Translater
24 جولائی 2021
کسانوں کے مسئلے کا حل ہونا چاہیے!
حکومت نے منگل کو کہا مختلف اسکیموں کے تحت مرکز و ریاستوں کی ایجنسیوں کے ذریعے کم از کم ویلو مالیت یعنی ایم ایس پی پر اناج کی خرید کی جارہی ہے ۔لیکن کسان انجمنوں کو تینوں نئے زرعی قانون کو منسوخ کرنے پرزور دین کے بجائے زرعی قوانین کے حصوں پر ان کی تشویش کو لیکر بحث ہونی چاہیے ۔تاکہ ان کا حل نکالا جا سکے ۔لوک سبھا میں منیش تیواری اور دیگر کے سوال کے تحریری جواب میں زرعی وکسان بہبود وزیر نریندر تومر نے یہ بات کہی ممبران نے مرکزی قوانین کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال پوچھا تھا کہ کیا کسانوں کی مانگوں کو پوراکرنے کے لئے مرکزی سرکار کے ذریعے قانون کی مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے ؟ اس پر وزیر زراعت نریندر تومر نے بتایا کہ زرعی قوانین نے جڑے مسئلوں کے حل کے لئے سرکار اور کسان انجمنوں کے درمیان ابھی تک گیارہ دور کی بات چیت ہوئی ہے اس آندولن کو آٹھ مہینہ سے زیادہ ہو گئے ہیں کسانوں کا اب تک جو جذبہ دیکھنے کو ملا ہے اسے دیکھتے ہوئے تو لگتاہے کہ کسان پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوئے بغیر نہیں مانیں گے اس دوران پتہ چلا ہے کہ کسان اب جنتر منتر پر باری باری سے دھرنا دے رہے ہیں ۔وہیں پولیس کو کسانوں کے فیصلے سے راحت ضرور ملی ہے ۔کیوں کہ پارلیمنٹ کے گھیراو¿ کی دھمکی سے معاملہ اس کے سرکا در د بن گیا تھا ۔کیوں کہ اس سال 26 جنوری کو کسان آندولن میں شرارتی عناصر میں لال قلعہ سمیت کئی علاقوں میں ہڑدنگ بھی مچائی تھی ۔طاہر ہے اس سے ایک جائز کسان آندولن کی ساکھ کو بٹہ لگنا ہی تھا یہ بھی صحیح ہے راجدھانی میں قانون و انتظام کو لیکر پولیس کسی طرح کا خطرہ مول نہیں لے سکتی ۔جوائنٹ کسان مورچہ نے 200 کسانوں کو پارلیمنٹ پر دھرنا دینے کی اجازت مانگی لیکن پولیس کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہ رہی تھی ۔اب تک کے آندولن سے صاف ہو چکا ہے کسان آسانی سے تو نہیں لوٹنے والے ہیں اور دوسری طرف سرکار بھی ہٹھ دھرمی پر اتری ہوئی ہے اور بار بار دہرا رہی ہے کہ کچھ بھی ہو قانون واپس نہیں لیں گے اس تکرار اور بڑھنا طے ہے ۔کسان آندولن میں پھوٹ پیدا کرنے کی حکمت عملی کے بنانے کی کوششیں نکالنے کا کوئی راستہ بنا سکتی ہے ۔یہ بھی مانا جانا چاہیے کہ موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے دونوں فریقوں کو جھکتے ہوئے بات چیت شروع کرنی چاہیے تاریخ گواہ ہے بات چیت سے بڑے بڑے تعطل دور ہو جاتے ہیں ۔لیکن کسان آندولن کے معاملے میں اب تک دیکھنے میں آیا ہے سرکار کا رخ فراخ دلی کا نہیں بلکہ سختی ہے ان کا رویہ سبق سکھانے والا ہے ۔لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی سے بنیادی مسئلوں کا حل نہیں نکلتا اگر زرعی قوانین واقعی کسانوں کے مفاد میں ہوتے تو کیوں کسان اس گرمی ،شردی ،برسات اور کووڈ کے وقت میں پچھلے آٹھ مہینہ سے آندولن کررہے ہوتے؟
(انل نریندر)
آکسیجن کمی سے اموات پر سیاسی مہا یدھ!
کورونا کی دوسری لہر میں آکسیجن کی کمی سے بھی اموات پر مرکزی حکومت کے جواب سے اپوزیشن بھڑک گئی ۔اور اس مسئلے کو لے کر پارلیمنٹ میں عام آدمی پارٹی مخصوص اختیار خلاف ورزی تحریک پیش کرنے کی تیاری میںہے ۔وہیں کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی اس مسئلے پر تلخ رائے زنی کی ہے ۔عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا اس مشکل دور میں حکومت نے دیش کو بے سہارا چھوڑ دیا تھا ۔سرکار کو پتہ نہیں تھا کہ دیش میں کیا ہو رہا ہے ؟ عآپ اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں مخصوص اختیار خلاف ورزی تحریک پیش کرے گی وہیں دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے پریس کانفرنس کر کے کہا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں بے شرمی سے جھونٹ بولا ہے وہ دیش میں آکسیجن کمی سے کوئی موت نہیں ہے انہوں نے کہا دہلی سرکار آکسیجن سے ہوئی اموات کی جانچ کرائے جس سے سچائی سامنے آسکے ۔سسودیا نے مرکزی سرکار کے اس مہا جھونٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے مرکزی سرکار کے ناکارہ پن کے سبب دیش میں ہزاروں لوگوں کی آکسیجن کمی سے موتیں ہوئی ہیں ۔ اس پر ذمہ داری لینے کے بجائے مرکزی سرکار بے شرمی کے ساتھ جھونٹ بول کر اپنا پلہ جھاڑ رہی ہے ۔ساتھ ہی مرکزی سرکار کی آکسیجن کی کمی سے ہوئی اموات کی تصدیق کرنے والی کمیٹی رپورٹ کو مسترد کر دیا ۔کیوں کہ مرکزی حکومت کو ڈر ہے کہ یہ کمیٹی ان کے بے انتظامی اور بے شرمی سے بولے گئے جھونٹ کو جنتا کے سامنے لائے گی ۔دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہا سرکار کا جواب بالکل غلط ہے دہلی سمیت دیش کے دیگر مقامات پر بھی آکسیجن کی کمی ہوئی تھی ۔پرینکا گاندھی نے بھی ٹوئیٹ کرکے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر میں آکسیجن کی کمی سے اس لئے موتیں ہوئیں کیوں کہ سرکار نے آکسیجن کی برآمدات 700 فیصد تک بڑھا دی تھی اور آکسیجن ٹرانسپورٹ کرنے والے ٹینکروں کا انتظام نہیں تھا اس کے علاوہ آکسیجن اسپتالوں میں سپلائی لانے میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی گئی ۔تیجسوی یادو نے بھی اس پورے معاملے پر ایک چھوٹا سا لیکن پختہ ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک با مطلب سب نے آتما ہتھیا کی تھی ۔شیو سینا ایم پی سنجے راوت نے بھی وزیر صحت کے جواب کو لیکر سرکار پر سوال کھڑے کئے ہیں۔انہوں نے کہا سرکار کے جواب کو سن کر ان پر کیا گزری ہوگی جنہوں نے اپنوں کو کھویا ہے اس لئے سرکار کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے سرکار جھونٹ بول رہی ہے ۔راوت نے کہا کہ کووڈ 19- کی وبا کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی کمی سے اپنے رشتہ داروں کو کھو دینے والے لوگوں کو مرکزی سرکار کے اسپال میں لے جانا چاہیے کئی ریاستوں میں کئی لوگ آکسیجن کی کمی سے مارے گئے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کسی بھی ریاست نے آکسیجن کی کمی سے ہوئی اموات کی کوئی تفصیل نہیں بھیجی انہوں نے کہا ایوان میں منگلوار کو آکسیجن کی کمی سے ہوئی اموات کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا اس پر جو جواب ملا اس میں تین باتیں توجہ دینے لائق ہیں پہلی : مرکزی سرکار کہتی ہے ہیلتھ ریاستی سرکاروں کا معاملہ ہے۔دوسرا: ہم صرف ریاستوں کے بھیجے گئے ڈیٹا کو ہی یکجاں کرتے ہیں ۔اور تیسرا : ہم نے ایک گائڈ لائن جاری کر دی ہے جس کی بنیاد پر ریاستیں اموات کی ٹیلی کی رپورٹ کو دیکھ سکیں ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس پورے تنازعہ میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ آکسیجن کمی سے اموات کے نمبروں کو نہیں یکجاں کیا جا سکتا جب آکسیجن کی کمی سے دل کا دورہ پڑنے سے اور پھیپھڑوں کے خراب ہونے وغیرہ سرٹیفکٹ میں لکھا جاتا ہے ۔سرکار کے الفاظ کے ہیر پھیر کا فائدہ اٹھا کر سفید جھونٹ بول رہی ہے ۔
(انل نریندر)
23 جولائی 2021
راج کندرا فحش فلمیں بنانے کے الزام میں گرفتار
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ شلپا شیٹی کے شوہر اور مشہور بزنس مین راج کنڈرا کو فحش فلمیں بنانے اور مختلف ایپس کے ذریعہ ان کی نمائش کرنے کے الزام میںممبئی پولیس کرائم برانچ ٹیم نے پیر کو گرفتار کیا۔اس کی تصدیق ممبئی پولیس کمشنر نے کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ فحش فلم بنانے اور ایپس کے ذریعے سے ان کو ٹیلی کاشٹ کرنے کے الزام میں راج کندرا کے خلاف کافی ثبوت ملے ہیںساتھ ہی جانچ میں راج کندرا اس پورے ریکٹ کے اہم سازشی کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔کرائم برانچ کے ایک افسر نے بتایا اس برس فروری 2021 میں کرائم برانچ نے ممبئی میں فحش فلمیں بنانے اور انہیں کچھ ایپس پر دکھانے کو لیکر شکایت ملی تھی اس کے بعد کیس درج کیا گیا تھا اس معاملے میں پوچھ تاچھ کے لئے بلایا گیا تھا ۔اور کئی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد بالآخر اسے گرفتار کرلیا گیا۔ تاہم ، کمپنی پر یہ سنسنی خیز الزام لگانے کے بعد وضاحت دیتے ہوئے راج کنڈرا نے کہا تھا کہ انہوں نے اس کمپنی کو چھوڑ دیا ہے جس پر فحش ویڈیوز بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ منگل کے روز کنڈرا کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے راج کنڈرا کو 23 جولائی تک پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔ اس سال فروری میں ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نے مٹی کے گرین پارک بنگلے پر چھاپہ مارا تھا۔ پولیس نے یہ کارروائی وہاں فحش فلموں کی شوٹنگ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر کی۔ اس دوران پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا اور ایک لڑکی کو بھی رہا کیا گیا تھا۔ گرفتار پانچوں میں دو اداکار اور دو نوجوان خواتین بھی شامل ہیں۔ عدالت میں پولیس کی تعریف کرتے ہوئے استغاثہ نے کہا کہ راج کندرا اپنی ایپ ہاٹ شاٹ کے ذریعے فحش ویڈیوز میں ڈیل کر رہا تھا۔ جب گیانا واشیت کو گرفتار کیا گیا تو اس نے عمش کومات کا نام لیا اور راج کنڈرا کی سابقہ پی اے اومیش کامت نے پولیس کو راج کنڈرا کی شمولیت کے بارے میں بتایا۔ تاہم ، راج کندرا نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ہاٹ شاٹ ایپ کو مطلوب ملزم پرویر بخشی کو فروخت کیا ہے۔ راج کندرکاتنازعوں سے پرانہ واسطہ رہا ہے ۔ سال 2012 میں راج کنڈرا پر آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں بھی الزام عائد کیا گیا تھا اور انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔ راج کندرا کی آئی پی ایل ٹیم راجستھان رائلز میں حصہ داری تھی۔ اسپاٹ فکسنگ کیس میں پولیس نے کنڈرا کے علاوہ کئی کھلاڑیوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔ جنوری 2015 میں بی سی سی آئی کے اس وقت کے صدر این سری نواسن کے داماد اور چنئی سپر کنگز ٹیم کے پرنسپل گرووناتھ مییاپن اور راجستھان رائلز کے شریک مالک راج کنڈرا کو سپاٹ فکسنگ اور میچ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے الزام ثابت ہوئے ہیں۔ میڈرول کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ، سپریم کورٹ کے پینل نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز پر دو سالہ پابندی کی سفارش کی گئی تھی۔ مییاپن اور راج کنڈرا پر تاحیات پابندی عائد تھی۔
(انل نریندر)
آئین سازیہ نہیںچاہتی سیاست میں جرائم کو روکے!
سپریم کورٹ نے منگل کے روز کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ آئین سازیہ کبھی بھی جرائم کی سیاست کو سیاست سے جرائم کوپاک نہیں کرے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایسا نہیں بلکہ وہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ نہ تو کوئی جماعت مجرموں سے سیاست کو آزاد کرنے کے لئے کوئی قانون بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ ہی ایسے امیدواروں کو روکنے میں جس کے خلاف سنگین جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہو۔ اس معاملے میں تمام سیاسی جماعتوں میں تنوع میں اتحاد پایا جاتا ہے۔ جسٹس آر ایف نریمن اور وی آر گوئی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ حکومت کا قانون ساز ونگ قانون لانے کے لئے کوئی اقدام اٹھانے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ افسوس کہ بات ہے کہ ہم قانون نہیں بنا سکتے۔ ہم مسلسل آئین سازیہ سے ان امیدواروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جن کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا ہے ، اور نہ ہی کوئی پارٹی کبھی کرے گی۔ اعلی عدالت نے توہین عدالت میں بی جے پی ، کانگریس ، بی ایس پی ، ایل جے پی ، سی پی آئی (ایم) اور این سی پی سمیت مختلف فریقوں کے وکلا کو بھی سنا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔دراصل بنچ وکیل برجیش سنگھ کے ذریعے دائر توہین عدالت کی عرضی پر سماعت کررہی تھی ۔جس میں 2020 بہار انتخابات میں فریقین کے ذریعہ سپریم کورٹ کے احکامات کو جان بوجھ کر عدم تعمیل کرنے کا الزام ہے۔ فروری 2020 میں سپریم کورٹ نے امیدواروں کے مجرمانہ پس منظر کی معلومات کو وسیع پیمانے پر شائع کرنے کا حکم دیا۔ آئیے ہمیں بتائیں کہ لوک سبھا کے 539 ممبران پارلیمنٹ میں سے 233 مقدمات درج ہیں۔ بی جے پی کے 39 فیصد ، کانگریس کے 57 فیصد ارکان پارلیمنٹ داغدار ہیں۔ جیسا کہ معزز سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین سازی داغداروں کے خلاف کبھی بھی قانون نہیں بنائے گی اور سپریم کورٹ قانون کا پابند ہے۔ ہمیں اس مسئلے کا حل نظر نہیں آتا کیونکہ ہر پارٹی کوایسے امیدوار چاہیے جو سیٹیں جیت سکے۔ یہاں تک کہ اگر اس کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں ہے؟ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ اس معاملے میں قصوروار سیاسی جماعتوں کے چناو¿ نشان سیز یا معطل کردی جائیں۔جرمانہ کی رقم ایک روپیہ نہ ہو ورنہ نیتا ہنسیں گے۔ وہ فوٹو کھینچ کر رقم جمع کروائے گا۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ سالوے نے وکیل پرشانت بھوشن کی توہین معاملے میں ایک روپے جرمانے کی سزا کا حوالہ دیا۔ بی ایس پی اور این سی پی نے کہا کہ چناو¿ نشان معطل کرنا بھاری جرمانہ ہے ۔ این سی پی کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ کسی ایک امیدوار یا ریاستی اکائی کی غلطی کی وجہ سے ملک بھر میں پارٹی کے چناو¿نشان کو معطل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایک نظام تیار کیا جائے۔ اس سے پہلے سیاسی جماعتوں کی بات سنی جائے۔
(انل نریندر)
21 جولائی 2021
جب افغان صدر غنی نے عمران کو سنائی کھری کھوٹی !
وسطی اور ساو¿تھ ایشیارابطہ کانفرنس میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں سے محض کچھ فٹ کی دوری پر ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔اس کانفرنس میں پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا پاکستان نے شدت پسند گروپوں سے اپنے تعلقات نہیں توڑے ہیں ۔کانفرنس میں بھارت کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر بھی شریک تھے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تجارت کے مسئلے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی ،امن وسلامتی کے ساتھ ہی ممکن ہے ۔خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان کے صدر غنی نے اپنے ایڈرس میں سخت الفاظ میں کہا پچھلے مہینہ دس ہزار سے زیادہ جہادی جنگباز افغانستان آئے ہیں جبکہ پاکستان سرکار طالبان کی امن بات چیت میں سنجیدگی سے حصہ لینے کے لئے منانے میں ناکام رہی ہے اس کانفرنس کے افتتاحی تقریب میں علاقائی رابطے کے لئے چیلنجوں اور خطروں پر بولتے ہوئے غنی نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ان کے جرنلوں نے بار بار یقین دہانی کرائی وہ نہیں سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کا قبضہ پاکستان کے مفاد میں ہے پاکستان کو کوسنا بندکریں افغانستان کے بارے میں عمران خان میں کہا سنی بھی ہو گئی انہوں نے بار بار کہا کہ وہ طالبان کو سنجیدگی سے بات چیت کرنے کے لئے منانے کے لئے اپنی طاقت اور رسوخ کا استعمال کریں گے ۔لیکن طالبان کی حمایت کرنے والے نیٹورک اور تنظیمیں افغان لوگوں اور ملکی پراپرٹی اور صلاحیتوں کے تباہی کاجشن منا رہے ہیں ۔اشرف غنی کے اس بیان کے کچھ منٹ بعد اپنے اوپر لگے ان الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ ان الزامات سے مایوس ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لڑائی میں پاکستان کا منفی رول رہا ۔اور کہا کہ صدر غنی افغانستان میں ابھی اتھل پتھل سے زیادہ متاثر ہونے والا دیش پاکستان ہے پچھلے 15 سالوں میں پاکستان نے 70 ہزار لوگوں کی جان گئی اگر کوئی قطعی چیز ہے تو وہ ہے کہ پاکستان اب لڑائی نہیں چاہتا عمران خان نے افغان صدر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کویقین دلا سکتا ہوں کہ پاکستان کے مقابلے میں کسی بھی دیش نے طالبان کو بات چیت کیلئے اس قدر کوشش کی ہوگی امریکہ کے نمائندے زاہد خلیل زاد نے کہا کہ فوج کی واپسی کے بعد افغان سرکار کومدد جاری رہے گی ساتھ ہی کہا افغانستان میں سیاسی سمجھوتہ کی ضرورت ہے افغانستان کی فوجی فروسز کی مدد کے لئے امریکی صدر بائیڈن نے 303 کروڑ ڈالرکی مدد مختص کی ہے ۔واشنگٹن میں وائٹ ہاو¿س نے بتایا کہ افغانستان امن عمل اور استحکام اور کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لئے امریکہ پاکستان افغانستان اور ازبکستان پر مشتمل چار نفری سفارتی گروپ بنائے گا ۔
(انل نریندر)
بغاوت قانون کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے!
سپریم کورٹ نے ایک بار پھر انگریزی حکومت کے دور میں بغاوت سے متعلق قانون کو بے سود قرار دیتے ہوئے مرکز سے پوچھا ہے کہ سرکار اسے منسوخ کیوں نہیں کر دیتی ؟ اس سے پہلے کئی معاملوں میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے صاف کیا ہے کہ سرکار کی پالیسیوں کی تنقید کرنا ملک سے بغاوت نہیں مانا جانا چاہیے ۔لوگوں کی نکتہ چینی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے ۔حال ہی میں صحافی ونود دوا معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اس نے اس بات پر خاص طور سے زور دیا اس وقت بغاوت قانون کے تحت دیش کی مختلف جیلوں میں اپنے کئی صحافی ، سماجی رضاکار اور احتجاجی بند ہیں ان سے کچھ پتر کاروں نے کسان آندولن کی حمایت میں شروع کیا تھا تو کچھ نے ہاتھرس آبرو ریزی متاثرہ کی موت اور پھر انتظامیہ کے ذریعے راتوں رات اس کے داہا سنسکار سے جڑے حقائق اجاگر کرنے شروع کئے تھے اسی طرح دھیماکورے گاو¿ں معاملے میں کئی سماجی رضاکاروں اور دانشوروں پر بغاوت کا مقدمہ درج کر انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اس قانون کے تحت آواز دبانے کے لئے اس کو عمل میں لایا جاتا ہے ۔انگریزوں نے تو اس قانون کو تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے بنایا تھا لیکن اب اس قانون کو بیجا استعمال ہو رہا ہے ۔یہ قانون بولنے کی آزادی پر روک کے برابر ہے ۔یہ سرکار کی غلط ذہنیت ہے اس قانون اور دیگر قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے اس طرح کے قانون کا بیجا استعمال کر سکتے ہیں ۔بولنے کی آزادی پر انگریزوں کے دور کے قانون کے ساتھ چپکے رہنا سرکار کی اوچھی ذہنیت ہے ۔آج سوشل میڈیا پر لوگ سرکار کو کوس رہے ہیں ۔گالیاں دی جاتی ہیں وہ ان کے خلاف سرکار کوئی ایکشن نہیں لے پارہی ہے جبکہ صحافیوں کی آواز دبانے کے لئے دیش سے بغاوت قانون کو عمل میں لایا جارہا ہے ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ ابھی بھی ملک کی بغاوت قانون کو نابود کرنے میں سرکار متفق نہیں ہے جانچ ایجنسی اس قانون کا بیجا استعمال کرتی ہے سرکاری افسر کسی شخص کو پھنسانا چاہتا ہے تو بالا قانون کا سہارا لیتا ہے خاص بات یہ بھی دیکھنے میں آئی ملک سے بغاوت کے کیس میں کچھ شقات تو ہیں لیکن سزا بہت کم ہوتی ہے بغاوت پر مشکل دور میں متنازعہ قانون کے تحت 2014 سے 2019 کے درمیان 326 معاملے درج کئے گئے جن میں محض 6 لوگوں کو سزا ہوئی ۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آئی پی سی کی دفع 126 (A ) بغاوت کے جرم کا بڑے پیمانے پر بیجا استعمال کیا گیا ۔اور اس نے مرکز سے پوچھا کہ وہ انگریزوں کے ذریعے بنائے گئے تحریک آزادی کو کچلنے کےلئے مہاتما گاندھی جیسے لوگوں کو چپ کرانے کے لئے استعمال کئے گئے ۔اس قانون کی دفعات کو ختم کیوں نہیں کرتی ؟ وقت آگیا ہے سرکار اب ضروری طور پر اس کالے قانون کو ختم کرے ،دیش میں انگریزوں کے زمانے میں بنے اس کالے قانون کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے ۔
(انل نریندر)
20 جولائی 2021
کیدار ناتھ جیسی قدرتی آفت کا پھر خطرہ !
اتراکھنڈ میں بھاری بارش کے چلتے کئی علاقوں میں چٹانیں گررہی ہیں محکمہ موسمیات نے دہرا دون نینی تال ،چمپاوت ،پتھوڑا گڑھ ،ٹہری سمیت کئی علاقوں میں یلو الرٹ جاری کر دیا ہے ۔ندیاں تغیانی پر ہیں اس سے مقامی لوگوں میں بادل پھٹنے کی دہشت ہے اس سال پری مانسون میں ہی اتراکھنڈ میں چار جگہوں پر بادل پھٹ چکے ہیں سائنسدانوں کو اس بات کی فکر ہے کہ ان واقعات سے 2013 میں ہوئی کیدار ناتھ ٹریجنڈی جیسی پھر سے کوئی آفت نہ آئے ۔قدرتی آفت کے نکتہ نظر سے 308 انتہائی حساس ترین گاو¿ں کو پھر سے بسنا تھا ۔لیکن ابھی تک یہ پلان پوار نہ سکا ۔ایسے ہی پتھوڑا گڑھ چمولی وغیرہ میں بھی 40 گاو¿ں بسانے تھے ان دیہات میں بادل پھٹنے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں قدرتی آفات مینجمنٹ محکمہ کے ڈائرکٹر پیوش رتولہ کے مطابق اتراکھنڈ میں بادل پھٹنے کا پہلا واقعہ 1952 میں ہواتھا ۔اس سے پوڑی ضلع میں باڑ آگئی تھی ۔اور ستپولی قصبہ کا وجود ہی مٹ گیا تھا لیکن اب ہر مانسون سیزن میں 15 سے 20 واقعات ہو رہے ہیں کیدارناتھ ٹریجڈی بھی بادل پھٹنے سے ہوئی تھی جس میں 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی تھی اور دس ہزار سے زیادہ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں ۔موسم سائنس سینٹر دہرادون کے ایک جائزہ کے مطابق مانسون میں بارش تو ایک یکساں طور پر درج ہو رہی ہے لیکن بارش 7 دنوں میںہوتی تھی لیکن اب وہ تین دن میں ہو رہی ہے اس سے صورتحال بگڑ رہی ہے جون سے ستمبر کا مانسون سیزن جولائی اگست میں محدود ہو گیا ۔یعنی چار مہینہ کی بارش دو مہینہ میں ہو رہی ہے ۔
(انل نریندر)
افغانستان میں میڈیا مین جان ہتھیلی پر لیکر چلنے کو مجبور !
صحافت کو جنون کی حد تک لے جانے والے ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی افغانستان میں طالبانی حملے میں جان چلی گئی جمعرات کی رات پاکستان کی سرحد سے لگے بولڈک ضلع میں طالبانی دہشت گردوں و افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جاری مڈبھیڑ کور کررہے تھے اسی دوران اچانک فائرنگ میں دانش اور افغانی فوج کے ڈپٹی کمانڈر صدیق کرجئی ہلاک ہو گئے ۔صحافت کا ناول کہے جانے والے پدت زر ایوارڈ سے اعزاز یافتہ چالیس سالہ دانش امریکی نیوز ایجنسی رائٹرس کے بھارت میں چیف فوٹو جرنلسٹ تھے ۔سال 2018 میں فیچر فوٹو گرافی کے لئے یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے دانش اور ادنان عابدی ہندوستانی تھے دانش تین دن سے بولڈک میں جنگ کور کررہے تھے ۔ا س درمیان گولی لگنے سے زخمی بھی ہوئے ایک افغان کمانڈر نے بتایا طالبانی حملے کے وقت دانش دوکانداوں سے بات کررہے تھے دوسری طرف طالبان ترجمان قاری یوسف نے بتایا کہ رائٹرس نے انہیں نہیں بتایا تھا کہ ان کا جرنلسٹ جنگی زون میں کورکرنے کے لئے گیا ہے ۔ممبئی کے باشندے دانش دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں اکنامکس گریجویٹ تھے اور ماسکوم سے فوٹو گرافی کا کورس بھی کیا تھا ۔دانش کے ساتھ کام کرچکے سبھی این صدیقی نے بتایا جب کوئی رپورٹر رپوٹنگ چھوڑ کر فوٹو جنرلزم کا کیرئیر بناتا ہے تو وہ صرف فوٹو نہیں کھیچتا بلکہ خبروں کو بھی کور کرتا ہے ۔ایسے تھے دانش 2008 میں ہم دونوں دہلی میں ایک ساتھ ٹی وی چینل سے جڑے تھے دانش نے فوٹو گرافی کا جنون تھا ۔2010 میں جب رائٹرسے انٹرن کی شکل میں جڑے تو لمبی بحث ہوئی میں نے کہا کوئی رپورٹر فوٹو گرافر بنتا ہے یا ؟ دانش نے یہ سوال مسترد کرتے ہوئے جو مقام حاصل ہے وہ کسی بھی پتر کار کے لئے فخر کی بات ہے ۔یوں تو دانش نے دنیا کو بہت سارا سچ دکھایا لیکن روہنگیا مسلمانوں کے حالات کو ایسے اجاگر کیا جنہیں امریکہ کا پولٹزر ایوارڈ ملا اس کے بعد میں نے دانش سے کہا تھاتم نے سب کو غلط ثابت کر دیا ۔کورونا کی دوسری لہر میں میں نے ان کے فوٹو انٹرنیشنل پبلک سنشائن میں دیکھ کر مبارکباد دی تو جواب آیا کہ یہی تو ہماری زندگی ہے ۔افغانستان میںجس طرح کے حالات ہیں ان میں ویسے ہی میڈیا سے جڑے لوگوں کے لئے کام کرنا جان ہتھیلی پر لیکر چلنا ہے تین مہینہ پہلے طالبان میں جلال آبادمیں ریڈیو ٹی وی میں کام کرنے والے تین لیڈیز جرنلسٹوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا جسے دس مہینوں میں 20 سے زیادہ میڈیا ملازم طالبان کی گولیوں کا شکار ہو چکے ہیں دنیا میں میڈیا ملازمین کے لئے سب سے زیادہ خطرناک دیش مانے جاتے ہیں ۔افغانستان بھی انہیں میں سے ایک ہے ۔دانش صدیقی کا قتل افغانستان اور دنیا کے لئے ایک مثال ہونی چاہیے ۔اور اب سمجھ میں آگیا ہے کہ انسانیت کے دشمنوں کو پہچان کر ٹھکانے لگایا جائے ۔
(انل نریندر)
مودی - پوار ملاقات سے چڑھا سیاسی پارہ!
راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے چیف شردپوار نے سنیچر کے روز وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کر ایک گھنٹے تک تبادلہ خیال کیا اس ملاقات سے دہلی اور مہاراشٹر کے ساتھ دیش بھر میں سیاسی قیاس آرائیں شروع ہو گئیں ۔دونوں فریقین میں آپسی بات چیت کو لیکر کوئی پائیدار جانکاری نہیں دی حالانکہ پی ایم او اور پوار کی طرف سے کئے گئے ٹوئیٹ سے جو باتیں نکل کر سامنے آئیں ان سے ملاقات میں بینکنگ ترمیم قانون او رکاپریٹو سیکٹر سمیت کئی مسئلوں پر بات چیت کہی جا رہی ہے ۔این سی پی کی طرف سے کہا گیا کہ اس ملاقات کے بارے میں اتحادی پارٹیوں کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا ۔ا س ملاقات کے سلسلے میں پی ایم او نے میٹنگ کی ایک تصویر بھی ٹوئیٹ کی لیکن بات چیت میں کیا مسئلہ زیر بحث آیا اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا ادھر پوار نے بھی ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ہم نے اپنے دیش کے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی اور قومی مفاد کے مختلف مسئلوں پر بات چیت ہوئی یہ میٹنگ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن سے دو دن پہلے ہوئی جو پیر کو شروع ہوا بعد میں پوار نے ایک خط بھی ٹوئیٹ کیا جو انہوں نے پی ایم کو بینکنگ ایکٹ میں ترمیم کرنے کے بارے میں لکھا ہے ۔وہ لکھتے ہیں کہ میں کچھ باریکیوں و ایکٹ کے ضابطے کی نکات کی تشریح قانون و عدم صلاحیت کو بتانا چاہتا ہوں ۔جن کو لیکر غلط فہمی کی صورت حال ہے خاص طور سے 97 و آئینی ترمیم جس سے اسٹیٹ آپریٹو کمیٹی ایکٹ اور کاپریٹو اصولوں کے ساتھ ٹکراو¿ کی پوزیشن بنی ہوئی ہے شردپوار نے مرکزی وزیر اور اجیہ سبھا میں نامزد ہاو¿س کے لیڈر پیوش گوئل سے بھی ملاقات کی تھی آج ہی بھاجپا نیتا اور سابق وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس نے بھی پوار سے ملاقات کی ان ملاقاتوں کے بعد قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا ۔اور کہا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر مین این سی پی اور بھاجپا کی نزدیکیاں بڑھ سکتی ہیں جو شیو سینا کےلئے خطرے کا اشارہ ہیں ۔کچھ دن پہلے این سی پی کے خیمہ کے باہر شیو سینا نے بھی اشارہ دیا تھا کہ ان کی بھاجپا سے کوئی دشمنی نہیں ہے شیو سینا نے وزیراعظم کی تعریف بھی کی تھی ۔شیو سینا کے بیان کے بعد اور شردپوار کی وزیراعظم سے ملاقات سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر میں شیو سینا این سی پی اتحاد میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے شردپوار سیاسی سندیش دینے کے لئے وزیراعظم سے ملے دراصل وہ این سی پی نیتاو¿ں کے خلاف ای دی کی کاروائی سے دکھی ہیں ۔اس مسئلے پر وہ پی ایم سے ملے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شردپوار نیا کاپریٹو وزارت کی تشکیل کو لیکر بھی مودی سے ملے ہیں مہاراشٹر میں کاپریٹو پر شردپوار کا زبردست دبدبہ ہے ۔اس لئے پوار نئی وزارت بنانے سے خوش نہیں ہیں پیر کو پارلیمنٹ کے سیشن کو لیکر بھی وزیراعظم سے بات چیت کی اور وزیراعظم نے بھی ان سے تعاو¿ن مانگا ۔پھر بھی قیاس آرائیاںمہاراشٹر کو لیکر لگائی جارہی ہیں این سی پی لیڈر نواب ملک نے کہا کہ بھاجپا اور این سی پی کبھی ایک ساتھ نہیں آسکتے دونوں کی آئیڈیا لوجی الگ الگ ہے ۔گہری سیاسی سوجھ بوجھ کے لئے مشہور شردپوار مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی سرکار کے اہم تخلیق کار ہیں ۔انہوں نے بھاجپا کے خلاف کسی بھی امکانی اپوزیشن اتحاد کے لئے انہیں ایک کڑی کے شکل میں دیکھا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
18 جولائی 2021
مغویہ معصوم بچے کو دو مہینے میں تین بار بیچا!
تیمار پور علاقے کے تین سال کے معصوم بچے کو اغوا کرکے دو مہینے میں تین بار بیچے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ملزم چوتھی مرتبہ بچے کا سودا پانچ لاکھ میں طے کرنے والے تھے تب پولس اچانک ان تک پہونچ گئی اور بچے کو محفوظ بر آمد کر لیا گرفتار ہوئے ملزمہ70سالہ راج رانی اس کی بیٹی انوج رانی کے ساتھ تھی 29سالا سنیتا اور 35سالہ سیما 39سالہ شخص سرویس کو گرفتار کیا ہے ناتھ ڈسٹرکٹ کے ڈی سی پی انٹو الفونس نے بتایا کہ 22مئی کو تیمار پور تھانے میں شری رام بستی کے باشندے روی نے اپنے بچے کے لا پتہ ہونے کی شکایت در ج کرائی تھی اور اس نے اپنے بیٹے کے اغوا ہونے کا اندیشہ جتایا تو پولس نے مقدمہ درج کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی مقامی لوگوں سے پوچھ تاچھ اور سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج دیکھنے کے بعد پڑوس کی باشندہ سنیتا نام کی خاتون پر شبہہ ہوا پولس نے اس کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کی لیکن وہ کہانی بناتی رہی پھر پولس نے اس کے موبائیل کی پی سی جی آر نکالی تو آتو ڈرائیور سرویش کا نام ملا لیکن اس سے پوچھ تاچھ میں وہ معاملے سے انکار کرتا رہا اسی درمیان مخبر کو پتہ چلا کہ منگول پوری علاقے میں ایک بزرگ خاتون اور اس کی بیٹی کے پاس بچہ ہے پولس فوراً موقعے پر پہونچی اور بچے کو صحیح سلامت برآمد کر لیا ملزمہ خاتون راج رانی اور اس کی بیٹی انوج رانی کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے بچے کو بیچنے کے بارے میں اعتراف کر لیا اور اس کے ایما پر پولس نے سیما کو بھی پکڑ لیا اسنے بتایا کہ اسے آٹو ڈرائیور سرویش نے بچے کو دیا تھا اس کو پکڑے جانے کے بعد اس نے سنیتا کو نام لیا کہ بچے کو اسی نے اغوا کرنے کے لئے کہا تھا اسکے بعد سنیتا نے بچے کو اغوا کر سترہزار روپئے میں سرویش کو بیچ دیا تھا سرویش نے سنیتا کو بچے کو بیچنے کےلئے کہا اسکے بعد سرویش نے بچے کو سیما نے راج رانی کو بیچا تھا بہر حال بچے کی برآمدگی سے ماں باپ تو خوش ہیں لیکن ان کو بچوں کو لیکر احتیاط برتنا چاہئے۔ بچوں کو اکیلے باہر بھیجنے سے بچیں گھر کے باہر پارک میں بچے کے کھیلتے وقت ان پر نظر رکھیں ۔ انجان پڑوسیوں کے بھروسے بچوں کو نہ چھوڑین بچوں کو ان کی خود حفاظت رکھنے کے بارے میں سکھائیں اور بچے کو بتائیں کو وہ کسی انجان شخص کی دی ہوئی کوئی چیز نہ کھائیں ساتھ ہی اکیلے میں کسی انجان کے ساتھ نہ جائیں ۔
(انل نریندر)
22غیرمسلح فوجیوں کو سپردگی کے بعدگولیوں سے بھون ڈالا!
امریکی فوج کی افغانستان کے واپسی کے ساتھ ہی طالبان کی بر بریت کا ایک خوف ناک ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں صاف دکھائی دے رہا ہے افغان کمانڈو کا گولا بارود ختم ہونے کے بعد انہوں نے طالبان کے آگے سرینڈر کر دیا اس کے بعد 22غیر مسلح افغان کمانڈو کو ساتھ کھڑا کرکے اللہ اکبر کا نعریٰ لگاتے ہوئے طالبان نے ان پر گولیاں برسا دی سی این این اسے اجتما عی قتل عام کو ویڈیو جاری کیا ہے اس برے رحمانہ قتل عام کو افغانستان کے فریاب صوبے کے دولات علاقے میں 16جون کو انجام دیا گیا ۔ یہ علاقہ افغانستان و ترکمنستان کی سرحد کے پاس ہے رپورٹ کے مطابق افغان کمانڈو ہر طرف سے طالبان لڑاکو¿ں سے گھر گئے تھے ویڈیو کی تصدیق سے دکھائی پڑ رہا ہے کہ افغان فوجی اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور کئی لوگ زمین پر جھکے ہوئے ہیں ویڈیو میں آواز آ رہی ہے جس میںکہا جا رہا ہے گولی مت مارو میں آپ کے سامنے بھیک مانگتا ہوں اس کے کچھ ہی سیکینڈ کے بعدطالبان کے دہشت گردوںنے اللہ اکبر کے نعریٰ لگائے اور نہتھے فوجیوں پر گولی چلانی شروع کر دی اس قتل کے بارے میں طالبان سے بات کی تو اس نے ویڈیو کو فرضی بتایا اور یہ سب طالبان مخالف افغان سرکار کا پروپیگنڈہ ہے اس نے دعویٰ کیا کہ ابھی اس کے قبضے میں 24کمانڈ و ہیں لیکن اس کی ابھی تصدیق کے لئے کوئی ثبوت نہیں دیا اقوام متحدہ میں مہاجرین امور کی ایجنسی نے بتایا کہ افغانستان میں عدم تحفظ اور تشدد کے سبب جنوری سے قریب دو لاکھ ستر ہزار لوگ دیش کے اندر بے گھر ہوئے ہیں افغانستان میں بڑھتے انسانی بحران کے سبب طالبان کے 85فیصد علاقے پر قبضہ کرنے و امریکی فوجیوں کی واپسی پر انسانی بحران کو لیکر آگاہ کیا ہے انہوں نے کہا دیش میں اب تک بے سہاروں کی تعداد 33لاکھ سے اوپر ہوگئی ہے ۔
(انل نریندر)
فائنل میں گول نہیں کر پائے تو گالیاں!
یوروپ کے سب سے بڑے اہم ترین فٹ بال مقابلے یورو کپ کے فائنل میں میزبان انگلینڈ کی ٹیم اٹلی سے ہار گئی ہے ایک بار پھر یورو کپ جیتنے کا اس کا خواب چکنا چور ہوگیا سال1966میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پہلی بار انگلینڈ کی ٹیم کسی بڑے مقابلے کے فائنل میں پہونچی تھی لندن کے مشہور ویمبلے اسٹیڈیم میں قریب ساٹھ ہزار کھیل سائقین کے سامنے ہار کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑی کافی مایوس اور دکھائی دیئے کئی کھلاڑی اتنے جذباتی ہوگئے کہ وہ اپنے آنسوں کو روک نہیں پائے خاص کر اس حالت میں جب انگلینڈ کی ٹیم نے دو منٹ کے اندر ہی گول کرکے اٹلی پر اپنی بڑھت بنا لی تھی فائنل میچ کا فیصلہ پینلٹی شوٹ آو¿ٹ سے ہوا کیونکہ بچے ٹائم کے بعد بھی اسکور ایک ایک برابر تھا پینلٹی شوٹ آو¿ٹ میں انگلینڈ کی ٹیم پانچ میں سے دو ہی گول کر پائی جبکہ اٹلی نے تین گول داغ کر خطاب اپنے نام کر لیا ۔ انگلینڈ کی ہار اور اٹلی کئی جیت کے علاوہ یہ فائنل میچ فٹ بال کے شائقین کی ہڑ دنگی اور پھر نسلی نفرت کے تبصروں کے سبب کافی میچ یہ زیر بحث رہا ۔ میچ شروع ہونے سے پہلے ویمبلے اسٹیڈیم کے باہر جمع سینکڑوں کی تعدا د میں لوگوں نے خب ہنگامہ کیا مار پیٹ کی کئی تو بغیر ٹکٹ اندر ہی گھس گئے ۔ اسٹیڈیم کے باہر ایسا نظارہ تھا کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے وہیں میچ کے بعد انگلیند کے جن کھلاڑیوں نے پینلٹی مس کی وہ نشانے پر آگئے ماسک اسفورڈ، زون شانچو، وغیرہ نے پینلٹی مس کیا ماسک نے اس بارے میں اپنا بیان جاری کرکے کہا کہ وہ پینلٹی مس کرنے کے لئے معافی مانگتے ہیں وہ اس کے لئے کبھی بھی معافی نہیں مانگیں گے کہ وہ کیا ہیں؟اپنے بیان میں 23سالہ ایس فورڈ نے کہا میں پورے دن اپنے کھیل کی پر فارمینس کے لئے تنقید برداشت کر سکتا ہوں میری پینلٹی شاٹ ٹھیک نہیں تھا مجھے گول کرنا چاہئے تھا لیکن میں کبھی بھی اس کے لئے معافی نہیں مانگوں کا کہ میں کس نسل سے تعلق رکھتا ہوں اور کہاں سے آیا ہوںمیں انگلو کی جرسی پہن کر فخر محسوس کرتا ہوں ۔ انگلینڈ کے کپتال ہیری کین نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کے خلاف نسل پرستی کا تبصرہ کرنے والے انگلینڈ کے پرستار نہیں ہیں ہمیں ایسے لوگو ں کی ضرورت نہیں ہے ہیری کین نے ٹویٹر پر لکھا ان کھلاڑیوں کو تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے نسل پرستی پر تبصرہ نہیں ہونا چاہئے اگر آپ کی ضرورت ہے اگر آپ سوشل میڈیا پر کسی کو گالی دے رہے ہیں تو آپ انگلینڈ کے فین نہیں ہیں اور ہمیں بھی آپ کی ضرورت نہیں ہے ایسے ہی ڈیکیڈر شرو نے منٹس نے ٹویٹر پر لکھا صبح میں جاگ کر دیکھا کہ میرے بھائی نسلی طور سے بد تمیز ی کا سامنہ کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے بہادری دکھا کر اپنے دیش کے اس حالت مین پہونچایا یہ بیمار ذہنیت کی علامت ہے لیکن مجھے اس سے تعجب نہیں انہوںنے وزیر داخلہ پریتی پٹیل کی نقطہ چینی کی تھی ۔ پچھلے مہینے پریتی پٹیل نے ان کھلاڑیوں پر نقطہ چینی کی تھی جو نسل امتیاز کے خلاف میدان پر گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے اور اسے جذباتی مظاہر کی سیاست کہا تھا انگلینڈ نے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے لئے کئے گئے نسلی تعصب پر مبنی تبصرے سے کافی مایوس ہیں ۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی کھلاڑیوں کے طئیں حمایت جتائی اور نسل پرست کھلاڑیوں کی تنقید کی انہوں نے کہا وہ دیش کے لئے خوشی لیکر آئے ہیں جو ان پر نسل پر تعصب پر مبنی تبصرے کر رہے ہیں ان کےلئے میں یہی کہوں گا تم پر شرم آتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...