Translater

06 دسمبر 2025

عمران خان زندہ ہیں!

جی ہاں عمران خان زندہ ہیں یہ دعویٰ کیا ہے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ۔بتادیں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ اندیشہ جتایاجارہا تھا کہ عمران خان کو جیل میں قتل کردیا گیا ہےاور اسے چھپایاجارہا ہے ۔عمران خان کے خاندان والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ادیال جیل میں بند عمران خان کوتقریباً ایک ماہ سے سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی عمران کو کسی سے ملنے نہیں دیاجارہا ہے۔آخر کار عمران کے کنبہ اور ان کے حمایتیوں کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے عمران خان کی بہن کو اپنے بھائی سے جیل کے اندر ملنے کی اجازت دے دی گئی ۔پی ٹی آئی کے ایک ترجمان اور ادیالہ جیل کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات چیت میں اس کی تصدیق کی ہے کہ عظمیٰ خاں کو عمران خان سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے ۔منگل کے روز جب عمران خاں کی تین بہنیں علیمہ خانم ، نورین نیازی اور عظمیٰ خاں ملاقات کے لئے ادیالہ جیل کے پاس پہنچی تو وہاں تعینات پولیس حکام نے انہیں راستے میں روک دیا تھا۔حالانکہ کچھ دیر بعد جیل حکام نے ایک افسر کے عمران خاں کی بہنوں کے پاس بھیجا اور میسج دیا کہ ملاقات کے لئے عظمیٰ خاں کے نام پر منظوری مل گئی ہے ۔ادیالہ جیل میں 20 منٹ کی ملاقات کے بعد عظمیٰ جب باہر آئیں تو انہوں نے اخبار نویسوں سے اپنے بھائی کے حال چال کے بارے میں بتایا ۔عظمیٰ خاں نے بتایا کہ وہ عمران خان بڑے غصہ میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمیں یہ جیل میں مینٹل ٹارچر کررہے ہیں سارے دن ایک کمرے میں بند رکھتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے باہر جانے دیتے ہیں۔کسی سے کوئی بات چیت کی اجازت نہیں ہے جو سب کچھ ہورہا ہے اس کے لئے پاکستانی فوج کے فوجی سی ڈی ایس عاصم منیر ذمہ دار ہیں ۔اس کے ساتھ ہی عظمیٰ خاں نے بتایا کہ ان کی بس 20منٹ کے لئے بات چیت ہو پائی اور ان کی عمران کی صحت بالکل ٹھیک ہے اس سے پہلے ان کے گھر والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں تقریباً چھ ماہ سے پہلے سابق پردھان منتری سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔سرکاری افسر نہیں چاہتے کہ عمران خاں کو کوئی بھی پیغام جیل سے باہر آئے ۔بی بی سی سے ایک انٹرویو میں عمران خاں کی بہن نورین خاں نے الزام لگایا کہ انہیں سرکاری حکام ( کو بس اس بات کی فکر ہے کہ عمران خاں کی باتیں باہر بتائی جارہی ہیں اس لئے انہوں نے ملنا ملانا پوری طرح سے بند کر دیا ہے ۔عمران کی بہنوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ کورٹ کے حکم کے مطابق ہر منگل کو اپنے بھائی سے ملنے جایاکرتی تھیں لیکن عمران سے ان کی آخری ملاقات 4 نومبر کو ہوئی تھی۔نورین خاں نے مزید یہ بھی الزام لگایا پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عمران خاں سے 9 مئی کی ذمہ داری قبول کریں کہ وہ 9 مئی کو توڑ پھوڑ کروائی تھی انہوں نے ہی اپنے لوگوں کو گولی ماری ۔نورین خاں کے مطابق عمران نے جواب دیا تھا کہ آپ سی سی ٹی وی فوٹیج نکال لیں چھاونی کے اندر چیک پوسٹ ہے فوج کی نظر میں آئے بغیر یا کیمرے میں قید ہوئے بنا یہاں اندر نہیں جاسکتا ۔گھر والوں سے ملنے کی اجازت نہ ملنے کی خبروں پر جیل کے حکام کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی امور کے مشیر ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ عمران خاں جیل میں بیٹھ کر بد امنی اور بے نظمی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے نیوز ٹی وی کو ایک پروگرام میں مانا کہ قانون ایک قیدی کو اس کے گھر والوں یا وکیلوں سے ملنے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن ایسا کوئی قانون میں نہیں لکھا ہے کہ کسی قیدی کو سرکار کے خلاف بدا منی یا بغاوت یا بد انتظامی ، تحریک یا آگ زنی کی اجازت دے ۔ادھر نورین خاں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے عمران خاں کے ساتھ کچھ کیا تو یاد رکھیں کہ وہ نا پاکستان میں رہنے کے قابل ہوں گے اور نہ ہی دنیا کے کسی کونے میں ۔ (انل نریندر)

02 دسمبر 2025

چناؤ کمیشن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں!

یہ کہنا ہے ترنمول کانگریس کے اس نمائندہ وفد کا جو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ کے ساتھ دو دن پہلے ملا تھا ۔مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ نظر ثانی پروسیس کے درمیان ، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کی سربراہی میں پارٹی کے دس ممبری نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ملاقات کی ۔اوبرائن نے میٹنگ کے بعد کہا کہ پارٹی نے چناؤ کمیشن کے سامنے پانچ سوال اٹھائے لیکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ترنمول کے ممبران کا کہنا تھا کہ اگر ایس آئی آر کا مقصد فرضی ووٹروں اور دراندازوں کا پتہ لگانا ہے تو پھر بنگال ہی کیوں ؟ ،میگھالیہ اور تریپورہ میںکیوں نہیں؟ جبکہ ان ریاستوں کی سرحدیں بھی بنگلہ دیش سے ملتی ہیں ۔حالانکہ ترنمول کانگریس ممبران پارلیمنٹ کی بات سننے کے بعد چناؤ کمیشن نے صاف کیا کہ ایس آئی آر سبھی ریاستوں میں ہونے ہے ۔ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ہم ایس آئی آر کے آئینی جواز پر سوال نہیں اٹھارہے ہیں بلکہ اس کے طریقہ پر اٹھا رہے ہیں ۔جس طریقہ سے جلد بازی میں اسے نافذ کیا جارہا ہے اس پر اعتراض ہے ۔ایس آئی آر کے لئے انہوں نے وقت بڑھانے کے لئے مانگ کی تھی ۔ترنمول کانگریس کے نمائندہ وفد نے جب جمعہ کو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ سے ملاقات کی تو انہوں نے کھل کر الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے سبب کم سے کم چالیس لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں ہم نے پانچ سوال اٹھائے اور چناؤ کمیشن نے ایک گھنٹے تک بنا رکے ہم سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں روکا گیا لیکن ہمارے پانچ سوالوں سے کسی کا جواب نہیں ملا ۔لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے بتایا کہ نمائندہ وفد نے چیف الیکشن کمشنر نے مل کر انہیں چالیس ایسے لوگوں کی فہرست دی جن کی موت مبینہ طور پر ایس آئی آر پروسیس سے وابستہ تھی ۔حالانکہ انہون نے کہا چناؤ کمیشن نے انہیں صرف الزام کہہ کر خارج کر دیا ۔ممبران پارلیمنٹ کی چناؤ کمیشن سے قریب 40 منٹ میں کلیان بنرجی ،مہوا موئترا ،ممتا بالا ٹھاکر نے اپنی باتیں رکھیں ۔اور جو کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ ڈالا انہوں نے کہا اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے ایک گھنٹے بغیر رکے ان سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں ٹوکا گیا لیکن ہمیں ہمارے پانچ سوالوں میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں ملا ۔ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کو لیکر تنازعہ بڑھتا جارہا ہے ٹی ایم سی ممبران کے سوالوں کا تشفی بخش جواب نہ دینا اس پروسیس کے جواز اور منصفانہ پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ایس آئی آر سے جڑے شک و شبہات کا دور نہ ہونا اچھا اشارنہیں ہے ۔ایس آئی آر کے سیاسی پہلو کو سمجھا جاسکتا ہے ۔خاص کر بنگال میں جہاں بی جے پی اور ترنمول کی سخت مقابلہ ہونے کا اندازہ ہے لیکن اس سے جڑی تشویشات کو بھی مسترد نہیں کر سکتے ۔ایس آئی آر کے جواز پر کوئی سوال نہیں ہے اور نہ ہی چناؤ کمیشن کے اختیار پر ۔سپریم کورٹ بھی یہ بات کہہ چکا ہے حالانکہ اپوزیشن کی تشویشات کو دور کرنا ہی چناؤ کمیشن کی ہی ذمہ داری ہے ۔اپوزیشن کو اگر ادارے کو نہ صرف ان کا تسلی بخش جواب دینا ہوگا ۔بلکہ آزادانہ اور منصفانہ چناؤ پروسیس بھی اپنانا ہوگا ۔ (انل نریندر)

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...