نکتہ چینی کی ان کاکہناتھا کہ جی ایس پی اور نوٹ بندی نے دیس کی معیشت کو چوپٹ کر دیا ہے اگر یہی حال رہا تو چھ مہنے کے اندر دیس کی معیشت تار تار ہو جائے گی کانگریس کے راہل گاندھی نو میں ایک چناو ¿ ریلی سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کالے دھن کو واپس لانے کی بات کر نوٹ بندی کردی اور دیس کے عوام آدمی کولائن میں کھڑا کر دیا اس میں کسان بے روزگار اور عورتیں سب شامل تھے لیکن کچھ بڑے لوگ ایک دن بھی لائن میں نظر نہیں آئے اس کے بعد جی ایس ٹی لاگو کرکے چھوٹے کاروباریوں کی کمر توڑ دی اور جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے دس پندرہ صنعتی گھرانوں کو فائدہ پہنچایا گیا ۔بے روزگاری پر راہل نے سرکار کو آڑے ہاتھوںلیتے ہوئے کہا ہریانہ میں ماروتی ٹاٹا جیسی صنعتیں بند ہو چکی ہیں کروڑو ں نوجوانوں کا روزگار چھن چکا ہے اور نریندرمودی من کی بات کر تے ہیں لیکن ہم کام کی بات کرتے ہیں ۔بھاجپا اورآر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے راہل نے کہا بھاجپا ذات مذہب کی بنیاد پر امیر اور غریب سے ہندو کو مسلمانوں سے لڑانے کاکام کرتی ہے ۔سرکاران کے وزیر بے شک پراکلا پربھاکر کی تنقید کو یہ کہ کر ٹال دیں کہ وہ کانگریسی نظریہ کے ہیں لیکن اس سے حقیقت بدلنے والی نہیں ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...