Translater
12 مئی 2023
ترکیہ صدر اردوان کو اپوزیشن چنوتی !
2003میں پہلی بار ترکیہ کی قیادت کرنے کے بعد سے صدر اردوان کے اختیارات میں ڈرامائی طور سے اضافہ ہوا ہے ۔اردوان اقتدار میں 20سالوں سے زائد عرصے اقتدار میں ہیں اب ان کی سرکار کو سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ ترکی کی 6اپوزیشن پارٹیوںنے 14مئی کو صدارتی و پارلیمانی انتخابات کیلئے اپوزیشن لیڈر کیمل ملگڈار اگلو کو اپنا اپوزیشن اتحاد کا امیدوار چناہے۔ صدر اردوان کی حکومت میں ترکیہ بے اثر ہو گیا ہے اور اپوزیشن اس میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہی ہے ۔ ترکی میں بڑھتی مہنگائی اور دوہرے زلزلے سے 50ہزار سے زیادہ اموات کے بعد صدر اردوان کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ چناو¿ میں چنوتی سالوںسے ووٹرں کی پولرائیزیشن ہوا ہے ۔ لیکن 69سالہ صدر اردوان اپوزیشن دباو¿ کے چلتے کمزور ہیں۔ اوپینین پول سے پتا چلتا ہے کہ صدارتی عہدے کیلئے ان کے اہم حریف کے پاس اچھی بڑھت ہے ۔ اردوان جس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ 2002سے اقتدار میں ہے اور خود وہ 2003سے جب وہ وزیر اعظم تھے ،اقتدار کے بڑے عہدے پر بنے ہوئے ہیں۔ 60لاکھ نوجوان ووٹرں نے ارداون کے علاوہ کسی اور نیتا کو قتدار میں نہیں دیکھا ہے ۔ شروعات میں ارداون پی ایم تھے پھر 2016میں صدر بن گئے ۔ اب وہ ایک بڑی عمارت میں بطور صدر پورا دیش چلاتے ہیں ترکیہ کی بڑھتی آباد ی نے انہیں مہنگائی کیلئے قصوروار ٹھہرایا ہے ۔چوںکہ وہ سود کی شرحوںکو بڑھانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اس وقت سرکاری افراط زر کی شرح 50فیصدی سے اوپر ہے لیکن ماہرین مالیات کا کہنا ہے کہ درحقیقت یہ 100فیصد سے زیادہ ہے۔صدر اردوان کی سرکار پر زلزلوںسے ہوئی تباہی سے نمٹنے کیلئے لاپر واہی کے طریقے پر نکتہ چینی کی جار ہی ہے ۔ واضح ہو کہ فروری میں دو مرتبہ زلزلے آئے جس میں لاپتہ لوگوں کی تلاش اور لوگوں کو بچاو¿ میں انتظامیہ کی کوتاہی کو لیکر اردوان اور ان کی حکمراں پارٹی کی نکتہ چینی ہوئی تھی ۔ اس ساتھ ہی ان کی سرکار ترکیہ میں برسوں تک تعمیراتی نظام کو بہتر طریقے سے لاگوکرنے میں ناکام رہی ۔ کیوں کہ زلزلے سے متاثرہ 11صوبوںمیں لاکھوں ترکی شہری بے گھر ہوگئے تھے کیوں کہ کئی علاقوںمیں اردوان کے پارٹی کے گڑھ کے طورپر مانا جاتا ہے۔ اس لئے دیش کا مشرقی علاقہ ہار جیت طے کرسکتا ہے ۔ ان کی پارٹی سیاسی فائدے کی طرف جھکی ہوئی ہے لیکن انہوںنے ترکی راشٹر وای پارٹی ایم ایس پی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ 26مارچ 2023کو استنبول میں ایک پبلک پروگرام کے دوران اپوزیشن ریپبلک پیپلز پارٹی کے نیتا کیمل ملکڈا ر اگلو کا کہنا ہے اوپینین پول ہمیشہ بھروسے مند نہیں ہوتے اور پہلے راو¿نڈ میں سیدھے چناو¿ جیتنے کی امیدوں کو اس وقت جھٹکا لگا جب لیفٹ نظریہ والی پارٹی کے ایک سابق نیتا نے صدارتی عہدے کے امیدوارںمیں اترنے کا فیصلہ کیا۔ ترکیہ میں 14مئی کو ووٹ پڑنے والے ہیں،دیکھیں اردوان اپنی اقتدار کو بچا پاتے ہیں یانہیں!
(انل نریندر)
ہم جنس شادیوںسے کنبہ جاتی تہذیب تباہ ہوجائے گی!
سپریم کورٹ میںہم جنس شادی کو قانونی منظوری دینے سے متعلق عرضیوں پر سماعت کے دوران 21سابق ججوں 6سابق سفراءسمیت 101سابق افسروں نے صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کو خط لکھا ہے ۔ اس میں ہم جنس شادی کے اشو پر کہا گیا ہے کہ اس کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کی کوششوں سے انہیں دھکا لگاہے ۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس کی اجازت دی گئی تو پورے دیش کو اس قیمت چکانی پڑے گی۔ ہمیں لوگوں کی بھلے فکر ہے ہمارا سماج ہم جنسی عمل کلچر کو تسلیم نہیں کرتا ۔ شادی کی رعایت دینے پر یہ عام ہو جائے گا۔ اس سے پریوار اور سماج نام کی روایتیں تباہ ہو جائیںگی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارے بچوں کی صحت اور نشو ونما دونوں ہی خطرے میں پڑ جائیںگے۔ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق صرف پارلیمنٹ کا ہے جہاں لوگوں کے نمائندے ہوتے ہیں ۔ اس سے پہلے بدھوار مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے عدالت نہ تو قانونی تقاضوں نئے سرے سے قلمبند کر سکتی ہے نہ ہی کسی قانون کے بنیادی ڈھانچے کو بدل سکتی ہے جیسا کہ اس کی تیاری کے وقت تصور کیا گیا تھا۔ مرکز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ہم جنس شادیوں کو قانونی منظوری دینے سے متعلق عرضیوں میں اٹھائے گئے سوالوں کو پارلیمنٹ کیلئے چھوڑ دے ۔ خط میں مزید لکھا گیا کہ ہم بھارت کے فرائض کے پابند بزرگ شہری مسلس ہو رہے واقعات سے حیران زدہ ہیں ۔ہماری پرانی بنیادی تہذیبی روایات پر حملے ہو رہے ہیں۔ خط لکھنے والوں میں مہاراشٹر کے سابق ڈی جی پی پروین دکشت ،جسٹس کملیشور ناتھ ،آر راٹھور ،ایس این ڈھنرا ،بی جی بسٹ ،راجیو ملپا ،آئی اے ایس ایل سی گوئل،شوشانک سدھیر کمار ،گوپال کرشن مدھیہ پردیش و کرناٹک ،دہلی و ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان سمیت دیش کے سینئر لوگوں نے صدر جمہوریہ کو خط لکھا ہے ۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ میں ہم جنس شادی کو قانونی منظور دینے کی مانگ کرنے والی عرضیوں پر ہو رہی سماعت کے بیچ مرکزی وزیر قانون کرن ریجیجو نے کہا کہ شادی معاملہ کو قانونی منظوری دی گئی تو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ریجیجو نے کہا کہ شادی جیسی اہم ترین معاملہ ہے جسے دیش کے لوگوں کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے ۔ یہ معاملہ صرف دیش کے اکثریتی لوگوں کے مذہب سے نہیں جڑا ہوا ہے بلکہ اسلامی مذہب سے بھی جڑا ہے ۔جمعیت علمائے ہند کے ذریعے بھی اس طرح کے خیالات ظاہر کئے گئے ہیں اس میں کہا گیا ہے ہم جنس شادی جیسے واقعات مغربی مذہبی تہذیب سے پیدا ہوئے ہیں ۔ جس کے پاس کٹر پسند ی اخلاقی ،عالمی ذہن ہے اور بھارت میں اس روایت پر قطعاً عمل نہیں کیا جانا چاہئے۔ بار کونسل آف انڈیا کی صدر کا یہ کہنا ہے کہ معاملہ مرکزی سرکار پر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔معاملے میں سب سے ضروری یہ ہے کہ اس پر کوئی بھی قدم سنبھل کر بڑھایا جائے۔
(انل نریندر)
11 مئی 2023
گلے کی پھانس بنے راجوری و پونچھ اضلاع !
پچھلے تین مہینوں سے یعنی پچھلے ڈھائی برس سے ایل او سی سے لگے راجوری و پونچھ کے جڑوا ضلعے جنگ کا میدان بن چکے ہیں۔اس جنگ میں 26فوجیوں اور نو شہریوں کی جان جا چکی ہے فوج کیلئے گلے کی پھانس بنے دونوں اضلاع میں تشویش اس بات کی ہے کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود مقامی شہری دہشت گردی کی طرف راغب ہونے لگے ہیں ان دونوں ضلعوںمیںپھیلی اس جنگ کے تئیں کہا جا رہا ہے کہ مقابلہ جانی دشمن سے ہے ۔یہ دشمن مقامی او جی ڈبلیو تو ہے ہی ، ایل او سی کے پاس ہونے سے اس پار سے آنے والے غیر ملکی شہری بھی ہیں جن پر نکیل نہیں کسی جا سکی ۔جبکہ آتنکی حملوں اور قتل عام کے واقعات میں شامل سبھی دہشت گرد فی الحال گرفت سے باہر ہیں۔ ان دونوں ضلعوںمیں دہشت گردوں کے ذریعے فوج کو مسلسل نشانہ بنائے جانے سے فوج کی پریشانی اور فوجیوں کے حوصلے کو بنائے رکھنے کی ہو گئی ہے ۔ اکتوبر 2021کے دو حملوں کی جس میں 9فوجی مارے گئے تھے ۔ اس بار 17دنوں میں اندر پھر سے 10فوجیوں کو مارنے والے دہشت گرد سنائی پر رائفلوں اور انتہائی جدید ہتھیاروں سے مسلح ہونے کے ساتھ ہی علاقے سے اچھی طرح واقف ہونے والے بتائے جا رہے ہیں۔ ایک افسر کے بقول مقامی حمایت کے سبب ہی وہ پونچھ کے بھاٹا دھریاں علاقے سے راجوری کے پوری سیکٹر تک 50سے 60کلو میٹر کے سفر کو پورا کررہے ہیں۔ پچھلے 17دنوںمیں دہشت گردوں کے ہاتھوں 10جوانوں کی موت راجوری اور پونچھ کے ایل او سی سے لگے ان جڑوا اضلاع میں کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ بلکہ پانچ اگست2019کو آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد دہشت گردوں نے کشمیر میں ان جڑوا اضلاع کی طرف رخ کرتے ہوئے پہلے شرن کورٹ کے علاقے میں 11اکتوبر 2020کو پانچ فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس حملے کے بعد اسی دہشت گرد گروپ نے پونچھ کے بھٹا دھرئی علاقے می فوجیوںپر ایک اور تاک لگاکر حملہ کیا ۔ جس میں چار فوجی شہید ہو گئے تھے ۔ جموںکشمیر کے راجوری ضلع کے گھنے جنگی علاقے میں جاری آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسیز نے سنیچر کو ایک آتنکی کو مار گرایا اور دوسرا زخمی ہو گیا تھا۔ فوج نے یہ جانکاری دی ہے راجوری میں جاری کاروائی کے دوران جمعہ کو آتنکی وادیوںنے فوج کے پانچ جوانوںکو شہید کئے اور میجر رینک کے افسر زخمی ہو گیا ۔ اس واردات کے بعد اب فوج نے تلاشی کاروائی شروع کردی ہے اور اس دوران 250سے زیادہ لوگوں واردات کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کیلئے حراست میںلیا گیا ہے ۔ دراصل آپریشن ترینیش جیسی کاروائیوں کیلئے ضروری ہے کہ مخبروں کی مدد لی جائے،انٹیلی جنس اور مقامی لوگوں کا زیادہ سے زیادہ تعاون لیا جائے ۔
(انل نریندر)
شراب پالیسی کیس:کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے!
شراب پالیسی مبینہ گھوٹالے سے جڑے معاملے میں دو ملزمان کو راو¿ز ایونیو کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی نے عدالت کے حکم کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے میں سی بی آئی اور ای ڈی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ عام آدمی پارٹی نے وزیر اعظم اور بی جے پی سے مانگ کی ہے کہ پچھلے ایک سال سے پورے دیش کو گمراہ کرنے اور عام آدمی پارٹی و اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو بد نام کرنے کیلئے وہ دیش اور جنتا سے معافی مانگیں ۔ وزیر اعلیٰ کیجریوال نے بھی ٹویٹ کرکے کے کہا کہ اب تو کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ اس معاملے میں رشوت یا منی لانڈرنگ کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ دہلی سرکار کی وزیر آتشی نے پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوںنے دعویٰ کیا کہ سنیچر کو راو¿ز ایونیوکورٹ میں ملزم راجیش جوشی اور گوتم ملہوترا کو ضمانت دیتے ہوئے جو 85صفحے کا حکم جاری کیا اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای ڈی کے پاس اس معاملے میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ آتشی کا کہنا ہے کہ اس کیس میں دو اہم ملزم تھے ۔پہلا الزام تھا کہ نئی شراب پالیسی بنانے کے عوض میں شرا ب کاروباریوں سے100کروڑ روپے کی رشوت لی گئی تھی دوسرا یہ کہ 100کروڑ روپے عام آدمی پارٹی نے گوا چناو¿ میں لگائے ۔ لیکن کورٹ آرڈر سے پتا چلتا ہے یہ صاف ہوگیا ہے کہ سی بی آئی اور ای ڈی کے پاس ایک نئے پیسے کا کرپشن کا ثبوت نہیں ہے ۔آتشی کے مطابق حکم میں بار بار جج نے ایک ہی بات دوہرائی ہے کہ ای ڈی نے کوئی ثبوت سامنے نہیں رکھا ۔ یہاںتک کہ 100کروڑ روپے کے رقم کی بات کہاں سے آئی یہ بھی صاف نہیں ہے ۔ کیوں کہ ای ڈی نے اپنی چارج شیٹ میں صرف 30کروڑ روپے کی بات کہی ہے لیکن اس کے لین دین کی بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پرچیوں کے ذریعے سے 30کروڑ روپے کے لین دین کابھی الزام کورٹ میں ثابت نہیں ہو پایا۔اس رقم گوا چناو¿ میں استعمال کرنے کا جو الزام تھا اسے لیکر ای ڈی نے کورٹ میں کہا کہ آپ نے گوا کے چناو¿ میں صرف 19لاکھ روپے نقد خرچ کئے باقی ساری رقم کی پیمنٹ چیک سے ہوئی ۔ آتشی نے کہا کہ ایک طرح سے ای ڈی نے ثابت کردیا ہے کہ عام آدمی پارٹی دیش کی سب سے ایماندار پارٹی ہے ساتھ ہی حکم میں بھی سی بی آئی اور ای ڈی کا پردہ فاش کردیا ہے اس سے صاف ہے کہ یہ چارچ شیٹ پی ایم او میں بنائی جاتی ہے اور ایجنسیوں کو دیکر الزامات کو ثابت کرنے کیلئے گواہ اور ثبو ت لانے کو کہا جا تا ہے ۔ عدالت نے اپنے آرڈر کے پیرا نمبر 74میں صاف کہا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے رشوت کا معاملہ ثابت ہوتا ہے۔
(انل نریندر)
09 مئی 2023
18قتل ،عدالت میں سگائی اور ضمانت پر شادی!
یہ کہانی ہے مغربی اترپردیش کے خطرناک بد معاش انل درجانہ عرف انل ناگر کی ،جس کو میرٹھ میں ہوئی مٹھ بھیڑ میں مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یوپی ایس ٹی ایف کے اے ڈی جی امیتابھ ینش نے بتایا کہ مطلوب ملزم انل درجانہ کو ہماری ٹیم نے جمعرات کو دوپہر میرٹھ کے ایک گاو¿ں میں گھیرا تو اس نے بھاگنے کی کوشش میں ہماری ٹیم پر گولی چلادی تو ایس ٹی ایف کی جوابی فائرنگ میں وہ مارا گیا ۔یوپی پولیس کے اے ڈی جی لاءاینڈ آرڈر پر شانت کمار نے میڈیا کو بتایا کہ ایس ٹی ایف اور بد معاشوں کے درمیان زبردست مڈ بھیڑ ہوئی اس مڈ بھیڑ میں بد معاش انل درجانہ زخمی ہو گیا تھا، بعد میں اس کی موت ہو گئی ۔ وہ کار سے جا رہا تھا اس کے پاس سے دو پستول اور کثیر تعداد میں کارتوس بر آمد ہوئے ۔ مغربی یوپی کے بڑے بد معاش گروہوںمیں سے ایک مانا جانے والا انل درجانہ ہفتے بھر پہلے ہی جیل سے باہر آیا تھا ۔ اس پر این ایس اے اور اسلحہ اور بد معاش ایکٹ کے تحت مقدمات درج تھے۔ مانا جاتا ہے کہ اس بد معاش انل درجانہ کا خوف دہلی این سی آر میں چھایا ہوا تھا۔ یوپی پولیس نے درجانہ کے سر پر انعام بھی رکھا ہوا تھا۔ انل درجانہ کی خطرناک مافیا سندر بھاٹی اور اس کے گینگ سے دشمنی چلی آرہی تھی اور اسی دشمنی میں اب تک کئی قتل ہو چکے ہیں لیکن جب انل درجانہ نے کرائم کی دنیا میں قدم رکھا تھا تو اس وقت یہ دونوں ساتھ کام کررہے تھے۔ مغربی یوپی میں گینگ وار کی شروعات مہیندر فوجی اور سدبیر گوجر کے دشمنی سے ہوئی تھی۔ دونوں ہی 1990میں ایک مڈبھیڑ میں مارے گئے تھے۔ سال2000سے پہلے انل درجانہ سندربھاٹی کیلئے ناجائز سریا کا کاروبار کرتاتھا۔ درجانہ نے اپنا دبدبہ بڑھانے کیلئے سندر بھاٹی کے نام کا سہارا لیااور چھوٹے چھوٹے بد معاشوں پر اس کا دبدبہ بڑھتا گیا۔ سال2004کی بات ہے جب سندر بھاٹی گینگ نے نریش بھاٹی کو قتل کردیا تھا۔یوپی ایس ٹی ایف کے مطابق اگلے سال ہی یعنی 2005میں نریندر بھاٹی کے قتل کا بدلا لینے کیلئے اس کے چھوٹے بھائی راجپال بھاٹی نے سندر بھاٹی کے بھتیجے لالا فوجی کو مار ڈالا تھا۔ تبھی سے انل درجانہ اور سندر بھاٹی کے درمیان گینگ وار چلی آرہی تھی۔ 2011میں سندر بھاٹی کو مارنے کیلئے ان کے بھانجے کی شادی میںہی رندیپ بھاٹی ،امت کسانا انل درجانہ کے ساتھ مل کر اے کے 47سے گولیاں برسائیں حالاںکہ اس حملے میں سندر بھاٹی بچ نکلا لیکن اس میں تین لوگوں کی موت ہوگئی ۔ اس معاملے میں سال2012میں انل درجانہ کو پولیس نے پکڑ لیا اور جیل بھیج دیا۔سال 2014میں سندر بھاٹی نے اپنے اوپر ہوئے حملے کا بدلہ لیا اور انل درجانہ کے بھائی کو مار ڈالا ۔ 21سال پہلے درج ہوا قتل کا پہلا کیس 2002میں غازی آباد سے درجانہ کی کرائم کی کہانیاں شروع ہوئی ۔ اب یوپی لیس کے مطابق انل درجانہ پر قتل کے 18مقدمے درج ہیں ۔کورٹ میں پیشی کے دوران اس کی سگائی ہوئی اور پھر ضمانت پر شادی درجانہ نے جیل سے ہی کی اور جیل میں رہتے ہوئے درجانہ نے 2015میں چناو¿ لڑا اور جیت گیا ۔ یہ تھی انل درجانہ کی کہانی اور انت ۔
(انل نریندر)
جنتر منتر پر دنگل جاری!
سپریم کورٹ نے احتجاجی پہلوانوں کی عرضی پر سماعت یہ کہتے ہوئے بند کردی کہ انہیں سیکورٹی دے دی گئی ہے جنہوںنے برج بھوشن کے خلاف جنسی اذیت کے الزامات لگائے ہیں۔ عدالت نے آگے کہا کہ اس پر ایک ایف آئی آر درج بھی ہو چکی ہے ۔ عرضی گزاروں کو اس پر آگے کی کاروائی کیلئے ہائی کورٹ یا نچلی عدالت میں جانا چاہئے ۔ جمعرات کو جب یہ فیصلہ آیا اسی رات کو پہلوانوں کے ساتھ دہلی پولیس کی جھڑپیں بھی ہوئیں اس میں کئی پہلوانوںکو چوٹیں بھی آئیں دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ پہلوانوں نے الزامات سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا ہے ۔ لیکن انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈین کشتی فیڈریشن کے صدر برج بھوشن سنگھ پر لگے جنسی اذیتوں کے الزامات کی تفصیل شائع کی ہے ۔ روپورٹ کے مطابق برج بھوشن شرن سنگھ پر الزامات لگانے والی سات میں سے دو خاتون پہلوانوں نے پولیس کودی گئی شکایت میں کئی بار جنسی استحصال کئے جانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ شکایتیں 21اپریل کو دہلی کے کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن میں دی گئی تھیں ۔ ان میں سے کم سے کم آٹھ واقعات کا ذکر ہے ۔ شکایت کنندگان نے دعویٰ کیا ہے کہ برج بھوشن شرن سنگھ نے ان کی سانس پرکھنے کے بہانے انہیں غلط طریقے سے چھوا اور جنسی اذیت پہچائی ۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ ان جنسی و ذہنی استحصال ہوا ۔ اپنی شکایت میں ایک خاتون پہلوان نے بھوشن سنگھ پر کم سے کم پانچ الگ الگ موقعوںپر جنسی چھیڑ چھاڑ کے الزامات لگائے ہیں۔ ایک واقعہ 2016کے ایک ٹورنامنٹ کے دوران کا ہے جب ایک ریستو راں میں مبینہ طور پر برج بھوشن سنگھ نے ایک لیڈی پہلوان کو بلاکر غلط طریقے سے اس کی چھاتی اور پیٹ کو چھوا تھا ۔اپنی شکایت میں لیڈی پہلوان نے کہا کہ وہ اس حرکت کے بعد دو دن تک کھانا نہیں کھا پائی اور اس کی وجہ سے اس نیند خراب ہوئی تھی اور وہ ٹینشن میں آ گئی ۔خاتون پہلوان کا الزام ہے کہ بھوشن سنگھ نے 21اشوک روڈ پر اپنے بنگلے پر بلایا اور اسے غلط طریقے سے چھوا اسی برج بھوشن سنگھ کی پارلیمنٹری رہائش گاہ میں انڈین ریسلنگ فیڈریشن کا دفتر بھی ہے خاتون پہلوانوں نے الزام لگایا کہ پہلے دن برج بھوشن سنگھ نے اس کی رانوں اور کندھوں کو چھوا اور دوسرے دن اس کی چھاتی پیٹ تو وہ یہ کہتے ہوئے غلط طریقے سے چھوا کہ وہ اس کی سانس کی جانچ کر رہے ہیں۔ ایسے الزام کئی پہلوانوں نے بھی لگائے ۔سوال اب یہ ہے کہ اگر ان خاتون پہلوانوںنے ایسے سنگین الزام لگائے ہیں تو پولیس کو ان کی بلاتاخیر جانچ کرے اگر الزامات میں سچائی ہے تو برج بھوشن شرن سنگھ کو فوراً گرفتار کرکے مناسب کاروائی کرنی ہوگی۔ آج جنتر منتر پر بیٹھے پہلوانوں کو ہر طبقے سے حمایت ملتی جا رہی ہے ۔ اس سے پہلے کوئی اور ناگزیں واقعہ رونما ہو مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...