Translater

13 جنوری 2018

دہشت گردی سے جڑنے کیلئے راغب کرتے ہیں مدارس

اترپردیش سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین سید وسیم رضوی نے وزیر اعظم کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے مدرسوں کو بند کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس خط میں دیش بھر میں چل رہے مدرسوں کیلئے جنرل تعلیمی پالیسی بنائی جائے۔ کارپوریشن نے الزام لگایا ہے کہ ایسے اسلامی اسکولوں میں دی جارہی تعلیم طلباء کو دہشت گردی سے وابستہ کرنے کیلئے ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مدرسے بچوں کو کٹر پسند بنا رہے ہیں جس سے وہ آتنک وادیوں کے آسان شکار بنتے جارہے ہیں۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ کتنے مدارس نے انجینئر، ڈاکٹر و آئی اے ایس افسر تیار کئے ہیں؟ البتہ کچھ مدارس سے دہشت گرد ضرور پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ہی نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ تر مدارس ذکات یعنی عطیہ کے پیسوں سے چل رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے یہ پیسہ دیش کے علاوہ بنگلہ دیش ، پاکستان جیسے ممالک سے آتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مدارس کی جگہ پر ایسے اسکول بنیں جو سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن یا آئی سی ایس ای سے الحاق ہوں۔ ایسے اسکول طلبا کے لئے اسلامی تعلیم کو ایک متبادل مضمون کی پیشکش کریں گے۔ بورڈ نے تجویز پیش کی ہے کہ سبھی مدرسہ بورڈ کو بھنگ کردیا جانا چاہئے۔ شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے دعوی کیا کہ دیش کے زیادہ تر مدرسے منظور شدہ نہیں ہیں۔ ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبا بے روزگاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ ایسے مدارس تقریباً ہر شہر، قصبے اور دیہات میں کھل رہے ہیں اور ایسے ادارہ گمراہ کرنے والی مذہبی تعلیم دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مدارس کے چلانے کے لئے پیسے پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھی آتے ہیں اور کچھ آتنک وادی تنظیمیں بھی ان کی مدد کرتی ہیں۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان خلیل الرحمان سجا د نعمانی نے کہا کہ آزادی کی لڑائی میں مدرسوں کا اہم ترین اشتراک رہا ہے اور رضوی ان پر سوال اٹھا کر ان کی توہین کررہے ہیں۔ مولانا خالد رشید پھرنگی محلی (امام عید گاہ لکھنؤ) نے کہا کہ رضوی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ مدرسے نے ہی دیش کو مولانا ابوالکلام آزاد جیسا پہلا وزیر تعلیم دیا۔ یہ ہی نہیں میزائل مین اے پی جے عبدالکلام کی ابتدائی تعلیم بھی مدرسے میں ہوئی تھی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے اسدالدین اویسی نے کہا کہ رضوی نے آرایس ایس کو اپنا ضمیر بیچ دیا ہے اور ان کے پاس مدرسوں میں آتنکی پیدا ہونے کا کوئی ثبوت ہو تو اسے وزیر داخلہ کو دکھائیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ مدرسوں میں نگرانی کو لیکر چل رہی بحث کے درمیان پاکستان نے دہشت گردوں کے گڑھ مانے جانے والے خیبرپختون خواہ میں مدرسوں پر شکنجہ کسنا شوع کردیا ہے۔ وہاں کی حکومت نے مدرسوں کو اب سیدھے سرکاری کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ان کا رجسٹریشن ، نصاب، پڑھائی اور نگرانی محکمہ اسکول کے ماتحت کردی گئی۔ مانا جارہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی سپلائی لائن کاٹنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ دراصل 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت فوج کے خلاف لڑائی کیلئے آتنکی پیدا کرنے میں خیبرپختون خواہ علاقہ میں بڑے پیمانے پر مدرسے کھولے گئے تھے۔ کبھی پاکستان حکمت عملی کا حصہ مانے جانے والے مدرسے اب اس کے ہی گلی کی پھانس بن گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مدرسوں کی پہچان ان سے جڑے آتنکی و کٹر پنتھی تنظیم کے ساتھ جڑاؤ کو لیکر ہونے لگی ہے۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ پورے پاکستان میں پھیلے مدرسوں سے نکلنے والے طالبعلم دہشت گرد تنظیموں اور کٹر پسند جماعتوں کی لائف لائن بن گئے ہیں۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں کٹر پسند جماعتوں کے دھرنے کے سبب بھڑکے تشدد اور اس کی مانگ کے آگے جھکتے ہوئے وزیر قانون کے استعفیٰ کے بعد پاکستان میں مدرسوں پر شکنجہ کسنا تیز ہوگیا ہے۔ یہاں توجہ دینی کی بات یہ ہے کہ خیبر پختون خواہ میں عمران خان کی پارٹی پاکستانی میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق خیبر پختونخواہ سرکار نے سبھی مدرسوں کو اب اسکولی تعلیم محکمے میں رجسٹریشن کرانے کولازمی قراردیا ہے۔ اسکولی محکمہ تعلیم بھی اب ان مدرسوں کا نصاب تیار کرے گا اور طلبا ء کا امتحان بھی لے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسکولی تعلیم محکمہ ان مدرسوں کی نگرانی کرے گا۔ ادھر وسیم رضوی نے وزیر اعظم کو خط میں آگے لکھا ہے کہ مدرسوں میں دی جارہی تعلیم آج کے ماحول کے حساب سے جائز نہیں ہے اور اس لئے وہ دیش میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد کو بڑھاتی ہے۔
رضوی نے کہا کہ مدرسوں سے پاس ہونے والے طلباء کو روزگار ملنے کے امکانات کافی کم ہیں اور انہیں اچھی نوکریاں نہیں ملتیں۔ زیادہ سے زیادہ اردو ترجمان یا ٹائپسٹ کی نوکریاں مل جاتی ہیں۔ بھاجپا نے کہا ہے کہ مرکز اور اترپردیش سرکار اترپردیش کی بھاجپا سرکاروں کے پاس مدرسوں کو بند کرنے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ پارٹی کے ترجمان سید شاہ نواز حسین نے دعوی کیا کہ اس کے بجائے سرکاریں مدرسوں میں جدید تعلیم مہیا کرانے کی سمت میں کام کررہی ہیں۔
(انل نریندر)

12 جنوری 2018

ریسرچ اسکالر منان وانی بنا دہشت گرد

اگر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اے ایم یو میں ریسرچ اسکالر منان بشیروانی کے دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہونے کی خبر صحیح ہے تو یہ چونکانے والی تو ہے ہی ساتھ ہی ساتھ تشویش بھی پیدا کرتی ہے۔ کوئی انپڑھ اگر کسی مجبوری کے سبب دہشت گردی کا سہارا لیتا ہے تو بات سمجھ آتی ہے مگر ریسرچ اسکالر دہشت گردی کے راستے پر چلا جائے یہ چونکانے والی بات ضرور ہے۔ اب پہلا والا تصور کمزور ہوتا جارہا ہے کہ غریب، کم پڑھا لکھا یا بے روزگار نوجوان ہی جہادی پروپگنڈہ کا شکار ہوتا ہے اور دہشت گرد بنتا ہے۔ یہ ہی نہیں ہم نے کئی آتنکی ایسے دیکھے ہیں جو نہ صرف اعلی تعلیم یافتہ ہیں بلکہ کئی تو انجینئر اور ڈاکٹری کے پیشے میں تھے۔ حزب المجاہدین کا دہشت گرد رہا برہان وانی بھی اے ایم یو سے ریسرچ کررہا تھا۔ سری نگر میں ایک نیوز ایجنسی کو پیر کو دئے گئے بیان میں حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین نے کہا کہ منان وانی کا ہماری تنظیم میں شامل ہونا ہندوستانی پروپگنڈہ کی پول کھولتا ہے کہ کشمیری نوجوان بے روزگاری اور اقتصادی تنگی کے سبب دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوتاہیں۔اردو میں دئے گئے بیان میں صلاح الدین نے وانی کے حزب المجاہدین میں شامل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں سے تعلیم یافتہ اور لائق کشمیری نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہورہے ہیں۔ نارتھ کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے لولاب علاقہ کا رہنے والا وانی پچھلے ہفتے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اسے 4 جنوری سرحد پار کر لوٹنا تھا۔ 
سوشل میڈیا پر اے کے ۔47 رائفل کے ساتھ اس کی تصویر سامنے آنے کے بعد خبریں آرہی تھیں کہ شاید وہ آتنکی تنظیم میں شامل ہوگیا ہے۔ جس کے بعد اے ایم یو نے 25 سالہ اس ریسرچ اسکالر کو نکال دیا تھا۔ حزب المجاہدین کا آتنکی رہا برہان وانی بھی اے ایم یو میں ریسرچ کررہا تھا۔ ویسے دہشت گردی کے خونی کھیل میں صرف بھارت کے ہی بچے نہیں پھنسے ہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ اور حیرت انگیز طریقے سے پڑوسی بنگلہ دیش کے نوجوان بھی ہیں۔ پچھلے سال 2016-17 میں ڈھاکہ کے ریستوراں میں مار گرائے آتنکیوں میں سے سبھی رئیس گھروں کے اور شریف بچے تھے۔ امریکی جانچ ایجنسی کے مطابق امریکہ پر 9/11 حملہ میں شامل دو تہائی آتنکی تعلیم یافتہ تھے۔ اعدادو شمار پر بھروسہ کریں تو دنیا بھر میں قریب 62 فیصدی آتنکی نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ان کی فیملی بیگ گراؤنڈ بھی کافی اچھا ہے۔ سیکورٹی محکمے کی ایک بڑی چنوتی سوشل میڈیا پر لگام کسنے کی بھی ہے جہاں سے نوجوان دہشت گردی کے راستے پر چلنے کے لئے راغب ہورہے ہیں۔
(انل نریندر)

دھارمک مقامات سے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کامعاملہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے 20 دسمبر کو اترپردیش سرکار سے پوچھا تھا کہ مندر،مسجد، گورودوارہ اور دیگر پبلک مقامات پر لگے لاؤڈ اسپیکر انتظامیہ کی تحریری اجازت سے لگائے گئے ہیںیا نہیں؟ اگر نہیں تو انہیں ہٹانے کے لئے حکومت کی طرف سے کیا کارروائی کی گئی؟ اس پر ریاستی حکومت نے سبھی ضلعوں سے معلومات اکٹھی کرنی شروع کردی تھی۔ ٹیم پتہ کرے گی کہ کتنے دھرمااستھلوں پربغیر اجازت کے لاؤڈ اسپیکر بجائے جارہے ہیں۔ جن دھرم استھلوں کے پاس اجازت نامہ نہیں ہے ان کے منتظمین کو15 جنوری سے پہلے اجازت حاصل کرنے کے لئے درخواست کا فارم دستیاب کرایا جانا چاہئے۔ اس میں دو رائے نہیں آواز آلودگی دنوں دن بڑھتی جارہی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ چاہے ہوا اور پانی کی آلودگی بڑھتی جارہی ہے ویسے ہی ماحول میں ’شور آلودگی‘ بڑھ رہی ہے۔ آئے دن جلوس نکلتے رہتے ہیں اور ان میں حصہ لینے والوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دور تک ماحول گونجنا چاہئے۔ شادی کے سیزن اور تہواروں میں بھی شور بڑھ جاتا ہے۔ بینڈ باجوں کا شور تو رہتا ہی ہے پٹاخوں کی آواز پالوشن اور ہوائی پالوشن دونوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ دن رات کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ مندروں ، مسجدوں میں مذہبی کام کا حصہ مان کر کوئی انہیں روکتا ٹوکتا نہیں ہے۔ نہ کوئی پولیس میں شکایت کرتا ہے۔ کوئی کرے بھی تو پولیس ایسے معاملوں میں پڑنا نہیں چاہتی اور الٹے شکایت کنندہ کو اور منتظمین کی ناراضگی جھیلنی پڑتی ہے۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ شور آلودگی پر لگام لگے۔ اترپردیش نے اس کی شروعات کی ہے۔ البتہ یہ سرکاری پہل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک عدالتی حکم کا نتیجہ ہے۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کو کچھ دھارمک نیتاغلط بتا رہے ہیں۔ شنکر آچاریہ سوامی سروپ آنند سرسوتی نے کہا کہ کسی ایک مذہب کے خلاف کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کارروائی کرنی ہے تو سب سے پہلے مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر ہٹوائیں اور پھر ہمارے یہاں دیکھیں۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کی تعمیل ریاستی سرکار کے لئے آسان نہیں ہوگی۔ اگر سرکار کو کارروائی کرنی ہے تو ایک ساتھ سبھی شور کرنے والوں پر کرنی ہوگی۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری دھارمک روایت کے خلاف ہے اور عدالت و سرکار ہمارے مذہبی کاموں میں دخل اندازی کررہی ہے۔ اس کو روکنے کے لئے عام رائے بنانے کی کوشش ہونی چاہئے نہ کہ زور زبردستی سے عمل کیا جائے۔
(انل نریندر)

11 جنوری 2018

سال کی شروعات میں ہی مودی شاہ کا امتحان

دیش کی سب سے طاقتور سیاسی جوڑی وزیراعظم نریندر مودی اور بھاجپا صدر امت شاہ کو نئے سال کی شروعات میں ہی بڑی چنوتیوں کا سامنا کرناہوگا۔اس جوڑی کے سامنے فروری میں لوک سبھا کی 8 سیٹوں کے ضمنی چناؤ، کرناٹک اسمبلی چناؤ کی اگنی پریکشا ہوگی۔ سال 2017 نے جاتے جاتے پارٹی کی ساکھ میں اضافہ کرنے کے ساتھ ہی چنوتیوں کے تئیں آگاہ بھی کیا۔ ہماچل میں کانگریس سے اقتدار چھیننے کے ساتھ پارٹی نے گجرات میں مسلسل چھٹی مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ اترپردیش، مہاراشٹر کے بلدیاتی چناؤ میں بھی پارٹی کو جیت حاصل ہوئی لیکن گجرات اسمبلی چناؤ کے نتیجوں نے 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں دیہی ہندوستان سے چنوتی ملنے کا صاف سندیش دیا ہے۔ کرناٹک اسمبلی چناؤ کو لوک سبھا چناؤ کا سیمی فائنل بھی مانا جارہا ہے۔ بھاجپا اگر اس صوبے کو کانگریس سے آزادکراپائی تو گجرات چناؤ سے بدلی کانگریس صدر راہل گاندھی کی ساکھ پرانی پوزیشن میں پہنچ جائے گی۔ نتیجے کانگریس کے حق میں آنے سے راہل اور مزید طاقتور لیڈر بن کر ابھریں گے۔ 
نئے سال کے ابتدا میں نارتھ ایسٹ کی تین ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں ان تینوں ریاستوں میں بھاجپا پہلی بار اقتدار پانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی نارتھ ایسٹ کے اپنے ابھیان کو آگے بڑھانے کے لئے ابھی سے پرزور کوشش کررہی ہے وہیں کانگریس کی کوشش اس بڑھت کو کم کرنا ہے۔ اس چناؤ کے فوراً بعد فوکس کرناٹک پر چلا جائے گا۔ کانگریس کے ذمے اب پنجاب کے بعد صرف کرناٹک بڑی ریاست بچی ہے۔ کرناٹک میں ابھی سے سیاست گرم ہے۔ امت شاہ اور یدی یرپا کی لیڈر شپ میں وکاس یاترا نکل چکی ہے جبکہ کانگریس بھی اپنی پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ کرناٹک کو ساؤتھ میں اینٹری گیٹ مانا جارہا ہے۔ بی جے پی 2019 میں عام چناؤ سے پہلے ہر حال میں ریاست کو جیتنا چاہے گی۔ اس چناؤ کے بعد کچھ مہینوں تک خاموشی رہے گی لیکن اس کے بعد سب سے بڑی جنگ شروع ہوگی۔ مدھیہ پردیش ،راجستھان، چھتیس گڑ ھ اور میزورم میں چناؤ ہونے ہیں۔ میزورم کو چھوڑ کر باقی تین ریاستوں میں بی جے پی لمبے عرصے سے اقتدار میں ہے۔ واقف کاروں کے مطابق ان چناؤ کے نتیجے 2019 عام چناؤ کی رفتار کو قطعی طور پر سیٹ کریں گے۔ جنوری میں 7لوک سبھا اور 14 اسمبلی سیٹوں پر چناؤ ہونے ہیں۔ 2014 کے بعد پہلی بار ایک ساتھ اتنے لوک سبھا چناؤ سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہوں گے۔ عام چناؤ سے تقریباً سوا سال پہلے ہونے والے لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی چناؤ کی بڑی سیاسی اہمیت ہوگی۔
(انل نریندر)

چپل چور پاکستان

پاک جیل میں بند کلبھوشن جادھو سے ملنے حال ہی میں اسلام آباد گئی اس کی ماں اور بیوی کے ساتھ کیا گیا غیر انسانی برتاؤ کی گونج ساری دنیا میں ہورہی ہے۔ واشنگٹن میں ہندوستانی نژاد امریکیوں،افغان اور بلوچ شہریوں نے مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ کے پاکستانی سفارتخانے پر مظاہرین اپنے ہاتھوں میں’’ چپل چور پاکستان ‘‘ والے پوسٹر بھی لئے دکھائی دئے۔ مظاہرین نے جادھو پریوار کے ساتھ یکجہتی دکھاتے ہوئے سفارتخانے کو اپنے پرانے جوتے دان میں دے دئے۔ مظاہرین کا یہ مظاہرہ اسلام آباد دورہ کے دوران جادھو کی بیوی کی جوتیوں کو سیکورٹی سبب کا حوالہ دیکر اتروانے کے احتجاج میں تھا۔ مظاہرین نے امریکہ میں واقعہ پاک سفارتخانے کو اپنے پرانے جوتے دان میں بھی دے دئے۔ وہ اپنے ساتھ پرانی چپل بھی لیکر آئے تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ پاکستان نے جادھو کی بیوی کے چپل اس وقت چرائے تھے جب وہ مشکل میں تھیں۔ ایسے میں امید ہے پاکستان ہماری چپلوں کا استعمال کر سکے گا۔ ایک احتجاجی شخص نے بتایا کہ جادھو خاندان کے ساتھ کئے گئے برتاؤ سے پاک کے بیہودہ نظریئے کا خلاصہ ہوا ہے۔ امریکہ میں مقامی ہندو لیڈر گڈ یپتی نے کہا کہ پاک نے کلبھوشن کی ماں اور بیوی کے ساتھ جو برتاؤ کیا وہ انسانیت سے مذاق ہے۔ جادھو کی بیوی کی بندی اور کپڑے بدل وا کر اور چپل واپس نہ کرکے اس نے بھارت کی ایک پتی ورتا مہلا کے ساتھ غلط برتاؤ کیا ہے۔ پچھلے سال 25 دسمبر کو کلبھوشن کی ماں اور بیوی کے ساتھ اسلام آباد میں ہوئی ملاقات میں پاک نے انٹرکام پر بات چیت کے دوران انہیں پریشان کیا۔ پاک کا کہنا تھا کہ اس نے جادھو کی بیوی کے جوتے فورنسک جانچ کے لئے بھیج دئے ہیں کیونکہ اس میں پائی گئی مبینہ مشتبہ چیز کا پتہ لگایا جاسکے۔ حالانکہ بعد میں اس میں کچھ نہیں نکلا تھا۔ 
بتادیں کہ پاکستان نے مارچ2016 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے پچھلے سال اپریل میں اسے پھانسی کی سز ا سنائی تھی اور پچھلے ہی سال مئی میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے بھارت کی اپیل پر اس سزا پر روک لگا دی تھی۔ حال ہی میں پاکستان نے اپنی جیل میں بند ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کا ایک اور ویڈیو جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو کے ذریعے اسلام آباد یہ دکھانے کی کوشش کررہا ہے کہ جادھو ابھی بھی ہندوستانی بحریہ کے افسر ہیں ساتھ ہی انہیں پاکستان میں کوئی اذیت نہیں دی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

10 جنوری 2018

آدھار ڈیٹا سیندھ معاملہ میں کیس درج

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ایک ارب سے زیادہ آدھار کارڈ کا ڈاٹا چوری کرنے کی خبر کو لیکریو آئی ڈی اے آئی کی جانب سے انگریزی اخبار دی ٹریبیون کے نامہ نگار کے خلاف درج کرائی گئی ایک ایف آئی آر واپس لینے کی مانگ کی ہے۔ ساتھ ہی گلڈ نے اس معاملہ میں منصفانہ جانچ کی مانگ بھی کی ہے۔ ایف آئی آر درج کئے جانے کی تنقید کرتے ہوئے گلڈ نے کہا کہ وہ ان خبروں کو لیکر بہت فکر مند ہیں کہ ہندوستانی مخصوص شناخت اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) ڈپٹی ڈائریکٹر بی ایم پٹنائک نے دہلی پولیس کی کرائم برانچ میں دی ٹریبیون اخبار پر ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اخبار کی نامہ نگار رچنا کھیڑا پر آئی پی سی 419,420,468,471 اور انفورمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ و آدھار ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق پٹنائک نے پولیس کو خبر دی تھی کہ ’ٹریبیون ‘ اخبار سے یہ جانکاری ملی کہ اس نے واٹس ایپ پر نامعلوم ڈیلروں کے ذریعے پیش کی گئی ایک سروس خریدی جس میں ایک ارب سے زیادہ آدھار ، پین نمبر کی تفصیل دی گئی تھی۔ پولیس نے بتایا ایف آئی آر میں رپوٹر اور ان لوگوں کے نام ہیں جن سے نامہ نگار نے آدھار ڈیٹا خریدنے کے لئے رابطہ قائم کیا تھا لیکن انہیں ملزم کے طور پر نہیں دکھایا گیا۔ گلڈ نے کہا کہ رپورٹر کو سزا دینے کے بجائے یو آئی ڈی اے آئی کو مبینہ طور پر خلاف ورزی کی ایک گہری اندرونی جانچ کا حکم دینا چاہئے۔ اس کے نتیجے پبلک کرنے چاہئیں۔ گلڈ نے کہا کہ وہ مانگ کرتی ہے کہ متعلقہ سینٹرل وزارت اس میں مداخلت کرے۔ اخبار پر سے معاملہ واپس لیا جائے اور معاملہ کی منصفانہ جانچ کرائی جائے۔ گلڈ نے کہا کہ ایک نامہ نگار کی 3 جنوری کو ’دی ٹریبیون‘ کی خبر میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ کس طرح سے پیمنٹ بینک کو محض کچھ روپے ادا کئے جانے پر ایک پرائیویٹ گروپ کا ایجنٹ کسی شخص کے آدھار کارڈ میں موجود تفصیل تک پہنچ کا مبینہ طور پر راستہ بناتا ہے۔ گلڈ نے کہا کہ یو آئی ڈی اے آئی نے ایک بیان میں کسی طرح کی ڈیٹا چوری ہونے کے امکان سے انکار کیا ہے۔ کانگریس نے بھی آدھار کارڈ سے متعلقہ اعدادو شمار مبینہ طور سے بکنے والی خبر چلانے پر رپورٹر کے خلاف ایف آئی آر کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے سرکار پر الزام لگایا ہے کہ آدھار کا استعمال نگرانی اور جاسوسی کے لئے کیا جارہا ہے۔ کانگریس کی ترجمان شوبھاجھا نے کہا کہ آدھار کارڈ کا تصور بنیادی طور سے ہی غریبوں کو ان کا حق دینے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس سے متعلق اسکیموں کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا تھا جو اب نہیں ہے۔ مودی سرکار کی ضد کے سبب آدھار اپنے بنیادی مقصد سے ہٹتا جارہا ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جب وزیر اعظم گجرات کے وزیر اعلی تھے تو آدھار کارڈ کی سیکورٹی کے لئے بڑا خطرہ بتاتے تھے لیکن اب پی ایم بننے کے بعد انہوں نے اس میں متعلقہ خبروں کو نظر انداز کردیا ہے۔ ادھر ’دی ٹریبیون‘ اخبار کی رپورٹر رچنا کھیڑا نے تنازعہ پرکہا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کی ہے۔ اس ایف آئی آر کے بعد ٹریبیون نے کہا کہ حکام نے ایمانداری سے صحافت کرنے والے ادارے کو غلط سمجھا۔ اخبار کے چیف ایڈیٹر ہریش کھرے نے ایک بیان جاری کر کہا کہ اخبار ذمہ دار صحافت کے مطابق خبروں کی اشاعت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ افسران نے ایماندارانہ صحافت کرنے والے ادارہ کو غلط طریقے سے لیا ہے اور پردہ فاش کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کردی۔ کھرے نے کہا میرے معاون اور میں خود میڈیا اداروں اور صحافیوں کی طرف سے دکھائے جارہے اتحاد کو لیکر ان کا شکر گزار ہوں۔ چنڈی گڑھ میڈیا ہی نہیں بلکہ دہلی میڈیا اور یہاں تک کہ بین الاقوامی میڈیا سے بھی مجھے حمایت اور یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
(انل نریندر)

اگر کچھ غلط نہیں تو کیوں روپوش ہیں

ہائی کورٹ نے روہنی کے وجے وہار میں واقع ادھیاتمک یونیورسٹی کے بانی وریندر دیکشت کو اب تک عدالت میں پیش نہ ہونے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ عدالت نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے آشرم کے وکیل سے کہا کہ پہلے آپ کو شبہ کی بنیادپر موقعہ دیا گیا لیکن آگے ایسا نہیں ہوگا۔ عدالت نے دو ٹوک کہا کہ اگر آپ کچھ غیر قانونی کام نہیں کررہے ہیں اور لوگوں کی بھلائی کررہے ہیں تو آپ سامنے کیوں نہیں آتے؟ کیوں آپ کورٹ میں پیش نہیں ہوتے؟ آپ چھپ کر کیوں بیٹھے ہیں؟ کورٹ نے آشرم کے وکیل سے کہا یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ایک بابا دھرم کے نام پر غلط کام کررہا ہے اور ایک وکیل اس کی پیروی کرنے کے لئے یہاں کھڑا ہے۔ عدالت نے وکیل سے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں؟ آپ کو پتہ ہے کہ بابا کہاں ہیں۔ یہاں تک کہ آج کی سماعت کی پوری تفصیل بھی آپ بابا کودیں گے یہ بھی ہم جانتے ہیں۔ سماعت کے دوران کورٹ نے پولیس کو بھی کھری کھری سنائی۔ کورٹ نے ایس پی کو کہا کہ جب آشرم کی لڑکیوں نے شکایت دی تھی تو وہ بطخ کی طرح بیٹھے رہے۔ وریندر دیو دیکشت معاملہ میں کورٹ نے سماعت کے بعد ایک بار پھر دہلی وومن کمیشن کی چیئرمین سواتی مالیوال نے جم کر کھنچائی کی۔ انہوں نے کہا تھا کورٹ کے ذریعے مقرر ٹیم نے مختلف آشرموں سے 48 نابالغ لڑکیوں کو آزاد کرایا ہے۔ اس میں سے23 کے رشتہ دار ان سے ملنے آئے تھے۔ ایسے میں اب کوشش کی جائے گی کہ وہ اپنے گھر واپس جا سکیں۔ سواتی نے کہا کہ آشرموں سے آزاد کرانے کے بعد ان کا علاج کرانے کی بھی ضرورت ہے۔ وہاں رہ رہی عورتوں کے میڈیکل بنیادپر صاف ہوپائے گا کہ ان کی ذہنی پوزیشن کیسی ہے۔ آشرم سے آزاد کرانے کے بعد بھی ابھی تک سبھی نابالغوں کی میڈیکل جانچ کا کام پورا نہیں ہوپایا۔ ڈاکٹروں کی ٹیم سبھی کی جانچ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جیسے ہی یہ کام پورا ہوجائے گا تو سی ڈبلیو سی کی ٹیم اپنی رپورٹ کورٹ میں پیش کرے گی۔ اس کے بعد ہی صاف ہوگا کہ ان نابالغوں سے کتنی بار بدفعلی اور کسی طرح کی حرکت کی گئی۔ سی بی آئی نے بدھوار کو بابا کے خلاف تین مقدمہ درج کئے ہیں۔ دیکشت کے خلاف دو معاملہ مبینہ طور پر ریپ اور مجرمانہ طور پر دھمکانے سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ ایک معاملہ نامعلوم لوگوں پر درج کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو 19 دسمبر 2017 کو آشرم میں جانچ کرنے والی ٹیم کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام ہے۔
(انل نریندر)

09 جنوری 2018

راجیہ سبھا میں پھنساتین طلاق بل

تین طلاق بل فی الحال سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ دو ہفتہ کے چھوٹے سے سرمائی سیشن کی شروعات میں ہی لوک سبھا میں فوراً تین طلاق بل پاس ہونے سے جو امیدپیدا ہوئی تھی وہ راجیہ سبھا میں اس کے لٹک جانے سے فی الحال کافور ہوگئی ہے۔ شروعات کی طرح سرمائی اجلاس کا خاتمہ بھی ہنگامے دار رہا۔ مرکزی مودی سرکار اور اپوزیشن لیڈروں کے بیچ بل کو لیکر رضامندی نہیں بن پائی۔ اپوزیشن کی دلیل ہے دنیا میں کہیں بھی طلاق دینے پر شوہر کو جیل بھیجنے کی سہولت نہیں رکھی گئی ہے۔ اپوزیشن کا سوال ہے جب شوہر جیل بھیج دیا جائے گا تو متاثرہ عورت کو گزارہ بھتہ کون دے گا؟ اور شوہر کے جیل میں ہونے کے سبب گھر کا آمدنی کا ذریعہ کیا رہے گا اور کیسے عورت اور بچے کی کفالت ہوپائے گی؟ تین سال کی سزا پر اپوزیشن سب سے زیادہ اعتراض کررہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ سخت سزا ہے اس کا بیجا استعمال کئے جانے کا اندیشہ زیادہ ہے۔ ایوان بالا میں اکثریت نہ ہونے کے سبب سرکار کو اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت تھی جبکہ متحدہ اپوزیشن اس بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی مانگ پر اڑی رہی۔ سرکار بھی پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں نظر آئی۔ اب اس بل پر کوئی فیصلہ بجٹ سیشن میں ہی ہوگا۔ اس بل کو لیکر آرڈیننس جاری کئے جانے کے آثار نہیں ہیں۔ کانگریس، بیجو جنتادل اور تیلگودیشم سمیت 17 پارٹیوں کی مانگ تھی کہ بل کو پہلے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ ان پارٹیوں کی دلیل تھی کہ یہ معاملہ بہت ہی حساس ترین ہے لہٰذا اس میں اپوزیشن کی بات کو سمجھا جائے۔ سرکار کے پاس اب محدود متبادل ہیں۔ لوک سبھا سے پاس ہوچکا ہے، راجیہ سبھا میں التوا میں ہے۔ پارلیمنٹ کا موجودہ سیشن ختم ہوگیا ہے ایسے میں سرکار کے پاس آرڈیننس کے ذریعے اسے لاگو کرنے کا متبادل کھلا ہوا ہے۔اس طرح یہ قانون اگلے چھ مہینے کے لئے لاگو ہوجائے گا۔ جنوری کے آخر میں شروع ہو رہے بجٹ سیشن میں سرکار کو آرڈیننس کی کاپی دونوں ایوانوں میں پیش کرنی ہوگی۔ سرکار کے لئے یہ ضروری نہیں رہے گا کہ بجٹ سیشن میں وہ آرڈیننس کی جگہ لینے والے قانون کو پارلیمنٹ میں پاس کروائے۔ آرڈیننس لانا پڑا تو اس کی چھ مہینے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے تک سرکار کے پاس دو متبادل ہوں گے۔ پہلا سرکار کی صدر رامناتھ کووند کو راضی کرے کے وہ پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلائیں۔اس کے ذریعے آسانی سے بل پاس کرانے میں سرکار کامیاب رہے گی۔ دوسرے اگلے تین چار مہینے میں راجیہ سبھا کی قریب68 سیٹوں پر چناؤ ہورہے ہیں۔ ان سیٹوں پر چناؤ کارروائی پوری ہوتے ہی این ڈی اے کو راجیہ سبھا میں اکثریت مل جائے گی۔ وہاں سے بل پاس کرانے کی پوزیشن میں آجائے گی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس بھی بل کو پاس کرانا چاہتی ہے لیکن کچھ خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ کانگریس اور اپوزیشن کے ذریعے اٹھائے گئے سوالوں کا تسلی بخش جواب سرکار کو دینا چاہئے اور بل میں ضروری تبدیلی کرنی چاہئے۔ یہ سوال ووٹوں کا نہیں کروڑوں مسلم خواتین کے مستقبل کا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ سرکار بھی ٹھنڈے دماغ سے اپوزیشن کے جائز اعتراضات پر غور کرے گی اور ا ن میں ترمیم کرے گی۔
(انل نریندر)

کیا قائم رہیں گے ٹرمپ کے پاک مخالف تیور

نئے سال کے موقعہ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر تلخ حملہ کرتے ہوئے اس پر جھوٹ اور دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اب اسے اور مدد نہیں دی جائے گی۔ اس کے ٹھیک چار دن بعد امریکہ نے اس پالیسی پر اپنے قدم بڑھاتے ہوئے پاکستان کو دی جانے والی سبھی سیکورٹی امداد کوبند کردیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد جب تک افغان ، طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسی آتنکی تنظیموں کے خلاف قدم نہیں اٹھاتا تب تک یہ مدد نہیں دی جائیگی۔ ٹرمپ کی پھٹکار کے فوراً بعد امریکہ کو دی جانے والی 255 ملین ڈالر کی سیکورٹی مدد کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کو لیکر امریکہ کا رویہ نرم رہا ہے اور وہ اسے اقتصادی مدد بھی دھمکیوں کے باوجود رہتا رہا ہے لیکن ٹرمپ کے موڈ سے تو لگ رہا ہے کہ یہ پالیسی بدل رہی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے گذشتہ برسوں میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی مدد دینا بیوقوفی تھی اس کے بدلے میں انہیں پاکستان کی طرف سے دھوکہ کے سوائے کچھ نہیں ملا۔ لیکن ایسا کیوں ہے کبھی پاکستان کو بھاری بھرکم اقتصادی مدد دینے والا امریکہ اچانک اسے اتنی بے رخی کیوں دکھا رہا ہے؟ اس بارے میں پاکستان اور امریکہ کے رشتوں پر نظر رکھنے والے امریکہ کا جان ہاکنز یونیورسٹی میں پروفیسر جینیل مارکو نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانوں کے سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو لیکر امریکہ کا رویہ اب زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا اس سے پہلے کے صدور براک اوبامہ اور جارج بش کو لگتا تھا کہ پاکستان کو فنڈنگ دینے سے فائدہ ہوگا لیکن اب پاکستان کو پچکارنے کے بجائے ڈنڈہ دکھایا جانے لگا۔ امریکہ اب پاک کو دی جانے والی ساڑھے پچیس کروڑ ڈالر کی فوجی مدد روک رہا ہے جو فیصلہ اب تک ٹلتا رہا تھا۔مارکو کا اندازہ ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ کے فیصلوں میں مزید سختی آسکتی ہے۔ مثلاً آئی ایم ایف (بین الاقوامی مانیٹری فنڈ) جیسے اداروں سے بین الاقوامی قرض کے لئے حمایت دینے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بیشک امریکہ کو بھی پاکستان کی ضرور ت ہے کیونکہ پاکستان میں اس کے فوجی ہیں اور ان کے آنے جانے کے لئے دنیا کے نقشہ پر زیادہ راستے نہیں ہیں۔ ایران بند ہے، وسطی ایشیا میں روس کے ساتھ بھی امریکہ کے رشتے اچھے نہیں ہیں ایسے میں پاکستان سے ہوکر جانا واحد متبادل ہے۔ امریکہ کیلئے پاکستان کے اپنے فائدے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان نیوکلیائی خود کفیل ملک ہے جسے ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ ایسا بھی نہیں پاکستان ایک دم اکیلا ہے ،چین اس کا پرانا ساتھی ہے جو اسے اربوں ڈالر کی مدد دیتا آرہا ہے۔ امریکہ کے ذریعے اقتصادی مدد بند کرنے سے پاکستان پر اثر ہونے کے بہت کم آثار ہیں کیونکہ پاکستان کو اب بھی لگتا ہے کہ افغانستان اس کیلئے بیحد اہم ہے اور سخت رویئے کے ساتھ امریکہ بغیر پاکستانی مدد کے افغانستان میں لمبے عرصے تک پھنسا رہے گا۔ مدد رکنے کے بعد سے پاکستان ناراض ہے اور اس کی خاص دو وجہ ہیں پہلی نئے دوست چین کی بڑی سرمایہ کاری۔ پچھلے ایک سال میں چین نے6 ہزار 500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی ہے۔ دوسرے 2014 سے امریکی مدد کا لگاتار ہونا، مدد کی شکل میں ملے امریکی پیسے پاک کو لوٹانے نہیں ہوتے اس کے بدلے میں پاک شمسی ایئرفیلڈ اور دل ایئربیس کااستعمال امریکہ اور ناٹو فوج کو کرنے کو دیتا ہے۔
(انل نریندر)

07 جنوری 2018

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا امیدوار

عام آدمی پارٹی نے اپنے نیتا سنجے سنگھ، کاروباری سشیل گپتا اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ این ڈی گپتا کو دہلی کی تین راجیہ سبھا سیٹوں کیلئے اپنا امیدوار اعلان کیا ہے۔ اس ایوان بالا میں بھیجنے کیلئے جن افراد کا انتخاب کیا ہے اس سے نہ صرف سیاسی حلقوں میں حیرانی ہوئی ہے بلکہ پارٹی میں بغاوت کی آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ کچھ عرصے سے امیدواری کے لئے جو نام سب سے زیادہ گشت کررہے تھے ان میں سنجے سنگھ کو چھوڑ کر باقی سب کو کنارے کردیا گیا ہے۔ کوئی پارٹی راجیہ سبھا یا کسی ایوان کے لئے کسے اپنا امیدوار بناتی ہے یہ اس کا اندرونی معاملہ ہوسکتا ہے۔ عام طور پر سبھی پارٹیاں یہی دلیل پیش کرتی ہیں لیکن عاپ کی جانب سے جو دو نئے نام سامنے آئے ان کے چناؤ پر نہ صرف دوسری پارٹیوں کو پارٹی پر انگلی اٹھانے کا موقعہ ملا ہے ، بلکہ شروعاتی دنوں سے ہی پارٹی کے ساتھ رہے اور اب کسی نہ کسی وجہ سے باہر ہوگئے ان لوگوں نے بھی حیرانی ظاہر کی ہے۔ مانا جارہا تھا کہ پارٹی نیتا آشوتوش کے علاوہ اختلافات کی تمام خبروں کے باوجود کمار وشواس کو راجیہ سبھا کے لئے امیدوار بنایا جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا اور ان کی جگہ ایک صنعتکار اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو چنا گیا ہے۔ ان دو افراد کے انتخاب سے نہ صرف سیاسی واقف کاروں کو تعجب ہوا بلکہ یہ بھی یقینی ہوگیا کہ اس دیش میں متبادل سیاست کے لئے کوئی زمین نہیں بچی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا عام آدمی کے لئے اور عام آدمی کے ذریعے حکومت چلانے کا دلچسپ اور لوک لبھاون نعرہ گھڑنے والے اروندکیجریوال کی پارٹی عاپ اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے کلچر کی طریقہ کار میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ دراصل یہ کیجریوال کی مجبوری ہے کیونکہ آج ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستان کی چناوی سیاست جس طرح سے دھن اور دبنگی کی علامت بن گئی ہے، اس میں سادگی ، ایمانداری اور سچے لوک سیوکوں کے لئے کوئی جگہ نہیں رہی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ جو اس کوٹھری میں رہے گا اس کی قمیص پر سیاہ داغ لگنا ہی ہے۔ حالانکہ دیگر پارٹیوں پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ کسی کو موٹی رقم کے بدلے ٹکٹ دیا گیا یا پھر ان کی پرکشش شخصیت کا خیال رکھا گیا لیکن عام آدمی پارٹی نے بھی اگر اس دیش کی سیاست میں ہٹ کر ایک خطرناک کلچر سے بچے کی کوشش نہیں کی تو اس پر سوال زیادہ تلخ اٹھیں گے۔ آخر عاپ کی تشکیل کے وقت یا اس سے پہلے ہی اس کے نیتا اروند کیجریوال کا سب سے بڑا دعوی کیا رہا؟ ہندوستانی سیاست میں پھیلے کرپشن کے خلاف لڑائی کے ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کے درمیان ایک نئی سیاست کی شروعات کے لئے امید جگائی تھی۔ اس کے الٹ آج اگر وہ پیسے لیکر ٹکٹ بانٹنے کے علاوہ اپنی پارٹی کے ہی نیتاؤں پرلگنے والے کرپشن کے الزامات کی سنجیدگی کی کاٹ نہیں کر پارہے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ سشیل گپتا کانگریس کے ٹکٹ پر موتی نگر سیٹ سے 2013 کا اسمبلی چناؤ لڑ چکے ہیں اور عام آدمی پارٹی کے کٹر مخالف رہے ہیں۔ پارٹی کا اعلی لیڈر شپ دعوی کررہی ہے کہ وہ بالائی ایوان میں سرکردہ لوگوں کو بھیجنا چاہتی تھی۔ 18 لوگوں کی فہرست تیار کی گئی تھی لیکن ان سے رابطہ کرنے پر کوئی بھی اس کے لئے راضی نہیں ہوا۔ یہ اپنے آپ میں ایک سنگین سوال ہے۔ یا ان کا بھروسہ اور ساکھ اتنی گر گئی ہے کہ کوئی نامور شخص ان کے ساتھ جڑنا نہیں چاہتا تھا۔ یا کوئی دوسرا مسئلہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عاپ اور ان کے نیتاؤں کو اپنی ساکھ کی کوئی فکر نہیں رہ گئی ہے اور عام آدمی پارٹی ہندوستانی سیاست کی انہی بیماریوں سے دنوں دن اور بھی متاثر ہوتی جارہی ہے جنہیں دور کرنے کا اس نے دعوی کیا تھا۔
(انل نریندر)

سورت کی کپڑا صنعت میں زبردست بحران

ہندوستان کی جی ڈی پی میں گراوٹ آئی ہے ۔ بیشک سرکار اسی مہینے یا اگلے مہینے پچھلے کچھ مہینوں سے کئی سیکٹر میں زبردست گراوٹ ہوئی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد جی ایس ٹی نے کئی صنعتوں کی کمر توڑ دی ہے ایسا ہی ایک شہر ہے گجرات کا سورت۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے سورت کی سیرت ہی کو بدل دیا ہے۔ سورت جس کپڑا صنعت کے لئے ملک و بیرون ملک میں مشہور تھا اس کی رنگت اب پھیکی پڑ گئی ہے۔ برسوں سے کپڑے کا کاروبار کررہے لوگ اب کاروبار سمیٹنے میں لگے ہوء ہیں۔ بہتوں نے کاروبار بھی بند کردیا ہے ۔ کئی بند کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ایسے ہی ایک تاجر ہیمنت جین ہیں جن کے والد صاحب نے 45 برس پہلے 1972 میں کپڑے کا کاروبار شروع کیا تھا لیکن اب وہ کاروبار بدلنے کی تیاری میں ہیں البتہ ہیمنت جین نے تو کاروبار بدل بھی لیا ہے۔جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد کاروبار چوپٹ ہوگیا۔ نوٹ بندی کے بعد آئے جی ایس ٹی میں ایسے الجھے کہ کاروبار برقرار رکھنے کے لئے روزانہ بچت کے پیسے کاروبار میں لگانے پڑے۔ جب اس سے بھی کاروبار نہیں چلا تو انہوں نے امپورٹ ، ایکسپورٹ کلرینگ ایجنٹ کا کام شروع کیا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد لومس تاجروں کی حالات خستہ ہے۔ ہزاروں لومس بند ہوگئے ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ 1لاکھ60ہزار کاری گروں میں سے 35 ہزار ایمبرائڈری و جاب ورک کے کاریگر بے روزگار ہوگئے ہیں۔ کہاں 50کروڑ روپے کا کپڑا یومیہ بنتا تھا اب وہ 25 کروڑ پر ہی سمٹ گیا ہے۔ 4 لاکھ50 ہزار کل کاریگروں میں اب 50 ہزار کاریگر ہی بچے ہیں۔ بیروزگار ٹیرڈرز، جاب ورک 35 کروڑ روپے کا ہوتا تھا۔ اب وہ 20 کروڑ کا ہی رہ گیا ہے۔ 125 کروڑ کا بھی کیاکرتے تھے کاروبار اب وہ 70 کروڑ رہ گیا ہے ٹرن اوور ۔ سورت ٹیکسائل ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین یووراج دوپلے کا کہنا ہے کہ عام دنوں میں سورت سے 400 ٹرک کپڑے کا پارسل لیکر دیگر ریاستوں میں جایا کرتے تھے لیکن موجودہ حالت یہ ہے کہ مشکل سے 190 کپڑوں کے پارسل سے بھرے ٹرک ہی دیگر ریاستوں و شہروں میں جا رہے ہیں۔ کاروبار آدھا رہ گیا ہے۔ سورت کے کپڑا صنعت میں آئی گراوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ آدھے ادھورے ہوم ورک کرکے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی لاگو کرنے کے کتنے خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔ سرکار کو بلا تاخیر جی ایس ٹی کو آسان کرنا ہوگا اور بھی ضروری دیگر قدم اٹھانے ہوں گے۔ اگر کپڑا کاروبار کو پرانی پوزیشن میں لانا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...