Translater

26 جنوری 2019

چوکسی کو اینٹیگوا کی شہریت ملنے کاسوال ؟

دیش کے بینکوں کو بھاری بھرکم چونا لگانے والے اور انہیں ڈبانے والے مالی مجرم اتنی آسانی سے پہلے تو دیش سے بھاگ جاتے ہیں اور پھر دوسرے ملکوں میں پناہ لے لیتے ہیں اور کچھ تو وہاں کی شہریت لینے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے ۔ایسے مالی جرائم پیشہ کے خلاف سرکار کے ذریعہ سخت کارروائی کے دعوی کی زمینی حقیقت سے دور لگتے ہیں ۔یہ سمجھنا مشکل ہے کہ عام طور سے ایسے بھگوڑوں پر لگام کسنے کے بیان اور کارروائی سطح پر اتنے قدم با اثر کیوں نہیں ہوتے اس کی تازہ مثال ہے پنجاپ نیشنل بینک سے قریب 14ہزار کروڑ روپئے لے کر چمپت ہوئے میہل چوکسی کا سرکار پچھلے کچھ وقت سے مسلسل دیش کا پیسہ لے کر بیرورنی ملک بھاگنے والوں کو نہ چھوڑنے کی بات کر رہی تھی تبھی خبر آئی مہیل چوکسی نے تکنیکی طور سے بھارت کی شہریت چھوڑ دی ہے اس نے اینٹگوا میں ہندوستانی پاسپورٹ سرینڈر کر دیا کہا جا رہا ہے کہ نیرو مودی کے ماما چوکسی نے حوالگی سے بچنے کے لئے ہندوستانی شہریت چھوڑی ہے ۔اس نے گویانا میں واقع انڈین ہائی کمیشن میں جا کر ہندوستانی شہریت چھوڑنے کا میسج دے دیا ہے ۔اور اپنا ہندوستانی پاسپورٹ جما کرا دیا میہل چوکسی اور اس کے رشہ دار نیرو مودی نے مل کر پنجا ب نیشنل بینک سے لیٹر آف انڈر اسٹینڈگ حاصل کرکے بینک کو بھاری چونا لگایا ہے ۔سی بی آئی نے اس معاملہ میں عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے ۔اور انٹر پول کے ذریعہ سے نیرو مودی اور ماما میہل چوکسی کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کر دیا ہے اس کے باوجود یہ سمجھنا مشکل ضرور ہے کہ انٹیگوا جیسے چھوٹے ملک اگر یہ ہمت دکھاتے ہیں کہ وہ بھارت جیسے بڑے دیش کے اقتصادی مجرم کو شہریت دے کر اور اس کے ہندوستانی پاسپورٹ کو سرنڈر کروا کر حوالگی کی کوشش کو ٹینگا دکھا سکتا ہے تو اس میں بھارت کی ہی کمزروی ثابت ہوتی ہے ۔میہل چوکسی کو جب پچھلے سال اینٹگوا کی شہریت ملی تھی تو اسے منظوری دینے میں ممبئی کے زونل پاسپورٹ دفتر میں پولس توصیفی سرٹیفیک کا بھی یوگدان رہا ۔شاید اسے یہ اندازہ رہا ہوگا کہ جو گڑبڑیاں وہ کر رہا ہے وہ ایک دن اجاگر ہو جائیں گی اور اس سے پہلے کوئی محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ لینا چاہیے سوال یہ ہے کہ ہزاروں کروڑ کی رقم کا گھوٹالہ ہوتا ہے اور بینکوں سے لے کر سرکاری مشینری اور متعلقہ محکموں تک کو بھنک آخر کیوں نہیں لگی یا پھر اس کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اس کی وجہ کیا تھی ؟سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ نیرو مودی ،میہل چوکسی ،وجے مالیا،جیسے کئی کاروباری اتنی بڑی رقم ڈکارنے کے بعد کیسے اتنی آسانی سے بیرونی ملک بھاگ گئے دیش سے باہر جانے والے ہر شخص کی جانچ پڑتال کا جو معیار ہوتا ہے اس میں بنا کسی پلان یا ملی بھگت سے ان سب کا بھاگنا آسان نہیں تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ میہل چوکسی کو اینٹی گوا کی شہریت مل سکی تو اس میں ممبئی کے زونل پاسپورٹ اور پولس کے منظوری نامے کا بھی تعاون رہا ۔اس کے پیچھے سرکار کی لاپرواہی و ملی بھگت یا ایسے لوگوں کی سرپرستی ملی ہے حالانکہ اینٹگوا میہل چوکسی کی حوالگی کے لئے مجبور نہیں ہے اس کے باوجود مالی گھوڑوںکے تئیں بھارت کی چوکسی کا ایک اہمیت تو ہونی ہی چاہیے ۔حکومت ہند ویسٹ لینڈ سودے سے دلال مشیل کو متحدہ عمارات سے بھارت لا سکتی ہے تو انیٹیگوا سے چوکسی کو لانے میں بھی سنجیدگی دکھانی چاہیے ۔ظاہر ہے کہ اپنے تنازعوں میں الجھی سی بی آئی ان کوششوں کو تیز کرنے میں ناکام لگتی ہے اس کے پاس نہ تو ابھی مکمل ڈائرکٹر ہے اور نہ ہی افسران کے پاس آپسی جھگڑوں سے فرصت ہے اگر وقت رہتے ان مالی جرائم گھوڑوں کے خلاف سختی برتی گئی ہوتی تو آج نہ صرف وہ گرفت میں ہوتے بلکہ دیش کو ہزاروں کروڑ روپئے نقصان نہیں اُٹھانے کی نوبت آتی ۔

(انل نریندر)

پر اسرار ہیکر کا ای وی ایم پر سنسنی خیز دعوی

 ہندوستانی نام نہاد سائبر ایکسپرٹ سید شجاع کے سنسنی خیز انکشاف سے ایک بار پھر ای وی ایم کے بھروسے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے ۔سید شجاع نے پیر کے روز اسکائپ کے ذریعہ دعوی کیا کہ بھارت میں 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں ای وی ایم ہیک کر کے دھاندھلی کی گئی ۔لندن میں ہوئی انڈین جنرلسٹ ایسوشیشن کی پریس کانفرنس میں امریکہ کے ذریعہ (منھ ڈھکے ہوئے)شجاع نے کہا کہ وہ 2014میں بھارت سے بھاگ آئے تھے کیونکہ ان کی ٹیم کے کچھ افراد کا قتل کر دیا گیا ۔ان پر بھی حیدرآباد میں گولی چلائی گئی تھی جس سے وہ خطرہ محسوس کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا ریلائنس جیو نے ریکونسی سگنل کم کر بھاجپا کو ای وی ایم ہیک کرنے میں مدد کی تھی ۔بھاجپا راجستھان ،چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں چناﺅ جیتنے کے ای وی ایم ہیک کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہماری سائبر ایکسپرٹ ٹیم نے ہیکنگ روک لی ۔بھاجپا ایسے ماڈولر کے ذریعہ ای وی ایم ہیک کر رہی تھی جو ملیٹری گریڈ فریکنسی کو ٹرانسفر کرتا ہے۔ای وی ایم ہیکنگ کی جانکاری رکھنے کے سبب بھاجپا نیتا گوپی ناتھ منڈے کا قتل کرا دیا گیا تھا ۔ای وی ایم پر سنسنی خیز دعوی کرنےوالے امریکی ہیکر سید شجاع نے کہا کہ صحافی گوری لنکیش نے ای وی ایم ہیکنگ سے متعلق ہماری خبر چلانے کی رضامندی لی تھی لیکن ان کا قتل کر دیا گیا ۔لنکیش نے آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ای وی ایم میں استعمال ہونے والے تار بنانے کا کام کس نے کیا تھا ۔ ہیکر نے دعوی کیا کہ مشین کی گریفائٹ پر مبنی ٹرانس میٹر کی مدد سے کھولا جا سکتا ہے ۔2014کے انتخابات میں بھی ان ٹرانس میٹروں کا استعمال کیا گیا تھا ۔ای وی ایم ہیک کرنے کے لئے ایک ٹیلی کام کمپنی (ریلائنس جیو)بی جے پی کی مدد کرتی ہے اس کے لئے کمپنی لو فریکونسی سگنل دیتی ہے ۔بھارت میں نو جگہ ایسی سہولت ہے جہاں تک کہ کمپنی کے ملازمین کو بھی اس بارے میں پتہ نہیں ہوتا ۔شجاع نے آگے دعوی کیا کہ ای وی ایم ہیکنگ میں بھاجپا کے ساتھ ساتھ ہی کانگریس سپا،بسپا اور عآپ بھی شامل رہی ہے ۔پریس کانفرنس میں شجاع نقاب ڈھکے ہوئے تھا ۔انہیں اسکائپ کے ذریعہ اسکرین پر دکھایا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس پریس کانفرنس میں چناﺅ کمیشن اور سیاسی پارٹیوں کو بھی بلایا گیا تھا لیکن صرف کانگریس نیتا کپل سبل ہی پہنچے ۔بھارت کے چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڈا نے پریس کانفرنس کے بعد دہرایا بھارت میں ای وی ایم ہیک نہیں ہو سکتی اور وہ پوری طرح سے محفوظ ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں کا کافی عرصہ سے کہنا ہے کہ ای وی ایم کے بھروسہ پر ہمیں شبہ ہے حال ہی میں کولکاتہ میں ہوئی ریلی میں ممتا بنرجی اور سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر پریس کانفرنس میں ای وی ایم پر سوال اُٹھائے اور انہوںنے بھارتیہ جنتا پارٹی پر ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات کے درمیان اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاﺅں کی چار ممبری کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس سے نمٹنے کی سفارسات کرئیگی ۔محترمہ بنرجی نے کہا کہ ای وی ایم کے کام کرنے کا جائزہ اور کسی بھی طرح کی گڑبڑی کو روکنے کے لئے قدم اُٹھانے کے علاوہ یہ کمیٹی انتخابات سے پہلے چناﺅ کمیشن کو چناﺅ اصلاحات کے بارے میں سفارس دے گی ۔کمیٹی کے ممبر ابھیشک منو سنگھوی (کانگریس)اکھلیش یادو(سپا)ستیس مشرا(بسپا)اروند کجریوال(عآپ)پر عمل کے لئے اپنی منظوری چناﺅ کمیشن کو دیں گے ۔اور وی وی پی اے ٹی کے وسیع استعمال کے لئے دباﺅ بنایں گے ۔سید شجاع کے دعوں کے ثبوتوں کی کمی میں مسترد کر دیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ انتخابات کو ہر لحاظ سے منصفانہ آزادانہ کراناکا چناﺅ کمیشن کا فرض ہے ۔اور یہ ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اگر اس میں کسی بھی طرح کا شک شبہ رہتا ہے تو اسے دور کرنا چناﺅ کمیشن کا کام ہے ۔بھاجپا کا رد عمل تھا کہ اپوزیشن اگلے لوک سبھا چناﺅ ہار جانے کا سبب تلاش کر رہی ہے ۔ای وی ایم ہیکنگ کا الزام جھوٹا ہے ۔لندن میںپریس کانفرنس میں موجود رہنا کانگریس نیتا کپل سبل کا اتفاقی ہے ۔وہیں بھاجپا کے سئنر لیڈر گوپی ناتھ منڈے کے بھتجے اور این سی پی نیتا دھننجے سنگھ منڈے کا کہنا ہے کہ شجاع کا بیان حیران کرنے والا ہے منڈے صاحب کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی تھی اور اس کی راءسے جانچ کرائیں ای وی ایم تنازع کے چلتے امریکہ ،جرمنی،انگلینڈ،آئیرلینڈ،فرانس ،اٹلی،وینوذوئیلا،جیسے ملکوںنے ای وی ایم پر پابندی لگا رکھی ہے ۔یہاں دیگر طریقوں سے چناﺅ کرائے جاتے ہیں ۔ای وی ایم بھارت میں ہیک ہوتی ہے یا نہیں ،ممکن ہے یا نہیں اس تنازع میں نہ پڑتے ہوئے سب سے بہتر متبادل ہوگا کہ اگلے لوک سبھا چناﺅ میں وی وی پیڈ کی کم سے کم پچاس فیصدی پرچیوں کا ملان کیا جائے اور ای وی ایم کو فول پروف بنایا جائے ۔عام آدمی پارٹی نے بھاجپا سے پوچھا ہے کہ آخر کیوں و صرف ای وی ایم سے ہی چناﺅ کرانا چاہتی ہے ؟جبکہ زیادہ تر پارٹیاں اس کی مخالفت کر رہی ہیں ۔

(انل نریندر)

25 جنوری 2019

123ممبران پارلیمنٹ 22اپوزیشن پارٹیوں کی مہا ریلی..... 2

اتر پردیش(80)مہاراشٹر(48)کے بعد بہار 40لوک سبھا سیٹوں کو لے کر 2019کے لوک سبھا چناﺅ میں تیسری سب سے اہم ترین ریاست ہے ۔کولکاتہ کی مہا ریلی میں بہار کی طرف سے شامل ہوئے لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہی نشانے پر رکھا ہے انہوںنے اپوزیشن پارٹیوں کی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری عدم ایکتا میں ہی ایکتا ہے ۔ہم سب مل کر دیش کی ترقی کی راہ پر لے جانے کا کام کریں گے انہوںنے کہا کہ ہمیں دیش کو جوڑنے کا کام کرنا ہے اب بی جے پی بھگاﺅ دیش بچاﺅ کا وقت آگیا ہے انہوںنے پی ایم نریندر مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چوکیدار جی جان لیں کہ تھانے دار دیش کی جنتا ہے ۔اگر چوکیدار نے غلطی کی ہے تو دیش کے لوگوں کو انہیں سزا دینے کا کام کرئے گی انہوںنے پی ایم نریندر مودی اور بھاجپا صدر امت شاہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ہاتھ ملانے والے لوگ راجہ ہریش چندر ہیں ۔سمجھوتا کرنے کا کام کر لیں تو سب ٹھیک ورنہ سب غلط انہوںنے بنگال کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہیں لڑبو -کربو جیت بہی یہی بات بھوجپوری میں کہتے ہیں لڑکے کے دا ...کرئے کے با...جیتے تھے با....۔بہار کے اپوزیش لیڈر تیجسوی نے کہا کہ ہمارے عدم اتحاد میں ہی ایکتا ہے یہی ہمارے دیش کی خوبصورتی ہے ۔دیکھنے میں الگ الگ بولنے میں الگ الگ ہیں دیش کو آج ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا کام کیا جا رہا ہے ۔دیش کو تلوار کی نہیں سوئی کی ضرورت ہے انہوںنے کہا کہ کپڑا پھٹ جائے گا تو تلوار کام نہیں آئے گی سوئی ہی کام آئے گی ۔الگ الگ رنگ کا دھاگا لگائیں گے تو دیش کو ترقی پر لے جایں گے تیجسوی نے کہا کہ مودی جی جھوٹ بولنے کی فیکٹری ہیں ری ٹیلر بھی ہیں اور ڈیٹی بیوٹر بھی ہیں ۔ایسے لوگوں سے چوکس رہنا ضروری ہے ۔ریلی میں شامل دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ نیتا اروند کجریوال نے پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کی جوڑی پر دیش میں نفرت پھیلانے کا الزام لگایا ہے ریلی میں کجریوال نے کہا کہ کئی لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اگر مودی پردھان منتری نہیں بنتے تو کون بنے گا ؟میں آپ سبھی کو کہنا چاہتا ہوں 2019کا چناﺅ پردھان منتری چننے کے لئے نہیں ہوگا بلکہ مودی شاہ کی جوڑی ہٹانے کے لئے ہوگا ۔گذشتہ ستر برسوں میں پاکستان نے دیش کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے پاکستان ان برسوں میں دیش میں نفرت پھیلانے میں ناکام رہا ہے لیکن مودی شاہ کی جوڑی نے پانچ برسوں میں ہی یہ کام کر دکھایا ۔ڈی ایم کے ،کے نیتا ایم کے اسٹالن نے کہا کہ یہ عام چناﺅ بی جے پی کو کٹر ہندتو کے خلاف بھارت کے لوگوں کے لئے آزادی کی دوسری لڑائی لڑنی ہوگی ۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کہا کہ آج ہم مرکزی حکومت کے غیر جمہوری لوگوں کو جمہوری سرکار کی رہنمائی کرتے دیکھ رہے ہیں ۔پارٹی دار نیتا ہاردک پٹیل نے کہا کہ سبھاش چندر بوس نے گوروں کے خلاف لڑنے کی اپیل کی تھی اور ہم ان چوروں کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،راجستھان اسمبلی انتخابات میں ملی کامیابی سے بے شک کانگریس کا حوصلہ بڑھا ہو لیکن آگے کا راستہ کانگریس کے لئے مشکل ہے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کی قیادت کو کتنی قبولیت ملتی ہے ۔لیکن لوگ سبھا اور اسمبلی انتخابات کا مزاج اور اشو الگ ہوتے ہیں لوک سبھا چناﺅ میں وہی اشو کام نہیں کرتے جو ودہان سبھا انتخابات میں کرتے ہیں اس لئے کسی پارٹی کے اسمبلی انتخابات کے نتیجوں کی بنیاد پر لوک سبھا میں بھی اس کی کامیابی کا دعوی نہیں کیا جاسکتا زیادہ تر پارٹیاں جو اس مہا ریلی میں شامل ہوئی تھیں کہ حیثیت علاقائی سطح تک محدود ہے اس لئے وہ علاقائی اشوز کو کس طرح اور کتنا قومی اشوز میں بدلنے میں کامیاب ہو پائیں گی یہ بھی ایک چنوتی ہے ان پارٹیوںکو اتحاد کے ساتھ ساتھ کم از کم ایک پروگرام بھی طے کرنا ہوگا پہلے اتحاد کی کچھ سرکاروں کے تجربے اچھے نہیں رہے جن میں سبھی پارٹیاں شامل تھیں اس لئے اختلافات کو بھلا کر وٹروں کے من میں مظبوط اور کارگر حکومت کے پانے کا بھروسہ جگا پانا ان پارٹیوں کے لئے سب سے بڑی چنوتی ہوگی ۔پھر سبھی پارٹیاں چناﺅ میدان میں اپنے لئے اتریں گی اس لئے وہ بے شک بھاجپا کو ہرانے کا نعرہ دے رہی ہیں لیکن وہ اس کے مینڈیٹ پر کتنی سیندھ لگا پائیں گی یہ وقت ہی بتائے گا؟بھاجپا کے خلاف بھلے ہی اپوزیشن لیڈروںنے اسٹیج پر ایکتا دکھائی ہو لیکن ان میں اندرونی اختلافات بھی نظر آ رہے ہیں ۔ریلی میں ممتا بنرجی ایک طرف بھاجپا کے خلاف مشترکہ اسٹیج بنا رہی ہیں تو وہیں دوسری طر ف خود بنگال میں اکیلے چناﺅ لڑنے جا رہی ہیں ۔وہیں کانگریس کو بھی بھروسہ نہیں ہے کہ انتخابات میں ترنمول کانگریس سمجھوتہ کرئے گی یا نہیں ۔لیفٹ سے کانگریس اور ترنمول کوئی بھی قریب آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔اسی طرح یوپی میں بھاجپا مخالف دو مورچہ ہوں گے ۔پہلا سپا بسپا دوسرا کانگریس و چھوٹی پارٹیوں کا مورچہ اکھلیش یادو نے کہا تھا اگلا پی ایم یوپی سے ہی ہوگا لیکن سنیچر کو کولکاتہ کی اس ریلی کو خطاب کیا جس میں ممتا بنرجی کو بطور پی ایم پروجکٹ کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی ۔آندھرا اور تلنگانہ کی تصویر بھی ایسی ہی ہے تلنگانہ میں کانگریس ۔ٹی ڈی پی نے اتحاد کیا اور کراری ہار ملی اب لوک سبھا چناﺅ میں دونوں پارٹیاں ایک ساتھ لڑئیں گی اس میں شبہ ہے ۔پنجاپ و دہلی میں آپ ۔کانگریس ساتھ لڑنے کو تیا نہیں ہیں ہریانہ میں صرف انڈین نیشنل لوک دل بسپا کے درمیان سمجھوتا ہوا ہے ۔تمل ناڈو میں ڈی ایم کے ،انا ڈی ایم کے بھاجپا کے خلاف چناﺅ لڑئے گی لیکن ایم ڈی ایم کے پی ایم کے جیسی پارٹیاں بھی مورچہ بنا سکتی ہیں ،اڑیشہ میں بی جے ڈی اور کانگریس الگ الگ چناﺅ لڑیں گی جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس اور کانگریس الگ الگ چناﺅ لڑیں گی ۔ایسا نظر آرہا ہے کہ صرف مودی کی مخالفت سے کام نہیں چلے گا ۔اپوزیشن مورچوں کے سامنے متحد ہو کر اپنے اپنے اختلافات کو در کنا رکرکے ایک ساتھ آگے بڑھنے کی بڑی چنوتی ہے ۔

(انل نریندر)

24 جنوری 2019

123ممبران پارلیمنٹ 22اپوزیشن پارٹیوں کی مہا ریلی..... 1

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی عام چناﺅ سے پہلے اپوزیشن ایکتا دکھانے میں کامیاب رہیں ۔سنیچر کو کولکاتہ میں بھاری لوگوں کی بھیڑ کے درمیان ریلی میں 22پارٹیوں کے نیتا شامل ہوئے۔ان کے علاوہ شترو گھن سنہا ،یشونت سنہا ،ارون شوری اور ہاردک پٹیل جیسے نیتا بھی شامل ہوئے سبھی نے مل کر نعرہ دیا کہ مرکز کی بھاجپا سرکار کو ہٹانا ہے اور سبھی نے ایک ساتھ آواز بلند کی ۔ریلی سے خطاب میں ممتا بنرجی نے کہا کہ مودی سرکار کی ایکسپائیرٹی ڈیٹ ختم ہو گئی ۔ انہوںنے نعرہ دیا کہ بدل دو ،بدل دو ،مرکز میں مودی سرکارکے خلاف ساﺅتھ انڈیا تک کی اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوئیں انہوںنے عدم رواداری سے لے کر نوٹ بندی ،جی ایس ٹی ،کسانوں کی ناراضگی ،بے روزگاری ،رافیل جیسے اشوز پر حکومت کی پالیسیوں پر جم کر نکتہ چینی کی ۔جمہوریت میں اس طرح کی عام ریلیاں نہیں ہیں اس سے پہلے بھی دیش ایسی کئی ریلیاں دیکھ چکا ہے لیکن کولکاتہ ریلی کو سرسری طور پر نہیں لیا جاسکتا ۔لوک سبھا چناﺅ سے قریب 3مہینے پہلے 22اپوزیشن پارٹیوں کا ایک ساتھ ایک اسٹیج پر آنا بھاجپا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے ۔22اپوزیشن پارٹیوں سے شامل ہوئے 123ممبران پارلیمنٹ نے ایک رائے سے اعلان کیا کہ اگر مودی سرکار کو ہٹانا ہے تو سارے اختلافات دور کر کے اتحاد دکھانا ہوگا لہذا اس اپوزیشن لیڈروں کی موجودگی کو مسترد کرنا صحیح نہیں ہوگا ۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی کہا کہ اپوزیشن متحد ہوگی تو آنے والے عام چناﺅ میں جیت تبھی ملے گی ۔جب سبھی مل کر کام کریں گے انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کون ہوگا یہ ہم چناﺅ کے بعد طے کریں گے ۔وزیراعلیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دیش میں موجودہ حالات سپر ایمرجنسی جیسے ہیں اور پھر انہوںنے نعرہ دیا بدل دو بدل دو دہلی میں مرکزی حکومت بدل دو ۔اترپردیش مہاراشٹر (48)کے بعد مغربی بنگال میں 42لوک سبھا سیٹیں ہیں اور اس مہا ریلی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں صرف ممتا کا ہی بول بالا ہے لیکن کہتے ہیں دہلی کا راستہ اترپردیش سے ہو کر جاتا ہے 80سیٹیوں والی ریاست یوپی کی سیاست بدلنے کی اہمیت رکھتی ہے اور اس ریلی میں سپا کے چیف اکھلیش یادو جم کر برسے انہوںنے مرکز کی مودی سرکار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو بات مغربی بنگال سے چلے گی وہ پورے دیش میں جائے گی لوگ سوچتے تھے سپا اور بسپا کا اتحاد نہیں ہوگا لیکن ہوگیا ۔کیا گاہے بگاہے اکثر بھاجپا خیمے کے نیتا پہلے کہتے پھرتے ہیں کہ اپوزیشن کے اس دس دولہے یعنی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار بہت ہیں تو جنتا جسے چنے گی وہی پی ایم ہوگا ان کا کہنا ہے کہ اتحاد کا طریقہ بھاجپا سے ہی سیکھا ہے چناﺅ کو سر پر دیکھ بھاجپا نے سی بی آئی اور ای ڈی سے گٹھ بندھن کر لیا ہے تو ہم جنتا سے گٹھ بندھن کر رہے ہیں ۔اترپردیش میں سپا بسپا کے گٹھ بندھن کے بعد سے ہی بھاجپا خوف زدہ ہے بھاجپا نے سماج میں زہر گھولنے اور باٹنے کا کام کیا ہے ۔بہوجن سماج پارٹی کے نیتا اور قومی سیکریٹری جنرل ستیش مشرا نے کہا کہ مرکز میں بھاجپا سرکار نے کسان،مزدور اور دلتوں کو پریشان کیا ہے نوٹ بندی ،جی ایس ٹی جیسے تغلقی فرمان کی وجہ سے سب سے زیادہ غریبوں کو نقصان ہوا ہے کسی کا روزگار چھن گیا تو کسی کی سند بند ہو گی کروڑوں لوگوں کو ان کے کام کی وجہ سے بے روزگا ہونا پڑا ہے مرکز کی سرکار نے کارخانے بند کروا دیئے اس لئے سرکار کو اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے ۔اس لئے اپوزیشن کو ایک ہونا ہے بسپا سپا نے اتحاد کر کے اس کی شروعات کر دی ہے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے اپوزیشن کی اس ریلی کے سلسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بچاﺅ بچاﺅ چھڑی بحث کو لے کر اتوار کو مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدد کی درخواست ان لوگوں کی ہے جو آپ کو ظلم اور نا اہلیت سے نجات پانا چاہتے ہیں کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ آنے والے سو دن میں لوگوں کو مودی حکومت سے نجات مل جائے گی وزیر اعظم نے ایک دن پہلے ہی کولکاتہ ریلی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں بھاجپا کا صرف ایک ممبر اسمبلی ہے لیکن وہ اس سے ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ ہم سچائی کے راستے پر چلتے ہیں اس لئے انہوںنے پورے دیش سے پارٹیوں کو اکھٹا کیا اور بچاﺅ بچاﺅ چلا رہے ہیں راہل کا کہنا ہے کہ صدر جمہوریہ مدد کے لئے لاکھوں بے روزگار نوجوان اور پریشان کسانوں اور محروم دلتوں قبائلیوں ،اقلیتوں کو ہی تنگ کیا جا رہا ہے بھاجپا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد ہندی بلٹ کی تین ریاستوں میں اسے کانگریس کے ہاتھوں کراری ہار ملی ہے ۔مدھیہ پردیش کی 29لوک سبھا سیٹوں کو اگر راجستھان کی 25اور چھتیس گڑھ کی 11سیٹیں ہیں جہاں کانگریس کا راج ہے کا ٹوٹل 65سیٹیں ہو جاتا ہے ان کو اگر اترپردیش (80)بہار (40)مغربی بنگال(42)کو جوڑا جائے تو کل ملا کر ان ریاستوں میں لوک سبھا سیٹوں کا ٹوٹل 227سیٹیں ہو جاتی ہیں ۔ان ریاستوں کے جو نمائندے کولکاتہ آئے تھے وہ سب اپنے اپنے حلقوں میں اہمیت رکھتے ہیں اور سبھی ریاستوں میں بھاجپا گٹھ بندھن کو ہرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔بہار بھی 2019کے لوگ سبھا چناﺅ کے لئے خاص ہی اہمتی رکھتا ہے ۔کولکاتہ ریلی میں بہار سے نمائندگی لیڈر اپوزیشن اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کی تھی ۔انہوںنے کیا کہا یہ کل کے اداریہ میں پڑھئے ۔جاری

(انل نریندر)

23 جنوری 2019

سینئریٹی تنازع پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

سینئریٹی تنازع کے درمیان جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کی سپریم کورٹ میں تقرری کو بدھوار کو صدر جمہوریہ نے اپنی منظوری دے دی ہے ۔کالیجیم نے ان دونوں ناموں کی سفارش کی تھی کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دنیش مہیشوری سینئریٹی میں 21وے جبکہ دہلی ہائی کورٹ کے جج سنجیو کھنہ سینئریٹی میں 33وے نمبر پر ہیں ۔کالیجیم نے پہلے دو ججوں کو لانے کی سفارش کی تھی بعد میں اسے بدل کر دو جونئیر ججوں کو سپریم کورٹ لانے کی توسیق کی گئی تھی اس بات پر عدلیہ میں واویلا کھڑا ہو گیا اس فیصلے سے سپریم کورٹ وہائی کورٹ کے موجودہ اور سابق جج صاحبان میں کافی بے چینی ہے ہائی کورٹ کے ایک سابق جج نے تو صدر کو خط لکھ کر سفارش منظور نہ کرنے کی سفارش تک کر ڈالی دونوں ججوں کی تقرری میں آل انڈیا سینئریٹی کی ٹیلی دیکھیں تو بار کونسل آف انڈیا میں اس پر اعتراض جتایا ہے ۔سپریم کورٹ کے جج کشن کول نے بھی تقرریوں پر مایوسی ظاہر کی ہے انہوںنے اسے غلط روایت کی شروعات بتایا ہے سابق جج (دہلی ہائی کورٹ کیلاش گمبھیر نے صدر کو خط لکھ کر تاریخی غلطی نہ ہونے دینے کی اپیل بھی کی تھی ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گگوئی اور کالیجیم کے دیگر ممبران کو خط لکھ کر تقرری میں سینئریٹی کو در کنار کرنے کا سوال اُٹھایا تھا فی الحال دونوں ناموں پر صدر کی مہر لگنے کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی کل تعداد 28ہو گئی ہے ۔سپریم کورٹ میں ججوں کی جائز عہدوں کی آسامیاں 31ہیں لیکن ان دونوں ججوں کی تقرری پر اُٹھا تنازع عدلیہ کی غیر جانب دار ساکھ پر شبہ ضرور پیدا کرتا ہے اس بارے میں جس طرح سے سپریم کورٹ کے موجودہ جج سنجے کول ،دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج ایس این دھیرنگ اور بار کونسل آف انڈیا کے عہدیداران نے بھی ناراضگی جتائی ہے ۔وہ باعث تشویش ہے اعتراضات جسٹس مہیشوری اور جسٹس مورتی کھنہ کی اہلیت کو لے کر نہیں ہے بلکہ اعتراضات ان کی سینئریٹی کے بارے میں ہے جب ان سے زیادہ سینئرجج موجود ہیں تو انہیںسپریم کورٹ تک لانے میں انتظار کروایا جا سکتا تھا اعتراض اس سے بھی زیادہ بارہ دسمبر کے اس فیصلے کو پلٹے جانے سے ہے جس میں راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راجیندر مینن اور دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پردیپ نادرا جونگ کو سپریم کورٹ میں لانے کا فیصلہ لیا تھا سنجیو کھنہ اچھے جج ہونے کے ساتھ ان مشہور جج ایم آر کھنہ کے بھتیجے ہیں جنہوںنے ایمرجنسی کی اکیلے مخالفت کرنے کی ہمت دکھائی تھی ۔ان ماموںکو فوری منظوری دینے کے پیچھے عدلیہ میں ججوں کی کمی بتائی جا رہی ہے اس کے باوجود لگتا ہے کہ سارے اعتراضات کا پورا جواب ملنا ابھی باقی ہے اس سے پہلے بھی جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور عدلیہ میں تنازعہ میں کولیجیم کی لاچاری دکھائی دے چکی ہے ایسے میں آئینی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر جانبداری اورمختاری بر قرار رکھیں ۔

(انل نریندر)

وولڈ کپ سے صرف 10میچ پہلے دھونی ریٹنرس

آسڑیلیائی سر زمیں پر ٹیم انڈیا نے ٹیسٹ کے بعد ایک روزہ سریز میں جیت حاصل کر تاریخ رقم کر دی ۔تین میچوں کی ایک روزہ سریز میں بھارت نے آخری میچ میں سات وکٹ سے جیت درج کی ۔اس کے ساتھ ہی آسٹریلیائی سرزمیں پر پہلی بار بھارت نے کسی باہمی سریز میں یہ فتح حاصل کی ہے ۔دراصل ٹیم انڈیا کے آسٹریلیائی دورے سے پہلے کئی طرح کی قیاس آرئیاں لگائی جا رہی تھیں کچھ اسے ٹیم انڈیا کے گھریلو شئیر ہونے کا داغ مٹانے کا موقع تلاش رہے تھے تو کچھ ولڈ کپ کی تیاری ،ٹیم انڈیا دونوں ہی معاملوں میں کامیاب رہی اس نے غیر ملکی زمین پر جیت کے ساتھ ایک روزہ سریز کا فیتہ کاٹنے میں ٹیم کے سابق کپتان اور مسٹر فنیشر مہیندر سنگھ دھونی کا اہم استراک رہا ۔دھونی سے زیادہ انڈین کرکٹ میں کوئی وقف نہیں ہے ۔وہ دنیا کے سب سے ہوشیار کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں یہ انہوںنے کئی بار ثابت کر دکھایا دھونی اپنے بیٹنگ کے نمبر پر کہتے ہیں کہ میں نمبر چار سے لے کر 6تک کسی بھی ٹیلی پر کھیل سکتا ہوں ۔ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ٹیم کا توازن کیسے صحیح رکھا جا سکتا ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ مجھے وہاں بلے بازی کرنی ہے جہاں میری سب سے زیادہ ضرورت ہے میں چھٹے نمبر پر بھی خوش ہوں مشہور شاعر راحت اندوری کے اس شیر -ابھی غنیمت ہے صبر میرا ابھی لبالب بھرا نہیں ہوں ٹوہ مجھ کو مردہ سمجھ رہا ہے اسے کہو میں مرا نہیں ہوں )اس کا ایک ایک لفظ ٹیم انڈیا میں بوڑھے شیر مہندر سنگھ دھونی پر پوری طرح کھرا اترتا ہے جب پوری دنیا دھونی کی دھیمی بلے بازی کی نقطہ چینی کر رہی تھی اور ولڈ کپ میں نوجوان وکٹ کیپر ریشبھ پنت کو شامل کرنے کی مانگ کی جا رہی تھی تب دھونی نے بتایا کہ وہ ابھی چوکے نہیں ہیں وہ صرف بلے سے ہی نہیں دماغ سے بھی ٹیم انڈیا کے لئے مفید کرکٹر ہیں ۔مین آف د ی سریز دھونی کی یہی خوبی انہیں 37جوان میں میں جوان رکھے اور یہی وجہ ہے کہ ٹیم انڈیا کے کپتان اور خود کرکٹ کے سمراٹ وراٹ کوہلی اور کوچ روی شاستری ان پر بھروسہ کرتے ہیں کوہلی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مہندر سنگھ دھونی اس وقت پوری دنیا کے سب سے بہتر فنیشر ہیں بیشک یہ صحیح ہے کہ بڑھتی عمر کے سبب دھونی کی ٹائمنگ پہلے جیسی نہیں رہی ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی ٹارگیٹ کا پیچھا کرتے ہوئے ٹیم کو جتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ جب وکٹ کے پیچھے رہتے ہیں تو انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کون سا بلے باز کیسے کھیلے گا وہ گیند باز کو بتاتے رہتے ہیں کہ کیسی گیند پھینکنی ہے اسٹنمپنگ ،لیگ بیفور اور ان آﺅٹ پر جب دھونی اشارہ کرتے ہیں تو وہ آﺅٹ ہے تو عموما ریﺅ لینے پر بھی وہ صحیح ثابت ہوتے ہیں ہم مہندر سنگھ دھونی کی اس دورے میں شاندار واپسی پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوہلی کے ساتھ وہ ولڈ کپ جتائیں گے۔

(انل نریندر)

22 جنوری 2019

ٹرےزا مے برےگزےٹ اشو پر بری پھنسےں

برطانےہ مےں اےک بار پھر برےگزےٹ اشو پر ٹرےزا مے کی حکومت بحران مےں آگئی ہے جب برےگزےٹ ڈےل ےعنی ےوروپی ےونےن سے باہر ہونے کی پلان کو پارلےمنٹ نے بھاری اکثرےت سے خارج کردےا ہے ۔برےگزےٹ بےل جس کو برطانےہ کی وزےر اعظم ٹرےزا مے نے اپنے وقار کا سوال بناےا ہواتھا اس کی مخالفت مےں 432ووٹ پڑے جب کہ حق مےں صر ف 202ووٹ ملے ےعنی دوسو تےس ووٹوں سے سرکار ہار گئی ۔ےہاںتک ٹرےزا کی کنزر وےٹےو پارٹی کے 118اےم پی نے بھی ڈےل کے خلاف ووٹ دےا تھا ۔برطانےہ کی پارلےمنٹ مےں کسی بل ےا مسودہ پر کسی بھی موجودہ سرکار کی ےہ سب سے بڑی ہار ہے ۔برطانےہ 311 سال کی پارلےمانی تارےخ مےں کبھی بھی کوئی حکومت اتنے بڑے فرق سے نہےں ہار ی لےکن اتنی بڑی ہار کے باوجود فی الحال ٹرےزا مے نے اپنی سرکار گرنے سے بچالی ہے ۔انہوںنے برطانےوی پارلےمنٹ مےں 19ووٹ زےادہ حاصل کرتے ہوئے اعتماد ثابت کردےا اس سے ان کے لئے برےگزےٹ معاہدہ پر ممبرا ن پارلےمنٹ کے درمےان عام رائے بنا نے کا راستہ صاف ہوگا ۔برےگزےٹ معاہد ہ پر ہوئی پولنگ مےں بری طرح ہا رنے کے بعد 24گھنٹے کے اندر پےش ہوئے اعتماد کے پرستاو ¿ پر 325ممبران نے ٹرےزا کی حکومت کو حماےت دی جبکہ 306ووٹ ان کی مخالفت مےں پڑے ۔برطانےہ کے ےوروپی ےونےن سے باہر ہونے کا راستہ اب بھی کھلا ہے برےگزےٹ کے لئے قانونًا طے کی گئی 29مارچ کی تارےخ کی طرف بڑھتی گھڑی کوسوئےاں بڑھ رہی ہےں۔ برطانےہ آدھی صدی کے سب سے سنگےن بحران مےں پھنس گےا ہے جب کہ 1973مےں ےوروپی ےونےن کا حصہ بنے برطانےہ کو باہر نکلنے کےلئے کےسے او رکہاں تک ،جےسے سوالوں کا سامنا ہے ۔اعتماد کا ووٹ گرنے سے سرکار ضرور بچ گئی ہے لےکن انہےں اب اےک ساتھ کئی مورچوں پر محاذ آراں ہونا پڑے گا ۔برطانےہ جون 2016مےں رائے شماری کے ذرےعہ 28ملکوں کی ےوروپی ےونےن سے الگ ہونے کا فےصلہ کےا تھا ۔جس کی وجہ سے سابق وزےر اعظم ڈےوڈ کےمرون کو اقتدار گنوا نا پڑا تھا لےکن ےہ واضح نہےں ہے کہ ٹرےز ا نے کےا پارلےمنٹ دوبارہ بل لےکر آئے گئےں ےا پھر ےوروپی ےونےن سے بات کر سمجھوتے مےں کوئی تبدےلی کرےں گی ےا پھر نےا پرستاو ¿ پارلےمنٹ مےں لائےں گی ؟ےوروپی ےونےن مےں دوبارا جانے کا مطلب ےہ بھی ہے انہےں فےڈرےشن نے ٹرےزا مے کو برےگزےٹ پر اپنا موقوف جلد رکھنے کو کہا ہے ۔ےوروپی ےونےن کے چےئر مےن جےن کلائڈ نے کہا کہ مےں برطانےہ سے اپےل کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی رائے واضح کرےں ۔ٹرےزا اعتماد کاووٹ حاصل کرنے کے بعد دوبارا رےفرنڈم کراسکتی ہے ےا پھر تعطل ختم کرنے کےلئے عام چناو ¿ کا فےصلہ بھی لے سکتی ہےں ۔وقت کم ہے دےکھےں وہ کےا کرتی ہےں ۔
(انل نرےندر)

کولکاتہ اپوزےشن رےلی مےں بھاجپا لےڈروں کے تابڑ توڑ حملے

کولکاتہ کے برےگےڈ پرےڈ مےدان مےں سنےچر کو 41برس بعد اپوزےشن پارٹےوں کا اتنی بڑی تعدا د مےں اکٹھا ہونا دکھائی دےا ۔1977مےں کمےونسٹ لےڈر جو تی باسو نے ےہےں سے کانگرےس کے خلاف بگل بجاےا تھا اب چار دہائی بعداپوزےشن کا اےسا جماو ¿ڑا دےکھنے کو ملا ۔اس رےلی مےں نےا پردھان منترلانا ہے نعرہ گونجا ۔کولکاتہ مےں ممتا بنرجی کی اپےل پر 22پارٹےاں اکٹھی ہوئےں ےعنی 22بڑے لےڈر اےک ساتھ شامل ہوئے او ران سب کے نشانے پر بھاجپا او روزےر اعظم نرےندر مودی تھے ۔باقی لےڈروں کے اس رےلی مےں شامل ہونا کوئی تعجب خےز بات نہےں تھی ،ان کو اپنی اپنی مضبوطی کے سبب شامل ہونا ہی تھا۔لےکن بھاجپا کے بڑے نےتاو ¿ں کا ممتا کی اس رےلی مےں شامل ہونا کچھ سوال ضرور کھڑے کرتا ہے ۔ےشونت سنہا ،ارو ن شوری ،ستروگھن سنہا نے رےلی مےں وزےر اعظم سرکار پر جم کر نکتہ چےنی کی ۔ےشونت سنہا کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد ےہ پہلی سرکار ہے جو جنتا کو بےوقوف بنانے کےلئے جھوٹے اعداد شمار پےش کررہی ہے ۔اگر آپ سرکار کی تعرےف کرتے ہےں تو ےہ دےش بھکتی ہے اور اگر تنقےد کرتے ہےں تو وہ ملک کی بغاوت ہے ۔ارون شوری نے کہا کہ رافےل جےسا اسکےنڈ ل اس سے پہلے کسی سرکا ر نے مےں نہےں ہوا ۔انہوںنے آگے کہا اےسی جھوٹ بولنے والی سرکار پہلے کبھی نہےں آئی سب سے تلخ نکتہ چےنی شتروگھن سنہا نے کی انہوں نے کہا کہ ےہ وقت اےک ہونے کا ہے اختلافات ہوسکتے ہےں لےکن دل مےں مےل نہےں ہونا چاہئے ۔لوک سبھا چناو ¿ کا وقت ہے اب پھر وعدوں کا دور شروع ہوگا جو وعدے کے گئے تھے اگر ان پر سوال کےا جائے تو اےودھےا مےں رام مندر کا اشو اٹھاےا جائے گا ۔پہلے خود احتجاج کےا بعد مےں لگادےا جی اےس ٹی ۔شترونے نرےندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا جنتا ابھی نوٹ بندی سے سنبھل نہےں سکی تھی کہ مودی جی نے جی اےس ٹی تھوپ دےا ۔بغےر تےا ری کے جی اےس ٹی لگا دےا کانگرےس صدر راہل گاندھی نے اسے گبر سنگھ سے تشبےح دی تھی ۔پہلے خود مودی جب وزےر اعلی تھے تو انہوں نے اسٹ ٹےکس کی مخالفت کی تھی لےکن اب انہوںنے خود ہی جی اےس ٹی لگا دےا ۔مودی کا نا م لئے بغےر کہا کہ آج کے دور مےں جو تانا شاہی ہے وہ نہےں چلے گی ۔راتوںرات نوٹ بندی کا اعلان کردےا ۔ےہ فےصلہ کرتے وقت ےہ بھی نہےں سوچا کہ مزدوروں،رےڑی والوں ،عام لوگوںکا کےا ہوگا ؟نو ٹ بندی کا فےصلہ پارٹی کا فےصلہ نہےں تھا اگر پارٹی کا ہوتا تو سےنئر لےڈر لال کرشن اڈوانی ،مرلی منوہر جوشی اور ارون شولی کو پتا ہوتا بتاےا جاتاہے کہ دےش کے وزےر خزانہ کو بھی اس کی جانکاری نہےں تھی ۔باغی ہوں ،سچ کہنا بغاوت ہے تو سمجھو مےں باغی ہوں دےش تبدےلی چاہتا ہے لوگ مجھ سے کہتے ہےں کہ مےں بی جے پی کے خلاف بولتا ہوں لےکن مےں سچ کہتا ہوں ۔شتروگھن سنہا نے راہل گاندھی او رآر جے ڈی کے نےتا تےجسوی ےادو کی تعرےف کی ۔ساتھ ہی رافےل سودے پر کانگرےس کے انداز مےں تےن سول پوچھتے ہوئے کہا اس کا جواب دےنے تک پی اےم کو سننا پڑے گا ۔چوکےدار چور ہے ۔دےکھےں ان لےڈروں پر بھاجپا لےڈر شپ اب کےا اےکشن لےتی ہے ؟شترو تو ابھی بھی بی جے پی کے ممبر ہےں ؟۔
(انل نرےندر )

20 جنوری 2019

اےک نہےں دوٹرےنوں مےں مسافروں سے لو ٹ مار، انتہائی تشوےشنا ک ہے !

پچھلے کچھ عرصے سے ٹرےنوں مےں لوٹ مار جےسے جرائم کے واقعات بڑھنا سبھی کے لئے تشوےش کا موضوع ہونا چاہئے ۔رےلوے کے اعداد شما ر کے مطابق دہلی سرحد مےں ٹرےنوں او راسٹےشنوں پر لوٹ مار کے واقعات بڑھے ہےں ۔جی آر پی کے رےکارڈ کے مطابق 2018مےں لوٹ مار کے 14واقعا ت درج کئے گئے جبکہ 2017مےں 10وارداتےں درج ہوئی تھےں ۔حالانکہ جی آر پی کا دعوی ہے کہ اس نے سبھی وارداتوں کو سلجھا لےا ہے لےکن لوٹ مار کی تازہ واردات چوکانے والی ہے دہلی کے بادلی اسٹےشن کے اوٹر پر صبح جمعرات کو اندھےرے مےں بے خوف نقاب پوش بد معاشوں نے اےک نہےں دو ٹرےنوں مےں مسافروںکو لو ٹا ۔پہلی وار دات رات 2:بجے ہوئی جس مےں بد معاشوں نے ٹاٹا ،جموں توی ٹرےن کو بادلی ۔ہولمبی کلاں رےل اسٹےشن کے درمےان اپنا نشانہ بناےا بد معاشوں نے چےن کھےنچ کر ٹرےن روکی اور چاقو لہرا ےا تو اےک مسافر نے مخالفت کی تو اسے چاقو مار زخمی کردےا ۔اس کے بعد رات 3:30بجے نرےلا سے بادلی کے درمےان سگنل برےک کرکے جموں ،سرائے روہےلا مےں دورنتو اکسپرےس کو اوٹر پر روک لےا ڈبہ بی 3 بی 7مےں گھس کر بد معاشوں نے تےن مسافروں چاقو کی نوک کر موبائل ،نقدی زےورات کپڑے او ربےگ چھےنے او رفرار ہوگئے بادلی اسٹےشن ماسٹر نے ٹرےن کو گرےن سنگنل دےا ہواتھا ۔لےکن اوٹر پر بدمعاش پہلے سے ہی جال بجھائے ہوئے تھے جےسے ہی ٹرےن کو آتے بدمعاشوںنے دےکھا تو سگنل فےل کردےا اور سنگنل کے اچانک لال ہوجانے سے رات تےن بجکر 24منٹ پر بادلی اسٹےشن پر روک گئی اس کے بعد اس مےں لو مار کی گئی ۔افسو سنا ک بات ےہ ہے کہ دہلی کی ٹرےنوں مےں لوٹ مار کی واقعات اکثر سامنے آنے کے بعد بھی ان پر روک لگانے کےلئے خاص کوشش نہےں کی گئی ۔رےلوے لائنوں کے کنار ے پر بنی جھگےوں کے سبب ٹرےنوں کی رفتار دھےمی کردی جاتی ہے جس وجہ سے بد معاش ان مےں چڑھ جاتے ہےں او رلوٹ مار کو انجا م دےکر فرار ہوجاتے ہےں اور ےہ جھگےاں ان بدمعاشوںکےلئے چھپنے کا سہارا بن جاتی ہے ےہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ رےلوے لائنوں کے کنا رے بسی ان جھگےوں کو ہٹا نے کےلئے کوئی قدم اٹھاےا جانا دکھائی نہےں دے رہاہے ۔جب راجدھانی مےں ہی رےل مسافر محفوظ نہےں ہےں تو دور دراز علاقوں مےں حالات کا اندازہ آسانی سے لگاےا جاسکتا ہے ۔دہلی مےں ٹرےن مسافروںکی حفاظت کے پےش نظر انتہائی ضروری ہے کہ رےلوے لائنوں کے کنارے سے جھگےاں ہٹائی جائےں ۔رےلوے جرائم کی بڑھتی وارداتوںکو چنوتی کی شکل مےں لے ۔ہم امےد کرتے ہےں کہ رےلوے پولےس کو اےسے پختہ انتظامات کرنے ہونگے کہ مستقبل مےں بد معاشوں کے ذرےعہ سگنل فےل کرنا ممکن نہ ہو ساتھ ہی مسافروںکی ٹرےنوں مےں کےسی حفاظت کی جائے اس پر رےلوے سنجےدگی سے غور کرے ۔
(انل نرےندر )

بےماری کے چلتے متاثرہوتی بھاجپا کی چناوی تےارےاں!

سردی مےںسوائن فلو کی بےماری اکثر سامنے آتی ہے کےونک اس مےں اس کے وائرس اےچ -1اےن 1سرگرم ہوجاتے ہےں وےسے تو عالمی ہےلتھ آرگنائزےشن (ڈبلو اےچ او )اس بےماری کو وبا کی زمرے مےں الگ سے رکھ چکی ہے پھربھی بچوں ،بزرگوں،حاملہ خواتےن ودےگر بےمارےوں متاثر مرےضوں کے لئے ےہ جان لےوا ثابت ہوسکتی ہے ۔اس لئے ڈاکٹر مشورہ دےتے ہےں کہ مےٹرو وزےادہ بھےڑ والے مقامات پر جانے سے پرہےز کرےں ۔ےہ بےماری اےک شحص سے دوسرے شخص مےں پھےلتی ہے اسلئے بھےڑ والی جگہوں پر انفکشن ہونے کا خطرہ زےادہ ہوتا ہے ۔بچوں ،بزرگوں کو زےادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے ،اس کے علاوہ جن لوگوں کو پہلے سے شوگر ،بلڈ پرےشر ےا کوئی دوسری بےماری ہو انہےں بھی زےادہ چوکس رہنا چاہئے ۔عام چناو ¿ سے ٹھےک پہلے بھاجپا صدر امت شاہ بھی سوائن فلو کی زد مےں آگئے ہےں ۔اس وقت وہ آل انڈےا مےڈےکل انسٹی ٹےوےٹ مےں زےر علاج ہےں حالانکہ پہلے سے انکی طبےعت بہتر بتائی جارہی ہے انہےں جلد ہی چھٹی مل سکتی ہے۔بھاجپا نے جمعرات کے روز اپنے لےڈر کی علالت کے بارے مےں جانکاری دی تھی ۔خود امت شاہ نے بدھوار کو اےک ٹےوےٹ کے ذرےعہ سے لوگوںکو اپنی بےماری کے بارے مےں جانکاری دی تھی ۔پارٹی کے مےڈےا چےف اور راجےہ سبھا ممبرانل بلونی نے بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ جی کی طبےعت بقد بہتر ہے اسپتال کے ذرائع نے بتاےا کہ ڈائرےکٹر رندےپ گلورےا کی رہنمائی مےں ڈاکٹروں کی اےک ٹےم ان کی طبےعت پر نظر رکھے ہوئے ہےں ۔وا ©ضح ہوکہ بھاجپا صدر کو سےنے مےں جکڑن اور سانس لےنے مےں دقت کی شکاےت کے بعد اسپتال کے پرائےوےٹ وارڈ مےں داخل کرےاگےا تھا ۔ادھر کانگرےس کے سےنئر لےڈر اور اےم پی بی کے ہری پرساد کے امت شاہ کی بےماری پر کئے گئے تبصرہ پر تنازعہ کھڑا ہوگےا ہے ۔کرناٹک مےں کانگرےس،جے ڈی اے سرکار کو کمزور کرنے کے الزام مےں کانگرےس نے اس بارے مےں اسپےشل پروگرام بنگلور و مےں کےا تھا اسی مےں ہری پرساد نے کہا کچھ ممبرا اسمبلی کے لوٹنے سے امت شاہ ہل گئے ہےں او رانہےں زکا م ہوگےا ہے ۔ےہ اےک عام بخار نہےں ہے بلکہ ےہ شوگر کا زکام ہے ادھر بھاجپا بھڑک گئی ہے اور اس کے نےتا اور مرکزی وزےر پےوش گوئل نے کہا کہ پارٹی صدر امت شاہ کی صحت کو لےکر کانگرےس نےتانے جو گندہ او ربےہودہ بےا ن دےا ہے وہ کانگرےس کے گھٹےا نظرےہ کو ظاہرکرتا ہے ۔بخار کا تو علاج ہے لےکن کانگرےس نےتا کی ذہنی بےماری کا علاج مشکل ہے ۔عام چناو ¿ سے ٹھےک پہلے امت شاہ سمےت پارٹی کے سےنئر لےڈروں کی بےماری چناوی تےارےوں پر اثر ڈال رہی ہے ،ارون جےٹلی ،روی شنکر پرساد ،رام لال ،نتن گڈ کری ،منوہر پارےکر بھی علےل ہےں علاج کے لئے امرےکہ گئے ہوئے ہےں ۔ارون جےٹلی کو وطن لوٹنے مےں دوہفتے لگ سکتے ہےں ۔ےہ بھی قےاس آرائےا ںہے کہ 9فروری کو انترم بجٹ پےش نہےں کرپائےں گے ۔روی شنکر پرساد کو بھی ابھی اےک ہفتہ آرام کرنا ہوگا ۔وہےں شوگر کے لےول بڑھنے کے سبب نتن گڈ کری بھی بےمار ہےں او ررام لال جی اےمس مےں داخل ہےں ۔ان لےڈروں کے بےماری کے سبب بھاجپا کی چناوی تےارےاں متاثر ہورہی ہےں ۔
(انل نرےندر )

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...