Translater

14 اپریل 2012

میونسپل چناؤ سے ٹھیک پہلے ورکر کے قتل سے بھاجپا کوجھٹکا



Published On 14 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن چناؤ میں ووٹنگ کے کچھ دن پہلے بھاجپا کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ پہلے ہی سے اندرونی رسہ کشی کا شکار بھاجپا کی مشکلیں رکتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ چناؤ مہم کے آخری دور میں ایم سی ڈی چناؤ تشدد آمیز بن گیا ہے۔منگل کی دیر رات لال باغ علاقے میں آزاد پور ریلوے پلیٹ فارم کے پاس جاری بھاجپا امیدوار کی چناؤ ریلی میں بھاجپا ورکر آپس میں ہی لڑ پڑے۔ اس میں بھاجپا ورکر جے پی یادو کو چاقو مار دیا گیا۔ جس سے اس کی ہسپتال میں موت ہوگئی۔ کرائم اینڈ ریلوے کے اڈیشنل پولیس ڈپٹی کمشنر بھیروسنگھ گرجر نے بتایا کے پرانی دہلی ریلوے تھانہ پولیس نے معاملہ درج کرکے بھاجپا امیدوار مادھو سنگھ اور اس کے ڈرائیور منوج عرف پنکی اور انل یادو کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے منوج کو ایک دن کے ریمانڈ میں لیا ہے جبکہ مادھو سنگھ اور انل کو جوڈیشیل حراست میں رکھا گیا ہے۔ وہیں پولیس نے دوسرے فریق کے خلاف مقدمہ درج کرملزم وریندر کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مادھو پرساد آزاد پور کے سنگم پارک وارڈ نمبر 71 سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ واردات قریب11 بجے لال باغ کوشل پوری ریلوے لائن کے پاس جھگی بستی میں مادھو پرساد کی چناؤ ریلی جاری تھی تبھی مخالف گروپ کے بھاجپا کے کچھ ورکر وہاں آگئے اور اس میں اس وارڈ کے ٹکٹ کے دعویدار رہ چکے جے پرکاش یادو ، وریندر ، بلرام اور سنتوش تھے، کچھ ہی دیر میں دونوں گروپوں کے ورکر آپس میں بھڑ گئے اسی دوران جے پی یادو کو چاقو ماردیا گیا۔ جھگڑے میں منوج بھی زخمی ہوا۔ پولیس جے پی یادو کو سندر لال جین ہسپتال لے گئے جہاں اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ308 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واردات کا علاقے کے ووٹروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ بھاجپا کے نیتا ارون جیٹلی نے اسے قانون نظم کی بگڑی صورتحال بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے لیکر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے لیکن کیا عوام اسے محض قانون و نظم کا معاملہ ماننے کو تیار ہے؟ اس واردات سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ پارٹی کے قریب دو درجن لیڈر ، کونسلر و ان کے واقف کار باغی ہوکر چناؤ میں کود پڑے ہیں تو پارٹی کے نیتا جگدیش مامگئی نے ٹکٹوں کی تقسیم میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے جھنڈا بلند کردیا ہے۔ قتل پر ردعمل سوشل نیٹورک پر بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔ ٹوئٹر فیز بک پر اس قتل کانڈ کے خلاف لگاتار رد عمل سامنے آرہے ہیں اور اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بھاجپا جیت گئی تو جنتا کے لئے اور مصیبتیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ قتل کانڈ نے کانگریس کو ایک اور ٹھوس مدعا دے دیا ہے۔ کانگریس کے نیتا اجے ماکن نے کہا کے یہ قتل پارٹی کی اندرونی رسہ کشی کا نتیجہ ہے اس کا قانون و نظم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پردیش پردھان جے پرکاش اگروال کے مطابق یہ صاف ہوگیا ہے کہ بھاجپا نے ٹکٹوں کو لیکر گھوٹالے بازی کی ہے اورجرائم پیشہ کردار کے لوگوں کو ٹکٹ دینے میں کوئی گریز نہیں کیا ہے۔ بھاجپا کو اس واردات سے کئی جھٹکے لگے ہیں۔ ورکر کی جان چلی گئی ہے اور کونسلر مادھو پرساد جیل چلے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں میں مارے گئے ورکر کے تئیں ہمدردی ہے لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے تئیں غصہ بھی ہے جو مادھو پرساد کو ہرانے کے لئے بھڑکانے میں لگے تھے۔ مقامی لوگوں نے ایک پرچہ بھی نکالا ہے جس میں مادھو کو انصاف دلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد مادھو پرساد اور دیگر کو پکڑا ہے لیکن مادھو کے حمایتیوں کا کہنا ہے قتل میں مادھو کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ کوئی پلان قتل نہیں ہے بلکہ اچانک ہوئی واردات ہے جس میں مادھو کا کوئی رول نہیں ہے۔ اس لئے پارٹی کو مادھو کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آس پاس کی 8-10 سیٹوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف کانگریس نے کہا ہے بھاجپا میں جس طرح ٹکٹوں کو لیکر دھاندلے بازی ہوئی ہے اس سے پارٹی کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ پارٹی نے سوال کیا بھاجپا نے ابھی تک اپنے امیدوار کونسلر کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا ہے۔ اس کی امیدواری کیوں نہیں ختم کی ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واردات کا 15 اپریل کو ہونے والی پولنگ پر کیا اثر پڑتا ہے؟
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Vir Arjun

ریو پارٹیوں کانیا چلن:سانپ کا زہر



Published On 14 March 2012
انل نریندر
یہ کلیگ ہے اور اس کلیگ میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے آدمی زیادہ شاک نہیں ہوتا۔ دہلی کی ریو پارٹیاں اکثر زیر بحث رہتی ہیں۔ نوجوانوں میں نشے کی بڑھتی لت کی وجہ سے وہ نشہ کرنے کے لئے اب کسی چیز کا استعمال کرنے سے پرہیز نہیں کرتے۔ سانپ کا زہر آج کل نشے کا تازہ ذریعہ بن گیا ہے۔ سانپ کے زہر کا مسلسل پکڑا جانا یہ اشارہ کرتا ہے کہ نوجوانوں میں اس نشے کا کریز کس حد تک بڑھ رہا ہے۔ اب تک سانپ کا زہر پکڑے جانے کے زیادہ تر قصے ممبئی یا گووا کی ریو پارٹیوں میں سننے میں آتے تھے لیکن پچھلے ایک مہینے میں دو بار دہلی میں کوبرا سانپ کا زہر برآمد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی کی ریو پارٹیوں میں سانپ کے زہر کی ڈیمانڈ کتنی بڑھ گئی ہے۔ سب طرح کی منشیات کے بعد آج کل سانپ کے زہر کا استعمال ہورہا ہے۔ حالانکہ اس کی ذرا سی زیادہ مقدار فوراً ہی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ باوجود اس نشے کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ محض ایک مہینے میں دو بار دہلی میں سانپ کا زہر برآمد ہوا ہے۔ میرٹھ سے بس میں رکھ کر لایا جارہا آدھا لیٹر سانپ کا زہر دلشاد گارڈن علاقے میں پکڑا گیا ہے۔ بس کو روک کر کی گئی چیکنگ میں زہر کے علاوہ ایک اجگر اور ایک دو منہ والا سانپ بھی ملا ہے۔جانچ میں پتہ چلا ہے اس زہر کو چندی گڑھ سے میرٹھ کے راستے دہلی لایا جارہا تھا۔ 'پیپلز فار اینیمل' نام کی ایک تنظیم کے مطابق آدھا لیٹر زہر اکٹھا کرنے کے لئے قریب100 سانپوں کا استعمال کیا گیا ہوگا۔ اس سے پہلے اتنی مقدار میں ویلن ٹائن ڈے کے موقعے پر منعقدہ ریو پارٹیوں کے لئے بھی جے پور سے لائے گئے کوبرا زہر کو برآمد کیا گیا تھا۔ تب زہر کے علاوہ اسنیک بائٹ کے لئے استعمال ہونے والا ایک کنگ کوبرا اور دو کوبرا سانپ بھی برآمد ہوئے تھے۔ ویسے سانپ کے زہر کا استعمال دواؤں میں بھی ہوتا ہے۔ میڈیکل صنعت میں سانپ کے زہر کو گولڈ مائن کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ سانپ کے زہر کو پہلے دواؤں کے لئے بھی اکٹھا کیا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس کا استعمال نشے میں ہونے لگا ہے۔ بلڈ پریشر بڑھانے، دل کا دورہ، دماغی بیماریوں سے متعلق ادویا میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کئی طرح کی دواؤں کی تحقیق میں بھی سانپ کے زہر کا استعمال ہورہا ہے۔ سانپ کا زہر اب بھی سپیرے جمع کرتے ہیں لیکن نشے کے لئے بیچے جانے پر زیادہ کمائی ہونے کے چلتے اس کی پارٹیوں میں سپلائی بڑھتی جارہی ہے۔ کوبرا زہر سے ہونے والے نشے کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک بوند انجکشن میں لی جاتی ہے تھوڑی سی اوور ڈوز ہونے سے موت ہوسکتی ہے۔ سانپ کے زہر کے چلتے سب سے پہلے آدمی کا دماغ کام کرنا بند کردیتا ہے ساتھ ہی لقوہ مارجاتا ہے۔ گلے میں سوجن کے ساتھ دم گھٹ جاتا ہے۔ انسان کا گردہ فیل ہوجاتا ہے وہیں بلڈ پریشر تیزی سے گرنے کے ساتھ منہ اور ناک سے خون نکلنے لگتا ہے۔ ان سب باتوں کے چلتے نشہ کرنے والا یا سانپ کے کاٹے کی پل بھر میں موت ہوجاتی ہے۔ حالانکہ بتایا جاتا ہے کہ انجکشن سے سانپ کا زہر لینے والے آدی ہوجاتی ہیں اور وہ سانپ کی جیب کو چوسنے لگتے ہیں۔ تین چار بار کاٹنے کے بعد کوبرا کی موت ہوجاتی ہے لہٰذا کوبرا بائٹ کے لئے 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک کی قیمت لی جاتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Drugs, Rev Party, Vir Arjun

13 اپریل 2012

کیا نریندر مودی پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں؟



Published On 13 March 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ملک کے اندر تو ان کی اتنی چرچا نہیں ہورہی جتنی غیر ملکوں میں۔ امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سیمون ڈینار نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی 2014ء کے عام انتخابات کے بعد پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط دعویدار ہوں گے۔ بھارت میں کافی لوگ انہیں رول ماڈل کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں وہ ملک کے سب سے اہل نیتا ہیں۔ حالانکہ ایک بڑا طبقہ آج بھی انہیں مسلمانوں کے مجموعی قتل عام کے لئے معاف نہیں کرپایا ہے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ نریندر مودی کو بھارت کی سیاست میں قدآور نیتا مانا جاسکتا ہے۔ مودی کی رہنمائی میں گجرات جیسے راجیہ کو اقتصادیات کی نئی اونچائیوں کو چھوا ہے۔ لیکن وزیراعلی کی ہندو راشٹریہ وادی ساکھ سے کافی لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی رہنمائی میں کٹر مذہبی طاقتوں کو فروغ ملے گا۔ جمہوریت کی پرانی سیکولر ساکھ کو دھکا لگ سکتا ہے۔ نریندر مودی کو راجیہ میں بھرشٹاچار ختم کرنے کے ساتھ اقتصادی اور انڈسٹری ڈولپمنٹ کو نئی رفتار دینے کا سہرہ جاتا ہے۔تیزی سے آگے بڑھتی گجرات کی اقتصادی حالت میں نہ صرف ملکی کمپنیاں بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کمپنیوں نے بھی گجرات میں سرمایہ کاری کی ہے۔ مودی کے تنقید کار بھی انہیں شخصی طور پر بھرشٹ نہیں مانتے۔سال 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بعد بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے سب سے مضبوط دعویدار ہوسکتے ہیں نریندر مودی۔
شری نریندر مودی کی اس طرح کی پروجیکشن سے جہاں مسلم برادری پریشان ہے وہیں ان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ بھی خوش نہیں ہیں۔غیر مقیم ہندوستانیوں کے درمیان مودی کو مل رہے وسیع سمرتھن کے چلتے سنگھ پریوار کے اندر بھی تبصرے چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ سنگھ کی غیر مقیم ہندوستانیوں میں گہری پیٹ ہے۔ امریکہ، چین اور جاپان کا انڈسٹری حلقہ مودی کے ساتھ معیشت تعلقات کو بہتر بنانے میں لگا ہے۔ حالانکہ بھاجپا اور سنگھ کا ایک بڑا طبقہ مودی کو کنارے لگانے میں لگا ہے تاکہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں مودی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار کی شکل میں طاقتور ہوکر نہ ابھرپائیں۔ اس لئے تنظیمی سطح پرمودی کی چھوی کھلنائک والی بنانے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ اور کچھ حد تک مودی خود ایسی چھوی بنانے کے لئے بارود دے رہے ہیں۔مثال کے طور پر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پرچار نہ کرنا اور دہلی میں ہوئی قومی عہدیداروں کی میٹنگ میں نہ آنا مودی کی تنظیم مخالف سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ بہت سے بھاجپائیوں کا کہنا ہے کہ مودی اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ مودی کے دماغ میں اب غرور آگیا ہے۔ دنیا کے سو اثر دار طاقتور کے لئے کرائے جارہے ٹائمس رسالے کے سروے میں مودی نے اوبامہ اور ولادیمیر پوتن کو پچھاڑ دیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار یعنی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار ہوسکتے ہیں لیکن دیش ودیش میں ہورہے سروے میں مقبولیت کے حساب سے نتیش کمار نریندر مودی سے پیچھے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Modi, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, RSS, Vir Arjun

ملئے پاکستان کے یوراج بلاول بھٹو سے



Published On 13 March 2012
انل نریندر
24 سالہ بلاول بھٹو کو بھارت واسیوں نے پہلی بار قریب سے دیکھا جب وہ اپنے والد آصف زرداری کے ساتھ حال ہی میں اجمیرشریف زیارت کرنے آئے تھے۔ ان کا موازنہ بھارت کے یوراج راہل گاندھی سے کیا جارہا ہے۔یہ کہنا شاید غلط نہ ہوکے اگر راہل گاندھی بھارت کے یوراج ہیں تو بلاول بھٹو پاکستان کے یوراج ہیں۔بلاول بھٹو ابھی انگلینڈ کی آکسفورڈیونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں۔ اپنی ماں بینظیر بھٹو کے پہلی بار وزیراعظم بننے کے ایک ماہ پہلے ستمبر1988ء میں پیدا ہوئے بلاول کو اپنی ماں کے قتل کے تین دن بعد ہی اس پارٹی (پی پی پی) کی باگ ڈور سنبھالنی پڑی جسے بھٹو پریوار نے اپنے خون سے سینچا تھا۔ان کی زندگی نے بھی کچھ ویسی ہی کروٹ لی ہے جیسی ان کی ماں بینظیر بھٹو کی زندگی نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی پر چڑھائے جانے کے بعد لی تھی۔ حالانکہ بلاول کی ماں بینظیر کے سنگھرش کا ایک لمبا اتہاس لکھنے کی شروعات بھر کرتے دکھ رہے ہیں۔ بلاول پر لگتا ہے کہ سب سے زیادہ اثر اپنی ماں بینظیر کا پڑا ہے۔ سیاست اور پرسنل وجوہات سے وہ اپنے نام کے آگے بھٹو لکھنا پسند کرتے ہیں ،زرداری نہیں۔ قاعدے سے ان کا پورا نام بلاول زرداری ہونا چاہئے تھا لیکن وہ بلاول بھٹو لکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بلاول کے بچپن پر پاکستان کی سیاست کا اثر چاہے ان چاہے طریقے سے ہمیشہ ہی پڑا۔ جب11 سال کی عمر میں انہوں نے پاکستان چھوڑاان کی ماں اپنے سیاسی مستقبل کی لڑائی لڑ رہی تھیں اور ان کے والد اور اب دیش کے صدر آصف علی زرداری جیل میں تھے۔ بلاول کا بچپن اور پڑھائی زیادہ تر پاکستان سے باہر ہوئی۔ پڑھائی ان کی دوبئی اور برطانیہ میں ہوئی۔ اپنی ماں کی طرح انہوں نے بھی آکسفورڈ سے اپنی پڑھائی کی ہے۔ پچھلے سال اپنے والد آصف علی زرداری کی طبیعت خراب ہونے پر وہ پاکستان آئے اور پاکستان کی طوفانی سیاست میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ اپنے اسٹیٹس کی وجہ سے برطانیہ میں بھی عام طالبعلم کی طرح نہیں رہ پائے۔دہشت گردوں کا ٹارگیٹ ہونے کی وجہ سے برطانیہ سرکار کو بھی آکسفورڈ میں پڑھائی کے دوران ان کی حفاظت پر سال بھر میں قریب ایک ملین پاؤنڈ یعنی قریباً8 کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے۔ان کی ماں نے ان کا نام بلاول رکھا جس کا مطلب ہوتا ہے ،جس کے برابر کوئی نہ ہو۔ جون2010ء میں بلاول آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی پڑھائی پوری کر اپنے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ جب وہ دہلی اور اجمیر حال ہی میں آئے تو 7 ریس کورس روڈ میں ان کی ملاقات بھارت کے یوراج راہل گاندھی سے ہوئی۔ راہل بلاول کی بالکل برابر والی کرسی پر بیٹھے تھے۔دونوں کے درمیان غیر ضروری بات چیت کے کئی دور ہوئے۔دونوں کے بیچ بہت کچھ ایک جیسا ہے۔ دونوں کے پریوار اپنے اپنے ملکوں میں اہم سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر راہل کے والد راجیو گاندھی آتنک واد کا شکار ہوچکے ہیں تو بلاول کی ماں بینظیر کا قتل بھی دہشت گردوں نے کیا۔ خاندانی وراثت کے چلتے بلاول کو پارٹی سربراہ کا عہدہ طشتری میں سجا ہوا مل گیا۔ کچھ ایسے ہی راہل کی سیاست میں بڑھتا گراف دیکھا جاسکتا ہے۔ ہاں ایک فرق ہے کے راہل نے بلاول کی طرح یکا یک پارٹی صدر کا عہدہ نہیں سنبھالا ہے۔ بلاول پاکستان میں ایک نئی آب و ہوا ، سوچ لاسکتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرنے کیلئے بہت لمبے چنوتی پورن راستے کو طے کرنا ہوگا۔ فی الحال بلاول بھارت میں ایک اچھی چھاپ چھوڑ گئے ہیں اور ایک نئی امید۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Benazir Bhutto, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

12 اپریل 2012

چین میں تختہ پلٹ کی افواہ سے لیڈر شپ میں کھلبلی

چین کی اندرونی حالت اتنی اچھی نہیں ہے جتنی دکھائی جاتی ہے۔ کچھ دن پہلے چین میں بغاوت اور تختہ پلٹ کی خبر آئی تھی۔ فوجی تختہ پلٹ کی خبر وں سے گھبرائی چینی لیڈرشپ نے ان سبھی رپورٹوں کو بلاک کردیا ہے جن میں مبینہ طور پر بتایا گیا تھا کہ چین میں تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی ہے۔ الائنس کی رپورٹ کے مطابق راجدھانی بیجنگ کی سڑکوں پر ٹینکوں کے اترنے اور لیڈروں کے محفوظ کمپلیکس پر گولیاں چلنے کی خبروں پر امریکہ ۔ برطانیہ سمیت بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نظر رکھی جارہی ہے۔ رپورٹ میں جس عمارت کی بات کہی گئی ہے وہ چین کے سرکردہ سیاحتی کشش کا مرکز ''فوربڈن سٹی '' کے بالکل قریب ہے۔ چین کی مقبول مائکرو بلاگنگ سائٹ سینا ویجبو اور سرچ انجن ویدو کے بلیٹن بورڈ سبھی نے 19 مارچ کی رات کو بیجنگ میں رونما غیر معمولی واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان سائٹوں پر بھیجی گئے تبصروں میں کہا گیا ہے دیش کی شنگھائی لیڈر شپ کے گروپ کے زوال کے بارے میں افواہیں ہیں۔ شنگھائی لیڈر شپ گروپ اعلی سطح کے افسران کے لئے بتایا گیا ہے کہ جو شنگھائی ہب سے آتے ہیں اور جو روایتی طور سے پارٹی میں اصلاح پسندوں اور جدید نظریات حامیوں کا گڑھ رہا ہے۔ کچھ اور تبصروں میں دعوی کیا گیا ہے کہ فوجی تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی ہے۔ کچھ دیگر رپورٹوں میں گولیاں چلنے اور تیانن من چوک کے قریب جگن اسٹریٹ پر سادی وردی میں سکیورٹی حکام کے جھنڈ دیکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ علاقہ 1989ء میں جمہوریت حامی مظاہرین کے قتل عام کا گواہ تھا۔ ان خبروں سے گھبرائی چینی حکومت نے اس طرح کی سبھی خبروں کو فوج کی انٹر نیٹ یونٹ کی مدد سے ہٹوادیا ہے اور اب انہیں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان ویب سائٹوں میں لکھا گیا ''پریہ چین کی سرکار ، آپ ہمیشہ بے شکست نہیں رہ سکتے۔آج ویب سائٹوں کو ہیگ کرلیا گیا ہے کل آپ کا اقتدار گر جائے گا۔''
دراصل چین جو دنیا کو اپنی تصویر دکھاتا ہے حقیقت میں وہ تصویر ایسی نہیں۔ چین کے قومی دوس پر بیجنگ کے عام لوگوں کو گھروں میں قید کردیا جاتا ہے اور سڑکوں پر صرف وہی لوگ کھڑے کئے جاتے ہیں جو دکھنے میں خوبصورت ہوں اور انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ انہیں مسکرانا ہے چاہے وہ کتنے ہی تھکے کیوں نہ ہوں، تو کیا ہوا اگر اولمپک تقریب میں ایک چھوٹی سی بچی کے جذبات سے کھیلا جائے اور اسے محض اس وجہ سے اسٹیج پر گانے سے روک دیا جائے کیونکہ وہ دیکھنے میں اتنی خوبصورت نہیں۔اور اس کی جگہ ایسی لڑکی کوکھڑا کیا جائے جو دیکھنے میں پرکشش ہو۔ اس بچی کو صرف ہونٹ ہلانے ہیں آواز تو پیچھے سے آرہی ہے۔ چین کے کئی چہرے اور کئی نقاب ہیں، ہم جو دیکھتے ہیں اس میں سچائی کم اور چھل زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کے چین دنیا کی سب سے تیزی سے ابھر رہی معیشت ہے اور ایک دن دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بھی بن سکتی ہے۔ لیکن چین کے چمکتے چہرے کے پیچھے کئی ایسے پوشیدہ راز ہیں جن کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں جاتی۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنے اور اپنی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سختی سے دبا دیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت چین میں ہی دی جاتی ہے۔ کسی بھی دیگر ملک سے کم سے کم تین گنا زیادہ ہیں یہ۔ 2008 ء میں کل 1718 لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ یہ تعداد کم ازکم ہے کیونکہ اصلی تعداد تو کبھی سامنے آنے والی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ چینی ماہرین مانتے ہیں کہ ہر سال کم سے کم 6 ہزار لوگوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے تو نہ تو کسی دیگر شخص کا قتل کیا ہوتا ہے اور نہ وہ ملک مخالف دشمنی میں ملوث پائے گئے ہوتے ہیں۔
یہ ہی نہیں نہ وہ آتنک وادی ہوتے ہیں لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دیش میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چین میں شہری حقوق کی آواز اٹھانے کی ہمت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دن اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور ان کے سبھی ریکارڈ ضائع کردئے جاتے ہیں یعنی اس نام کا شخص کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔ کٹر پسندی کی بنیاد پر ہوتی ہے غریب اور امیر کے درمیان امتیاز مٹ جائے، سب ایک ہوں، کوئی بھی شخص غریب نہ ہو، غیر سماجی عدم توازن نہ ہو، چین میں کمیونسٹ حکومت کو برسوں بیت گئے ہیں۔لیکن سماجی حالات آج تک ٹھیک نہیں ہوسکے۔1978 ء میں چین نے اقتصادی اصلاحات پروگرام اپنایا اور ایک طرح سے کٹر پسندی نظریات کو تلانجلی دے دی۔ اس کے بعد اس دیش نے تیزی سے اقتصادی ترقی کی اور اب قریب9 فیصدی ترقی شرح سال درسال پوری کی۔پورے اقتصادی اصلاحات پروگرام''اوپن ڈور پالیسی'' کا نام دیا گیا۔ کاروباریوں کے لئے دروازے کھول دئے گئے۔ عام طور پر توجہ اس بات کی طرف دی گئی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے۔
چین نے صنعتی انقلاب کے نام پر کئی ایسے قدم اٹھائے جس میں اس دیش کا سماجی توازن بگڑ گیا۔ کھیتی کی زمین کم ہوتی گئیاور قدرتی وسائل کم ہوتے گئے اور لوگوں کی اقتصادی حالت میں زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ کیا یہ تعجب خیز نہیں ہے کے برسوں سے 9 فیصدی اقتصادی ترقی شرح حاصل کرتے آرہے دیش کے کروڑوں لوگ آج بھی دو وقت کی روزی نہیں جٹا پاتے۔ چین آج برآمدات پر منحصر ہے اور اس کی زیادہ تر برآمدات امریکہ سے ہوتی ہے۔ اگر امریکہ اپنے خرچوں میں کمی لاتے ہے اور درآمدات شرح کم کرتا ہے تو چین کی اقتصادی حالت کمزور ہوئے بنا نہیں رہے گی۔ چین میں پانی کی بھاری قلت ہے۔ چین میں 617 بڑے شہر ہیں اور ان میں سے آدھے شہروں میں پانی کی پوری طرح دستیابی نہیں ہے۔
راجدھانی بیجنگ میں بھی پانی کی قلت ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق مین لینڈ چین کا پانی کا فی شخص حصہ2700کیوبک میٹر سالانہ ہے جو ورلڈ کے تناسب سے ایک چوتھائی ہے۔ نارتھ چین میں اب پانی حاصل کرنے کے لئے زمین میں گہری کھدائی کی جارہی ہے۔ 10 ہزار برس پہلے جمع پانی چین کو پانی کی قلت سے کچھ حد تک بچاسکتا ہے لیکن اس سے چین زمین کے اندر دراڑیں آسکتی ہیں اور عدم توازن بڑھ رہا ہے۔ طاقتور رہے چین میں سب کچھ اب صحیح نہیں ہے۔ اب اس کی چمک کے پیچھے سیاہ راز چھپے ہیں۔ چین کے اندر حقیقی حالت اچھی نہیں ہے۔ اس کی صحیح جانکاری نہیں مل پاتی کیونکہ چینی حکومت ہر ایسی خبر ، رپورٹ کو دبا دیتی ہے جس سے نئی بے چینی اور فوجی تختہ پلٹ کا خطرہ ہو۔
Anil Narendra, China, Coup, Daily Pratap, Vir Arjun

11 اپریل 2012

زرداری کچھ ٹھوس یقین دہانی کی پوزیشن میں نہیں ہیں



Published On 11 March 2012
انل نریندر
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھارت کے بلاوے پر ہندوستان نہیں آئے۔ وہ اپنی مرضی سے اجمیر کی زیارت کیلئے بھارت آئے تھے۔انہوں نے زیارت ہی کی، دہلی تو انہیں اس لئے آنا پڑا کیونکہ راستہ یہیں سے بنتا تھا۔ وہ سیدھے اجمیر تو نہیں جاسکتے تھے۔ جب وہ دہلی آہی رہے تھے تو بھارت اپنی مہمان نوازی کو کیسے بھول سکتا تھا۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے اس کے لئے دوپہر کا لنچ رکھا۔ دونوں نیتاؤں میں بند کمرے میں 40-45 منٹ بات چیت ہوئی۔بعد میں کہا گیا کہ بھارت نے آتنک واد اور خاص کر حافظ سعید پر کارروائی کا اشو اٹھایا۔منموہن سنگھ نے 26/11 کے گنہگاروں کو سزا دینے پر زوردیا۔ بتایا جاتا ہے ہند کے خلاف پاک سرزمین سے سر اٹھا رہے آتنک واد کو کچلنے کے لئے صدر زرداری کی توجہ مرکوز کرائی۔ ادھر زرداری صاحب نے کشمیر کے سرکریک، سیاچن اشو کو سلجھانے پر زوردیا۔ پاکستانی سیاستداں خلیل چشتی کی قید کا مسئلہ پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا لیکن منموہن سنگھ نے سربجیت سنگھ کی پھانسی کا اشو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ صدر زرداری کے اس دورہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ آج کی تاریخ میں ان کی اپنے ملک میں حالت بہت کمزور ہے۔ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان سپریم کورٹ زرداری صاحب کی مقبولیت پر زیرو پر ہے۔ ایسے وقت جب ان پر اپنے ملک میں اتنا دباؤ ہو پتہ نہیں کے اجمیر شریف وہ کیا دعا مانگنے آئے تھے؟ ساتھ ہی بیٹے کو بھی لے آئے۔ بیٹے بلاول کو بھی ایک طرح سے بین الاقوامی منظر پر متعارف کرادیا۔ زرداری صاحب کی کوشش یہ ہی ہوگی کہ ان کے بعد نوجوان لیڈر بلاول پاکستان میں اقتدار سنبھالیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں ملکوں کے یووراج(راہل اوربلاول) کا آپس میں ملنا اچھا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور زرداری کے درمیان 40 منٹ کی ون ٹو ون بات چیت ہوئی۔ اس میں ہمیں تو شبہ ہے کہ محض 40 منٹ کی بات چیت میں کشمیر، دہشت گردی، سیاچن، سرکریک، ویزا سہولت، حافظ سعید، 26/11کے قصورواروں کو سزا دلوانا ، تجارت سے لیکر کرکٹ وغیرہ اشوز پر مفصل بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ بس ابھی تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اشوز پر سرسری طور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مستقبل کا روڈ میپ تیار ہوا ہے۔ زرداری صاحب آج اس صورت میں نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی اشو پر کسی بھی طرح کا تبصرہ کرسکیں۔ پاکستان میں اصل اقتدار پاکستانی فوج کے پاس ہے۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کسی اشو پر پاکستان کی کیا پالیسی ہونی چاہئے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستانی لیڈر بھارت میں تو وعدہ کرجاتے ہیں لیکن اپنے وطن پہنچ کر وعدے سے مکر جاتے ہیں۔ زرداری صاحب کے سسر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو جب شملہ معاہدے کے لئے بھارت آئے تھے تو طرح طرح کی باتیں ،وعدے کر گر تھے، لیکن پاکستان لوٹتے ہی وہ سب سے مکر گئے۔ زرداری صاحب کے پاس آج کی طرح کوئی مینڈیٹ نہیں ہے وہ کسی بھی اشو پر بھارت سے بات چیت کرسکیں۔اس ملاقات سے نہ تو ادھر اور نہ ادھر کوئی خاص امید لگائی گئی تھی۔ زرداری صاحب آج اپنے گھر میں بری طرح سے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں ویسے دیکھا جائے تو بھارت کے وزیر اعظم بھی کم گھرے ہوئے نہیں ہیں لیکن پاکستان میں جس طرح کی پریشانی سے زرداری صاحب دوچار ہیں وہ بھارت سے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کی مشکل اس کی فوج اور خفیہ ایجنسی ہی نہیں ، اس کے اندرونی حالت بھی ہیں۔ اس کے سامنے نیا بحران امریکہ سے خراب رشتے کا بھی ہے۔ حالانکہ پاکستان امریکہ کو چنوتی دیتا نظر آرہا ہے لیکن اس کی اہم وجہ پاکستان میں امریکہ کے تئیں بڑھتی ناراضگی ہے۔ پاکستان اکیلے چین کی حمایت پر ساری دنیا سے نہیں لڑ سکتا اس لئے بھی پاکستان کی اب کوشش ہے کہ پڑوسی بھارت سے رشتے بہتر ہوں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ زرداری کسی کے اشارے پر بھارت آئے۔ پچھلے کچھ دنوں سے دہشت گردی کا اشو چھوڑ کر تجارت وغیرہ سیکٹر میں پاکستان کے رویئے میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے لیکن پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا بھارت کو اس سے سب سے بڑی شکایت دہشت گردی کو اپنی سرزمین پر بڑھاوا دینا ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا کنٹرول آصف زرداری لگانے میں اہل نہیں ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حافظ سعید پر ان کی رائے وہی ہے جو پاکستان سرکار کی ہے۔ ان کا دوسرا اہم تبصرہ یہ تھا کہ انہیں پاکستان سے جانے کے لئے کہہ دیا گیا تھا ۔ ان دونوں بیانات کے اشاروں سے یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ بھارت ان سے بہت امید نہ کرے۔ بات صحیح بھی ہے فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی اور آئی ایس آئی و جہادی نیتا ہی پاکستانی اقتدار میں اصلی کرتا دھرتا ہیں۔
Ajmer Shrif, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, India, Pakistan, Rahul Gandhi, Vir Arjun

مغربی بنگال سے کارلمارکس اور اینجلس کی بدائی



Published On 11 March 2012
انل نریندر
مغربی بنگال میں 34 سال تک کامریڈوں نے کارلمارکس کی پالیسیوں پر چل کر راج کیا۔ اس دوران ساری دنیا سے کارلمارکس اینجلس کا نام و نشان تقریباً مٹ چکا ہے لیکن ہمارے کامریڈ اسی لائن پر چلتے رہے ہیں۔ یہ وقت کے مطابق بدلتے نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا مغربی بنگال کی عوام نے انہیں اکھاڑ پھینکا۔ صرف مغربی بنگال سے ہی نہیں بلکہ کیرل سے بھی۔ ممتا بنرجی اب کوشش کررہی ہیں کہ کارلمارکس واد واپس مغربی بنگال میں نہ آسکے۔اس لئے انہوں نے34 سال پہلے اس کی تیاری کرلی تھی۔ پردیش کی اسکولی تعلیمی نصاب کمیٹی نے مارکس اور فیڈرکس اینجلس کا سبق اسکولی کتابوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ فیصلہ ممتا سرکار کو کرنا ہے۔ اسکولی کتابوں سے جو اہم اسباق ہٹائے جارہے ہیں ان میں مارکس واد کے بانی کارلمارکس کی سوانح حیات اور مارکس کی مدد کرنے والے دوست فیڈرکس اینجلس کی کہانی اور روس میں 1917 ء میں بالے شیوک انقلاب کی پوری کہانی ہے۔ ترنمول اقتدار میں آتے ہی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نصاب جائزہ کمیٹی بنائی تھی۔ اس جائزہ کمیٹی تو اسکولی نصاب کو جدید بنانے اور طلبا پر غیر ضروری بوجھ کم کرنے کا کام سونپا گیا۔ کمیٹی نے 695 صفحات کی رپورٹ سونپی ہے۔ ممتا اکیلی نہیں جنہوں نے کارلمارکس سے نجات پانے کے لئے قدم اٹھائے ہیں۔ اب تو ہمارے کامریڈ بھی کہنے لگے ہیں کہ ہمیں دیش کے موجودہ حالات کے مطابق بدلنا ہوگا۔ مارکس وادی لیڈر سیتا رام یچوری نے پارٹی کے 20 ویں آل انڈیا سمیلن میں کہا کہ ہمیں روس، چین ، کیوبا اور دیگر لاطینی امریکی دیشوں کی کمیونسٹ پارٹیوں سے الگ تھلگ نظریہ اپنانا ہوگا۔ پارٹی اصول بدلنے کی ساتھ ہی اپنے پروگراموں کا جائزہ لے گی۔ پارٹی جمہوری طاقتوں اور لیفٹ طاقتوں کو ہلاکر سیاسی متبادل بنانے کے عمل میں ہے۔ کانفرنس میں پیش ریزولیوشن میں کہا گیا ہے کہ 1894ء کے اراضی ایکٹ کا کارپوریٹ گھرانے بیجا استعمال کررہے ہیں۔ خاص اقتصادی سیکٹر کے واسطے زمین ایکوائر اور کھانوں کی کھدائی کے لئے ایسا ہوتا ہے۔ اس قانون کے سبب دیش کے کئی کسانوں اور زرعی مزدوروں کو جدوجہد کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مارکس وادی پارٹی اپنی ہار سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتی۔ وہ کانگریس اور بھاجپا کو ہرانے کی بات تو کررہی ہے لیکن اس کے روڈ میپ میں تیسرے متبادل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اس کے برعکس وہ لیفٹ جمہوری متبادل کے لئے کوشش کرنے کی بات کررہی ہے مگر ایسا کوئی متبادل ہوا میں تو تیار نہیں ہورہا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ہیں لیفٹ پارٹیوں کی سیٹیں پچھلی مرتبہ کے مقابلے آدھی سے کم رہ گئی تھیں اگرچہ امکانی پس منظر کو دیکھیں تو نتیش کمار ، جے للتا، ممتا، نوین پٹنائک اور چندرا بابو نائیڈو کے رہتے غیر کانگریس اور غیر بھاجپائی سیاست میں مارکس وادی پارٹی کے لئے جگہ نظر نہیں آرہی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ پارٹی آج بھی اندرونی رسہ کشی اور گروپ بندی کا شکار ہے۔وہ مانے یا نہ مانے لیکن کیرل میں پارٹی آپسی اختلافات اور گروپ بندی کے سبب ہی ہاری ہے۔ پارٹی سکریٹری جنرل پرکاش کرات کی بیڑا غرق کرنے والی پالیسیاں جب تک نہیں بدلتیں تب تک ہمیں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کا سیاسی مستقبل چمکتا دکھائی نہیں پڑتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

10 اپریل 2012

آخر کتنے دن کی جنگ لڑ سکتی ہے ہماری فوج؟



Published On 10 March 2012
انل نریندر
فوج کی دوٹکڑیوں کے ذریعے 16-17 جنوری میں دہلی کی طرف بڑھنے کو لیکر خبریں پہلے سے ہی پک رہی تھیں اور اس کی بھنک فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو بھی تھی۔ یہ مارچ میں ہی ایک انگریزی رسالے کو دئے ان کے انٹرویو سے پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا مان لیجئے ہماری ایک کور یا ڈویژن یا برگیڈ پریکٹس کررہی ہے تو کوئی کہے گا کہ اوہ۔۔۔ انہوں نے پریکٹس کی۔ یہ پریکٹس نہیں تھی وہ کچھ اور کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا اب آپ اس میں ایک خبر بنائیں گے ان دنوں کئی لوگ غلط مطلب سے خبریں بنانا چاہتے ہیں۔ ادھر انگریزی اخبار دی گارڈین نے دعوی کیا ہے کہ فوج کے دہلی کوچ کی خبر کے پیچھے ایک مرکزی وزیر کا ہاتھ ہے۔ وزیر کا نام نہیں بتایا لیکن یہ کہا گیا ہے کہ وزیر کے قریبی رشتے دار کا تعلق دفاع خرید سے جڑی لابی کا ہے اوریہ لابی دونوں وزیر دفاع اے کے انٹونی اور فوجی سربراہ جنرل سنگھ سے پریشان تھی۔ آرمز لابی انٹونی کے اس لئے خلاف تھی کیونکہ انٹونی ایک ایماندار وزیر ہیں جو خرید میں کوئی گڑ بڑی نہیں ہونے دینا چاہتے۔ انٹونی کی بھرشٹاچار کے خلاف مہم سے ہتھیار سپلائر،ان کے ایجنٹ ، غیرملکی کمپنیاں اور فوج کا ایک طبقہ خلاف ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ انہیں وزارت دفاع سے ہٹایا جائے۔ پچھلے ماہ ہی انٹونی نے چھ اسلحہ کمپنیوں کو بین کیاتھا۔ان میں چار غیر ملکی کمپنیاں (اسرائیلی ملٹری انڈسٹری، سنگاپور ٹکنالوجی کارپوریش ڈیفنس(روس) اور ایک سوئٹزرلینڈ کی کمپنی شامل ہے۔ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف یہ سازش (اگر سازش تھی) اس لئے رچی گئی کیونکہ وہ دفاعی سودوں میں کمیشنوں کا دھندہ نہیں چلنے دے رہے تھے۔ کوچ کی خبر کو لاک کرنے کے پیچھے جنرل کے خلاف سیاسی پارٹیوں کو اکٹھا کرنا تھا۔فوجی سربراہ کاوقار بگاڑنے اور فوجی ٹریننگ سے جڑی سرگرمیاں ٹھپ کرنا بھی ایک مقصد ہوسکتا ہے۔ بھرشٹاچار کے الزاموں سے فوجی خرید کی رفتار کم ہوئی ہے۔ اگر بغاوت کے ڈر سے سینا کی ٹریننگ ایکسرسائز کی آزادی چھینی تو فوج کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
ہندوستانی برّ ی فوج کی صلاحیت کا سوال جنرل وی کے سنگھ نے پردھان منتری کو لکھے اپنے خط میں اٹھایا تھا۔ اب ایک نیوز چینل میں اپنی رپورٹ میں فوج کے پاس گولہ بارود کی کمی کی بھیانک تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ ہونے کی حالت میں فوج کے پاس صرف 10دنوں تک لڑنے کے لئے گولہ بارود موجود ہے۔ پہلی بار نہیں جب اس طرح کی خبریں آئی ہیں فوج کافی پہلے سے سیاسی رہنماؤں کو آگاہ کرتی آرہی ہے کہ اس کے پاس جنگ کے لئے گولہ باری جیسی ضروری اشیاء ،ضروری سطح سے کافی نیچے پہنچ گئی ہے۔کسی خطرے کا سامنا کرنے کی حالت میں فوج کی تیاریوں کو لیکر کیگ کی رپورٹ نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔ خطرے کی گھنٹی 125ایم ایم ٹینک کے لئے گولہ بارود ضروری سطح سے کافی کم ہے۔ 16 ہزار راؤنڈ کے لئے روس سے گولہ بارود ملنے کا انتظار ہے۔122 ایم ایم ہائی اینرجی ریڈیوز چارج 1.27 دن تک چل پائیں گے۔ او ایف بی کے ذریعے مہیا کرائے گئے گولہ بارودوں میں کافی خرابی پائی گئی۔ سرکار کا دعوی ہے کہ جنگ ہونے پر فوج کے پاس 30 دنوں تک لڑنے کے لئے واجب مقدار میں گولہ بارود ہے۔گولہ بارود کی اس کمی کی بڑی وجہ گھوٹالوں کے چلتے کئی دفاعی کمپنیوں پر روک لگانا بھی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی توپوں میں دوسری عالمی جنگ کے زمانے کی تکنیک کا استعمال ہورہا ہے۔ اگر کوئی 16-17جنوری کی خبر اور اس کے بعد ہو رہی خبروں کو تفصیل سے پڑھ لے تو اسے ماننا ہوگا کہ حالت بیحد تشویشناک ہے۔ یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ آزاد بھارت کے اتہاس میں فوج اور سرکار کا تعلق سب سے نچلی سطح پر ہے۔
A K Antony, Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Indian Army, Vir Arjun

تین کارپوریشن اور ڈھیر سارے چیلنج

دنیا کی سب سے بڑی ایم سی ڈی اس چناؤ کے بعد تین ٹکڑوں میں بٹی دکھے گی ۔ نئی ایم سی ڈی تیار ہوجانے کے بعد مقامی سطح پر ایم سی ڈی کی اپنی الگ چنوتی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ نیتاؤں کے چناوی وعدے بھی بدل گئے ہیں۔ نئے ایم سی ڈی کے لئے 15اپریل کو چناؤ ہونا ہے۔ اس چناؤ کے نتیجے کے بعد دہلی کے تین نگرنگم ہوں گے۔ ان نگموں میں شمالی دلی، مشرقی دلی اور جنوبی دلی نگم شامل ہیں۔ ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہے۔ اس چناؤ میں آزاد امیدواروں سمیت کل ملا کر20 پارٹیوں کے 2400 امیدوار میدان میں ہیں۔ اہم مقابلہ بھاجپا اور کانگریس میں ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس بار نگم چناؤ میں عورت اور مرد ملا کر ایک درج سے زیادہ ڈاکٹر میدان میں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں 6 خاتون ڈاکٹر تو ایسی دکھ رکی ہیں جو کسی نہ کسی بڑے ہسپتال میں میڈیکل پریکٹس کرچکی ہیں یا کررہی ہیں۔ نگرنگم کے اس چناؤ میں ایک نئی بات یہ ہے کہ تینوں نگموں میں 50فیصدی وارڈ عورتوں کے لئے ریزرو ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسے سینئر کونسلر ہیں جو 1997ء سے کارپوریشن کے نمائندے رہے ہیں لیکن اس بار چناؤ نہیں لڑ رہے۔ ایسے کونسلروں میں اہم طور پر بھاجپا کے پردیش صدر وجیندر گپتا ، آرتی مہرہ اور سابق میئر اور مہرولی سے کونسلر ستبیر سنگھ ہیں۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ امیدواروں سے زیادہ پریشان انہیں ٹکٹ دلانے والے نیتا ہیں۔دمدار نیتاؤں نے اس بار اپنے چہیتوں کو ٹکٹ تو دلا دیا ہے لیکن اب چاہے اَن چاہے ان پرہی انہیں جتانے کی ذمہ داری آگئی ہے۔ موجودہ نگرنگم چناؤ میں ایک تو موسم کی گرماہٹ سے پرچار کا وقت محدود ہوگیا ہے اوردوسری طرف چناؤ کمیشن کی سختی کی وجہ سے ڈھول نگاڑے اور تام جھام سے بھی پرچار مہم دور ہوگئی ہے۔پیسے والے امیدوار بھلے ہی فلم اداکاروں وغیرہ سے روڈ شو کروارہے ہوں لیکن باقی امیدوار چناؤ پرچار گلی گلی پدیاترا کرکے ، گھر گھر جاکراور محلوں میں چھوٹی چھوٹی میٹنگوں کے ذریعے کررہے ہیں۔ پارہ چڑھتے ہیں بجلی نے بھی اپنے نخرے دکھانے شروع کردئے ہیں چناؤ سر پر ہیں اور کئی گھنٹوں بجلی گل ہونے لگی ہے۔ جب امیدوار علاقے میں چناؤ پرچار کرنے جاتے ہیں تو لوگ سب سے پہلا سوال یہ کرتے ہیں کہ بجلی کی سپلائی کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ اور سنگین ہونے والا ہے۔کہیں ایم سی ڈی چناؤ پر بجلی نہ گر جائے۔
اس بار نیتاؤں کو اپنے پرچار کے لئے زیادہ وقت ملے گا۔ دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پہلی بار شام کے بجائے پرچار تھمنے کا وقت صبح ساڑھے پانچ بجے تک کیا ہے۔ابھی تک ووٹنگ سے 36 گھنٹے پہلے چناؤ پرچار بند ہوجاتا تھا لیکن اس بار 24 گھنٹے پہلے چناؤ پرچار بند ہوگا۔ دونوں اہم پارٹیاں باغیوں سے پریشان ہیں۔ بھاجپا نے 7 لوگوں کو 6-6 سال کے لئے پارٹی سے نکال دیا ہے تو کانگریس نے بھی 4 لوگوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ دہلی نگر نگم چناؤ میں اس بار پپوپچھلے پندرہ سال کا ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں راجدھانی میں تین بار نگم چناؤ ہوئے ہیں لیکن صرف ایک ہی بار ووٹنگ کا فیصد 52 فیصدی کا آنکڑہ چھوپایا ہے۔ باقی دو بار یہ 42 فیصدی ہی رہا۔ کانگریس کی باگ ڈور شیلا دیکشت، جے پرکاش اگروال اور کپل سبل نے سنبھالی ہے تو بھاجپا کی کمان وجے کمار ملہوترہ اور وجیندر گپتا کے ہاتھ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

08 اپریل 2012

راہل لگے یوپی چناؤ کے پوسٹ مارٹم میں



Published On 8 March 2012
انل نریندر
اترپردیش ودھان سبھا چناؤمیں کراری ہار سے کانگریس ہائی کمان ابھی تک ابھر نہیں سکا۔ راہل گاندھی تو ایسے کوپ بھون میں گئے ہیں کہ اب وہ یوپی کے کسی دلت کے گھر کھانا کھاتے نظر نہیں آرہے۔ ہار کے ایک مہینے بعد اب راہل نے چناؤ کا پوسٹ مارٹم کرنے کی ہمت جٹائی ہے۔ پہلے دو دنوں سے راہل ہارے ہوئے سپاہیوں کو بلا کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہم کیوں ہارے؟ ہار کی وجوہات کی تلاش میں جٹے راہل نے ہارے ہوئے امیدواروں سے یہ پوچھا کہ آخر کار کیا وجہ رہی کے پوری محنت کے بعد بھی پارٹی کا شرمناک مظاہرہ رہا۔ ہارے ہوئے امیدوروں نے کئی وجوہات گنائیں۔ تقریباً سبھی نے کچھ مدعوں پر بہت زوردیا۔ پہلا تو تھا کہ کمزور سنگٹھن بہت بھاری پڑا۔ غلط امیدواروں کا چناؤہار کی ایک وجہ بنی اس کے ساتھ پرچار میں سیاسی چوک کا مدعا اٹھا کر ہارے ہوئے سپاہیوں نے کچھ مرکزی وزیروں پر جم کر بھڑاس نکالی۔ ہارے ہوئے امیدواروں نے قانون منتری کومسلم ریزرویشن کا وعدہ کرنا پارٹی پر بہت بھاری پڑا۔ اسی طرح شری پرکاش جیسوال کا یہ بیان کے اگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تو راجیہ میں صدر راج لگایا جائے گا۔ ووٹروں کو بہت لبھایا ہے انہوں نے ردعمل کے طور پر سماجوادی پارٹی کو واضح اکثریت دے دی۔
بینی پرساد ورما کا مسلم کوٹے میں سب کوٹا بھی ووٹروں خاص کر مسلموں کو بیوقوف بنانے کی ایک ناکام کوشش مانی گئی۔ کمزور سنگٹھن کے مدعوں پر امیدوار رہے سریندر گوئل نے کہا کہ دوسری قطار کے بڑے نیتاؤں نے بیکاربیان بازی کی۔اس میں کافی نقصان ہوا۔کچھ سینئروں نیتاؤں نے بھی یہی الزام دوہرایا۔ اشارہ دگوجے سنگھ، بینی پرساد ورما ،سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال جیسے نیتاؤں کے متنازعہ بیانوں کی طرف تھا۔ باہری لوگوں کو ٹکٹ دینے کا مسئلہ میٹنگ میں آیا تو آپس میں ہی بحث ہوگئی۔ کیونکہ زیادہ ترفوج چناؤ میں باہر سے ہی اکٹھا ہوئی تھی۔ تبصرہ میٹنگ میں آئے لوگوں میں بھی زیادہ ایسے ہی تھے جو چناؤ کے دوران کانگریسی ہوئے تھے۔ جمعرات کو راہل نے ان ہارے ہوئے امیدواروں سے بات چیت کی جنہوں نے اس چناؤ میں 20 ہزار یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ ہارے ہوئے امیدواروں کو ایک سوال نامہ بھی دیا گیا جس میں 13 سوال پوچھے گئے۔جیسے انہیں چناؤ میں مرکزی رہنمائی پردیش کانگریس سمیتی ،پردیش ادھیکش، مہلا کانگریس اور سیوا دل سے کیا تعاون ملا؟حالانکہ پورے صوبے میں گھومنے والے اور کڑی محنت کرنے والے راہل گاندھی کو کسی نے سیدھا نشانہ تو نہیں بنایا پر ان کے انتظامیوں پر سوال ضرور اٹھائے گئے۔
پردیش ودھان سبھا کے چناؤ میں اپنے اوٹ پٹانگ بیانوں کے لئے چرچا میں رہے کانگریس کے نیتاؤں کی واٹ لگنے طے ہے۔ سونیا اور راہل دونوں نے صاف کردیا ہے کہ ان بیانوں سے چناؤ میں پارٹی کو نقصان ہوا اور اب نئے اور محنتی چہروں کو آگے لایا جائے گا۔ راہل کو اس بات کے لئے سخت تنقید سہنی پڑی کے وہ صرف نیتاؤں سے ہی گھرے رہتے تھے جس سے پورا معاملہ ان کے سامنے نہیں آپاتا تھا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

نتن گڈکری کو دوسراٹرم ملے گا یا نہیں؟



Published On 8 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کیصدر نتن گڈکری کو کیا ایک ٹرم اور ملے گا؟یہ سوال آج کل بھاجپا میں چرچا میں ہے۔ شری گڈکری عہدہ سنبھالتے ہی تنازعات سے گھرے رہے۔ تازہ حالت تو یہ ہے کہ بھاجپا میں معیشت سازی کا تڑکا لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پارٹی ادھیکش سے پارٹی کے چوٹی کے نیتاؤں نے دھیرے دھیرے دوری بنانی شرو ع کردی ہے۔ دو دن پہلے بھاجپا کے 32 ویں یوم قیام کے موقع پر ایک پروگرام 11 اشوک روڈ میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں پارٹی کے قریباً سبھی سینئر لیڈر پہلے سے طے پروگرام میں مصروف ہونے کے بہانے بناکر ندارد رہے۔
راجناتھ سنگھ دہلی میں موجود ہونے کے باوجود اپنی رہائش سے چند قدم کی دوری کے باوجود پارٹی کے پروگرام میں شامل نہیں ہوئے۔ نتن گڈکری کے فیصلے بھاجپا میں جھگڑے کا کارن بن رہے ہیں۔ چوٹی کے نیتاؤں کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔اجتماعی قیادت اور فیصلوں میں بھی اتفاق رائے کا دم بھرنے والی بھاجپا میں چوٹی کے نیتا غلط فیصلوں کا ٹھکرا خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے سر پھوڑ کر خود کو پاک صاف دکھانے میں لگے ہیں۔ پارٹی میں ٹکراؤ کی وجہ بنے انشمن مشرا تو بیرون ملک چلے گئے لیکن بھاجپا رہنمائی میں بٹوارہ کروا گئے۔ مشرا کے بول بھاجپا کے مرکزی رہنما کو کانٹوں کی طرح چبھ رہے ہیں۔ پہلے اترپردیش کے چناؤ میں پارٹی کا افسوسناک مظاہرہ اور پھر راجیہ سبھا چناؤ میں انشمن مشرا معاملے نے گڈکری کے خلاف لام بندی کا ماحول تیار کردیا ہے۔ یوپی چناؤ میں بابو سنگھ کشواہا کو لینا ٹکٹوں کی تقسیم سمیت کئی ایک فیصلے گڈکری نے اپنے دم پر ہی لئے تھے۔ گڈکری کو دوسرا ٹرم دینے کے سنگھ کے فیصلے کو عمل میں لانا بھی کافی چیلنج بھرا ہوسکتا ہے۔ بھاجپا ودھان کے تحت ہر تین پر راشٹریہ کاری کرنی کی میٹنگ بھی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح بھاجپاکی پالیسی پر چرچا کرنے والی سب سے بڑے فورم قومی کونسل کی گذشتہ سال کوئی میٹنگ نہیں ہوسکی۔ بھاجپا ادھیکش کا ٹرم اسی سال دسمبر میں ختم ہورہا ہے۔ ٹرم ختم ہونے سے پہلے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ نتن گڈکری کو ایک اور ٹرم کے لئے پارٹی ادھیکش چنا جائے یا نہیں۔
پارٹی میں کچھ نیتاؤں کا ماننا ہے کہ گڈکری کو توسیع دینے کے بجائے تیز طرار ہندووادی چھوی والے گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کو ادھیکش بنایا جائے۔پارٹی میں مودی سمرتھکوں کے مطابق اکتوبر میں ہورہے گجرات ودھان سبھا چناؤ کے بعد مودی کو راجیہ کی سیاست سے نکال کر انہیں مرکز کی سیاست میں لایا جانا چاہئے۔ ویسے بھی گڈکری کا ٹرم دسمبر ماہ میں ختم ہورہا ہے جبکہ گجرات ودھان سبھا چناؤ اکتوبر میں مکمل ہوجائیں گے۔ بھاجپا کے کئی سینئر نیتا گڈکری کی رہنمائی میں 2014ء کا لوک سبھا چناؤ لڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ پارٹی کے اندر گڈکری کی جس طرح مخالفت ہورہی ہے اس سے تو آر ایس ایس کو بھی دوبارہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ بھاجپا کے آئین میں ایک شخص کو ایک ہی ٹرم دینے کا ضابطہ ہے جس سے گڈکری کو دوسرا ٹرم بھاجپا کے آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں مل سکتا اور یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا۔ گڈکری کو دوسرا ٹرم ملے گا یا نہیں؟
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...