Translater

08 جون 2019

نتیش کمار آخر اتنے پریشان کیوں ؟

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار خود کو اتنا پریشان کیوں محسوس کر رہے ہیں ؟کیا بہار میں ان کی سیاسی حیثیت پر سوال اٹھنے لگے ہیں ؟یہ سوال ہم اس لئے کر رہے ہیںکیونکہ جب مرکز میں مودی کی رہنمائی والی این ڈی اے سرکار میں جنتا دل یو کو اپنے حساب سے وزارت نہیں ملی کیونکہ جنتا دل یو نے کیبنیٹ میں دو عہدے مانگے تھے لیکن ان کو ایک عہدہ مل رہا تھا ۔اس لئے پارٹی نے مودی کیبنیٹ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مرکز میں پارٹی کبھی بھی وزیر کا عہدہ نہیں لے گی اس کے اگلے دن نتیش نے بہار میں آٹھ نئے وزیر بنائے لیکن بی جے پی کا کوئی چہرہ نہیں شامل کیا دونوں طرف سے صفائی دی گئی کہ یہ عہدے جے ڈی یو کے کھاتے کے تھے بی جے پی کا کوٹہ بعد میں بھرے گی ذرائع کی مانے تو نتیش کمار کسی جلدبازی میں نہیں دکھائی دئے ریاست میں اپنے حساب سے کیبنیٹ توسیع کر کے انہوںنے بہار میں بطور بوس والی پوزیشن دکھا دی ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی یہ صاف کر دیا کہ انہیں سرکار چلانے کے لئے جے ڈی یو کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ اپنی اس بات پر اٹل رہے کہ اتحادی پارٹی کو پہلے ہی کیبنیٹ کی طرح ایک وزیر ملے گا ۔چاہے جے ڈی یو اس میں شامل ہو یا نہ ہو نتیش نے کہا کہ اپنی آئیڈیا لوجی سے کوئی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی بات کہی کہ دفعہ 370رام مندر یکساں سیول قانون جیسے اشو پر بی جے پی کے ساتھ بنیادی اختلافات رہے ہیں ۔اگر وہ ان اشوز پر ٹکراﺅ لے گی تو نتیش کے سامنے پریشانی کے حالات کھڑے ہو سکتے ہیں ۔دونوں پارٹیوں کی دوستی پر اٹھے سوال ابھی تک ٹھنڈے نہیں پڑے تھے کہ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ٹوئٹ کر کے رشتوں میں تلخی کو اور بڑھا دیا ہے ۔انہوںنے افطار پارٹی پر سوال اُٹھایا تو جواب میں جے ڈی یونے رام مندر کو لے کر اشو کھڑا کیا جے ڈی یو نے پٹنہ میں افطار پارٹی دی تھی جس میں بی جے پی کے لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی اور ایل جی پی چیف رام ولاس پاسوان بھی موجو د تھے ۔گری راج نے منگلوار کو ان نیتاﺅں کی تصویریں پوسٹ کر ٹوئٹ کیا تھا کہ کتنی خوبصورت تصویر ہوتی جب اتنی چاہت سے نوراتری پر پھل آہار کا پروگرام کرتے ۔اور سندر سندر فوٹو آتے ہم اپنے دھرم کرم میں کیوں پچھڑ جاتے ہیںاور دکھاوے میں کیوں آگے رہتے ہیں ۔نتیش کمار نے عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جو سبھی مذاہب کا احترام نہیں کرتا وہ دھامک نہیں ہو سکتا ۔وزیر اعلیٰ نے پٹنہ کے گاندھی میدان میں نماز پڑھنے آئے لوگوں کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور بغیر کسی کا نام لئے بھاجپا کے نیتا اور مرکزی وزیر گر ی راج سنگھ کو بھی جواب دے ڈالا انہوںنے کہا جو کسی کے مذہب کا احترام نہیں کرتا وہ دھارمک نہیں ادھارمک ہے ۔ہمیں سبھی مذاہب کے تیں احترام کرنا چاہیے ۔سماج میں ایک دوسرے کے خلاف نازیب الفاظ کا استعمال ہوتا ہے یہ بند ہونا چاہیے سب کو ایک دوسرے کے تئیں احترام کرنا چاہیے ۔ایسے کوئی بھی کسی بھی مذہب کو اپنائے سبھی مذاہب میں با ت کہی گئی ہے پریم سے اپنا کام کیجئے اور دوسرے کے تئیں احترام کا جذبہ رکھیئے ۔شکر ہے بھاجپا اعلیٰ کمان نے بغیر وقت گنوائے گری راج کو سخت لہجے میں اس طرح کی بات نہ کرنے کی ہدایت دے دی دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ آپسی تلخی اور پریشانی گھٹتی ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

اب فائیو اسٹار ہوٹلوں میں نہیں ٹھہر سکیں گے ایم پی

سرکار نے 350ممبران پارلیمنٹ کو سرکاری مکان ملنے تک ان کے ٹھہرنے کے لئے نیا انتظام کیا ہے ۔اب کسی بھی ایم پی کو ہوٹل میں نہیں ٹھہرایا جائے گا بلکہ ان کے ٹھہرنے کے لئے ویسٹرن کوٹ سمیت راجدھانی میں موجود الگ الگ ریاستوں کے بھون میں انتظام کیا گیا ہے ۔لوک سبھا کی سیکریٹری جنرل سنیہہ لتا سریواستو نے بتایا کہ ان جگہوں پر قریب 300کمرے ریزرو کئے گئے ہیں ۔تعداد زیادہ ہونے پر متابادل انتظام کیا جائے گا اس کوشش کو ممبران پارلیمنٹ کو ہوٹل میں ٹھہرنے پر ہونے والے بھاری بھرکم خرچوں میں کٹوتی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ۔قواعد کے مطابق لوک سبھا بھنگ ہونے کے ایک مہینے کے اندر سابق ایم پی کو الاٹ گھروں کو خالی کرنا ہوتا ہے ۔صدر رامناتھ کووند نے 25مئی کو سولہویں لوک سبھا کو فوری طور پر بھنگ کر دیا تھا ۔بھاجپا این ڈی اے سرکار کے دوسرے عہد تک پردھان منتری نریندر مودی اور کیبنیٹ کے دیگر ممبران نے جمعرات کو حلف لی تھی ۔ذرائع نے بتایا کہ سرکار نے قریب 350ایم پی کے ٹھہرنے کے لئے عارضی انتظامات کئے ہیں ۔جب تک ان کو نئے گھر نہیں دے دئے جاتے ۔اس لئے اس مرتبہ نئے منتخب ایم پی پانچ ستارہ ہوٹلوں میں نہیں ٹھہر سکیں گے سال 2014میں سرکار کو عالی شان ہوٹلوں میں عارضی طور پر ایم پیز کو ٹھہرانے کے لئے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اگر کوئی ایم پی اپنے کو الاٹ مکان کو طے معیاد میں خالی نہیں کرتا تو اس کے خلاف بے دخلی قانون 1971کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے ۔نئی لوک سبھا میں 300ایم ایسے ہیں جو پہلی بار پارلیمنٹ کے نچلے ایوان کے لئے چنے گئے ہیں ان میں کرکٹر سے سیاست داں بنے گوتم گمبھیر مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اسمرتی ایرانی صوفی گلو کار ہنس راج ہنس اور بنگلہ سنیما کی اداکارہ میمی چکرورتی اور نصرت جہاں وغیرہ شامل ہیں ۔پچھلی لوک سبھا میں 314ایم پی پہلی بار چنے گئے تھے پارلیمنٹ کمپلیکس میں کمرا نمبر 62میں نئے ممبران کے لئے سہولت مرکز قائم کئے گئے ہیں ۔اس میں ایک ڈیسک پر شناختی کارڈ ،تنخواہ،بھتہ سمیت سبھی خانہ پوریوں کو پورا کر سکتے ہیں ممبران پارلیمنٹ کو ایک بریف کیس بھی دیا جائے گا جس میں مینول بھارت کا آئین ہے ایک ہینڈ بک ،اسپیکر کے قواعد سے وابسطہ کتاب اور دیگر سامان ہوں گے ساتھ میں پین ڈرائیو اور دیگر سامان بھی فراہم کئے جائیں گے ۔ساتھ میں پارلیمنٹ ہاﺅس ویسٹرن کوٹ میں 24گھنٹے میڈیکل سہولت دستیاب ہوگی ۔بھارت سرکار کا یہ فیصلہ اچھا ہے کہ ہوٹلوں میں لاکھوں روپئے کے خرچ سے بچایا جائے اس فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور فضول خرچی سے بچا جائے ۔

(انل نریندر)

07 جون 2019

اڈیشہ کا مودی

 23مئی سے پہلے پرتاپ سارنگی کو اڈیشہ کے باہر شاید ہی کوئی جانتا تھا لیکن پچھلے دس دنوں میں وہ دیش کے سب سے بڑے اسٹیج میں سے ایک ہو گئے ۔لباس سے سیاست داں کم سادھو زیادہ دکھائی دینے والے بالا سور سے اس نئے منتخب ایم پی نے جمعرات کی شام راشٹرپتی بھون میں وزیر مملکت کی حیثیت سے حلف لیا تو تالیوں کی گونج سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ کافی مقبول ہیں انہیں حکومت میں چھوٹی و درمیانی صنعت کے وزیر مملکت بنایا گیا ۔سارنگی نے لوک سبھا چناﺅ میں اڈیشہ کے بالا شور سے کامیابی حاصل کر کے مودی کیبنیٹ میں جگہ بنائی ہے انہوںنے بیجو جنتا دل کے ارب پتی لیڈر روندر کمار جینا کو 12ہزار 9سو 56ووٹ سے ہرایا انہوںنے کمپین کے لئے ایک آٹو میں کمپین چلائی تھی ان کی نرم گوئی اور سادگی نے لوگوں کا دل جیت لیا سارنگی کی کئی تصویریں اورقصے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں ۔ہائی پروفائل چہروں سے بھرے ان انتخابات نے ان کی جیت کو لوک عام آدمی کی جیت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں سارنگی نے شادی نہیں کی ہے اور اپنی پوری زندگی جنتا کی سیوا میں لگا دی وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جو کچا ہے وہ سائکل سے گھومتے ہیں ۔سارنگی کی پہچان ایسے شخص کی شکل میں ہوئی ہے جو مذہب اور آستھا سے جڑا ہے اپنی کمائی کا زیادہ حصہ وہ غریب بچوں پر خرچ کرتے ہیں سارنگی کا کہنا ہے کہ بچپن سے ہی خدمت کرنا ان کے مزاج کا حصہ ہے ۔وزارت کا حلف لینے کے بعد سارنگی نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوں کہ پی ایم مودی نے مجھ پر بھروسہ کیا میرے لئے سیاست دیش کی سیوا کرنے کا ذریعہ ہے ہماری پارٹی کا اصول ہے کہ دیش پہلے پارٹی اس کے بعد اور ہم سب کے بعد سارنگی کے آٹھ اپریل 2019کے حلف نامے کے مطابق ان کے خلاف سات مجرمانہ مقدمے درج ہیںجس میں غیر قانونی طریقہ سے شامل ہونا اور دنگے مذہبی جذبات بھڑکانہ وغیرہ کے معاملے شامل ہیں حالانکہ حلف نامے کے مطابق ان کو کسی معاملے میں قصور وار نہیں ٹھہرایا گیا ہے ۔سارنگی ہندتو وادی تنظیم بجرنگ دل کے نیتا تھے آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے وابسطہ ہونے کے سبب ظاہر ہے کہ ان کی سیاسی نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔وہ سنگھ کی پرچارک پریوار سے آتے ہیں اور اس لئے وہ غیر شادی شدہ ہیں کچھ لوگ انہیں اڈیشہ کا مودی کا خطاب بھی دیتے ہیں کیونکہ مودی کی طرح وہ بھی گھر بار چھوڑکر نکل پڑے تھے اور آر ایس ایس سے جڑے رہے ہیں حالانکہ وزیر بننے کے بعد ان کے طریقہ کار زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے یہ دیکھنے والی بات ہوگی ۔

(انل نریندر)

کجریوال سرکار کا دہلی کی خواتین کو تحفہ کا اعلان

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے پیر کے روز خواتین کے لئے ایک بڑی اسکیم کا اعلان کر کے اگلے اسمبلی چناﺅ کے لئے ایک بڑا داﺅں چلا ہے۔غور طلب ہے کہ 2020میں دہلی اسمبلی کے چناﺅ ہونے کے اور دہلی کی خواتین کو میٹرو ٹرین دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کا اعلان کیا ہے ۔حالانکہ اس سہولت کو پانے کے لئے انہیں دو تین مہینے کا انتظار کرنا پڑئے گا لیکن یہ طے ہے کہ ووٹنگ سے پہلے وہ کئی مہینوں تک اس سہولت کا فائدہ اُٹھا چکی ہوں گی ۔کجریوال کا کہنا ہے کہ اس اسکیم پر آنے والا سالانہ قریب 12سو کروڑ روپئے کا خرچ دہلی سرکار برداشت کرئے گی کیونکہ ریاستی حکومت کا خزانہ فاضل ہے اس لئے اس پر کوئی مزید بوجھ نہیں پڑے گا اس اسکیم کے لئے دہلی سرکار کو مرکزی حکومت سے بات کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سبسڈی دی جا رہی ہے کرائے میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جا رہا ہے ۔انہوںنے ساتھ ہی یہ بھی جوڑ دیا کہ جو عورتیں ٹکٹ خریدنے کی وسعت رکھتی ہیں وہ اس سبسڈی کو چھوڑ دیں تاکہ ضرورت مندوں کو مدد مل سکے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ قومی راجدھانی خطہ میں میٹرو سب سے زیادہ محفوظ آرام دہ ٹرانسپورٹ سسٹم ہے ۔مگر پچھلے دنوں بڑھے میٹرو کے کرائے کے بعد بہت سارے مسافروں کی جیب پر دباﺅ بڑھنے سے ان کی ناراضگی کی شکن کے باوجود ایسے میں دہلی سرکار کا یہ قدم عوامی بہبودی کی ریاست کے ایک تصور کی جانب ایک لوک لبھاون پہل ہی مانی جا سکتی ہے ۔دہلی سرکار کا تجزیہ ہے کہ اس یوجنا پر سالانہ قریب 7سوسے8سو کروڑروپے کا خرچ آئے گا یہ سرکار خود برداشت کرئے گی میٹرو اور ڈی ٹی سی انتظا میہ کو سبسڈی کی شکل میں اتنا پیسہ دیے گی دہلی کچھ میٹرو مسافروں میں 33فیصد اور بسوں میں 30فیصد خواتین مسافر ہوتی ہیں۔موٹے طور پر 17لاکھ کے آس پاس خواتین مسافر ہیں حالانکہ پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا نظریہ کوئی نیا نہیں ہے بہت سے یورپی ممالک میں یہ سبھی مسافروں کو یہ سہولت حاصل ہے تاکہ ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم ہو جس سے آلودگی پر بھی لگام کسی جا سکے ۔مگر دیش کی راجدھانی میں عورتوں کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ ہے ۔اور دسمبر2012میں نربھیا کے ساتھ ایک بس میں جو بربریت ہوئی تھی اس اشو نے ان کی سلامتی کی طرف دیش بھر میں نہ صرف توجہ دلائی بلکہ سرکار معاملوں سے نمٹنے کے لئے ایک نیا سخت قانون وجو د میں آگیا ۔اس کے باوجود خواتین کی حفاظت کو لے کر حالت میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی اس سے جڑا سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ دیر شام ملازمت سے لوٹنے والی خواتین کے لئے میٹرو اسٹیشن یا بس اسٹاف سے محفوظ گھر پہنچنے کی کیا سہولت ہوگی ؟انہوںنے پبلک مقامات و اسٹاف پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ سو سی سی ٹی وی کیمرے ہی لگ پائے ہیں جبکہ یہ دو لاکھ 90ہزار کیمرے لگانے کا پلان ہے ۔حال ہی میں اختتام پذیر لوک سبھا چناﺅ میں عام آدمی پارٹی دوسرے نمبر پر رہی اور اس کے ووٹ بینک میں بھی سیندھ لگی ہے ۔ایسے میں وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے اپنے پرانے نسخے کو پھر سے آزمانے کی کوشش کی ہے دیکھتے ہیں کہ کجریوال کی یہ پیشکش دہلی کے شہریوں کے لئے کیا معنی لے کر آتی ہے ۔

(انل نریندر )

05 جون 2019

ڈاکٹر ہرش وردھن پر ہی مودی کا بھروسہ قائم

مرکز میں چاندنی چوک میں مسلسل دوسری مرتبہ اپنا نام کمایا ہے لوک سبھا کی یہ سیٹ بھاجپا کی جھولی میں جانے کے ساتھ مرکزی کیبنیٹ میں علاقہ نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے ۔چاندنی چوک سے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ہرش وردھن مسلسل دوسری مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ پہلے بھی اس سیٹ سے جیتنے والے کئی ایم پی کیبنیٹ کا حصہ رہے ہیں ۔چاندنی چوک لو ک سبھا سیٹ کا کیبنٹ میں درجہ برقرار ہے ۔دہلی کے کسی اور ایم کو کیبنیٹ میں جگہ نہیں دی گئی دہلی کے ساتوں ایم پی میں ڈاکٹر ہرش وردھن کا ہی قد سب سے بھاری تھا انہیں فائدہ بھی ملا اور دہلی میں اگلے سال اسمبلی چناﺅ کو دیکھتے ہوئے اس بار وزرا ءکی تعداد بڑھنے کی امید جتائی جا رہی تھی ۔لیکن کیبنیٹ کے فائنل ہونے پر صرف ڈاکٹر ہرش وردھن ہی کو وزیر بنائے جانے کی کال پہنچی ۔مسلسل دوسری بار مودی سرکار میں کیبنیٹ وزیر بننے سے ڈاکٹر ہرش وردھن کا قد دہلی کی سیاست میںبڑھا ہے اور ان کا سیاسی کیرئیر بھی اچھا رہا ہے ۔وہ طالب علمی کے زندگی سے ہی آر ایس ایس سے جڑ گئے تھے ۔1993سے چناﺅی سیاست میں اترے ڈاکٹر ہرش وردھن ابھی تک ایک بھی چناﺅ نہیں ہارے اور 1993میں پہلی مرتبہ کشنا نگر سیٹ سے چناﺅ لڑ کر دہلی اسمبلی میں پہنچے تھے اور اس وقت کی بھاجپا سرکار میں قانون و وزیر صحت بنایا گیا پھر 1996میں وزیر تعلیم بنے دہلی کے محکمہ ہیلتھ میں ان کی سب سے اہم یوجنا 1994میں پولیو خاتمہ اسکیم رہی اور دہلی سے پولیو ختم کرنے میں ڈاکٹر ہرش وردھن کا سب سے اہم رول تھا ۔اور ان کی کوششوں کو ملک کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں سراہا گیا ۔پیشے سے ای این ٹی ،ایم بی بی ایس،ڈاکٹر ہرش وردھن ڈاکٹروں کی سیاست میں سرگرم رہے اور وہ دہلی میڈیکل ایسوشی ایشن کے صدر بھی رہے ہم ان کو ایک بار پھر وزیر بننے پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب دہلی کے مسائل پر توجہ دیں گے ۔اور پارلیمنٹ میں موثر ڈھنگ سے اٹھائیں گے ۔

(انل نریندر)

چیلج45سال میں بے روزگاری شرح سب سے زیادہ جی ڈی پی میں بھی گراوٹ

مرکزی حکومت کی جانب سے جمعہ کو جاری اعداد و شمار کے مطابق دیش میں بے روزگاری کی شرح 6.1فیصدی ہے ۔جو 45سال میں سب سے زیادہ ہے وہیں مالی سال 2018-19کی چوتھی سہہ ماہی میں اقتصادی ترقی شرح 5سال میں کم از کم سطح5.8پر آگئی ہے ۔عام چناﺅ سے پہلے بے روزگاری کے بارے میں جو رپورٹ لیک ہوئی تھی جمعہ کو اس کی تصدیق ہو گئی اقتصادی طور پر بھارت کا گھریلو جی ڈی پی فائنل کوارٹر پر 5.8فیصد آنے پر دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے طنز کیا ہے ۔انہوںنے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ سارے اعداد و شمار چناﺅ سے پہلے جان بوجھ کر دبائے رکھے گئے اب انہیں جان بوجھ کر جاری کر دیا گیا ہے ۔یہ عداد و شمار اب چناﺅ کے بعد پریشانی میں نہیں دکھائے جا رہے ہیں ۔بلکہ اس لئے کہ اگلی مرتبہ جب سرکار کے کارناموں کا ڈھول بجے تو یہ بیس لائن دونوں کی یا د گار رہے اگلے ٹوئٹ میں سسودیا نے لکھا کہ کچھ دن پہلے ٹی وی پر ترقی دیکھ کر گد گد جنتا نے جب ووٹ ڈالا تو اب ٹی وی پر ہی بتایا جا رہا ہے کہ دیش کی اصل حالت وہ نہیں ہے جہاں ٹی وی پر ایک مہینے سے دکھائی جا رہی تھی ۔تاکہ نئی حکومت جب پھر سے ڈھول بجوائے گی تو ترقی کے اعداد و شمار نے جنتا کو پھر سے حیرت انگیز کیا جا سکے ۔عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے لکھا کہ بھلے ہی بے روزگاری 45برسوں کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے یا پھر جی ڈی پی پانچ برسوں میں سب سے نیچے سطح پر ہے لیکن بالکل صاف ہے کہ دیش کی اقتصادی حالت اچھی نہیں ہے ۔اقتصادی محاظ پر سرکار کو پچھلے سال میں دوہری مار پڑی ہے ۔صارفین کھپت میں نرمی اور زراعت سیکٹر کے خراب ہونے سے جی ڈی پی میں گراوٹ آئی ہے ۔جبکہ روزگار کے محاز پر بھی چنوتیاں بڑھ گئی ہیں ۔دیش میں بے روزگاری کی شرح 45سال میں سب سے اونچے مقام پر پہنچ گئی ہے ۔مرکزی اعداد و شمار آفس(سی ایس او)نے اعداد و شمار جاری کر بتایا ہے کہ 2018-19میں دیش کی جی ڈی پی کی اضافی شرح گھٹ کر 6.8فیصدی ہو گئی جو اس سے پہلے مالی سال 7.2فیصدی تھی ۔سست ترقی رفتار پر سب سے زیادہ اثر کا زراعت سیکٹر پر پڑا ہے اور پیداوار سیکٹر میں نرمی بڑھی ہے مالی معاملوں کے سیکریٹری سی ایس گرگ نے بتایا کہ جی ڈی پی زراعت میں کمی این بی ایف سی بحران کی وجہ سے ہوئی ہندوستانی معیشت پر چاروں طرف سے مار پڑ رہی ہے ۔امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ جی ایس پی درجہ چھیننے سے مرادآباد کی نکش کاری پیتل صنعت پر بھارتی بوجھ ڈالے گی ۔مرادآباد سے امریکہ کو ہر برس چار ہزار کروڑ روپئے کے سامان بھیجے جاتے ہیں یہ چیزیں جی ایس پی میں شامل تھے ۔امریکی درآمدات کو ان پر 15فیصدی ٹیکس دینا پڑئے گا۔ایسے میں امریکی بازار میں ہندوستانی سامان مہنگے ہوں گے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھنے کا اندیشہ ہے ۔12ہزار کروڑ کی بر آمدات امریکہ سے ہوتی ہے ایک سروے کے مطابق دیش میں بے روزگاروں کی فوج میں ہر سال ایک کروڑ نوجوان جڑ جاتے ہیں سب سے زیادہ گراوٹ زراعت سیکٹر میں دیکھنے کو ملی ہے ۔جو زراعت کی رفتار 2017-18میں پانچ فیصدی تھی وہ 20189-19میں گھٹ کر محض2.9فیصدی رہ گئی ہے ۔ساتھ ہی معدنیات سیکٹر میں بھی اضافہ شرح 5.1فیصدسے گھٹ کر 1.3فیصد رہی گئی ۔

(انل نریندر)

04 جون 2019

سچی صحافت جان خطرے میں ڈالنے کے برابر

پریس کو جمہوریت میں ہمیشہ چوتھے ستون کی تشبیح دی جاتی رہی ہے کیونکہ اس کی جمہوریت کی مضبوطی میں بے حد اہم ترین رول رہا ہے ۔یہی وجہ سے کہ ہیلتھ اور مضبوط جمہوریت کے لئے پریس کی آزادی کو بہت اہم مانا گیا ہے لیکن فہرست میں واقع رپوٹرس سینس ،فرنٹیر اور رپوٹرس وداوٹ باڈرس نام کی تنظیم نے 18اپریل کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کی آزادی کو لے کر جو حقائق پیش کیئے ہیں اس سے ہر کسی کو زبردست ناقابل برداشت جھٹکہ لگا ہے ان حقائق میں سامنے آیا ہے ۔بھارت پریس کی آزادی کے معاملے میں دوسرے پائدان سے اور نیچے کھسک گیا ہے جو تشویش کا باعث ہے کل 180ملکوں پر تیار اس رپورٹ کے مطابق بھارت اب 140ویں مقام پر پہنچ گیا ہے جو 2017میں 136مقام پر اور 2018میں 138ویں پائیدان پر تھا ۔پچھلے کچھ سالوں کے دوران صحافیوں کے لئے کام کرنے کا ماحول خراب ہوا ہے اور جمہوریت کا چوتھہ ستون کہے جانے والے اس صحافت کے ستون کے پہرے داروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے یہ حملے دباﺅ اور دھمکی سے لے کر خطرناک سطح پر ہیں ۔صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنا اب عام بات ہو گئی ہے ۔مثال کے طور پر کرناٹک ہے جہاں پولس نے سابق وزیر اعظم دیوگوڑا کے پوتے اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کمار سوامی کے لڑکے نکھل سے متعلق ایک خبر شائع کرنے کو لے کر کنڑ اخبار کے مالک و مدیر کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔کنڑ اخبار وشوانی کے مطابق چناﺅ میں ہار ہونے کے بعد مبینہ طور وسے نشے کی حالت میں نکھل نے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ہنگامہ کیا اور اپنے دادا کے ساتھ بدتمیزی کی اس بارے میں اخبار کے مالک و مدیر وشیشور کا کہنا ہے ان کا یہ آرٹیکل ذرائع کے حوالے سے شائع کیا گیا تھا اور وہ اپنے اس کالم پر قائم ہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ چناﺅ کے دوران ٹکٹ بٹوارے کو لے کر دیو گوڑا خاندان میں کتنی کھینچ تان ہوئی تھی اور خبر کے مطابق نکھل اس لئے ناراض تھے کیونکہ ان کے دادا نے کانگریس کے نیتاﺅ ں کی ویسی ہمایت نہیں حاصل کی جیسا کہ انہوںنے ہاسن سیٹ پر اپنے چچیرے بھائی پرچول کے حق میں حاصل کی تھی حقیقت میں کرناٹک جے ڈی ایس کانگریس اتحاد کو بھاجپا کے ہاتھوں بری طرح سے ہر ملی تھی وہیں جے ڈی ایس صرف ہاسن سیٹ ہی جیت سکی تھی اخبار کے مطابق کمار سوامی سرکار کا یہ رویہ اس لئے حیران کن نہیں ہے کیونکہ نتیجے کے کچھ دن پہلے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ مبینہ طور پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کی سرکار قانون لانے پر غور کر رہی ہے وہ میڈیا پر حملہ کر سچائی سے ہی منھ پھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی ایسے وقت جب ان کی حکومت کا وجو د پر سنگین خطرہ منڈرایا ہوا ہے ۔رپورٹر وداﺅٹ باڈرس نے ورلڈ پریس آزادی نام سے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کی پریس کی آزادی کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی صاف کیا ہے کہ کس طرح دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف نفرت تشدد میں بدل گئی ہے جس سے دنیا بھر میں صحافیوں میں ڈر بڑھا ہے ۔بھارت کو لے کر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کٹر پسندی حب الوطنوں کو آن لائن مہموں کا پتر کار تیزی سے نشانہ بن رہے ہیں ساتھ ہی ایسے نام نہاد راشٹر وادی جسمانی عزیت پہنچانے کی دھمکی دیتے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی صحافیوں کو کئی طرح کے خطروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔سال 2018میں بھارت میں اپنے کام کے چلتے چھ صحافیوں کو قتل کیا گیا کئی پر قاتلانہ حملے کئے گئے ان سے مار پیٹ اور دھمکی کے واقعات تو عام ہیں صحافیوں کو اپنے خلاف نفرت کمپین کا بھی سامنہ کرنا پڑا اوران کو سوشل میڈیا پر بھی جان سے مارنے کی دھمکی دنیا عام بات ہو گئی ہے ایسے میں بھارت میں پریس کی آزادی کی موجودہ حالت میں سے ایک صحافیوں کے خلاف تشدد ہے اور ان کے خلاف جرائم پیشہ یا کرپٹ سیاست دانوں کے بدلہ لینے کے واقعات بھی شامل ہیں ۔اور اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ اگر کچھ بھی غلط یا غیر اخلاقی ہو رہا ہے تو جسے دبانے یا چھپانے کی کوشش کی جار ہی ہے تو کوئی صحافی اسے اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔کیونکہ ایسے میں اس صحافی کی زبان پر تالہ لگانے کے لئے سام،دام ،دنڈ ،بھید ہر طرح کے غیر اخلاقی طریقوں کو اپنایا جاتا ہے ایسے میں دیش میں پریس کی آزادی بر قرار رہے اس کے لئے پتر کارکی سیکورٹی سے لے کر سخت قانون بنانے ہوں گے تاکہ بغیر دباﺅ یا خوف کے اپنا فرض بخوبی نبھاتے رہیں ۔

(انل نریندر)

پہلے ہی دن وزیر داخلہ امت شاہ نے دکھائی اپنی دھمک

ریڈ کارپیٹ پھولوں سے سجا گیٹ نمبر چار اور وزارت داخلہ کا دفتر سب کچھ سنیچر کے روز خاص نظر آیا تھا نارتھ بلاک کے گلیارے میں 12:20کے آس پاس دیش کے نئے وزیر داخلہ امت شاہ دفتر میں اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے پہنچے تو اقتدار میں ان کی دھمک کا احساس بخوبی ہو رہا تھا ۔چھٹی ہونے کے باوجود نارتھ بلاک میں موجود ملازمین اپنے موبائل کیمروں سے شاہ کی تصویر قید کرنے کے لئے بے چین تھے سیڑھیوں سے چڑھتے ہوئے شاہ نے وہاں لگے دیش کے سابق وزیر داخلہ سردار بلبھ بھائی پٹیل کی تصویر کو سر اُٹھا کر دیکھا ۔لوگوں کا استقبال قبول کرتے ہوئے ذمہ داری سنبھالنے کے لئے اپنے دفتر میں چلے گئے ۔عہدہ سنبھالتے ہی امت شاہ کا دبدبہ دکھائی دیا ۔پہلے ہی دن عہدہ سنبھالتے ہی انہوںنے بھاجپا کے اہم چناﺅی ایجنڈے جموں و کشمیر سے دفعہ 370و 35Aکو ہٹانے اور پورے دیش میں این سی آر (قومی شہری رجسٹر)کو لاگو کرنے کے امکانات پر غور و خوض کیا ۔بھاجپا صدر کی حیثیت سے امت شاہ کا کڑک مزاج کی ساکھ ہے بھاجپا ہیڈ کوارٹر میں ان کی موجودگی سے ہی خوف کا ماحول رہتا ہے کوئی بھی نیتا وقت لئے بغیر ان سے ملنے نہیں آسکتا ان کی اس ساکھ کو دیکھتے ہوئے شاید پردھان منتری نے انہیں وزارت داخلہ کی ذمہ داری سونپی ۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پارل ملک اور سینر افسران سے ریاست کے حالات ،دفعہ 370اور 35Aپر تبادلہ خیالات کیا ۔ گورنر سے آنے والی امر نارتھ آنے والی یاتر ا کی حفاظت اور امکانی اسمبلی چناﺅ کو لے کر بھی غور و خوض کیا ۔دہلی میں اسمبلی چناﺅ کے پیش نظر اگلے کچھ ماہ میں عآپ اور بھاجپا کے لئے بے حد اہم ہیں ۔مرکز میں بھاجپا سرکار اور دہلی میں عآپ سرکار کے تال میل سے ہی یہاں لوگوں کی بہتری ممکن ہے ۔خاص طور سے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے درمیان تال میل ضرور ی ہے ان کے سیاسی رشتہ اب تک بے حد تلخ رہے ہیں ۔چناﺅ کے درمیان کجریوال نے امت شاہ پر تلخ نکتہ چینی کی اور لوگوں سے بھاجپا کو ووٹ نہ دینے کی اپیل بھی کی تھی اب ان کے سامنے انہیں امت شاہ کے ساتھ تال میل بنائے رکھنا چنوتی ہے دراصل دہلی میں لا اینڈ آرڈر نظام پولس زمین سے جڑے معاملے اور سروس سیدھے لیفنیٹ گورنر کے ما تحت آتے ہیں ۔لیفنیٹ گورنر اور سید ھے طور پر مرکزی وزارت داخلہ کو رپورٹ کرتے ہیں دوسری طرف افسر شاہی دہلی سرکار سے طے کردہ اسکیموں پر کام کرتی ہے ایسے میں کام کاج میں کسی اڑچن سے بچنے کے لئے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے درمیان تعلقات بہتر ہونا ضروری ہے ۔اس سے پہلے چناﺅ کے دوران بطور بھاجپا صدر امت شاہ پر کجریوال کافی حملہ آور تھے ایک ٹوئٹ میں یہ کہہ ڈالا تھا کہ اگر بھاجپا سرکار دوبارہ آتی ہے تو امت شاہ وزیر داخلہ بنیں گے اور جب دیش کے وزیر داخلہ وہ ہوں گے اس دیش کا کیا ہوگا؟یہ سوچ سمجھ کر ووٹ کرنا امت شاہ نے ذمہ داری سنبھالتے ہی کہا کہ دیش کی حفاظت اور ملک کے شہریوں کی بہبود سرکار کی اولین ترجیح ہے مودی جی کی قیادت میں ان کو پورا کرنے میں ہر ممکن کوشش کروں گا دیش کو امت شاہ سے بہت امیدیں ہیں اور پردھان منتری نے ان پر پورا بھروسہ جتایا ہے ۔

(انل نریندر)

02 جون 2019

گرمی اور لو کی زد میں آیا پورا شمالی ہندوستان

دہلی میں گرمی نے اپنے تیور دکھانے شروع کر دئے ہیں پچھلے بدھ کو راجدھانی کے کئی علاقوں میں درج حرارت 46ڈگری سیلسیز تک پہنچ گیا پالم میں 47ڈگری ہو گیا ۔دوپہر پر گرم لو چلنے سے لوگ بے حد پریشان رہے محکمہ موسمیات کی مانے تو ابھی چار پانچ دن دہلی کے شہریوں کو گرمی کا ستم جھےلنا پڑئے گا محکمہ موسمیات نے صفدر جنگ انسٹی ٹیوٹ میں زیادہ سے زیادہ درج حرارت 44.7ڈگری سیلسیز ریکارڈ کیا گیا جو عام درج حرارت سے چار ڈگری زیادہ ہے وہیں کم از کم درج حرارت 26.8ڈگر ی رہا جو اس موسم کا عام درج حرارت ہے گرمی کے چلتے کچھ حصوں میں لوگوں کو گرم ہواﺅں کے تھپیڑوں کا بھی سامنا کرنا پڑا اور یہ گرمی تین جون تک ایسی ہی بنی رہے گی ہاں اس میں اضافہ ہو سکتا ہے لوگوں کو دوپہر میں لو سے بچنے کی صلاح دی گئی ہےجمعہ کو بہت زیادہ گرمی پڑی اور یہاں درج حرارت 47ڈگر ی تک پہنچ گیا اور کم از کم درج حرارت 27ڈگری رہا اس دوران دھول اڑانے والی گرم اور تیز ہواﺅں سے لوگوں کی پریشانی بڑھ سکتی ہے آسمان میں دھول کے ذرات کافی بڑھنے سے دہلی کی آب وہوا کی کوالٹی متاثر ہوئی ہے وہیں دیش کے دیگر حصوں میںزبردست گرمی اور لو کی مصیبت جھیلنی پڑ رہی ہے مہاراشٹر ،اترپردیش ،راجستھان ،تلنگا نہ سمیت کئی ریاستوں میں جمعرات کو درج حرارت 48ڈگر ی پار کر گیا مدھیہ پردیش کے بھوپرا علاقہ میں درج حرار ت 49ڈگری رہا ۔ودھرب کے چندر پور میں سب سے زیادہ 48ڈگری درج گیا اڑیشہ،گجرات،آسام،میگھالیہ ،مغر بی بنگال،کے گنگا کے ساحلی علاقہ میں اور اتر پردیش راجستھان مدھیہ پریش،اور مہاراشٹر ،اور تلنگانہ کے باقی حصوں میں دن کا درج حرارت زیادہ رہا ۔اتنی زبردست گرمی اور لو سے سبھی لوگوں کو احتیات رکھنی ہوگی سر کو ڈھک کر رکھا جائے پانی زیادہ پیا جائے اور دوپہر کو دھوپ میں کم نکلیں ۔لوگ اکثر کہتے ہیں کہ یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہے ایسا نہیں کہ صرف بھارت گلوبل وارمنگ سے متاثر ہے بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں ہے اگر گرمی بے تحاشہ کئی جگہ بڑھ رہی ہے تو کئی جگہ سیلاب بھی آرہا ہے تو کہیں زبردست برف پڑ رہی ہے جہاں تک ممکن ہو گرمی میں اپنے آپ کو بچا کے رکھیں ۔

(انل نریندر)

کمائی میں امیرپر کاہلی سے صحت میں غریب

کاہلی انسان کے جسم میں رہنے والی سب سے بڑی دشمن ہے۔یہ دشمن اب ہمارے لئے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی 130کروڑ آباد ی میں قریب 34فیصدی یعنی 42کروڑ لوگ کاہلی کی زد میں آکر بیمار ہو رہے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ جسمانی طور پر درکار محنت نہ کرنا بتایا گیا ہے ۔دا سالٹ سیٹ میگزین میں شائع رپورٹ میں ہندوستانی خواتین میں جسمانی محنت نہ کرنے کا مسئلہ مردوں کے مقابلے دوگنہ ہے ۔رپورٹ کے مطابق دیش کی قریب آدھی خواتین 47.7درکار کثرت نہیں کرتیں جبکہ 20فیصد سے زیادہ مرد بھی کاہلی کے شکار ہیں168 ملکوں میں کرائے گئے 358سروے کے دوران 19لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اس روپورٹ میں شامل کیا گیا ہے سال2001سے 2016کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی 27.5فیصدی آبادی کاہلی کا شکار ہے دنیا کے کئی ایسے ملک ہیں جو پیسوں کے معاملوں میں تو امیر ہیں لیکن صحت کی بات کریں تو وہ اتنے ہی غریب ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ خوشحالی میں آگے دیش جسمانی محنت کرنے میں پیچھے چھوٹتا جا رہا ہے ۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی رینکنگ میں 90ویں مقام پر موجو کوئت کی حالت یہ ہے کہ یہاں کی 67فیصدی آبادی جسمانی محنت پر توجہ نہیں دیتی اسی طرح سعودی عرب کو بھی 50فیصدی آبادی سے زیادہ آرام طلب معنی جاتا ہے امیر ممالک میں فہرست میں چوتھے مقام پر سنگاپور کا بھی یہی حال ہے جتنی زیادہ کمائی اتنی زیادہ کاہلی ۔اس سے بیماری بڑھتی جا رہی ہے۔ اور سب سے زیادہ مار شگر کی ہے ۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق 42.2کروڑ لوگ دنیا میں شوگر کی بیماری کی زد میں ہیں 2030تک موت کے لئے باقی 7اسباب شامل ہوں گے شوگر 2017میں بھارت میں 7.2کروڑ لوگ شوگر کی بیماری سے متاثر تھے تین میں سے ایک ہندوستانی بلیڈ پریشر کی بیماری سے متاثر ہے 11.44فیصد پستان کینسر کے معاملے بڑھے 2008سے 2012کے درمیان ہیلتھ پر بھارت اپنے جی ڈی پی کا محض 1.25فیصد ہی رقم خرچ کرتا ہے جبکہ بغل میں تقریبا تباہی کے دہانے پر پہنچا افغانستان اس مد میں 8.2فیصدی رقم خرچ کرتا ہے لیکن اس معاملے میں سیدھے حکومت کو کوئی بھی قصور وار نہیں دے سکتے کیونکہ اپنے صحت کا خیال رکھنا اپنے جسم کو کام کرنے کے لائق بنائے رکھنا سب سے پہلے انسان کی ذاتی ذمہ دار ی بزرگ یہ ذمہ داری جیسے تیسے کر کے نبھا لیتے ہیں لیکن موبائل فون اور لیپ ٹاپ ہر وقت رہتے باتیں کرنے والے نوجوانوں میں یقینی طور پر کثرت کرنے گھومنے پھرنے کی عادت کم ہوتی جارہی ہے ۔

(انل نریندر)

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ...