14 جنوری 2017

کیوں نہ ہو جوابدہ یہ غیر سرکاری انجمنیں

سپریم کورٹ کے ذریعے غیر سرکاری انجمنوں(این جی او) کو جوابدہی کے دائرے میں لانے کے لئے ان کے کھاتوں کا 31 مارچ تک آڈٹ کرانے کی ہدایت کا خیرمقدم ہے۔ سالانہ حساب کتاب نہ دینے والی این جی او صرف بلیک لسٹ میں ڈالنے کو ناکافی بتاتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو ایسی این جی او کے خلاف فوج داری یا دیوانی کا مقدمہ چلانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے حکومت سے پوچھا ہے کہ آخر غیر سرکاری انجمنوں و کمیٹیوں کے فنڈ اور ان کے استعمال کی نگرانی کے لئے اب تک کوئی ریگولیٹری سسٹم کیوں نہیں ہے؟ قسم قسم کی غیر سرکاری انجمنوں کو کہاں سے پیسہ ملتا ہے اور اسے کس طرح خرچ کرتی ہیں یہ سب یقینی بنانے والے سسٹم کا قیام بہت پہلے ہی کردیا جانا چاہئے تھا۔ یعنی اب ہر این جی او کو عوام کے پیسے کا حساب کتاب دینا ہوگا۔ دیش بھرمیں تقریباً32 لاکھ این جی او ہیں جن میں سے محض 3 لاکھ ہی اپنی بیلنس شیٹ داخل کرتی ہیں۔ ان پر نگرانی رکھنے کیلئے کوئی باقاعدہ ڈیولپ مشینری بھی نہیں ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر، جسٹس این وی رمن اور جسٹس دھنن جے چندرچوڑ کی بنچ نے ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے غبن کرنے والی این جی او کے خلاف فوجداری کا مقدمہ چلانے کا بھی حکم دیا ہے۔ حال ہی میں مرکزی وزارت داخلہ نے قریب20 ہزار غیر سرکاری انجمنوں کے غیر ممالک سے پیسہ لینے کے لائسنس کو اس لئے منسوخ کیا تھا کیونکہ وہ غیر ملکی چندہ ریگولیٹری قانون کے مختلف تقاضوں کی خلاف ورزی کر رہی تھیں۔ کیا اس بارے میں یقینی ہوا جا سکتا ہے کہ جو غیر سرکاری انجمنیں بیرونی ملک سے پیسہ نہیں لے رہی ہیں وہ اپنا کام صحیح کررہی ہیں؟ یہ سوال اس لئے کیونکہ سپریم کورٹ نے پایا کہ ایسی انجمنوں کے کھاتے کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا۔ یہ تو ایک طرح کی اندھیر گردی ہے کہ دیش میں قریب30 لاکھ غیر سرکاری انجمنیں ہیں لیکن ان میں سے مشکل سے 3 لاکھ ہی اپنے آمدو خرچ کی تفصیل داخل کرتی ہیں لیکن جنتا کے پیسو ں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کرنے والی این جی او کا یہ ایک پہلو ہے یعنی صرف این جی او ہی اس کیلئے اکیلے ذمہ دار نہیں ہے۔ اس میں چار طرح کے گٹھ جوڑ شامل ہیں، جو مل جل کر جعلسازی اور غبن کرتا ہے مثلاً مرکزی سماجی کلیان بورڈ، کپاٹ اور ضلع بلاک سطح پر کام کررہے سرکاری ادارے جنہیں عطیہ کنندہ ( ایجنسی) ادارہ کہا جاتا ہے ۔ دوسرے این جی او کے کام کاج کو مانیٹر کرنے والے، تیسرے آڈیٹر و سی اے ، چوتھا خود این جی او۔ سب سے سنگین بات یہ ہے کہ کئی غیر سرکاری انجمنیں ماحولیات اور انسانی حقوق کی حفاظت کے بہانے ترقی مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ عام طور پر مشتبہ قسم کی غیر سرکاری انجمنوں کے خلاف کوئی کارروائی اس لئے نہیں ہو پاتی کیونکہ واضح قاعدے قوانین کی کمی ہے۔
(انل نریندر)

گووا میں بھاجپا کو دوبارہ اقتدار میں آنے کی چنوتی

گووا میں 40 سیٹوں کی اسمبلی کے لئے 4 فروری کو ووٹ پڑیں گے۔ اس وقت بھاجپا 21 سیٹوں کے ساتھ سرکار میں ہے وزیر اعلی ہیں لکشمی کانت،گووا میں اس بار مقابلہ سہ رخی ہونے کا امکان ہے۔ 4 فروری کو ہونے والے اسمبلی چناؤ میں حکمراں بھاجپا، اپوزیشن کانگریس اور پہلی بار اپنی قسمت آزمانے جا رہی عام آدمی پارٹی آمنے سامنے ہوں گے۔ 2012ء کے چناؤ میں منوہر پاریکر کی قیادت میں بھاجپا نے کامیابی حاصل کی تھی۔تب مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی (ایم جی پی) کے ساتھ اس کا اتحاد تھا لیکن اب یہ گٹھ بندھن ٹوٹ گیا ہے۔ مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی نے انتخابات کے اعلان ہونے کے بعد بھاجپا اتحاد توڑ لیا ہے۔ این جی پی چیف دیپک چھب لیکر نے گووا کی گورنر مردلسنہا اور اسمبلی اسپیکر اننت ساٹھے کو اپنا خط لکھ کر اس سلسلے میں اطلاع دے دی ہے۔ ریاست میں 40 سیٹوں پر اب وہ آر ایس ایس کے سابق لیڈر سبھاش ویلنکر کی پارٹی کے ساتھ مل کر چناؤلڑے گی۔ شیو سینا کے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ چھب لیکر نے بتایا کہ پارٹی 22 سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ کانگریس پارٹی کیلئے یہ چناؤ وجود بجانے کا موقعہ ہے۔ 2012ء کے چناؤ میں 9 سیٹ کے ساتھ وہ کم از کم سطح پر پہنچ گئی تھی۔ پچھلے جھٹکے سے سبق سیکھتے ہوئے اب وہ گووا فارورڈ، راشٹروادی کانگریس پارٹی اور یونائیٹڈ گوانس پارٹی کے ساتھ تال میل کیلئے تیار ہوگئی ہے۔ اروند کیجریوال کی لیڈر شپ والی عام آدمی پارٹی نے بھی گووا کے چناوی میدان میں تال ٹھونکی ہے۔ بھاجپا اور کانگریس سے الگ رہنے والی کئی تنظیمیں و نیتا عاپ کے ساتھ جڑنے سے یہ پارٹی طاقتور بن کر ابھری ہے۔ بھاجپا سے اتحاد توڑ چکی این جی پی نے ریاست کے وزیر اعلی لکشمی کانت پارسیکر کے خلاف ماندہ اسمبلی حلقہ سے امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم جی پی نے پہلے ہی پارسیکر کی قیادت میں چناؤ لڑنے سے انکار کردیا تھا۔ سدیپ چھبلکر نے الزام لگایا کہ پارسیکر کے عہد میں ریاست 10 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ پرتگال سے آزاد ہونے کے بعد ایم جی پی نے ریاست میں پہلی بار سرکار بنائی تھی۔ ریاست کے پہلے دو وزیر اعلی بھی اسی پارٹی کے تھے۔ 18 سال تک گووا میں ایم جی پی ہی اقتدار میں تھی۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں پارٹی تین سیٹیں ہی جیت پائی تھی۔ چناؤ میں اہم اشو ہیں گووا اپنی ثقافتی پہچان بنانے کے لئے بے چین ہے۔ دوہری شہریت کا اشو بھی بڑا ہے۔ ریاست میں بگڑتی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی تشویشناک رہی ہے۔ کل ملاکر مقابلہ سخت ہے۔ بھاجپا کے لئے دوبارہ اقتدار حاصل کرنا آسان نہیں لگ رہا ہے۔
(انل نریندر)

13 جنوری 2017

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے پاک باز آنے والا نہیں ہے

پٹھانکوٹ کی طرح ایک بار پھر سال کے شروع میں ہی جموں و کشمیر میں آتنکی حملہ ہوا ہے۔اکھنور سیکٹر میں ایتوار کی رات 1 بجے دہشت گردوں نے جنرل ریزرو انجینئرنگ فورس کے کیمپ پر حملہ کرکے اس میں کام کرنے والے 3 مزدوروں کو موت کی نیند سلا دیا۔ کیمپ پر پہلے دستی گولے پھینکے گئے پھر اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں۔ وہاں کھڑی گاڑیوں اور دفتری دستاویزات میں آگ لگادی اور اندھیرے و کہرے کا فائدہ اٹھاکر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ اس وقت کیمپ میں 10 ملازم اور 10 مزدور موجود تھے۔ آتنکی حملہ میں 3 مزدورمارے گئے۔ اس سے پہلے دہشت گردوں نے جموں کے ہی نگروٹا سیکٹر میں فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا تھا جس میں دو افسر سمیت 7 جوانوں کی جان گئی۔ اسی دن سانبا ضلع میں بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک کیمپ پر بھی آتنکی حملہ ہوا تھا۔ ان دہشت گردوں نے 40 دن بعد پھر حملہ کرکے یہ جتادیا کہ ان کی سرگرمی نہ صرف بنی ہوئی ہے بلکہ شاید اور بڑھ گئی ہے۔ دہشت گردوں نے جس طرح حملہ کیا اس سے اسی اندیشے کو تقویت ملتی ہے کہ ان دہشت گردوں کے لئے ہندوستانی سرحد کی ٹوہ لینا ابھی بھی آسان ہے۔ اس سے اندرونی سکیورٹی سسٹم کے چاق چوبند ہونے پر ایک بار پھر سوال اٹھتے ہیں۔ دوسرے نوٹ بندی سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جانے کے سرکار کے دعوے پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کنٹرول لائن سے محض 2 کلو میٹر قریب بھی سکیورٹی انتظام اتنا پختہ کیوں نہیں ہے کہ آتنک وادی اتنی آسانی سے حملہ کو انجام دے رہے ہیں؟ نہ صرف حملہ ہی کرتے ہیں بلکہ حملہ کرنے کے بعد بھاگنے میں بھی کامیاب ہورہے ہیں؟ پچھلے 7 ستمبر کو فوج کی سرجیکل اسٹرائک کے بعد خوب بڑھ چڑھ کر دعوے کئے گئے تھے کہ اب دراندازی کرنے اور یہاں آکر کوئی واردات کرنے سے پہلے دہشت گرد سو بار سوچیں گے۔38 دہشت گردوں کو ڈھیر کردینے اور سرحد پار واقع دہشت گردی ڈھانچہ تباہ کردینے سے یہ بھی لگا تھا کہ اب دہشت گردوں کی طاقت بہت کم ہوگئی ہے لیکن یہ امیدیں اب ملیامیٹ ہوتی جارہی ہیں۔ حالات جو بھی ہوں اس اندیشے کو دور کیا جانا چاہئے ۔ پہلی بار یہ ہے کہ دہشت گردوں کیلئے اب بھی ہماری سرحد میں گھسنا، دوسرے اتنی آسانی سے حملہ کرنا اب بھی ممکن ہے۔ سرحد پرسکیورٹی کو ترجیح دینا اور اس کو مضبوط بنانا اس لئے ضروری ہے کیونکہ پٹھانکوٹ، اڑی اور نگروٹا میں ہوئے خطرناک آتنکی حملوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں حملے کو انجام دے سکتے ہیں۔ فوج کے کیمپوں پر حملے کے بعد بھارت سرکار کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ پاکستان کے رخ اور رویئے میں کوئی تبدیلی آنے کی امید نہیں ہے۔ ہمیں اپنا گھر پکا کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

کانگریس اور ہریش راوت کیلئے چناؤوقار کا سوال

اتراکھنڈ میں 15 فروری کو اسمبلی چناؤ کا بگل بجنے کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ کانگریس کے لئے یہ چناؤ کئی معنوں میں اہمیت کے حامل ہیں۔ پارٹی دوسری بار ریاست کی اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں برقرار رکھنے کو بے چین ہے تو اس کی سیاسی وجہ بھی ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ کانگریس کی اصلی پریشانی ریاستوں میں سمٹتے اس کے مینڈیٹ کو بچانے کی ہے۔ بھاجپا کے زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس حکمراں ریاستوں پر اپنی پکڑ بنائے رکھنے کے لئے آنے والے وقت میں مرکزی اقتدار پر اپنی دعویداری کو اور مضبوط کرنے کیلئے 5 ریاستوں میں چناؤ جیتنے کی پوری کوشش کرے گی۔ کانگریس اپنی تیاری کولیکر بیحد چوکس اور فکر مند ہے۔اس نے چناؤ لڑنے کیلئے جارحانہ کوششیں کرنے کی کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے۔ چناؤ سے پہلے مختلف جائزوں میں پیچھے چل رہی کانگریس کو اب چناوی حکمت عملی ساز پرشانت کمار نامی چمن پراش کا سہارا ہے۔ ایتوار کو پریس کانفرنس میں اس بارے میں سوال کرنے پر وزیر اعلی ہریش راوت نے پرشانت کشور کو چمن پراش بتاتے ہوئے کہا کہ بڑھتی عمر میں ایسے ٹانکوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ چناوی حکمت عملی طے کرنے کے لئے اتراکھنڈ پردیش کانگریس صدر کشور اپادھیائے اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی طرف سے مقرر چناؤ حکمت عملی ساز پرشانت کشور کے درمیان کئی ملاقاتوں کا دور ہوچکا ہے۔ وزیر اعلی ہریش راوت نے اعلان کیا کہ 14 یا15 جنوتی تک کانگریس کے سبھی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔ وہیں دوسری طرف تنظیمی طور سے مضبوط مانی جانے والی بھاجپا 5 سال پہلے گنوائے اقتدار پر قابض ہونے کے لئے ہر ممکن داؤ آزما رہی ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے تنظیمی سطح پر چلائے جارہے پروگراموں کے ذریعے پارٹی اپنے ورکروں کو حرکت میں لانے میں لگی ہوئی ہے۔ پارٹی کو تنظیمی تیاریوں کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی مرکزی سرکار پر بھی بڑا بھروسہ ہے۔ چناوی نیا کو پار لگانے میں مرکز کا بھی اہم رول رہے گا۔ بھاجپا نے جنوری کے پہلے ہفتے میں سبھی70 اسمبلی سیٹوں پر متر شکتی سمینلوں کا انعقاد کر بوتھ سطح تک جا کر ورکروں کو سرگرم کرنے کا ابھیان شروع کیا ہے۔ وزیر اعظم کے دہرہ دون میں پچھلے دنوں ہوئی ریلی میں جس طرح لوگوں کا سیلاب امڑا اس سے بھاجپا پھولی نہیں سما رہی ہے۔ اسی پروگرام میں مرکزی سرکار کی اہم ترین اسکیم 12ہزار کروڑ روپئے کی’ آل ویدرروڈ‘ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح وارانسی کو اسکین کرنا شروع کردیا تھا اسی طرح اتراکھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت بھی کیدارناتھ اسمبلی حلقہ کو اسکین کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے عہد میں راوت نے اس علاقے میں 33 دورہ کئے جن میں 28 صرف کیدارناتھ دھام کے تھے۔ بدلے حالات میں کیدارناتھ سے چناؤ لڑ کر وہ گڑھوال میں کانگریس تنظیم کو مضبوطی دے سکتے ہیں۔ اصل میں جن 10 ممبران اسمبلی نے کانگریس کا ہاتھ چھوڑا ان میں زیادہ تر گڑھوال کے ہی ہیں اس سے یہاں پارٹی تنظیم کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے جبکہ کماؤں منڈ ل میں وزیر اعلی کا اب بھی اچھا اثر مانا جارہا ہے۔ کیدارناتھ سے داؤ چلنے پر وہ گڑھوال میں کانگریس کو مضبوطی دینے کا کام کرسکتے ہیں۔ اتراکھنڈ میں دونوں پارٹیوں میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ پچھلے چناؤ میں کانگریس کی ایک سیٹ زیادہ تھی۔
(انل نریندر)

12 جنوری 2017

بی ایس ایف جوان سرحد پر بھوکے رہنے پرمجبور

سرحد پر اپنی جان کی بازی لگا رہے ہمارے بہادر جوانوں کو پیٹ بھر کھانا بھی نصیب نہیں ہورہا ہے ۔جموں وکشمیرمیں بی ایس ایف کے ایک جوان نے اپنے افسروں پر سنگین الزام لگا ئے ہیں ۔29ویں بٹالین کے جوان بہادر یادو نے اتو ار کو فیس بک پر ایک کے بعد ایک 4ویڈیو پوسٹ کئے ہیں فیس بک پر یادو کے ان ویڈ یو کو 65لا کھ بار دیکھا گیا ہے ۔اس میں تیج بہادر نے جوانوں کو خراب کھانے کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ سرحد پر جوان 11گھنٹے کی ڈیوٹی کرنے کے بعد بھی بھوکے سونے کو مجبور ہیں کیونکہ افسران راشن بیچ دیتے ہیں پہلے ویڈیو میںیادو نے بتایاکہ ہم صبح 6بجے سے شام 5بجے تک برف میں کھڑے ہوکر ڈیوٹی دیتے ہیں ۔ ہمارے حالات نہ تو میڈ یا دکھاتا ہے نہ ہی وزیر سنتا ہے کوئی سرکار آئے حالات وہی ہیں لیکن ہم سرکار پر الزام لگانا نہیں چاہتے کیونکہ وہ ہر سامان دیتی ہے لیکن دیگر افسر بیچ کر کھاجاتے ہیں ہمیں کچھ نہیں ملتا ۔ کئی بار جوان بھوکے سوتے ہیں میں وزیر اعظم سے کہنا چاہتاہوں کہ وہ اس کی جانچ کرائے ۔ دوستوں یہ ویڈیو ڈالنے کے بعد شاید میں رہوں یا نہ رہوں افسران کے ہاتھ بہت بڑے ہیں میرے ساتھ کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ ویڈ یو نمبر 2اور 3میں میں دکھایاگیا ہے کہ کس طر ح کی دال جوانوں کو دیجاتی ہے ۔ یہ ہے بی ایس ایف کی دال صرف ہلدی اور نمک نہ اس میں پیاز ہے اور نہ لہسن ،ادرک ، تڑکہ لگانے لگانے کیلئے زیرہ تک نہیں ہے جوانو ں کو 10دن سے یہی دال روٹی مل رہی ہے ۔ آپ بتائے کہ کیا کوئی جوان 10گھنٹے ڈیوٹی کرسکتا ہے ،افسران سارا سامان بازار میں فروخت کردیتے ہیں ۔چوتھے ویڈیو میں دکھایا گیا ناشتے کے بارے میں ۔ صبح کے ناشتے میں ایک جلا ہوا پراٹھااور چائے کا گلاس ہی ملتا ہے ۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے یہ الزام کتنے سچ ہیں اگر یہ سچ ہیں تو انتہائی طور پر سنگین ہیں اپنی جان کی بازی لگانے والے ہمارے بہادر جوانوں کو پیٹ بھر کھانا نہ ملے یہ ان افسران پر لعنت ہے جو میس کو دیکھتے ہیں ۔ بی ایس ایف کے افسر اپنی جان بچانے کیلئے الٹے سیدھے بہانے تیج بہادر یادو پر لگارہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ اسے کونسلنگ کی ضرورت ہے شراب نوشی افسروں سے برا برتاؤ اور ڈسپلنتوڑ نے کی اسکی عادت ہے اس کی وجہ زیادہ وقت اسے ہیڈ کواٹرمیں ہی رکھا گیا جو ویڈیو تیج بہادر نے پوسٹ کیا اس میں تو وہ برف میں ڈیوٹی دیتا ہوا دکھا ئی دے رہاہے ۔ انگریزی میں کہاوت ہے ,ڈونٹ شوٹ دا میسنجر یعنی تیج بہادر کیساہے سوال یہ نہیں سوال تو یہ ہے کہ جووہ دکھارہاہے وہ صحیح ہے یا نہیں معاملے کی جانچ کر قصور وار افسران کو سزا ملنی چاہے ۔
انل نریندر

گرگٹ کی طر ح رنگ بدلتے ملائم سنگھ یادو

تمام رسہ کشی کے بعد پیر کو آخرکار سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو نے کہہ دیا کہ چناؤ بعد اکھلیش ہی وزیر اعلی ہونگے ۔ سپا کے اس مہا دنگل میں ابھی تک سخت دکھا ئی دے رہے ملائم کی اس پلٹی سے سیاسی گلیاروں میں بحت چھڑ گئی ہے کہ یہ ان کے من کی بات ہے یا طے شدہ قلمبندکہانی ہے ؟سوال کیا جارہا ہے کہ کیا آخر سپا معاہدے کی راہ پر ہے ؟سپا میں ٹکٹوں کی تقسیم کو لیکر شروع ہوئے جھگڑے پارٹے کے بٹوارے اور چناؤ نشان تک پہنچ گئے ہیں ۔ اکھلیش کو وزیر اعلی کا چہر ہ نہ بنانے کا اعلان اسکی بڑی وجہ تھی ملائم نے پہلے ہی کہا تھا کہ وزیر اعلی کا چناؤ اسمبلی پارٹی کریگی (چناؤ نتیجہ کے بعد)اس کے بعد کہا گیا کہ سپا میں کسی کو وزیر اعلی کا چہر ہ بنانے کی روایت نہیں ہے اب انہی ملائم سنگھ یادو نے پیر کو ایسا یوٹرنرلیا کہ سیاست کے ماہر الگ الگ مطلب نکالنے پر مجبور ہوئے پارٹی دوخیموں میں بٹ گئی او رسبھی فریقین نے پیر کو الیکشن کمیشن میں اپنی اپنی باتیں اور دلیلیں رکھیں ۔ ملائم سنگھ جب لکھنؤ سے دہلی آئے تو انکا رخ بدلا ہواتھا اچانک پارٹی دفتر پہنچے اور جلد ہی جھگڑا سلجھا نے کے اشارے دئے پارٹی میں کوئی جھگڑا نہیں ہے دوسری طرف سپا کے دونوں گروپ اب ساری لڑائی چناؤ نشان سائیکل پر ہے سائیکل کا مالک طے ہوتو ان کی چناوی گاڑی آگے بڑھے گی ۔ یکم جنوری کو قومی نمائندہ سمیلن میں اکھیلش یادو کو صدر چنے جانے کے بعد سپا میں رسمی طور پر دوٹکڑے ہوگئے اب پارٹی کے دو صدر ہیں ،ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو ۔ اصلی کون صدر ہے یہ ؂ثابت ہونا ہے باپ بیٹے کے سامنے آنے سے چناؤ نشان سائیکل کو لیکر جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ دونوں ہی اپنی اپنی دلیلیں دے رہے ہیں ریاست میں 17جنوری سے پہلے مرحلے کے پولنگ کیلئے نامز دگی کا عمل شروع ؂ہوجائے گا اس سے پہلے ہی چناؤ نشان الاٹ کیاجائیگا ۔ یعنی دونوں خمیوں کے پاس بہت کم وقت بچا ہے ۔
ملائم کو نئے سرے سے اپنے امید واروں کا انتخاب کرنا ہے تو اکھلیش کو اتحاد کے بارے میں طے کرنا ہے یہ دونوں کام بہت حد تک چناؤ نشان الاٹ کرنے کے انتظار پر ہے امید ہے کہ اس ہفتہ چناؤ کمیشن کوئی فیصلہ لے لیگا ظاہر ہے کہ کسی ایک گروپ کو یہ چناؤ نشا ن ملے گا یا پھر ضبط ہوجائے گا ؟سیاست کے ماہر مانتے ہیں کہ چناؤ نشا ن ضبط ہونے کا زیادہ امکان ہے ۔ ہندوستان کے چناؤ کمیشن دونوں گروپ کی باتیں ودلیلیں سن چکاہے اس نے ابھی فیصلہ نہیں سنایا تو چناؤ نشان ضبط کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا ایسے میں دونوں گروپوں کو عارضی طور پر تسلیم کرتے ہوئے نیا چناؤ نشان الاٹ کئے جاسکتے ہیں ۔ 
(انل نریندر)

11 جنوری 2017

پرنب مکھرجی کی تشویش واجب ہے

نوٹ بندی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف بیشک ایک بڑا قدم ہے مگر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی وارننگ پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ اس قدم سے طویل المدت ملنے والے فائدے کی توقعات میں غریبوں کو ہورہی تکلیفوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتالیکن سرکار کو اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کے لئے نئے سال کے اپنے خطاب میں بصد احترام پرنب مکھرجی نے دوہرایا ہے کہ نوٹ بندی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف ایک بڑا قدم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے جزوی مندی آسکتی ہے۔ اقتصادی ترقی کے دم پر مضبوط فیصلے لے رہی مرکزی حکومت کے لئے جی ڈی پی میں اضافے کے اندازے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوٹ بندی سے دیش کو کچھ سیکٹروں میں نقصان بھی ہورہا ہے۔ سی ایس او نے رواں مالی سال کیلئے 7.1 فیصدی کی ترقی شرح کا اندازہ لگایا ہے جو کہ ایک سال پہلے 7.6 فیصدی کے مقابلے کم ہے۔ مگر ماہر اقتصادیات اور پرائیویٹ اکنامک ایجنسیاں اس اعدادو شمار سے اتفاق نہیں رکھتیں۔ ان کی مانیں تو جب حتمی طور پر اعدادو شمار آجائیں گے تو ترقی شرح کی تصویر ویسی نہیں رہے گی، جیسی بتائی جارہی ہے۔ ان سبھی کی دلیل ہے کہ جب نوٹ بندی کے اثر کو شامل نہیں کیا گیا تھا تو پھر جی ڈی پی اضافے کے اعدادو شمار صحیح کیسے ہوسکتے ہیں؟ ان ایجنسیوں کی نظر میں دیش کی ترقی شرح 6 سے 6.6 فیصدی کے درمیان رہے گی۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال کے لئے جی ڈی پی میں اضافے کے اندازے میں زیادہ تر اعدادو شمار اپریل سے اکتوبر تک ہی شامل کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ملک کی معیشت پر اس کا کیا اثر پڑا اس کا اندازہ اس میں شامل نہیں ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 9 نومبر کو 500 اور 1000 کے پرانے نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد سے ہی ماہرین اقتصادیات نے کہا تھا کہ اس قدم کا معیشت پر منفی اثر پڑے گا اور ترقی شرح میں 2 فیصدی تک ہی گراوٹ آسکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا تجزیہ ہے کہ فروری کے آخر تک ہی حالات 90 فیصد تک بہتر ہوپائیں گے۔ غریب اور محروم طبقے کے لئے دو مہینے کا وقت کافی مشکل ہوتا ہے۔ جیسا کہ صدر جمہوریہ نے کہا ہے، وہ زیادہ انتظار نہیں کرسکتے۔ اس لئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ایک ایسی پہل، جس میں ترقی کا دور رس نظریہ شامل ہو کا حصہ دار بننے سے جنتا و حاشیئے پر گئے لوگ نہ ٹوٹ پائیں۔ 
(انل نریندر)

پنجاب میں اسمبلی چناؤ کی بساط بچھ چکی ہے

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے اعلان کے بعد دیش کی نظریں سب سے زیادہ اہم ریاست اترپردیش اور پنجاب پر ٹک گئی ہیں۔ پنجاب کے لوگوں کے پاس اپنے من کی بات کہنے کے لئے چناؤ کمیشن نے 30 دن کا وقت دیا ہے۔ پنجاب میں عام طور پر اکالی۔ بھاجپا اتحاد بنام کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ عام آدمی پارٹی کے چناؤ دنگل میں کودنے کے بعد مقابلہ سہ رخی بنتا نظر آرہا ہے۔ 4 فروری کو ہونے والے اسمبلی چناؤ میں انہی تینوں کے درمیان سخت ٹکر ہوگی۔ پہلے ہم اکالی دل کی بات کرتے ہیں۔ 10 سال میں اقتدار کا سکھ اٹھا چکی شرومنی اکالی دل کے لیڈروں نے پچھلے 6 مہینوں کے دوران یہ سب کچھ کرنے کی تمام کوشش کی ہے جو انہوں نے پچھلے ساڑھے نو سال کے دوران نہیں کی تھی۔ پارٹی کی دیہی علاقوں میں مضبوط بنیاد ہے بھاجپا کے ساتھ اتحاد سے وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے کا فائدہ بھی ہے۔ ہرمندر صاحب۔ سورن مندر کا ڈیولپمنٹ سہ رخی مقابلے میں حریف ووٹوں کا امکانی بٹوارے کا بھی پارٹی کو فائدہ مل سکتا ہے۔ دوسری طرف اس اتحاد کے سامنے چنوتیاں بھی کم نہیں ہیں۔ اینٹی کمبینسی سے لڑنا ہوگا۔ نشے کا کاروبار اور نوٹ بندی کے بعد بڑھتی بے روزگاری، قانون و نظم بڑے چیلنج ہوں گے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کانگریس کی اس جنگ کی قیادت کررہے ہیں۔
نوجوت سنگھ سدھو اگر کانگریس میں شامل ہوتے ہیں تو ماحول میں کانگریس کو مضبوطی ملے گی اور اس کا مینڈیٹ بڑھے گا۔ ڈرگس کاروبار ، قانون و نظام، بے روزگاری اور نابھا جیل و پٹھانکوٹ حملے جیسے اشو پر کانگریس کے سامنے چنوتیاں کم نہیں ہیں۔ کانگریس کے مختلف گروپوں کو متحد کرنا، پارٹی نیتاؤں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا، دیہی علاقوں میں پارٹی کا اثر بڑھانا اور اقتدار مخالف ووٹروں کے بٹوارے کو روکنا ہوگا۔ کچھ چنوتیاں اکالی دل کے ساتھ نوجوت سنگھ سدھو کی تھوڑی نجی رنجش بہت گہری ہے جس کا فائدہ کانگریس کو ضرور ملے گا۔ دوسری طرف ان کی زبان عاپ پارٹی کو بھی بخشنے والی نہیں ہوگی کیونکہ سدھو نے عاپ کی کچھ ایسی حرکتیں دیکھی ہیں جس کے بعد وہ چپ نہیں رہے گا۔ عام آدمی پارٹی کو اکالی دل اور کانگریس سے ناراض لوگوں کی شخصیت کے بجائے اشوز پر مبنی سرکار کا متبادل دینے والی پارٹی کی شکل میں ابھرنے کا موقعہ ملے گا۔ 
نئی پارٹی ہونے سے جنتا میں نظام حکومت کو لیکر کسی طرح کی ناراضگی یا بے چینی نہیں ہوگی لیکن پنجاب میں تنظیم کا محدود دائرہ ہے۔ دہلی میں کیجریوال سرکار کی کارگزاری ، عاپ سے الگ ہوئے باغیوں سے بچنا ، پارٹی میں ایک بااثر چہرے کی فی الحال کمی ہے یہ ہیں کچھ چنوتیاں کیجریوال کے سامنے۔ کل ملا کر پنجاب میں اسمبلی چناؤ کی بساط بچھ چکی ہے دیکھیں چناوی کمپین کیسی رہتی ہے؟
(انل نریندر)

10 جنوری 2017

چناؤ سے 3 دن پہلے بجٹ پر اپوزیشن کا اعتراض

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ شروع ہونے کے تین دن پہلے پیش ہونے والے عام بجٹ کو لیکر سیاسی گھماسان شروع ہوچکا ہے۔ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن سے عام بجٹ کو چناؤ بعد پیش کرنے کی مانگ کی ہے جبکہ سرکار نے تاریخ بدلنے سے انکار کرتے ہوئے کہا بجٹ یکم فروری کو ہی پیش ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ایک نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ملاقات کرکے مانگ کی ہے کہ یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کی سرکاری تیاری کو روکا جائے۔ وہ مانتے ہیں یہ چناؤ ضابطہ کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس کے لئے کئی پارٹیوں نے صدر جمہوریہ کو بھی خط لکھا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ بجٹ اس وقت پیش کیا جائے گا جب دیش کی پانچ ریاستوں میں پولنگ کی تیاری چل رہی ہوگی۔ ان پارٹیوں کو ڈر ہے کہ مرکزی سرکار اس بجٹ میں عوام کو لبھانے والی پالیسیوں و اسکیموں کو اس طرح سے پیش کر سکتی ہے جس سے رائے دہندگان متاثر ہوسکیں۔ کانگریس، سپا، بسپا، ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے، جنتادل (یو) ، آر ایل ڈی کے نیتا اپنی اس مانگ کو لیکر الیکشن کمیشن گئے۔ کانگریس کے لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا کہ ہمیں بجٹ اجلاس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چناؤ کے درمیان بجٹ پیش کرنے پر اعتراض ہے۔ غور طلب ہے کہ ٹھیک پانچ سال پہلے جب یوپی ، اتراکھنڈ، پنجاب، گووا اور منی پور میں اسمبلی چناؤ کے پروگرام اعلان ہوئے تھے تب پارلیمنٹ میں حکمران اپوزیشن بھاجپا نے یوپی اے سرکار کو عام بجٹ کی تاریخ بدلنے کیلئے مجبور کردیا تھا۔ اب موجودہ اپوزیشن کانگریس کی طرح بھاجپا سرکار کیلئے مورچہ کھولتے ہوئے چناؤ کمیشن سے مداخلت کرنے کی اپیل کی تھی۔ دباؤ میں جھکتے ہوئے اس وقت کی یوپی اے سرکار نے سال2012ء میں سابقہ اعلان تاریخ یکم مارچ کی جگہ16 مارچ کو بجٹ پیش کیا تھا۔ ان کی بات میں دم ہوسکتا ہے لیکن قانونی طور سے بجٹ کو روکنا کس حد تک ممکن ہو پائے گا یہ کہنا مشکل ہے زیادہ تر ماہرین مان رہے ہیں کہ ریاستوں کے چناؤ کیلئے مرکزی بجٹ کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی کوئی مثال نہیں ہے لوک سبھا چناؤ کے معاملے میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بجٹ تو پیش کیا جانا یا روک دیا جانا ہے اس کی جگہ صرف انترم بجٹ پیش ہوتا ہے اور ایک بار جب عام چناؤ کا پروسیس ختم ہوجاتا ہے تو مکمل بجٹ پارلیمنٹ کے اندر پیش کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن پارٹی یہی روایت اسمبلی چناؤ کے معاملے میں بھی چاہتی ہیں۔ ویسے اس بار کا عام بجٹ سرکار کیلئے کافی اہم ہے۔ اس بار بجٹ کی پوری روایت کو بدلا جارہا ہے۔ بجٹ فروری کے آخری دن پیش ہونے کی بجائے مہینے کے پہلے دن ہی پیش ہوگا۔ جہاں تک لوک لبھاون پالیسیوں کا معاملہ ہے تو ہمیں نہیں لگتا اس میں زیادہ گنجائش ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے نئے سال کے موقعہ پر کئی لوک لبھاون اسکیموں کا اعلان کردیا ہے ان پر بھی اپوزیشن پارٹیوں نے اعتراض کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے دیش کے نام پیغام نہیں دیا بلکہ ایک طرح سے منی بجٹ پیش کیا ہے۔ مرکزی سرکار نے اپوزیشن پارٹیوں کے اعتراض کو دیکھتے ہوئے اٹارنی جنرل کی رائے لینا کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ چناؤ پروگراموں کے اعلان کے باوجود بجٹ پیش کرنے میں کوئی آئینی یا قانونی اڑچن نہیں ہے مگر اپوزیشن کے پارٹیوں کے اعتراض کو دیکھتے ہوئے سرکار اٹارنی جنرل سے مشورہ کرے گی اور اپنا موقف چناؤ کمیشن کے سامنے رکھے گی۔ آخری فیصلہ چناؤ کمیشن کو کرنا ہے۔
 (انل نریندر

اکھلیش کانگریس سے اتحاد کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں

یوپی میں چناؤ سے عین پہلے سماجوادی پارٹی میں رسہ کشی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ باپ ۔ بیٹے میں یہ لڑائی اگر ختم ہوجائے اور سمجھوتہ ہوجائے جس کے امکانات روز بروز گھٹتے جارہے ہیں تو اور بات ہے نہیں تو پارٹی دو گروپوں میں بٹتی نظر آرہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اکھلیش اور ملائم الگ الگ چناؤ لڑیں گے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟ سی ووٹر کے تازہ سنیپ پول کے مطابق سبھی نوجوان عمر اور ذات پات کے زیادہ تر حمایتی اکھلیش یادو کے خیمے کے ساتھ ہیں مگر اقتدار کی دوڑ میں بنے رہنے کے لئے اکھلیش کو کانگریس کا ساتھ بھی ضروری ہوگا۔ اگر کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کے ساتھ اکھلیش یادو گروپ کا تال میل ہوتا ہے تو اب بھی وہ چناؤ جیت کر سب کو چونکا سکتے ہیں۔ اس کنبہ جاتی جھگڑے نے ملائم سنگھ یادو کو بہت کمزور کردیا ہے اور ان کے روایتی ووٹروں نے بھی مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ چھوڑ کر اکھلیش کا دامن پکڑ لیا ہے۔ تازہ سروے میں اکھلیش حمایتی سپا کے پالے میں 24.9 فیصد ووٹر ہیں۔ ملائم حمایتی سپا کو 3.4فیصد لوگوں کا ہی ساتھ مل سکتا ہے۔ سروے میں کانگریس کو 5.8 لوگوں کی حمایت ملے گی۔ باقی پارٹیوں کی بات کریں تو سروے میں بھاجپا 30.2 فیصد، بسپا 24.2 فیصد نے حمایت کی ہے۔ 2014 ء کے لوک سبھا چناؤ میں سپا کو 22.4 فیصد ووٹ ملا تھا۔ کانگریس کو7.5 فیصد ووٹ ملا تھا۔ ان دونوں کو ملا کر 30 فیصد ووٹ ملا تھا۔ اگر یہی ٹرینڈ رہا تو اتحاد چناؤ جیت سکتا ہے۔ اکھلیش یادو اترپردیش کے سب سے مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں اور پورے تنازع سے سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہوا ہے۔ یادو خاندان کے جھگڑے سے دوسری پارٹیوں کے ووٹ میں کوئی خاص اضافہ ممکن نہیں دکھائی دے رہا ہے لیکن سپا میں دو گروپ ہونے اور پانچ فیصدی ووٹ کٹنے سے وہ دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔ اس معاملے سے سپا کے اندازاً ووٹ بٹنے سے اکھلیش گروپ بی جے پی سے دوسری نمبر پر آجاتا ہے لیکن کانگریس۔ آر ایل ڈی کے ساتھ آنے سے اتحاد پوری ریاست میں سب سے زیادہ ووٹ لے سکتا ہے۔ سروے کے مطابق سپا کا ووٹ کانگریس میں شفٹ ہوجائے گا لیکن کانگریس کا ووٹ سپا کو جائے گا اس میں تھوڑا شبہ ہے کیونکہ سروے کے مطابق سپا کے غیر یادو اور مسلم ووٹروں نے اشارہ دے دیا ہے کہ جھگڑے کے بعد بھی دوسری پارٹی بسپا کو ووٹ دینے کے بارے میں وہ سوچ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے18 فیصد کے قریب ووٹ ہیں اور ان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بی جے پی کو کیسے ہرایاجاسکتا ہے؟ سپا ۔ کانگریس اتحاد یا پھر بہوجن سماج پارٹی؟ ان میں سے کس کو ووٹ جا سکتا ہے۔ 
(انل نریندر)

08 جنوری 2017

کیپٹن کول نے پھر چونکایا

اپنی ٹائمنگ اور فیصلے سے حریف ٹیم کو چونکانے کا ہنر رکھنے والے کیپٹن کول مہندر سنگھ دھونی نے اس مرتبہ تو سبھی کو اپنے فیصلے سے تعجب میں ڈال دیا ہے۔ یہ تعجب نہیں تو اور کیا تھا کہ رانچی جیسے شہر سے نکل کر دیش دنیا میں اپنی بڑھیا چھاپ چھوڑنے والے دھونی نے اچانک اعلان کردیا کہ وہ ٹی ۔ٹوئنٹی اور ونڈے کی کپتانی چھوڑ رہے ہیں۔ دھونی نے آسٹریلیا کے ساتھ ٹیسٹ سیریز میں ہی ٹیسٹ کرکٹ سے الوداع کہہ دیا تھا۔ مہندر سنگھ دھونی نے ٹی۔ٹوئنٹی اور ونڈے کی کپتانی چھوڑ کر پھرثابت کردیا کہ وہ ایک ایسے سنجیدہ کھلاڑی ہیں جو اپنے لئے نہیں دیش کے لئے کھیلتے ہیں اور ٹیم انڈیا کے مفاد میں کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ہیں۔ کھیل اور یا پھر کوئی اور دیگر میدان ہو اصل لیڈر وہ ہے جو اپنے سے بھی بہتر قیادت کنندہ کو پہچان سکے اور وقت رہتے مرضی سے اپنے آپ چھوڑ دے۔ دھونی کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ آنے والا وقت وراٹ کوہلی کا ہے اور اب وقت آگیا تھا کہ وہ کپتانی چھوڑ کر کوہلی کو آگے کریں۔ ایسا نہیں تھا کہ دھونی پر کپتانی چھوڑنے کا کوئی دباؤ تھا، وہ چاہتے تو کچھ دن اور رک سکتے تھے۔ انگلینڈ کے ساتھ 15 تاریخ کو پنے میں ہونے والا پہلا ونڈے میچ بطور کپتان ان کا 200 واں میچ ہوتا۔ ظاہر ہے کہ پچھلے کچھ میچوں میں ان کا بلہ ان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اس کی تصدیق ان کا پچھلا ونڈے اور ٹی۔ ٹوئنٹی ریکارڈ کرتا ہے۔ سال2012ء سے 2016ء کے درمیان ہرسال ان کاکرکٹ رن ریٹ اوسط گرتا گیا۔سال2012ء میں جہاں اوسط 65.50 تھا جو لڑکتے ہوئے سال2016ء میں محض27.80 پر آگیا جبکہ وراٹ کوہلی ونڈے میں مسلسل کامیابی کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ سال 2016ء میں کوہلی نے10 میچ کھیلے جن میں 92.37 کی اوسط سے 739 رن بنائے۔ دھونی بہرحال ہندوستانی کرکٹ کے بدلتے خاکہ اور ایک حد تک اس کی مقبولیت کی علامت ہیں۔ ان کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ایلٹ دائرے سے باہر نکال کر عام آدمی کا کھیل بنا۔ دھونی نے فیصلہ ضمیر کی آواز سے کیا ہے۔انہیں لگتا ہے کہ یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ہے اور وہ اب دباؤ سے آزاد ہوکر کھل کر کھیل سکیں گے۔ 2019ء کے ولڈ کپ تک دیش کی سیوا کرسکیں گے۔ مہندر سنگھ دھونی نے یہاں تک پہنچنے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے۔ حال ہی میں مجھے ان کی سوانح حیات پر مبنی فلم ’ایم ۔ ایس دھونی ،دی انٹولڈ اسٹوری‘ دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے جتنی محنت اور مشقت کی یہ تمام کھلاڑیوں کے لئے مثال ہے۔ ایک شہر سے نکل کر وہ ساری دنیا میں مقبول ہوئے۔ بھارتیہ کرکٹ دھونی کی خدمات کو لمبے عرصے تک یاد رکھے گا۔ کرکٹ کو ان کے اشتراک کیلئے سرکار کو انہیں سمانت کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

سدیپ بندواپادھیائے کی گرفتاری پر واویلہ کیوں

مغربی بنگال میں مبینہ روز ویلی چٹ فنڈ گھوٹالہ میں ترنمول کانگریس کے ایم پی اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر سدیپ بندو اپادھیائے کی گرفتاری سے سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ان کو سی بی آئی نے منگل کو گرفتار کیا۔ معاملہ میں پارٹی کے ایک اور ایم پی تپسپال کی گرفتاری کے بعد یہ پہلی بار ہے جب سدیپ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ روز ویلی گروپ پچھلے دو سال سے سی بی آئی اور دیگر جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر تھا۔روز ویلی گھوٹالہ قریب6 ہزار کروڑ کا ہے جو پونجی گھوٹالوں میں سب سے بڑا ہے۔یہ شاردہ گھوٹالہ سے کم سے کم 16 گنا بڑا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق روز ویلی نے سرمایہ کاروں سے قریب17 ہزار کروڑ روپے ٹھگے۔ سی بی آئی نے اپنی ابتدائی چارج شیٹ میں روز ویلی کے چیف گوتم کٹو کو بنیادی ملزم بتایا ہے۔ گوتم کی 700 ایکڑ کی اسٹریٹ 12 ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے اس کے پاس 150 کاریں جس میں کئی لگژری کاریں شامل ہیں۔ ہندوستانی سیاست کا یہ وہ مرحلہ ہے جس میں یہ چلن عام ہوتا جارہا ہے کہ اپنی حریف پارٹیوں کے لیڈروں کے کرپشن کو بڑھا چڑھا کر پروپگنڈہ کرتے ہیں لیکن جب ان کے کسی نیتا پر کرپشن کا الزام لگتا ہے اور اسے گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کارروائی کو مرکزی سرکار کی طرف سے ٹارچر بتایا جاتا ہے۔ اس سے ناراض مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکزی سرکار پر بدلے کے جذبے سے کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے ان کے پاس ترنمول کانگریس کے دونوں لیڈروں کے خلاف پختہ ثبوت ہیں لیکن ممتا کا کہنا ہے کہ جن نیتاؤں نے نوٹ بندی کی مخالفت کی مودی سرکار انہیں سبق سکھانے کی منشا سے ایسے قدم اٹھا رہی ہے۔ کچھ دلائل کو صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ مغربی بنگال میں چٹ فنڈ کمپنیوں کی دھوکہ دھڑی پچھلی کئی دہائیوں سے چل رہی تھی۔ شاردہ گھوٹالہ میں بھی کئی نیتاؤں پر الزام لگے تھے ان میں ترنمول کے کچھ لیڈروں پر انگلی اٹھ رہی تھی۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ جب چٹ فنڈ کمپنیوں کے ذریعے چھوٹی سرمایہ کاری پر روک ہے تو یہ کمپنیاں کس کی شہ پر چل رہی تھیں۔ روز ویلی اکیلی ایک ایسی کمپنی نہیں ہے جس پر غریب لوگوں کے پیسے کی دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج ہے۔ سہارہ گروپ کے چیف کو بھی ایسا ہی گھوٹالہ کے الزام میں دو سال سے زیادہ جیل میں رہنا پڑا۔ مغربی بنگال میں ہی شاردہ گھوٹالہ سے جڑے کئی لوگوں پر قانونی شکنجہ کس رہا ہے پھر اگر سی بی آئی نے ترنمول کے کچھ لیڈروں کو اس میں شامل پایا ہے یا ان کمپنیوں کو شہ دینے میں ان کا ہاتھ دیکھا ہے تو اس جانچ کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے منصفانہ طور سے پورا ہوجانے دینے میں کسی کو کیوں پرہیز یا اعتراض ہو؟ ویسے بھی اگر سی بی آئی غلط کرتی ہے تو عدالت بیٹھی ہے۔
(انل نریندر)