Translater
15 نومبر 2025
یہ ڈاکٹرس آف ڈیتھ !
راجدھانی کے اسکولوں اور اسپتالوں کے آتنکی خطرے سے متعلق کئی سرکاری عمارتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھرے ای میل 30 اپریل 2024 سے مسلسل آرہے ہیں ۔اس وجہ سے ڈیڑھ سال سے دہلی این سی آر میں دہشت کا ماحول بناہوا ہے ۔لیکن مرکزی جانچ ایجنسیوں سے لے کر خفیہ ایجنسیاں اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائیں ۔اچانک پیر کو 10 نومبر کی شام لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے پاس زوردار دھماکہ نے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ۔یہ 14 سال بعد راجدھانی میں ہوا بڑا بم دھماکہ تھا ۔یہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی زبردست ناکامی تھی ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ یہ دھماکہ پیر کو فرید آباد کے پاس ایک کشمیری ڈاکٹر کے کرائے کے مکان سے 360 کلو گرام امونیم نائیٹریٹ اور اے کے 47ر ائفل سمیت ہتھیار برآمد ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہوا ۔دراصل دیش بھر میں 15 دن تک چلی کاروائی کے ذریعے جموں وکشمیر پولیس نے جیش محمد اور انصار غزوة الہند سے وابستہ ایک آتنکی سازش کا پردہ فاش کیا جس میں کئی آتنکی سازش جس میں ڈاکٹر سمیت 8 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ان سے 2900 کلو دھماکو سامان ضبط کیا گیا ۔اس کے تار کشمیر ،ہریانہ ،اتر پردیش تک جڑے ہوئے ہیں ۔اس سے صاف ہوتا ہے کہ دیش بھر میں کئی آتنکی سرگرم ہیں جو دہشت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔دہلی میں پیر کی شام جو دھماکہ ہوا اس میں 12 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دھماکہ کو انجام دینے والا جہادی ذہنیت کا ایک ڈاکٹر ہے جموں وکشمیر پولیس نے ہریانہ پولیس کے ساتھ مل کر فرید آباد کے فتح پر تانگا گاو¿ں میں داکٹر مزمل شکیل کے ذریعے کرائے پر لئے گئے دو گھروں پر چھاپہ ماری کے دوران 2900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا سامان بھی ضبط کیا تھا۔باوجود اس کے شام کو ہی لال قلعہ میں بلاسٹ ہو گیا ۔ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ ٹیرر ماڈیولس کو ڈاکٹر س آف ڈیتھ کہا اس معاملے کی کہانی پہلے ہی لکھ چکے تھے یا پھر اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد بدلہ لینے کے لئے اس بلاسٹ کی پلاننگ کی گئی کیوں کہ کار میں سوار پلوامہ کا ڈاکٹر عمر محمد بھی اسی سازش کا حصہ بتایاجارہا ہے ۔حالانکہ معاملے پر ابھی کھل کر کچھ نہیں بول رہا ہے ۔اب سرکار نے بھی یہ مانا ہے کہ یہ ایک آتنکی حملہ تھا جس کے تار جیش محمد سے جڑتے ہیں۔جتنی مقدار میں دھماکو سامان برآمد ہوا ہے اس سے صاف تھا اس کی سازش کچھ بڑا کرنے کی تھی جس طرح عمر نے کار کو لال قلعہ کی پارکنگ میں گھنٹوں کھڑا رکھا اور پھر لال قلعہ کے جین مندر کے پاس بلاسٹ ہو گیا ایسے میں وہاں کی سیکورٹی انتظام پر بھی سوال کھڑے ہورہے ہیں۔کیوں کہ اتنی سرکشا ہی فرید آباد میں دھماکہ ہوا تھا ۔باوجود اس کے بعد لال قلعہ پر سیکورٹی انتظام کا یہ حال تھا ۔کہ باہر گاڑیاں کھڑی تھیں اور آتنک کا چہرہ اب اور زیادہ پراسرار اور خوفناک ہوتاجارہا ہے ۔سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ سادگی کا نقاب اوڑھے یہ چہرے آپ کے آس پاس ہی سرگرم ہیں کہ تھوڑی سی لاپرواہی ہوئی تو یہ جرائم پیشہ بھی اپنا شکار بنانے میں دیر نہیں کریں گے ۔فرید آباد میں دھماکو سامان کی برآمدگی اور دہلی میں لال قلعہ کے پاس ہوئے دھماکہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ دیش آتنکی کی نئی پودکٹر پنتھی نظریہ کی اکڑ میں ڈوبی ہے۔ڈاکٹروں سے پوچھ تاچھ آتنکی نیٹورک میں دیش کے کئی حصوں میں قہر برپانے کی خوفناک سازش رچی تھی ۔سہارنپور کے مشہور ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر عادل کی ایک ماہ کی چٹھی پر تھا اور اس دوران پوسٹر لگانے میں چوک ہی دیش کی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے اہم کڑی بنی۔دراصل جموں وکشمیر کے آننت ناگ میں جیش محمد کے حمایت میں دھمکی بھرے پوسٹر لگاتے وقت ڈاکٹر عدیل ،مولانا عرفان کے ساتھ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا تھا ۔اسی فوٹیج کی بنیاد پر سری نگر پولیس نے پہلے مولانا کو حراست میں لیا اور پھر ڈاکٹر عادل تک پہنچی ۔دہلی این سی آر اور سہارنپور میں سرگرم دہشت گردوں کے ڈاکٹر گروہ کے خطرناک منصوبوں کا انکشاف حیران کرنے والا ہے ۔ظاہر ہے کہ اس حادثہ کا اثر دہلی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے دیش کے اتحاد اور امن کے لئے خطرہ ہے ۔قصورواروں کو سزا یقینی کرنے کی سمت میں جانچ ایجنسیاں سرکار تو اپنا کام کررہی ہیں لیکن لوگوں کو بھی چوکس رہنا ہوگا اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوراً اطلاع دینے کے لئے الرٹ رہنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
13 نومبر 2025
عاصم منیر کو تاناشاہ بنانے کی راہ پر !
پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکمرانی سے بھری ہوئی ہے ۔یہاں چنی ہوئی حکومت تھوڑا وقت کے لئے چلتی ہے اور پھر کوئی نہ کوئی جنرل حکومت کا تختہ پلٹ دیتا ہے ۔تازہ مثال پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہی لے لو پاکستان میں شہباز شریف کی سرکار بھارت کے آپریشن سندھور سے سبق لیتے ہوئے آئین میں ترمیم کی تیاری میں ہے ۔جس میں فوج کےچیف عاصم منیر کو سی ڈی ایف بنانے کا پلان ہے ۔اس سے ان کے اختیارات آئینی سے بڑھ جائیں گے ۔پاکستان کی شہباز شریف نے لگتا ہے کہ ایک بار پھر اپنے چیف مارشل عاصم منیر کو اقتدار کی چوٹی پر پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔8 نومبر کو پارلیمنٹ میں پیش 27 آئینی ترمیم بل کے ذریعے سیکورٹی فورسز کے چیف آف اسٹاف ڈیفنس نامی ایک نیا طاقتور عہدہ نکالا ہے ۔سیدھے منیر کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے ۔لگتا ہے یہ ترقی مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہوئی چار روزہ لڑائی کے بعد ملے فیلڈ مارشل کے اعزاز کے ٹھیک چھ ماہ بعد آرہا ہے ۔لیکن سوال اٹھتا ہے دہشت گردی کے مبینہ سرپرست منیر کو یہ دہری مہربانی آخر کیوں ؟ کیا مئی کی لڑائی ہی وہ کارنامہ ہے ۔یاپھر پاکستان کے اندرونی عدم استحکام کی صورتحال اور فوجی تاناشاہی کو مضبوط کرنے کی سازش ؟ بین الاقوامی سطح پر منیر کو اثامہ باللادین ان سوٹ کہا جاتا ہے اور اب یہ ترقی کے دہرے چہرے ایک طرف دہشت گردی اسپانسر اور دوسری طرف علاقائی عدم استحکام کی اصلیت اجاگر کررہی ہے ۔آئینی ترمیم منیر کو کمان کوآئینی پٹری ، لیکن جمہوریت پر قانون منتری اعظم نظیر تارڑن نے کابینہ کی منظوری کے بعد سینٹ میں پیش کئے گئے اس بل میں آئین کی سیکشن 243میں وسیع تبدیلی کی تجویز ہے ۔جو مسلح افوا ج کی کمان کے ڈھانچے کو پوری طرح نئے سرے سے تشکیل نو کرنے کی ۔یہ 27 ویں آئینی ترمیم بل پاکستان کے آئین میں ایک بڑی تبدیلی لانے والا مجوزہ بھی شامل ہے ۔جس کے تحت سیکورٹی فورسز کے چیف کا عہدہ باقاعدہ طور سے فوج کے سربراہان کو سونپا جائے گا ۔انہیں تاحیات فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا جائے گا ۔اگر یہ بل پاس ہوا تو فوج کے چیف عاصم منیر تاحیات فیلڈ مارشل کے عہدے پر بنے رہیں گے ۔حالانکہ اس کا اپوزیشن پرزور مخالفت کررہی ہے ۔پاکستان سرکارکا دعویٰ ہے یہ تبدیلی دیش کی دفاعی ضروریات اور فوجی کمان کو جدید بنانے کے لئے کیاجارہا ہے ۔پاکستان نے سی ڈی ایف کا جو مسودہ پیش کیا ہے وہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف آرمی (سی ڈی ایس) کے خاکے کی چوری کی ہے ۔مجلس وحدت مسلمین پارٹی کے چیف علامہ رضا ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان نے جمہوری ادارے پنگو ہو چکے ہیں ۔قوم کو مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے ۔
(انل نریندر)
11 نومبر 2025
بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ !
پولنگ کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو ہوئی بمپر پولنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ ۔64.46 فیصد پولنگ بتارہی ہے کہ یہاں کے جمہوری اصولوں کی کتنی اہمیت ہے ۔اگر کئی پولنگ مراکز پر لائٹ نہ جاتی اور کئی مقامات پر ای وی ایم خرابی کی شکایتیں نہیں آتیں تو یہ فیصد دو تین فیصد اور بڑھ جاتا ۔پولنگ میں جنتا کی ساجھیداری زیادہ ہونے کا مطلب صاف ہے کہ بھارت میں ابھی بھی جمہوریت زندہ ہے ۔اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ عوام سیاست سے مایوس نہیں ہے۔جمہوریت میں ایسا ہی ہونا چاہیے ۔سال 2025 کے بہار اسمبلی چناو¿ کے پہلے مرحلے کی 121 سیٹوں پر جمعرات کو پہلی بار کے مقابلے 31 لاکھ 81 ہزار 885 زیادہ ووٹ پڑے ۔بہار کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) ونود سنگھ گنیال نے بتایا کہ ووٹر بیدار ، ووٹر لسٹ کی صفائی اور خواتین ،نوجوان اور بزرگ ووٹروں کے جوش کی وجہ سے ووٹ فیصد بڑھانے میں معاون بنا۔انہوں نے امید جتائی کہ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں بھی ووٹروں کا جوش بڑھ چڑھ کر ووٹ کرے گا ۔سی ای سی نے کہا کہ بہار میں دیش کو راہ دکھائی ہے پہلے مرحلے میں مہا گٹھ بندھن کے سی ایم عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو اور ڈپٹی وزیراعلیٰ وجے کمار سنہا ، سمراٹ چودھری سمیت کئی بڑے لیڈروں کی قسمت داو¿ پر لگی ہے ۔اس مرحلے میں بہار میں دو دہائیوں سے بر سر اقتدار نتیش کمار یا ان کی جگہ کوئی اور اس دور کے چناو¿ میں ایک بڑی بحث کا اشو رہا ۔حالیہ چناو¿ میں یہ سوال اتنی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہیں پوچھا گیا ۔جنتاجو بھی فیصلے لے گی وہ ریاست کی سماجی ،سیاسی سمت طے کرے گی۔سب سے مثبت بات یہ رہی کہ بہار کی عوام نے اس بات کو سمجھا اور 2020 کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد زیادہ ووٹ دیا ۔بہار کے 18 اضلاع میں پھیلی 121 سیٹوں کے لئے ریکارڈ پولنگ پر دونوں اتحادی لیڈر ورکروں کے ذریعے تجزیہ کرنے میں لگے ہیں ۔دونوں ہی طرف سے حالانکہ جیت کے دعوے پہلے ہی کر دیے گئے ہیں ۔این ڈی اے نیتا بمپر ووٹنگ کو خواتین ووٹروں کے معجزے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں تو مہا گٹھ بندھن اپنے لئے بہتر مان رہا ہے ۔پولنگ مراکز پر خواتین ووٹروں کی لمبی قطاریں نظر آنے کے بعد این ڈی اے میں کہا جارہا ہے یہ سی ایم نتیش کمار کے ذریعے خواتین روزگار یوجنا کے ذریعے ایک کروڑ چالیس لاکھ عورتوں کو دیے گئے 10-10 ہزار روپے کے بعد پیدا بھروسہ کے لئے وہ اٹھ رہے ہیں ۔سی ایم کی یہ اسکیم آگے بھی جاری رہنی ہے ۔اور اس کے علاوہ پی ایم مودی کی مرکزی حکومت کے ذریعے کئے جارہے کاموں پر بھی بھروسہ کا ووٹ ہے ۔لیکن آر جے ڈی سے تیجسوی یادو کے ذریعے سرکار بنتے ہی آنے والی مکر سکرانتی پر 14 جنوری کو 30 ہزار روپے (ہر ماہ ) دو ہزار روپے کی اسکیم دینے کے وعدے کے لئے کیا گیا ووٹ ہے ۔کانگریس کو بھروسہ ہے نوجوان طبقہ نے ووٹ چوری کے اشو کو لے کر حکمراں اتحاد کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔اس بار چناو¿ میں ایس آئی آر اور ووٹ چوری بھی اشو رہے ۔نوجوان طبقہ میں بے روزگاری سب سے بڑا اشو تھا اور لگتا بھی ہے کہ اس بار 18-25 برس (زین جی ) کے نوجوانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر ووٹ دیا ہے ۔یاد رہے کہ ووٹنگ کے ایک دن پہلے ہی راہل گاندھی نے چناو¿ کمیشن پر نئے الزام لگائے پھر ایس آئی آر کے سبب پہلے مقابلے 47 لاکھ ووٹ کم تھے ۔اس کے باوجود جنتا نے پولنگ بوتھوں پر پہنچ کر اپنی رائے زور شور سے جتائی ۔چناوی دھاندلیوں کے الزام بھی لگ رہے ہیں۔کہیں تو اسٹارنگ روم میں غیر مجاز لوگوں کی اینٹری بتائی جارہی ہے کہیں وی وی پیٹ کی پرچیاں سڑکوں پر پھینکی جار ہی ہیں تو کہیں پر ووٹنگ مشین خراب ہونے بجلی کاٹنے کے الزام لگ رہے ہیں ۔نیتاو¿ں کو بھگایا جارہا ہے۔تو گوبر تک پھینکا گیا ۔این ڈی اے سرکار کو ہر مورچہ پر ناکام بتاتے ہوئے لالو پرساد یادو کی رائے زنی زور دار رہی ۔اپنے ایکس ہینڈل پر لالو نے لکھا توے پر روٹی پلٹتی رہنی چاہیے نہیں تو جل جائے گی۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !
ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...