06 جون 2015

پاکستان مسئلوں کے پرامن حل میں یقین نہیں رکھتا

ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر تلا ہوا ہے۔ تازہ مثال ہے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحل شریف کا بیان کہ کشمیر (بھارت کے 1947 میں )ہوئی تقسیم کا نا مکمل ایجنڈا ہے۔ بدھوار کو جنرل راحل شریف نے ہندوستان کا نام لئے بغیر کہا کچھ لوگ پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں 8 جون کو گلگت،بلتستان میں چناؤ کروانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ بھارت کی صورتحال سے سب واقف ہیں گلگت اور بلتستان سمیت پورا جموں و کشمیر ریاست بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے پھر بھی گلگت ۔ بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورمنٹ آرڈر کے ذریعے وہاں ہونے والا چناؤ پاکستان کے ذریعے خطے میں زبردستی قبضے کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش ہے۔ گلگت اور بلتستان پر بھارت کا اعتراض مناسب ہے اور ڈپلومیسی کی بھی ضرورت ہے ۔ یہاں پاکستان کا ناجائز کنٹرول ہے اقوام متحدہ بھی یہی مانتا ہے لیکن پاکستان ایسے قدم اٹھا رہا ہے جس سے بھارت کو ڈپلومیٹک چنوتی دے اور اقوام متحدہ کو ٹھینگا دکھائے۔ اہم یہ نہیں کہ کیا بھارت پاکستان پر کوئی کارروائی کرے گا؟ گلگت ۔ بلتستان کو پہلے پاکستان میں ناردرن ایریا کہا جاتا تھا۔ اس کی سرحدیں پاکستان، چین،افغانستان سے لگتی ہیں۔ یہاں پہلی بار 2009ء میں چناؤ ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ بھی اسے منفی خطہ مانتا ہے۔ پاکستان اسے الگ انتظامی ریاست بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ جنرل راحل شریف کے بیان کو وزیر خارجہ سشما سوراج کے بیان کا رد عمل بھی مانا جاسکتا ہے۔ اسے ایتوار کو وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان سے بات چیت کی شرط رکھی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت ۔ پاکستان کے ساتھ ہر تنازعے کوپر امن بات چیت سے حل کرنا چاہتا ہے، لیکن بات چیت سیدھے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونی چاہئے۔ یعنی اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت سے پہلے تشدد اور دہشت گردی سے دور رہتے ہوئے پاکستان کو معقول ماحول بنانا ہوگا۔ اگر پاکستان ایمانداری سے بہتر رشتے بنانا چاہتا ہوتا تو وہ اس پر مثبت رد عمل ظاہر کرتا۔مگر وہاں سے جواب فوج کے سربراہ کے ذریعے آیا، جس میں وہی گھسا پٹا جملہ دوہرایا گیا جو اصل میں بھارت پاکستان کے درمیان ماضی گذشتہ میں ہوئی چار اشو اور لگاتارجاری کشیدگی رشتوں کی جڑ میں رہا ہے۔بھارت اور پاکستان کا جب بٹوارہ ہوا تھا تو جموں وکشمیر کے مہاراج نے بھارت میں ملنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد جموں و کشمیر کی عوام نے جمہوری عمل کا حصہ بن کر مسلسل ہندوستانی آئین میں اپنی وفاداری جتائی تھی۔ تو پھر پاکستان کو کیوں لگتا ہے کشمیر اس کا حصہ ہے۔ یہی نہیں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کا ایک حصہ اس نے چین کو عطیہ میں دے دیا ہے۔ آج پاکستان اور چین پکے دوست بنے ہوئے ہیں۔پاکستان پرامن طور پر مسئلوں کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور وقتاً فوقتاً الٹے سیدھے بیان دے کر کشیدگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
(انل نریندر)

ملاوٹ کرنے والا سماج کیلئے خطرہ ہے

دنیا میں ایسے بہت کم ملک ہوں گے جہاں کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ ہوتی ہو۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا دیش ان میں سے ہے جہاں کھانے پینے میں ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ملاوٹ کرنے والے سماج کے لئے خطرہ ہیں اور یہ مسئلہ سنگین تشویش کا باعث ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میں ضلع عدالت کے سی ایم ایم گورو راؤ نے ملاوٹ خوری کے معاملے میں تین لوگوں کو ڈھائی برس قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے سزا سنانے کے دوران کہا غذائی ملاوٹ انسداد ایکٹ کو اس مقصد کے لئے لاگو کیا گیا تھا کہ سماج میں ملاوٹ خوری کو ختم کیا جاسکے اور لوگوں کو اصلی غذائی سامان مہیا کرایا جاسکے۔ اس قانون کا مقصد چمک دمک کاروبار کی آڑ میں بے قصور گراہکوں کی صحت کو خطرے میں ڈالنے سے بچایا جاسکے۔عدالت نے کہا کہ قصورواروں کا جرم سنگین غلطی کی علامت ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے عدالت نے ملزمان کو30 مہینے کی قید کی سزا اور سبھی پر 10-10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ دہلی سرکار ان ملاوٹ خوروں کے خلاف فورڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ ایکٹ میں ترمیم کرنے جارہی ہے۔ ترمیم کی تجویز اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔ ملاوٹ سے متعلق جرائم پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ افسر و میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سطح کا آفسر جوڈیشیل افسر ہوگا۔ عام جنتا کو اصلی سامان دستیاب کرانے کے لئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ملاوٹ اور گمراہ کرنے والے اشتہارات اور غذائی سامان کی پیداوار میں صفائی کا خیال نہ رکھنے اور غیر محفوظ غذائی مصنوعات وغیرہ کے معاملے میں سزا و جرمانے کو سخت بنانے کا فیصلہ لیا ہے۔ آنے والے اسمبلی چناؤ میں فوڈ سیفی اینڈ اسٹینڈرڈ ایکٹ 2005ء میں ترمیم کی تجویز پیش کی جائے گی۔ اس ترمیم کے تحت جہاں اس قانون کی مختلف دفعات کے تحت جرمانہ بڑھایا جائے گا وہیں ملاوٹ کے سبب ہیلتھ کو نقصان پر عمر قید کی سزا کی سہولت رکھی جائے گی۔ ایکٹ کی دفعہ 53 کے تحت اشتہارات کے ذریعے گمراہ کرنے پر موجودہ 10 لاکھ روپے جرمانے کی جگہ اب مال کی لاگت سے تین گنا جرمانے کی سہولت رکھی جائے گی۔ غذائی مصنوعات کی تیاریوں میں صاف صفائی کا خیال نہ رکھنے پر قانون کی فعہ56 کے تحت ابھی تک 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی سہولت ہے لیکن اب بڑھا کر یہ 5 لاکھ روپے تک کیا جائے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ دہلی سرکار نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سختی ہوگی۔ قانون کو اور مضبوط کیا جائے گا۔ دہلی سرکار کی تجویز کے مطابق ملاوٹ خوری کو سنگین معاملوں میں عمر قید کی سزا کی سہولت رکھی جائے گی اور موجودہ غذائی سکیورٹی اسٹینڈرڈ ایکٹ میں ترمیم کی جائے۔ اس مسودے کے تحت قصوروار پائے جانے پر کم سے کم5 برس ار زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہوگی لیکن ایک بات کا خیال رکھا جائے کہ زبردست کسی بے قصور شخص کو نہ پھنسایا جائے۔ بازاروں میں بکنے والی مصنوعات پر بھی یہ قانون نافذ ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

05 جون 2015

پہلے ہی سے پریشان کسان پر کمزور مانسون کی مار

خراب موسم کی پیشگوئی نے کسانوں کو ایک بار پھر پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ پچھلے مانسون کی بے رخی اور ربیع موسم میں بے موسم کی بارش کی مار کے بعد اب خراب مانسون کی خبر نے کسانوں کی مشکلیں اور بڑھا دی ہیں۔ اپنی آمد کی مقررہ تاریخ سے پانچ دن لیٹ ہونے کے بعد اب مانسون کے کمزور رہنے کا بھی اندیشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے ترمیم شدہ پہلے سے پیشگوئی میں عام سے کم اور قلیل مدت اوسط کی 88 فیصد بارش ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔ کمزور مانسون سے دیش کے کچھ حصوں میں خوشک سالی ہو سکتی ہے۔ بے موسم بارش کی مار جھیل چکے ذرعی سیکٹر کا بحران اس برس مانسون کے کمزور رہنے کے اندازے نے اور بڑھا دیا ہے۔ عموماً پہلی جون کو مانسون کیرل کے ساحل سے ٹکراتا ہے اور جون کے آخر تک دیش کے بڑے حصوں میں اس کی آمد ہوجاتی ہے۔ اس مرتبہ اس کے آنے میں تاخیر تو ہو ہی چکی ہے محکمہ موسمیات نے اس برس مانسون کے اپنے پہلے کے 93 فیصدی بارش کے اندازے کو بدلتے ہوئے اب صرف 88 فیصدی بارش کا ترمیمی اندازہ جاری کیا ہے جس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ذرعی سیکٹر کے سامنے کس طرح کی چنوتیاں آنے والی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ بحر ہند میں النینو مضبوط ہو رہا ہے۔ اس سے دیش کے کئی علاقوں میں خوشک سالی کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اپریل میں محکمے نے جو پیشگوئی جاری کی تھی اس میں النینو پیدا ہونے کا امکان محض50 فیصدی مانا گیا تھا اب وہ 90 فیصدی ہے۔ النینو کے سبب پرشانت مہا ساگر میں جس جگہ سے مانسونی ہوائیں چلتی ہیں وہاں سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اس سے ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں اوربارش سے پیداوار گھٹے گی۔ اس سے کھانے پینے کی چیزیں مہنگے ہونے کا امکان ہے۔ باندھو میں پانی گھٹے گا جس سے بجلی پیداوار پر بھی اثر پڑے گا اور زمینی پانی کی سطح زیادہ گھٹے گی اور زمین میں پانی جمع نہیں ہو پائے گا۔ مرکزی سرکار کمزور مانسون سے نمٹنے کیلئے 580 ضلعوں میں ہنگامی اسکیموں کے ساتھ تیار ہے۔وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے یہ جانکاردیتے ہوئے بتایا کہ سرکار کے پاس کسی بھی کمی سے نمٹنے کے لئے گیہوں ،چاول کا ٹھیک ٹھاک اسٹاک ہے۔ سنگھ نے کہا کہ ہم نے اپریل سے ہی ہنگامی پلان بنانا شروع کردیا تھا۔ دہلی ، اترپردیش، ہریانہ اور راجستھان جیسی ریاستوں میں کسانوں پردوہری مار پڑے گی۔ بے موسم بارش اور ژالہ باری کے سبب ان کی ربیع کی فصل کو پہلے ہی کافی نقصان ہو چکا ہے اور اب بارش کم ہوئی تو اس کا اثر دھان، کپاس، گنا اور سویا بین جیسی فصلوں کی پیداوار پر پڑے گا۔ ذراعت سیکٹر کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس پر دیش کی دو تہائی آبادی منحصر ہے۔لہٰذا ذراعت پر کسی بھی طرح کے بحران کا اثر چوطرفہ ہوتا ہے۔ پہلے سے ہی دبے ہوئے کسانوں کو اب دوہری مار پڑسکتی ہے۔ بھگوان سے پرارتھنا کی جاتی ہے کہ محکمہ موسیات کی پیشگوئی غلط ثابت ہو۔
(انل نریندر)

میگی تنازعہ اور امیتابھ، مادھوری اور پریتی زنٹا

مقرر پیمانے سے زیادہ ایم ایس جی (سیسے ) کی مقدار پائے جانے کے بعد تنازعات میں آئی میگی نوڈلز کی جانچ کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔ مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ وہ سبھی ریاستوں میں میگی کے نمونوں کی جانچ کروا رہا ہے اور اگر اس میں کسی بھی طرح کے قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی تو سخت کارروائی ہوگی۔ مرکز نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ اگر میگی کے اشتہار گمراہ کرنے والے پائے جاتے ہیں تو اس کے برانڈ امبیسڈروں پر بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ میگی بنانے والی کمپنی نیسلے انڈیا پر فوڈ سکیورٹی پیمانوں کو مبینہ طور پر نظرانداز کرنے کا الزام ہے۔’ ماں کی خوشیوں کی ریسی پی میگی‘ کے ہیلتھی ہونے کے دعوؤں پر مچا واویلا ایک بڑے بونڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ نیسلے انڈیا کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے راجدھانی دہلی میں جہاں میگی نوڈلز کی بکری پر15 دن کیلئے پابندی لگادی گئی ہے وہیں فوج نے اپنے جوانوں کو میگی سے بچنے کی صلاح دی ہے۔ کئی ریاستوں میں اب میگی نوڈلز کی جانچ شروع ہوگئی ہے۔ بہار کی ایک عدالت نے منگلوار کو میگی کے برانڈ امبیسڈر امیتابھ بچن، اداکارہ مادھوری دیکشت اور پریتی زنٹا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ضرورت پڑنے پر انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں میگی کے نمونے فوڈ سکیورٹی اسٹینڈرڈ کے مطابق نہیں پائے گئے۔ کیرل حکومت نے ریاست میں اپنی خوردہ دوکانوں سے میگی ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ ہریانہ اور کرناٹک نے جانچ کے لئے اس کے نمونے لئے ہیں۔ مغربی بنگال سرکار نے اس پر غور کرنے کے لئے میٹنگ بلائی ہے۔ اس درمیان مرکزی وزیر خوراک رام ولاس پاسوان نے میگی تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ایک نیا قانون لانے پر کام کررہی ہے۔ اس میں ضروری چیزوں و غذائی سامان میں صارفین سے دھوکہ دھڑی کرنے والوں اور ان کے گمراہ کن اشتہار کرنے والوں کے خلاف عمر قید جیسی سخت سزا کی سہولت ہوگی۔ دیش بھر میں میگی تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ ایف ڈی اے نے میگی کے کئی پیکٹ میں لیڈ (سیسے)کی مقدار عام ضرورت سے زیادہ پائی گئی تھی اس کی آنچ امیتابھ بچن، مادھوری اور پریتی زنٹا پر بھی پڑی ہے۔ اس پورے تنازعے پر امیتابھ بچن نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور اپنے اشتہار کو لیکر کچھ زیادہ ہی چوکس رہتے ہیں اور اپنے بچاؤ کے لئے کنٹریکٹ میں ایک اسپیشل کلاس بھی رکھتے ہیں۔ اس تنازعے کی وجہ سے اترپردیش کے بارہ بنکی کی ایک عدالت میں نیسلے انڈیا کے خلاف کیس دائر کیا گیا ہے۔ امیتابھ نے یہ بھی کہا جب آپ ایک سیلیبریٹی ہوتے ہیں تو آپ کے تنازعے میں پھنسنے کے بھی امکان بڑھ جاتے ہیں۔ امیتابھ کے مطابق میگی بنانے والی کمپنی نیسلے انڈیا سے وہ بات کرچکے ہیں۔ دوسری طرف میگی نوڈلز بنانے والی کمپنی نیسلے انڈیا نے دعوی کیا ہے کہ اس نے نمونوں کی جانچ کمپنی کی لیباریٹری کے ساتھ ہی باہر بھی کروائی ہے اور پروڈکٹ کھانے کے لئے محفوظ پایا گیا ہے۔
(انل نریندر)

04 جون 2015

ایسے بے حس حکام کو سزادیں ہریش راوت

ہمارے دیش میں کچھ افسروں کا کردار اتنا گر گیا ہے کہ کسی بھی ٹریجڈی کا یہ اپنا فائدہ اٹھانے کا موقعہ نکال لیتے ہیں۔ قریب دو سال پہلے اتراکھنڈ کے کیدارناتھ میں آئی تباہی خوفناک سانحات میں سے ایک تھی جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ بہت سے لوگ لاپتہ ہوگئے۔ کئی دیہات اور قصبوں کا نقشہ ہی مٹ گیا۔ریاست کی معیشت تباہ ہوگئی۔ ایسی ایک ٹریجڈی کے بعد راحت رسانی اور بازآبادکاری اور تعمیر نو کے کام کے عزم کے علاوہ سنجیدگی بھی دکھانے کی توقع کرتا ہے۔ جب2013ء میں اتراکھنڈ میں آئے تباہ کن سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں تھا وہیں سیلاب راحت رسانی کے کاموں کی نگرانی میں لگے ریاستی حکومت کے افسران نے روزانہ ہزاروں روپے کا بسلری پانی پیاجبکہ سیلاب متاثرین دانے دانے کو محتاج تھے اور یہ افسر ہوٹل میں بیٹھ کر مٹن ، چاپ ،چکن، دودھ ،پنیر، گلاب جامن کھاتے ہوئے راحت اور بچاؤ کے کام کی نگرانی میں مصروف تھے۔آر ٹی آئی کے ذریعے ہوئے اس انکشاف کے مطابق حکام کے ہوٹل میں ٹھہرنے کی مدت 16 جون 2013ء کو باڑھ آنے سے پہلے دکھائی گئی ہے۔آدھا لیٹر دودھ کی قیمت194 روپے دکھائی گئی ہے، جبکہ بکرے کا گوشت، چکن، انڈے، گلاب جامن جیسی چیزیں بھی بازار کے دام سے بہت اونچی شرحوں پر خریدی دکھائی گئی ہیں۔ ایسی بڑی ٹریجڈی کے بعد راحت اور باز آبادکاری اور تعمیر نو کے عزم کے علاوہ حساسیت برتنے کا بھی تقاضہ ہوتا ہے لیکن تباہی کی دوسری برسی سے پہلے ایک آر ٹی آئی کے ذریعے یہ بات سامنے آئی جو چونکانے والی ہے۔ ہمارے طریقہ کار کلچر میں کرپشن نئی چیز نہیں ہے۔ سرکاری کام کے کلچر میں تو اور بھی نہیں لیکن جب سیلاب سے تباہ کاری کے درمیان پھنسے بھکت اور دور دراز علاقوں سے آئے لوگوں کو بچانے اور ان کے درد کو محسوس کرنے کی ضرورت تھی تب بھی کچھ افسر موج مستی اور بلوں کی جعلسازی بھی مصروف تھے تو اس سے صرف ان کے کرپٹ ہونے کا ہی نہیں بلکہ بے حس ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ جو رقم متاثرین کے کھانے کے لئے بھیجی گئی تھی اس سے بھی ان افسران نے اپنی دعوت کا انتظام کیا۔ اترا کھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت نے پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس گھوٹالے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ریاستی انفورمیشن کمشنر انل شرما ایک آر ٹی آئی درخواست دہندہ کی جانب سے پیش کئے گئے دستاویزوں پر سماعت کی۔ دستاویزوں سے پتہ چلا ہے کہ جب لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لالے پڑے ہوئے تھے یہ افسر موج مستی کررہے تھے۔ چکن ، میٹ کھانے میں مصروف تھے۔ الزامات پر نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی نے چیف سکریٹری سے کہا ہے کہ وہ معاملے کی جانچ کریں اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ حکام نے آدھے لیٹر دودھ کی قیمت 194 روپے دکھائی اور اس ہوٹل میں جہاں وہ رکے تھے کمرے کا کرایہ 7 ہزار روپے یومیہ تھا اور ان افسران نے مٹن ، چکن اور گلاب جامن جیسے ذائقے دار کھانوں کا لطف اٹھایا۔ یہ ایک بیحد سنگین معاملہ ہے۔ کرپٹ افسران کو سزا دے کر ہی ریاستی حکومت اپنی ساکھ پر لگے داغ سے نجات پا سکتی ہے۔
(انل نریندر)

مہنگائی سے پریشان جنتا پر اب سروس ٹیکس کی مار

بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا چناؤ میں کرپشن ، کالی کمائی کے علاوہ مہنگائی کو بھی بڑا اشو بنایا تھا۔ اس کا پارٹی کو فائدہ بھی ملا اور نریندر مودی کی رہنمائی میں پارٹی زبردست اکثریت سے برسر اقتدار آئی۔ مودی سرکار نے اپنا ایک سال پورا ہونے پر جن کارناموں کا دعوی کیا ان میں مہنگائی پر کنٹرول پانا بھی ایک اشو ہے لیکن زرمبادلہ کم ہونے کی خاص وجہ اندرونی تو اتنی نہیں جتنا بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے داموں میں آئی گراوٹ سے رہی لیکن سرکار کا ایک سال پوراہوتے ہی مہنگائی پھر سے دستک دینے لگی ہے۔ وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے سروس ٹیکس میں اضافے کی جو تجویز بجٹ میں پیش کی تھی وہ یکم جون سے لاگو ہوگئی ہے۔ پہلے سروس ٹیکس 12فیصدی تھا۔ تعلیم اور سب ٹیکس کو ملا کر یہ12.36 فیصدی بیٹھتا تھا اب یہ 14 فیصدی ہوگیا ہے۔ پیر کو ریل و ہوائی کرایوں سمیت تمام خدمات کے لئے زیادہ بل بھرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ پہلی جون سے سروس ٹیکس کی بڑھی شرحیں لاگو ہونے سے نہ صرف ریلوے کے فرسٹ کلاس اور ایئر کنڈیشن کلاس کے کرائے بڑھ جائیں گے بلکہ ہوٹل ریستوراں کے بلوں، ٹیلیفون ،بجلی و دوا کے دام بڑھ جائیں گے۔ بیمہ کی قسط، کریڈٹ کارڈ میں بینک چارج سبھی سہولیات کے لئے زیادہ جیب ڈھیلی کرنی ہوگی۔ سروس ٹیکس بڑھنے سے ریل مال بھاڑے میں بھی 0.5 فیصدی کا اضافہ ہوگا۔ موجودہ وقت میں اے سی فرسٹ کلاس کے ریل کرائے اور مال بھاڑے میں 3.708 فیصد سروس ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ 1 جون سے یہ4.2 فیصد ہوجائے گا۔ کوریر سروس اور ایپ بیسٹ کیب سروس ، بیوٹی پارلر، سیلون میں بھی مساج ، پلاسٹک بیگ ، بوتل بند پانی، موسیقی پروگرام وغیرہ سب مہنگے ہوجائیں گے۔ ان خدمات کے مہنگے ہونے سے جب مال بھاڑا بڑھے گا تو لازمی بات ہے کہ تقریباً ہر چیز مہنگے ہونے کا اندیشہ ہے۔ پہلے جن سروسز پر سروس ٹیکس نہیں دیا جاتا تھا اب ان پر دینا ہوگا۔ ایک چھوٹی سی نامناسب فہرست کو چھوڑ کر سروس ٹیکس سبھی خدمات پر لگتا ہے اس لئے اس اضافے کی تکلیف تمام صارفین کو محسوس ہوگی۔ پردیش کانگریس (راجستھان ) کے نیتا سچن پائلٹ نے اس اضافے کو مہنگائی سے بے حال عوام پر سرکارکی طرف سے چوطرفہ مہنگائی کی مار قرار دیا ہے۔ پائلٹ نے ایتوار کو ایک بیان جاری کر کہا کہ بھاجپا سرکار نے ایک برس پورا ہونے پر جنتا کو سوغات کی شکل میں سبھی چیزوں کو مہنگائی کا تحفہ دیا ہے۔ سروس ٹیکس میں 2 فیصد اضافہ ہونے سے سب کچھ 5 سے50 روپے تک مہنگا ہوجائے گا۔ سرکاری خسارے کو بھرنے کے لئے عوام سے زبردستی وصولی کے راستے نکال رہی ہے۔ اچھاہوتا کہ سرکار پیٹرو مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر ہوئی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو دیتی لیکن سرکار نے پیٹرو مصنوعات پر پروڈکشن ٹیکس بڑھا کر اپنا خزانہ بھرنے کا راستہ نکال لیا ہے۔ انہوں نے کہا سروس ٹیکس بڑھانے سے کھانا پینا مہنگا ہونے کے ساتھ جنتا کے لئے کمیونی کیشن ، ٹرانسپورٹ اور تفریح کے وسائل بھی مہنگے ہوجائیں گے۔
(انل نریندر)

03 جون 2015

خوف کے سائے میں پاکستان میں کرکٹ

چھ سال بعد کسی کرکٹ ٹیم نے پاکستان جانے کی ہمت دکھائی ہے۔ پاکستان دورہ پر آئی پہلی ٹیم زمبابوے کی سکیورٹی میں میزبانوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ مہمان ٹیم کوہائی زمرے کی سکیورٹی دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود دوسرے ونڈے کے دوران جمعہ کے روز قذافی اسٹیڈیم کے باہر ہوئے دہشت گردانہ حملے نے نہ صرف سکیورٹی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی بلکہ خطرے کی گھنٹی پھر سے بجا دی ہے۔ یہ شکر ہے کہ زمبابوے نے آخری و ن ڈے میچ کھیلنے اور دورہ پورا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس حملے نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی امیدوں کو ضرور دھکا پہنچایا جو زمبابوے دورہ کے کامیاب ہونے کے بعد نئی ٹیموں کو دعوت دینے کا پلان بنا رہا تھا۔اس حملے نے چھ سال پرانے زخموں کو ہرا کردیا جب مارچ2009 ء میں سری لنکائی ٹیم پر بندوقچیوں نے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں کئی سکیورٹی جوان مارے گئے تھے اور سری لنکا ٹیم کے کئی کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔ سری لنکا ٹیم فوراً اپنے وطن لوٹ گئی تھی بلکہ چھ سالوں میں سکیورٹی خطرے کے پیش نظر کسی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا تھا۔ پاکستان میں دورہ پر آئی کرکٹ ٹیم پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔3 مارچ 2009ء کو لاہور میں جاری ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن قزافی اسٹیم کے پاس سری لنکائی ٹیم کی بس پر ہوئے آتنکی حملے میں کئی کھلاڑی اور افسر شدید زخمی ہوئے تھے اور کئی جوان مارے گئے تھے۔ نتیجتاً دورہ منسوخ کیا گیا تھا اور ٹیم اپنے وطن لوٹ گئی تھی۔ مئی2002ء میں نیوزی لینڈ ٹیم اپنے ہوٹل کے باہر ہوئے فدائین حمل کے بعد فوراً وطن لوٹ گئی تھی۔ 2011ء میں ورلڈ کپ میں بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان بھی میزبان تھا لیکن سکیورٹی اسباب کے چلتے پاکستان کو میزبانی گنوانی پڑی تھی۔ ان حملوں کے بعد پاکستان اپنی میزبانی میں ہونے والے میچ متحدہ عرب امارات میں منعقد کرتا رہا ہے کیونکہ آئی سی سی اور دوسرے لائف ممبرپاکستان کو سکیورٹی کی نظر سے خطرے بھرا مانتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے گھریلو میچ بھی متحدہ عرب امارات میں کھیلنے پڑ رہے ہیں۔ زمبابوے کا دورہ پاکستان کے لئے بڑی راحت کی سانس لے کر آیا۔ حالانکہ دورہ سے پہلے کراچی میں ہوئے آتنک وادی حملے کے بعد ایک بار تو زمبابوے نے بھی دورہ کو لیکر آنا کانی کی تھی لیکن بعد میں زمبابوے ٹیم راضی ہو گئی تھی۔ یہ دورہ اگر آتنکی حملے سے اچھوتا رہتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ بڑے جوش سے دیگر ملکوں کو بھی دعوت دے سکتا تھا لیکن اتنی سکیورٹی کی بیچ تازہ آتنکی حملے نے پھر دیگر دیشوں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ پی سی بی وزیر پرویز راشد نے ٹی وی پر کہا کہ پولی جوان کی بہادری اور چوکسی سے خودکش حملہ آور اسٹیڈیم کے باہری سکیورٹی گھیرے کو توڑنے میں ناکام رہا۔ راشد کے بیان سے پولیس حکام کے اس جھوٹ پرسے پردہ اٹھ گیا جس میں انہوں نے دھماکے کے بعد کہا تھا یہ دھماکہ ٹرانسفارمر میں ہوا تھا۔ انتظامیہ کو ڈر تھا کہ آتنکی حملے سے اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچ جائے گی اس لے پی سی بی نے فوراً بیان جاری کردیا کہ یہ دھماکہ بجلی کے ٹرانسفارمر میں ہوا تھا۔
(انل نریندر)

ون رینک ون پنشن کا پیچیدہ معاملہ

ون رینک ون پنشن کا مسئلہ چناؤ کے موقعہ پر ہی گرم ہوجاتا ہے اور بعد میں حکومت ٹال مٹول کرنے لگتی ہے۔ لیکن اس بار سابق فوجیوں نے این ڈی اے سرکار سے سیدھا سوال پوچھا ہے کہ چناؤ تقریروں میں جو وعدے کئے گئے تھے کیا وہ محض ووٹ کے لئے تھے؟ چناؤ کمپین کے دوران صرف این ڈی اے نے ہی نہیں بلکہ یوپی اے کے لیڈروں نے بھی ون رینک ون پنشن پر بڑھ چڑھ کر وعدے کئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اس سلسلے میں وعدہ کیا تھا لیکن ایک سال بعد بھی کچھ نہیں ہونے پر سابق فوجیوں میں بہت ناراضگی ہے۔ انہوں نے اس سے متعلق ایک مکمل میعاد بتائے جانے کی مانگ کی ہے۔ پہلے بتادیں کہ ون رینک ون پنشن آخر کیاہے؟ ون رینک ون پنشن کا مطلب ہے کہ کوئی فوجی کسی بھی سال ریٹائرڈ ہوا ہو اسے موجودہ وقت میں ریٹائرڈ فوجی کے برابر پنشن ملنی چاہئے۔ لیکن فی الحال 1995ء میں ریٹائرڈ ہوئے ایک میجر جنرل کو 30350 روپے پنشن ملتی ہے، وہیں 2000 کے بعد ریٹائرہوئے میجر جنرل کو پنشن 38500 روپے ملتی ہے۔ اسی طرح 2003 میں ریٹائر ہوئے ایک کرنل کی پنشن 26150 روپے ہے جبکہ اس سال ریٹائر ہوئے کرنل کی پنشن 34000 روپے ہوگی۔ چھ سال پہلے سپریم کورٹ نے سرکار کو ہدایت دی تھی کہ سابق فوجیوں کیلئے ون رینک ون پنشن کا اصول لاگو کیا جائے۔ اس سال فروری میں کورٹ نے پھر کہا کہ تین مہینے کے اندر اگر ون رینک ون پنشن لاگو نہیں ہوا تو اس کا مطلب عدالت کی توہین ہوگی۔ دیش بھر میں تقریباً 25 لاکھ سابق فوجی ہیں اسے لاگو کرنے میں سالانہ مزید خرچ 8300 کروڑ روپے کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ پارلیمانی چناؤ سے پہلے یوپی اے سرکار کے ذریعے پیش بجٹ میں سرکار نے اس اسکیم کو نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے لئے صرف500 کروڑ روپے ہی الاٹ ہوئے تھے جس سے بڑھی ہوئی پنشن کی ادائیگی نہیں ہوسکتی تھی۔ اب موجودہ وزیر دفاع منوہر پریکر نے کہا کہ ان کی وزارت میں سبھی خانہ پوری پوری کرلی ہیں اور اسے نافذ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا جائزہ وزارت داخلہ لے رہی ہے۔ 8300 کروڑ روپے کے علاوہ خرچ سے سرکار کا ڈیفنس بجٹ بگڑنے لگے گا۔ سرکار کی پریشانی یہ ہے کہ اتنی زیادہ رقم کا انتظام کہاں سے کرے؟ وزیر اعظم نے سابق فوجیوں سے صبر کرنے کی اپیل کی ہے اور اس پرعمل کرنے کے لئے مہلت مانگی ہے۔
ریڈیو پر ’من کی بات‘ پروگرام میں مودی نے کہا کہ انہوں نے خود اسکیم کو لاگو کرنے کا جوانوں سے وعدہ کیا تھا اب یہ ذمہ داری سرکار کی ہے اور ہم ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس مسئلے کو لیکر سرکار پر حملہ آور اپوزیشن پر جوابی حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا سیاسی روٹیاں سینکنے والے اپنا کام کرتے رہیں سرکار فوجیوں کے مفاد میں کام کرتی رہے گی۔ پچھلے40 برسوں میں اس میں صرف مسائل ہی جوڑے گئے۔گذشتہ40 سال میں اس معاملے کو بیحد پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے قبول کیا کہ وہ اس معاملے کو جتنا آسان مانتے تھے اتنا نہیں۔ ناراض سابق فوجیوں نے اسکیم کے نفاذ میں تاخیر کو لیکر 4 جون کو اپنے مجوزہ احتجاجی مظاہرے کو جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔
(انل نریندر)

02 جون 2015

زراعت،کسانوں کی حالت و سمت بدلنے کیلے مودی کی پہل

کسانوں کی ترقی کیلئے مضبوطی سے پیروی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے منگلوار کو کہا کہ ان کی ترقی کے بغیر دیش آگے نہیں بڑھ سکتا اور فصل پیداوار 50 فیصدی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی سرکار کا ایک سال پورا ہونے کے موقعے پر دور درشن کے کسان چینل کا آغاز کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ دور درشن کے 24 گھنٹے کے کسان چینل کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس چینل کا آغاز شاید ٹی وی چینلوں کی بھیڑ میں ایک اور چینل کی تعداد بڑھانا بھر نہیں ہے۔ سرکار کا یہ قدم ترقی کی دوڑ میں پچھڑ رہے دیہی ہندوستان اور وہاں کے باشندے کسانوں کو ترقی کی مکھیہ دھارا میں لانے کی اچھی کوشش مانی جاسکتی ہے۔ جہاں پارٹی کے کئی لیڈروں نے کھیتی ،کسانوں کو بڑھاوا دینے اور کسانوں کے مفادات کا خیال رکھنے پر زور دیا جارہا ہے وہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے دوردرشن کے کسان چینل کا آغاز کرتے ہوئے زرعی سیکٹر میں تبدیلی کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی طرز زندگی سے متاثر ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے عہد کو پورا کرنے کی سمت میں یہ اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ 70فیصد دیہی آبادی کو نظر انداز کر ترقی یافتہ بھارت کا تصور کرنا بے معنی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کھیتی کسانی جدید ترین سازو سامان کی تکنیک کے استعمال کو بڑھاوا دینے کی سخت ضرورت ہے۔ 67 سال کے آزاد بھارت کی سیاست میں جتنا شور کسانوں کی بھلائی کو لیکر ہوا ہے اتنا شاید کبھی اور کسی اشو پر نہیں ہوا ہو۔ آج بھی سڑک سے پارلیمنٹ تک سب سے زیادہ ابال گاؤں ، کسان اور کھیتی باڑی کو لیکر ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نیا چینل سرووتم کرشی اور تکنیک و متعلقہ مسائل کے بارے میں کسانوں کو جانکاری مہیا کرائے گا۔ مودی نے اس بات پر بھی دکھ جتایا کہ موجودہ سسٹم میں کسانوں کو خود اپنا بچاؤ کرنا پڑ رہا ہے اور اس سیکٹر کو زندہ اور تیز رفتار بنانے کی ضرورت ہے۔ بیج،کرنسی اور کھاد سمیت مختلف سیکٹروں کے ماہرین کے ساتھ کیوں نہیں آسکتے تاکہ کسانوں کی مدد کی جاسکے اور پیداوار بڑھائی جاسکے۔ زرعی برادری کافی بڑھی ہے اور اگر ہمیں بھارت کو آگے لے جانا ہے تو ہمیں گاؤں کو آگے لے جانا ہوگا۔ دیش اپنی خوردنی تیل و دالوں کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے آج بھی باہر سے سامان مانگانے پر منحصر ہے۔ کسان ضرورت کے مطابق پیداوار کو یقینی بنائیں تاکہ 2022ء تک گھریلو مانگ کو پورا کیا جاسکے، جب بھارت آزادی کے 75 برس پورے ہونے کا جشن منائے گا۔ مودی نے کہا کہ پہلی بار کسانوں کی بہبود کیلئے 24 گھنٹے کا کسان چینل لا کر سرکار کھیتی کی سمت اور حالت بدلنے والی اطلاعات کو سیدھے کسانوں تک پہنچانے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ جس سے موسم، تکنیک اور تحقیق تک کسانوں کی پہنچ ہو سکے گی۔ سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کا وہ نعرہ’’جے جوان جے کسان‘‘ پھر سے تازہ ہوگیا ہے اور زراعت پر نئے سرے سے زور دینے سے کسان کی حالت بدلے گی اور اسے اقتصادی فائدہ ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔
(انل نریندر)

آئی آئی ٹی پر راہل اور اسمرتی میں ٹکراؤ

آئی آئی ٹی۔ مدراس کی جانب سے طالبعلموں کے ایک چھوٹے سے گروپ امبیدکر پریر اسٹڈی سرکل (اے پی ایس سی) پر پابندی لگانے کے معاملے میں جمعہ کے روز کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور وزیر انسانی وسائل ترقی محترمہ اسمرتی ایرانی کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔ اس معاملے نے بڑی سیاسی لڑائی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ راہل نے ٹوئٹر پر لکھا مودی سرکار کی تنقید کرنے کے لئے آئی آئی ٹی طالب علم گروپ پر پابندی ، آگے کیا ؟ دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا اظہار خیال کی آزادی ہمارا حق ہے۔ نا اتفاقی اور بحث کو دبانے کی کسی کوشش کے خلاف ہم لڑیں گے۔ اس سے پہلے کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی نے اسمرتی ایرانی کی رہائشگاہ کے باہر مظاہرہ بھی کیا اور جم کر نعرے بازی بھی کی۔ محترمہ ایرانی نے پلٹ وار کرتے ہوئے انہیں تعلیم سمیت انتظامیہ کے اشو پر بحث کرنے کی چنوتی بھی دے دی اور ان پر این ایس یو آئی کے پیچھے کھڑے ہوکر اپنی لڑائی لڑنے کا الزام لگایا۔ آسام میں اسمرتی ایرانی نے آئی آئی ٹی پر کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے صاف کہہ دیا تھا کہ اسٹوڈنٹ گروپ نے کچھ خانہ پوری کی تعمیل نہیں کی اور انہیں پتہ تھا کہ کارروائی ہوگی۔ وہیں ان کی وزارت نے کہا ہم نے کسی شکایت کو ادارے کو بھیجا تھا، کارروائی اس نے قواعد کے تحت کی ہے۔ اس پرے معاملے میں کہیں بھی وزارت کی مداخلت نہیں ہے۔ وزارت انسانی وسائل ترقی کو ملی ایک عام شکایت میں کہا گیا تھا کہ آئی ٹی آئی مدراس کے طالبعلموں کا گروپ امبیڈکر پریر اسٹڈی سرکل (اے پی ایس ایس) گؤ ماس پر پابندی اور مرکزی سرکار کی پالیسیوں پر طالبعلموں کو ورغلا رہا ہے۔ شکایت کے ساتھ ایک پرچہ بھی بھیجا گیا تھا جس میں پروفیسر آر ۔وی۔ گوئل کی تقریر کا ایک حصہ تھا اس میں مودی سرکار کو کارپوریٹ کی سرکار بتایا گیا تھا۔ کئی ممبران اسمبلی کی تنقید کی گئی تھی۔ یہ بحث 14 اپریل کو دوبارہ کرائی گئی تھی۔ وزارت نے اس شکایت پر 15 مئی کو آئی آئی ٹی کو کارروائی کیلئے خط لکھاتھا۔ آئی آئی ٹی نے 24 مئی کو اس تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔ امبیڈکر پریر اسٹڈی سرکل کے چیف ابھینو سوریہ کا کہنا ہے کہ آئین سرکار اور اس کی پالیسیوں کی تنقید کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ ہمیں اپنا موقف رکھنے کا موقعہ نہیں دیا گیا۔ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ اپنے لوگوں سے کہئے کہ ڈرانے کی یہ حکمت عملی او امیٹھی میں آزما چکے ہیں۔ وہ لوگ مجھے لوک سبھا چناؤ کے دوران بھی نہیں ڈرا سکے، اب بھی نہیں ڈرا پائیں گے۔ این ایس یو آئی کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کی جائے۔ کانگریس نائب صدر کو بحث کی چنوتی دیتے ہوئے کہا کہ مجھے وقت اور جگہ بتائیں۔ میں سرکار کے بارے میں کسی بھی اشو پر بحث کرنے کو تیار ہوں۔ ادھر ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر رام مورتی نے کہا کہ کوئی بھی طالبعلم تنظیم باقاعدہ اجازت کے بغیر آئی آئی ٹی مدراس کے نام کا استعمال اپنی سرگرمیوں کے لئے نہیں کرسکتی۔یہ گروپ اپنی میٹنگوں میں گائڈ لائنس کی خلاف ورزی کررہا تھا۔
(انل نریندر)

31 مئی 2015

موسم کے دورنگ:میدانوں میں لو کا قہر، پہاڑوں میں برفباری

موسم کے عجیب وغریب رنگ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ میدانوں میں لو کا قہر جاری ہے تو پہاڑوں میں برفباری ہورہی ہے۔ وادی کشمیر اور ہماچل میں پچھلے دنوں میدانی علاقوں میں بارش ہوئی اور پہاڑوں میں برف گرنے سے ٹھنڈ بڑھ گئی ہے۔ کشمیر وادی کو لداخ سے جوڑنے والی قومی شاہراہ چٹانے کھسکنے اور تازہ برفباری کے بعدبند کرنی پڑی۔ ہماچل پردیش کے لاہل اسپیتی کی پہاڑیوں پر برفباری ہورہی ہے اس سے وادی کا درجہ حرارت گر گیا ہے۔ کیلونگ میں 3 سینٹی میٹر برف گری ہے۔ کالپا و کننور میں 18 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔تازہ بارش اور برفباری سے پہاڑوں میں ٹھنڈک پھر سے لوٹ آئی ہے۔ شمالی بھارت کے کئی حصوں میں زبردست گرمی پڑ رہی ہے۔ دہلی میں پچھلے تین دنوں سے درجہ حرارت 45 ڈگری کے نیچے نہیں گیا۔ آنے والے دنوں میں بھی گرم ہوائیں چلیں گی۔ گرمی سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ دیش بھر میں گرمی کی وجہ سے 18 سے زائد افراد کی موت ہوچکی ہے۔ گرم ہواؤں کے تھپیڑوں سے بڑھی گرمی سے لوگ بے حال ہورہے ہیں۔ گرمی کی سب سے زیادہ مار جھیل رہیں ساؤتھ کی ریاستوں تلنگانہ، آندھرا پردیش میں پچھلے 15 روز میں سب سے زیادہ موتیں درج کی گئیں۔ وہیں لو اور گرم ہواؤں نے اڑیسہ سے لیکر راجستھان، جھارکھنڈ سے لیکر اترپردیش اور پنجاب تک کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔مئی کے مہینے میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچنا عام بات ہے لیکن کئی جگہ درجہ حرارت اوسط سے پانچ ڈگری سیلسیس زیادہ درج کیا گیا ہے۔ یہی نہیں راجدھانی کے دہلی پالم علاقے میں تو درجہ حرارت 46 ڈگری اور الہ آباد میں 48 ڈگری کو چھو چکا ہے۔ اس سے پہلے 2010ء میں گرمی کا قہر دیکھاگیا تھا جب امریکہ اور فرانس سے لیکر چین تک اس سے ہلکان ہوگئے تھے۔
اسی برس ہندوستان میں بھی قریب ڈھائی سو افراد کی زبردست گرمی سے موت ہوئی تھی۔ اس کے مقابلے تو اس مرتبہ کہیں زیادہ جان لیوا ثابت ہورہی ہے گرمی۔ گلوبل وارمنگ کے تمام مباحثوں کے درمیان یہ کڑوی سچائی ہے کہ آج بھی اپنے دیش میں گرمی سے بچنے کیخانہ پوری اقدامات کے علاوہ کوئی سسٹم نہیں ہے۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ لو کا شکار ہونے والوں میں عام طور پر غریب اور مزدور طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے لئے روٹی روزی کے انتظام کیلئے گھر سے باہر نکلنا مجبوری ہوتی ہے۔ بھلے دھوپ اور گرمی جان لیوا سطح تک ہو ۔ ایک وقت تھا جب سڑکوں کے کنارے پینے کے پانی کے لئے سرکاری انتظامات کئے جاتے تھے۔ لوگ اپنی سطح پر بھی ٹھنڈے پانی کا پیاؤ لگایا کرتے تھے۔ لیکن آج شہروں کی سڑکوں پر چھاؤں کے لئے پیڑ دیکھنے کو نہیں ملتے۔ بغیر پیسے خرچ کئے پیاس بجھانا مشکل ہے۔ پانی کو خود سرکاروں نے آہستہ آہستہ بازار کے حوالے کردیا ہے جسے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ گرمی میں لوگوں کا لو کی زد میں آنا تعجب کی بات نہیں رہ گئی ہے۔ اس سال بے تحاشہ گرمی جھیلنے کیلئے لوگ مجبور ہیں کیونکہ 2015ء تاریخ کا سب سے گرم سال ثابت ہوگا۔
(انل نریندر)

فیفا حکام پر کروڑوں ڈالر رشوت لینے کا الزام

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کی ساکھ پر بدھوار کو داغ لگ گیا۔ سوئٹزرلینڈ کے زیورخ شہر میں جب فیفا کے نئے چیئرمین کے چناؤ کی تیاری چل رہی تھی تب اس ادارے کے کئی سینئر افسران کو پولیس نے کرپشن میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اس خبر نے پوری دنیا میں سنسنی پھیلا دی۔ حالانکہ فٹبال کھیل پہلے بھی کئی بار سوالات کے گھیرے میں آچکا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ کھیل کی دنیا کیلئے بدنما داغ ہوتا جارہا ہے۔ سازش اور کرپشن کے الزام میں سوئٹزر لینڈ کی زیورخ پولیس نے بدھوار کو صبح سویرے ایک عالیشان ہوٹل پر چھاپہ مار کر بین الاقوامی فٹبال مہا کمبھ(فیفا) کے سات افسران کو گرفتار کرلیا۔ ان پر 10 کروڑ ڈالر (6 ارب 40 کروڑ روپے) رشوت لینے کا الزام ہے۔ گرفتار لوگوں میں فیفا کے وائس چیئرمین بھی شامل ہیں۔ کل 14 افراد پر سازش اور کرپشن کے الزامات ہیں جن میں 9فیفا افسران ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت انصاف نے کہا ہے کہ امریکی حکام کی اپیل پر فیفا کے سات افسران کو 1990 کی دہائی کے آغاز سے لیکر موجودہ وقت تک رشوت لینے اور اس کے بدلے میں اپنے مفادات کی تکمیل کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔ ان افسران کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی جب ایک دن بعد جمعرات کو یہاں فیفا کی سالانہ کانفرنس شروع ہونے والی تھی۔ زیورخ کے اس عالیشان ہوٹل پر پولیس کارروائی کے ساتھ فیفا کے ہیڈ کوارٹر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ اسٹیٹ فلوریڈا کے میامی میں سی او این سی اے ایف ہیڈ کوارٹر پر بھی تلاشی آپریشن چلایاگیا۔ سوئٹزرلینڈ سرکار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فیفا سے وابستہ حکام کروڑوں ڈالر سے زیادہ کی ادائیگی کے پلان میں ملوث پائے گئے ہیں۔اس کے بدلے میں مانا جارہا ہے کہ انہیں لاطینی امریکہ میں ہونے والے فٹبال ٹورنامنٹ سے وابستہ میڈیا، مارکیٹنگ اور اسپانسرشپ رائٹ ملے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان الزامات کی تیاریاں امریکہ میں کی گئیں اور ادائیگی امریکی بینکوں کے ذریعے کی گئی۔ امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے حال اور ماضی گذشتہ ملا کر کل 9 فیفا حکام اور امریکی اسپارٹس کمپنیوں سے وابستہ 5 لوگوں کے خلاف 15 کروڑ ڈالر کے کرپشن کے مقدمے درج کئے ہیں۔ ان 14 میں سے 6 نے اپنا گناہ بھی قبول کرلیا ہے۔ایف بی آئی جانچ کی تفصیل دلچسپ ہے۔کس بے شرمی سے 2010ء کا ورلڈ کپ ساؤتھ افریقہ کو دینے کے لئے رشوت مانگی گئی تھی۔ کس طرح ایک افسر نے فیفا کے پیسوں سے ایک کریبیائی جزیرے میں وسیع اسٹیڈیم بنوایااور پھر اسے اپنے نام کراکر اس کو پارٹیوں کے لئے کرائے پر اٹھا رہا ہے۔ ویسے ایف بی آئی کے اس انکشاف کا ایک سفارتی پہلو بھی ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ تماشہ اس لئے کھڑا کررہا ہے تاکہ 2016ء کا ورلڈ کپ انعقاد روس سے چھن جائے اور کسی اور دیش کو دے دیا جائے۔ اس انکشاف سے تمام دنیا کے فٹبال شائقین دکھی ہیں۔
(انل نریندر)