Translater

23 جولائی 2016

ترکی میں ناکام بغاوت کی سنگین فال آؤٹ

ترکی میں ہوئے بغاوت کی کوششوں کو ناکام کرنے کے بعد صدر تاپ ایردوگین نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دیا ہے. بغاوت کو کچلنے کے لئے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں. قومی سلامتی مغرب] ارشد کی پانچ گھنٹے چلی میٹنگ کے بعد اپنی کابینہ کے سامنے ایردوگین نے ٹی وی پر تین ماہ کی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کا اعلان جمہوریت کے خلاف ہوئی سازش کی جڑوں کو صاف کرنے کے لئے کی گئی ہے. صدر نے مغربی ممالک کے اس الزام کو غلط بتایا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ بغاوت کو کچلنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سخت قدم اٹھا رہے ہیں. ایردوگین کی طرف سے اٹھائے گئے بعض اقدامات واقعی ہی چونکانے والے ہیں. اکیلے استنبول یونیورسٹی سے 95 اساتذہ کو ہٹا دیا گیا ہے. فوج کے تقریبا سوا سو جرنیلوں کو گرفتار کیا گیا ہے. ترکی حکومت کے مطابق آٹھ ہزار پولیس افسران کو بغاوت کی کوشش میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے شبہ میں معطل کیا گیا ہے. اس کے علاوہ فوج اور انصاف کے نظام سے منسلک قریب 6000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے. ان میں فوج کے جنرل رینک تک کے اہلکار شامل ہیں. ریپ طیب روگین نے بغاوت کرنے والے وا?سرو کو سرکاری تنصیبات سے نکالنے کی قسم کھائی ہے. ترکی کی حکومت کا دعوی ہے کہ بغاوت کے پیچھے مذہبی رہنما فتح اللہ گلین کا ہاتھ ہے. گلین پر دبے لفظوں میں یہ بھی الزام لگ رہا ہے کہ وہ اردیگین کا بغاوت سازش میں سی آئی اے کی مدد سے کام کر رہے ہیں. دو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے ایجنٹوں کو بھی گرفتار کرنے کی افواہ ہے. تاہم گلین نے بغاوت کی کوشش میں اپنی کسی بھی طرح سے شامل ہونے سے انکار کیا ہے. سرکاری میڈیا نے پیر کو کہا ہے کہ ملک بھر میں 100 سے زیادہ جنرل اور ایڈمرل کو حراست میں لیا گیا ہے. اردیگین نے اتوار کو کہا ہے کہ ان کی حکومت سزائے موت کو پھر سے بحال کرنے پر غور بھی کر رہی ہے. 2004 میں یورپی یونین (نیٹو) میں شامل ہونے کے لئے ترکی میں سزائے موت کو ختم کیا گیا تھا. ملک میں 1984 کے بعد سے یہ سزا کسی کو نہیں دی گئی ہے. اردوگین نے امریکہ میں رہنے والے 75 سالہ مذہبی پیشوا فتح اللہ گلین کے امریکہ سے حوالگی کا مطالبہ بھی کی ہے. ترکی کی حکومت نے گلین پر سرکاری نظام کے متوازی نظام کھڑی کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے. ادھر امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ اگر اس کے پاس مذہب پروموشنل گلین کے خلاف کوئی بھی ثبوت ہو تو وہ اس کے ساتھ اس اشتراک کریں. ترکی کے وزیر اعظم بنالی چلڈرچ نے کہا کہ بغاوت کی کوشش تو ترکی کے جمہوری تاریخ میں سیاہ دھبہ قرار دیا. انہوں نے بتایا کہ 161 عام لوگوں کی موت ہو گئی اور 1440 افراد زخمی. سرکاری میڈیا کے مطابق 2745 ججوں کو ہٹایا گیا ہے ان میں سپریم کورٹ کے جج بھی ہیں.
(انل نریندر) 

سڑکوں پر غیر محفوظ اور خطرناک بنتا سفر

بھارت سڑکوں کے نیٹ ورک اور فاصلے کے معاملے میں دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس والے ممالک میں سے ایک ہے. لیکن تفصیل کے بر?س سفر کو محفوظ بنانے کے معاملے میں انت? ہی لاپرواہی دکھائی دیتی ہے. یہی وجہ ہے کہ سڑک حادثوں میں بھارت دنیا بھر میں اول ہے. سوال ہے کہ پھر سڑکوں کے ایسے توسیع کا کیا مطلب، جب اتنی زیادہ حادثات ہوتی ہیں اور لوگ مارے جاتے ہیں. اگر ہم دارالحکومت دہلی کی بات کریں تو ملک میں 50 لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں دارالحکومت دہلی کی سڑکیں سب سے زیادہ جان لیوا ہیں. 2015 میں دہلی میں 8084 سڑک حادثات ہوئیں جن میں 1622 افراد ہلاک ہوئے. یہ اعداد و شمار پورے ملک کے شہروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے. حادثات کی بڑی وجہ کاروباری گاڑیوں کی تیز رفتار ہے. مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد راہگیروں اور وہیلر گاڑی مالکان ہے. ماہر مانتے ہیں کہ سڑک اور فٹ پاتھ کی ساخت کی واپسی کا بڑا سبب ہے. لیکن کہیں نہ کہیں ٹریفک قوانین کی سختی سے عمل نہ ہونا بھی ان بڑھتی ہوئی حادثات کی ایک وجہ ہے. لیکن اب مرکزی سڑک نقل و حمل اور ہائی وے وزیر نتن گڈکری نے سڑک نقل و حمل میں بہتری کے لئے جو ارادہ ظاہر کیا ہے، اگر وہ عملی شکل لے پایا تو یقینی طور پر حادثات میں بہتر ہو سکتا ہے. امریکہ کے دورے پر گئے گڈکری نے نیویارک کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے ساتھ بات چیت کے ب اد کہا کہ بھارت کے بڑے شہروں میں جس طرح سڑکوں پر نقل و حرکت کا معاملہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، اس میں کافی بہتری کی ضرورت ہے اور نیویارک کے سمارٹ ٹریفک نظام کی طرح سڑک انتظام کو سویوستیت اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے. اس سمت میں پہل کا مطلب ہے کہ دہلی، ممبئی، کولکتہ، چنئی، حیدرآباد اور بنگلور جیسے بڑے شہروں میں ہوشیار ٹریفک نظام تیار کی جائے گی، جو سڑک کے انتظام کے بارے میں تفصیلی اور درست معلومات فراہم کرے گی. اس نظام کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے تحت ٹریفک پر نظر رکھنے اور حادثے یا جام کی صورت حال میں افسر سڑکوں پر بہتر انتظام کر سکتے ہیں. دہلی کی سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ راہگیروں کے لئے فٹ پاتھ کی صحیح انتظام ہو. فٹ پاتھ پر گاڑی نہیں چلیں اور پیدل چلنے والوں بار بار سڑک پر نہ آئیں، اس کے لئے فٹ پاتھ پر رکاوٹ لگانا بہتر آپشن ہو سکتا ہے. غیر محفوظ طریقے سے سڑک پار کرتے وقت زیادہ تر تمام وے بند ہو جاتے ہیں. اس لئے مجبوری میں لوگ خطرناک طریقے سے گاڑیوں کے درمیان سے نکلتے ہوئے سڑک پار کرتے ہیں. عموما رات میں ٹریفک کم ہونے سے لوگ تیز رفتار سے گاڑی چلاتے ہیں. ایسی صورت میں سڑک پار کر رہے راہگیروں کی گاڑیوں کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے. راہگیر محفوظ سڑک پار کر سکیں، اس کے لئے سب وے کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے. رات کے وقت اکثر گاڑی کے ڈرائیور ریڈ لائٹ پر عمل نہیں کرتے ہیں، جس سے حادثات ہوتی ہیں. اس لیے ریڈ لائٹ فالو سختی سے کرانا ہوگا. دہلی کی کچھ سڑکوں پر تیز موڑ ہیں. ان جگہوں پر خصوصی احتیاط برتنی چاہئے. نقل والی جگہ پر فلوروسینٹ پینٹ سے اشارے بنانے اور دیگر طرح سے ڈرائیوروں کو پہلے آگاہ کرنے سے حادثات روکی جا سکتی ہیں. حادثات کو روکنے کے] ےئل سڑکوں پر ایسی بندوبست بھی کرنا پڑے گا، جس سے بسوں کو بار بار لین تبدیل کرنے کی ضرورت نہ پڑے. دہلی میں اس طرح کے 128 مقام ہیں. ان میں سے بھی 10 مقام ایسے ہیں، جہاں سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں. بھارت کے شہروں۔بڑے شہروں میں سڑکوں پر سفر جس طرح خطرناک اور تکلیف ہوتا جا رہا ہے اس میں ایک مؤثر ٹریفک نظام کی بہت ضرورت ہے. لیکن شاید ہی کبھی اسے ایک سنگین مسئلہ کے طور پر ترجیح ملی ہو. جب بھی اچانک کوئی مشکل کھڑی ہوتی ہے. کوئی فوری حل نکال کر معاملے کو رفع دفع کر دیا جاتا ہے. گزشتہ چند سالوں سے بڑے شہروں کی سڑکوں پر بے تحاشہ گاڑی بڑھے ہیں. کیا اس بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لئے منظم کرنے کے لئے ٹریفک پولیس فورس کی تعداد بھی اسی سفر میں بڑھائی گئی ہے؟
(انل نریندر)

22 جولائی 2016

راہل گاندھی معافی مانگیں یا مقدمے کا سامنا کریں

چناوی ماحول میں اکثر دیکھا ہے کہ لیڈرصاحبان کبھی کبھی ایسے بیان دے دیتے ہیں جن سے بچنا چاہئے۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی کے قتل کیلئے راہل گاندھی کی جانب سے دیا گیا بیان ہے۔ کانگریس نائب صدر نے گزشتہ برس 6 مارچ کو مہاراشٹر کے شہر ٹھانے میں ایک چناوی ریلی میں کہہ دیا تھا کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے گاندھی جی کا قتل کرایا تھا۔اس بیان پر مہاراشٹر کے بھونڈی کی مجسٹریٹ عدالت میں آر ایس ایس کے لیڈر راجیش کمٹے نے مقدمہ درج کرایا تھا۔ مجرمانہ ہتک عزت کیس کے خارج کرنے کی مانگ کو لیکر راہل گاندھی گزشتہ سال مئی میں سپریم کورٹ پہنچے تھے۔ عدالت نے اس سے پہلے بھی راہل گاندھی کو یہ معاملہ بند کرنے کیلئے معزرت کرنے کی صلاح دی تھی، لیکن انہوں نے یہ صلاح ماننے سے انکارکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقدمہ لڑیں گے۔ اس متنازعہ بیان پر سپریم کورٹ نے منگل کے روز راہل گاندھی سے کہا کہ وہ اپنے بیان کے لئے معافی مانگیں یا مقدمہ جاری رکھنے کے لئے تیار رہیں۔ عدالت عظمیٰ نے راہل گاندھی پر مجموعی طور پر الزام لگانے کیلئے کھنچائی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے راہل سے کہا کہ آپ سنگھ کے خلاف وسیع طور پر ایسا بیان کیسے دے سکتے ہیں؟ کیسے سنگھ سے جڑے لوگوں کو ایک ہی ترازو پر تول کر دکھا سکتے ہیں۔ بنچ نے پوچھا کہ راہل نے غلط تاریخی ثبوت کو اپنے بیان کا حصہ کیوں بنایا؟ عدالت ہذا نے اجتماعی ہتک عزت کے آئینی جواز کو برقرار رکھا۔ یعنی اگر جو بھڑکیلے یا قابل اعتراض بیان دے گا اسے مقدمہ کا سامنا ہی کرنا پڑے گا۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے فیصلے پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہل گاندھی کے معافی مانگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ وہ ایک سنجیدہ لیڈر ہیں اور ان کو تاریخی حقائق کی پوری جانکاری ہے۔ راہل اور کانگریس پارٹی مناسب اسٹیج پر ان سبھی رائے زنیوں کو بچاؤ کرے گی۔ سنگھ کے پرچارک موہن وید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم سے کانگریس کی پول کھل گئی ہے۔ راہل گاندھی سماج سے بچ رہے ہیں اور بار بار وہی جھوٹا الزام سنگھ پر لگا رہے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ ان کا دیش کی عدلیہ نظام میں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ راہل گاندھی کے وکیل کے مطابق راہل کی تقریر میں جو بھی کہا گیا ہے وہ سرکاری ریکارڈ اور پنجاب ۔ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر کہا گیا ہے۔ راہل سیدھے طور پر آر ایس ایس کا ذکر نہیں کررہے تھے۔ اس پر بنچ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد کہا کہ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ناتھو رام گوڈ سے آر ایس ایس کا ورکر تھا۔ بنچ نے کہا گوڈسے نے گاندھی کو مارا اور آر ایس ایس نے گاندھی کو مارا دونوں الگ الگ بات ہیں۔ کئی برس سے کوشش ہورہی ہے کہ تاریخی ہستیوں کی زندگی میں دخل اندازی کا نیا باب شروع کردیا جائے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود راہل گاندھی کا اپنے رخ پر قائم رہنا شاید انہیں لگتا ہے اس سے ان کی ایک بہادر لیڈر کے طور پر ساکھ بنے گی اور کانگریس پارٹی کا اقلیتی ووٹ بینک ان کی طرف لوٹے گا۔ شاید انہیں ایسی صلاح اس مقصد سے دی گئی ہے کہ وہ سنگھ کی سیاسی شکل سے سامنا کرتے ہوئے دکھیں گے لیکن ہمارا خیال ہے کہ سستی سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ عام طور پر اس طرح کی سیاست سیاسی پارٹیوں کی لیڈر شپ کرنے والے نیتا نہیں کرتے۔ آدھے ادھورے حقائق کے ساتھ اکسانے والے بیان دینے والے لیڈر ویسے ہر پارٹی میں ہیں۔ اس نقطہ نظر سے کورٹ کا یہ صا ف صاف الفاظ میں کہنا ہے کہ آپ کسی کی شارے عام طور پر نکتہ چینی نہیں کرسکتے۔ قابل ستائش یہ ہے کہ اس فیصلے پر اگر صحیح ڈھنگ سے غور کیا جائے تو موجودہ سیاست کے معیارمیں جو گراوٹ آئی ہے اس میں کافی حد تک بہتری ہوسکتی ہے مگر نیتا اس فیصلے کو سنجیدگی سے لیں ۔ عام طور پر ہم نے دیکھا ہے کہ بے بنیادی الزام لگانے سے پہلے بھی سیاسی پارٹی کے نیتاپرہیز نہیں کرتے۔ راہل گاندھی کا آر ایس ایس سے نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے بدنام کریں۔ راہل گاندھی کا جو رخ اور رویہ ہے اس سے کانگریس کو کچھ سیاسی فائدہ مل سکتا ہے لیکن اس سے کل ملاکر راہل گاندھی کی اپنی ساکھ پر برا اثر پڑے گا۔ ہمیں تو لگتا ہے آخر کار انہیں سنگھ سے معافی ہی مانگنی پڑے گی۔
(انل نریندر)

10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں پر روک

نیشنل گرین ٹریبونل (ایم جی ٹی ) نے پیر کو دہلی میں ڈیزل سے چلنے والی 10 سال پرانی گاڑیوں پر فوری عمل سے پابندی لگانے کا حکم صادر کردیا ہے۔ جسٹس سوتنترکمارکی سربراہی والی بنچ نے وردمان کوشک بنام حکومت ہند کے ہوائی پالوشن کنٹرول سے متعلق اہم معاملے میں داخل ہوئی کئی دیگر عرضیوں کا نپٹارا کرتے ہوئے یہ حکم دے دیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ نیشنل پرمٹ والے 10 سال سے زیادہ پرانے ٹرکوں کو بھی دہلی میں داخلہ نہیں ملنا چاہئے۔ وہیں دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک عرضی جس میں کل 56 ٹرکوں کے لئے راحت مانگی گئی تھی،بنچ نے کہا 12 کو چھوڑ کر سبھی 10 سال سے زیادہ پرانی گاڑیاں ہیں،ان سبھی کو ہٹانا ہوگا۔ اس کے علاوہ پریشر ہارن کے بے روک ٹوک استعمال کو ایئر پالوشن کی ایک بڑی وجہ مانتے ہوئے این جی ٹی نے قومی راجدھانی میں اس کے استعمال پر روک لگادی ہے۔ این جی ٹی کے چیئرمین جسٹس سوتنترکمار کی رہنمائی والی بنچ نے کہا کہ پریشر ہارنر کا استعمال کرنے والی گاڑیوں اور سائلنسر کے بغیر اسکوٹر وغیرہ کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے روڈ ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ وزارت کو اس معاملے میں نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ پریشر ہارنر یقینی طور پر بند ہونا چاہئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت راجدھانی میں تقریباً 2 لاکھ 82 ہزار گاڑیاں 10 سال پرانی ہیں۔ 32 ہزار کے قریب کمرشل ڈیزل گاڑیاں ہیں۔ ادھر خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے 2000 سی سی سے زیادہ والی گاڑیوں کے رجسٹریشن پر روک لگائی ہوئی ہے۔ این جی ٹی کے حکم کو منسوخ کرنے والی عرضی بھی عدالت خارج کر چکی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دہلی میں ایئر پالوشن روکنے کے لئے پچھلی دو دہائی سے بس اور ٹیکسی جیسی پبلک گاڑیوں میں سی این جی لگانے سے لیکر کئی طرح کے قدم آزمائے جا چکے ہیں۔ بہتری تو ہوئی ہے لیکن اس مقدارمیں نہیں جس کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے ایک طرف پیٹرول سے ڈیزل کی قیمت کم ہے اس لئے بھی لوگ اسے استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ ادھر اس بات کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر سال ہزاروں نئی گاڑیاں سڑکوں پر آرہی ہیں ، پچھلے پانچ برسوں کے دوران دہلی میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اس میں اکیلے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد 30 سے35 فیصدی بڑھی ہے لیکن گاڑیوں سے کہیں زیادہ پالوشن دو پہیہ والی گاڑیاں اور تعمیراتی کام سے اڑنے والی دھول ،کھلے میں جلائے جانے والا صنعتوں سے نکلا کچرا اور کوڑا کباڑ وغیرہ ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے انسانی اور اقتصادی اسباب بھی ہیں۔ ریٹائرڈ افسر ، فوج کے افسر یہاں تک کہ ریٹائرڈ جج نئی گاڑی نہیں خرید سکتا۔ پرانی گاڑیاں چلانا ان کی مجبوری ہے۔ این جی ٹی کے اس فیصلے کو چیلنج ملے گااور زور گاڑیوں کی عمر نہ بڑھے تو بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2016

نوجوت سنگھ سدھو کا بھاجپا کو زبردست جھٹکا

اپنی بے رخی اور منمانی سے بھاجپاکو وقتاً فوقتاً پریشان کرتے رہے سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے اس بار بڑا جھٹکا دیا ہے۔ محض تین مہینے پہلے نامزد ہوکر راجیہ سبھا پہنچے سدھو نے پنجاب چناؤ سے عین پہلے لیڈرشپ کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پیر کو وہ صبح 10.20 پر ہی راجیہ سبھا چیئرمین کے کمرے میں گئے تھے۔ ساڑھے دس بجے سیاسی پارٹیوں کی میٹنگ سے پہلے ہی انہوں نے چیئرمین اور نائب صدر حامد انصاری کو اپنا استعفیٰ دے دیا ، جو منظور بھی ہوگیا۔ اس سے پہلے سدھو کی بیوی پنجاب میں پارلیمانی سکریٹری کا ذمہ سنبھال رہی ڈاکٹر نوجوت کور نے یکم اپریل کو فیس بک پر بھاجپا چھوڑنے کے بارے میں تبصرے سے ماحول کو گرمادیاتھا حالانکہ تب وہ محض اپریل فول ثابت ہوا۔ بحث گرم ہے کہ دونوں میاں بیوی عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ امرتسر سے لوک سبھا کا ٹکٹ کاٹے جانے اور پنجاب میں اکالی دل سے اتحاد جاری رکھنے کے سبب عرصے سے ناراض چل رہے سدھوجوڑے نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی عاپ میں شامل ہونے کے بارے میں بات چیت چل رہی ہے۔ عاپ نے بھی استعفے کو ہمت افزاء قدم بتاتے ہوئے سدھو کو پارٹی میں شامل ہونے کے بارے میں انکار نہیں کیا۔ گزشتہ چار پانچ مہینے سے سدھو میاں بیوی اروند کیجریوال سے کئی دور کی بات چیت کرچکے ہیں۔ اسی سلسلے میں نوجوت کور شروع سے ہی عاپ میں شامل ہونے کی خواہشمند تھیں مگر اس درمیان بھاجپا لیڈرشپ نے سدھو کو منا لیا۔ خود پی ایم مودی نے سدھوسے بات کی اور انہیں راجیہ سبھا کے لئے راضی کرلیا۔ ابھی یہ صاف نہیں ہوا کہ سدھو پنجاب میں عاپ کی طرف سے وزیر اعلی کا چہرہ ہوں گے یا نہیں؟ عاپ کے آئین کے مطابق خاندان کا کوئی ایک ممبر کسی عہدے پر رہ سکتا ہے۔ چناؤ بھی سدھو اور ان کی بیوی فی الحال عاپ سے نہیں لڑ سکتے۔ حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے سدھو اور نوجوت کور کو منانے کے لئے پارٹی کے آئین میں تبدیلی کر سکتے ہیں ۔ ایسا ہوا تو اروند کیجریوال کی بیوی کے لئے بھی عاپ میں کسی رول کا راستہ کھل سکتا ہے۔ نوجوت کی بیوی پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ نوجوت کور سدھو پنجاب میں ایم ایل اے ہیں اور چیف پارلیمنٹری سکریٹری ہیں۔ ڈاکٹر کور نے ڈرگس کے خلاف بیان دے کر پہلے ہی عام آدمی پارٹی میں جانے کا اشارہ دے دیا تھا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے استعفے کے بعد کہا کہ پنجاب کی بھلائی کے لئے وزیر اعظم کی درخواست پر میں نے راجیہ سبھا کی ممبرشپ قبول کی تھی۔ پنجاب کی بھلائی کا ہر دروازہ بند ہونے کے چلتے اس کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ اب یہ محض بوجھ ہے میں اسے اور زیادہ نہیں ڈھونا چاہتا۔ صحیح اور غلط کی لڑائی میںآپ مطلبی بن کر غیر جانبدار نہیں رہ سکتے۔ پنجاب کا مفاد سب سے اوپر ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کا پنجاب چناؤ سے عین پہلے بھاجپا چھوڑنا پارٹی کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو چناؤ نتائج کو ماثر کرسکتا ہے۔ ویسے بھی اس واقعہ سے پنجاب کی ہوا کا پتہ چلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سدھو کو ہوا سونگھنے کی عادت ہے اور آنے والے وقت اور ماحول کو بھانپ لیتے ہیں۔ جب وہ کرکٹر تھے تو اگر میچ میں بارش ہوتی تھی تو کپتان ان کے پاس آکر پوچھتے تھے کہ بارش کب رکے گی ، میچ ہوگا یا نہیں؟ بھاجپا بھلے ہی پبلک طور پر اسے قبول کرے یا نہ کرے لیکن اس کے لئے ایک ایسا جھٹکا ہے جس کا نقصان اسے چناؤ میں اٹھانا پڑسکتا ہے پنجاب میں اکالی دل کی بڑھتی غیر مقبولیت اور عاپ پارٹی کی بڑھتی مقبولیت کوئی پوشیدہ پہلو نہیں ہے۔ کیجریوال کئی بار سوال کر چکے ہیں عاپ پارٹی کو 100 سے زیادہ سیٹیں آئیں گی۔ اگر پارٹی کو کیش دھاری سدھو جیسا ایک چہرہ مل جاتا ہے تو عاپ پارٹی کے لئے اس وقت منہ مانگا وردان ہوگا۔ جیسا دکھائی دے رہا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو سدھو پنجاب میں بھاجپا کو مضبوط کرنے اور اپنے دم خم پر کھڑا کرنے کے حمایتی تھے لیکن بھاجپا ہائی کمان کو اکالیوں کی بیساکھی زیادہ پسند تھی۔ بھاجپا نے ایک سنہرہ موقعہ گنوا دیا ہے۔ پرکاش سنگھ بادل اور کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان عاپ کے پاس بھی ایک بھروسے مند سکھ چہرہ آگیا ہے۔ لوگوں کے پاس ایک تیسرا متبادل بھی ہوگا۔ یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ سدھو کی فنکاری میں ایک جادو ہے جو لوگوں کو راغب کرتا ہے۔ دیکھیں بھاجپا اس جھٹکے سے کیسے نمٹتی ہے؟
(انل نریندر)

پاکستان ون وومن آرمی: قندیل بلوچ

پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کا چونکانے والا قتل اخباروں کی سرخیوں میں ہے۔ کرکٹ ،تنازعوں و سوشل میڈیا سے سرخیاں بٹورنے والی قندیل بلوچ کو اس کے اپنے بھائی وسیم نے گزشتہ جمعرات کو گلا دبا کر مار ڈالا تھا۔ عید پر وہ گھر ملتان آئی ہوئی تھی۔ قندیل نے کچھ دن پہلے ہی وزیر داخلہ کو خط لکھ کر اپنی جان کوخطرہ بتاتے ہوئے سکیورٹی دینے کی مانگ کی تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قندیل (26 سال) کے عریاں فوٹو اور ویڈیو سے بھائی خفا تھے۔ جس سوشل میڈیا نے قندیل کو شہرت دلائی، اس پر آخری بار اس نے لکھا کہ بین ویڈیو پر دنیا سے بہت اچھا رسپانس مل رہا ہے، حمایتیوں کو بلا شرط پیار کے لئے شکریہ۔ قندیل کا اصلی نام فوزیہ عظیم تھا۔قندیل نے 15 جولائی کو اپنا آخری فیس بک اسٹیٹس ڈالا تھا جس میں لکھا تھا کہ انہیں بھلے ہی کتنی بار بھی ہرانے کی کوشش کی جائے لیکن وہ ایک لڑاکے کی طرح جواب دیں گی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ قندیل بلوچ ون وومن آرمی ہے۔ پہلی شادی سے اس کا بیٹا بھی ہے۔ قندیل بلوچ پڑھنا چاہتی تھی اس لئے اس نے اپنے شوہرسے طلاق لے لی تھی۔ ایک دوسرے ٹوئٹ میں لکھا ’’زندگی نے مجھے کم عمر میں ہی سبق سکھا دیا ہے۔میرا ایک لڑکی سے ایک خود کفیل خاتون بننے کا سفر آسان نہیں تھا۔ اگر قوت ارادی ہو تو کوئی بھی آپ کو جھکا نہیں سکتا۔ میں حق کے لئے لڑوں گی۔ اپنے مقصد تک پہنچوں گی ، اسے پانے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘ اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھاتھا: بھلے ہی مجھے کتنی بار گرایا جائے لیکن میں ہر بار پھر اٹھ کھڑی ہوں گی، میں پوری سینا ہوں ، میں ان عورتوں کو تلقین کرتی رہوں گی جن کے ساتھ برا برتاؤ ہوتا ہے۔ قندیل نے ایک ویڈیو میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو ڈارلنگ مودی اور چائے والا کہا تھا۔ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاہد آفریدی سے بھارت کو ہرانے پر ننگا رقص کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب بھارت نے پاکستان کو ہرادیا تو قندیل نے ٹوئٹ کیا ،وراٹ بے بے انوشکا شرما ہی کیوں ۔۔۔فیلنگ لو۔ قندیل کے چھوٹے بھائی وسیم کو سنیچر دیر رات ڈیرہ غازی خاں سے گرفتار کرلیا گیا۔ بعد میں پریس کانفرنس میں اپنی بڑی بہن کو نشیلی دوا دینے کے بعد اس کا گلا گھونٹ پر مارنے کی بات قبول کی۔ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اس نے کہا کہ قندیل کا قتل اس لئے کیا کیونکہ سوشل میڈیا پر اعتراض آمیز ویڈیو اور بیان جاری کر اس نے بلوچ کا نام داغدارکیا تھا۔ اس نے کہا ایسا کرنے کے پیچھے ایک نامی گرامی مولوی کے ساتھ سیلفی سمیت کئی تنازعے بھی تھے۔ قندیل کے والد محمد عظیم نے دعوی کیا کہ وسیم نے اس کا قتل عزت کے نام پر کیا ہے۔ قندیل کے والد نے ہی قتل کی رپورٹ درج کرائی تھی۔
(انل نریندر)

20 جولائی 2016

شہید پیداہوں، لیکن میرے گھر میں نہیں پڑوسی کے گھر میں

شہید پیدا ہوں لیکن میرے گھر میں نہیں پڑوسی کے گھر میں۔ یہ کہاوت کشمیری علیحدگی پسندوں پر بالکل کھری اترتی ہے۔ کشمیر نوجوانوں کے من میں علیحدگی پسندوں کے گورے چہرے و رویئے کو لیکر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ان کی حقیقت سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ عام کشمیری نوجوانوں کو جہاد کے راستے پر چلنے کے لئے اکسانے اور اسلام کے نام پر انہیں موت کے منہ میں دھکیلنے ،یہ حریت لیڈروں کے خود کے بچے کشمیر کی مار کاٹ سے دور ملک و بیرون ملک میں تعلیم یا پیسہ کما کر عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کشمیرمیں علیحدگی پسندی کا سب سے بڑا چہرہ سید علی شاہ گیلانی کو مانا جاتا ہے۔ گیلانی نے اپنے کیریئر کا آغاز جماعت اسلامی کشمیر سے کیا تھا۔ بعد میں خود کی پارٹی تحریک حریت بنا لی۔ گیلانی کا بڑا بیٹا نعیم اور بڑی بیٹی پاکستان کے راولپنڈی شہر میں رہتے ہیں۔ دونوں ہی پیشے سے ڈاکٹرہیں جبکہ چھوٹا بیٹا دہلی کے مالویہ نگر میں رہتا ہے جہاں پر گیلانی سردیوں میں تقریباً تین ماہ تک قیام فرماتے ہیں۔ گیلانی کا پوتا ایک ہندوستانی پرائیویٹ ایئر لائنس میں عملے کا ممبر ہے۔ چھوٹی بیٹی فرحت جدہ میں رہتی ہے۔ علیحدگی پسند نیتا دختران ملت کی چیف آسیہ اندرابی جمعیت المجاہدین کے سابق کمانڈر عاشق حسین عرف محمد قاسم کی اہلیہ ہیں۔چھکتو کو انسانی حقوق رضاکار ایم این وایو کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا ملی ہے اور وہ 22 سال سے سری نگر جیل میں بند ہے۔ اندرابی اور اس کے شوہر کو گیلانی گروپ کا حمایتی مانا جاتا ہے لیکن دختران ملت حریت کا حصہ نہیں ہے۔ آسیہ کے دو بیٹے ہیں بڑا بیٹا محمد بن قاسم ملیشیامیں آسیہ کی بڑی بہن کے ساتھ رہ کر بیچلر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کورس کررہا ہے۔ چھوٹا بیٹا سری نگر کے ایک نامور اسکول میں زیرتعلیم ہے۔ آسیہ کے زیادہ تر رشتے دار سعودی عرب ، ملیشیا اور انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈر میر واعظ عمر فاروق کو حریت کانفرنس کے نرم گروپ کا لیڈر مانا جاتا ہے۔ میر واعظ کی ساکھ ایک کشمیری مذہبی مسلم پیشوا کی ہے۔ میرواعظ کی بہن روبیہ فاروق امریکہ میں ڈاکٹر ہے۔ میرواعظ نے امریکی نژاد مسلم خاتون شیبہ مسعودی سے شادی کی ہے۔جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیف یاسین ملک کی وفاداری پاکستان سے شروع سے ہی جڑی ہوئی ہے۔یاسین کے والد سرکاری بس کے ڈرائیور ہوا کرتے تھے۔ یاسین نے پاکستانی لڑکی مشہیلا حسین سے نکاح کیا ہے وہ ایک جانی مانی آرٹسٹ ہیں۔مشہیلا لندن اسکول آف اکنامکس سے گریجویٹ ہیں۔ان کے والد ایم ۔ اے حسین پاکستان کے نامور اکنامسٹ ہیں۔ ماں ریحانہ پاکستان مسلم لیگ کی وومن وونگ کی پریسیڈنٹ ہیں۔ ان علیحدگی پسند لیڈروں کے اپنے برتاؤ پر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے باغیوں میں سے ایک حاشم قریشی کے بیٹے جنیدقریشی نے سوال کھڑے کئے ہیں ، انہوں نے پوچھا ہے کہ علیحدگی پسند دوسروں کے بچوں کو بندوق تھما کر مرنے کے لئے کیوں اکساتے ہیں؟ جنید ہاشم قریشی کا بیٹا ہے جو30 جنوری 1971ء کو انڈین ایئر لائنس کے طیارہ اغوا کر لاہور لے گیا تھا۔ وہاں مسافروں کو چھوڑدیا گیا تھا لیکن جہاز کو بموں سے اڑادیاتھا حالانکہ بعد میں ہاشم قریشی نے دہشت گردی کا راستہ ترک کردیا۔ جنید نے کہا کہ کشمیری نوجوان ان علیحدگی پسندوں سے یہ سوال پوچھیں کہ اگر بندوق اٹھانی ضروری ہے تو پھر وہ کیوں اپنے بچوں کو بندوق نہیں تھماتے؟ دراصل جیسے ہی علیحدگی پسند لیڈروں کے بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو انہیں کشمیر سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ ایسا کشمیر کے تقریباً ہرعلیحدگی پسند لیڈر نے کیا ہوا ہے۔ ان کے بچے نہ تو کبھی کسی مظاہرے میں شامل ہوئے نہ ہی انہوں نے کبھی سکیورٹی فورس پر پتھر برسائے۔ کئی بار تو ایسا دیکھنے میں آیاہے کہ ان لیڈروں کے بچے اس دوران کشمیر میں آئے اورانہیں فوراً واپس بھیج دیاگیا۔ کبھی کسی لیڈر نے کشمیر کے خراب حالات کے دوران اپنے بچوں کو نہیں بلایا۔ ہر بار دنگوں میں ان لیڈروں کے بچے باہر ہی رہتے ہیں۔
(انل نریندر)

کیا شیلا یوپی میں کانگریس کی نیا پار لگا پائیں گی

تقریباً تین مہینے پہلے کانگریس کے نئے چناوی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے تجویز رکھی تھی کہ اترپردیش میں اگر کانگریس کو دوبارہ نئی زندگی دینی ہے تو اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو کسی برہمن لیڈرکو اپنا چہرہ بنانا ہوگا۔ ان کی تجویز کے بعد غلام نبی آزاد کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے سونیا گاندھی ، پرینکا اور راہل گاندھی نے شیلا دیکشت کو یوپی کا وزیراعلی کا چہرہ بنانے کی منظوری دے دی۔ آنے والے اسمبلی چناؤ کے لئے شیلا جی اب کانگریس کا چہرہ ہوں گی۔ یوپی کے اقتدار سے27 سال دور رہنے کے بعد کانگریس وہاں گدی پانے کو بیتاب ہے۔ یوپی کانگریس کے انچارج غلام نبی آزاد نے شیلا دیکشت کے نام کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ وہ تجربہ کار اور محنتی خاتون ہیں۔ سی ایم کے طور پر شیلا دیکشت جی نے 15 سال دہلی میں ترقیاتی کام کئے جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ پھر شیلادیکشت کا یوپی سے بھی قریبی رشتہ ہے ، وہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور وزیر رہے اوما شنکر دیکشت کے بیٹے کی اہلیہ ہیں۔ کانگریس نے ایک طرح سے شیلا دیکشت کو یوپی میں سی ایم ان ویٹنگ فیس پیش کردیا ہے اور اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ نہرو۔ گاندھی خاندان کو چھوڑدیں تو یقینی طور سے اس وقت شیلا جی سے بہتر کانگریسی چہرہ یوپی کے لئے کھرا نہیں اترتا لیکن صرف اس برہمن کارڈ کے سہارے یوپی میں تقریباً27 برسوں سے اقتدار سے دور رہی کانگریس کی ڈگر بہت آسان ہونے کی امید نہیں دکھائی پڑتی۔ کانگریس کا ورکر اداس اور مایوس ہوکر بیٹھ گیا تھا۔ اسے پھرسے سرگرم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ہاں اتنا ضرور ہے ہوسکتا ہے شیلا دیکشت کی سسرال کی وراثت کے سہارے کانگریس یوپی کی تقریباً14 فیصد برہمن آبادی کے کچھ ووٹ حاصل کرلیں لیکن یوپی کی سیاست میں فرش پرکھڑی کانگریس کو سیدھاعرش پر پہنچا دے گا یہ فی الحال آسان نہیں نظر آرہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا تو کہنا ہے کہ شیلا دیکشت کے سہارے یوپی کی ذات پات کی جگل بندی والی سیاست میں چناؤ کے دوران دوسروں کی پریشانیاں ضرور بڑھادیں لیکن سپا،بھاجپا یا بسپا جیسی پارٹیوں کے سامنے بہتر متبادل بن کر چنوتی کھڑی کر پائیں گی یہ کہنا مشکل ہے۔ دہلی میں پچھلے اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی اروند کیجریوال نے کانگریس کا پتا صاف کردیا ہو لیکن وزیر اعلی کے طور پر شیلا دیکشت کے لگاتار 15 سال کے عہد میں دہلی نے ناقابل توقع ترقی کو کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ شیلا دیکشت اترپردیش میں کانگریس کو اکثریت بیشک نہ دلا پائیں لیکن ان کا قد، سیاسی تجربہ اور تجزیہ فٹ کرنے میں ماہر کانگریس یوپی میں کافی کچھ اچھا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ بتادیں کہ دہلی اسمبلی کی تاریخ میں سب سے زیادہ وقت تک یعنی 5504 دن شیلا دیکشت جی نے عہدہ پر قائم رہ کر ریکارڈ بنایا ہے۔ یوپی کانگریس کا ڈھانچہ بیحد کمزور ہے۔ گاؤں تک کوئی آرگنائزیشن نہیں ہے۔ ورکر کم تو ہوہی گئے ہیں مگر وہ مایوس ہوکر یا تو دوسری پارٹیوں میں چلے گئے ہیں یا پھر گھر بیٹھ گئے ہیں۔ صرف چند نیتا وہ بھی ضلع سطح پر رہ گئے ہیں۔ کئی جگہ تو بلاک سطح پر کمیٹی پوری نہیں ہے۔ ضلع ۔ بلاک وغیرہ کی میٹنگوں میں گنتی کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور گروپ بندی بھی حاوی ہے ایسے میں نئے سرے سے پارٹی کو کھڑا کرنے کے لئے غلام نبی آزاد، راج ببر اور شیلا دیکشت کی اس تکڑی کو سخت محنت و مشقت کرنی ہوگی۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے پارٹی اگر راہل یا پرینکا کو سامنے رکھ کر چناؤ لڑتی تو شاید اس سے کچھ فرق پڑتا۔ پرینکا کی سرگرمی سے لگ رہا تھا کہ وہ بڑا رول نبھانے والی ہیں۔ شاید اب بھی نبھائیں لیکن اترپردیش کی چناوی سیاست میں کانگریس کی بنیاد کے بارے میں بلاشبہ بہت کچھ بتا دیتا ہے۔
(انل نریندر)

19 جولائی 2016

ترکی میں تختہ پلٹ کی ناکام کوشش

یوروپ سے ایشیا تک پھیلے دیش ترکی کی راجدھانی انقرہ کی سڑکوں پر جمعہ کی شام اچانک فوج کے جوانوں کی بڑھتی موجودگی دیکھ لوگ حیران رہ گئے۔ لوگوں کو اس وقت تو سمجھ میں نہیں آیا کہ بھاری ٹینکوں کے ساتھ سڑکوں پر اترے یہ فوجی دیش کی موجودہ حکومت کا تختہ پلٹنے جارہے ہیں۔ فوج کے ایک گروپ نے تختہ پلٹ کی سازش رچی تھی۔ ٹینکوں، بکتربند گاڑیوں ،جنگی جہازوں کے سہارے راجدھانی انقرہ اور سب سے بڑے شہر استنبول میں جم کر حملہ کیا۔ پارلیمنٹ پر بھی بم برسائے گئے، ایئرپورٹ بند ہوگیا اور ساری بین الاقوامی پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ پورے دیش میں کھلبلی مچ گئی۔ صدر ایردواں اس وقت دیش سے باہر تھے، جیسے ہی انہیں تختہ پلٹنے کی اطلاع ملی انہوں نے ٹی وی، ٹوئٹر ، ایس ایم ایس کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی کے جمہوریت اور امن کے لئے اٹھو اور سڑکوں پر اترو۔ ہزاروں لوگ گھروں سے نکل پڑے۔ ٹینکوں و بکتربند گاڑیوں کے آگے لیٹ گئے اور کھڑے ہوگئے۔ بغیر بندوقوں کے فوج سے ٹکرا گئے۔ عوام کا غصے بھرا رویہ دیکھ قریب پانچ گھنٹے بعد خونی جنگ رک گئی۔ باغیوں نے ہاتھ کھڑے کردئے۔ اس دوران کچھ ہی گھنٹوں میں 256 لوگوں کی موت ہوگئی۔ 1500 سے زیادہ باغیوں کو عوام نے مار مار کر سرنڈر کرایا۔ حکومت نے90 فیصد حالات قابو میں کر لئے ہیں۔ شام کو حکومت نے باغیوں کے خیمے پر سخت کارروائی شروع کردی۔ قریب 3 ہزار باغیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ 25 کرنل ،5 جنرلوں کو بھی ہٹا دیا گیا۔ باغیوں سے رابطہ کے چلتے2800 ججوں کی بھی چھٹی کردی گئی۔8 باغی ہیلی کاپٹر سے یونان بھاگ گئے۔ صدر نے جس ٹوئٹ سے تختہ پلٹ کی سازش ناکام کردی وہ کچھ ایسا تھا۔ ’’ترکی کے پیارے لوگوںیہ حرکت دیش کے خلاف ہے۔ ایک چھٹی سی فوجی ٹکڑی نے استنبول اور انقرہ میں فوج کی ہتھیاربند گاڑیاں اور ہتھیار حاصل کر لئے ہیں۔1970 ء کی تاریخ دوہرانے کی تیاری ہے۔ تختہ پلٹ کی کوشش کو مناسب جواب دینا ضروری ہے۔ اپنے دیش اور جمہوریت کو بچالو۔ سڑکوں پر اتریں اور اپنا دیش واپس چھین لیں۔ تختہ پلٹ کے پیچھے امریکہ میں رہ رہے جلا وطن مسلم پیشوا فتح اللہ گولین کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ حکومت کے وکیل رابرٹ ایمس ٹریڈم نے کہا کہ اس کے پیچھے فتح اللہ کا سیدھا ہاتھ ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس کے صاف اشارے ہیں کہ فتح اللہ کچھ خاص ملٹری لیڈر شپ کے ساتھ چنی ہوئی سرکار کو معذول کرنے کے لئے کام کررہے تھے۔ حالانکہ فتح اللہ نے اپنے اوپر لگے الزاموں کو مسترد کردیا ہے۔ ویسے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ترکی کی فوج کو جدید ترکی کے معمار کمال اتاترک کے بنائے سیکولر آئین کا تحفظ مانا جاتا ہے۔ 14 سال پہلے جب صدر کیسپ تمید ایردواں اقتدار میں آئے تھے تبھی سے ان کی کٹرپسندوں کے آگے جھکنے کی پالیسی کو فوج نے ناپسند کردیا تھا۔ 2002ء میں اقتدار میں آنے کے بعدایردواں نے فوج پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لئے اعلی سطح پر ردوبدل شروع کردی تھی۔ پھوٹ ڈال کراپنے پسند کے جنرلوں کو بڑے عہدوں پربٹھانے کی ایردواں کی پالیسیوں سے فوج کے اعلی افسر ناراض چل رہے تھے۔ باغی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ صرف صدر کو ہٹانا چاہتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ تاناشاہی چلاتے ہیں۔ باغیوں کو جیل بھیجتے ہیں، کئی تنزیہ نگار صحافیوں پر مقدمہ کرنے اور غیر ملکی صحافیوں کو دیش سے نکالنے کا بھی الزام ہے۔ پچھلے مہینے ترکی کے سب سے بڑے اخبار ’جمان‘ پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا، جس کے بعد اخبار کو جھکنا پڑا تھا۔ 61 سال کے ایردواں 2002ء میں اقتدار میں آئے تھے جبکہ2001ء میں انہوں نے ایک پارٹی بنائی تھی۔ 2014ء میں صدر بننے سے پہلے وہ 11 سال تک ترکی کے وزیر اعظم رہے۔ 2013ء میں انہوں نے فوج کے سینئر جنرلوں پر کارروائی کی تھی۔ ان میں سے17 کو جیل بھیج دیا تھا۔ فوج اس وجہ سے بھی ان سے ناراض ہے۔ بچپن میں ایردواں نے پیسہ کمانے کے لئے اسنبول کی سڑکوں پر لیمو پانی بیچا تھا۔ 1999ء میں اسلامی جذبات بھڑکانے کے الزام میں انہیں چار مہینے تک جیل میں رہنا پڑا تھا۔ ترکی کی عوام جمہوریت حامی رہی ہے اس لئے جب صدر کا ایس ایم ایس آیا تو تمام عوام سڑکوں پراتری اور جمہوریت کو بچالیا۔
(انل نریندر)

برطانیہ کی دوسری خاتون وزیراعظم ٹیریسا

ایسا اتفاق ہی ہوتا ہے کہ جب میعاد کے درمیان میں ایک وزیر اعظم اپنی کرسی چھوڑ دے اور دوسرے کو سونپ دے۔ اس طرح غیر معمولی حالات میں ٹیریسا نے برطانوی وزیر اعظم کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھال لی۔ بھکنگم پیلس کے انت پر میں ڈیوڈکیمرون جب وزیر اعظم کی حیثیت سے آئے اس کے ایک گھنٹے کے اندر ہی ٹیریسا ان کی جانشین بن کر وہاں سے باہر نکلیں۔ بیشک چہرہ اور نام نیا ہے مگر جن مسائل سے ڈیوڈ کیمرون پچھلے 6 سال سے دوچار رہے ان سے نئے وزیراعظم ٹیریسا کو بھی محاذ آرا ہونا پڑے گا۔ خاص طور پر مالی تنگی، کمزور اکثریت اور سب سے بڑا درد سر برگزیٹ۔ ٹیریسا اس عہدے پر آنے والی دوسری خاتون ہیں۔ ان سے پہلے مردِ آہن خاتون کی شکل میں مارگریٹ تھریچر دیش کی نمائندگی کر چکی ہیں لیکن جن حالات میں ٹیریسا کو دیش کی کمان ملی ہے وہ ایک کانٹوں کا تاج ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ کیبنٹ کی تشکیل کے ساتھ ہی ان کی تنقید بھی شروع ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ سوال بورس جانسن کو وزیر خارجہ بنانے کولیکر اٹھ رہے ہیں۔ جانسن برگزیٹ کے حق میں کمپین چلانے والے لیڈر رہے ہیں اور امریکی صدر براک اوبامہ سمیت کئی دیگر سربراہ مملکت کے خلاف دئے گئے ان کے بیان خاصے سرخیوں میں رہے ہیں۔ ایسے شخص کو خارجہ پالیسی کا ذمہ سونپنے پر سوال اٹھنے فطری ہی ہیں۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پچھلی رات50 سالہ ٹیریسا کو شاید نیندنہیں آئی ہو۔ ترجمان نے کہا سبھی مبارکباد کے فون بات چیت میں وزیر اعظم نے یوروپی یونین سے باہرجانے سے متعلق برطانوی عوام کی خواہش کو پورا کرنے کا عزم جتایا۔ ٹیریسا کے سامنے ایک چیلنج دیش کے عام ووٹروں کا اعتماد جیتنا ہوگا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پچھلے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرح خود ٹیریسا بھی برگزیٹ کے خلاف تھیں۔ ایسے میں اگر وہ برگزیٹ حمایتی خیمے کے بڑے نیتاؤں کو اپنی حکومت میں اہم کردار نہیں دیتیں تو اسے مینڈیٹ کی خلاف ورزی سمجھا جاتا۔وزیراعظم بننے کے بعد دئے گئے ان کے بیانوں میں بھی یہ کوشش صاف جھلکتی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو صاف صاف کہا ہے کہ وہ بڑے فیصلے لیتے وقت طاقتور لوگوں کے بارے میں نہیں آپ کے بارے میں سوچیں گے۔ نئے قانون بھی ان کا نہیں آپ کا دھیان رکھتے ہوئے بنائے جائیں گے۔ ٹیکس کی بات ہوگی تو ہماری ترجیح آپ ہوں گے، وہ نہیں۔ ٹیریساکی برطانیہ میں کامیابی پر نہ صرف یوروپی ممالک بلکہ بھارت سمیت پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئیں تھیں۔ ایسے چیلنج بھرے حالات میں یہ اطلاع بھی تسلی دینے والی ہے کہ ٹیریسا میں شروعاتی قدموں میں کوئی جلد بازی نہیں دکھائی دیتی اور ان کی سمت بھی صحیح ہے۔ ہم ٹیریسا کو ان کے وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ برطانیہ کے اس چیلنج بھرے وقت سے دیش کو باہرنکالنے میں کامیاب ہوں گی۔
(انل نریندر)

17 جولائی 2016

اسلامی دہشت گردی کے مقابلہ کیلئے دنیا کو متحد ہونا پڑے گا

فرانس ایک بار پھر دہشت گردانہ حملہ کا شکار ہوا ہے۔ 8 مہینے کے اندر (14 نومبر 2015 ) پیرس میں ہوئے خوفناک حملہ کے بعد پھر ایسے حملوں کا شکار ہونا محض فرانس ہی نہیں پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ فرانس کیلئے 14 جولائی بیستیل پتن دوس یا قومی دوس ہے۔نیس شہرمیں بیستیل ڈے کے جشن کو نشانہ بنائے جانے سے پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے رغبت اسلامی دہشت گرد حملے دنیا کے تمام ملکوں میں بڑھ رہے ہیں۔اندیشہ تھا کہ جیسے جیسے آئی ایس شام اور عراق میں کمزور ہوگا وہ اپنا اثر جتانے کے لئے دنیا بھر میں دہشت گردانہ حملوں کا سہارا لے گا۔ پچھلے ڈیڑھ برس میں فرانس میں جتنے حملے ہوئے اس کے بعد اسے زیادہ چوکس اور ہوشیار ہوناچاہئے تھا۔ پیرس حملے کے دوران بھی اس کی سکیورٹی میں چوک سامنے آئی تھی جو وہاں کی جانچ رپورٹ میں بھی قلمبند ہے۔ نیس حملہمیں بھی جس طرح دہشت گرد 100 کلو میٹر کی رفتار سے ٹرک چلاتا ہوا شہرمیں گھسا اسے روک کر چیک کرنے کی ضرورت تھی لیکن لگتا ہے ایسا نہیں ہوا۔ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیستیل ڈے کی آتشبازی کا لطف اٹھا رہے مارکو برسوتی کے مطابق رات11 بجے اچانک سفید رنگ کے ایک ٹرک نے اس شہر کی سب سے خوبصورت سڑک پرویونادے وس اجلیس میں بھاری بھیڑ میں داخل ہوا ۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے، جان بچانے کے لئے ہم کنارے کی طرف بھاگے۔ بہت سے لوگ ایک دوسرے پر گر پڑے۔ ٹرک دو کلو میٹر تک لوگوں کو روندھتا چلا گیا۔ چاروں طرف خون بہنے لگا۔ اس معاملے میں اب تک 84 لوگوں کی موت بتائی گئی ہے اور 120 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ان میں کئی خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔ درجنوں کی زخمیوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ موقعہ پر موجودہ پولیس نے دہشت گرد ڈرائیور کو مار گرایا ہے۔ڈرائیور 31 سالہ فرانسیسی تیونس شہری محمد لاہوجی کہیل کو ایک بائیک سوار نے روکنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پایا۔حملہ آور 25 منٹ تک سڑک پر موت کا خوف مچاتا رہا۔ وہ گولیاں بھی چلا رہا تھا۔ بعد میں پولیس نے ٹرک کو گھیر کر آتنکی کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ آئی ایس نے اس حملہ کی ذمہ داری لیتے ہوئے جشن مناتے تصویروں کو سوشل میڈیا میں پوسٹ کیا ہے۔ بروسیلس آئررے لاڈو، ڈھاکہ سے لیکر استنبول حملوں کے جشن کی تصویریں ہم نے دیکھی ہیں۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ جب دنیا دہشت گردی کے خلاف ایمانداری سے متحد ہو؟ برے اور اچھے دہشت گرد میں فرق کو دور کریں۔ آئی ایس کے کمزور ہونے کا لگاتاردعوی ہورہا ہے باوجود اس کے اس کی آئیڈیالوجی سے متاثر کچھ مسلم نوجوان دنیا بھر میں خودکش حملے کررہے ہیں۔ نیس کا آتنکی بھی ایسا ہی تھا ۔ جس ڈھنگ سے لوگوں کو کچلنے کے بعد وہ ٹرک سے اترکر گولیاں چلا رہا تھا اس سے ظاہر ہے کہ وہ مرنے کو تیار تھا۔ ایسے نا جانے کتنے سر پھر جنونی کہاں کہاں کس دیش میں بیٹھے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عراق ۔ شام میں کمزور پڑنے کے بعد آئی ایس نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے۔ اب وہ جگہ جگہ دہشت گردانہ واردات کرنے پر زور دے رہا ہے۔ عراق اور شام میں سکیورٹی فورسز کو یہ فائدہ ہے کہ وہ دشمن کو سامنے دیکھ سکتے ہیں اور ہوا و زمین پر سیدھا حملہ کر سکتے ہیں لیکن بروسیلز آر لیڈو ، ڈھاکہ، نیس و استنبول میں آتنکی حملوں کو روکنا اس لئے مشکل ہے کیونکہ وہ عام شہریوں کے درمیان بھی رہتے ہیں۔ انہی کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ برسوں تک سلیپر سیل چپ چاپ رہتے ہیں اور وقت آنے پر اپنا کام کرجاتے ہیں۔ تکلیف کا موضوع یہ ہے کہ دنیا اس اسلامی دہشت گردی کے خلاف متحد بھی نہیں ہے۔ یوروپ کی اصلاحاتی پالیسیوں کا یہ آتنکی پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تشفی کی بات یہ ہے کہ جب سے مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے ایک بھی بڑا آتنکی حملہ بھارت میں نہیں ہوا۔ جموں و کشمیر کو چھوڑدیں جہاں دوسرا کھیل ہے ، باقی بھارت اب بھی محفوظ ہے۔ انٹر نیٹ آج آتنکی تنظیموں کا بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ کئی دیشوں میں نوجوان طبقہ آتنکی پرچارسے متاثر ہوکر آئی ایس میں شامل ہورہا ہے۔ اکیلا آتنکی بھی کیسا قہر ڈھا سکتا ہے، یہ نیس شہر کے حملہ سے پتہ چلتا ہے۔ یہ نئی طرح کی چنوتی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ساری دنیا کو اس بڑھتی اسلامی دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ نہیں تو نیس شہر جیسے حملے ہوتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

بالی ووڈ کے سلطان ’’سلمان‘‘ سے مچائی دھوم

تمام تنازعوں کے باوجود بالی ووڈ میں اداکار سلمان خان کا جلوہ برقرار ہے۔ عید پر سلمان خان کی فلم ’’سلطان‘‘ سے دھوم مچا دی ہے۔ میں نے یہ فلم دیکھی ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ سلمان نے بڑھیا فلم بنائی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ فلم نے باکس آفس میں دھوم مچا رکھی ہے۔ پہلے ہفتے پراپنی فلم ’پریم رتن دھن پائیو‘ کے 129 کروڑ روپے کے کلکشن کے ریکارڈ کو سلمان خان کی ’’سلطان‘‘ سے پہلے چار دنوں میں ہی توڑدیا تھا لیکن پہلے ہفتے کے ریکارڈ کے معاملے میں سلطان نے 180 کروڑ کے کلکشن کے ساتھ اتنی بڑی لکیر کھینچ دی ہے جسے توڑنا کسی کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ اب تک سب سے زیادہ کمائی (340 کروڑ) کرنے والی ’پی کے‘ کی بات کریں تو اس نے بھی پہلے ہفتے میں صرف95 کروڑ روپے کا بزنس کیا تھا۔ بہرحال سب سے تیزی سے 100 کروڑ اور 150 کروڑ روپے کی کمائی کرنے کے بعد ’سلطان‘ منگلوار کو سب تیزی سے 200 کروڑ کے کلب میں اینٹری کرنے والی فلم بن گئی ہے۔ اس فلم نے سلمان کے فین کو خوش کردیا ہے۔ وہ جیسے ہی اسکرین پر آتے ہیں سنیما ہال میں سیٹیاں گھونجنے لگتی ہیں۔ علی عباس ظفر کی ہدایت میں بنی یش راج فلم کے بینر تلے اس فلم میں سلمان کے ساتھ انوشکا شرما ، امت ساد، رندیپ ہڈا، اننت شرما نے بھی شاندار رول کیا ہے۔ سلمان نے اس فلم میں جس ڈھنگ سے اپنے کردار کو انجام دیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باکس آفس کے ذریعے سے آج سلمان یقینی طور سے نمبر ون ہیں۔ چاہے جب وہ پتنگ لوٹتے دکھائی پڑتے ہیں یا پھر پہلوان کے رول میں۔ میڈل جیتنے پر وہ جیسے خوش ہوتا ہے تو لگتا نہیں کہ ہیرو اسکرین پر ایکٹنگ کررہا ہے۔ بیٹے کی موت کے بعد جب وہ بلڈ بینک کے لئے نئے مشن پر نکلتا ہے تو اس کی ایکٹنگ دیکھنے لائق ہے۔ سلطان ایک ایسے پہلوان کی کہانی ہے جو پیار کے چکرمیں پڑ کر کشتی کی دنیا میں آتا ہے اور چھا جاتا ہے لیکن کامیابی کی اس چکاچوند میں وہ رشتے کی اہمیت کو بھولنے لگتا ہے۔ اسی درمیان سلطان کی آنکھیں عارفہ(انوشکا شرما) سے چارہوتی ہیں اور اس سے شادی کا من بنا لیتا ہے۔ عارفہ خود ایک پہلوان ہے اور اس سے شادی کرنے کے لئے پہلوان بنتا ہے۔ باقی کہانی بتاؤں گا تو آپ کا مزہ کرکرا ہوجائے گا۔ سلطان فلم میں پہلوانوں کی زندگی میں کیسے کیسے موڑ آتے ہیں ، چیلنج آتے ہیں اسے دکھایا گیا ہے۔ مارشل آرٹ کا کھیل ابھی بھارت میں اتنا مقبول نہیں ہوا ہے لیکن دنیا بھر میں کمائی کے میدان میں یہ تیسرے نمبر کا اسپورٹس ہے۔ اس فلم سے اس سپورٹس کی پرموشن بھی ہوگی۔ صاف ستھری اس فلم کو ہر شخص اپنے خاندان کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ اگر آپ سلمان خان کے فین ہیں تو اس فلم کو ضرور دیکھیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...