Translater

06 جنوری 2018

نسلی تعصب پیدا کرنے والی طاقتیں

160مہاراشٹر میں مراٹھوں کے ریزرویشن تحریک کی آنچ سست بھی نہیں پڑی تھی کہ بھیما۔کورے گاؤں جنگ کے 200 ویں سال کے موقع پر دلتوں اور مراٹھوں کے درمیان پیدا پرتشدد تنازعہ معمولات زندگی ٹھپ ہو المناک، بدقسمتی اور تشویشناک ہے. 1818 میں بھیما کورے گاؤں میں،مہارووباجی راؤ پیشوادوم کو برطانوی کی مدد سے شکست دی تھی لیکن استحصال شدہ مہاروں نے پیشوا کو شکست دینے کے واقعے کو کامیابی کی طرح دیکھا تھا ہر سال کی طرح پہلی جنوری کو مہارفرقے کے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں اس پہلے ہی دو واقعات ہوئے . ایک تو 31 دسمبر کو پونے میں ہفتہ واڈا یلغار پریشدکے اجلاس میں جگنیش میوانی، روہت ،ویملاکی ماں اور عمر خالد جیسوں کی موجودگی تھی۔
جو اس بہانے دلتوں کے اتحاد کی تیاری کے بارے میں بتاتی تھی. 10 ہزار سے بھی کم آبادی والے پونے کے اس چھوٹے سے گاؤں کورے بھیما میں ہر سال ہونے والے اس تقریب کو لے کر اس وقت جس طرح شعلے بھڑکے اور اس نے پورے مہاراشٹر کو اپنی زد میں لے لیا یہ بتاتا ہے کہ تعصب پیدا کرنے اس طاقت کی سرگرمیاں اس وقت زیادہ فعال ہیں اور ہم آہنگی کی کوششوں یا افواہوں کو ابھی تک غیر مؤثر نہیں ہیں. منگل کے واقعات کے بعد بدھ کو جب مہاراشٹر بند کا انعقاد کیا گیا، تو پورے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کام کاج ٹھپ ہونے کی خبریں آنے لگی. پہلی نظریے میں، یہ انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، جس نے نہ ہی صورتحال کو سمجھا اور نہ ہی اسے سنبھالا۔
لیکن یہ خیال ہے کہ کورگاؤں بھیمامیں تشدد کس طرح ریاست کے دیگر اضلاع میں تشدد کے نتیجے پھیلی؟ بند کے دوران نجی اور عوامی املاک کو جس پیمانے پر نقصان پہنچائی گئی اس کے پیچھے یقیناًایسے عناصر کی کردار ہو گا جو ریاست میں نسلی کشیدگی بھڑکائے رکھنا چاہتے ہیں. پورے معاملے میں سب سے زیادہ نفرت انگیز کردار کچھ سیاسی جماعتوں کا ہے. وہ بجائے امن کے مطالبہ کرنے کے بجائے الزامات بناتے ہیں یا ان کی پارٹی کو ایک امن قائم کرنے کے لئے کام کرنے کی ہدایت کرتے ہیں. ایسے وقت میں، جب کسی بھی وجہ سے کشیدگی ہو تو، ایک پارٹی اور تنظیم تنظیم اس کو روکنے کا معاملہ بن جاتا ہے. سیاسی پابندی بعد میں بھی ہوسکتی ہے. پرکاش امبیڈکر اور جگنیش موانی کا ایک ساتھ ہونا نئی دلت سیاست کی شروعات بھی ہوسکتی ہے ۔پہلا کام یہ ہے کہ اس تشددپر قابو پایا جائے اور آ گ پھیلانے والوں کی نشاندہی کی جائے ۔
(انل نریندر)

انتخابی فنڈ پر شفافیت لانے کی ایک اور کوشش

مرکزی حکومت نے منگل کوچناؤی بانڈ اسکیم کا تفصیلی فریم ورک جاری کرکے شفاف اور صاف انتخابی فنڈ کی طرف اہم اقدامات کئے ہیں . وزیرمالیات ارون جیٹلی نے 2017۔18 کے بجٹ کے دوران پارلیمنٹ میں اس اسکیم کا آغاز کیا تھا. حکومت دعوی کر رہی ہے کہ یہ منصوبہ سیاسی جماعتوں میں نقد ی چلن ش کی حوصلہ افزائی کرے گا اور اس طرح انتخابات میں کالے دھن کے استعمال کی روک تھام کرے گی. گزشتہ چند سالوں کے دوران انتخابی اخراجات بڑھ رہے ہیں اور انتخابی کمیشن کے تمام پابندی کے باوجود، سیاسی جماعتوں کو ان کی اخراجات کو روکنے کی دلچسپی نہیں ہے اس میں ایسے قدم کی توقع کی جارہی تھی ۔
چناؤیُ خرچ پر لگام نہ لگ پانے کے بڑی وجہ کالے دھن کو چھپائے جاناتھا. اب آنے والے انتخابات میں حکومت کے دعوی کی حقیقت معلوم ہو گی۔ ابھی تک امید مند خیالات کے ساتھ، یہ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ منصوبہ ایک حد تک سیاہ رقم کے استعمال کو روکنے میں روک سکتا ہے لیکن مکمل طور پر نہیں. اس منصوبہ کے مطابق سیاسی جماعتوں کے لئے ایک ہزار سے لے کر ایک کروڑ روپے کی قیمت تک کے انتخابی بانڈ ایس بی آئی بینک کی چنندہہ شاخوں سے خریدے جا سکیں گے اور اس میعاد 15 دن کی ہوگی یعنی انہیں صرف مجاز بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اس میعاد کو اندر بھنانا ہو جائے گاچناؤی بانڈ لینے کی کچھ خانہ پوری بھی مقررکی گئی ہے مثال کے طور پر، ایک سیاسی جماعت کو رجسٹریشن اور پچھلے چناؤں میں میں کم سے کم ایک فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔
انتخابی اخراجات کو روکنے کے قابل نہیں ہونے کی ایک بڑی وجہ چندہ کی شکل میں کالاچھن کوچھپانا ہے. چند سال پہلے، پارٹیوں کو نقد رقم لینے اور عوام سے اپنی شناخت کو چھپانے کے لئے آزاد تھے۔
اس طرح، کمپنیاں اور کاروباری اداروں بڑے پیمانے پر کالے دھن کوکو چھپانے کے قابل تھے۔ اس کے بجائے ان کے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے ، لیکن مودی حکومت نے لگا کستے ہوئے اس کی حد پہلے 20ہزار روپے اور پھر 10ہزار روپے کی بعد میں محض 2 ہزار روپئے کردی ۔پھر بھی پچھلے دنوں ہوئے انتخابات میں پارٹیوں اور امیدواروں کے اخراجات کی کوئی کمی نہیں دکھائی دی اس لئے سیاسی جماعتوں نے چندہ اکھٹا کرکے دوسرے راستے اپنالئے ایسی وہ صرف بانڈ کے ذریعہ چندہ لیں گے ،یہ دعوی کرنا مشکل ہے ۔
(انل نریندر)

05 جنوری 2018

امریکہ نے پاک کا حقہ پانی بند کیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ وہ جو چاہتے ہیں ،وہ کرتے ہیں۔ انہیں اس کے اثرات کی زیادہ فکر نہیں ہوتی۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں پاکستان کو کھری کھوٹی سنادی اور پاکستان کو دی جانے والی 25.5 کروڑ ڈالر یعنی 16 ارب 26 کروڑ روپے کی مالی مدد کو روک دیا ہے۔ نئے سال کے پہلے ہی دن ٹرمپ نے پاکستان کو جھوٹا اور کپٹ دیش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکہ کو دھوکہ دینے کے سیوا کچھ نہیں کیا۔دہشت گردوں کے خاتمے کے نام پر ہم سے پیسہ لیتا رہا حقیقت میں وہ انہیں محفوظ پناہ گاہ دیتا رہا۔ ہم افغانستان میں اس کی پناہ پائے گئے دہشت گردوں سے لڑتے رہے بہت ہوچکا۔ہم اب پاکستان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ و ان کے انتظامیہ نے کئی بار پاکستان کو خبردار بھی کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے لیکن وہاں کے حکمرانوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ شاید انہیں لگتا تھا کہ جس طرح براک اوبامہ و جارج بش کے عہد میں بھی ان کے خلاف وارننگ آتی رہی ہیں لیکن ہوا کچھ نہیں ،ویسا ہی اس بار بھی ہوگا۔ ظاہر ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلہ سے پاکستان کو دھکا لگا ہوگا۔ ویسے تو پاکستان اپنے رد عمل سے یہ جتانے کی کوشش کررہا ہے کہ ٹرمپ کے اس قدم سے وہ قطعی فکر مند نہیں ہے لیکن وہاں وزیر اعظم کے ذریعے ایمرجنسی میٹنگ بلایا جانا اپنے آپ میں سب کچھ بیاں کردیتا ہے۔ نوٹ کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کے سخت تیور دکھانے کے کچھ گھنٹے ہی بعد پاکستان حکومت حرکت میں آئی اور اس نے لشکر طیبہ کے بانی و ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید اور ان کی انجمنوں پر شکنجہ کسنا شروع کردیا۔ مالی مدد روک دینے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلہ کے علاوہ جس بات نے پاکستان حکومت کو فکر مند اور سرگرم کیاہوگا وہ یہ حقیقت ہے کہ اسی ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی ایک ٹیم آتنکی گروپوں کے خلاف کارروائی کا جائزہ لینے کے لئے پاکستان آنے والی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جو بات بھارت عرصے سے کہہ رہا ہے اسی پر ایک طرح سے مہر لگادی ہے۔ یہ ہی نہیں بھارت سے اقوام متحدہ کوبھی ایکشن لینے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان کو آج کی تاریخ میں سب سے زیادہ بھروسہ چین پر ہے۔چین نے یہ کہتے ہوئے پاکستان کا بچاؤ کیا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف اس کی مہم میں شاندار اشتراک کو پہچاننا چاہئے۔ ٹرمپ کی کارروائی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بھارت کا الزام بالکل صحیح تھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ اپنے فیصلے پر قائم رہے گا؟ کیا پیسہ روکنے تک ہی امریکہ اپنے آپ کو محدود رکھے گا یا آگے بھی کارروائی کرے گا؟ اس کے لئے انتظار کرنا ہوگا۔ اس درمیان پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم ٹرمپ کو جلد ہی جواب دیں گے۔ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟
(انل نریندر)

سپر اسٹار رجنی کانت نئے کردار میں

تامل سنیما کے سپر اسٹار رجنی کانت نے نیا سال آتے ہی اپنے لئے ایک نیا کردار چن لیا ہے۔ ایتوار کو کئی دنوں تک سسپنس کے بعد انہوں نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ ہی بہت لمبے عرصے سے لگائی جارہیں قیاس آرائیوں کو خاتمہ ہوگیا۔ ان کے اس اعلان سے تاملناڈو کی سیاست میں نیا موڑ تو آئے گا ہی بلکہ قومی سیاست میں بھی اس کا اثر ہوگا۔ رجنی کانت کوئی عام ایکٹر نہیں ہیں۔ ان کے لاکھوں چاہنے والوں کے لئے وہ اپنے آپ میں ایک آئیکون ہیں اور پوجے جاتے ہیں۔ ان کا جادو لوگوں کے سر پر اس قدر چڑھ کر بولتا ہے اس کے بہت سے ثبوت وقتاً فوقتاً ملتے رہتے ہیں۔ یوں تو تاملناڈو کی سیاست میں دہائیوں سے انا ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے دونوں کے درمیان سیاست بٹی رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی تیسرے گروپ کے لئے گنجائش نہیں تھی۔ کوئی ایک دہائی پہلے فلم اداکاروجے کانت نے انا ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے مجموعی 10 فیصد ووٹ حاصل کرکے تیسرے امکان کی نشاندہی کی تھی۔ رجنی کانت وجے کانت سے بڑے ایکٹر ہیں اور مقبولیت میں تو ان کا کوئی سانی نہیں ہے۔ رجنی کانت ایسے وقت سیاست میں آرہے ہیں جب کئی دہائیوں تک ریاست کی سیاست کو متاثر کرنے والے دو سرکردہ سیاسی پس منظر سے ہٹ چکے ہیں۔ جے للتا کا دیہانت ہوچکی ہے اور ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی کافی بزرگ ہونے کے سبب اب وہ سیاست میں سرگرم نہیں ہیں۔ حالت یہ ہے کہ جے للتا کے دیہانت کے بعد خالی سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ میں ان کی جیل میں بند ششی کلا کے بھتیجے دناکرن کامیاب ہوگئے ہیں اور انا ڈی ایم اور ڈی ایم کے کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی حالت تاملناڈو میں ایک بڑی سیاست میں خلا کی جانب اشارہ کرتی ہے، جسے رجنی کانت بھرنا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ سیاست میں آنے کے بعد ان کو کتنی کامیابی ملتی ہے لیکن ایسے شخص کا سیاست میں آنازیادہ اثر دار ثابت نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے تاملناڈو کی سبھی 234 اسمبلی سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر وہ اس پر قائم رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ فی الحال وہ کسی دیگر پارٹی سے کوئی اتحاد کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ پہلے سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ وہ بھاجپا کے رابطے میں ہیں اور ان کے خیالات بھی بھاجپا کے قریب ہی مانے جاتے ہیں۔ چاہے ایم جی رام چندرن رہے ہوں یا جے للتا دونوں فلمی دنیا سے ہی آئے۔ کروناندھی نے بھی فلموں میں کہانیاں لکھیں تو کیا رجنی کانت بھی تاریخ دوہرائیں گے؟
(انل نریندر)

04 جنوری 2018

جام نے پھیکا کیا نئے سال کا جشن

ویسے تو ہر سال نئے سال کے پہلے دن لوگ سیلبریشن کے لئے دہلی کی کئی خوشگوار جگہوں پر پہنچتے ہیں اور پریوار یا دوستوں کے ساتھ سال کے پہلے دن خوب موج مستی کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ 2018 کے پہلے دن دہلی گیٹ ٹریفک کا ایسا برا حال تھا جو پہلے کبھی شاید ہوا ہے۔ پیر کے روز تو سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ انڈیا گیٹ،چڑیاگھر میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ پہنچے۔ انڈیا گیٹ پر ڈھائی لاکھ لوگ جمع ہوئے تھے اس کی وجہ سے انڈیا گیٹ ، لال قلعہ کے آ س پاس ایسا جام لگا کہ ٹریفک سسٹم پوری طرح تباہ ہوگیا۔ میں سندر نگر میں رہتا ہوں جہاں سے ہمارا دفتر پرتاپ بھون ،بہادر شاہ ظفر مارگ مشکل سے 4-5 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ عام طور پر میں 10-15 منٹ میں گھر سے دفتر پہنچ جاتا ہوں لیکن پیر کو مجھے آنے جانے میں کم سے کم 5 گھنٹے لگے۔ آپ خود ہی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ٹریفک کا کتنا برا حال تھا۔ یہاں تک کہ جام کھلوانے کے لئے انڈیا گیٹ کا معائنہ کرنے جارہے نئی دہلی ڈسٹرکٹ کے ڈی سی پی بی کے سنگھ کی گاڑی بھی پرانا قلعہ کے پاس لگے جام میں پھنس گئی۔ اس کے چلتے انہیں اپنی گاڑی راستے میں ہی چھوڑ کر پیدل انڈیا گیٹ تک پہنچنا پڑا۔ تمام پارکنگ فل ہوجانے کی وجہ سے کئی لوگوں نے اپنی گاڑیاں سڑک کے کنارے ہی کھڑی کردیں۔ ان کے چلتے ٹریفک آہستہ آہستہ بڑھنے لگا اور پھر آہستہ آہستہ جام لگتا چلا گیا۔ حالات بگڑتے دیکھ پیرا ملٹری فورس کے جوانوں کو مورچہ سنبھالنا پڑا۔ انڈیا گیٹ کے آس پاس کئی مقامات پر فورس کے مسلح جوان بھی ٹریفک کو ٹھیک ٹھاک چلانے کے لئے کنٹرول کرتے دیکھے گئے۔ ٹریفک سگنلوں کو بھی بند کرکے مینول طریقے سے ٹریفک چلایاگیا لیکن جب سارے قدم ناکافی ثابت ہوئے تو پھر شام کو کچھ دیر کے لئے انڈیا گیٹ کو بند کرکے آس پاس موجودہ لوگوں کو وہا ں سے ہٹانا پڑا۔ جام لگنے کی کئی وجوہات تھیں۔ انڈیا گیٹ پر ایک ساتھ درکار تعداد سے زیادہ لوگوں کا جمع ہونا۔ پارکنگ فل ہوجانے کے بعد لوگوں کا پارکنگ کی جگہ تلاش کرنا، چلتی گاڑیوں کے بیچ سے لوگوں کا پیدل سڑک پارکرنا، لاجپت نگر فلائی اوور کا ایک طرف کا راستہ بند ہونے سے بارہ پلہ فلائی اوور پر ٹریفک کا بڑھنا، میٹرو یا پبلک ٹرانسپورٹ کے بجائے نجی گاڑیوں سے لوگوں کا نکلنا۔ سال کا پہلا دن ہونے کی وجہ سے مندروں اور دیگر مقامات پر زیادہ لوگوں کا پہنچنا۔ ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے انجوائے کرنے والوں کے ساتھ ساتھ آفس کا بھی خیال ہونا، دہلی ٹریفک پولیس کا اتنی بھیڑ سے نمٹنے کا کوئی پلان نہ ہونا، بڑی سڑکوں کے ساتھ ساتھ متبادل راستوں پر بھی ٹریفک کا حاوی رہنا، ایک وجہ کہرہ دھند کی وجہ سے ٹریفک کی رفتار عام دنوں کے مقابلے سست ہونا۔نئے سال کے پہلے دن ٹریفک نظام ایسے ناکارہ بن کر رہ گیا اسے سال بھر یاد رکھا جائے گا۔ پولیس کے سارے پہلے سے اندازے ہوا ہوگئے۔ پوری دہلی میں ٹریفک پولیس نے 70 ہزار لوگوں کا اندازہ لگایا تھا اور قریب 2500 ٹریفک پولیس جوان تعینات کئے۔ انڈیاگیٹ پر ہی 40 ٹریفک پولیس جوان تعینات تھے لیکن یہاں دوپہر تک 1سے2 لاکھ لوگوں کا ہجوم پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ پریشانی پرفورس کے لئے دہلی پولیس نے فوری طور پر 60 اور ٹریفک کانسٹیبلوں کو انڈیا گیٹ پر لگایا یعنی کل100 پولیس ملازمین جام کو شام تک نہ کھلوا سکے۔جشن میں دہلی ایسی ڈوبی کے ایتوار کی دیر رات سے لیکر صبح تک بے روک ٹوک ٹریفک قاعدے ٹوٹتے رہے۔ دیررات 12 بجے سے صبح 9 بجے تک مختلف دفعات میں ریکارڈ 16720 چالان کئے گئے۔ امید کی جاتی ہے کہ سبھی متعلقہ ایجنسیاں اس سال کے تجربے کو سنجیدگی سے لیں گی اور کوشش کریں گی کہ مستقبل میں ایسا نظارہ دیکھنے کو نہ ملے۔
(انل نریندر)

سب کو ملے ہیلتھ کا حق

ڈاکٹروں کو زمین کا بھگوان کہا جاتا ہے۔ صحیح بھی ہے، زندگی کی امید چھوڑ چکے تمام لوگوں میں جان بچانے کی کوشش رہی ہے اور انہی کے دم پر ممکن ہوپاتی ہے۔سنگین امراض سے موت کے جبڑے سے ہر سال لاکھوں لوگوں کو یہی زندگی دلاتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت کے لئے اس پیشے کی وفاداری پر کوئی شبہ نہیں کرسکتا لیکن حال ہی میں دہلی اور گوڑ گاؤں کے دو اسپتالوں میں رونما واقعات پرائیویٹ میڈیکل سیکٹر کے طریقہ کار پر سنگین سوال ضرور کھڑے کرتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ سرکار کے پاس ہیلتھ سروسز زیادہ نہیں ہیں جو ہیں بھی وہ بھی بھگوان بھروسے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں تیزی سے سرمایہ کاری جاری ہے لیکن منافع خوری اور انتہا لاپروائی نے اس سیکٹر سے جیسے اس کا بنیادی مقصد ہی چھین لیا ہے۔ لوگوں کو یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ جو علاج انہیں نجی اسپتال سے ملا کیا وہ واجب قیمت والا اور کوالٹی سے بھرا تھا۔ حال ہی میں انڈین میڈیکل کونسل کو ختم کرکے نیشنل میڈیکل کمیشن بنانا سرکار کا لائق تحسین قدم ہے لیکن چنوتیاں بہت ہیں۔ ایسے میں نجی اسپتالوں کے تئیں لوگوں کے اعتماد کی بحالی کی پڑتال بڑا اشو بن گیا ہے۔ یہ منتھن کرنے کا وقت ہے کہ ہیلتھ سروسز کے معاملہ میں دیش کہاں کھڑا ہے؟ کسی نجی اسپتال کو کچھ دن کے لئے بندکرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اسپتال بند کردینے اور ڈاکٹروں کو گالی دینے سے ہیلتھ خدمات میں بہتری نہیں ہونے والی ہے۔ صحیح معنوں میں تو مرکز و ریاستی حکومتیں نے ہیلتھ سیکٹر کو اب تک نظر انداز ہی کیا ہے۔ جو مریضوں کو پرائیویٹ اسپتالوں میں بھاری بھرکم بل اور سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے مہینوں انتظار کرنے کی شکل میں چکانا پڑ رہا ہے۔ دیش کی اس بگڑی ہوئی صحت کو وسیع ہیلتھ بیمہ سے ہی سدھار کیا جاسکتا ہے۔سرکارکے بھروسے بیماریوں سے جنگ ممکن نہیں ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے اسپتال 80فیصدی و پبلک سیکٹر کے اسپتال 20 فیصدی سہولیت ہی دستیاب کرا رہے ہیں جبکہ پبلک سیکٹر کے اسپتالوں پر دیش کی 70سے80 فیصدی آبادی منحصر ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایسی پالیسی تیار کو جس سے لوگوں کو بہتر کفایتی طبی سہولت مل سکے۔ سرکار چاہے تو تعلیم کے حق ، غذائی سیکورٹی حق کی طرح ہیلتھ کا بھی حق قانون لا سکتی ہے لیکن کیا اس سے مسئلہ کا حل ہو پائے گا؟ دیش کے 130 کروڑ لوگ اگر روز ایک ایک روپیہ ہیلتھ بیمہ کے لئے نکالیں تو یومیہ 130 کروڑ روپے جمع ہوسکتے ہیں۔ اس طرح علاج کے لئے بڑی رقم بچائی جاسکتی ہے۔ 
(انل نریندر)

03 جنوری 2018

تبدیلی کیلئے ایران کی جنتا سڑکوں پر

مہنگائی اور کرپشن کے احتجاج میں ایران کی عوام سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ چرمراتی معیشت کو لیکر جمعرات کے روز سے شروع ہوئے مظاہرے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ یہ مظاہرے2009 کے متنازعہ صدارتی چناؤ کے وقت ہوئے مظاہروں کے بعد سب سے بڑے مظاہرے ظاہر ہوتے ہیں۔ مہنگائی اور کرپشن کے خلاف احتجاج اب راجدھانی تہران تک پہنچ گیا ہے۔ ایران کے مغربی درود شہر میں پولیس فائرننگ میں دو مظاہرین کی موت ہوئی ہے۔ تہران میں مظاہرین نے کچھ سرکاری عمارتوں پر حملے بھی کئے ہیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ مظاہرین نے بڑی یونیورسٹی کے قریب پولیس پر پتھر بازی کی۔ پولیس کو ان پر قابو پانے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ کچھ مظاہرین کو گرفتار بھی کیاگیا ہے۔ ایک ویڈیو میں دارود شہر میں خون سے لت پت دو لوگوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ذکر کرتے ہوئے ’’تانا شاہ کو موت دو ‘‘ کے نعرہ لگائے۔ اس درمیان ایران میں سنیچر کو حکومت کی حمایت میں بھی قریب 1200 شہروں میں ریلیاں ہوئی ہیں۔ ایران حکومت نے مظاہرین پر کنٹرول کرنے کے لئے انسٹاگرام اورکچھ میسجنگ ایپ بلاک کردئے ہیں۔ 
مظاہرین کی شروعات گزر بسر کی بڑھتی لاگت اور چرمراتی معیشت کو لیکر مشعود میں احتجاج شروع ہوا تھا اور پھر یہ دیش کے دیگر حصوں تک پہنچ گیا۔ ایران کے حکام نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر خبریں علاقائی حریفوں سعودی عرب اور یوروپ میں مقیم جلا وطن گروپوں کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ وہیں نوبل انعام یافتہ ایرانی اٹارنی جنرل شری عبادی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران میں شورش ایک بڑی تحریک کی شروعات ہے اور یہ 2009 کے مظاہروں سے بھی زیادہ وسیع ہوسکتی ہے۔ عبادی نے اطالوی اخبار ’لا ریپبلکا‘ سے بات چیت میں کہا، میرا ماننا ہے کہ مظاہرے جلد ختم نہیں ہونے والے ہیں ، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک بڑی تحریک کی شروعات دیکھ رہے ہیں جو2009 کی گرین ویب سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ ادھر امریکی صر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سرکاری حریف مظاہرین کی حمایت میں بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا مظالم حکومت لمبے عرصے تک نہیں چل سکتی۔ ایک دن آئے گا جب ایران کے لوگ اپنی پسند کی قیادت کا انتخاب کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔ امریکی صدر نے اس معاملہ میں دوسری بار ٹوئٹر پر بیان دیا ہے۔ ایرانی حکومت کے لئے یہ ایک بہت بڑی چنوتی ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے۔
(انل نریندر)

پرگیہ، پروہت کو مکوکا ہٹنے سے راحت

ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے مالیگاؤں بم دھماکہ کانڈ کے ملزم سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت سمیت دیگر 6 ملزمان پر لگے مکوکا و ہتھیار ایکٹ کی دفعات ہٹا لی ہیں۔ اب ان پر صرف آئی پی سی و یوپی اے کی دفعات کے تحت مقدمہ چلے گا۔ بیشک ملزمان کو معمولی راحت دیتے ہوئے عدالت ہذا نے کہا کہ ان کے خلاف مکوکا کے تحت مقدمہ نہیں چلے گا۔ حالانکہ عدالت نے سادھوی پرگیہ، کرنل پروہت اور دیگر ملزمان کو الزام سے بری کرنے کی دائر عرضی خارج کردی ہے۔ اسپیشل این آئی اے عدالت کی ہدایت کے مطابق سبھی ملزمان پر غیر قانونی سرگرمیاں انسداد ایکٹ (یوپی اے ) کے تحت مختلف دفعات میں نئے الزامات طے کئے جائیں گے اور 15 جنوری کو ان ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس دن ان کے خلاف الزام طے ہوں گے۔ ابھی سبھی ملزم ضمانت پر ہیں۔ سادھوی پرگیہ اور لیفٹیننٹ کرنل سری کانگ پرساد پروہت سمیت دیگر ملزمان پر لگے مکوکا کہ الزام بیشک ہٹا لئے گئے ہیں لیکن ان کے اس معاملہ میں باعزت بری ہونے پر شبہ بنا ہوا ہے۔ ممبئی بم دھماکوں میں 100 سے زائد ملزمان کو سزا دلا چکے سینئر وکیل اجول نکم نے یہ بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں ملزمان کے خلاف مکوکا ہٹانے سے کافی راحت ملی ہے۔ اس کے چلتے ضمانت کی میعاد بڑھی ہے لیکن این آئی اے کی خصوصی کورٹ میں دوسرے قانون کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلے گا۔ سال 1999 میں مہاراشٹر حکومت نے کنٹرول آف آرگنائزڈ ایکٹ (مکوکا) قانون بنایا تھا۔ یہ انڈر ورلڈ سے وابستہ جرائم پیشہ ، منظم جرائم اور گروہ چلانے والے ملزمان کی جانب سے کرائم سنڈیکیٹ چلانے والوں پر سینئر افسران کی رضامندی سے لگایا جاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹاٹا اور پوٹا کی طرح مکوکا میں بھی ضمانت نہیں ہے۔ معاملے کی چھان بین کے بعد اگر پولیس یا جانچ ایجنسی 180 دن کے اندر اپنی چارج شیٹ نہیں داخل کرپاتی تو ملزم کو ضمانت دی جاسکتی ہے۔ اس میں کم سے کم پانچ سال زیادہ سے زیادہ پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے۔ این آئی اے نے ثبوتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے سادھوی پرگیہ کے خلاف سبھی معاملہ واپس لینے کے لئے کہا تو عدالت نے کہا کہ سادھوی کی طرف سے موٹر سائیکل کا استعمال دھماکے کرنے میں کیا گیا تھااس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں اس واردات کی پوری جانکاری تھی۔
(انل نریندر)

02 جنوری 2018

مدرسہ ناظم 6 ماہ سے لڑکیوں کی آبروریزی میں لگاتھا

لکھنؤ کے سعادت گنج علاقہ میں واقع ایک مدرسہ میں طالبات سے جنسی استحصال کئے جانے کا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ سعادت گنج کے یاسین گنج علاقہ میں قائم مدرسہ خدیجتہ الکبری للبنات پر پولیس کی چھاپہ ماری میں وہاں سے 51 لڑکیوں کو آزاد کرایا گیا۔ اس کارروائی میں لکھنؤ پولیس نے مدرسہ کے ناظم کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایس ایس پی دیپک کمار کے مطابق مدرسہ کے اندر ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے جنسی استحصال کئے جانے کی شکایتیں ملی تھیں۔ معاملہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے ایک ٹیم بنا کر جمعہ کی رات کو وہاں چھاپہ ماری کی۔ اس دوران طالبات نے بھی خط میں اپنا درد بیان کرکے پولیس سے شکایت کی تھی جس کے بعد ملزم ناظم قاری طیب ضیاء کو حراست میں لیا گیا۔ مدرسہ میں کل 151 طالبات رہ رہی تھیں۔ چھاپہ ماری کے دوران وہاں 51 طالبات موجود ملیں۔ مدرسہ کے مہتمم سید محمد جیلانی اشرف نے ایس ایس پی سے معاملہ کی شکایت کی تھی۔ آزاد کرائی گئی 51 لڑکیوں میں سے ایک متاثرہ لڑکی کھل کر سامنے آگئی۔ بہرائج کی 10 ویں کلاس کی اس طالبہ نے منیجر قاری طیب ضیاء پر بدفعلی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سنیچروا ر کو کیس درج کرایا اس سے پہلے پانچ طالبات نے قاری پر چھیڑخانی و اذیت پہنچانے اور مدرسہ کے بانی سید محمد جیلانی اشرف نے جعلسازی کا کیس درج کریا۔ پولیس نے متاثرہ طالبات کا میڈیکل کرانے کے ساتھ ملزم منیجر قاری کو کورٹ میں پیش کیا جہاں اس کو جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا۔ سی او بازار تھانہ انل یادو کے مطابق ایک متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ منیجر افسر اسے کمرہ میں بلا کر درندگی کرتا تھا۔ شکایت کرنے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتا تھا۔ لیڈیز پولیس کانسٹیبلوں نے متاثرہ کا یہ بیان ویڈیو کمرہ میں درج کیا۔ چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ جنسی استحصال سے گھرے مدرہ خدیجتہ الکبری للبنات کو مدرسہ بورڈ سے منظوری بھی نہیں ملی ہوئی تھی۔ ہمارے اسکولوں میں یہ کیا ہورہا ہے؟ مدرسہ میں اس طرح کا جنسی استحصال اس لئے بھی چونکانے والا واقعہ ہے کیونکہ مدرسہ میں اس طرح کے واقعات کم سننے کو ملتے ہیں۔ حال ہی میں رائن اسکول میں پردیومن قتل کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ایسی حرکت کرنے والوں کو سزا تو ملے گی ہی لیکن ان کا سماجی بائیکاٹ بھی ہونا چاہئے۔ ماں باپ کو اس گھناؤنی حرکت کی کانوں کان خبر نہیں ملی یہ بات بھی چونکانے والی ہے۔ پتہ نہیں کتنے عرصہ سے یہ گھورکھ دھندہ چل رہا ہے؟ کتنی طالبات اس کی شکار ہوئی ہیں۔ اس کی جانچ کی جانی چاہئے۔
(انل نریندر)

راجیہ سبھا چناؤ عاپ کے گلی کی پھانسی بن گئی

عام آدمی پارٹی (عاپ) میں راجیہ سبھا کا ٹکٹ پانے کے لئے سیاست تیز ہوگئی ہے۔ دہلی کی تین راجیہ سبھا سیٹوں کو لیکر عام آدمی پارٹی میں مچا گھمسان ریاست میں حکمراں پارٹی و عاپ حکومت کے لئے بھی خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر کمار وشواس تال ٹھوک کر میدان میں اتر چکے ہیں۔ راجیہ سبھا کے لئے ان کو پارٹی کا امیدوار بنانے کے لئے حمایت میں عاپ ورکروں نے پارٹی کے دفتر پر تمبو گاڑھ دئے ہیں۔ کمار وشواس کے باغی تیوروں کو دیکھتے ہوئے سیاسی گلیاروں میں ایسی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں کہ صوبے میں حکمراں پارٹی نے راجیہ سبھا چناؤ کے بہانے بڑی اتھل پتھل ہوسکتی ہے۔ پارٹی کے دفتر پر مظاہرہ کررہے ایک ورکر نے بتایا کہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا، کمار وشواس اور سنجے سنگھ عام آدمی کی وہ بنیاد ہیں جن پر دہلی کی سرکار بنی ہے۔ وہیں ان لیڈروں کے سہارے پارٹی کو پورے دیش میں پہچان ملی ہے۔ کیجریوال، سسودیا و وشواس کی پارٹی بننے سے پہلے دوستی بھی رہی ہے لیکن سیاست میں آنے کے بعد کچھ ایسے لوگ پارٹی سے جڑ گئے ہیں جنہوں نے نہ صرف پرانی دوستی میں دراڑ ڈالی ہے بلکہ سیاسی طور پر ایک دوسرے کے درمیان دشمنی بھی پیدا کردی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کمار وشواس کو ہوا ہے۔ عام آدمی پارٹی میں نیتاؤں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہو اس کے لئے کیجریوال دیش کے الگ الگ علاقوں میں کام کرنے والے سرکردہ لیڈرو ں کو راجیہ سبھا بھیجنا چاہتے ہیں۔ اس سے ایک طرف پارٹی کے اندر لڑائی جھگڑے سے بچا جاسکتا ہے وہیں دوسری طرف ماہرین کو راجیہ سبھا میں بھیج کر عام آدمی پارٹی قومی سطح پر قومی اشو کو لیکر اپنی سنجیدگی اور سرگرمی کا مظاہرہ کرناچاہتی ہے۔ راجیہ سبھا کا ٹکٹ پانے کو لیکر لڑائی بہت تیز ہوگئی ہے۔ کیجریوال نے ایک پرانے ویڈیو کو سہارا لیتے ہوئے اشاروں اشاروں میں اشارہ دے دیا ہے کہ کمار کے لئے پارٹی میں اب کوئی جگہ نہیں ہے،کیجریوال نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ عام آدمی پارٹی میں جن لیڈروں کو عہدہ یا ٹکٹ کا لالچ ہے انہیں پارٹی چھوڑدینی چاہئے۔ ایسے لوگ غلط پارٹی میں آگئے۔ دراصل راجیہ سبھا چناؤ عاپ کے گلے کی پھانسی بنتے جارہے ہیں۔ پارٹی ایک طرف جن لوگوں سے رابطہ قائم کررہی ہے وہ ایوان بالا جانے کو زیادہ خواہشمند نہیں ہیں۔ پارٹی کی لیڈر شپ کا کہنا ہے ابھی پارلیمنٹری افیئرز کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہوئی ہے۔ 3-4 جنوری کو اس کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں راجیہ سبھا میں بھیجنے جانے والے ناموں پر غور خوض ہوگا۔ کوشش دیش کے سب سے بہتر تین لوگو ں کو راجیہ سبھا بھیجنے کی ہے۔ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 5 جنوری ہے۔
(انل نریندر)

31 دسمبر 2017

تاکہ ایک جھٹکے میں تین طلاق کی روایت ختم ہو

لوک سبھا نے جمعرات کو تاریخ رقم کرتے ہوئے مسلم خواتین کے لئے لعنت بنی ایک ساتھ تین طلاق (طلاق بدعت) کے خلاف لائے گئے بل کو سوتی ووٹ سے پاس کردیا۔ مسلم خواتین کی آزادی کے لئے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ایک ساتھ تین طلاق کی بری اور غیر انسانی اور لعنت آمیز روایت کو مجرمانہ قرار دینے والا مسلم شادی حق تحفظ بل 2017 پاس کرکے متاثرہ مسلم خواتین کو بڑی راحت دی ہے۔ بل کی دفعات میں ہے کہ اسلام کا کوئی بھی ماننے والا اپنی بیوی کو ایک بار میں تین طلاق کسی بھی ذریعے سے (ای میل، واٹس ایپ ،ایس ایم ایس) سے دے گا تو اسے تین سال کی جیل اور جرمانہ ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک جھٹکے میں دئے جانے والی تین طلاق کو ناقابل قبول اور غیر آئینی قراردئے جانے کے بعد اس طرح کے منمانی طلاق کے معاملے سامنے آنے کے بعد اس قانون کا بنانا ضروری ہوگیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدبھی تین طلاق کے معاملہ سامنے آنے سے یہ ہی ظاہر ہورہا ہے کہ طلاق کی اس منمانی روایت نے بہت گہری جڑیں بنا لیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ اگست میں مسلم خواتین کے خلاف صدیوں سے چلی آرہی اس غیر انسانی اور ظالمانہ روایت کو غیر آئینی ٹھہراتے ہوئے سرکار کو اس سلسلہ میں قانون بنانے کا حکم دیا تھا۔ بلا شبہ تین طلاق کے معاملہ سامنے آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی تنظیم اور اسد الدین جیسے نیتا شریعت کا غلط حوالہ دیکر اپنے ہی سماج کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور کئی دیگر انجمنوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ بل لانے سے پہلے سرکار نے متعلقہ فریقین سے رائے مشورہ نہیں کیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سزا نہیں ہونی چاہئے تھی اگر مرد کو جیل ہوجائے گی تو طلاق شدہ عورت کو گزارہ بھتہ کون دے گا؟ کانگریس کی سشمتا دیو نے کہا کہ اگر اس قانون میں تین سال کی سزا کو دیکھیں تو اگر قصوروار شوہر جیل میں ہے تو متاثرہ عورت کو گزارہ بھتہ کون دے گا۔ قانونی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ شوہر کے جیل جانے کے بعد بیوی اور بچوں کے گزر بسر کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ شوہر اگر نوکری میں ہوا تو جیل جاتے ہی وہ برخاست ہوجائے گا اور اسکی تنخواہ رک جائے گی۔اگر وہ کاروباری ہوا تو بھی اس کی آمدنی پر اثر پڑے گا ایسے میں بیوی بچوں کی زندگی کیسے چلے گی؟ اسی اندیشے سے عورتیں ایسے معاملوں میں سامنے آنے سے کترا سکتی ہیں۔
عورت شوہر کی پراپرٹی سے گزارہ بھتہ لے سکتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں مجوزہ قانون میں کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ کانگریس نے اس بل کو حمایت دے کر ایک طرح سے 40 سال پرانی اپنی غلطی ہو سدھار لیا ہے۔ اگر راجیو گاندھی کی لیڈر شپ والی سرکار نے شاہ بانو کے معاملہ میں دئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹا نہیں ہوتا تو شاید اس بل کی نوبت نہیں آتی۔ اگر ووٹ بینک کی سیاست کوترجیح نہیں دی گئی ہوتی تو شاید مسلم سماج اب تک تین طلاق کی منمانی روایت کے ساتھ دیگر برائیوں سے نجات پا گیا ہوتا۔ کیا یہ اپنے آپ میں متضاد نہیں ہے۔ لیفٹ سمیت کچھ دیگر نیتا اس کو سیاسی اغراز پر مبنی بتا رہے ہیں لیکن سچائی تو یہ ہے کہ سماجی برائیوں کا خاتمہ بھی آخر اسی کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ بل کی سب سے زیادہ مخالفت ان پارٹیوں نے کی ہے جو سماجی انصاف کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں لوک سبھا میں آر جے ڈی ، بی جے ڈی کی مخالفت اور ٹی ایم سی کی خاموشی کے پیچھے سوائے ووٹوں کی سیاست کے علاوہ کوئی دوسرا نظریہ نہیں ہے۔ دراصل کٹر پنتھی ،دقیانوسی اور دیگر برائیوں کی سیاسی دوکان کسی بھی ترقی پسند قدم کی مخالفت پر نہیں چلتی۔ بلا شبہ منمانی تین طلاق کے خلاف قانون بن جانے سے محض یہ صدیوں پرانی برائی ختم ہونے والی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ عورتوں کو بے سہارا بنادینے والی برائیوں کو ختم کرنے لئے قانون کا سہارا نہیں لیا جانا چاہئے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ بل جن کے حق میں ہے انہوں نے خوشی ظاہر کی ہے تو باقی لوگوں کی مخالفت کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ستی پرتھا، جہیز اور بچیوں کی شادی جیسی برائیوں کے خلاف قانون بنائے جاچکے ہیں۔ اسی بیداری کی ضرورت تین طلاق کے چلن کو ختم کرنے کے معاملہ میں بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پر غور ہونا چاہئے کہ تین طلاق کے خلاف بننے جارہا قانون کہیں ضرورت سے زیادہ سخت نہ ہو اور درکار نتیجے ملیں گے یا نہیں ایساہم اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ اس مجوزہ قانون کی کچھ دفعات کو لیکر کچھ جائز سوال اٹھ رہے ہیں۔ بہتر ہوکہ پارلیمنٹ کی آخری مہر لگنے تک یہ مجوزہ قانون ایسے سوالوں کا باقاعدہ جواب دینے میں اہل ہوجائے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...