Translater
11 اکتوبر 2024
سیٹیں تو بڑھیں لیکن کشمیریوں کا دل نہیں جیت پائی !
جموں کشمیر میں بھاجپا اقتدار تک نہیں پہونچ پائی لیکن 25.67 فیصدی ووٹ کے ساتھ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔2014 میں 22.98 فیصد ووٹ ملے تھے ۔پارٹی کو ریاست میں اب تک کی سب سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں 2014 میں بھاجپا کو پہلی بار 25 سیٹیں ملی تھیں اس بار 29 سیٹوں پر پہونچ گئی ۔بھاجپا کو 1987 کے بعد ساڑے تین دہائی میں سب سے بڑی کامیابی ملی ہے ۔حالانکہ کشمیر سے مانگ میں 18 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے لیکن ایک بھی نہیں جیت سکا ۔چناو¿ میں لوگوں کو راہل عبداللہ کا ساتھ راس آیا اور 1987 کے بعد پانچویں بار اتحادی سرکار کا راستہ صاف ہوا ہے ۔نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد پر کانگریس اقتدار تک پہونچنے میں کامیاب رہی لیکن سیٹوں کے ساتھ ووٹ شیئر میں بھی گھٹ گیا ۔2014 میں کانگریس نے اسمبلی چناو¿ میں 18.01 فیصدی ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ 12 سیٹوں پر کامیابی درج کی تھی جبکہ اس چناو¿ میں اسے کل 6 سیٹیں ملیں اور ووٹ فیصد بھی گر کر 11.97 رہ گیا ۔د س سال بعد ہوئے اسمبلی چناو¿ میں پی ڈی پی کو بھاری جھٹکا لگا ہے ۔2014 میں بھاجپا کے ساتھ سرکار بنانے کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑی ہے ۔خود چناو¿ سے دور رہ کر محبوبہ مفتی نے اپنی بیٹی التجا پر داو¿ لگایا تھا لیکن یہ داو¿ الٹا پڑ گیا اور انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔پی ڈی پی کا ووٹ فیصد بھی گر کر 8.87 رہ گیا ۔جو 2014 کے چناو¿ میں 22.67 فیصد تھا ۔2014 میں پی ڈی پی کو 28 سیٹیں ملی تھیں ۔التجا مفتی کا کہنا ہے کہ بھاجپا کے ساتھ اتھاد کی وجہ سے پارٹی کی ہار نہیں ہوئی اور کئی وجہ ہو سکتی ہیں ۔وادی میں پی ڈی پی کو ایک موقع دیا تھا ۔آرٹیکل 370 و 35 اے کی بیڑیوں سے آزادی دلانے کے بعد مرکزی حکمراں ریاست میں پہلی بار سرکار بنانے کا بھاجپا کے سپنوں کو نہ صرف جھٹکا لگاہے بلکہ اپنے بل پر پہلی بار صوبہ میں سرکار بنانے کا دعویٰ بھی کھوکھلا نکلا ۔بھاجپا نے شوشل انجینئرنگ کے تحت پہلی بار جموں کشمیر میں درج فہرست قبائل کو سیاسی ریزرویشن دیتے ہوئے اسمبلی کی 9 سیٹیں مختص کی تھی لیکن اسے یہاں بھی قابل قدر کامیابی نہیں ملی ۔بھاجپا کو تمام جتن کے باوجود بھی پیر پنجال میں زبردست جھٹکا لگا ہے ۔راجور ی پونچھ کی آٹھ سیٹوں میں ایس ٹی کے لئے مختص پانچ سیٹوں پر وہ کرشمہ نہیں دکھا سکی ۔ان دونوں ضلعون کی سات سیٹیں بھاجپا ہا ر گئی ۔صرف 4-5 سیٹون کی امید تھی ۔بھاجپا کو یہاں صرف بالا کوٹ ،سندر ون سیٹ پر ہی کامیابی ملی ۔پارٹی کے پرردیش صدر روندر رینا بھی ہار گئے ۔خاص بات یہ رہی کہ پہاڑی فرقہ کو پہلی بار بھاجپا نے ایس ٹی کا درجہ دیا تھا اور ا س سے امید تھی کہ پہاڑی فرقہ بھاجپا کا ساتھ دے گا وزیرداخلہ امت شاہ ،وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی ریلیاں بھی کام نہ آئیں ۔چناو¿ ریلی وادی میں پچھلی پرفارمنس دہرانے میں کامیاب رہی ۔
(انل نریندر)
فصل بوئی کانگریس نے کاٹی بھاجپا نے !
ہریانہ ریاست کے چناوی تاریخ میں ا یسا پہلی بار ہواہے کہ کسی پارٹی نے مسلسل تیسری مرتبہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہو ۔چناو¿ میں کانگریس پارٹی اپنی جیت کے زوروشور سے دعوے کررہی تھی ۔تمام ایگزٹ پولس سرووں میں ، تجزیہ نگار کانگریس کی زبردست جیت کی قیاس آرائیاں کررہے تھے ۔جان کر بھی پچھلے دس سال میں بی جے پی کی سرکار کو لے کر اقتدار مخالف لہر کا دعویٰ کررہے تھے ۔ایگزٹ پول میں کانگریس کو نا صرف کامیاب دکھایا گیا بلکہ 90 میں سے 60 سیٹیں ملنے تک کا دعویٰ کررہے تھے ۔کہا گیا تھا کہ ہریانہ میں کسانوں کا مدعا ہو یا پہلوانوں کا ہو ۔اگنی ویر جیسا اشو ہو ان کی وجہ سے بی جے پی سرکار کے تئیں ناراضگی ہے ۔ہریانہ میں دس سال بعد اپنی سرکار بنانے کا سپنا پالتی رہی کے ہاتھوں سے کراری شکست ہاتھ لگی ۔وجہ کئی رہی ہیں ان نتیجوں کے پیچھے سب سے بڑی وجہ رہی ہے کہ بی جے پی کا مائیکرو منجمنٹ جسے آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ہریانہ میں بی جے پی کو غیر جاٹ ووٹوں کو چالاکی سے شیشے میںاتارا اس کا اثر ہوا ۔ہڈا کے گڑھ سونی پت میں 5 میں سے 4 سیٹوں پر کانگریس ہار گئی ۔ہریانہ کے ایک سینئر صحافی کے مطابق ہریانہ میں قریب 22 فیصدی ووٹ ہیںجو کافی طاقت رکھتے ہیں ۔اور کھل کر اپنی بات رکھتے ہیں ۔غیر جاٹوں کو لگا کہ کانگریس کے جیتنے پر بھوپندر سنگھ ہڈا ہی ہریانہ کے وزیراعلیٰ ہوں گے اس لئے انہوں نے خاموشی سے بی جے پی کے حق میں ووٹ دے دیا ۔اس مرتبہ کے اسمبلی چناو¿ میں ووٹوں کا بٹوارہ جاٹ اور غیر جاٹ کی بنیاد پر ہو گیا ،جس کا سیدھا نقصان کانگریس کو پہنچا ۔ہریانہ میں کانگریس کی ہار کے پیچھے ایک بڑی وجہ تھی پارٹی کے اندر گروپ بندی ۔واقف کار مانتے ہیں کہ ریاست میں کانگریس امیدواروں کو اس طرح سے بھی دیکھا جارہا تھا کہ کون ہڈا خیمے میں اور کون شیلجا خیمے میں ہے ۔یہ ہی نہیں کانگریس کے کئی امیدواروں کو اعلیٰ کمان یعنی کانگریس کی لیڈرشپ کے کہنے سے میدان میں اتارا گیا جن کا ہریانہ میں کوئی مینڈیٹ نہیں تھا ۔ان میں سے خاص طور سے نام لیا جارہا ہے کانگریس تنظیم منتری کیسی وینیو گوپال کا وینو گوپال سے سنا ہے پانچ نام دئیے تھے سبھی پانچ ہار گئے ۔ہڈا اور شیلجا کی آپسی کھینچ تان سے بھی پارٹی کو نقصان ہوا ہے ۔شیلجا کا گھر بیٹھنا اور یہ کہنا پارٹی میں ان کی بے عزتی ہوئی ہے نے دلت ووٹوں کو کھسکا دیا اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہو گیا ۔ہریانہ میں گروپ بندی اور غلط طریقہ سے ٹکٹ بٹنے کی وجہ سے کانگریس تقریبا 13 سیٹیں گنوا بیٹھی ۔اس میں اعلیٰ کمان ،ہڈ اور شیلجا تینوں کے چنے ہوئے امیدوار تھے ۔کانگریس کے کئی لیڈروں کا دھیان چناو¿ سے زیادہ چناو¿ جیتنے کے پہلے ہی وزیراعلیٰ کی کرسی پر تھا ۔عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ان چناو¿ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ خود اعتمادی کا دعویٰ کبھی نہیں کرنا چاہیے ۔دوسری طرف بی جے پی کے 25 سیٹوں پر اپنے امیدوار بدل دئیے گئے تھے ان میں 16 امیدواروں نے جیت حاصل کر لی کانگریس نے اپنے کسی ممبر اسمبلی کا ٹکٹ نہٰں کاٹا اور اس کے آدھے امیدواروں کی ہار ہو گئی ۔امیدواروں کو نہیں بدلنا بھی کانگریس کے لئے بڑا نقصان ثابت ہوا ۔ہریانہ اسمبلی چناو¿ کے نتیجوں سے یہ بات سامنے آئے ہے کہ دس سے زیادہ سیٹوں پر چھوٹے اور آزاد امیدوار کانگریس کی ہار کیلئے بڑی وجہ رہے ہیں ۔بھاجپا نے ان سبھی سیٹوں پر کانگریس مخالف امیدواروں کی مدد کی خاص کر ان جگہوں پر جہاں اس کی جیت کے امکان کم تھے ۔کانگریس کی جیت بھی صاف نہیں نظر آرہی تھی ۔کانگریس تنظیم نے ایک بار پھر کمی دکھائی دی ہے ۔وہ امڑتی بھیڑ کو ووٹوں میں نہیں بدل سکی اور زیادہ جوش میں جیتی بازی ہار گئی ۔اس لئے کہتا ہوں کہ فصل بوئی کانگریس نے اور کاٹی بھاجپا نے ،۔
(انل نریندر)
10 اکتوبر 2024
صرف کسی سرکار کی تنقید پر کیس نہیں ہوسکتا !
سپریم کورٹ کا یہ ریمارکس صحافت کررہے لوگون کے لئے سکون دہ ہوسکتے ہیں کہ سرکار کی تنقید کرنا صحافیوں کا حق ہے ۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ صحافیوں کے حقوق کو دیش کے آئیں 19(1) کے تحت تشریح کی گئی ہے ۔ایک صحافی کی تحریر کو سرکار کی تنقید کی شکل میں مان کر اس کے خلاف مجرمانہ کیس درج نہیں کئے جانے چاہیے ۔یہ ریمارکس دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے اتر پردیش کے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے انترم راحت دی ہے ۔ساتھ ہی ہدایت دی ہے کہ ریاستی انتظامیہ ان کے تحریروں کے سلسلے میں کوئی سزا لائق کاروائی نہیں کرے گا ۔جسٹس رائے اور جسٹس این بی این بھٹی کی بنچ نے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم صادر کیا ۔عرضی میں اپادھیائے نے اترپردیش پولیس کے ذریعے ان کے خلاف ایف آئی آر کو مسنوخ کرنے کی درخواست کی ہے ۔بنچ نے عرضی پر اترپردیش سرکار کو نوٹس جار ی کیا ۔اس معاملے کی اگلی سماعت 5 نومبر کو ہونی ہے ۔اپنے مختصر حکم نے بنچ نے صحافت کی آزادی کی سمت میں کچھ دلائل آمیز تبصرے کئے بنچ نے کہا جمہوری ملکوں میں اپنے نظریات رکھنے کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے ۔صحافیوں کے حقوق کو بھارت کے آئیں کی آرٹیکل 19(1 ) کے تحت تشریح کی جاتی ہے ۔صرف اس لئے کہ ایک صحافی کی تحریر سے سرکار کی نکتہ چینی کی شکل میں محض ایک بے دلیل ہے ۔مصنف کے خلاف مجرمانہ معاملہ نہیں لگایا جانا چاہیے ۔دراصل سرکاروں کو اپنی تنقید پسند نہیں ہے ۔اگر پچھلے کچھ برسوں میں سرکاریں اسے لے کر کئی طرح سے سخت نظر آنے لگی ہیں ۔سرکار کے خلاف اخباروں میں خبریں ،آرٹیکل یا کوئی آئیڈیا لوجی تبصرہ کرنے پر کوئی صحافیوں کو ٹارچر کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں ۔یہاں تک کہ کچھ صحافیوں پر غیر قانونی سرگرمی اژالہ ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کئے گئے ۔جس میں ضمانت ملنا مشکل ہوتی ہے ۔اس دفعہ کے تحت کئی صحافی اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔کچھ معاملوں میں پہلے ہی سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ سرکار کی تنقید ملک کی بغاوت نہیں مانا جاسکتا ۔مگر کسی سرکار نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا ۔کسی دیش کی صحافت کتنی آزاد ہے اور کتنے ہمت کے ساتھ اپنے اقتدار اعلیٰ کی تنقید کر پارہی ہے اس سے اس دیش کی خوشحالی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔یہ بے وجہ نہیں ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں عالمی خوشحالی انڈیکس میںبھارت مسلسل نیچے کھسکتا گیا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ سرکار عزت مآب سپریم کورٹ کی نصیحت کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے اور آزاد صحافت کرنے کی اجازت دیتی ہے ؟
(انل نریندر)
آپریشن الاقصیٰ فلڈ کا ایک سال !
یہ نام تھا حماس کے اس آپریشن کا جو اس نے پچھلے سال یعنی 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا ۔پچھلے سال ہوئے حملے کو ایک سال پورا ہو چکا ہے جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے 1200 لوگوں کو مار ڈالا تھا 251 لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا ۔اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ میں بڑے پیمانے پر ہوائی اور زمینی حملے کرکے غزہ کو تقریبًا مٹی میں ملا دیا ۔حماس کی جانب سے چلائے جارہے ہیلتھ وزارت کے مطابق اس میں 41 ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ۔اسرائیل حماس جنگ کی وجہ سے فلسطین کا غزہ شہر آج ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل ہے ۔پچھلے ایک سال میں اس شہر سے 4.2 کروڑ ٹن سے بھی زیادہ ملبہ اکٹھا ہوگیا ہے ۔اس میں ٹوٹی اور مسمار دونوں عمارتیں شامل ہیں ۔تشویش کی بات یہ ہے ملبہ ہر دن بڑھتا جارہا ہے ۔اقوام متحدہ کے ڈیٹا کے مطابق غزہ کی جنگ ماضی میں دو تہائی سے یعنی ایک لاکھ 63 ہزار سے زیادہ عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں یا ڈھہہ گئی ہیں ۔اس میں سے قریب ایک تہائی اونچی عمارتیں تھیں ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے غزہ کے 8 شرنارتھی کیمپوں کے جائزہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قریب 23 لاکھ ٹن ملبہ آلودہ ہو سکتاہے ۔اس میں سے کچھ نقصان دہ بھی ہے ۔دھول ایک سنگین پریشانی کا سبب ہے یہاں پانی اور مٹی کو آلودہ کرسکتاہے ۔پھیپھڑوں کی بیماری کا سبب بن سکتی ہے ۔ملبہ میں ایسی لاشیں جو ابھی تک برآمد نہیں ہو پائی ہیں ۔وہ گل سڑ رہی ہوں گی ۔فلسطین ہیلتھ منترالیہ کے مطابق ان لاشوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار ہوگی ۔کچھ بم بھی ہیں جو پھٹے نہیں ۔یعنی 7 اکتوبر کے ہی دن پچھلے سال حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد اسرائیل نے حماس پر حملے شروع کر دئیے جو اب بھی اسرائیل کے لئے سات محاذی جنگ میں تبدیل ہو گئے ہیں ۔ایک سال سے مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔اور پچھلے حملے اسرائیل پر ایران کی طرف سے ہوئے میزائل حملے کے بعد تو راکٹ اور میزائلوں کے حملوں سے حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں ۔اسرائیل نے ابھی تک ایران میں جوابی کئی کاروائی نہیں کی ہے لیکن خطرہ مسلسل بنا ہواہے ۔سوال یہ ہے کہ اگر اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران بھی جوابی کاروائی کرے گا ۔حماس اور حزب اللہ حملے تیز کر سکتا ہے ۔کیا اسرائیل تینوں یعنی حماس ،حزب اللہ اور حوثی مل کر ایک ساتھ حملے کا پلان کررہے ہیں ؟ جس طرح اسرائیل چھ محاذ پر ایک ساتھ لڑرہا ہے اس سے کسی بھی طرف سے حملے کا انکارنہیں کیا جاسکاتا ۔اس کے لئے اسرائیل نے امریکہ اور ناٹو ملکوں کی مدد سے پختہ یاری کررکھی ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ بڑھتی ہے یا محدود رہتی ہے ۔سارا کھیل پچھلے سال سات اکتوبر کر آپریشنل اقصیٰ فلڈ سے شروع ہوا ہے ۔
(انل نریندر)
08 اکتوبر 2024
معاملہ جگی واسودیو یعنی ستگورو کا !
سپریم کورٹ نے جمعرات کو تملناڈو کے کوئمباٹور میں سرکاری گرو جگی واسودیو کی عشا فاو¿نڈیشن آسرم میں دو عورتوں کو مبینہ طور پر ناجائز طریقہ سے یرغمال بنا کر رکھنے کے معاملے میں پولیس جانچ پر مو¿ثر طریقہ سے روک لگا دی ہے ۔سپریم کورٹ نے اس شخص کے ذریعے مدراس ہائی کورٹ میں دائر قیدی انتظار عرضی کو سپریم کورٹ میں مننتقل کر دیا تھا جس میں الزام لگایا تھا کہ اس کی دو بیٹیوں کی عشا فاو¿نڈیشن کے کمپلیکس میں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے ۔مدراس ہائی کورٹ نے ایک ریٹائر پروفیسر کام راج کی عرضی کے بعد یہ حکم دیا تھا ۔جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی دو بیٹیاں یوگ کیندر میں ہیں انہیں باہر لایا جائے ۔پروفیسر کا الزام ہے کہ ان کی بیٹیوں کا برین واش کیا جارہا ہے اور انہیں سینٹر میں قید کرکے رکھا گیا ہے ۔لیکن پروفیسر کی بیٹیوں نے مدراس ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ عشا سنٹرمیں اپنی مرضی سے رہ رہی ہیں ۔عشا یوگ سنٹر نے بھی کہا ہے کہ اپنی مرضی سے شادی کرنے یا سنیاس لینے کے لئے مجبور نہیں کیا جاتا ہے ۔اس معاملے میں مدراس ہائی کورٹ پولیس کو جانچ کرنے کے احکامات دئیے تھے ۔4 اکتوبر کو رپورٹ داخل کرنے کو کہا تھا اس کے بعد پولیس نے عشا یوگ کیندر پر چھاپہ مارا اور یہ کاروائی بدھوار کی شام تک چلی ۔سپریم کورٹ نے کہا پولیس کو اس طرح سے ادارے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔کوئمبٹور ضلع پولیس ایس پی کارتیکین کی رہنمائی میں سماج کلیان محکمہ ،بال کلیان حکام کی مشترکہ ٹیم نے عشا یوگ سنٹر کی تلاشی لی تھی ۔جانچ رپورٹ کو اب سپریم کورٹ میں 18 اکتوبر کو داخل کرنی ہوگی ۔عشا یوگ سنٹر 1992 میں جگی واشودیو نے تملناڈو کے کوئمبٹور ضلع کے بیلگری میں کیا تھا اس سنٹرم یں ہزاروں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ اور کچھ سادھوی کی راہ پر چلنے والے لوگ رہتے ہیں ۔بیٹیوں کے والد کامراج تملناڈو یونیورسٹی کے ایگریکلچر انجینئرنگ شعبہ کے سابق چیف ہیں ۔ان کی 42 سال اور 39 سال کی دو بیٹیاں ہیں ۔بڑی بیٹی انگلینڈ کی ایک بڑی مقبول یونیورسٹی سے ایم اے کیا ہے ۔اور سال 2008 میں ان کی طلاق ہوگئی اس کے بعد وہ عشا سنٹر سے جڑ گئی ۔چھوٹی بٹی سافٹ ویئر انجینئر ہے اپنی بیٹی کی عرضی میں بیٹیوں کے والد کامراج نے الزام لگایا تھا کہ ان کی بٹیوں کو ان کے دماغ کی صلاحیت کم کرنے کے لئے دوا دی گئی اسی وجہ سے انہوں نے خاندان سے اپنا رشتہ توڑ لیا ۔الزام لگایاکہ بیٹیوں کو برین واش کرکے انہیں زبردستی سنیاسی بنا دیا جاتا ہے اور انہیں اپنے ماتا پیتا سے بھی ملنے نہیں دیا جاتا ۔مدراس ہائی کورٹ میں سماعت کے وقت دونوں بیٹیاں عدالت میں موجود تھیں ۔انہوں نے کہا وہ اپنی مرضی سے رہ رہی ہیں اور کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا ۔ججوں نے سوال کیا کہ ستگورو کے نام سے جانے جانے والے جگی واسودیو یوگ سنٹر میں اپنی بیٹی کی شادی کیوں کرتے ہیں اور دوسری عورتوں کو اپنا سر منڈوانے اور سنیاسی کی شکل میں رہنے کے لئے ترغیب دی جاتی ہے ؟ ججوں نے عدالت میں موجود عورتوں سے پوچھا کہ آپ سادھوی کے مارگ پر چلنے کا دعویٰ کرتی ہیں کیا اپنے ماں باپ کو چھوڑنا پاپ نہیں لگتا ؟ مدراس ہائی کورٹ نے کہا کہ اس کے پیچھے کی سچائی کا پتہ لگانے کے لئے آگے کی جانچ ضروری ہے ۔عشا یوگ سنٹر کے ایک ترجمان نے تحریری بیان میں کہا عشا یوگ سنٹر کسی کو شادی کرنے یا سنیاس لینے کے لئے مجبور یا ترغیب نہیں دیتا ۔عشا یوگ سنٹر کے مطابق 2016 کے فیصلے لینے کے لئے ججوں نے کہا تھا کہ ماتا پتا کادائر معاملہ سچ نہیں ہے اور ہم صاف طور پر کہتے ہیں جن لوگون کو حراست میں لئے جانے کا الزام ہے وہ اپنی مرضی سے سنٹر میں رہ رہی ہیں ۔
(انل نریندر))
ہاتھ میں رائفل مسلم دیشوں سے اپیل!
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پانچ سال بعد جمعہ کی نماز پبلک طور پر سامنے آکر پڑھائی۔خامنہ ای کی عوامی موجودگی اس لئے بھی خاص ہے کیوں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑے کشیدہ ماحول میں ان کے روپوش ہو جانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں ۔ان قیاس آرائیوں کے پیچھے بڑی وجہ کچھ دنوں کے اندر ہی حماس اور حزب اللہ کے بڑے لیڈروں اور کمانڈروں کا قتل بھی بتائی جاتی ہے ۔ایران اس کے لئے اسرائیل کو قصوروار مانتا ہے اور اسی کا بدلہ لینے کے لئے اس نے اسرائیل پر زبردست میزائل حملہ کیا تھا۔ایران انٹرنیشل میڈیا گروپ کے مطابق قریب 5 سال بعد جمعہ کی نماز یں خمینی کی یہ پہلی عوامی موجودگی تھی اس کے مطابق خامنہ ای نے وہیں پرانی اسرائیل اور ا مریکہ کے خلاف نفرت سمیت اور نظریاتی نریٹو کی بات کہی جو انہوں نے 1979 سے جاری رکھی ہے ۔یہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد نئے اقتدار قائم ہوا تھا ۔ایران پر نظر ر کھنے والے مانتے ہیں کہ یہ پروگرام خامنہ ای کے تئیں حمایت ا ور سیکورٹی کا مظاہر ہ کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی ۔اس پروگرام کا مقصد ان افواہوں کو دور کرنا بھی تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 28 ستمبر کو بیروت میں حزب اللہ لیڈر حسن نصر اللہ کی موت کے بعد خامنہ ای ایک خفیہ بنکر میںچھپے ہوئے ہیں ۔اسرائیل کے بڑے اخبار دی ٹائمس آف اسرائیل کھتاہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی تبلیغ کے دوران ہاتھ میں بندوق لے کر دعویٰ کیا کہ کہ اسرائیل حماس اور حزب اللہ کو کبھی ہٹانہیں پائے گا ۔خامنہ ای نے جمعہ کو اپنے مذہبی اجتماع میں ا سی ہفتہ اسرائیل پر برسائے گئے میزائل حملے کی بھی حمایت کی ۔ان میزائل حملوں کی وجہ سے علاقائی جنگ کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر جوابی حملہ کر سکتا ہے ۔نشانہ پر ایران کے تیل ذخائر اور نیوکلیائی ریئکٹر ہیں ۔دی ٹائمس آف اسرائیل کے مطابق خامنہ ای آتنکی سرغنوں کے قتل کے بعد یہ بیان دیا ہے ۔اور کہا ہے کہ ایران کے میزائل حملے یہودی جرائم کی کم از کم سزا ہے ۔اس موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای نے تہران کی بڑی مسجد پر حزب اللہ چیف کی یاد میں نماز پڑھی ۔اس کے بعدا نہوں نے اکٹھے ہزاروں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو اسرائیل کےخلاف متحد ہونا چاہیے ۔خامنہ ای نے اسلامی ملکوں کو ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کو ختم کرکے رہیں گے ۔انہوں نے کہا افغانستان سے یمن اور ایران سے غزہ پٹی تک ساتھی دیش دشمن پر کاروائی کے لئے تیار ہیں ۔قریب 40 منٹ کی طویل تقریر میں خامنہ ای نے اسرائیل پر منگلوار کو داغی گئی قریب 200 میزائلوں کو ایران کی مسلح فورس کی شاندار کامیابی بتایا ۔آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل سے ہورہی جنگ میں مارے جانے والے جنگ بازوں کو بہادر اور اسلام کی راہ میں قربان ہونے والا بتایا ۔انہوں نے کہا کہ لبنان اور فلسطین میں مقیم عام لوگ بہادر ہیں ۔آپ وفادار فوجی ہیں ۔یہ شہادتیں اور جو خون بہایا گیا ہے وہ آپ کے اور ہمارے عزم کو ہلا نہیں سکتا ۔خامنہ ای نے عرب ملکوں سے مخاطب کرتے ہوئے اپنی آدھی تقریر عربی زبا ن میں دی انہوں نے اسلامی ملکوں کے اتحاد کی بھی اپیل کی ۔نیویار ک ٹائمس لکھتا ہے کہ خامنہ ای نے پچھلے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کی تعریف کی ہے ۔انہوں نے فلطینی علاقوں پر اسرائیل کے لمبے عرصے سے چلے آرہے قبضے کی وجہ سے حماس کے حملوں کو صحیح بتایا ہے ۔اور کہا کہ وہ اسرئیل کے سامنے جھکنے والے نہیں ہے اور اس کا مقابلہ کیا جاتا رہے گا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...