Translater

14 فروری 2026

ایپسٹین سے میری ملاقات ہوئی تھی!

ساری دنیا میں اس وقت اس ایپسٹین فائلس کا تذکرہ جاری ہے ۔امریکہ میں نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانوں کی اسمگلنگ کے ملزم عرب پتی جیفری ایپسٹین سے جڑے خفیہ دستاویز سامنے آتے ہی دنیا کے اقتدار اور رسوخ کے گلیاروں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔جیفری ایپسٹین کی پوری کہانی کسی اور دن بتاؤںگا ،آج تو ایپسٹین فائلس اور بھارت کے ایک وزیر کا نام سامنے آنے کے بارے میں بتاؤں گا ۔ایک طویل تعطل کے بعد بدھوار کو لوک سبھا میں بجٹ پر بولتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ اور بھارت کی ٹریڈ ڈیل پر مودی سرکار پر کئی الزام لگائے انہوں نے کئی اہم اشوز پر سوال اٹھائے۔ اپنی تقریر میں لیڈر آف اپوزیش جیفری ایپسٹین فائلس، انل امبانی اور اڈانی سے وابستہ معاملوں پر بھی بولے۔ انہوں نے انل امبانی اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری پر بھی الزام لگائے ۔راہل گاندھی کی جانب سے ان اشوز کو اٹھانے کے بعد حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ بڑھ گیا۔ کیوں کہ لوک سبھا میں ہوئی بحث میں ہر دیپ سنگھ پوری کا نام آگیا تھا ۔اس لئے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بعد میں باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کی اور اپنا موقف رکھا ۔ہردیپ پوری نے کہا کہ ایپسٹین سے ان کی ملاقات صرف تین چار موقعوں پر ہوئی وہ بھی ایک نمائندہ وفد کے حصہ کے طور پر ہوئی تھی اور ان کے ساتھ صرف ایک ای میل کا تبادلہ ہوا تھا ۔پارلیمانی وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی کے الزامات کو بے بنیاد بتایا اور اسپیکر سے درخواست کی کہ راہل گاندھی کی تقریر کی غلط باتوں کو کاروائی سے ہٹا دیاجائے ۔اُدھر راہل گاندھی نے ایپسٹین فائلس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہی انل امبانی کا تعارف امریکی سرمایہ کار اور جنسی استحصال کرمنل جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ایک بزنس مین ہے انل امبانی ، میں پوچھا چاہتاہوں کہ وہ جیل میں کیوں نہیں ہے ۔میں ہردیپ پوری سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے انہیں ایپسٹین سے تعارف کروایا تھا ۔ہردیپ سنگھ پوری نے اپنی پریس کانفرنس میں کئی باتیں کہیں انہوں نے کہاایپسٹین سے وابستہ تیس لاکھ فائلیں ریلز ہوئی ہیں اور میں نیویارک میں 8 سال رہا ۔میں اقوام متحدہ میں بھارت کا سفیر بن کر 2009 میں پہنچا تھا اور 2017 میں میں وزیر بنا اور 8 برسوں میں ممکنہ طور پر تین یا چار بار میٹنگ کا سلسلہ رہا ۔ امریکہ میں ہندوستانی سفیر کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے کچھ ماہ بعد مجھے انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ ( آئی پی آئی ) میں مدعو کیا گیا تھا ۔ میں آئی سی ایم کے چیرمین جو آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم تھے کے ساتھ ایک ڈیلی گیشن میں ایپسٹین سے ملا تھا۔ ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا تھا کہ ایپسٹین سے جڑے دیگر معاملوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ہردیپ سنگھ پوری کی پریس کانفرنس کے بعد کانگریس کے سینئرلیڈر پون کھیڑا نے ایکس پر پوسٹ ڈالتے ہوئے پوری سے کچھ سوال پوچھے ۔پون کھڑا نے لکھا ۔۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ان کے روابط نے انہیں ریڈہاف مین سے ملوایا تھا ۔لیکن جو انہوں نے نہیں کہا وہ زیادہ معنی رکھتا ہے ۔4 اکتوبر 2014 کو ایپسٹین نے ہردیپ سنگھ پوری کو ای میل کیا ۔کیا ریڈ سے ملاقات ہوئی؟ پوری نے جواب دیا میں آج دوپہر ایک میٹنگ کے لئے سین فرانسسکو میں ہوں میرے دوست تم تو چنج کروا دیتے ہو کوئی صلاح؟ اس کے بعد پون کھیڑا نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں 6 سوال پوچھے ، یہ سوال تھے پہلا : ایپسٹین کی ریڈ کے ساتھ ان ملاقاتوں کے بارے میں پہلے ہی کیسے پتہ چل گیا ؟ دوسرا : کیا ایپسٹین ہی وہ کانٹیکٹ تھا جس نے ریڈ ہاف مین کے ساتھ ملاقات کروائی تھی ؟ تیسرا: ہردیپ اس سے ملاقات کی جانکاری کیوں ڈسکس کررہے تھے؟ چوتھا: ایپسٹین کو دوست کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا؟ پانچواں :ایپسٹین ہردیپ کے لئے کیا کروا رہا تھا؟ چٹھا: اگر ان کا تعلق مہتا ایک سمانگونش یا سطحی تھا ، تو ہردیپ سنگھ پوری ایپسٹین سے صلاح کیوں مانگ رہے تھے ۔ایپسٹین فائلس میں لاکھوں دستاویز ، ویڈیو ، ای میل ہیں ۔ابھی بہت سے راز کھلنے باقی ہیں ۔ان فائلس کے انکشافات کے سبب اب تک دس دیشوںمیں اہم ترین عہدوں پر بیٹھے سیاستداں ، صنعتکار ،افسر شاہ ، راج گھرانے سے جڑے اہم ترین لوگوں کے استعفیٰ ہو چکے ہیں اور 80 کی جانچ جاری ہے ۔ابھی تو معاملہ شروع ہوا ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ (انل نریندر)

12 فروری 2026

ٹرمپ جھکے گا بس جھکانے والاچاہیے!

امریکہ کے سب سے طاقتور ، ریمبو ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے سامنے جھُک گئے ہیں ۔پچھلے ایک پندرواڑے سے زیادہ ٹرمپ کی فوجوں سمندری جہازوں ، فائٹ جیٹس نے ایران کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے لیکن ٹرمپ نے ابھی تک حملہ نہیں کیا ۔اربوں ڈالر خرچ کر بھی اس کی ہمّت نہیں ہوپارہی ہے کہ ایران پر حملہ کرے ۔دراصل ایران نے دکھا دیا ہے کہ فوجی تیاری کیسی ہے ۔ایران کے پاس ایسی ایسی میزائلیں ہیں جو اسرائیل تو چھوڑیے امریکہ تک مار کر سکتی ہیں ۔وسط مشرق میں جہاں جہاں بھی امریکی فوجی اڈّے ہیں وہ سب ایران کی میزائلوں کی رینج میں ہیں اور یہی حقیقت سعودی عرب، قطر ،مصر ،کوئیت وغیرہ ارب ملکوں کو ستارہاہے ۔اسرائیل نے تو 12 دن کی جنگ میں دیکھ ہی لیا تھا کہ ایران کتنا تباہی کر سکتا ہے اور اسے ڈر ہے کہ اب اگر لڑائی چھڑی تو وہ تو نقشہ سے ہی مٹ سکتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ آگے کیسے بڑھے وہ اتنے آگے آچکا ہے اب پیچھے ہٹنا بھی ناک کٹانے جیسا ہوگا ۔اس لئے کچھ وقت گین کرنے کے لئے ٹرمپ نے بات چیت کا راستہ چنا ہے ۔عمان میں امریکہ اور ایران کے بیچ درپردہ بات چیت کا پہلا دور پورہ ہو چکا ہے دونوں فریق آگے بات چیت جاری رکھنے پر رضامند ہوئے ہیں ، لیکن کشیدگی برقرار ہے اور جنگ کی تیاری پوری چل رہی ہے ۔خلیجی دیش عمان کی راجدھانی مسقط میں جمعہ کو امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان درپردہ بات چیت ہوئی ۔دونوں دیش آمنے سامنے نہیں بیٹھے بلکہ عمان کے وزیر خارجہ ودوالاسیدی ایک پیغام رساںکے کر دار میں رہے ۔ایران کی جانب سے وزیرخارجہ عباس اشرافی شامل ہوئے جبکہ امریکہ کی طرف سے اسپیشل نمائندے اسٹیو وٹکاف اور ٹرمپ کے داماد نیریڈ کوئینر موجود رہے ۔بات چیت سے ٹھیک پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کھلی چنوتی دے چکے تھے کہ اگر ایران نے نیوکلیائی معاہدے پر دستخط نہیں کئے یا اپنی میزائلوں کی دوری کم نہیں کی تو امریکہ فوجی کاروائی کر سکتا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران نے دو ٹوک کہا کہ نہ تو اس کا یورینیم افزودگی بند ہوگی ، نہ ہی وہ اپنے میزائل پروڈکشن کو محدود یا کم کرے گا اور نہ ہی اپنے پراکسیوں حزب اللہ ، حوثی ، حماس ،یمن وغیرہ کو اپنی حمایت بند کرے گا ۔ہاں وہ امریکہ کے ساتھ اپنے نیوکلیئر پروڈکشن پر بات کرسکتا ہے ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس اشرافی نے قاہرہ میں کہا کہ نیوکلیائی پروگرام کو لے کر امریکہ کے ساتھ ہوئے مذاکرات کے بعد وہاں اپنا رخ اپناتے ہوئے اتوار کو کہا کہ طاقتور ملکوں کے آگے جھکنے نہ جھکنے سے ایران کو طاقت ملتی ہے ۔اشرافی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا نیادور جلد شروع ہوگا ۔انہوں نے ایک دن پہلے ہوئی بات چیت کو ایک اچھی شروعات بتایا، ساتھ ہی خبردار کیا کہ بھروسہ پھر سے بنانے میں وقت لگے گا ۔الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اشرافی نے یہ بھی صاف کیا کہ تہران اپنے یورینیم انرچمنٹ پروگرام کو نہیں چھوڑے گا ۔جسے انہوں نے ایک ایسا اختیار کہا جسے الگ نہیں کیاجاسکتا۔انہوںنے آگے کہا کہ ان کا دیش ایک ایسے ایگریمنٹ کے لئے تیار ہے جو بین الاقوامی برادری کو بھروسہ دلائے اور ساتھ ہی اس کی افزودگی سرگرمیوں کو بھی بچائے ۔انٹرویو کے دوران انہوں نے امریکہ کی اس مانگ کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر روک لگائے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری جانب بات چیت ناکام ہونے پر ایران کو خطرناک انجام بھگتنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نیوکلیائی سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے وینزویلا سے بھی سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔اب دیکھنا ہے کہ وسط مشرق میں امن ہوتا ہے یا جنگ ۔ایران اپنے موقف پر اڑا ہواہے اور کہیں بھی جھکنے کو تیار نہیں ۔پہلا راؤنڈ تو ایران نے جیت لیا ہے ۔ اب گیند ٹرمپ کے پالے میں ہے ۔دیکھتے ہیں وسط مشرق میں امن ہوتا ہے یا جنگ ؟ (انل نریندر)

10 فروری 2026

یہ جان لیوا کورین لووگیم !

غازی آباد میں تین سگی بہنوں کا نویں منزل سے کود کر جان دینے کے واقعہ نے ایک بار پھر ان جان لیوا گیمس کی بھاری قیمت چکانے کی یاد دلادی ہے ۔اس واقعہ کو محض خودکشی کہنا سچائی سے آنکھیں موندھنے جیسا ہوگا ۔ان تین نابالغ بچیوں کی دردناک موت نے ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔غازی آباد کے شالیمار گارڈن کی یہ واردات کئی دنوں سے سرخیوں میں ہے۔ اور کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔شالیمار گارڈن کے اے سی پی اتل کمار سنگھ نے صحافیوں کو بتایا 4 فروری کی رات تقریباً 2.15بجے اطلاع ملی کہ ٹیلا موڑ پولیس اسٹیشن علاقہ کے تحت بھارت سٹی میں ایک واردات ہوئی ہے ۔اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی وہاں تین بچیوں کی اونچی عمارت سے گرنے کے سبب موت ہو گئی تھی ۔انہیں ایمبولینس کے ذریعے لونی کے ایک ہسپتا ل لایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے تینوں کو مرا ہوا قرار دے دیا ۔تینوں بہنوں کے نام ہیں 16 سالہ نشیکا ، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی ۔12،14اور 16 کی عمر تو سپنوں کے پنکھ لگا کر اڑنے کی ہوتی ہے ۔اس عمر میں موت کو گلے لگانا بھلا کس کے گلے اتر سکتا ہے؟ دراصل، حالات اور صورتحال اور احساسی جذبات کی جھوٹی دنیا نے ان معصوموں کو موت کی در تک پہنچایا ۔یہ ایک ڈیجیٹل مرڈر ہے ۔یہ تکلیف دہ حادثہ خونی ڈیجیٹل ایلگوریدم کا نتیجہ ہے ، جو موبائل کے ذریعے ہم سب کے گھروں میں گھس آیا ہے ۔یہ واردات کو رین لوو گیم اور اس کے پیچھے ایلگوریدم کا نتیجہ ہے ۔شروعاتی جانچ میں موبائل فون اور کوریائی کلچر کے تئیں جنون اس واردات کی خاص وجہ ہوسکتی ہے ۔لڑکیاں کوریائی سنگیت ،ڈرامہ ،ہستیاں ،جاپانی فلمیں اور ڈوریمون کے علاوہ شن-چن جیسے کارٹونوں کے ساتھ-ساتھ آف لائن گیمس کی شوقین تھیں ۔ساتھ ہی وہ کوریائی کلچر سے اس حد تک متاثر تھیں کہ انہوں نے اپنے نام بھی بدل لئے تھےلیکن بلو-وہیل جیسے ٹاسک پر مبنی گیمس کو اس واردات کا ایک محض یا اہم وجہ نہیں ماناجاسکتا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں بچیوں کی موت جسم سے زیادہ خون نکلنے اور چوٹ سے ہوئی ہے ۔اونچائی سے گرنے کے سبب کئی ہڈیاں ٹوٹی تھیں ۔پریوار مالی تنگی کی مار جھیل رہا تھا اور گھر میں کلیش نے بھی چیزیں مشکل بنا دی تھیں ۔کمرے میں ایک سوسائیڈ نوٹ ملا جس میں ساری پاپا لکھا ہوا تھا اس واردات کے بعد بچیوں کے درمیان فون اور ایڈکشن کو لے کر پھر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں ۔کئی ماں باپ کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے رات کو سو ہی نہیں پارہے ہیں ۔وہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں ۔بال منو وگیانک بونائی کہتے ہیں کہ فون ایڈکشن اور کیمیکل وغیرہ کی لت جیسا ہی ہے ۔لڑکپن ایک نازک حالت ہے، جہاں بدلتے سماج کے ساتھ ، ٹیکنالوجی کا بھی حملہ بہہ رہا ہے ۔ اس صورت میں جب کوئی لڑکا یا لڑکی سے گھر والے ایک دم سے فون چھین لیتے ہیں تو ایک مصیبت سی کھڑی ہو جاتی ہے ۔ایک بچے کے لئے یہ ایک کیمیائی چیز کے ایڈکشن سے کم نہیں ہے ۔ڈاکٹر بھاونا ورما بتاتی ہیں کہ لمبے عرصے سے اسکول نہ جانے کا مطلب پڑھائی چھوٹنے سے نہیں ہے ۔یہ ذہنی لتوں کا ایک ملا جلا کمزوریوں کا ایک سلسلہ کھڑا کر دیتی ہیں ۔اسکول کے لڑکوں کی صحت ڈولپ کرنے کے لئے صرف حقائق سیکھنے کی جگہ سے کہیں زیادہ ایک اہم اسٹومر کے طور پر کام کرتا ہے ۔میں نے کئی لڑکوں اور پریواروں کو صلاح دی ہے جہاں جوڈو کے -پاپ تھے ۔ڈرامہ کوریائی بیوٹی رجحان اور آئیڈیلس کے تئیں تیزی سے رغبت ایک عام رمی سے کہیں زیادہ گہرا ہو گیا ہے جو بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہوچکا ہے ۔غازی آباد کی واردات ہر اس ماں باپ کے لئے ایک چیتاونی ہے جو یہ سوچ کر مطمئن ہو بیٹھے ہیں کہ ان کا بچہ کمرے میں محفوظ موبائل چلا رہا ہے ۔کورین لوو گیم جیسے ڈیجیٹل کھیل بچوں کے جذبات اور عدم تحفظ کا ٹرینڈ کا فائدہ اٹھا کر انہیں ٹاسک پورا کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔اسی کا نتیجہ غازی آباد کے اس دل دہلا دینے والی واردات کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ایسے خطرناک ، جان لیو ا گیمس پر فوراً پابندی لگائی جانی چاہیے۔ (انل نریندر)

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی ...