Translater
04 جنوری 2025
این بیرن سنگھ کی معافی پر سوال ؟
منی پور کے وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ نے مئی 2023 سے جاری شورش اور تشدد کے دور کو بے حد افسوس ناک بتاتے ہوئے ریاست کی عوام سے معافی مانگ لی ہے ۔انہوں نے سال کے آخری دن منگل کو کہا کہ ریاست میں جو کچھ ہو رہا ہے مجھے اس پر بے حد افسوس ہے میں منی پور کے لوگوں سے معافی مانگتا ہوں ۔ساتھ امید جتائی کہ اب نئے سال میں حالات میں بہتری آئے گی اور انہوں نے لوگوں سے بھی ماضی کو بھلا کو نئی زندگی کی شروعات کرنے کی اپیل کی ہے ۔بتا دیں کہ منی پور میں تین مئی 2023کو میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی تب سے اب تک جاری تشدد میں 250لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں ۔5ہزار سے زیادہ گھر جلا دئیے گئے ہیں ۔60ہزار لوگ گھر چھوڑ کر راحت کیمپوں میں ہیں ۔وزارت داخلہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2023 میں نارتھ ایسٹ میں ہوئے تشدد کے واقعا ت میں 77 فیصد منی پور کے تھے ۔اس برس 243 تشدد کے واقعات نارتھ ایسٹ میں ہوئے ان میں 187 واقعات منی پور میں ہیں۔آج بھی ذاتیہ تشدد میں مبتلا و زخمی منی پور کو مسئلے کے حل کا انتظار ہے ۔منی پور جلتا رہا اور حل ڈھونڈنے میں نا تو مرکز نے اور نا ہی ریاست کے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ سرکار نے کبھی سیاسی قوت ارادی کا اظہار کیا ۔منی پور میں جو بھی خوفناک واقعات رونما ہوئے اور جس طرح سے اہم فرقوں میں میتئی اور کوکی کے درمیان خون خرابہ قتل ،ریپ آتش زنی کے واقعات کے بعد ہجرت شروع ہو گئی اس نے پوری ہندوستانی جمہوریت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ریاست کی بیرن سنگھ کی قیادت والی بھاجپا سرکار کو اس ڈراورنے تشدد پر کنٹرول کرپانے کے لئے پہلی نظر میں ذمہ دار ٹھہرایاجانا تھا ۔اور دکھاوے کے لئے ٹھہرایا بھی گیا ۔ایک آسان سا سوال جس طرح سے مذمت تھی وہ آج بھی اسی طرح ہے۔آخر پردیش اور مرکز کی شکتی مان مودی سرکار تشدد پر لگام کیوں نہیں لگا سکی ؟ یہ یاد رکھا جائے جب منی پور جل رہا تھا اور قومی سطح پر سرخیاں بنا ہوا تھا تب بیرن سنگھ یا مرکزی سرکار کے سطح پر خاموشی رہی ؟ آج تک وزیراعظم نریندر مودی ایک بار بھی منی پور جانے اور عوام کو شانت کرنے کی کوشش کے لئے نہیں گئے ۔وہ دنیا بھر کی یاترا تو کررہے ہیں لیکن منی پور جانے سے پرہیز کیوں کرتے ہیں ؟ ایسے میں سوال ہے کہ وزیراعلیٰ کی اس معافی کا ریاست کے الگ الگ فرقوں کے لوگوں پر کیسا اور کتنا اثر پڑے گا؟ سوال اہم اس لئے بھی ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ الزام لڑائی سے شروع ہونے کے بعد خاموشی کی تلاش میں ہے ۔وزیراعلیٰ اور ریاست کی انتظامیہ کا رول منصفانہ نہیں ہے ۔الزام اگر پوری طرح سے غلط بھی ہو تب بھی پوری طرح سے صاف ہے کہ پردیش کے لوگوں کا ایک کھویا ہوا انہیں بھروسہ ختم ہو رہا ہے اور وہ شک کی نظروں سے دیکھتی ہے ۔ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ مرکز اور بھاجپا اعلیٰ کمان نے اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی وہاں کے حالات بد سے بدتر ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کو کیوں نہیں بدلا ہے ؟ وہ بری طرح سے فیل ہو چکے ہیں ۔خود بھاجپا کے ممبر اسمبلی انہیں ہٹانے کی مانگ کررہے ہیں لیکن پتہ نہیں مرکز کی کیا مجبوری ہے ۔انہیں اپنے عہدے پر بٹھائے رکھنے کی ؟ این بیرن سنگھ جی آپ کی معافی کا کوئی مطلب نہیں اگر آپ دل سے پچھتا رہے ہیں تو اپنے عہدے سے خود استعفیٰ دیں اور کسی وزیراعلیٰ کو آنے دیں جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کر سکے ۔
موجودہ سیاست میں کیوں ہیں امبیڈکر ضروری!
بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکرایک بار پھر پچھلے کئی دنوں سے سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں وجہ پچھلے دنوں راجیہ سبھا میں دیا گیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ایک بیان ہے اس نے تمام اپوزیشن دلتوں اور پسماندہ و محروم طبقوں کو ان کی پارٹی پر حملہ آور ہونے کا موقع دے دیا ہے حالانکہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے یہی نہیں ان کے بیان پر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سوشل میڈیا ایکس پر کانگریس پر جوابی وار کیا ۔امت شاہ کو باقاعدہ پریس کانفرنس کرنی پڑی ۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا اس تنازعہ سے کتنی بے چین ہے ۔آخر ڈاکٹر امبیڈکر آج کے وقت اور سیاست میں اتنے اہم کیوں ہیں ؟ ڈاکٹر امبیڈکر نے ایک انتہائی غربت سماج کو مضبوط بنانے کا خواب دیکھا وہ استحصال شدہ طبقوں کے حق آزادی اور باوقار زندگی کے لئے لو جگانے والے مانے جاتے ہیں ۔ایک تجزیہ نگار کا کہنا تھا ڈاکٹر امبیڈکر نے دلت سماج کی بھلائی کے لئے جیسا کا م کیا ہے ایسے میں اگر وہ سماج انہیں اپنا مسیحہ یا بھگوان مانتا ہے تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے ۔آزادی سے پہلے یا اس کے بعد اس سماج کے لئے امبیڈکر نے جتنا کام کیا اتنا کسی اور نے نہیں کیا ہے ۔ایک سابق آئی اے ایس افسر پی ایل پنیا کا کہنا ہے کہ اگر امبیڈکر نے سماجی تبدیلی کی لڑائی نا لڑی ہوتی تو ہم لوگ آئی اے ایس افسر نا بن کر آج بھی غلامی کی زندگی جی رہے ہوتے ۔بابا صاحب کی اصل لڑائی سماج میں برابری کے حق لئے تھی ساتھ ہی ان کی جدوجہد اس بات کے لئے بھی تھی کہ سیاسی امپاور سماج کے آخری شخص تک کیسے پہنچے ۔امبیڈکر نے صرف دلت طبقے کے لئے ہی نہیں بلکہ سماج کے لئے بھی پسماندہ لوگوں کی بہتری کے لئے بھی کام کیا ۔سال 2024 کے لوک سبھا چناو¿ میں اپوزیشن نے آئین اور ریزرویشن کے مسئلے پر ہی بھاجپا کو گھیرنے کی کوشش کی تھی ۔ایسا مانا جارہا ہے کہ وہ اس وجہ سے بھی بھاجپا اکیلے اکثریتی نمبر تک نا پہنچ سکی ۔آخر امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کہا کیا تھا جس پر اتنا ہائی ہلا مچ گیا ہے ؟ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں اپنی تقریر کے دوران ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی وراثت پر بولتے ہوئے کہہ گئے کہ اب یہ ایک فیشن ہوگیا ہے ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔اتنا نام اگر بھگوان کا لیتے تو سات جنموں تک سورگ مل جاتی۔وزیر داخلہ کی تقریر کے اسی پیرے پر اپوزیشن اعتراض جتا رہی ہے ۔دراصل ایک ایکسپرٹ کا ماننا ہے کہ بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر پر سیاسی پارٹیوںکے درمیان بھلے ہی ایک دوسرے پر الزام تراشی کے مرکز میں درج فہرست ذاتوں کے 20 سے 22 فیصد ووٹر ہیں اصلی لڑائی تو ووٹ بینک اور آئین بچانے کی ہے ۔یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ بھاجپا کا ایک طبقہ منو اسمرتی چاہتا ہے اور بابا رام دیو کے آئین کو بدلنا چاہتا ہے ۔2024 کے چناو¿ سے پہلے بھاجپا کے کئی لیڈروں نے اپیل کی تھی کہ ہمیں اس بار 400 پار سیٹیں چاہیے تاکہ ہم آئین بدل سکیں ۔اور پوری اپوزیشن امت شاہ سے معافی کی مانگ کررہی ہے ان کے استعفیٰ تک کی بات کر رہی ہے لیکن بی جے پی لیڈر شپ اسی بات پر اڑی ہوئی ہے کہ امت شاہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر اس پر سیاست کی جارہی ہے۔اپوزیشن امت شاہ کے اس بیان کو جنتا پر خاص کر دلتوں اور پسماندہ طبقوں پر کتنا اثر پڑا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔آج کے پش منظر میں اس لئے ضروری ہے کہ بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر صاحب کی آئین کے تئیں خدمات مشعل راہ ہیں ۔
(انل نریندر)
02 جنوری 2025
54 کلو سونے کی کار!
کچھ دن پہلے بھوپال کے میڈوٹی نے کار سے54 کلو سونا اور 10 کروڑ روپے کی نقدی کے علاوہ ٹرانسپورٹ محکمہ کی کالی کمائی سے جڑے ایک ڈائری بھی ملی ہے ۔جمعہ کی رات میں ایک انوا کار سے بھوپال کے دوردراز علاوہ کے جنگل میں ایک کار کھڑی ملی تھی مکامی لوگوں نے بتایا کے کچھ ہتھیار بند لوگ اسے چھوڑکر جاتے دیکھے اس کے بعد انکم ٹیکس افسر وہاں پہنچے اور کار اور سونا پیسے قبضہ میں لے لیے اس کے بعد معاملے میں ایک بڑا موڑ آیا ہے ۔مدھیہ پردیش کے ایک سابق افسر کی رہنمائی میں کروڑوں روپے کے لین دین کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کے بعد ای ڈی محکمہ محصولات اور لوک آیوکت وغیرہ کئی ایجنسیاں معاملے کی مختلف پہلوﺅ پر جانچ کر رہی ہیں ۔مدھیہ پردیش ٹرانسپورٹ محکمہ میں کانسٹیبل رہے سوربھ شرما کی جانچ ہو رہی ہے اور گھر پر چھاپے میں 287 کروڑ روپے نقد اور 234 کلو چاندی سمیت کروڑوں روپے کی املاک کے کاگذات ملے ہیں ۔جس کار سے پیسہ برآمد ہوا وہ چیتن گوڈ کے نام پر ہے وہ سوربھ شرما کا ساتھی بتایا جا رہا ہے ۔جس کی تلاش ہو رہی ہے ۔وہ دبئی بھاگ گیا ہے پیسہ کا سورس کا پتا لگانے کے لئے ایجنسیاں اس کے بارے میں بن رہی کہانیوں پر غور کر رہے ہیں ۔کانسٹیبل کے طور پر ملازم رہے سوربھ شرما نے نوکری چھوڑ کر رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں قدم رکھا اور بڑے افسران سے جڑے کرپشن کے معاملے بھی سامنے آ رہے ہیں سوربھ کے پتا سرکاری ڈاکٹر تھے اور 2015 میں موت کے بعد سوربھ کو ٹھےکے پر نوکری ملی اس نے 2023 میں نوکری چھوڑ دی اور رئیل اسٹیٹ کاروبار میں قدم رکھا اور بڑے بلڈروں سے قربت بنائی ۔اس کے بعد اس نے تیزی سے ترقی کی اس نے اسکول ہوٹل اور کئی بڑے کمرشئل اسٹیٹ بنائے جو اس کی ماں بیوی اور رشتے داروں کے نام پر ہیں ۔انکم ٹیکس محکمہ نے قریب 100 کروڑ روپے کے ناجائز لین دین کا پتہ لگایا ہے ۔اس کی پراپرٹی کو دیکھ کر سبھی حیران ہیں ۔اور ایک سپاہی کے گھر سے 232 کلو چاندی جس کی مالیت پونے دو کروڑ ملی ہے ۔اس کے علاوہ اس کے فارم ہاﺅس کے اندر کار سے 54 کلو سونا اور 11 کروڑ کیش کا لنک بھی جڑا ہے ۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کیا سوربھ نے اکیلے اپنے دم پر اتنا بڑا کاروبار کھڑا کیا ہے ؟یا اس کے پیچھے کسی بڑے نیتا کا ہاتھ ہے؟ نیتا افسر وں کی سرپرستی نہ ہو تو ایک سپاہی اتنی بڑی پراپرٹی نہیں اکھٹی کر سکتا ۔سوربھ فی الحال فرار ہے شاہد ہی پورے قصہ کا پتہ چلے پورے معاملے کو دبا دیا جائے گا تاکہ اس کے پیچھے راز کبھی نہ کھلےں۔
(انل نریندر)
نشانے پر موہن بھاگوت!
رام مندر کے ساتھ ہندوﺅ کی عقیدت ہے لیکن رام مندر تعمیر کے بعد کچھ لوگوں کو لگتا ہے کے وہ نئی جگہ پر اسی طرح کے اشو کو اٹھاکر ہندوﺅ کا نیتا بن سکتے ہیں۔یہ قبول نہیں ہے ۔یہ بات آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے ایسے وقت پر کہیں ہے جب دیش میں مندر مسجد والے نئے باب لکھے جا رہے ہیں۔اپسانا استھل ایکٹ پر چل رہی بحث کے بیچ دیش میں سنبھل ،متھرا ،اجمیر اور کاشی سمیت کئی مقامات پر مساجد کے نیچے قدیم مندروں کا ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور جگہ جگہ خدائی کی جا رہی ہے اور بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں ۔19 دسمبر کو پونے میں ہندو سیوا مہوتسو کے افتتاح کے موقع پر بولتے ہوئے موہن بھاگوت نے اس ماحول پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایک بار پھر مندر مسجد تنازعہ چیپٹر کو بند کرنے کی بات کہی ہے ۔ترسکار اور شنبھوتا کے لئے ہر روز نئے نئے معاملے کھڑے کرنا ٹھیک نہیں ہے اور ایسا نہیں چل سکتا موہن بھاگوت کے بیان کے بعد نہ صرف سیاسی گلیاروں اس مسلے میں کھیچ ج تان شروع ہو گئی ہے بلکہ کئی بار ساتھو سنتوں نے بھی ان کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔موہن بھاگوت کے بیان پر سوامی رام بھٹا چاریہ نے نقتہ چینی کرتے ہوئے سوال کھڑے کئے اور کہا کے موہن بھاگوت کا شخصی بیان ہو سکتا ہے یہ سب کی نمائندگی نہیں کر سکتا وہ کسی ایک تنظیم کے سربراہ ہو سکتے ہیں ۔ہندو دھرم کے وہ چیف نہیں ہیں ہم ان کی بات مانتے ہیں لیکن وہ ہمارے راہ عمل نہیں ہے ۔ہم ان کے سیرو کار ہیں ہندو مذہب کے لئے وہ ٹھےکے دار نہیں ہے ۔ہندو دھرم اچاریوں کے ہاتھ میں ہے ان کے ہاتھ میں نہیں ۔جوتی مٹ کے شنکر اچاریہ مکتانند بھی موہن بھاگوت کے بیان کے بعد غصہ میں ہیں ۔اے بی پی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا جو لوگ آج کہہ رہے ہیں کے ہر جگہ مندر تلاشنا نہیں چاہئے انہیں لوگوں نے تو بات بڑھائی ہے ۔اور بڑھاکر اپنا قتدار حاصل کر لیا ہے اب اقتدار میں بیٹھنے کے بعد مشکل ہو رہی ہے شنکر اچاریہ نے آگے کہا اب کہہ رہے ہیں بریک لگاﺅ اب جب آپ کو ضروت ہو تو آپ گاڑی اسٹارٹ کر دو اور جب آپ کو ضرورت لگے بریک دبا دو یہ سہولیت کی بات ہے ۔انصاف کی جو کارروائی ہے وہ سہولت نہیں دیکھتی اس مسئلے پر بابا رام ددیو نے کہا کے یہ سچ ہے کے آرکٹیکٹ نے آکر ہمارے مندر دھرم استھان اور سناتن کے نشانات کو مٹا دیا ہے اور اس دیش کو نقصان پہنچایا ہے انہوںنے آگے کہا تیرتھ استھلو دیوی دیوتاﺅ کی مورتیوں کو توڑنے والوں کو سزا دینے کا کام عدالتوں کا ہے انہیں اس کا پھل ملنا چاہئے یہ پہلی بار نہیں ہے جب ایک پرمکھ نے دیش کے مسلمانوں کو ساتھ لیکر چلنے اور مسجدوں میں مندر نہ ڈھونڈنے کی صلاح دی ہے ۔یاد رہے ان کا بیان ہر مسجد میں شیولنگ کیوں دیکھنا ؟سینئر صحافی اشوک وانکھڑے کہتے ہیں جس طرح سے دھرم گرو اور کتھا واچک موہن بھاگوت کے بیان پر رضا مندی نہ چتا رہے ہیں سوشل میڈیا پر فوراً انہیں آر ایس ایس چھوڑنے کو کہہ رہے ہیں یہ اب بغیر دہلی کے آشیر واد کے ممکن نہیں ہے یہ صاف ہے کے موہن بھاگوت کے خلاف کھل کر مورچہ کھول دیا گیا ہے یہ دہلی کے اقتدار اور موہن بھاگوت کے درمیان سیدھی لڑائی ہے یہ کھیچ تان کہا تک بڑھ سکتی ہے دیکھان باقی ہے ۔
(انل نریندر)
31 دسمبر 2024
اور اب ایشور اللہ تیرو نام پر ہنگامہ!
بہار میں لوک گائیکا دیوی کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اس محبوب” بھجن رگھوپتی راگھو راجا رام“پر معافی مانگنی پڑی یہ واقعہ 25 دسمبر کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واچپئی کی جینتی پر منعقد ایک پروگرام میں ہوا ۔ماہر تعلیم مدن موہن مالویہ کی جینتی پر واچپئی کی سدی تقریبات برس پر اٹل وچار کونسل اور دنکر نیاس کمیٹی نے پٹنہ کے باپو اڈیٹوریم میں دو روزہ پروگرام کیا تھا اٹل وچار کونسل کے بانی سابق مرکزی وزیر اشونی کمار چوبے نے بتایا کے اس پروگرام میں پہلے دن گاندھی میدان میں اٹل دوڑ کا انعقاد کیا گیا تھا اور دوسرے دن دیش بھر سے آئے لوگوں کو اٹل سمان دیا جانا تھا ارجت شیخاوت بھاگل پور سے ممبر اسمبلی ہیں ان کا کہنا ہے لوک گائیکا دیوی کی فلائٹ تھی اس لئے ان کو اٹل سمان دینے کے بعد ان کا ایک گیت سن کر انہیں بدا کرنا تھا یہ ان کا گیت گاندھی اور اٹل جی دونوں کا محبوب بھجن گایا تھا جس پر پیچھے بیٹھے کچھ لوگوں نے ہنگامہ کر دیا ،دینی نے باپو کے پریہ بھجن ایشور اللہ تیروں نے گانا شروع کیا تو اڈیٹوریم میں ہنگامہ شروع کر دیا کہا گانے میں صحیح لائنوں کو نہیں پڑھا گیا اس کو لیکر اپنی بات رکھ رہیں تھی کے اتنا شور غل ہوا کے لوگ ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے ۔اس درمیان دیوی نے بھارت ماتا کی جے اور اٹل بہاری واچپئی امر رہے کے نارے لگائے تو لوگوں نے جے شری رام کے نارے لگانے شروع کر دئے جب یہ ہنگامہ شروع ہوا اور دیوی کو چڑایا جا رہا تھا تب ایم پی روی شنکر پرساد ،سنجے پاسوان ،سی پی ٹھاکر بھی موجود تھے اس واقعہ کے وائل ویڈیو میں رگھوپتی راجا رام گانے کے بعددیوی سب سے معافی مانگتے ہوئے کہتی ہیں تو اگر میرے سے کسی کو تکلیف ہوئی ہے تو میں سب سے معافی مانگتی ہوں۔دیوی کے یہ کہنے کے بعد وہ اسٹیج سے ہٹتی ہیں اور بی جے پی نیتا اشونی چوبے جے شری رام کا نعرہ لگواتے ہیں ۔جے ڈی یو ترجمان نول شرما کا کہنا ہے بہار مہاتما گاندھی کی کرم استھلی ہے اور بہار سرکار کے کسی بھی دفتر میں گاندھی جی کے اسول لکھے مل جائےں گے اور ہمارے نیتا میں ہماری کٹر عقیدت ہے ۔کانگریس نے اس واقعہ پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے ایکس پر لکھا باپو کا پریہ بھجن گانے پر بھاجپا نیتاﺅں نے لوک گائیکا دیوی جی سے برا برتاﺅ کرنے اور ان کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا راگھو پتی راگھو راجا رام پنڈت پون سیتا رام نہیں سنا گیا ۔انہوںنے لکھا دنیا کو دکھانے کے لئے باپو کو پھول چڑھاتے ہیں لیکن ان کی کوئی عزت نہیں کرتے دکھاوے کے لئے بابا صاحب امبیڈ کر کا نام لیتے ہیں اسل میںیہ ان کی بے عزتی کرتے ہیں وہیں لالو پرساد یادو نے کہا سنگھیوں اور بھاجپائیوں کو جے سیا رام ،جے سیتا رام کے نارے سے شروع سے ہی نفرت ہے کیوں کے اس میں ماتا سیتا کی تعریف ہے یہ لوگ شروع سے ہی خاتون مخالف ہیں اور انہوںنے گلوکارہ دیوی سے مائک پر معافی منگوائی اور ماتا سیتا کے جے سیتا رام کے بجائے جے شری رام کے نارے لگوائے۔(انل نریندر)
منموہن جن کے7 فےصلے جنہوںنے دیش کی سمت بدل دی!
جمعرات کی شام سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد دیش دنیا بھر میں لوگ ان کے اشتراک کی بات کر رہے ہیں۔سال 2004 سے لیکر 2014 تک بھارت کے وزیراعظم کی کرسی سنبھالنے والے منموہن سنگھ کو اقتصادی اصلاحات کے طور پر دیکھا جاتا ہے 1991 میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راﺅ کی قیادت والی کانگریس سرکار میں منموہن سنگھ کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا ان کی بنائی پالیسیوں نے دیش میں لائسنس راج ختم کر اصلاحت کے ایسے دروازے کھولے جس سے بھارت کو نہ صرف سنگین اقتصادی بہران سے بچایا بلکہ دیش کی سمت بدل ڈالی ۔10 سال کے ان کے اہد میں کئی بڑے فیصلے لئے گئے جو میل کا پتھر ثابت ہوئے اطلاعات کا وقت یعنی آر ٹی آئی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے عہد میں 12 اکتوبر 2005 کو لاگو ہوا ۔یہ قانون ہندوستانی شہریوں کو سرکاری حکام اور اداروں سے معلومات مانگنے کا حق دیتا ہے ۔یہ وہ حق ہے جس سے شہریوں کو جانکاری شئر کرنے کا فیصلہ کا موقع اور خواہش کے مطابق اقتدار کا استعمال کرنے والوں سے سوال پوجھنے کا بھی ہے اس سے نہ صرف افسر شاہی اور لال فیتا شاہی کے ٹال مٹول بھرے رویہ کو دور کرنے میں بھی مدد ملی ہے ۔منموہن کی سرکار نے5 200میں منریگا بنایا جسے 2 فروری 2006 سے لاگو کیا گیا اس اسکیم تحت دیہات میں رہنے والے ہر خاندان کو کم سے کم 100 دن مزدوری کی گارنٹی دی گئی ۔اس ہوجنا نے نہ صرف دیہی علاقوں میں غریبی بلکہ شہروں کی طرف ہجرت کو بھی کم کیا ہے ۔پہلی ہی سال اس اسکیم کے تحت 2.10 کروڑ خاندانوں کو روزگار دیا گیا ہے تب یومیہ روزگار پانے والے شخص کو روزانہ 65 روپے ملتے تھے سال 2008 میں کانگریس کی یو پی اے سرکار نے دیش بھر کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کا فیصلہ لیا ۔اس سے اندازاً 3.69 کروڑ جھوٹے اور درمیانے کسانوں کو راحت ملی ہے ۔کانگریس نے 2009 کے عام چناﺅ میں خوب بھنایا نتیجہ یہ ہوا ایک بار پھر کانگریس کی سرکار بنی سال 2008 میں بھارت اور امریکہ کے بیچ نیوکلائی اشتراک معاملے پر معائدے پر دستخط کئے گئے ۔سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا جھکاﺅ پاکستان کی طرف تھا ۔لیکن اس معائدے کے بعد امریکہ اور بھارت کے رشتوں نے ایک تاریخی موڑ لے لیا ۔اس مشکل گھڑی میں صدر ڈاکٹر عبدکلام اور سپا کے تعاون سے منموہن سرکار اپنے مقصد میں کامیاب رہی ۔سال 2008 میں دنیا بھر میں معالی بہران مچا ہوا تھا اور ہر کونے سے شئیر بازار وں کے پیسہ ڈوبنے کی خبرے آ رہی تھی۔سرمایا کاروں کے لاکھوں کروڑوں روپے ہر روز ہوا ہو رہے تھے ۔جب لگا کی ہندوستانی معیشت چرمراجائے گی تبھی منموہن سنگھ کی سوچھ بوچھ نے حالات سنبھالنے شروع کئے اور یہ سلسلہ ایسا چلا بھارت اقتصادی مندی کی ذد میں آنے سے بچ گیاسال 2010 میں منموہن سرکار نے دیش میں تعلیم کا حق لاگو کیا اس کے تحت 6 سے 14 سال تک کے بچوں کو تعلیم مہیاءکرانا آئینی کرانے کا آئینی حق لاگو کیا گیا اس قانون میں تعلیم کی کوالیٹی سماجی ذمہ داری ،پرائیویٹ اسکولوں میں ریزرویشن اور اسکولوں میں بچے کے داخلے کو افسر شاہی سے آزاد کرانے کا سہولت بھی ہے ۔سال 2013 میں دیش کے غریب لوگوں کو فوڈ گارنٹی کےلئے منموہن سرکار نے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ لاگو کیا یہ ایکٹ دیش میں 81.35 کروڑ آبادی کو کور کرتا ہے آج بھی مودی سرکار اس اسکیم کا نام بدل کر چلا رہی ہے ۔منموہن سنگھ نے جب کہا تھا کے تاریخ ان کی اندازے میں ہال کے مقابلے زیادہ بڑھےگا تو اس سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی منموہن سنگھ کے اشتراک کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ میں انکا اشتراک درج ہو گیا ہے ۔ہم اس مہان آتمہ کو شردھانجلی دیتے ہیں ۔(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...