Translater

10 فروری 2023

اڈانی کی حمایت میں اترا آر ایس ایس !

مشکل میں پھنسے اڈانی گروپ کے بچاو¿ میں اب آر ایس ایس کے اخبار آرگنائزر نے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ یہ حملہ بہت کچھ ویسا ہی ہے جیسے بھارت مخالف جارج سوریف بینک آف انگلیڈ اور بینک آف تھائی لینڈ پر دیا ہے اور انہیں برباد کردیاتھا۔ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے بعد ہندوستانیوں کی ایک لابی نے اڈانی کے خلاف ایک منفی کہانی تیار کی اس لابی میں واچ نظریہ سے جوڑے دیش کے کچھ مشہور پروپیگنڈہ ویب سائٹس اور ایک بڑے لیفٹ لیڈ ر کی صحافی بیوی شامل ہے۔ آرگنائزر نے لکھا ہے کہ اڈانی گروپ پر یہ حملہ اصل میں ہنڈن برگ ریسر چ رپورٹ کے بعد 25جنوری کو شروع نہیں ہوا بلکہ آسٹریلیا سے 2016-17میںاس کی شروعات ہوئی ۔صرف گوتم اڈانی کو بدنام کرنے کیلئے آسٹریلیائی این جی او این ویب سائٹ شروع کی ۔ ماحولیاتی ہیتیشی مانے جانے والی این جی او باب براو¿ن فاو¿نڈیشن اڈانی واچ ڈاگ او آر جی نامی ویب سائٹ چلاتا ہے۔اور اس کی شروعات آسٹریلیا میں اڈانی کے کوئلہ کھدان پروجیکٹ کے خلاف ہوئی تھی۔لیکن یہ یہی تک نہیں محدود رہی اب وہ ویب سائٹ اڈانی سے دور دور تک جڑے کسی بھی کام یا پروجیکٹ کے بارے میں چھاپتی ہے۔اس این جی او کا واحد مقصد اڈانی کے برانڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے ۔اس پروپیگنڈ ہ آرٹیکل ہندوستانی سیا ست اور اظہائے رائے کی آزدی میں بھی دخل اندزی کرتے ہیں آرگنائزر نے لکھا ہے کہ اڈانی گروپ کو اسٹریلیا میں 2010کار مائکل کو کوئلہ کھدان کیلئے ایک پروجیکٹ ملا۔ 2017میں 350او آر جی این جی او کی قیادت میں کچھ این جی او اڈانی کی مخالفت کرنا شروع کرتے ہیں وہ اس پروجیکٹ کو روکنے کیلئے ہیش ٹیگ اسٹاپ اڈانی گروپ بناتے ہیں ۔این جی او 350اومالی کورٹائڈس فاو¿نڈیشن کی جانب سے بھاری بھرکم فنڈ ملتا ہے ۔اور اپنے عطیہ دہندگان کا اس این جی او نے ذکر تک نہیں کیا،حالاںکہ اس نے فرانسسکو کے ٹائڈس فاو¿نڈیشن سے فنڈ ملنے کی بات مانی ہے۔ جارج سوریس اور ٹام اسٹیئر نے بھی این جی او کافی تعاون دیا ہے۔اس فاو¿نڈیشن میں بل گیٹس کے نام بھی شامل ہے۔ان میں سے زیادہ عطیہ ہندگان وام شنگھان اولے غیر سرکار ی انجمنوں کو فنڈ دیتے ہیں ۔اخبار آرگنائزر نے لکھا ہے کہ ایک ہندوستانی این جی او نیشنل فاو¿نڈیشن فار انڈیا کو بھی سوٹیس فورڈ فاو¿نڈیشن ،راک فلیئر ،بل گیٹس اور عظیم پریم جی سے فنڈ ملا ۔ان کی قیادت میں کام کررہی این جی او آئی پی ایم ایم ایف کی شروعات ہوئی جو لیفٹ نظریہ سے جڑے بھارت کے کچھ مشہور پروپیگنڈہ ویب سائٹس کو فنڈ دیتے ہیں ۔آر ایس ایس نے بڑے سنگین الزام لگائے ہیں۔بھارت سرکار کو اس معاملے کی جانچ کروانی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ جائے۔ (انل نریندر)

سرکارکی نکتہ چینی جرم نہیں ہے!

جامعہ تشدد معاملے میںدہلی کی نچلی عدالت نے شرجیل امام سمیت کئی لوگوں کو الزام سے بری کرتے ہوئے سخت رائے زنی کی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں کو احتجاج کرنے اور بغاوت کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔ عدم اتفاق اور کچھ نہیں بلکہ سیکشن 19کے اظہار رائے کی آزادی کے پیش قیمت اخلاقی حق کی ہی شکل ہے جو واجب روک کے دائرے میں ہے۔ عدم اتفاق رائے اور احتجاج و مظاہرئے کو لیکر پہلے بھی سپریم کورٹ کئی بار اپنی رائے زنی کرچکا ہے۔ 28اگست 2018کو بھیما کوریگاو¿ں تشدد معاملے میں پانچ انسانی حقوق رضاکاروں کی گرفتاری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سخت رائے زنی کی تھی۔ چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ معاملہ بڑا ہے اور الزام ہے کہ آپ نااتفاقی کو کچلنا چاہتے ہیں اور عدم اتفاق جمہوریت کا سیفٹی والووہے ۔اور اگر آپ اس کی زجازت نہیں دیںگے تو پریشر والو پھٹ جائے گا۔ 3جون 2021کو سپریم کورٹ نے صحافی ونود دعا کے خلاف ملک سے بغاوت کے کیس کو خارج کردیا تھا اور تب کہا کہ سرکار کی تنقید کا دائرہ طے ہے اور اس دائرے میں نکتہ چینی ملک کی بغاوت نہیں عدالت نے کہا کہ کیداناتھ سے متعلق بعد میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا اس فیصلے کے تحت ہر صحافی تحفظ کا حقدار ہے۔ ہماری رائے ہے کہ عرضی گزار ونود دعا پر ملک سے بغاوت اور دیگر دفعات کے تحت ناانصافی ہوگی ۔ کوئی بھی قانونی کاروائی سیکشن 19 (1)(A) کے تحت نظریہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہوگی۔ 1962میں دئے گئے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ شہری کو سرکار کے کام کاج پر نکتہ چینی کرنے ،رائے زنی کرنے کا حق ہے اور تنقید کا دائرہ طے ہے اور اس دائرے میں نکتہ چینی کرنا ملک سے بغاوت نہیں ہے۔لیکن سپریم کورٹ نے یہ بھی صاف کیا تھا کہ تنقید ایسی نہ ہو کہ لاءاینڈآرڈر بگڑنے یا تشدد پھیلانے کی کوشش ہو ۔ 1962میں سپریم کورٹ نے کیدارناتھ بنام بہار سرکار کے مقدمے میں اہم ترین فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے اس وقت کہا کہ تھا کہ سرکار کی تنقید یا پھر انتظامیہ پر تبصرہ کرنے سے ملک سے بغاوت کرنے کا مقدمہ نہیں بنتا ۔ 1995میں بلونت سنگھ بنام اسٹیٹ آف پنجاب کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ صرف نعرے بازی سے بغاوت نہیں ہو سکتی اور سرسری طریقے سے کوئی نعرے بازی کرتا ہے تو وہ ملک سے بغاوت نہیں مانی جائے گی۔ اور یہ تبھی مانی جائے گی جب نعرے بازی کے بعد تنازعہ کھڑا ہو جائے اور فرقے میں نفرت پھیلے ۔3مارچ 2021کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سرکار کی رائے سے الگ نظریہ کو اظہارئے رائے ملک سے بغاوت نہیں ہے، عدالت نے آرٹیکل 370پر جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے بیان پر ان کے خلاف داخل عرضی کو خارج کرتے ہوئے رائے زنی کی تھی ۔عرضی میں کہا گیا تھا کہ فاروق عبداللہ نے 370کو بحال کرنے سے متعلق جو بیان دیا ہے وہ بغاوت ہے۔ (انل نریندر)

07 فروری 2023

ضمانت کے باوجود میںرہائی میں تاخیر!

چلو آخر کار زیر سماعت قیدیوںمیں پریشانی پر سپریم کورٹ نے توجہ تو دی ہے ۔ قیدی اگر غریب اور ان پڑھ ہوئے تو ان کی پوری زندگی جہنمی حالات میں کٹتی ہے ۔انصاف انتظامیہ اور جیل انتظامیہ اپنی پرانی روایت سے اس قدر دبا چلا جاتا ہے کہ آج کی جدید تکنیک کے دور میں اس کی کئی باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں ۔ مثا ل کے طور پر عدالت سے ضمانت کا حکم ہوجانے کے بعد بھی بہت سے قیدیوں کی رہائی صرف اس لئے ٹل جاتی ہے کہ کیوں کہ وقت تک اس حکم کی کاپی جیل انتظامیہ تک نہیں پہنچ پاتی ۔ ضمانت کے حقدار ہونے یا ضمانت دیے جانے پر بھی زیادہ تر قیدیوں کے سلاخوںکے پیچھے رہنے کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ضمانت ملنے کے باوجود قیدی ایک مہینے کے اندر بانڈ پیش کرنے میںناکام رہتے ہیں تو عدالتیں لگائی گئی شرائط کی ترمیم کرنے پر غور کریں۔ وہ اس بات بھی غور کریں کہ ضمانت کی شرط میں چھوٹ دی جا سکتی ہے کیا؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ سالانہ رپورٹ بھی تیار کر رہی ہے جس کہ تحت یہ پتہ چلے گاکہ کتنے ملزم ہیں جن کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ بانڈ بھرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ 5ہزار سے زیادہ قید جیل میں رکھنے کی صلاحیت سے زیادہ ہیں اور آئے دن ایسے کیس دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ ضمانت کے بعد بھی ملزم چھوٹ نہیں رہے ہیں کیوں کہ ان کو کوئی بانڈ دینے والا نہیں ہے۔ جسٹس ایم کے کول کی بنچ کے سامنے کورٹ مشیر گورو اگروال ایل مینو و دویش مہتا کی طرف سے تجاویزی روپورٹ طے کی گئی ۔ کورٹ نے اپنی دوخواست میں کہا کہ مرکز سرکار نیشنل لیگل سروس اتھارٹی سے بات چیت کرے اور یہ دیکھے کہ کیا ای -پریزن پورٹل پر اسٹیٹ لیگل سروس اتھارٹی اور ضلع لیگل سروس اتھارٹی بھیجی جا سکتی ہے؟جس سے تال میل بنے ۔مرکزی سرکار سے اڈیشنل سولیسیٹر جنرل نے کہا کہ وہ ہدایت لیکر کورٹ کو بتائیںگے۔ کیا کہا کورٹ نے اپنی گائڈ لائنز میں کورٹ جیسے ہی ضمانت کے حکم کے مو قع پر کاپی ای میل کے ذریعے جیل ایس پی کو بھیجیں اور ان کے ذریعے ملزم کو اسی دن ملے ۔اور پتہ لگا یا جائے کہ ملزم ضمانت کے حکم کے سات دنوں کے اند ر ہوا یا نہیں تو جیل کے سپرنٹنڈٹ ڈی ایل ایس اے کے سیکریٹری کو بتائے یا جیل ویزٹنگ ایڈوکیٹ کی تقرری کرےگا جو ضمانت کی شرط پوری کرواکر رہائی کرواے ۔بنچ کا خیا ل تھا کہ ایسے معاملوںمیں جہاں زیر سماعت قیدی یا قصوروار درخواست کرتا ہے کہ وہ رہا ہونے کے بعد ضمانت بانڈ یا ضمانت دے سکتا ہے۔ تو وہ ایک مناسب معاملے میں عدالت ملزم کوایک ہدایت نامے کے ذریعے ضمانت دینے پر غور کر سکتی ہے تاکہ وہ ضمانت بانڈ یا ضمانت کی رقم دے سکے ۔یہ بات بھی مختلف دلیلوں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہے کہ جیلوں میں بند لوگوں کا بڑا حصہ ایسا ہوتا ہے جو ڈھنگ کا وکیل رکھنے اور اپنے حق کی لڑائی لڑنے کا اہل نہیں ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے ایسے میں تمام لوگوں کیلئے عدالتیں ہی امید بن سکتیں ہیں ۔ بشرط کہ یہ اس اصول پر سختی سے عمل کریں اور الزام ثابت ہونے سے پہلے ہر کوئی بے قصور ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

دھندھ صاف ہو ،سرگرمی دکھائے سیبی !

جب سے اڈانی گروپ کو لیکر ہنڈن برگ کی رپورٹ آئی ہے، ایک طرف اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اتھل پتھل دیکھی جا رہی ہے۔ وہیں اپوزیشن کے نشانے پر سرکار آ گئی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کی مانگ ہے کہ اس معاملے سرکار جواب دے ۔اس ہنگامے کے چلتے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بار بار ملتوی کرنا پڑا۔کام کاج میں رکاوٹ ہے حالاںکہ اڈانی گروپ اس معاملے میں مسلسل صفائی دینے اور اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں لگا ہوا ہے ۔مگر شیئر بازار میں اس کی کمپنیوں کی شیئر مسلسل گر رہے ہیں۔تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سرکاری ادارے اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں مانا کہ بی جے پی لیڈرشپ نے اڈانی کو کئی ٹھیکے دلانے میں مدد کی ہے ۔لیکن لیڈر شپ نے یہ تو نہیںکہا کہ آپ جان بوجھ کر شیئر وںمیں جعل سازی کریں۔ اپوزیشن اس بہانے وزیر اعظم نریندر مودی کو بد نام کرنے میں لگی ہوئی ہے۔یہ معاملہ ہمیں نہیں لگتا ہے کہ اب دبدنے والا ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ حالیہ بجٹ سیشن بھی ہنگامے کے بھینٹ چڑھ جائے گا ۔ اپوزیشن کے حملہ آور رویہ کی ایک وجہ ریگولیٹری اتھارٹیوں کا آگے آکر پوزیشن کو صاف نہ کرنا بھی ہے۔ ہنڈن برگ کی رپورٹ کو آئے قریب 12دن ہو گئے ہیں لیکن اب تک نہ تو سیبی نے کوئی جانچ کی ضرورت سمجھی اور نہ ہی دیگر ریگولیٹری اتھارٹیوں نے ۔یہ ٹھیک ہے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یہ کہا کہ اڈانی گروپ کو لیکر پیدا تنازعہ سے سرمایہ کاروں کے بھروسے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اور بازار پوری طرح ریگولیٹری اداروں کے کنٹرول میں ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ادارے ان سوال کا ٹھوس جواب دینے کیلئے آگے کیوںنہیں آ رہے ۔ جو پہلو سامنے آئے ہیںانہیں سمجھنا چاہئے کہ اڈانی گروپ کی طرف سے جتنی بھی صفائی دی جائے وہ کافی نہیں جنتا چاہتی ہے کہ سیبی معاملے کی باریکی سے جانچ کرے اور صحیح تصویر سامنے لائے ۔بھار ت کی شیئر بازار میں بھلے ہی اتنا فرق نہ پڑے ،بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو دھکہ لگاہے ۔داٹ جونس ،کریڈٹ سیٹی بینک وغیرہ نے اڈانی کے شیئر خرید و فروخت پر پابندی لگا دی ہے ۔ یا آگے شیئروں پر قرضہ دینے سے بھی منع کردیا ہے۔ سیبی اور دیگر سرکاری ادارے جتنی خاموشی اختیار کریں گے اتنی ہی گمراہ کن خبریں بازار میں آتی رہیںگی اور بھاجپا کو اس کا نقصان ہوگا۔ خیال رہے کہ ان سوالوں کا صحیح تہ تک حل نکالنا اڈانی گروپ کی ذمہ داری ہے اور اڈانی گروپ سے دئے گئے جوابات سے نہیں حل نکل سکتا اور شاید یہی وجہ ہے کہ شیئر بازار میں اس کی کمپنیوں کے شیئر وں کے ریٹ گرتے چلے گئے۔ ایک ہفتے پہلے فوربیزکی ارب پتیوں کی فہرست میں دنیا کے تیسرے سب سے امیر گوتم اڈانی تھے لیکن بدھ آتے آتے وہ کھسک کر 15ویں مقام پر چلے گئے۔بہر حال ابھی تنازعہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ سرکار پر اپوزیشن کا دباو¿ آنے والے دنوںمیں بڑھنا طے ہے۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...