Translater
04 مئی 2023
مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے سرکار کا مستقبل ؟
ایکناتھ شندے کی قیادت میں شیو سینا میں پچھلے سال ہوئی پھوٹ اور 16ممبران اسمبلی کی اہلیت پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے آنے والے فیصلوں کو لیکر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ۔ بڑی عدالت کے امکانی فیصلے میں مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اور زلزلہ آنے یا آنے کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر اجیت پوار سرکار بچانے کیلئے کیا اس کی حمایت کریںگے؟ بحث وزیر اعلیٰ بدلنے اور دل بدل پھر شروع ہونے کو لیکر بھی چل رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کے لیڈ ر سنجے راو¿ت نے پچھلے دنوں پیش گوئی والے انداز میں کہا کہ یہ سرکار ٹکنے والی نہیں ہے اور اس کا ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکا ہے اب صرف ایک بات طے ہونی ہے کہ اس پرکون دستخط کرتا ہے ۔ اس سے کچھ دن پہلے سجنے واو¿ت نے کہا تھا کہ دل بدل کا دوسرا سیزن پھر شروع ہونے والا ہے ۔ حالاںکہ ایسی پیش گوئی صرف سنجے راو¿ت کی ہی نہیں کئی اور لیڈر بھی ایسا کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ سرکار کے کمزور ہونے دعوے کیوں کئے جارہے ہیں؟ اس کے پیچھے دو وجہ بتائی جا رہی ہیں۔ پہلی وجہ موجودہ سرکار کے سامنے موجود قانونی اڑچنیں ہیں اور دوسری وجہ پارٹی لائن سیاست ہے۔ سنجے راو¿ت کے سرکار گرجانے والے بیان کے بعد ان کی ادارت میں چھپ رہے شیو سینا کے ماو¿تھ پیس اخبار سامنا میں منگلوار کو 25اپریل کو ایک اداریہ چھپا جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ دیںگے۔ اس اداریہ میں نائب وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس پر طنز کسا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کی امید پالے فڑنویس کے ساتھ پچھلی بار جو ہوا لگتا ہے اس سے ابھی تک وہ سنبھل نہیں پائے ہیں اور اب وکھے پاٹل یا اجیت پوار کے نام کا تذکرہ جاری ہے ۔ اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ شندے گروپ وزیر اعلیٰ کی کرسی بچانے کیلئے بیتاب ہے وزیر اعلیٰ بدلنے جانے کی امکان کے بارے میں این سی پی کے سینئر لیڈ ر چھگن بجھبل سے جب پوچھا گیا تو انہوںنے بھی اس امکان سے انکار نہیں کیا ۔ان کا کہنا تھا بد قسمتی سے سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر شندے کے خلاف گیا تو وزیر اعلیٰ بدلے جا سکتے ہیں لیکن سرکار نہیں کرے گی۔ بجھبل کا کہنا تھا کہ ہمنے اخبار میں پڑھا ہے کہ 16ممبران اسمبلی کی قسمت کا معاملہ سپریم کورٹ میں التویٰ ہے اس میں 16ممبران کے خلاف فیصلہ ہوگا تویہ ہار جائیںگے اور ڈس کوالیفائی ہو جائیںگے یعنی ان کی ممبری چلی جائے گی۔ ان ممبران اسمبلی میں ایکناتھ شندے بھی شامل ہیں اگر وہ ڈس کوالیفائی ہوںگے تووہ وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑ دیںگے اور اگران کی جگہ نیا وزیر اعلیٰ بنادیا جاتا ہے تو موجودہ حکومت کے پاس 165ممبران کی حمایت بر قرار رہے گی۔ 16کے ڈس کوالیفائی ہونے کے بعد بھی 149ممبر اسمبلی رہ جائیںگے اس لئے وزیر اعلی تو بدلا جائے گالیکن حکومت برقرار رہے گی۔
(انل نریندر)
اروند کیجریوال کا شیش محل !
وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سی ایم ہاو¿س کے تجدید اور تزئین کاری پر کروڑوں روپے خرچ معاملے نے طول پکڑ لیا ہے ۔ اس مسئلے پر جہاں راج نیواس و دہلی سرکار کے درمیان ٹھن گئی ہے وہیں بھاجپا نے اس اشو کو کیجریوال کو گھیرنے کا من بنا لیا ہے ۔اور بھاجپا کے ذریعے ڈاکٹر ہرش وردھن کی قیادت میں وزیر اعلیٰ کے رہائش گاہ کے قریب بے میعادی بھوک ہڑتال و دھرنا دینے کا فیصلہ کیا لیکن پہلے ہی دن بارش نے کھیل بگاڑ دیا اور وہ دھرنا شروع نہ ہو پایا اور ٹینٹ گڑے کے گڑے رہ گئے۔ بھاجپا کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی اپنے شیش محل جیسے بنگلے کو میڈیا کے ذریعے سے دہلی کے سبھی شہریوں کو دیکھنے کا موقع دیں ۔ بھا جپا پردیش صدر ویرندر سچدیوا نے کہاکہ دہلی سرکار ایک مبینہ کرپٹ سرکار ہے ۔جو صرف اپنے لیڈروں کے مفادات کی تکمیل اور ووٹ بینک بنانے کیلئے کام کرتی ہے۔اس حکومت نے تعلیمی انقلاب کی بات کی تھیتو وہاں اسکول روم گھوٹالہ کیا اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بات کریں تو میٹرو کے چوتھے فیز کو لٹکا دیا اور بس خریدنے میں گھوٹالہ کیا ، ہیلتھ سیکٹر میں کورونا دور تک گھوٹالے کئے اور دہلی کو محلہ کلینک جیسا چھلاوا دیا ۔ اسی طرح مفت بجلی پانی کے نام پر بجلی چھوٹ گھوٹالہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے کہ اتنے گھوٹالے کرکے بھی وزیر اعلیٰ کا من نہیں بھرا اور انہوںنے اپنے راج محل کی مانند بنگلے کو لیکر بھی ایسے ٹائم میں گھوٹالہ کیاجب دہلی میں کورونا اپنے سنگین شکل میں تھا۔ روزانہ سیکڑوں لوگوں کی جانیں جا رہی تھی۔ ویرندر سچدیوا کا کہناتھا کہ وزیر اعلیٰ اپنے شیش محل کے مانند بنگلے کو میڈیا کے ذریعے سے دہلی کے سبھی شہریوں کو دیکھنے کا مو قع دیں۔ ادھر وزیر اعلیٰ کے رہائش گاہ کے بیوٹی فیکیشن پر کروڑوں خرچ کے معاملے میں راج نیواس اور دہلی سرکار آمنے سامنے ہیں ۔ دہلی کے ایل جی وی کے سکسینہ نے اس معاملے میں نوٹس لیکر حکام کو رہائش گاہ کو خوبصورت بنانے پر ہوئے خرچ کی مکمل ریکارڈ کو محفوظ رکھنے اور 15دن میں رپورٹ دینے کو کہا اس پر دہلی سرکار کی وزیر پی ڈبلیوڈی آتشی نے کہا کہ ایل جی کو بنگلہ خرچ سے متعلق دستاویز جمع کرانے کے حکم کو غیر آئینی قراردیا اور انہوںنے ایل جی وی کے سکسینہ نے دہلی سرکار کو کھلا چیلنج کیا ہے ۔ کہا کہ راج نیواس کے بیوٹی فیکیشن پر محض 15کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ایل جی کا کہنا تھا کہ راج نیواس سب کیلئے کھلا ہے کوئی بھی آکر دیکھ سکتا ہے ۔ ادھر بھاجپا مسلسل مانگ کر رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے رہائش گاہ کو دیکھنے کی اجازت کم سے کم میڈیا کو ملنی چاہئے تاکہ اس کے ذریعے عام جنتا دیکھ سکے کہ 45کروڑ روپے کے خرچ سے گھر کو کیسے شیش محل بنایا گیا ہے۔ بنگلے کی مرمت کو لیکر کچھ نئے دستاویزات سامنے آئے ہیں اور بھاجپا نے دعویٰ کیا کہ اس کی تزئین کاری میں سرکاری رہائش گاہ کے آپ پاس اور مکان بھی آ سکتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت موجودہ سی ایم ہاو¿س کا رقبہ 4.27ایکڑ سے بڑھا کر 7.45ایکڑ کئے جانے کی تیاری ہے ۔اس بارے میں بھاجپا کے ترجمان ہریش کھرانا نے یہ دعویٰ کیا ہے۔
(انل نریندر)
02 مئی 2023
کرناٹک کی کرسی پر کون بیٹھے گا؟
کرناٹک میں چناو¿ کمپین میں مشکل سے دس گیارہ دن بچے ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں گھمسان اپنے شباب پر ہے ۔ بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔پی ایم مودی ،راجناتھ سنگھ ،امت شاہ ،جے پی نڈا اور کئی دیگر مرکزی وزیر اور پارٹی کے نیتاو¿ں نے چناو¿ کمپین میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ وہیں کانگریس کی طرف سے پرینکاگاندھی واڈرا،ملکارجن کھڑگے ، جے بی ایف کی طرف سے ایچ ڈی دیو گوڑا کمپین کو رفتار دے رہے ہیں۔ زہریلے سانپ اور وش کنیا جیسے الفاظ بھی دیگر اشوز کو ہوا دے رہے ہیں۔ اے بی پی سی ووٹر کے تازہ سروے کے مطابق کرناٹک میں کانگریس نمبر ون ہونے جارہی ہے ۔اور اس کے سروے کے مطابق کانگریس کو 40فیصد ووٹ کے ساتھ اسے 107-119کے درمیان سیٹیں مل سکتیں ہیں۔ جبکہ بی جے پی کا ووٹ شیئر 35فیصد ہے اس کے حصے میں 74سے 86سییٹیں آ سکتی ہےں ۔ جبکہ جے ڈی ایس تیسرنمبر پر 17فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 23سے 25سیٹیں لے سکتی ہے۔ بھاجپا اور کانگریس کے سامنے جو چنوتیاں ہیں وہ ایک دم الگ ہیںدونوں پارٹیوں میں سے کسی کی بھی کوئی غلطی ان کے لئے سانپ اور سیڑھی کا کھیل بن سکتی ہے ۔ چناو¿ کے تیسرے دعویداد جنتا دل سیکولر بھاجپا اور کانگریس میں سے کسی کے لڑکھڑانے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ وہ کنگ نہ سہی کنگ میکر تو بن سکے ۔ جے ڈی ایس کی خواہش کی تکمیل اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ ریاست کی سیاست کے بڑے دعویداروں یعنی کانگریس اور بی جے پی اپنی چنوتیوں کا سامنا کیسے کرتی ہیں۔ اگربھاجپا یا اس کے ممبر اسمبلی اقتدار مخالف لہر و کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تو کانگریس ایسی زمین پر چل رہی ہے جو پوری طرح محفوظ نہیں ہے ۔ کچھ ہفتے پہلے ریاست کے سامنے جتنے متنازعہ معاملے تھے اب اتنے اشو نہیں بچے ہیں۔ مثال کے طور پر ترمیم شدہ ریزرویشن پالیسی کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے اس پر ناراضگی جتائی ہے ۔ حالاںکہ مرکزی وزیر امت شاہ نے کئی جگہوں پر مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کو ختم کرنے کو صحیح ٹھہرایا اور تنازعہ میںپھنسانے کیلئے کانگریس کے سامنے گیند ڈال دی ہے ۔ امت شاہ نے ایک ریلی میں یہ بھی کہا کہ اگر کرناٹک میں کانگریس کی سرکار بن جاتی ہے توریاست میں فرقہ وارانہ جھگڑے ہوں گے ۔ حالاںکہ سیاست تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ کرناٹک میں فرقہ وارانہ اشو اس وقت انتہا پر ہے ۔ امت شاہ کے علاوہ باقی لیڈروں کے بیانوںمیں اچانک تبدیلی ہونا کافی اہم ہے ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ریاست میں تینوں بڑی پارٹیاں بڑی احتیاط کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ 10مئی کو ہونے والا چناو¿ طے کرے گا کہ اگلے پانچ سال تک کرناٹک میں کون راج کرے گا۔
(انل نریندر)
آنند موہن کی رہائی پر واویلا!
سابق ایم پی و بہار کے دبنگ لیڈر آنند موہن کی 15سال بعد رہائی پر نہ صر ف بہار بلکہ پورے دیش بھر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔ گوپال گنج کے ڈی ایم جی کرشنا قتل کانڈ میں ملی سزا (14سال) سے ڈیڑھ سال سے زیادہ پچھلی اتوار کو سہرسہ جیل سے باہر نکلے سابق ایم پی آنند موہن نے اس بات سے سرے سے انکار کردیا کے حکمراں جماعت نے چناوی فائدے کیلئے قانون بدل کران کو جیل سے چھڑایا؟ یہ بالکل غلط بات ہے ۔ میری رہائی کی مخالفت کرنے والے دو اصل آئین اور کورٹ کو نظر انداز کررہے ہیں اور اس کی توہین کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ بھاجپا و جی کرشنیا کا پریوار آنند موہن کی رہائی کی یہی وجہ بتا رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی بنیادی روح ،یکسانیت کے حق پر مبنی ہے یہ خاص اور عام میں کوئی فرق نہیں کرتی ۔ ہر عادمی کو چاہے وہ ہارے کی جان کی قیمت کو ایک مانتی ہے ۔ سب کے لئے ایک ہی طرح کا انصاف اور قانون کی بات کرتی ہے۔ لیکن رسمی طور سے ایسا نہیں کہ کسی ریاست میں کوئی 9سال کی سزا کے بعد چھٹا ہے توکہیں 11یا 16سال میں رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک اتفاق نہیں ہے ۔سپریم کورٹ مسلسل ریاستوں کو اس میں یکسانیت لانے کی بات کہتی رہی ہے۔ دراصل گوپال گنج کے ضلع مجسٹریٹ ڈی کرشنیا کے قتل میں پہلے پھانسی پھر عمر قید کی سزا کاٹ رہے آنند موہن کو بہار سرکار نے جیل مینو میں تبدیلی کر رہا کیا ہے۔ سرکار نے سرکاری ملازم کی قتل والی دفعہ کو ہٹا دیا ہے جس میں آنند موہن کی رہا ئی ممکن ہو سکی ہے۔ سرکار لاکھ دلیلیں دے کسی بھی شخص کی رہائی جیل میں اس کے چال چلن اور اس کی ڈسپلن کی بنیاد پر طے ہوتی ہے ۔مگر آنند موہن کی ساکھ ریاست میں کیسی رہی ہے یہ حقیقت دنیا جانتی ہے ۔ یہی وجہ کہ ریاست میں اس مسئلے پر سیاست جم کر ہو رہی ہے۔ نکتہ چینی کرنے والوں کی دلیل ہے کہ بدمعاش سے سیاستداں بنے آنند موہن کی رہائی راجپوت برادری کو خوش کرنے کی کوشش ہے جو برسوں سے ان کی رہائی کی مانگ کررہی تھی ۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے دلت مفادات کی نمائندگی کرنے والوں نے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انصاف کرکمزور کرتی ہے ۔ اور ذات پات پر مبنی تشدد کے جرائم پیشہ کو ایک خطرناک پیغام بھی جاتا ہے ۔ آنند موہن کی رہائی نے بہار میں بھی مینڈیٹ کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ یہ سماج کے کچھ طبقے اسے صلح اور معافی کی نظر میں ایک قدم مانتے ہوئے ان کی رہائی کی حمایت کررہے ہیں وہیں سچائی اور انصاف کے ساتھ دھوکہ اور دلت برادری کے حقوق کی خلاف ورزی کی شکل میں دیکھتے ہیں ۔یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی پولرائز ہو گیا ہے جس میں سبھی کی سیاست تیور سامنے دکھائی دینے لگے ہیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...