Translater

11 اکتوبر 2014

نریندر مودی کی گہری چال: پہلے باپو اب چاچا نہرو!

وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف ایک اچھے مقرر ہیں بلکہ وہ چن چن کر جو اشو اٹھاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنی گہری چالیں چل رہے ہیں۔کانگریس سے نجات بھارت کی بار بار بات کرکے بڑے سسٹم کے انداز سے وہ کانگریس کے آئیکون چھینتے جارہے ہیں۔ آج تک کانگریس باپو مہاتما گاندھی پر اپناحق جتاتی رہی ہے، پنڈت نہرو کو بھی اپنا آئیکون مانتے رہے ہیں کانگریسی۔ لیکن مودی نے آہستہ آہستہ کانگریس کے اس حق کو ختم کرنے کی مہم چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے گاندھی جینتی کے دن دیش کے عوام کو ایک اہم سوچتا مشن سے جوڑ کر باپو کی وراثت کانگریس سے چھین لینے کی بحث چھیڑی تھی۔ وہ ابھی خاموش نہیں پڑی ہے کہ انہوں نے پہلے وزیر اعظم اور بچوں کے چاچا نہرو کہلانے والے پنڈت جواہر لال نہرو کی وراثت کی طرف بھی جذباتی جال بچھا دیا ہے۔ وہ یہیں نہیں رکے انہوں نے ایک مضبوط وزیر اعظم رہیں اندرا گاندھی کو بھی اپنے اس گہرے جال میں لپیٹنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس حکمراں ہریانہ ریاست میں چناوی ریلی کے دوران نریندر مودی نے اعلان کیا کہ 14 نومبر کو پنڈت نہرو کی 125 ویں جینتی بھارت سرکار خاص انداز میں منائے گی۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں کو بھی اپیل کی ہے کہ وہ 19 نومبرکو اندرا گاندھی کی جینتی ہے اس لئے 14 سے19 نومبر تک اس پورے ہفتے کو بچوں کے بیچ صفائی ہفتے کی شکل میں منایا جائے گا۔ پنڈت نہرو کو بچے بہت پسند تھے ا س لئے انہیں شردھانجلی کے طور پر بچوں کی صحت صفائی کے تئیں بیدار بنانے کی خصوصی مہم چلائی جائے۔ یہ کام اپنے اسکول ،محلہ اور دیش کے صفائی نمائندہ بنیں۔ یہ سنسکار ڈالنے کی کوشش ہو۔ دراصل نریندر مودی ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پہلا تو وہ اپنی اب تک کی کٹر پسند ساکھ کو بدلنے کی کوشش میں لگے ہیں اور اس طرح بھارت کی عوام جن میں کانگریسی بھی ہیں ان میں اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسرا مقصد ان کا یہ ہے کہ وہ بڑی ہستیوں کے نام سے وابستہ قومی چیتنا کا استعمال اپنے مشن کی کامیابی کے لئے کر لینا چاہتے ہیں، تیسرا سب سے اہم نشانہ کمزور ہوتی پارٹی اور اس کی لیڈر شپ کو ناکارہ کرنا تاکہ عوام میں یہ پیغام جائے کہ کانگریس ان کے نام کو نہ صرف بھناتی رہی ہے اور اب اصلی کام تو نریندر مودی کررہے ہیں۔ اس لئے اس طرح نریندر مودی کانگریس کے آئیکون کو آہستہ آہستہ باہر نکال کر یہ ثابت کررہے ہیں کہ مہاتما گاندھی ، پنڈت نہرو، دیش کی وراثت ہیں کسی پارٹی کے ایک طرفہ نیتا نہیں ہیں۔انہیں بھی ان کے نام کو بھنانے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کانگریس پارٹی کو ہے۔ ظاہر ہے کہ مودی کی اس چال سے کانگریس پریشان ضرور ہوگی لیکن آہستہ آہستہ اقتدار کھسکنے کے ساتھ ساتھ اب اس کے آئیکون بھی چھن رہے ہیں۔
(انل نریندر)

مہاراشٹر اسمبلی چناؤ میں مودی کی ساکھ داؤ پر لگی ہے!

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر اسمبلی چناؤ میں اپنے آپ کو داؤ پر لگا کر کیا ٹھیک کیا ہے؟ اگر بھاجپا ان چناؤ میں اچھی پرفارمینس دکھاتی ہے تومودی کی کوشش انہیں اور مضبوط بنا کر سامنے لائے گی۔ اگر چناؤ نتائج اتنے اچھے نہیں آتے تو کیا اس سے مودی کا گراف نیچے نہیں گرے گا؟ مہاراشٹر میں شیو سینا سے اتحاد ٹوٹنے کے بعد ریاست میں بھاجپا کی جیت کو لیکر پی ایم مودی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ ہرحال میں یہ چناؤ جیتنے کے لئے پارٹی کے چانکیہ مانے جانے والے امت شاہ نے وکاس منڈل اور شمالی ہندوستانیوں اور گجراتیوں پر مودی کی زیادہ توجہ مرکوز کرائی ہے۔ امت شاہ کا اندازہ ہے کہ اگر ان کا یہ فارمولہ کامیاب ہوا تو اسے 150 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ ریاست کے نیتاؤں کو امید ہے کہ مودی کے بوتے پر انہیں ریاستی اسمبلی میں اکثریت مل جائے گی کیونکہ بھاجپا برانڈ پولیٹکس کو اہم اور کامیاب مان رہی ہے لہٰذا ریاست میں مودی کے سامنے دوسرے لیڈروں کا قد بونا پڑتا نظر آرہا ہے۔ کانگریس نے دیش میں جس شخصی سیاست کو اہمیت دی بھاجپا نے عالمی کرن کے بعد اس کے چہرے میں بہتری لا کر برانڈ پالیٹکس میں بدل دیا ہے۔ اس وقت بھاجپا میں ایک ہی برانڈ ہے وہ ہے نریندر مودی۔ سب کچھ انہیں کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔ بھاجپا کی اسی حکمت عملی کے دم پر مہاراشٹر اسمبلی چناؤ لڑرہی ہے۔ مہاراشٹر میں بھاجپا نے 50 سے اوپر ایسے لیڈروں کو ٹکٹ دیا ہے جو دوسری پارٹیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ ان میں ڈیڑھ درجن راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ہیں۔ڈ یڑھ درجن کانگریس کے اور9 شیو سینا کے لیڈر شامل ہیں۔جب ووٹ مودی کے نام پر چاہئے تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون چناؤ میں کھڑا ہے ؟ مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعدسے اتراکھنڈ ،بہار،اترپردیش،گجرات میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھاجپا کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تب سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عوام کے سر سے مودی کا جادو اترنا شروع ہوگیا ہے۔ لوک سبھا چناؤ اور ریاست کے چناؤ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ریاستی اسمبلی چناؤ می اشو بھی مختلف ہوتے ہیں اور امیدوار کی ساکھ بھی کام کرتی ہے۔ شیو سینا سے الگ ہونے کے بعد تازہ چناوی اعدادو شمار میں کئی پارٹیاں میدان میں ہیں۔ بھاجپا ۔ شیو سینا۔ کانگریس اور این سی پی قابل ذکر ہیں۔ اس ملٹی پارٹی اور چناؤ میں ہار جیت کا فرق بہت کم رہے گا۔این ایم ایس ، سپا وغیرہ کئی اور پارٹیوں کے امیدوار بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کا اندازہ ہے کہ اگر ان کی حکمت عملی پوری طرح سے کامیاب رہی تو 150 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ 288 ممبری اسمبلی میں مکمل اکثریت کے لئے144 سیٹیں چاہئیں۔ پارٹی ہر حال میں یہ نمبرلانے کا دعوی کررہی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو شیو سینا کے ساتھ مل کر سرکار بنا سکتی ہے۔ شاید اسی لئے شیو سینا کے وزیر کو مرکز سے نہیں ہٹایا گیا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ نریندر مودی نے اپنی ساکھ داؤ پر لگادی ہے۔ دیکھیں ان کی مقبولیت کیا مہاراشٹر میں بھاجپا کو اقتدار سلا سکتی ہے؟
(انل نریندر)

09 اکتوبر 2014

مایوس پاکستان خون خرابے پرآمادہ ہے!

اقوام متحدہ کے جنرل اجلاس میں منہ کی کھانے کے بعد اور کشمیر کا راگ چھیڑنے اور اس پر دنیا کی طرف سے کوئی دلچسپی نہ دکھائے جانے سے کھسیائی پاکستانی فوج ہندوستانی سرحدی علاقے میں خون خرابے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ کشمیر پر بین الاقوامی حمایت تو کیا ہمدردی کے دو لفظ کیلئے ترستا پاکستان سرحد پر جس طرح بے قصوراور نہتے دیہاتیوں کا خون بہانے پر اتر آیا ہے وہ بھارت کو اس پڑوسی دیش سے سختی سے نمٹنے پر مجبور کررہا ہے۔ بوکھلائی پاکستانی فوج نے منگلوار کو مسلسل دوسرے دن بھی جموں اور پونچھ میں تابڑ توڑ فائرننگ جاری رکھی۔ پڑوسی ملک جموں میں 40 اور پونچھ میں 30 چوکیوں کو ملا کر قریب70 سکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔40 سے زائد رہائشی علاقوں میں موٹار کے گولے برسائے گئے۔ اس میں فوج کے تین جوان ،بی ایس ایف کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت16 لوگ زخمی ہوگئے۔ کئی مویشی بھی مارے گئے۔ گھروں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ پچھلے دو دنوں کی گولہ باری میں پانچ لوگوں کی موت ہوگئی ہے اور اب تک45 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ 30 سے زیادہ گاؤں خالی کروا لئے گئے ہیں۔ لوگوں کو سرکاری اسکولوں میں و راحتی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ کہاوت کے’ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘ ٹھیک اسی طرح کا رویہ پاکستان نے اپنایا ہوا ہے۔ اس میں شبہ ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے سے صحیح راستے پر آئے گا۔ دیش اور دنیا کے لئے یہ جاننا مشکل ہے کہ سرحد پر جو ہورہا ہے وہ صرف پاکستانی فوج یا جہادی تنظیم کے پاگل پن کا نتیجہ ہے یا اس میں پاکستانی حکومت کی بھی شے ہے؟ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک ایسا کچھ نہیں کرسکے جس سے ہمیں بھروسہ ہو کہ ان کا اپنی فوج پر کوئی کنٹرول ہے۔
بھارت نے اب تک بہت صبر کا مظاہرہ کیا ہے اور معاملے کو طول دینے سے بچنے کا رویہ اپنایا ہے لیکن اب نہیں لگتا پاکستان باز آئے گا۔ اس لئے بھارت کیلئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات پر پاکستان کو منہ توڑ جواب کچھ اس طرح دے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آئے۔ ماہرین کا خیال ہے پاکستانی فوج و جہادی تنظیم مل کر جہاں سرحد پر دراندازی کرانا چاہتی ہے وہیں کہیں نہ کہیں جموں و کشمیر اسمبلی چناؤ میں بھی خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔جموں و کشمیر کے لوگوں نے بار بار چناؤ میں کھل کر حصہ لینے سے صاف کردیا ہے کہ وہ پاکستان کی چالوں کو سمجھتے ہیں اور ووٹ کے ذریعے سے انہیں مسترد کرتے ہیں۔ سرحد پر رہنے والے عام شہریوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے وہ بیحد تکلیف دہ ہے۔ بھارت کو پاکستان کو یہ صاف اشارہ دینا ہوگا کہ وہ جس پالیسی پر عمل پیرا ہے اس سے آخرکار اسے نقصان اٹھانا ہی پڑے گا۔ بین الاقوامی سرحد پر گولہ باری کے تازہ واقعات کے سلسلے میں اقوام متحدہ مبصرین ٹیم کے رول پر بھی ہندوستان کو غور کرنا ہوگا کیونکہ اس گروپ کی نیت کا پتہ نہیں چل پارہا ہے۔ خون خرابے پر آمادہ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینا ہوگا۔ مودی سرکار کو بھی ثابت کرکے دکھانا ہوگا کہ اس کے قول و فعل میں فرق ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

ممتا بنرجی کاملک مخالف رویہ!

مغربی بنگال کے بردوان ضلع میں واقع کھاگراگڑھ کے ایک مکان میں 2 اکتوبر کو ہوئے دھماکے کی جانچ کررہی ایجنسیوں کو سنسنی خیز ثبوت ہاتھ لگے ہیں۔ آتنکی دم دم ایئر پورٹ سمیت پورے بنگال کو دہلانے کے فراق میں تھے۔ دسہرہ اور بقرہ عید پر دیش بھر میں 24 مقامات پر دھماکے کرنے کا پلان بنایا تھا۔ بم دھماکے میں دو آتنکی مارے گئے تھے جبکہ ایک دوسرا زخمی ہوگیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو عورتوں کو گرفتار کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر نور الحسن چودھری بردوان ضلع کے کھاگرا گڑھ علاقے میں واقع گھر میں ہوئے اس دھماکے اور اس میں انڈین مجاہدین کے مشتبہ دہشت گردوں کی موت کے بعد اب ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کی سرکار پر انگلیا ں اٹھنے لگی ہیں۔ اس دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے جیسے لاپروائی کے رویئے کا ثبوت دیا ہے وہ حیران کرنے والا ہے۔ دیش کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والا بھی ہے۔ جس ڈھنگ سے مقامی پولیس نے اس معاملے کو دیکھا ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ خبروں کے مطابق بم بنانے کی کوشش کرنے کے دوران ہوئے دھماکے کے بعد معاملے کی جانچ کے لئے پہنچی ممتا کی پولیس نے پایا کہ وہاں پر کسی بڑی آتنکی واردات کو انجام دینے کی تیاری جاری تھی لیکن اس نے مشتبہ لوگوں سے پوچھ تاچھ کر معاملے کی طے تک جانے کے بجائے اس پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کی اور وہ بھی اس طرح کے معاملے پر پورے طور پر پردہ پڑ جائے۔ پولیس ملازمین نے جس طرح آتنکی سازو سامان اور ثبوتوں کو ضائع کرنے کی کوشش کی وہ تو سرکار کی مجرمانہ حرکت ہے، دیش کی سلامتی کے لئے یہ جاننا ضروری ہے بردوان پولیس نے ایسا کس کے اشارے پر کیا اور کیوں کیا؟ کیونکہ یہ معاملہ سامنے آرہا ہے کہ جس مکان میں دھماکہ ہوا وہ ترنمول کانگریس کے ایک با رسوخ لیڈر کا ہے اس لئے اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے مجبور کررہا ہے کہ ایسا حکمراں پارٹی کے اشارے پر ہوا ہے۔ 
وزیر اعلی ممتا بنرجی ابھی اس کی جانچ این آئی اے کو سونپنے سے انکار کررہی ہیں جبکہ مرکزی خفیہ ایجنسیوں کی ابتدائی جانچ اس طرف اشارہ کررہی ہے کہ ترنمول کانگریس لیڈر نور الحسن چودھری کے تعلقات کٹر پسند گروپوں سے ہیں۔ بردوان شہر کے بیچوں بیچ واقع چودھری نور الحسن کے گھر کا استعمال پارٹی اپنے علاقائی زونل آفس کے طور پر کرتی ہے۔ موقعہ واردات سے برآمدچیزوں کی فہرست لمبی ہے اس گھر سے 53 آئی ڈی،40 ڈیٹو نیٹر، بھاری مقدار میں دھماکو سامان بنانے کا سامان برآمد ہوا ۔ ان میں کیمیکل، گھڑیاں، موبائل فون اور جہادی پروپگنڈہ مٹریل بھی شامل ہے۔ آتنکی معاملے کی جانچ کے بجائے لیپا پوتی کرنے میں مغربی بنگال سرکار کے اپنے کچھ سیاسی مفادات ہوسکتے ہیں لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہئے کیونکہ معاملہ سیدھا دیش کی سلامتی سے جڑتا ہے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے ممتا بنرجی اندرونی سلامتی کے بجائے ووٹ بینک کو ترجیح دے رہی ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی رویہ لوک سبھا چناؤ کے دوران اپنایا تھا اور ایک طرح سے غیر قانونی طریقے سے آئے بنگلہ دیشیوں کی کھلے عام حمایتی بن کر سامنے آئیں تھیں۔ لیفٹ فرنٹ کی چیئرمین بمن بوس نے الزام لگایا ہے کہ ریاست کی آتنکی تنظیموں اور ترنمول کانگریس کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جہادیوں کے لئے پناہ گاہ بن گیا ہے مغربی بنگال۔
(انل نریندر)

08 اکتوبر 2014

آئی ایس کوطالبان کی حمایت دینے کا اعلان، بڑھتے خطرے کا اشارہ!

ایک نئے انٹرنیٹ ویڈیو میں اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے کٹرپسندوں کو ایک برطانوی یرغمال ایلن ہینگ کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس خود ساختہ تنظیم کے ہاتھوں یہ ایک طرح کا چوتھا قتل ہے۔ اس سے پہلے امریکی رپورٹر جیمس پولی، امریکی اسرائیلی صحافی اسٹیفن سوٹلوف، برطانوی رضاکار ڈیوڈ ہینس کو اسی طرح سے موت کی نیند سلادیاگیا۔ ویڈیو میں نقاب پوش دہشت گرد نے کہا کہ اوبامہ تم نے شام (سیریا) پر جہازوں سے گولہ باری شروع کی ہے جو ہمارے لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے۔لہٰذا یہ ہی ایک صحیح طریقہ ہے کہ ہم تمہارے لوگوں پر حملے جاری رکھیں۔ امریکی کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان کیٹلین ہیڈن نے اس کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ ایسے وقت میں ہمارے پاس جاری ویڈیو کے جواز پر شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ امریکی لیڈر شپ میں شروع ہوئے ہوائی حملے کے باوجود آئی ایس اسلامک اسٹیٹ کے ذریعے برطانوی یرغمال کا سر قلم کرنا جہاں اس کی دبنگی کا ثبوت ہے وہیں اس کی ساری جوابی کارروائی کے باوجود آگے بڑھنا اور پھیلنا بھارت سمیت سبھی دیشوں کیلئے اس کی بڑھتی سرگرمیاں سوچنے پر مجبور کررہی ہیں۔ تازہ خبروں کے مطابق اب پاک طالبان نے اس تنظیم کو حمایتی دینی کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کی اب تک القاعدہ سے سانٹھ گانٹھ رہی ہے۔ آئی ایس سے پچھڑرہی القاعدہ نے قریب ایک مہینے پہلے ہندوستانی برصغیر میں جہاد شروع کرنے سے متعلق ویڈیو جاری کیا۔ اسے دوبارہ اپنی بالادستی حاصل کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس میں طالبان اس کا ساتھی ہوتا۔ اپنے خطاب میں القاعدہ کے چیف ایمن الظواہری نے افغان طالبان سرغنہ ملا عمر کے تئیں اپنی وفاداری کا اظہار کیا تھا لیکن اب پاک طالبان نے آئی ایس کے ساتھ مل کر اپنے جہاد کی رفتار کو تیزی دینے کی اپیل کی ہے۔ اس سے افغان اور پاک طالبان کے درمیان کھائی اور بڑھنے کے اشارے ہیں۔ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی رخصتی کے بعد اس پورے علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کے پاؤں جمانے کے خطرناک ارادوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔آئی ایس کو نیست و نابود کرنے کے لئے امریکی لیڈر شپ میں کئی ملک شام اور عراق میں بم برسا رہے ہیں وہیں آئی ایس بھی اپنی طاقت بڑھانے کیلئے دنیا بھر میں سرگرم آتنکی تنظیموں سے گٹھ جوڑ کررہا ہے۔ ابھی تک جن آتنکی تنظیموں کو ساتھ لینے میں آئی ایس کامیاب رہا ہے ان میں خاص ہیں ابو سیاف (ملیشیا اور فلپین) بوکوحرا م (نائجیریا) بانڈسارو اسلامک فریڈم فائٹر(فلپین)جامعہ اسلامیہ (تھائی لینڈ، ملیشیا،انڈونیشیا) مجلس شوریٰ المجاہدین (مصر اور غزہ پٹی) اور اب پاکستانی طالبان۔ دراصل پاکستان افغانستان کا وسیع علاقہ امریکی مخالفت کے لئے جانا جاتا ہے اور یہاں کی وسیع آبادی جہاد کے نام پر ہتھیار اٹھانے کے لئے بھی تیار ہے۔ جہاں تک آئی ایس کی بات ہے تھوڑے ہی وقفے میں اس کا جغرافیائی فروغ بڑھا ہے جو چونکانے والا ہے۔ وہیں اس کی بے رحمانہ کرتوت دہشت پیدا کرنے کیلئے ہے۔ پچھلے دنوں کشمیر میں آئی ایس کے جھنڈے دیکھے جانے کی بات سامنے آئی تومغربی بنگال میں حالیہ بم دھماکوں کے تازہ واقعے کو القاعدہ سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ اس لئے بھارت کو اپنے آس پاس بڑھتے آتنک واد کے خطرے سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

میڈل بیشک کم رہے پر ایشیارڈ میں چھایا جشن !

بھارت کو انچیونگ ایشین گیمس میں پہلی بار کے مقابلے بھلے ہی کم میڈل ملے ہوں لیکن پھر بھی اس نے دیش واسیوں کو جشن منانے کے کئی موقعے فراہم کردئے۔ 17 ویں ایشین گیمس کئی معاملوں میں تاریخی رہے۔ مرد ہاکی ٹیم نے جہاں 48 سال بعد پاکستان کو ہرا کر 16 سال کے لمبے عرصے کو ختم کردیا۔ مرد ہاکی میں گولڈمیڈل جیتا وہیں ایم سی میریکام نے جو تین بچوں کی ماں ہے، شاندار کھیل کرکے سونا جیتنے والی پہلی خاتون مکے باز بننے کے بعد اپنی شخصیت کو اور دوبالا کردیا ہے۔ یوگیشور دت بھی پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے 28سال بعد ریلنگ کا گولڈ میڈل جیت کر تاریخ بنائی۔ 4x400 رلے دوڑ میں ہندوستانی خواتین نے گیمس ریکارڈ کے ساتھ مسلسل چوتھی بار طلائی تمغہ جیتنے میں کامیابی پائی۔ گیمس کے آخری دن کبڈی میں مرد اور خواتین میں دو دو طلائی تمغے جیت کر بھارت 11 طلائی، 9 چاندی اور 37 تانبے یعنی کل ملا کر57 میڈل حاصل کرکے 8 ویں مقام پر رہا۔ اگر صرف میڈل کی تعداد گنی جائے تو بھارت ، چین، کوریا، جاپان، قزاخستان کے بعد پانچویں مقام پر رہا۔ چین نے ایک بار پھر شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ اول نمبر پر رہا مگر بھارت کی پوزیشن گوانچیو میں ہوئے پچھلے ایشیائی کھیلوں سے بہتر نہیں مانی جاسکتی۔ اسے 14 طلائی سمیت کل 65 میڈل ملے تھے۔ بھارت کو اس مرتبہ 11 طلائی سمیت 57 میڈل پر اکتفا کرنا پڑا۔ میڈل ٹیلی میں اٹھنے کی بات تو دور رہی بھارت کو اپنا پچھلا یعنی چھٹا مقام برقرار رکھنے میں مشکل ہوگئی۔ بھارت دوسری سب سے بڑی آبادی والا دیش ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے وسیع بازار کے بوتے ایک بڑی اقتصادی طاقت بن چکا ہے یا جلدی بن جائے گا لیکن اس خودکفالت کی ساکھ کے برعکس کھیلوں میں اگر وہ پھسڈی نہیں تو قطار میں پیچھے ضرور کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ انچیون میں ہوئے اولمپک میں نہیں تھے ایشیارڈ تک محدود رہے لیکن بھارت اس میں پہلے 3-4 میں جگہ نہیں بنا سکا۔ چین، جنوبی کوریا اور جاپان سے بھارت کے میڈل کا فرق کافی ہے یہ گراوٹ کیا بتاتی ہے؟ یہی کھیل آگے بڑھانے کے ارادے سے اور منصوبے محض زبانی جمع خرچ کے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے جو چمکتی کامیابی نظر آتی ہے وہ ہمارے کھلاڑیوں کی ذاتی چاہت اور لگن کا نتیجہ ہے۔ دیش کا کھیل ڈھانچہ اور اعلی حکام کو اس کا سہرہ نہیں دیا جاسکتا۔ بہرحال یہ باتیں پرانی ہوچکی ہیں۔ ہر بڑے کھیل کے انعقاد کے بعد انہیں دوہرایا جاتا ہے لیکن صورت نہیں بدلتی۔ سابقہ یوپی اے حکمت نے کھیل انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی کے لئے کھیل بل تیار کیا تھا۔ اس بارے میں این ڈی اے سرکار کا کیا موقف ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔ لیکن انچیون کے نتیجے کا سبق یہ ہے کہ اسے اس سوال پر غور کرنا چاہئے اور وسیع اور جانبدارانہ اور سیاسی بالادستی اور نااہلی کے سبب بھی ہم پچھڑے ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں ہمارے پاس بہت ہنرمند کھلاڑی نہیں ہیں بلکہ ان کو ملنے والی سہولیات کی کمی ہے۔ کھیلوں کی فیڈریشنوں میں جس طرح سے کھلاڑیوں سے برتاؤ کیا جاتا ہے، میریکام پر مبنی فلم سے یہ ہی پتہ چلتا ہے۔دراصل دیش میں سیاسی لیڈر شپ پربہت کچھ منحصر کرتا ہے اور اس کا کھیل سمیت ہر سیکٹر میں اثر پڑتا ہے۔ پچھلی دہائی اس کی گواہ ہے اور کھیل میں پچھڑنا اسی بات کی علامت ہے۔
(انل نریندر)

05 اکتوبر 2014

خود صفائی کرمودی نے دیا عوام کو صفائی کا سبق!

نیویارک میں پردھان منتری نریندر مودی نے کہا کہ ہم باپو کو تو کچھ نہیں دے سکتے ہیں لیکن انہیں صفائی بہت پسند تھی، تو ہم دیش کو صاف ستھرا رکھ کر ان کا یہ خواب تو پورا کرہی سکتے ہیں۔ بھارت لوٹتے ہی نریندر مودی نے گاندھی جینتی کے موقعے پر خود جھاڑو لگا کر دیش کے اب تک کے سب سے بڑے صفائی مہم کی شروعات کی۔ ایسا پہلے کسی پردھان منتری نے نہیں کیا تھا۔ راشٹر پتا کے 145 ویں جنم دن کے لئے ’’صاف بھارت، صحت مند بھارت‘‘ کا نعرہ دیکر پردھان منتری نے جو پہل کی ہے اس کا استقبال ہونا چاہئے۔ گاندھی جی صفائی کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ وہ خود ہی سامان صاف کرتے تھے، وہ دوسروں کو ایسا کرنے کے لئے کہنے کے بجائے خود کرکے مثال پیش کرتے تھے۔ ہمارا ماننا ہے کہ نریندر مودی سرکار کی جانب سے زور شور سے کیا گیا ’’صاف بھارت مہم‘‘ کو کامیاب ہونا چاہئے کیونکہ اس میں پورے ملک کا مفاد ہے۔ یہ ضروری ہے کہ عام جنتا اسے اپنی مہم کے طور پر لے۔ اسے ایک سرکاری پروگرام یا ڈرامے بازی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔یہ سرکاری پروگرام ہے بھی نہیں، لیکن حالات ایسے ہیں کہ مودی سرکار کو دیش کو صاف ستھرا بنانے کا کام ایک طرح سے اپنے ہاتھ میں لینا پڑا ہے۔ ہم اپنے گھروں کو تو صاف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عوامی جگہوں کی صفائی کو لیکر بے پرواہ نظر آتے ہیں۔ سڑک پر کچرا پھینکا، دیواروں پر تھوکنا، کنارے پر پیشاب کرنا یہ عام بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار برطانیہ کی مہارانی کوئن ایلزبتھ دہلی آئی تھیں تو انہوں نے دہلی کو ایک ’اوپن سلم‘ کہا تھا۔ سورگیہ اندرا گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر آپ ٹرین سے سفر کررہے ہیں تو صبح آپ کھڑکی سے نہیں جھانک سکتے کیونکہ ریلوے لائن کے پاس لوگ ٹوائلٹ کرتے دکھائی دیں گے۔ اوسط بھارتیہ اپنے گھر کی صاف صفائی کو لیکر بالکل لا پرواہ ہیں۔ سنگا پور میں اگر آپ سڑک پر کچھ کچرا پھینکیں گے یا سڑک کو کسی بھی طرح سے گندہ کریں گے تو آپ ہر جرمانہ لگ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں سڑکیں چمکتی دکھائی دیتی ہیں۔ایک کڑوی سچائی ہے کہ اگر کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو تو صاف ستھری جگہوں میں بھی لوگ کچرہ پھینکنے سے باز نہیں آتے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کی گنتی ان دیشوں میں ہوتی ہے جہاں عوامی مقامات پر گندگی کا سامراجیہ رہتا ہے۔ گندگی کے چلتے بین الاقوامی سطح پر صرف دیش کی چھوی ہی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ طرح طرح کی بیماریاں بھی سر اٹھاتی ہیں۔ گندگی اتنا سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مرکزی ماحولیات کنٹرول بورڈ کے مطابق ملک میں روزانہ 15 ہزار ٹن کچرا اکیلے پلاسٹک سے پیدا ہوتا ہے، جو آنے والے پانچ سالوں میں دوگنا ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس مدعے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پلاسٹک کے ٹائم بم پر بیٹھے ہیں۔ صفائی رکھنا بیشک پردھان منتری کا کام نہیں ہے کہ وہ گندگی کے خلاف اس طرح جھاڑو دیکر سڑک پر اتریں۔ لیکن عام جنتا کومتاثر کرنے کے لئے اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس مہم میں جنتا کی بھاگیداری انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

بے ایمانی سے ہرادیں تو رونے کے سوائے بچتا کیا ہے؟

ناری کی طاقت کی شکل میں پوجا نوراتر کے مبارک موقعے پردکشنی کوریا کے انچیان میں چل رہے ایشین گیم نے بھی بدھوار کو اس شکتی کے دو شاندار روپ دیکھنے کو ملے۔ ایک طرف تین بچوں کی ’سپر مام‘میری کوم، ٹیٹو لوکا، انا رانی اور مہلا ہاکی ٹیم نے میڈل جیت کر ترنگے کا مان بڑھایا تو دوسری جانب متنازعہ ہار کے خلاف کانسے کا تمغہ لوٹاکر باکسر سریتا دیوی نے یہ ثابت کردیا کہ ناری انیائے کے خلاف آواز اٹھانے میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔ دکشن کوریا کی چھوی بین الاقوامی سطح پر اچھے باکسر پیدا کرنے والے دیش کی ہے لیکن سریتا دیوی کو جیتی ہوئی بازی ہار میں بدلنے کی کسی کو امید نہیں تھی۔ ایک طرح سے سریتا دیوی کی جیت پر جانبدارانہ فیصلے سے یہ ایشین گیمس تنازعے میں پھنس گیا۔ اس سے باکسنگ رنگ میں ہورہے فیصلوں پر بڑا سوال کھڑا ہوگیا اور منگل وار کو کئی ہنگامے دیکھنے کو ملے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ ایل دیویندرو سنگھ کوریائی مکے باز کے ہاتھوں ٹھیک اسی طرح کواٹر فائنل ہارے تھے۔ سریتا دیوی کی اس فائٹ نے پہلے راؤنڈ میں مقابلہ کافی قریب رہا۔ دونوں مکے بازوں نے ایک دوسرے کے خلاف جم کر مکے برسائے۔ پہلا راؤنڈ کورین باکسر کے حق میں گیا۔ دوسرے راؤنڈ میں بھارتیہ مکے باز نے شاندار واپسی کی۔ ان کا بایاں ہاتھ لگاتار کوریائی مکے باز کی ٹھڈی پر لگ رہا تھا۔ بیچ میں ان کے کرارے گھونسے سے کوریائی کھلاڑی کی ناک سے خون بھی بہنے لگا۔ بھارتیہ باکسر اتنی تیزی سے نپے تلے گھونسے جڑ رہی تھی کہ پارک کو بچاؤ پر اترنا پڑا۔سریتا کو لیکر دوسرے راؤنڈ میں ججوں کا فیصلہ بٹا ہوا تھا۔ تیسرے و چوتھے راؤنڈ میں کہانی ایک دم بدل گئی۔ سریتا کا شاندار کھیل ججوں کو متاثر نہیں کرپایا جنہوں نے تیسرے اور چوتھے راؤنڈ میں دکشنی کوریائی باکسر کو جیتا ہوا قرار دے دیا جبکہ وہ لگاتار سریتا کے گھونسوں سے جھوجھ رہی تھی۔ جب پارک کو فاتح قرار دیا گیا تو سریتا سمیت تماش بین اور کمنٹری کرنے والے بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ سریتا کو ہارا ہوا بتائے جانے کے بعد ان کے پتی اور سابق فٹبال کھلاڑی تھوئبا سنگھ افسران پر چلانے لگے کہ یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ آخر یہاں چل کیا رہا ہے۔سریتا نے مقابلہ جیتا اور میچ کوریا کے نام کردیا۔ یہ سیدھے دھوکہ دھڑی کا معاملہ ہے۔ فیصلے کے بعد سریتا دیر رات تک روتی رہی۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ٹریننگ کیلئے سال بھر کے بچے تک کو دور رکھا۔ ایسے میں جب کوئی بے ایمانی کرکے ہارا دے تو رونے کے سوائے کیا بچتا ہے۔ 32 سال کی سریتا ایک سال پہلے ہی ماں بنی تھیں۔ فیصلے کی مخالفت میں بدھوار کو میڈل سیریمنی میں پوڈیم پر میڈل پہننے سے بھی سریتا نے انکار کردیا۔ وہ اپنے خلاف جیتنے والی دکشنی کوریائی مکے باز جنا پارک کو میڈل سونپ کر روتی ہوئی چلی گئیں۔ ایک بڑی حیرانی تب سامنے آئی جب اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لئے سریتا نے اخبار نویسوں اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے ضروری 500 ڈالر کی رقم بھی جمع کرلی لیکن انڈین اولمپک ایسوسی ایشن نے ان سے اپنا پلہ جھاڑ لیا۔یہ برتاؤ ہمارے کھلاڑیوں کے تئیں بھارتیہ کھیل کے کرتا دھرتاؤں کی طرف سے زبردست بے رخی کو ظاہر کرتا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...