Translater

27 فروری 2021

20سال کاٹی جیل ،آخر میں ہوئے بری!

الہ آباد ہائی کورٹ نے بدفعلی کے ایک معاملے میں 20سال جیل میںبند ملزم کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا اور حیرانی جتائی ملزم پچھلے بیس برسوں سے جیل میں ہیں اس کے باوجود سرکار نے عمر قید کی سزا پائے قیدیوں کو 14سال میں رہا کرنے کے قانون کی تعمیل نیہں کی یہ حکم جسٹس ڈاکٹر کے جے ٹھاکر اور جسٹس گوتم چودھری کی ڈویزن بنچ نے للت پور کے ایک شخص کی جیل اپیل کو سماعت کیلئے قبول کر لیا 16سالہ وشنو پر 16دسمبر 2000 میں ایک پشماندہ عورت سے بدفعلی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی اور اسے دس سال بعد عمر قید کی سزا سنائی ملزم 2000سے جیل میں ہے عدالت میں ملزم کی طرف سے اپیل دائیر کی گئی تھی کہ وہ 20سال سے جیل میں اس لئے جلد سماعت کی جائے عدالت نے پایا بدفعلی کا الزام ثابت نہیں ہوا میدیکل رپورٹ میں زبردستی کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں تھے متاثرہ عورت حاملہ تھی ایسے کوئی نشان نہیں جس سے یہ کہا جا سکے کہ اس سے زبردستی کی گئی رپورٹ میں بھی شوہر اور سسر نے واقع کی تین دن بعد رپورٹ لکھوائی متاثرہ نے اپنے بیان میں اعتراف بھی کیا ہے ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا کاٹ رہے قیدیوں کے 14سال پورے ہونے کے بعد رہائی کے لئے بنے قانون کی تعمیل پر ریاستی حکومت پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ بے حد افسوسنا ک ہے کہ بنا کسی قصور کے قیدی جیل میں بند ہے ۔عدالت نے قانون سکریٹری سے کہ سبھی جیلوں میں بند 10سے 14سال کی سزا کاٹ چکے قیدیوں کی رہائی کی منظوری کی سفارش سرکار کو بھیجیں ۔بھلے ہی ان کی سزا کی اپیل زیر سماعت ہو ۔سوال یہ ہے 16سالہ لڑکے وشنو نے جو 20سال جیل میں سزا کاٹ چکا اس کا ذمہ دار کون ہے اگر بدفعلی معاملوں میں 20-20سال لگ جاتے ہیں تو ان کے باقی مقدمون کا کیا حال ہوگا ۔کیا سرکار وشنو کو معاوضہ دے گی ۔ (انل نریندر)

بھیڑ سے قانون ہی نہیں ہم تو سرکار بھی بدل دیں گے!

بھیڑ سے قانون نہیں بدلنے کی بات کہنے والے کسان بتادیں گے کہ ہم بھیڑ سے قانون ہی نہیں بلکہ سرکار بھی بدل دیں گے پہلے بھی بھیڑ سے سرکار بدلتی رہی ہے اس بات کو سرکار میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے مرکزی وزیرزراعت نریندر سنگھ تومر کے بیان پر کسان ترجمان راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ آندولن ایسی پوزیشن میں پہونچ گیا ہے جہاں سے کسان پیچھے نہیں ہٹ سکتے انہوں نے کہا کسانوں کو قانون کی جانکاری نہ ہونے کی بات سرکار میں بیتھے لوگ کرتے ہیں لیکن کسانوں سے زیادہ قانون کی جانکاری کسی کو نہیں ہے ۔کسان اپنی فصل کے دام بتا سکتے ہیں کہ قانون ٹھیک ہے یا خراب فصل کے اچھے دام ملتے ہیں تو قانون اچھا اگر دام صحیح نہیں ملتے تو قانون خراب ٹکیت نے خبرادار کیا کہ ابھی صرف قانون واپسی کی بات ہو رہی ہے پھر اقتدار کو چلتا کرنے کی مہم شروع کریں اس سے پہلے کسانوں کی چالیس انجمنوں سے بات کرنا سرکار کے لئے ٹھیک رہے گا ٹکیت نے آگاہ کیا تینوں زرعی قوانین کو منسوخ نہیں کیا تو اقتدار میں رہنا مشکل ہو جائے گا وہ اس مہینہ ہریانہ کے کسان مہنا پنچایت کررہے ہیں ۔سونی پت ضلع کے کھر کھودا کی اناج منڈی میں کسان مہا پنچایت میں ٹکیت نے کہا جب تک زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا جاتا تب تک آندولن جاری رہے گا ۔ٹکیت نے کہا بھیڑ جٹانے سے بھلے ہی قانون واپس نہیں ہوں گے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہی بھیڑ اقتدار کو بدل سکتی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسانوں میں صرف ابھی زرعی قانون واپس لینے کی بات کی ہے اقتدار واپس لینے کی نہیں ۔ (انل نریندر)

ابھیشیک بینرجی بنام جے شاہ!

وزیراعظم نریندر مودی وزیرداخلہ امت شاہ بھاجپا صدر جے پی نڈا سے لیکر پارٹی کے تمام لیڈر مغربی بنگال میں گزشتہ لوک سبھا چناو¿ کے وقت سے ہی بنا نام لئے بوا بھتیجے کی جوڑی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں ۔اسمبلی چناو¿ کا اعلان ہو چکا ہے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے ڈائمن ہابرٹ شیٹ سے لوک سبھا ایم پی ابھیشیک بینرجی ان تنقیدوں کے مرکز میں ہیں ۔مرکزی لیڈروں کی بات چھوڑ بھی دیں تو حال ہی میں ٹی ایم سی چھوڑ کر بھاجپا میں آئے شبھیندو ادھیکاری اور راجیو بینرجی جیسے سابق وزیر بھی مسلسل ابھیشیک کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اب خاص کر امت شاہ کے دور ہ کولکاتہ کے وقت ممتا بنرجی نے اس مسئلے پر جوابی حملہ شروع کر دیا ہے امت شاہ نے جمعرات کو ساو¿تھ چوبیس پرغنا ضلع کے نام کھانا کی ایک ریلی میں بھاجپا کے اقتدار میں آنے کی صورت میں سرکاری ملازمین کے لئے ساتویں ویج کمیشن لاگو کرنے اور سرکاری ملازمتوں میں عورتوں کے لئے 33 فیصدری ریزویشن سمیت بہت سے وعدے تو کر دئیے۔لیکن ایک بار پھر بوا بھتیجے کی جوڑی پر حملہ کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ترنمول کانگریس کا ایک نعرہ ہے بھتیجے کا کلیان لیکن مودی سرکار کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ان کا الزام تھا کہ وکا س کے لئے مرکز کی طرف سے اب تک بھیجی گئی رقم سنڈیکیٹ جیب میں چلی گئی ہے ۔پچھلے پانچ برسوں میں 305 لاکھ کروڑ روپے کی رقم بھائیوں یعنی بھتیجے اور ٹی ایم سی کے غنڈوں کی جیب میں چلی گئی ۔ان کا کہنا تھا اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی اس سب کی جانچ کرائے گی اور بدعنوان لوگوں کو جیل بھیجےگی ۔اس کے بعد شام کو وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے اسی ضلع میں ایک ریلی سے خطاب کیا اس میں ابھیشیک بینرجی بھی تھے ۔ممتا نے امت شاہ پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا امت شاہ باربار بوا بھتیجے کی بات کرتے ہیں تو اگر ان میں ہمت ہے تو ابھیشیک کے خلاف چناو¿ لڑ کر دکھائیں شاہ کے بیٹے جے شاہ بھی کرپشن کے الزامات سے بچ نہیں سکتے ۔آخر ان کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آئے ؟ اور میری نرم گوئی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی مت کریں ۔ان کے خلاف ونش بعد کے الزامات بے بنیاد ہیں وہ چاہتی تو ابھیشیک کو راجیہ سبھا بھیج سکتی تھیں لیکن اس کے بجائے ابھیشیک نے لوک سبھا چناو¿ لڑنے کا فیصلہ کیا ۔میں نے اب تک ابھیشیک کو دوسروں کے مقابلے میں خاص توجہ نہیں دی جن کو نائب وزیراعلیٰ بھی نہیں بنایا ۔کچھ سال پہلے سے اسے سڑک حادثہ میں مروانے کی سازش بھی ہو چکی ہے ممتا سوال کرتی ہیں کہ آخر کار امت شاہ کے بیٹے جے شاہ میں ایسی کونسی قابلیت ہے کہ وہ انڈین کرکٹ کی باگڈور سنبھال رہے ہیں اور وہ بی سی سی آئی کے سکریٹری بھی ہیں ممتا کا کہناتھا کہ ااگر امت شاہ میں ہمت ہے تو جو کہنا ہے سیدھے امت شاہ کا نام لے کر کہیں اور میں ان ابھیشیک کے خلاف چناو¿ لڑنے کی چنوتی دیتی ہوں پہلے وہ بھتیجے سے تو نمٹ لیں پھر دیدی سے نمٹیں گے ۔سیاست میں لکشمن ریکھا پار مت کریں انہو نے کہا بی جے پی نیتاو¿ں صاحبزادے بیرونی ممالک میں چلے جاتے ہیں میرے پاس ایسے تمام نیتا ان کی پوری فہرست ہے ۔لیکن ہمارے گھر کے لڑکے یہیں رہ کر عام لوگوں کے مفاد میں کام کرتے ہیں اگر امت شاہ میں ہمت ہے تو اپنے بیٹے کو بھی سیاست میں اتاریں میرا پریوار ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جس سے بنگال اور ان کے لوگوں کو نقصان پہونچے ۔ (انل نریندر)

26 فروری 2021

گجرات چناو ¿میں اچھی فرفارمنس سے عآپ گدگد!

گجرات میں چھ میونسپل کارپوریشنوں کی 576شیٹوں میں بھاجپا کو 483شیٹون پر زبردست جیت ملی ہے ۔بھاجپا مان رہی ہے کہ پی ایم نریندر مودی کے نام کا جادو گجرات میں اب بھی برقرار ہے اس لئے امت شاہ جے پی نڈا وزیراعلیٰ وجے روپانی اور بہت سے قومی لیڈر کی کامیابی سے گد گد ہیں ۔نتیجوں میں سب سے چوکانے والا نتیجہ عآپ پارٹی اور اسدالدین اویسی کی پارٹی کا کامیابی حاصل کرنا عآپ کے حق میں 27اور اویسی کی اے ایم آئی ایم کو سات شیٹیں ملی ہیں ۔کانگریس کو محض 55شیٹوں پر جیت حاصل ہوئی ۔کانگریس کو دھکا لگاتے ہوئے عآپ بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور پر ابھری ہے ۔مانا جارہا ہے کہ عآپ کی انٹری اگلے سال ریاست میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں کانگریس کے لئے مشکل کھڑی کر سکتی ہے عام آدمی پارٹی نے گجرات کے سورت میں میونسپل چناو¿ میں 120شیٹوں میں سے 27پر کامیابی حاصل کی ہے اس کامیابی سے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کافی گد گد ہیں ۔جیت کے بعد اپنے ویڈیو میسج کے ذریعے گجرات کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا عام آدمی پارٹی کا شاندار پردرشن ہے ۔خاص کر سورت کے لوگوں نے سوا سو سال پرانی کانگریس پارٹی کو ہرا کر ایک نئی پارٹی عام آدمی پارٹی بڑی اپوزیشن کی شکل میں ذمہ داری سونپی ہے میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارا ایک ایک امیدوار اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائے گا ۔انہوں نے کہا گجرات میں ایک نئی سیاست کی شروعات کی ہے اچھے اسکولوں کی شیاست اچھے اسپتالوں کی سیاست اور سستی اور 24گھنٹے بجلی کی سیاست اور گجرات کے لوگوں کے ساتھ مل کر ہم گجرات کو سب مل کر سنواریں گے میں 26تاریخ کو یعنی آج سورت آرہا ہوں ۔لوگوں سے ملنے کے لئے شخصی طور پر شکریہ اداکرنے کے لئے آو¿ں گا ۔بتا دیں سورت میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی نے 93شیٹیں جیتی ہیں اور کانگریس یہاں کھاتا نہیں کھول پائی ۔اویسی کی پارٹی نے احمد آباد میں سات شیٹیں جیت کر ریاست میں دستک دے دی ہے ۔وہ اسے بنگال اور دیگر ریاستوں میں عآپ لوگوں کے بھروسہ کی بنیاد پر چناو¿ لڑ سکتے ہیں ۔ریاست میں ابھی گودرا اور چناو¿ میں ووٹنگ 28فروری کو ہونی ہے ۔دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہاں عآ پ کی امید کتنی بڑھ کر سامنے آتی ہے ۔پچھلے سال جولائی میں ہاردک پٹیل کو گجرات کانگریس کمیٹی کا نگراں صدر بنایا گیا تھا ۔پارٹی دار آندولن سے مقبول ہاردک نے پورے گجرات میں میونسپل چناو¿ کے لئے زوردار کمپین چلائی تھی لیکن نتیجوں میں اس کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیا ۔احمد آباد میں ہاردک پٹیل نے پوری طاقت جھونکی اور تمام وارڈوں میں ریلیاں بھی کیں اس کے باوجود یہاں کانگریس کو قراری شکست ملی ۔ (انل نریندر)

نااتفاقی کے نظریات آتے ہیں جوکسی سے نہ دبیں!

ٹول کٹ معاملے میں گرفتار ماحولیاتی رضاکار دیشا روی کو دہلی کی ایک عدالت نے ضمانت پر چھوڑ دیا ہے ایڈیشنل و شیشن جج دھرمیندر رانا نے کسان تحریک کی حمایت کرنے والی دیشا روی کو ضمانت دیتے وقت سخت تبصرے کئے انہوں نے اپنے حکم میں کہا کہ ٹول کٹ میں ملک سے بغاوت جیسی کہیں کوئی بات نہیں ہے ۔26جنوری کے تشدد معاملے میں گرفتار لوگوں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے سرکار سے نا اتفاقی رکھنا جرم نہیں ہے ۔شانتنو کے 26جنوری کو دہلی آنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔نظریات میں نا اتفاق یا ان سے میل نا کھانا نظریات میں کوئی ایسی کوئی بات نہیں ہے اور یہاں تک کہ اعتراض کی پالیسیوں میں بھی لانے کے پہچانے ہوئے اور آئینی ایک ٹول ہے ۔جج دھرمیندر رانا نے اپنے فیصلے میں کہا بڑبولی عوام مضبوط جمہوریت کا اشارہ ہے ۔ایک لاچار اور بیحد نرم گو جنتا کے مقابلے میں بیدار عوام ایک صحت مند اور مضبوط جمہوریت کی علامت ہے ۔بھارت کی پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کبھی بھی الگ الگ نظریات کی مخالف نہیں رہی ہے ۔ریگوید میں ایک شلوک میں بھی لکھا گیا ہے کہ ہمارے پاس چاروں طرف سے ایسے فلاحی خیالات آتے ہیں جو کسی سے نا دبے ، انہیں کہیں سے بھی محروم نہیں کیا جا سکے ۔اور نامعلوم موضوعات کو ظاہر کرنے والے ہوں صرف زبانی دعوے کے علاوہ میرے نوٹس میں ایسا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا جو اس دعوے کی تصدیق کرتا ہو کہ ملزم یا ان کے ساتھی یا سازش کنندہ کی سازش کے بعد کسی بھی ہندوستانی سفارت خانہ میں کسی طرح کا کوئی جھگڑا ہوا ہے جج موصوف نے فیصلے میں کہا کہ دیشار وی کا پی جے ایف کے خالصتانی حمایتی ورکروں سے رشتہ کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے ۔اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا تعلق پی جے ایف سے ہے ۔جج دھرمیندر رانا نے دیشا کو ایک لاکھ کے پرسنل باو¿نڈ پر ضمانت دے دی ۔انہوں نے کہا ریکارڈ میں کم اور ادھورے ثبوتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے مجھے بائیس سالہ لڑکی جس کی کوئی جرائمانہ تاریخ نہیں ہے وہ ضمانت کے قواعد توڑے گی اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے ۔جج موصوف نے کہا نام نہاد ٹول کٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے کسی طرح کا تشدد بھڑکانے کی سازش نہیں کی گئی آج کے ماحول میں ججوں کا رول اور ان کا برتاو¿ اورول پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں ۔ایسے میں جج دھرمیندر رانا نے اپنے فرائض کی بہادری سے تعمیل کر لوگوں میں عدلیہ سسٹم کے تئیں بھروسہ جتایا ہے ۔دیشا روی نے عدالت میں کہا کسانوں کے مظاہرے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا ملک سے بغاوت ہے تو میں جیل میں ہی ٹھیک ہوں دیشا کے وکیل نے کہا یہ دکھانے کے لئے کوئی ہتھیار نہیں ہے ۔کہ کسانوں کے مظاہرے سے جڑا ٹول کٹ 26جنوری کے تشدد کے لئے ذمہ دار ہے ۔عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت نہیں پیش کیاگیا جس سے ثابت ہو دیشا روی علیحدگی پسند نظریات کی حمایتی ہے اور ان کے وممنوعہ تنظیم سکھ فار جسٹس کے درمیان کسی طرح کا کوئی رشتہ ہے جج نے کہا بھارت کے آئین کی دفع 19کے تحت عدم اتفاقی کا حق کے طور پر آزاد ہوں اور میرے نظریے سے بولنے اور اظہار رائے کی آزادی میں عالمی ناظرین کی تلاش کا بھی ھق شامل ہے اور کمیونیکیشن پر کوئی جغرفیائی رکاوٹ نہیں ہے ۔شہری کو اخلاقی حق فراہم کرنے اور کمیونیکیشن حاصل کرنے میں سپریم وسائل کا استعمال کرنے کا اخلاقی حق ہے جب تک قانون کے چاروں کونوں کے تحت اس کی اجازت ہو اور جیسا کہ بیرونی ممالک میں ناظرین تک پہونچ ہو ۔ (انل نریندر)

25 فروری 2021

بھاگوت -متھون ملاقات سے سیاسی پارہ چڑھا!

آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے پچھلے دنوں سینئر فلم اداکار متھون چکرورتی کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اوریہ دو گھنٹے تک چلی ویسے تو متھون نے کسی سیاسی مفاد سے انکار کیا ہے لیکن مغربی بنگال اسمبلی چناو¿ کے پیش نظر اس ملاقات سے قیاش آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا ہے ۔بھاجپا نے متھون اور ان کے پورے پریوار کو ناگپور آنے کی دعوت دی بعد میں متھو ن چکرورتی نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کی اس ملاقات کا کوئی سیاسی مطلب نہیں نکالا جانا چاہیہ یہ صرف پریوارک ملاقات تھی ۔مغربی بنگال چناو¿ کے سبب بھاجپا کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر کہ انہیں کوئی سیاسی تمنا نہیں ہے اور نہ ہی اب تک انہوں نے کسی سے ملاقات کی ۔ادھر مختلف حلقوں میں جاری سماجی کام کاج کے ذریعے متھون دا لوگوں کو لبھاتے رہے ہیں ۔وہیں بھاگوت میں اور متھون میں یہ پہلی ملاقات نہیں تھی ۔بتا دیں متھون چکرورتی پہلے بھی مغربی بنگال کی سیاست سے جڑے رہے ہیں پڑھائی کے دوران وہ کانگریس سے متاثر تھے پھر اس کے بعد ان کا رجحان لیفٹ سیاست کی طرف ہوگیا ۔بنگال میں ان کی مقبولیت کو دیکتے ہوئے ممتا نے 2014میں انہیں راجیہ سبھا کا ممبر بنایا ۔ترنمول کانگریس میں سرگرم کرنے کی کو شش تھی ۔انہیں زیادہ دن راس نہیں آئی ۔ (انل نریندر)

دنیا کا ایک دیش جہاں 1.45لیٹر پیٹرول بکتا ہے!

پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل دسوے دین اضافہ کے چلتے راجستھان کے بعد جمعرات کو مدھیہ پردیش میں بھی پیٹرول کے دام 100روپے فی لیٹر کو پار کر گئے پبلک سیکٹر کی مارکیٹنگ کمپنیوں کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 34پیسہ فی لیٹر اور دیزل کی قیمت میں 32 پیسہ کا اضافہ کیا گیا تھا ۔پیٹرول کے داموں پر پورے دیش کے لوگوں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے پہلی بار پیٹرول کی قیمت 100روپے فی لیٹر پار کر گئی جس وجہ سے اس کا اثر سیدھا لوگوں پر پڑرہا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں پٹرول 1.45لیٹر بکتا ہے یہ دیش ہے وینازئیلا یہاں پیٹرول کی قیمت صرف 0.020ڈالر ہے یعنی روپے میں بات کریں تو صرف 1.45پیسہ ہے جبکہ ایران میں 4روپے 50پئیسے فی لیٹر ہے وہاں بھی تیل کی قیمتیں اسی دام کے ارد گرد رہتی ہیں انگولا میں پیٹرول کی قیمت 17.80روپے ہے ۔وہیں دنیا کی بات کریں تو بھوٹان میں پیٹرول کی قیمت 17.80روپے لیٹر ہے وہیں ایشیا کی بات کریں تو بھوٹان نے 49.56پیسہ روپے فی لیٹر پاکستان میں 51.14روپے لیٹر ہے سری لنکا میں 53روپے ہے ۔دیکھا جائے تو ایشیا میں بھارت میں سب سے مہنگا پیٹرول بک رہا ہے ۔پیٹرول کے بڑھے دام پر اپوزیشن کے بعد اب مرکزی سرکار کو بھی اپنی پارٹی لیڈروں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بھاجپا ایم پی ڈاکٹر سبرا منیم سوامی نے ٹوئیٹ کرکے کہا لوگوں کی آواز اور اٹھ سکتی ہے ۔اور مانگ ہورہی ہے کہ سرکار کو ٹیکس ضروری طور پر واپس لینا چاہیے بتادیں کئی ریاستوں میں پیٹرول کی قیمت 100روپے سے پار ہو گئی ہے پیٹرول ڈیزل کی قیمت میںمسلسل ہورہے اضافہ سے آنے والے ریاستوں کے چناو¿ میں بھاجپا کی مشکل بڑھ گئی ہے ۔اتوارکو مرکزی نیتاو¿ں کی میٹنگ میں کچھ ریاستوں کے لیڈروں نے اس مسئلے پر اپنی پوزیشن کو ہائی کمانڈ کے سامنے رکھا بیشک سرکار نے اپنی طرف سے اس مسئلے پر صفائی رکھی ہے لیکن جنتا نے جارہے پیغام اور اپوزیشن پارٹیوں کو اشو بنانے اور مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ برقرار ہے بھاجپا کو پریشانی ہے کہ کہیں یہ ناراضگی ووٹوں میں نہ بدل جائے ؟ اپریل میں پانچ ریاستوں کے چنا و¿ سے پہلے پیٹرول ڈیزل کے نام ریکارڈ سطح پر پہونچ چکے ہیں جس وجہ سے ریاستوں کے بھاجپا لیڈروں کے چہروں پرشکن لادی ہے ممکن ہے بھاجپا حکمراں ریاستوں میں حالات کو بھانپتے ہوئے ریاستی حکومتیں اپنا ٹیکس گھٹا دیں جس سے لوگوں کو کچھ راحت ملے اس سے دیگر ریاستوں پر بھی دباو¿ بنے گا ۔اور حالات سدھر سکتے ہیں حال ہی میں این ڈی اے کی میگھالے حکومت نے اپنے یہاں قیمتیں کم کی ہیں شاید ہی مرکز سرکار ان قیمتوں میں اپنی طرف سے کوئی راحت دے حالانکہ کچھ ریاستوں کے ذریعے کچھ قدم اٹھائے جا سکتے ہیں حال ہی میں سرکار میں اعلیٰ سطح سے آئے بیان بھی اس بات کااشارہ دے رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

چناو ¿ کام کی بنیادپر جیتا جاتا ہے صرف جملوں سے نہیں!

پنجاب بلدیاتی چناو¿ میں بھاجپا کا ایک طرح سے صفایا ہوگیا تھا اب دہلی میونسپل کارپوریشن کی پانچ سیٹوں پر 28فروری کوضمنی چناو¿ ہونا ہے ۔اب ان پانچ سیٹوں پر 63امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے ایم سی ڈی ان پانچ شیٹوں پر ہو رہے ضمنی چناو¿ میںتین پارٹیاں کانگریس بھاجپا اور عآپ کے درمیان چناوی ماحول پوری طرح سے گرم ہوگیا ہے ۔عام آدمی پارٹی اس کوشش میں ہے کہ کسی بھی طرح سبھی پانچوں شیٹوں پر جیت کر وہ پرچم لہرا کر بھاجپا اور کانگریس کو نچلے پائیدان پر لا دیا جائے جس سے اگلے برس ہونے والے ایم سی ڈی چناو¿ سے پہلے یہ دونوں پارٹیاں جوش کی جگہ کشیدگی میں آجائیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو لگتا ہے شیلم پور اور چوہان بانگر شیٹ کو چھوڑ کر وہ باقی شیٹوں پر سیدھے مقابلے میں ہے اگر کانگریسی بالکل چت نہیں ہوئے تو کمل کھلناطے ہے ۔مشرقی دہلی میں ہو رہے تین میونسپل شیٹوں پر ضمنی شیٹوں کی اہمیت ہی نہیں بلکہ دلچشپی بھی بنی ہوئی ہے۔جہاں کئی سرکردہ نیتاو¿ں کی بھی شاخ داو¿ پر لگی ہوئی ہے ۔دہلی کی تینوں میونشپل کارپوریشنوں کے لئے اگلے برس شروع میں ہونے والے چناو¿ سے پہلے عام آدمی پارٹی کی بھاجپا میں بھگدڑ مچانے کی پوری تیاری ہے ۔مارکیٹ میں خبر ہے کہ تینوں کارپوریشنوں میں بھاجپا کے 40سے زیادہ کانسلر عآپ کی جھاڑو تھام سکتے ہیں وہیں اس سے زیادہ سابق کونسلر بھی عام آدمی پارٹی میں آنے کا من بنائے ہوئے ہیں صرف عآپ کی طرف سے سگنل ملنے کا انتظار کررہے ہیں عام آدمی پارٹی فی الحال جس حکمت عملی پر چل رہی ہے اس میں چناو¿ سے پہلے بھاجپا خیمہ میں کھلبلی مچانا ہے ۔جس سے یہ پیغام چلا جائے کہ بھاجپا کی کارپوریشنوں سے ودائی ہورہی ہے ۔اس لئے اس کے کانسلر و سابق کونسلر بھاجپا کو چھوڑ کر جارہے ہیں ۔عآپ کا خیال ہے کارپوریشن ضمنی چناو¿ کے نتیجوں میں پانچوں شیٹوں پر جب عآپ کا پرچم لہرائے گا تو ہوا میں باتیں کررہی بھاجپا کانگریس کے لیڈروں کو پتہ چل جائے گا کہ چناو¿ کام کی طاقت پر جیتا جاتا ہے نہ صرف باتوں سے جیتا جاتا ہے عام آدمی پارٹی سبھی شیٹوں کو لیکر مطمئن لگتی ہے بھاجپا میںجاری حالات کی خبر پردیش سطح کے کئی نیتاو¿ں نے بھی ہائی کمان کو قصوروار مانا ہے ۔تنظیم صرف گنیش پریکرمہ کرنے والوں کو ہی اہمیت دے رہی ہے ۔تنظیم توسیع میں کچھ نیا نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔تینوں پردیش جنرل سکریٹری جمنا پار سے بنا کر پارٹی نے کیا سندیش دیا یہ ابھی تک اس کے نیتا بتا نہیں پائے ہیں ناراض بھاجپا ورکروں کا کہنا ہے کہ ہم 2007سے مسلسل کارپوریشن میں اقتدار میں ہیں ہمارے پاس کارنامہ کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے اور 2022 کے چناو¿ میں ہم کیا لے کر اتریں گے یہ ہمیں بھی نہیں پتا وہیں عام آدمی پارٹی کے نیتا کارپوریشن چناو¿ کو لیکر ٹھوس پالیسی پر چل رہی ہے اور اس کے اشو اسمبلی میں بجلی پانی محلہ کلینک اور ٹرانسپورٹ کیطرف جنتا کو راغب کررہے ہیں وہیں لوگ ابھی بھی غلط فہمی میں جی رہے ہیں کانگریس کہتی ہے کہ سب کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ (انل نریندر)

24 فروری 2021

لاکرس کی حفاظت بینکوں کی ذمہ داری !

سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ بینکوں میں لاکرس کی حفاظت و کنٹرول میں ضروری احتیاط برتنا بینکوں کی ذمہ داری ہے وہ اپنی ذمہ داری سے پلا نہیں جھاڑ سکتے گراہل بینک میں لاکر سہولت یہ یقین کرنے کے لئے لیتا ہے کہ وہاں اس کا پیسہ اور چیزیں محفوظ رکھی جائیں گی اس ذمہ داری سے بینکوں کے ہاتھ جھاڑنے سے نہ صرف کنزیومر پروٹکشن قانون کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ سرمایہ کا بھروسہ بھی ٹوٹے گال ۔عدالت نے ریزرو بینک آف انڈیا کو حکم دیا ہے کہ وہ 6مہینہ کے اندر لاکر سہولت یا محفوظ رقم مینجمنٹ کے بارے میں مناسب ریگولیشن جاری کرے بینکوں کا اس بارے میں اک طرفہ قانون طے کرنے کی چھوٹ نہیں ملنی چاہے اور اس کے ساتھ ہی بینک لاکر انتظام کے بارے میں بینکوں کے لئے گائڈ لائنس بھی جاری کی گئی ہیں آر بی آئی کا قاعدہ جاری ہونے تک بینکوں کو سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس کی تعمیل کرنی ہوگی ۔یہ فیصلہ جمع کو جسٹس ایم ایم شانتن گوڈر اور بنت شرن کی ڈویزن بنچ نے یونائٹڈ بینک آف انڈیا کے خلاف داخل ایک گراہک امیتابھ داس گپتا کی عرضی پر سنایا ہے عدالت نے بینک کو استعمال رکھ رکھاو¿ قانون کے تحت سروس میں کمی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عرضی گزار کو پانچ لاکھ روپے ہرجانہ ایک لاکھ روپے مقدمہ کا خرچ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔کنزیومر داس گپتا نے بینک پر الزام لگایا تھا لاکر کا کرایہ دینے کے باوجود بینک نے وقت سے کرایہ ادا نہ کرنے کے الزام پر اس کا لاکر انہیںبتائے بغیر توڑ دیا لاکر توڑنے کی خبر تک نہیں دی وہ قریب سال بھر بعد لاکر کھولنے کے لئے بینک گئے تب انہیں اس کی جانکاری ملی اور بینک نے لاکر میں رکھنے ان کے ساتھ زیورات واپس نہیں کئے پھر دو ہی واپس کئے بعد میں یہ معاملہ اسٹیٹ کنزیومر کمیشن اور نیشنل کنزیومر کمیشن تک پہونچا دونوں ہی جگہ سے عرضی گزارکو دیوانی عدالت جانے کو کہا گیا تھا اس کے بعد وہ وہاں پہونچا عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے بنا جواز کے بینک نے عرضی گزار کا لاکر اسے بتائے بغیر توڑ دیا اس طرح بینک نے گراہک کے تئیں سروس فراہم کنندہ کے طور پر اپنی ذمہ داری میںکوتاہی برتی ہے ۔ (انل نریندر)

بھاجپا یوتھ لیڈر کوکنگ کے ساتھ گرفتار!

ان دنوں مغربی بنگال کی سیاست انتہا پر ہے کچھ دن پہلے بی جے پی یوتھ ونگ کے لیڈر پامیلا گوسوامی کی خوب خبریں سنائی دے رہی ہیں ساو¿تھ کولکاتہ کے عالیشان نیو علی پور سے دس لاکھ روپے مالیت کی سو گرام کوکنگ کے ساتھ پامیلا کی گرفتاری کے بعد بنگال بی جے پی اب بیک فٹ پر آگئی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی پر تابڑ توڑ حملے کررہی ہیں کوکنگ کے ساتھ گرفتاری کے بعد کولکاتہ کی عدالت میں پیش کیاگیا اس سے پہلے پامیلا نے دعویٰ کیا کہ اسے اس معاملے میں پھنسایا گیا ۔اس کو 25فروری تک پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے ۔پولیس کے حکام کے مطابق پولیس نے جمعہ کو پامیلا کی کار کوروکاتھا اور تلاشی کے دوران 100گرام کوکنگ ان کے ہینڈ بیگ اور کار سے ملی ہے ۔پامیلا نے اپنی پارٹی کے ایک ساتھی پر سازش رچنے کا الزام لگایا کہا کہ وہ شخص بھاجپا نیتا کیلاش وجے ورگیہ کا قریبی ساتھی ہے ۔پامیلا کو ان کے ایک دوست پردیپ کمار اور ان کے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا ۔عدالت مین پیشی کے بعد پامیلا کو حوالات لے جانے کے دوران وہاں موجود میڈیا اور نیوز چینلوں سے کہا کہ میں سی آئی ڈی جانچ چاہتی ہوں آج راکیش سنگھ جو کیلاش ورگیہ کے ساتھی ہیں کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے ۔اب میرے خلاف ایک سازش ہے وہیں بھاجپا پردیش کمیٹی کے ممبر سدات سنگھ نے الزام لگایا کہ حکمراں ترنمول کانگریس اور کولکاتہ پولیس ان کے خلاف سازش رچ رہی ہے ۔پامیلا نے کہا اگر میں کوکنگ معاملے میں ملوث ہوں تو مجھے یا کیلاش ورگیہ اور امت شاہ کو بلا سکتے ہیں مجھے لگتا ہے پولیس نے اسے سکھایا پڑھایا ہے ۔ترنمول کانگریس نے کہا کہ پورا معاملہ بھاجپا کے اصلی چہرے کو ظاہر کرتا ہے پارٹی جنرل سکریٹری اور ریاست کے وزیر پارک چٹرجی نے کہا ا س سے پہلے بھاجپا کے ایک نیتا کے بچوں کی اسمگلنگ کے معاملے میں گرفتاری ہوئی تھی اب ایک دوسرے نیتا ڈرگس معاملے میں گرفتار ہوئی ہے اس سے صرف یہ ہی ثابت ہوتا ہے بھاجپا اور اس کے نیتاو¿ں کا اصلی چہرہ کیا ہے ؟ پارٹی کے نوجوان ورکروں کے درمیان پامیلا کتنی مقبول ہے اس کا اندازہ ان کے شوشل میڈیا پروفائل دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے بھاجپا کے سبھی سرکردہ نیتاو¿ں کے ساتھ تصویریں ہیں ۔اور وہ شوشل میڈا اکاو¿بٹس پر بھاجپا کی ہرریلی اور میٹنگ کی تصویریں ڈالتی رہتی ہیں حال ہی میں نیتاجی سبھاش چندر بوس کی 125ویں جینتی کے موقع پر کولکاتہ وکٹورتیل میموریل میں پراکرم پروگرام میں بھی پامیلا گوسوامی موجود تھیں ۔ (انل نریندر)

ساو ¿تھ میں کانگریس کا اکلوتہ قلعہ بھی گرا!

پڈوچیری اسمبلی میں پیر کو جو کچھ ہوا اس سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی یہ تو ہونا ہی تھا اسمبلی میں وزیراعلیٰ نارائن سوامی اپنی سرکار کی اکثریت ثابت نہیں کر پائے آخر کار اسپیکر نے اعلان کیا کہ سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے اس کے بعد وزیراعلیٰ نارائن سوامی کی ودائی طے ہو گئی ۔غور طلب ہے کہ اسمبلی میں کانگریس کے پاس اس کے 9ممبر اسمبلی کے علاوہ دو ڈی ایم کے اور ایک آزاد ممبر اسمبلی کی حمایت ہے یعنی کانگریس کے پاس گیارہ ممبران (اسپیکر )سے لیکر 12) کی حمایت ہے جبکہ اسمبلی کی موجودہ آئینی حیثیت کے مطابق اکثریت کے لئے 14ممبران کی حمایت چاہیے تھی ۔اور اسمبلی میں فلور ٹیسٹ سے پہلے وزیراعلیٰ نارائن سوامی دعویٰ کرتے رہے کہ ان کے پاس منتخبہ ممبران میں سے اکثریت ہے ۔اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کے دوران کانگریس اور ڈی ایم کے کے ممبرا سمبلی نے واک آو¿ٹ کیا اس کے بعد صاف ہو گیا تھا کہ نارائن سوامی اسمبلی میں ہار گئے اور اسپیکر نے اعلان کیا کہ وہ اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہے کانگریس نے پڈوچیری میں اپنی سرکار بڑی آسانی سے گنوا دی دہلی کے ہائی کمان نے ممبران کو متحد رکھنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی تملناڈو اور پڈوچیری کی سیاست میں دلچشپی رکھنے والے سابق وزیراعلیٰ ویرپا موئیلی غلام نبی آزاد جیسے لیڈروں کو لگایا جاتا تو شاید ساو¿تھ انڈیا میں کانگریس کا یہ اکلوتا قلعہ گرنے سے بچ جاتا ۔کانگریس نے پڈچیری کو اتنا ہلکہ میں لیا کہ انچارج دنیش گنڈوراو¿ نے ناراضگی کو خاموش کرنے کے لئے ریاست میں وقت نہیں دیا ۔انہوںنے بمشکل ہی تین بار پڈوچیری کا دورہ کیا ۔ان سے پہلے انچارج رہے مکل واشنک کے بارے میں تو کہا جاتا ہے وہ ممکنہ دو سال میں ایک سال بعد مارچ میں چناو¿ ہوں گے ۔حال ہی میں سابق کانگریس صدر راہل گاندھی پڈوچیری آئے تھے ۔تو ان کو بھی بتایا گیا تھا کہ وہ ناراض ممبران اسمبلی اور نیتاو¿ سے بات کرکے سیاسی بحران کو ٹالا جائے دراصل دسمبر میں باغیوں میں شامل وزیر اینم شوائے کے بھارت کو مات دینے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا ۔کہا جاتا ہے کہ وہ اس بات سے ناراض تھے کہ انہیں آخری دو سال کے لئے وزیراعلیٰ بنانے کا وعدہ پورا نہیں کیا حالانک نارائن سوامی عہدہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے اینم شوائے کو ساڑے چار سال تک پارٹی کا ریاستی صدر اور پشند کی وزارت دی گئی تھی ابھی چرچہ یہ ہے کہ بھاجپا نے نوم شیوائے کو وزیراعلیٰ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن یہ آسان نہیں رہے گا کیوں کہ ان کے ماما بھاجپا کی اتحادی جماعت این آر کانگریس کے چیف رنگا سوامی بھی وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں حالانکہ بھاجپا نے نوم شیوائے کے ذریعے حکمراں فریق سے آدھا درجن ممبران کو توڑ کر نارائن سوامی کی کانگریس سرکار کو معذور کرنے میں بھلے ہی کامیابی پالی ہے آج اگر ساو¿تھ انڈیا میں کانگریس کا اکلوتا قلعہ ڈھے گیا ہے تو اس کے لئے خود کانگریس ہائی کمان ذمہ دار ہے پڈوچیری کانگریس لیڈرشپ ذمہ دار ہے آنے والے دنوں میں ساو¿تھ میں کئی اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں ایسے وقت میں پڈوچیری میں کانگریس کا صفایا پارٹی کے لئے اچھے اشارے نہیں مانا جا سکتا ۔ (انل نریندر)

23 فروری 2021

کسانوں کا اشو اٹھانا اگر بغاوت ہے تو میں جیل میں ہی صحیح!

ٹول کٹ معاملے میں ملزم ماحولیاتی رضاکار کی ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران سنیچر کو بچاو¿ اور مخالف اور وکیلوں میں زور دار بحث ہوئی دشا روی کی طرف سے کہا کہ اگر کسانوں کے احتجاجی مظاہرے کو سوشل میڈیا پر اٹھانا ملک سے بغاوت ہے تو اس کا جیل میں ہی رہنا صحیح ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ 26جنوری کو ہوئے تشدد کیلئے ٹول کٹ ذمہ دار نہیں ہے وہیں پولس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ پورامعاملہ ابھی خالستان سے جڑا ہے دونوں فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے روی کی ضمانت عرضی پر منگلوار تک کیلئے فیصلہ محفوظ کرلیا پٹیالہ ہاو¿س کوٹ کے جج دھرمیندر کی رانا کی عدالت میں پولس نے ملزم دشا روی کی دلیلوں کا سختی سے احتجاج کیا پولس نے عدالت میں کہا کہ ملزمہ دشا روی خالستان حمایتوں کےساتھ ٹول کٹ تیار کر رہیں تھیں وہ بھارت کو بدنام کرنے کیلئے کسان آندولن کی آڑ میں دیش میں سورش پیدا کرنے کی عالمی سازش کا حصہ ہے اس کا کہنا تھا کہ محذ یہ ایک ٹول کٹ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سازش ہے پولس نے الزام لگایا کہ دشا کی واٹس ایپ ہوئی بات چیت ، ای میل، و دیگر ثبوت مٹا دیئے گئے ہیں ۔ پولس کا کہنا تھا اس سے صاف اسے اس بات کی جانکاری تھی اس کے خلاف قانونی کاروائی ہوسکتی ہے اور اس کے الکٹرونک سامان کو قبضے میں لے کر جانچ شروع کردی گئی ہے تاکہ اس کے روابط اور بات چیت کا پتہ چل سکے۔ پولس نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ اگر دشا نے کوئی غلط کام نہیں کیاتھا تو اس نے اپنے پیغامات کوچھپایا اور ثبو ت مٹا دیئے وہیں دشا کے وکیل نے الزامات کو مسترد کردیا بچاو¿ فریق کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل دشا کا تعلق ممنوعہ تنظیم سی ٹیجن فار جسٹس سے جوڑنے کےلئے کوئی ثبوت نہیں اگر وہ کسی سے ملی تھی تو ا س کے سر پر ٹھپا نہیں لگا ہوا تھا دشا کے وکیل نے دہلی پولس نے کسانوں کو ٹریکٹر پریڈ کی اجازت دی تھی پولس کے دعویٰ ہے کہ دشا نے کسانوں سے اس میں شامل ہونے کو کہا تھا تو یہ بغاوت کیسے ہوگئی ؟ وکیل نے دعویٰ 26جنوری کو لال قلعے پر تشدد کے سلسلے میں گرفتار کئے گئے کسی بھی شخص نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس سرگرمی کیلئے ٹول کٹ سے متاثر ہوا ہے اب وہ منگل یعنیٰ آج آگے معاملے کی سماعت ہوگی دشا کی ضمانت پر بھی فائدہ کرے گی۔ (انل نریندر)

حریفوں کو چپ کرانے کیلئے بغوات قانون نہیں لگا سکتے !

دہلی ایک عدالت نے حال ہی میں کہا ہے بلوائیوں کے بہانے حریفوں کو چپ کرانے کیلئے بغوات قانون کا استعمال نہیں کیا جاسکتا عدالت نے ان دو لوگوں کو ضمانت دے دی جن پر کسان تحریک کے دوارن فیس بک پر فرضی ویڈیو اپلوڈکرنے کا الزام تھا۔پولس نے بغوات کے الزام میں مقدمہ درج کیا اڈیشنل سیشن جج جسٹس دھرمیندر رانا نے دیوی لال بدرک اور سروپران کو ضمانت دیتے ہوئے کہا امن نظام بنائے رکھنے کیلئے سرکار کے ہاتھ میں بغوات قانون ایک طاقتور اوزار ہے ۔ حالانکہ مجھے شبہ ہے کہ ملزم کے خلاف دفعہ 124(A)کے تحت کاروائی کیجاسکتی ہے ۔ جج نے 15فروری کو دیئے گئے اپنے حکم میں کہا کہ حالانکہ بلوائیوں کا منھ بند کرنے کے بہانے اپنے حریفوں کو خاموش کرنے کیلئے اسے لاگو نہیں کیا جا سکتا ۔ ظاہری طور پر یہ قانون ایسے کسی بھی عمل کی ممانعت کرتا ہے جس میں تشدد کے ذریعے پبلک امن کو بگاڑنے اور گڑبری پھیلانے کی نیت ہو در اصل دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ سرکار نے پچھلے دو برسوں میں اوسطاً روزانہ نو لوگوں ملک بغاوت کہتے پایا لیکن کوٹ میں ان میں سے ہر ایک سو میں سے صرف دو ہی پر الزام طے ہوپایا بغاوت کی دفعہ 124A(آئی پی سی) کے تحت جن لوگوں پر پولس نے مقدملے کیئے ان میں سے زیادہ تر شہری ترمیم قانون کے خلاف تحریک میں شامل تھے ۔ سپریم کورٹ کی کئی آئینی بینچوں نے صاف کہا ہے چاہے کتنے ہی سخت الفاظ میں سرکار کی ملامت کیوں نہ کی جائے اس حرکت کو ملک سے بغاوت نہیں مان سکتے لیکن شاید سرکار کی تشویس اس بارے میں کچھ ہی ہے ۔ جس میں جمہوریت کا سب سے بڑا وردان اظہار رائے کی مختاری اور اس کے تحت سرکار کی تنقید بھی حکمراں فریق کو ملک کی بغاوت لگتا ہے ۔ جہاں 19سالہ گریٹا تھن برگ اور 23سالہ دشا روی انہیں ملک دشمن دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ کسان آندولن کا ہر حمایتی آندولن یا دشمن لگنے لگتا ہے ۔دراصل انٹرنیٹ کے اس دور میں نظریات کی حد دیش سے پرے بھی جاتی ہے اور وہاں بھارت کا انفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ ، انک ٹیکس محکمہ یا پھر پولس کا ڈنڈا کام نہیں کرتا۔ سرکار پر الزام لگائے جارہے ہیں کہ کسان آندولن سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے ٹول کٹ سازش کا ایک ہوا کھڑا کر رہی ہے کیونکہ دیش میں پچھلے کچھ برسوں ایک خاص قسم کی قومیت کی ایک نیا نظریہ چل رہا ہے لحاظہ حکمراں فریق یہ بتانے میں لگا کہ ہر احتجاج کے پیچھے غیر ملکی طاقتیں ہیں 1970کی دھائی سے پہلے اندرا گاندھی کی ہر تقریر میں بھی یہی تکیہ کلام رہتا تھا ۔ آر کے لکچھمن کا ایک کارٹون موضوع بحث رہا جس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک خاتون لیڈر کچھ ننگے بھوکے دیہاتیوں کے درمیان کہ کیسے غیر ملکی طاقتیں دیش کی خوشحالی سے جل رہی ہیں آج بھی کسانوں کی دکھ درد سننے کی جگہ ان میں خالستانی اور غیر ملکی ہاتھ ہونے کی وجہ تلاشی جا رہی ہے بیرونی ممالک میں بہت سے ہندوستانیوں سمیت سرکار کی اس رویے کی مذمت کی ہے ۔ برطانیہ کے ایک اخبار میں دشا روی کی گرفتاری پر اظہار رائے آزادی پر حملہ بتایا ہے جبکہ کئی دیشوںمیں وہاں کے ممبران پارلیمنٹ اور سینٹروں نے بھارت میں کسان آندلون کو دبانے والی کوشش مانا ہے کیا یہ سبھی ٹول کٹ سازش کے حصے ہیں ؟دیش بھر میں سخت قوانین کا بیجا استعمال صرف سرکار کو نہیں استعمال کرنا چاہئے ۔ (انل نریندر)

21 فروری 2021

امریکہ میں تاریخی بجلی بحران !

ایسا بہت ہی کم سننے کو ملتا ہے کہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں بجلی گل ہوگئی مجھے یاد ہے کہ بہت برسوں پہلے نیو یارک مین بجلی چلی گئی تھی کچھ دن پہلے ہی امریکہ کی ریاست ٹیکساس ، نارتھ کیرولینا ، شکاگو سمیت کئی ریاستوں میں برفیلے طوفان سے کم سے کم 20لوگوں کی موت ہوگئی ہے اس وجہ سے دیش کے قریب بارہ ریاستوں میں بجلی سپلائی ٹھپ ہوئی تھی اور ایک کروڑ گھروں اور کاروباری اداروں میں بجلی سپلائی ٹھپ رہی اور لاکھوں لوگ ٹیکساس اور دیگر علاقوں میں تاریکی اور طوفان میں پھنس گئے طوفان نے بجلی گھروں کو نقصان پہونچایا جس وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی ٹھپ ہوگئی ایک جاری بیان میں صدر جو بائیڈن نے ٹیکساس میں خراب موسم کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی لگا دی گئی اور ریاستیوں کی مدد کرنے کا حکم دے دیا گیا اس کے بعد سرکاری سطح پر راحت رسانی کا کام شروع ہوا مریخ پر شہر بسانے کا خواب دیکھ رہے زمین کے دوسرے سب سے رئیس ارب پتی ایلین مسک بھی امریکہ کے ٹیکساس ریاست میں اس بجلی بحران میں پھنس گئے غلط یہ ہے کہ زبردشت اور سردی اور برف باری کے درمیان ایلین مسک کو خود کو بچائے رکھنے کیلئے اپنی الیکٹرک کار میں ہی سونا پڑا پچھلے چار دنوں تک چلے بجلی بحران کی زد میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور 20لوگوں کی موت ہوگئی ۔ بجلی کی کٹوتی کا اثر خلاءسے بھی دیکھا جا رہا ہے وہاں سے لی گئی تصویروں میںدکھائی دیا کہ یہ بلیک آو¿ٹ کافی دور تک چھایا ہوا ہے ۔ محکمہ موسمیات نے خبر دار کیا مزید برف برف باری ہوسکتا ہے ۔ درجہ حرارت میں بدلاو¿ ہونے کی وجہ سے چالیس لاکھ سے زیادہ آبادی والی ریاست ٹیکساس بجلی فیل ہونے سے لاکھوں لوگوں کو پانی اور بجلی کے سبب گھروں کو گرم رکھنا پڑتا ہے ۔ حالات یہ ہیں ان علاقوں میں ویکسی نیشن سینٹر بھی بند کردیئے گئے ہیں اور بزرگوں کی جان بچانے کیلئے نیشنل گاڈس تعینات کئے گیے ہیں ٹیکساس اورہوسٹن میں ہوائی سروس بند ہوگئی ہے امریکہ کے صدر جو بائیڈن مدد بھیجنے میں لگے ہوئے ہیں امید ہے کہ امریکہ کہ ریاستوںمیں بجلی کی سپلائی جلد بحال کردی جائے گی تاکہ عوام بھاری برف باری اور سردی سے بچ سکیں ویسے دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک میں پاور گریڈ فیل ہونا اپنے آپ میں چونکانے والا ضرو ر ہے ۔ (انل نریندر)

چنئی کے سپر کنگ اشون !

ٹیم انڈیا نے چنئی کے میدان پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو پوری طرح سے دھو دیا بھارت کی انگلینڈ پر 317رنوں کی جیت کی حساب سے اس پر اب تک کی سب سے بڑی جیت ہے ۔بھارت کی اس جیت میں ویسے تو کئی کھلاڑیوں کا اشتراک رہا لیکن صحیح معنوں میں جیت کے ہیرو روی چندر اشون، روہت شرما، اور اکچھر پٹیل ہیں ۔ اشون نے ٹیسٹ میچ میں تیسری مرتبہ سینچری بنانے کے ساتھ ہی پاری میں پانچ وکٹ لئے ان کے علاوہ صرف دو دیگر ہندوستانی کھلاڑی ایسا کر پائے ہیں ۔ بیجو دھنکڑ میں 1952او ر پالی عمریکرنے 1962میں ایسا کارنامہ کیا تھا اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر ایان باتھم ، جیک کیلس، شکیب الحسن ، سر گیر ی سوبرس، محمد مشتاق نے بھی یہ کیا تھا کرکٹ تاریخ کے سب سے بڑے اسپینرس کی بات ہو تو کارناموں کی بنیاد پر سری لنکا کے متھیا ملی دھرن ٹاپ پر ہیں ۔ انہوںنے 800وکٹ حاصل کر سبھی طرح کے بالروں میں چوٹی پر ہیں اتفاق سے وہ آف اسپنر بھی ہیں جیسے کی روچندرن اشون بھی آف اسپن ڈالتے ہیں ٹیسٹ کے کچھ دیگر سب سے کامیاب اسپنر س کی لسٹ میں شین وارن 708ٹسٹ وکٹ انل کمبلے 619ٹسٹ وکٹ لے چکے ہیں ۔یہ دونوں لوگ اسپنر ہیں اور ٹیسٹ کے بہترین بالر کی لسٹ میں دوسرے تیسرے مقام پر ہیں ان تینوں آل ٹائم بیسٹ بالرس اور اسپنرنے اور بلے بازی میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی روی چندرن اشون اس لحاظ سے بہتر ہیں کیونکہ انہوں نے بالنگ کے ساتھ ساتھ بلے بازی میں بھی کامیابی حاصل کی ہے اشون کا کہنا ہے کہ انہوں نے چپک کی پچ سے مل رہے ٹرن کے بوطے پر ہی نہیں بلکہ رفتار اور چالاکی سے بھی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں وکٹ حاصل کئے اشون نے جیت کے بعد کہا لوگ جتنا باہر بیٹھ کر پیش گوئی کر رہے ہیں مجھے لگتا ہے جو گیند زیادہ ٹرن کر رہی تھی اس سے وکٹ نہیں مل رہے تھے یہ بلے باز کی ذہنیت تھی جس کے سبب ہمیں وکٹ ملے میں برسوں سے یہاں کھیل رہا ہوں اور ہمیں وکٹ رفتار اور چال بازی سے ملے اپنے ارادے مضبوط رکھنا بہت اہم تھا پچ جس طرح سے برتاو¿ کر رہی ہو اس سے ہر طریقے کا مختلف نتیجہ ہوتا ہے میں نے الگ طریقے سے کوشش کی ۔ ہوا کا استعمال کیا گیند چھوڑنے کیلئے مختلف کون کا استعمال کیا ۔ رنپ میں تیزی سے کام کیا یہ میرے لئے کاریگر رہا میں نے اس پر کام کیا تھا۔ پہلے میچ کے مقابلے میں وکٹ کافی مختلف تھا یہ لال مٹی والا تھا جبکہ پہلا بزری والا تھا ۔ اشون نے میچ کے بعد تمل میں کہا میں نے چیپک میں اینٹی اسٹیڈیم سے تب سے کرکٹ دیکھا جب میں 8-9سال کا تھا اس میدان پر کھیلنے کا موقع پانا میرے لئے خواب جیسا تھا میں یہاں اب تک چار ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور ان میں سے یہ سب سے خاص ہے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اب بھی میں نے گیند بازی کی ، تو مجھے ہی ٹرن جیسا احساس ہوا ۔ کورونا کے وقت کوئی کرکٹ میچ نہ ہونے کے سبب معلوم تھا کی ٹسٹ میچوں کیلئے بھاری تعداد میں ناظرین آئینگے یہ میچ میں چنئی کے ناظرین کو وقف کرتا ہوں ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...