Translater
11 مئی 2024
مایاوتی نے بھتیجے آکاش کو کیوں ہٹایا ؟
بہوجن سماج وادی کی چیف مایاوتی نے منگلوار کی دیر رات اپنے بھتیجے اور پارٹی کے قومی کوآرڈینیٹر آکاش آنند کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا ہے ۔مایاوتی نے پوری طرح سنجیدگی حاصل کرنے تک انہیں اپنے جانشینی کی ذمہ داری سے بھی آزاد کر دیا ہے ۔دیش میں لوک سبھا چناو¿ کے تیسرے مرحلے کی ووٹنگ ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی بہن جی کے اس اعلان نے پارٹی ورکروں ،سیاسی پارٹیوں اور تمام تجزیہ نگاروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔مایاوتی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا خیال رہے کہ بی ایس پی ایک پارٹی کیساتھ ہی بابا صاحب امبیڈکر کے خود اعتمادی ،عزت اور سماجی تبدیلی کی تحریک ہے جس کے لئے ماننیہ شری کاشی رام جی و میں نے خود بھی اپنی پوری زندگی پارٹی کیلئے وقف کر دی ہے اور اسے رفتار دینے کے لئے نئی پیڑی کو بھی تیار کیا جارہا ہے ۔انہوں نے لکھا اسی سلسلے میں پارٹی نے دیگر لوگوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ ہی شری آکاش آنند کو نیشنل کوآرڈینیٹر و اپنا جانشین اعلان کیا تھا لیکن پارٹی و تحریک کے وسیع مفاد میں مکمل پختگی یا سنجیدگی آنے تک ابھی انہیں ان دونوں اہم ذمہ داریوں سے الگ کیا جارہا ہے ۔جبکہ ان کے والد شری آنند کمار پارٹی وتحریک میں اپنی ذمہ داری پہلے کی طرح نبھاتے رہیں گے ۔سوال یہ ہے کہ مایاوتی نے ایسے وقت میں قدم کیوں اٹھایا جب لوک سبھا چناو¿ کے چار مرحلے باقی ہیں ؟ وہ بھی پارٹی کے اسٹار کمپینر آکاش آنند کے خلاف جنہوں نے پچھلے کچھ عرصے سے اپنی ریلیوں میں بی ایس پی کو ووٹروں کے درمیان کافی مقبولیت او ر بلندی پر پہونچا دیا تھا سوال یہ ہے کہ کیا وہ آکاش آنند کو سیاسی طور پر پوری طرح پختہ نہیں مانتی ؟ اگر ان میں مکمل پختگی نہیں ہے تو مایاوتی نے انہیں اپنا جانشین اور پارٹی کا نیشنل کوآرڈینیٹر بنا کر غلطی کی تھی کیا اب انہوں نے انہیں ہٹا کر غلطی ٹھیک ہے ؟ آکاش آنند اپنی پچھلی چناوی ریلیوں میں بے حدجارحانہ انداز میں نظر آئے تھے ۔28اپریل کو اتر پردیش کے سیتا پور ریلی میں انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کا طالبان سے موازنہ کرتے ہوئے اسے دہشت گردون کی سرکار کہہ ڈالا تھا اس کے علاوہ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ ایسی سرکار کو جوتوں سے جواب دیں گے ۔جارحانہ تقریر پر ہوئے مقدمہ کے بعد ہی آکاش نے مئی میں اوریا اور حمیر ریلی کو منسوخ کر دیا ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مایاوتی آکاش آنند کو لیکر بہت ہی زیادہ اعتماد رکھتی ہیں وہ نہیں چاہتی کہ اس وقت کوئی مشکل میں پھنسے اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس وقت بی جے پی سے اپنا رشتہ نہیں بگاڑنا چاہتی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مایاوتی اور ان کی پارٹی کے لئے یہ لوک سبھا چناو¿ کرو یا مرو کا چناو¿ ہے ۔2019 کے چناو¿ میں بی ایس پی سپا کیساتھ مل کر لڑی تھی پارٹی نے دس سیٹیں جیتی تھیں لیکن اسے صرف 3.67 فیصدی ووٹ ملے تھے وہیں 2009 کے چناو¿ میں اس نے 21 سیٹیں جیتی تھیں ۔جبکہ 2022 کے اسمبلی چناو¿ میں صرف ایک سیٹ جیت پائی تھی ۔پچھلے کچھ عرصہ سے بی ایس پی بی جے پی کے تئیں کم جارحانہ نظر آئی ۔ایک چناو¿ کمپین کے دوران آکاش آنند جس طرح سے جارحانہ انداز میں تقریریں کررہے تھے وہ شاید بی جے پی کو ناگوار لگا ۔عام طور پر اس فیصلے سے یہ نظریہ کو پختگی ملی کہ بی ایس پی چناو¿ میں بی جے پی کی مدد کررہی ہے اورکئی لوگوں کا خیال ہے کہ بی ایس پی بھاجپا کی بی ٹیم ہے ۔
(انل نریندر)
شہزادے بتائیں اڈانی - امبانی سے کتنا مال اٹھایا!
یہ ہمارے پردھان منتری نے کیا کہہ دیا ؟ صنعتکار مکیش امبانی اور اپنے اہم دوست گوتم اڈانی کا نام اکثر کانگریس نیتا راہل گاندھی کی تقریب میں سنائی دیتا رہا ہے مگر پردھان منتری بننے کے بعد یہ پہلی بار جب نریندر مودی نے چناوی ریلی میں امبانی اڈانی کا نام لیتے ہوئے کانگریس پر تنقید کی ہے ۔پی ایم مودی نے بدھوار کو تلنگانہ کے کریم نگر میں ایک چناوی ریلی میں کہا :جب سے چناو¿ کا اعلان ہوا ہے انہوںنے (راہل گاندھی) امبانی - اڈانی کو گالیاں دینا بند کر دیا ۔راہل گاندھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پی ایم مودی بولے میں آج تلنگانہ کی سرزمین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ شہزادے اعلان کریں کہ چناو¿ میں یہ امبانی - اڈانی سے کتنا مال اٹھایا ۔کالے دھن کے کتنے بورے بھر کر بٹورے ہیں آج ٹیمپو بھر کر ناٹ کانگریس کیلئے پہونچے ہیں؟ کیا سودا ہوا؟ آپ نے راتوں - رات امبانی اڈانی کو گالی دینابند کر دیا ضروری دال میں کچھ کالا ہے ۔پانچ سال تک امبانی - اڈانی کو گالی دی اور راتوں رات گالیاں بند ہو گئی مطلب کوئی کوئی چوری کا مال ٹیمپو بھر کر آپ نے تھاما ہے ۔دیش کو جواب دینا پڑے گا۔پی ایم مودی کے اس بیان پر راہل گاندھی نے بھی بدھوار کی شام کو اس کا جواب دیا ۔راہل گاندھی نے کہا نمسکار مودی جی تھوڑا ساگھبرا گئے کیا ۔عام طور پر بند کمروں میں اڈانی امبانی جی کی بات کرتے ہو یہ پہلی بار پبلک میں امبانی - اڈانی بولا ۔آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ ٹیمپو سے پیسہ دیتے ہیں ؟ ذاتی تجربہ ہے کیا ؟ راہل بولے ایک کام کیجئے سی بی آئی اور ای ڈی کو ان کے پاس بھیجئے پوری جانکاری کیجئے ۔جانچ کروائیے جلد سے جلد کاروائی شروع کی جائے ۔گھبرائیے مت میں دیش کے سامنے پھر دہرا کر کہہ رہا ہوں کہ جتنا پیسہ نریندر مودی جی کو دیا ہے میں اتنا ہی پیسہ اس ہندوستان کے غریبوں کو دینے جا رہاہوں انہوں نے 22 ارب پتی بنائے ہیں ہم کروڑ لکھ پتی بنائیں گے ۔سچ تو یہ بھی ہے کہ پچھلے پانچ سال سے راہل گاندھی اڈانی پر سیدھا حملہ کرتے رہے ہیں ۔فروری 2023 میں راہل گاندھی نے لوک سبھا کے اندر گوتم اڈانی اور پی ایم کی پلین میں بیٹھے ہوئے ایک تصویر دکھائی دی ۔راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں مودی سے سوال پوچھا تھا آپ اڈانی جی کے ساتھ کتنی بار غیر ملکی دورے پر گئے ؟ کتنی بار آپ کے دورے کے بعد اڈانی اس دیش گئے ہیں ؟ دورے کے بعد کتنے دیشوں سے اڈانی کو ٹھیکے ملے ہیں اس کے کچھ دنوں بعد مارچ 2023 میں ہتک عزت سے جھوٹے تک کے کیس میں سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کو دو سال کی سزا سنائی اور ان کی ایم پی شپ گئی ۔گھر گیا ،کانگریس کہہ رہی ہے کہ سوال ابھی بھی وہی ہے مودی کا اڈانی سے رشتہ کیا ہے ؟ فروری 2024 میں راہل نے کہا کہ رام مندر کے پروگرام میں امبانی نظر آئے لیکن کوئی غریب نہیں دکھائی دیا۔انڈیا ٹی وی سے بات چیت میں گوتم اڈانی نے کہا تھا کہ سال 2014 کے چناو¿ کے بعد جو لگاتار راہل جی ہمارے اوپر حملے کئے ہیں اس سے آپ لوگوں کو بھی اڈانی کون ہے یہ جاننے کا موقع ملا ۔سوال یہ بھی ہے کہ مودی کہا کہ بلیک منی امبانی اور اڈانی نے ٹیمپو بھر کر راہل گاندھی کو پہونچائی ۔کیا اس کا مطلب ہے کہ ابھی بھی بلیک منی ہے ؟ ہم نے تو سوچا تھا کہ نوٹ بندی کے بعد بلیک منی ختم ہو گئی ہوگی ؟ مودی جی نے پتہ نہیں یہ کام کیوں کیا؟ جو ہاتھ کھلاتا رہا ہے اسی کو کاٹ دیا ۔مودی کا یہ داو¿ بوکھلاہٹ ہی دکھاتا ہے جو کہیں الٹا نہ پڑ جائے ۔
(انل نریندر)
09 مئی 2024
پیوش گوئل کی پہلی چناوی پریکشا!
مہاراشٹر میں اس بار کا عام چناو¿ کئی معنوں میں دلچسپ ہے ۔دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی نارتھ سیٹ پر بھاجپا نے 2 بار ایم پی رہے گوپال شیٹھی کا ٹکٹ کاٹ کر مرکزی وزیر پیوش گوئل کو میدان میںاتارا ہے ۔مہاراشٹر سے راجیہ سبھا ایم پی پیوش گوئل پہلی بار لوک سبھا کے چناوی دنگل میں اتر ے ہیں وہیں کانگریس ڈھائی دہائی سے پارٹی کے ساتھ کھڑے زمینی نیتا بھوشن پاٹل پر بھروسہ جتایا ہے ۔دونوں چناوی مہابھارت میں مراٹھی ووٹ پانے کیلئے گجراتی اور مارواڑی آبادی کو اپنی طرف لانے کیلئے زور لگا رہے ہیں ۔ممبئی نارتھ سیٹ پر 47 فیصد ووٹر مراٹھی ہیں جبکہ 20 فیصد مسلم ہیں ۔13 فیصد ووٹر گجراتی اور مارواڑی ہیں اور ان کا کل ووٹ 2 لاکھ سے زائد ہے ۔باقی ووٹ دیگر فرقوںمیںہے ۔بھاجپا کو امید ہے کہ مراٹھی اور مارواڑی ووٹ کیساتھ دیگر برادریوں کا بھی ووٹ ملتا ہے تو 2019 کے عام چناو¿ میں ملی ریکارڈ جیت کو آسانی سے دہرایا جاسکتا ہے ۔کانگریس نے بھی پہلے گجراتی نژاد کے نام پر غور کیا تھا لیکن بعد میں پاٹل کو میدان میںاتار دیااس سیٹ پر بھاجپا 7 بار جبکہ کانگریس 6 بار جیت درج کر چکی ہے ۔وہیں انڈیا الائنس میں سیٹ بٹوارے کے تحت ادھو گروپ نے یہ سیٹ کانگریس کے لئے چھوڑی تھی ۔سیٹ بٹوارے میں جب یہ سیٹ ادھو ٹھاکرنے نے کانگریس کو دی تو پارٹی نے یہاں سے لڑنے سے ہی منع کر دیا تھا ۔کانگریس نے حلقہ سے ادھو گروپ کے نیتا ونود گوسالکر کو کانگریس کے چناو¿ نشان پر چناو¿ لڑنے کو کہا لیکن انہوں نے بھی منع کر دیا ۔کانگریس نے بھوشن پاٹل کو پیوش گوئل کے سامنے میدان میں اتار دیا ہے ۔2019 میں مہاراشٹر 288 اسمبلی سیٹوں پر چناو¿ ہوا تھا ان میں 105 سیٹیں بھاجپا شیو سینا کو 56 این سی پی کو 54 ،کانگریس کو 44 سیٹیں ملی تھیں ۔ممبئی نارتھ سیٹ کے تحت آنے والی کوری ولی اسمبلی حلقہ میں بوری ولی پر نیشنل پارک کشش کا مرکز ہے ۔اس کا علاقہ گارڈن کے طور پر ڈولپ ہوا تھا یہاں پر آدھا کلو میٹر پر الگ الگ تھیم پر ہریالی دیکھنے کو ملتی ہے ۔گوپی ناتھ منڈے گارڈن میں تار کے پیڑ لوگوں کو خوب بھاتے ہیں ۔کنہری گفا بھی سیاحوں کو خوب لبھاتی ہے ۔پیوش گوئل نے دعویٰ کیا ہے کہ نارتھ ممبئی کو اتم ممبئی بنائیں گے ۔سچ میں پانی کا مسئلہ سلجھائیں گے ۔نارتھ ممبئی اور گوئی کی جھگی میں رہنے والوں کو وہیں پر پکے مکانوں میں بسایا جائے گا ۔ان کے مطابق نئی بھاجپا کی تشکیل کے بعد لوگوں کا ہر مسئلہ دور کیا جائے گا ۔کانگریس نے بھوشن پاٹل کو پیوش گوئل کیخلاف میدان میںاتارا ہے وہ ممبئی یونٹ کے کانگریس صدر بھی ہیں ۔2009 کے عام چناو¿ میں کوری ولی سیٹ سے بھی چناو¿ لڑ چکے ہیں ۔پاٹل پچھلے 25 سال سے پارٹی کیلئے کام کر رہے ہیں ۔پاٹل مرکزی فلم سینسر بورڈ کی کمیٹی کے ممبر ہونے کیساتھ بیسٹ کمیٹی بھی ممبر کے طور پر شامل ہیں ۔
(انل نریندر)
شتروگھن سنہا بنام ایس ایس اہلووالیہ!
مغربی بنگال کی آسنسول لوک سبھا سیٹ کبھی کمیونسٹ پارٹی کا گڑھ ہوا کرتی تھی اب اس سیٹ پر بھاجپا ترنمول کانگریس کے درمیان بالا دستی کی لڑائی ہے ۔ترنمول کانگریس نے اداکار سے نیتا بنے شارٹ گن سنہا یعنی شتروگھن سنہا کو میدان میں اتارا ہے ۔وہیں ضمنی چناو¿ میں سیٹ گنوانے والی بھاجپا نے جیت یقینی کرنے کیلئے بھاجپا نیتا ایس ایس اہلووالیہ کو میدان میںاتارا ہے ۔دونوں پارٹیاں دعویٰ کررہی ہیں کہ وہ اس بار ریکارڈ ووٹوں سے جیت حاصل کریں گی ۔ایس ایس اہلووالیہ 2014 کے عام چناو¿ میںدارجلنگ اور 2019 کے چناو¿ میں بردوان درگا پور سیٹ سے چناو¿ جیتے تھے ۔حالانکہ آسنسول لوک سبھا حلقہ کے تحت سات سیٹیں آتی ہیں ان میں سے پانڈیشور ،رانی گنج ،جموریہ ،آسنسول نارتھ بربانی پر ترنمول کانگریس کا قبضہ ہے وہیں دو سیٹیں پلٹی وآسنسول ساو¿تھ پر بھاجپا کاقبضہ ہے ۔آسنسول سے چناو¿ لڑر ہے شتروگھن سنہا نے کہا ہے کہ جنتا مجھے ریکارڈ ووٹوں سے پارلیمنٹ پہونچائے گی ۔میری جیت کا پچھلا ریکارڈ بھی اس مرتبہ ٹوٹ جائے گا ۔آسنسول پارلیمانی حلقے سے مسلسل پچھڑ رہی ترنمول کانگریس کی جیت کا خواب شتروگھن سنہا نے ہی تعبیر کیا ہے ۔2014 اور2019 لوک سبھا چناو¿ میں ترنمول کانگریس کے نیتاو¿ں نے ونر بننے کے لئے کافی محنت کی تھی ۔حالانکہ بھاجپا نے یہاں بازی مار لی تھی ۔سیٹ پر پہلا چناو¿ 1957 میںہوا تھا۔1957 اور1962 کا چناو¿ کانگریس نے 1967 میں جوائنٹ شوسلسٹ پارٹی نے جیتی تھی ۔کانگریس چار جبکہ سی پی آئی ایم نے 9 بار جیتی ہے ۔1989 سے 2009 تک لگاتار 7 بار سی پی آئی ایم جیتی ۔بھاجپا کے ٹکٹ پر 2014 اور 2019 کا چناو¿ بابل سپریو جیتے تھے ۔سپریو بھاجپا چھوڑنے کے بعد سی پی آئی ایم کے قلعے میں ترنمول نے 2022 کے ضمنی چناو¿ میں پہلی بار سیندھ لگائی اور شتروگھن سیٹ سے ایم پی چنے گئے ۔بابل سپریو مارچ 2010 میں بھاجپا میں شامل ہوئے تھے ۔2014 کے عام چناو¿ میںبھاجپا نے انہیں آسنسول سے میدان میںاتارا اور انہوں نے ترنمول کانگریس کی امیدوار ڈولا سینا کو ہرا دیا ۔مرکزی سرکار میں انہیں شہری ترقی اور آواس اور شہری کام وزارت اور بھاری صنعتیں وزارت سنبھالنے کی ذمہ داری بھی نبھائی ۔2019 کی سرکار میں رہے وزیر مملکت ماحولیات بنایاگیا۔31 جولائی 2021 کو انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا ۔18 ستمبر ،2021 کو ابھیشیک بنرجی کی رہنمائی میں ترنمول کانگریس کادامن تھام لیا ۔16 اپریل ،2022 کو بالی گنج اسمبلی سیٹ سے ممبر اسمبلی بنے اور ممتا سرکار میں انہیں وزیر بنایا گیا۔بھاجپا نے بھوجپوری سنگر پون سنگھ کو میدان میں اتارا تھا ۔لیکن بعد میں انہوں نے نام واپس لے لیا تھا ۔آسنسول حلقہ صنعتی علاقہ ہے جس میں خاص طور سے لوہا و کوئلہ صنعتیں ہیں یہ بنگال کا دوسرا بڑا اور زیادہ آبادی والا علاقہ ہے ۔آسن (1 پیڑ کی شکل ہے جو 30 میٹرتک لمبا ہوتا ہے)سول زمین کو کہتے ہیں انہیں دو لفظوں کو اس آسنسول سیٹ کا نام پڑا۔
(انل نریندر)
07 مئی 2024
اس بار گری راج سنگھ کا سیدھا مقابلہ ہے !
کبھی کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کا گڑھ رہا بیگو سرائے لوک سبھا حلقہ پر پچھلی ایک دہائی سے بھاجپا کا قبضہ ہے اس بار یہاں سے بھاجپا امیدوار کی شکل میں مرکزی دیہات ترقی وزیر گری راج سنگھ ایک بار پھر سے میدان میں ہیں ۔ان کا مقابلہ بھارتی کمیونسٹ پارٹی ،سی پی آئی کے نیتا ابدھیش رام سے ہے ۔اس بار بھاجپا کے سامنے جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کی چنوتی ہے وہیں بھارتی کمیونسٹ پارٹی تین دہائی بعد یہاں جیت حاصل کر واپسی کیلئے کوشش میں لگی ہے ۔یہاں عام چناو¿ میں بھلے ہی جیت کسی پارٹی کی ہو زیادہ تر بار مقابلہ میں بھاجپا ہی رہی ہے۔1952 سے 2019 تک کے لوک سبھا چناو¿ میں 9 بار یہاں سے کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔دو دو بار سی پی آئی ،جے ڈی یو اور بھاجپا نے اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی ۔اس لوک سبھا حلقہ میں 2014 میں بھاجپا کاکھاتہ کھلا تھا ۔پچھلے لوک سبھا چناو¿ میں یہ پارلیمانی حلقہ جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر اور کمیونسٹ امیدوار کنہیا کمار کے چناو¿ لڑنے کے سبب سرخیوں میںآیا تھا ۔تب بھاجپا کے فائر برانڈ لیڈر گری راج سنگھ نے کنہیا کمار کو ہرایا تھا اس وقت چناوی لڑائی جے ڈی ایس اور آر جے ڈی امیدوار تنویر حسن بھی بنے تھے ۔اور انہوں نے قریب 2 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے ۔اس کے باوجود گری راج چار لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے تھے ۔اس بار مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے بڈھ باڑہ اسمبلی سے تین بار ممبر اسمبلی رہے ابدھیش رام پر بھروسہ جتایا ہے ۔2019 میں این ڈی اے اتحاد اور اپوزیشن بکھرا ہوا ہے لیکن اس بار سیاسی تصویر بدلی ہوئی ہے ۔این ڈی اے کا سائز بڑھا ہے تو انڈیا اتحاد نے بھی آر جے ڈی ،کانریس اور لیفٹ پارٹیاں ایک ساتھ ہیں ۔ایسے میں بیگوسرائے میں کانٹے کا مقابلہ ہونے کے آثار ہیں ۔مہا گٹھبندھن کی مقبول بنیاد ،ذات پات ،سماجی تجزیہ ہے تو این ڈی اے مودی میجک کے سہارے بازی پلٹنے کو تیار ہے ۔وزیراعلیٰ تنیش کمار کا وکاس کام بھی این ڈی اے کے ساتھ ہے ۔حلقہ سے موجودہ ایم پی گری راج سنگھ این ڈی اے کے ٹکٹ پر مسلسل دوسری مرتبہ میدان میں ہیں ۔بیگو سرائے میں دونوں اتحاد اپنے اپنے تجزیہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔ذات کی بنیاد پر پولارائزیشن کی صورتحال بھاجپا کے لئے پریشانی بڑھا سکتی ہے ۔بیگو سرائے سیٹ آزادی کے بعد پہلے چناو¿ 1952 میں ہی وجود میںآگئی تھی ۔ان 70 برسوں میں حلقے کی تصویر بدلی ہے ۔پہلے بیگوسرائے میں 2 پارلیمانی حلقہ تھے ایک بلیا ،دوسرا بیگوسرائے دیکھنا اب یہ ہے کہ دونوں کو ملا کر ایک پارلیمانی حلقہ بیگوسرائے بنا دیا گیا ہے ۔2009 کی حد بندی کے بعد اس سیٹ پر این ڈی اے کا قبضہ ہے ۔2009 میں جے ڈی یو کے مناظر حسن نے کمیونسٹ پارٹی کے شتروگھن پرساد سنگھ کو ہرایا تھا ۔2016 میں بھاجپا اور جے ڈی یو کے الگ ہو جانے کے بعد نوادہ کے ایم پی بھولا سنگھ کو بھاجپا نے امیدوار بنایا اور وہ جیتے ۔چناو¿ کمپین تیز ہونے کے ساتھ ہی حلقہ کے اشو بھی تیزی سے اٹھ رہے ہیں ۔صاحب پور کمال کھنڈ کے کرہا بازار کے باشندے کہتے ہیں کہ بیگو سرائے میں اچھے ہسپتال کی کمی میں سینکڑوں پیچیدہ اور لاچار مریض دیش بھر میں بھٹکتے ہیں ۔اور کسانوں کا کہنا ہے کہ وقتا ً فوقتاً ٹیسٹ اور کھاد بیج مل رہا تھا لیکن ضلع میں زرعی پروسیسنگ صنعتوں کی کمی ہے یہاں کے کسانوں کو مکا ،آلو وغیرہ چیزوں سے بننے والے درجنوں پروڈکٹس کو پروسیسنگ کے ذریعے زیادہ منافع ملنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
کیا سیکس اسکنڈل چناوی فضا ءبدلے گا؟
کرناٹک میں بی جے پی - جے ڈی ایس اتحاد کے امیدوار پرجول ریونا کے مبینہ جنسی اذیت کے ویڈیو کو پینڈرائیو کے ذریعے پبلک کرنے کا معاملہ کرناٹک میں کسی اسکنڈ ل کے بے نقاب ہونے کے طریقے میں ایک بڑی تبدیلی کو دکھاتا ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب ریاست میں لوک سبھا انتخابات کا گھماسان شباب پر ہے ۔اس سے پہلے ریاست کی چناوی تاریخ میں کسی مبینہ سیکس اسکنڈل کا اس طرح سے سیکس اسکنڈل بے نقاب نہیں ہوا تھا ۔ہر طرح کے پارٹی ورکر شوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے استعمال کے بجائے اس طرح کے پینڈڈرائیو کے بس اسٹاف ،پارکوں اور دیہات میں لگنے والے میلوں یہاں تک کے گھروں ،ڈمپ کئے جانے سے مایوس ہے ۔پینڈ ڈرائیو ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ہاسن لوک سبھا سیٹ پر ووٹ پڑنے میں چند ہی دن باقی بچے تھے ۔کرناٹک میں ہاسن لوک سبھا سیٹ ان 14 سیٹوں میں سے ایک ہے جہاں ریاست کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت ووٹ پڑے تھے ۔دوسرے مرحلے کا چناو¿ ہوتے ہی اپوزیشن کو ایک ایسا چناوی ہتھیار مل گیا ہے جس کے بوتے پر وہ باقی مرحلوں میں چناوی فضا کو بدلنے کی کوشش میں لگ گئی ہے ۔بھاجپا کی پولارائزیشن کی پالیسی پر بیک فٹ پر چل رہی اپوزیشن کو کرناٹک کے جے ڈی ایس نیتا پرجول ریونا کے مسئلے نے ایسی سنجیونی دے دی ہے جس کے بیک فٹ پر آئی اپوزیشن فرنٹ فٹ پر آگئی ہے ۔فرنٹ فٹ پر آکر کھوجنے لگے ہیں اس پورے معاملے سے خاتون حفاظت کا اشو چناو¿ کے مرکز میں آگیا ہے ۔الزام تراشوں کے درمیان بھلے ہی ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہولیکن جنتا کے درمیان یہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔اپوزیشن پارٹی کانگریس ہی نہیں انڈیا اتحاد ، دیگر پا رٹیاں بھی اپنے اپنے اثر والی ریاستوں میں اس مسئلے کو زور وشور سے اٹھا کر بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں کو گھیرنے میں لگی ہیں ۔اپوزیشن حملہ آور ہے اور حکمراں فریق صفائی دینے میں لگا ہے ۔چناوی موسم میں کرناٹک کے اس مقبول سیکس اسکنڈل کے آنے سے عورتوں سے جڑے دیگر اشو بھی ادھڑنے شروع ہو گئے ہیں ۔اپوزیشن منی پور سے لیکر اناو¿ ،ہاتھرس ،کانپور اور وارانسی ،بلقیس بانو کے ملزمان کو پھولوں سے خیر مقدم کرنے کے واقعات کو اچھال کر بھاجپا پر حملہ آور ہے ۔دیش کی پہلوان بیٹیوں کے ساتھ ہوئے جنسی اذیت معاملے کو طول دیا جارہا ہے ۔ان سب کے ذریعے اپوزیشن ووٹوں کے درمیان یہ نگیٹو ماحول بنانے میں لگ گئی ہے ۔بھاجپا خاتون مخالف ہے حالانکہ معاملہ جے ڈی ایس لیڈر کا ہے لیکن چونکہ اس کا اتحاد بھاجپا کے ساتھ ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے پرجول ریونا کے لئے خاص طور پر ووٹ مانگا تھا وہ بھی جانتے ہوئے کہ وہ ایک آبرو ریز شخص ہے ۔اس نے اپوزیشن کے حملوں کو اور تلخ کر دیاہے ۔اپوزیشن کو لگ رہا ہے کہ پرجول ریونا کی شکل میں اسے ایک ایسا اشو مل گیا ہے جو کہ آنے والے مرحلوں میں بھاجپا کی چ ناوی مہم کو نقصان پہونچا سکتا ہے ۔اپوزیشن اسی بنیاد پر اس سیکس اسکنڈل سے اپنے امکانات تلاش رہی ہے ۔اپوزیشن اس پورے مسئلے پر اپنا ایجنڈہ سیٹ کررہی ہے اور بھاجپاکو صفائی دینی پڑرہی ہے ۔اپوزیشن کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھلے ہی اس کے بیرون ملک بھاگنے کو لیکر ریاست کی کانگریس سرکار کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہو لیکن جنتا کے درمیان یہ اشو کافی گرم ہے ۔پی ایم مودی سے لیکر تمام بڑے نیتا ڈیمج کنٹرول میں لگے ہوئے ہیں ۔فقط شکی کیساتھ کھڑے ہونے کی بات کہہ رہے ہیں ،۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...