Translater

16 اپریل 2026

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی یہ جنگ پھر شروع ہو گئی ہے ۔ایپسٹین فائلس کا جن پھربوتل سے باہر آگیا ہے اور اسے باہر نکالاہے (چونکہ مت ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے امریکہ کی فرسٹ لیڈی میلانیا نے ایپسٹین فائلس پر دھماکہ دار خلاصہ کیا ہے جس سے وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑی افواہوں پر تنقید کرتے ہوئے میلانیا نے متاثرین کی سماعت کی مانگ کر ڈالی ہے ۔میلانیا نے 9 اپریل 2026 کے وائٹ ہاؤس سے اچانک ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا گیا انہوں نے جیفری ایپسٹین سے وابستہ سبھی جھوٹی خبروں ،افواہوں کو صاف طور پر مسترد کر دیا ۔ایپسٹین ایک قصوروار جنسی کرمنل تھا ۔میلانیا نے کہا کہ میں ان افواہوں کو صاف طور پر مسترد کرتی ہوں ۔یہ افواہیں مجھے بدنام کرنے کی کوشش ہیں ۔اور انہیں اب فوراً روکا جاناجاہیے ۔میلانیا نے صاف الفاظ میں کہا کہ جیفری ایپسٹین کے نام سے میرے نام کو جوڑنے والی جھوٹی باتیں آج ہی ختم ہونی چاہیے ۔میں ایپسٹین کی دوست کبھی نہیں رہی ۔ڈونلڈ اور میں کبھی کبھی کسی پارٹی میں جاتے تھے جہاں ایپسٹین بھی ہوا کرتا تھا کیوں کہ نیویارک اور پام بیچ کے سوشل سرکل میں ایسا عام ہے ۔لیکن میں نے ایپسٹین یا اس کی ساتھی فسلین میکسوئیل کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔انہوں نے کہا: میں کانگریس سے کہتی ہوں کہ ان متاثرہ خواتین کو ساتھ لے کر اپنی کہانی باتوں کا موقع دیں ۔ہر عورت کو اگر وہ چاہے اپنی بات پبلک طورسے کہنے کا حق رکھتی ہے ۔جیفری ایپسٹین پر میلانیا کی پریس کانفرنس سے بحث پھر تیز ہوگئی ہے ۔جیولیٹ برائٹ نے میلانیا کو سیدھا چیلنج کرتے ہوئے کہا : میں حلف لے کر سچ بولنے کو تیارہوں ۔جیولیٹ برائٹ کے ویڈیو میسج سے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔خطرناک جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑا معاملہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور انصاف نظام کے مرکز میں آگیا ہے ۔میلانیاکے تبصرے کے بعد سروائیورس نے اسے متاثرین پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش بتاتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ۔ایپسٹین سیویور جیولیٹ برائٹ کا ایک ویڈیو میسج تیزی سے وائرل ہورہا ہے ۔انہوں نے میلانیا ٹرمپ کو سیدھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قسم کے تحت گواہی دینے کی بات ہے تو میں خود اس کے لئے تیار ہوں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سچ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں اس معاملے پر امکانی سماعت کا تذکرہ بھی جاری ہے ۔جولیٹ برائٹ پہلے بھی سنگین الزام لگا چکی ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ماڈلنگ کے جھانسے میں بیرون ملک لے جایا گیا جہاں ان سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ انہیں ایپسٹین کے پرائیویٹ جزیریے پر لے جایا گیا اور ان کا پاسپورٹ چھین لیا گیا ۔ویڈیو میں برائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں گواہی دینے والی کئی لڑکیاں اب بھی زندہ ہیں ۔ویڈیو کے آخر میں برائٹ نے ٹرمپ اور میلانیا سے نہ صرف حلف کے تحت گواہی ہونے کی مانگ کی ان کا کہنا ہے دیش کے سامنے بااثر لوگوں کے اصلی چہرے سامنے آئیں ۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2026

جس کا ڈر تھا وہی ہوا

امریکہ -ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں بات چیت بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی ہے ۔پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے دو راؤنڈ میں 21 گھنٹے سے زیادہ قیام امن کو لے کر بات چیت چلی ،لیکن یہ بے نتیجہ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ساتھ امریکہ کے لئے روانہ بھی ہو گئے ۔وینس نے جانے سے پہلے کہا: معاہدہ نہ ہونے کے لئے بری خبر : وینس ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سمجھوتہ نہ ہونا امریکہ سے زیادہ ایران کے لئے بری خبر ہے ۔انہوں نے صاف کہا کہ امریکہ بغیر کسی سمجھوتہ کے ہی لوٹ رہا ہے ۔کسی بھی سمجھوتہ کے لئے ضروری ہے کہ ایران یہ وعدہ کرے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائےگا ۔سیز فائر ڈیل میں امریکہ کی جانب سے جے ڈی وینس (نائب صدر) اسٹیو وٹکاف (خصوصی نمائندے، زیروڈ کشنر سینئرایڈوائرزاور ٹرمپ کے داماد) اور بریڈ کوپر (ملیٹری افسر شامل ہوئے ۔ایرا ن کی جانب سے محمد وقار غالب (سینٹ اسپیکر ) عباس عراقچی (وزیرخارجہ ) اور مجید تخت خوانچی ( نائب وزیرخارجہ ) شامل ہوئے ۔بات چیت میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف فوج کے چیف عاصم منیر ،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور قومی سیکورٹی ایڈوائزرعاصم ملک شامل ہوئے۔ ایران سے 71نفری وفد پاکستان پہنچا تھا ۔اس ٹیم میں صرف بات چیت کرنے والے لوگ ہی نہیں تھے بلکہ ماہرین مشیر ، میڈیا نمائندے ،ڈپلومیٹ اور سیکورٹی سے وابستہ حکام بھی شامل تھے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باگر غالب جس جہاز سے آئے وہ بہت خاص تھا ۔وہ پوری دنیا کو امریکہ کو سسٹم دکھانے کے لئے پاکستان ثبوت لے کر آئے تھے ۔ان کے ساتھ ایسے مسافر بھی آئے جو اس دنیا میں اب نہیں ہیں ۔دراصل اس جہاز میں باگر غالیباف کے ساتھ پاکستان انے والے دو بچے تھے جو امریکہ اسرائیل ہوائی حملے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔پلین کی سیٹوں پر ان ننے بچوں کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ غالیباف نے بات چیت سے پہلے تصویر شیئر کی جس میں جہاز کی سیٹوں پر چار بچوں کی تصاویر دکھائی دیتی تھیں جن کے ساتھ ایک ایک اسکول بیگ اور پھول بھی رکھا گیا تھا ۔ایرانی شہر مناب کے اسکول میں 28 فروری کو ایک پرائمری اسکول پر حملہ ہوا تھا اس میں 168 بچوں سمیت لوگوں کی موت ہوئی تھی جس میں 108 اسکولی لڑکیاں تھیں ۔غالیباف نے بات چیت سے پہلے بیان میں کہا تھا کہ ان کا دیش بات چیت اور معاہدے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے امریکہ کو ایمانداری سے معاہدہ کی پیشکش کرنی ہوگی اور ان کے حقوق کو قبول کرنا ہوگا ۔انہوں نے صاف کہا کہ ایران کے پاس بھائی چارہ ہے لیکن امریکہ پر بھروسہ نہیں ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی کہا واشنگٹن ایران کو ہرمز اسٹریٹ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کی اجازت نہیں دے گا ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ہرمز جل ڈروم جلد ہی پھر سے کھل جائے گا چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ان کا اہم بیان تہران کی نیوکلیائی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر ہوگا ۔انہوں نے کہا کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ۔یہی 99 فیصد بات ہے ۔مذاکرت تو فیل ہونے ہی تھے دونوں فریقین کی مانگوں میں بہت بڑا فاصلہ تھا جسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2026

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ آج رات ہم ایران کی تہذیب کو ہی مٹادیں گے ۔اس کے جواب میں ایرانی عوام سڑکوں پر اتر آئی ۔اپنے دیش کے وجود اور ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی عوام اپنے دیش کے پلوں ،بجلی گھروں کو بچانے کے لئے امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی ۔ایران کے ایوان تبریض اور دیگر کئی شہروں میں ہزاروں لوگوں نے بجلی گھروں اور اہم ترین بنیادی اداروں کو چاروں طرف لمبی انسانی سریز بنا لی ۔ایرانی سماچار ایجنسی ترمیم کے مطابق مردوں ،خواتین اور یہاں تک کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے اور ہیومن چین بنا کر ڈٹ گئے ۔مظاہروں میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں ایرانی جھنڈے اور قومی لیڈروں کی تصاویر والے پوسٹر تھے ۔اور کئی لوگ مین شاہراہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر لمبی قطار میں کھڑے تھے ۔ایران کے احوال میں وائٹ برج میں پاور پلانٹ سمیت کئی جگہوں پر ہیومن چین بنائی گئی یہ ہیومن چین سریزواشنگٹن کی جانب سے بڑھتی جارحانہ بیان بازی کا سیدھا جواب تھا ۔ایران کے لوگوں نے دیش کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کاروائی کی مزاہمت کرنے کے لئے ا س انسانی چین کا سہارا لیا ۔مظاہرین نے قومی اتحاد دکھانے کے لئے حب الوطنی کا یہ زبردست مظاہرہ کیا ۔اس کا سیدھا اثر واشنگٹن پر پڑا ۔شاید اس کو عقل آئی ہو کہ ہم ایرانی عوام جو سڑکوں پر انسانی چین بنا کر کھڑے ہیں اس پر حملہ کریں گے تو ساری دنیا میں ہماری تھو تھو ہو جائے گی اس لئے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ آخری لمحوں میں پیچھے ہٹ گئے ایران کا موجودہ فوجی رخ صاف اشارہ دیتا ہے کہ اس کی ترجیح اپنی حکومت اور فوجی انسٹرکچر کو بچائے رکھنا ہے ۔اسلامی رپبلک کی قیادت اور فوجی کمانڈروں نے پچھے 3-4 دہائیوں سے ایسے ہی امکانی ٹکراؤ کی تیاری کی ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے کئی برسوں پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کسی نہ کسی دن یہ حالات آئیں گے اور امریکہ اسرائیل ہم پر حملہ کرے گا ۔آج اگر ایران کی اس جنگ میں جیت ہوئی ہے تو اس کا اصل حقدار شہید آیت اللہ علی خامنہ ای ہی ہیں ۔دراصل موساد اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ بھروسہ دیا تھا کہ اگر ہم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے سب سے سینئر ملیٹری کمانڈروں کو مار دیں گے تو ایران میں اندرونی بغاوت ہو جائے گی اور ہمارے حمایتیوں کو اقتدار میں بٹھا دیں گے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ایران کی عوام پر کیا اثر ہوگا ۔لیکن اثر الٹا ہوا جو ایرانی اسلامی اقتدار کے خلاف بھی تھے وہ بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سرکار کی حمایت میں آگئے ۔اس جنگ میں ایران کا پلڑا بھاری ہوگیا ۔جیسے میں نے کہا کہ غیر نیوکلیائی جنگ میں جیت ہتھیاروں سے نہیں ہوتی ، جیت جذبہ سے ہوتی ہے ۔جس کا مظاہرہ ایرانی عوام نے بخوبی کیا ۔دراصل ایران اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا ۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2026

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم ترین بشر نیوکلیائی مرکز پر سے جان لیوا یورینیم کا سیدھا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہواؤ ں کے ذریعے ریڈیوکرنیں دھول میں مل کر ریاستوں اور یہاں تک کہ بھارت کی مغربی ریاستوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث ہونے لگی ہے ۔اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ خطرناک سطح تک پہنچتی ہے اور ایران کی سرزمین پر نیوکلیائی دھماکہ ہوتا ہے ،تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے ؟ کیا ایران سے اڑنے والی ریڈیو ایکٹو دھول ہمارے شہروں تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہے ؟ آئینی اورحکمت عملی نظریہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا کا رخ اور دوری اس خطرے کو کیسے طے کرتی ہے ؟ ایران میں اگر کوئی نیوکلیائی واقعہ ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ تباہی اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ایران کے 500 سے 1000 کلو میٹرک کے دائرے میں آنے والے دیش عراق،ترکیہ ،ارمینیا،آذر بائیجان ،افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں کو بے حد خطرناک ریڈ یشن کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ریڈیو کچرا (فال آؤٹ ) سیدھے طور پر لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو بھی بربادکر سکتی ہے ۔ہوا کے بہاؤ کی بنیاد پر ان ملکوں کی سیکورٹی پوری طرح داؤ پر لگی ہوگی ۔ایران کے جنوب میں واقع خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب ،کویت، بحرین ،قطر ،یو اے ای بھی اس خطرے کی زد میں ہیں ۔اگرایران کے بشر شہر جیسے ساحلی نیوکلیائی بجلی کفیل ملکوں کو نشانہ بنایاگیا تو ریڈیو ایکٹو اخراج کی سیدھی دھار خلیج اور عرب ساگر کے پانی کو زہریلا بناسکتا ہے ۔اس سے سمندری چرند وپرند کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کی پانی نظام اور معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔سمندری لہریں اس آلودگی کو ہندوستانی ساحلوں تک بھی پہنچا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق کسی بھی نیوکلیائی دھماکہ کے بعد نکلنے والے سب سے خطرناک اور بھاری ریڈیو کرنیں دھماکہ والی جگہ سے کچھ سو کلو میٹر کے دائرے می ہی زمین پر گر جاتی ہیں ۔ان اتنی لمبی دوری طرے کرتے وقت ریڈیشن کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس لئے تکنیکی طور سے بھارت میں فوری طور پر ایکیوٹ ریڈیشن سکنس سے ہونے والی سنگین بیماری کا سیدھا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے بھلے ہی بھارت ایران سے کافی دور ہے لیکن ایئر زون میں گھلی ریڈیو کرنوں وذرات کو ہوا تک لے جاسکتی ہے ۔اگر ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب رہتا ہے تو نیوکلیائی بادل 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ہندوستانی آسمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں گجرات ،راجستھان ،پنجاب ،دہلی جیسی ریاستوں میں ریڈیو ٹک ذرات کی موجودگی درج کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ بھارت تک پہنچتے پہنچتے یہ ذرات اتنے فیل اور ہلکے ہوجائیں گے کہ اس سے جان لیوا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ بہت کم رہتا ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے آس پاس بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایران -امریکہ دوسری جنگ میں نیوکلیائی مراکز پر سیدھے حملے سے بچین ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر پوری کائنات پر پڑے گا۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2026

فائٹر جیٹ گرنے سے تلملائے ٹرمپ!

ایران جنگ میں اپنے فائٹر جیٹ گنوانے کے بعد تلملائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے مین ہرمز کو نہیں کھولاتو تباہی جھیلنے کے لئے تیار رہے ۔اب آر پار ہوگا انہوں نے کہا کہ ایران کے لئے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اسے پیس ڈیل پر ستخط کر دینا چاہیے ۔ایران نے اس دھمکی کا جواب امریکہ کے بہت ہی ایم ترین ایف -15 ای جنگی جہاز کو مار گرا کر کیا ۔ایران نے جمعہ کے روز دو امریکہ کے ایک اور جہاز ایف -35 کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ۔وہیں دو امریکی حکام کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا دو سیٹر جنگی جہاز ای-15 ای ایران میں گرا ہے ۔ایک پائلٹ مل گیا ہے جبکہ ایران دعویٰ کررہا ہے کہ دوسرا پائلٹ اس کے قبضہ میں ہے ۔حالانکہ امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔پنٹاگن اینڈ سنٹرل کمان نے اس پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کیرولن لیور نے بیان جاری کربتایا کہ جنگی جہاز گرنے کی جانکاری صدر ٹرمپ کو دے دی گئی ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ایف -35 جنگی جہاز کو جنوب مغربی ایران میں مار گرایا ہے ۔ادھر امریکی نیوز پورٹل کی موس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مار گرائے جنگی جہاز کی جو تصویر شیئر کی ہے وہ ایک ایف زیڈ ای جہاز کی ہے ۔ایس ای -15 اسٹرائک ایگل ایف ڈولپ کٹیگری کا امریکی جنگی جہاز ہے جسے خاص طور پر لمبی دور ی تک گہرائی میں جاکر (دشمن کے ٹھکانوں ) پر بالکل پختہ حملے کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس جہاز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں مشن پورا کرسکتا ہے ۔امریکہ کے چیف میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے ایک سی این این نے اس واقعہ پر لکھا ہے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ جو پہلے سے ہی امریکی عوام کے بیچ کافی غیر مقبول ثابت ہورہی تھی ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں پہنچ گیا ہے ۔چینل نے بتایا کہ پہلے خبر آئی کہ ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی جہاز کو گراد یا گیا ہے اس کے بعد جمعہ کو خبر آئی کہ ایران نے دوسرے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔جبکہ سی این این نے لکھا ہے ،لیکن ایک ایسی لڑائی جس میں فوجی بالادستی امریکہ کے حق میں ہو ،یہ واقعہ ایک پیچیدہ جنگ کے خطرون کو دکھاتا ہے ۔اس کی لاگت کو امریکہ جنتا پہلے سے نامنظور کرتی آرہی ہے ۔سی این این آگے لکھتا ہے کہ ان واقعات سے ایران کے آسمان پر پوری بالادستی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں کے ساتھ ساتھ پچھلے مہینے سے بنائے جارہے ہوے کو دکھاوے کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔ایم بی سی نیوز نے ایران کی جانب سے جنگی جہاز گرانے کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے -یہ پہلی بار ہے کہ جب اس تازہ لڑائی کے تحت ایران کے اندر امریکی جہاز تباہ ہوا ہے ۔جس سے یہ تصور غلط ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کا ایرانی ہوائی زون پر پورا کنٹرول ہے ۔این بی سی لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے اس جنگ میں جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر جنگ ختم کرنے پر رضامند ہونے کے لئے دباؤ ڈالا ہے وہین اب ایران کی جانب سے جو دعوے کئے جارہے ہیں اس سے امریکہ -اسرائیل کے ایرانی ہوائی پٹی کےبالادستی کے دعووں پر شبہ پیدا ہوتا ہے ۔اسرائیل امریکہ کی مشترکہ کاروائی کا اہم مقصد ایران کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنا اور کمزو ر کرنا رہا ہے لیکن ایران نے پورے خطہ میں جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بنائے رکھا ہے امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور ڈیفنس سیکریٹری پیٹر ہیگس نے بار بار کہا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کو پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جہاز انسداد سسٹم کو بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔لیکن جمعہ کو اس دعوے پر سوال اٹھنے لگے جب ایران نے اپنے علاقہ میں امریکی جنگی جہاز ،ایف -15 ای کو مار گرایا ۔ایک جھٹکے میں ایران نے ٹرمپ کی ساری ہیکڑی نکال دی ۔ (انل نریندر)

04 اپریل 2026

ٹرمپ نکلنے کی کوشش میں پھنس گئے ہیں!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6.30بجے وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر ایڈریس کیا ۔ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں پر ایران پر اتنی بمباری کرے گا اسے دورہ قدیم میں پہنچا دے گا ۔20 منٹ کی اس پرائم ٹائم ایڈریس میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ کئی بار پہلے بھی کہہ چکے تھے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان (ایران پر)بہت بڑا حملہ کرنے جارہے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ،اسرائیل فوجی آپریشن خاص حکمت عملی مقاصد کو لے کر تقریباً پورا ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جنگ ابھی 2 سے 3 ہفتے مزید چل سکتی ہے اگر آپ پچھلے ایک ہفتے میں ٹرمپ کے ٹوتھ سوشل پر ڈالی گئی پوسٹ کو جائزہ لیں  تو وہ اس اپنے دیش کے نام ان کی تقریر سے کافی کچھ ملتی جلتی پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے فائدے امریکی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی ۔اس کی وجہ بھی ہے ، چونکہ امریکہ کے کئی سروے بتاتے ہیں کہ 28 فروری کو شروع کی گئی اس فوجی کاروائی کو لے کر زیادہ تر ووٹروں نے عدم اتفاق جتایا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی عوام سے اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ایک سرمایہ کی شکل میں دیکھنے کی اپیل کی اور کہا یہ پچھلی ایک صدی یا اس سے زیادہ وقت سے ہوئی فوجی لڑائی کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہے جن میں امریکہ کے کہیں زیادہ لمبے عرصے تک شامل رہا ہے لیکن ٹرمپ کی تقریر سے امریکی عوام ناراض ہوئی ۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ جنگ کس سمت میں جارہی ہے ۔یا امریکہ کے لئے اس سے باہر نکلنے کے امکانی راستے کیا ہوسکتے ہیں ۔اس میں کئی سوالوں کے جواب نہیں مل پائے پہلا : اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملے کررہا ہے ؟ ساتھ ہی اسرائیل کو ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔جس میں بدھوار کو تل ابیب کے پاس کچھ حملے بھی شامل ہیں ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سرکار ٹرمپ کے بتائے گئے کچھ حملوں کی وقت میعاد سے متفق ہیں ۔فی الحال اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہے کم سے کم موجودہ حالات میں تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔پھر اس 15 نکاتی امن پلان کا کیا ہوا؟جسے وائٹ ہاؤس کچھ دن پہلے ایران سے تسلیم کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ؟ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔کیا اب امریکہ اپنی مانگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے ، جس میں مکمل یورینیم کے ذخیرے کو واپس لینے کی مانگ بھی شامل تھی ؟ اسرائیل نے ابھی ایران پر حملے نہیں روکے ہیں ۔اب دنیا کے سب سے تیل شپنگ راستون میں اسے ایک ہرمز اسٹریٹ اس لڑائی کا فوکس بن گیا ہے ۔ایران نے اس تیل راستہ کو بند کر رکھا ہے ۔حالانکہ صدر کا اس پر کوئی ٹھوس اور طے رخ سامنے نہیں آتا ۔کبھی وہ ایران سے ٹینکروں کو راستہ دینے کی مانگ کرتے ہیں اور اگلے پل ہی ساتھی ملکوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جاکر اسے سنبھالیں ۔بدھوار کو انہوں نے کہا کہ ہرمز پر جاؤ اور بس اسے اپنے کنٹرول میں لے لو ۔اس کی حفاظت کرو اور اپنے استعمال کے لئے اسے کھولو ۔ مشکل حصہ پورا ہو چکا ہے اس لئے یہ آسان ہونا چاہیے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ساتھیوں کو ہرمز جاکر خود تیل حاصل کرنے کی نصیحت دے ڈالی ہے ۔اس کے بعد انہوں نے بغیر زیادہ تصویر بتائے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر ہرمز فطری طور سے پھر سے کھل جائے گا ۔تیل کی قیمتوں کو لے کر فکرمندلوگوں کے لئے یہ بات شاید زیادہ بھروسہ دینے والی نہیں ہوگی ۔وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے تازہ بیان میں ٹرمپ کا وہ تیور پوری طرح غائب تھا ، جب بریفنگ میں اشارے دئیے گئے تھے یہ ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ ایک طرف بڑا سلجھا سوال میدان میں فوجیوں کی موجودگی کو لے کر ہے ۔خطہ میں لگاتار پہنچ رہے ہزاروں مرین اور پیرا ٹروپس وہان کیا کررہی ہیں یا کرنے والی ہیں ؟ٹرمپ کے بیان ہر اگلے دن بدل رہے ہیں یا یوں کہیں صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ کہتے ہیں ۔اس درمیان امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریباً 4 سال میں پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے پار کر گئی ہے ۔اور اسے مفاد عامہ کی ریٹنگ تیزی سے گررہی ہے ۔ (انل نریندر)

02 اپریل 2026

دبئی کو چکانی پڑی سب سے بڑی قیمت !

یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کو بنانے میں 40 سال لگے اور تباہ ہونے میں مشکل سے 10 دن لگے ۔دبئی جو دنیا کے سب سے جدید ترین شہروں میں سے ایک ماناجاتا تھا ،محفوظ ماناجاتا تھا جو دنیا نیا ہب بن گیا تھا اس کو ایران نے ایسا تباہ کیا کہ وہ اتنے پیچھے چلا گیا کہ اب اسے برسوں لگیں گے اسی حالت میں پہنچنے پر ۔امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان ایران مسلسل خلیجی ممالک پر حملہ کررہا ہے ایک خاص بات سامنے آئی ہے کہ ایران سب سے زیادہ یو اے ای کو نشانہ بنا رہا ہے ۔جس دن سے (28 فروری )جنگ شروع ہوئی تب ایرا ن نے 1714 ڈرون 334 بیلسٹک میزائل داغ کر تباہی کی عبارت لکھ دی ہے ۔آخر ایران دبئی ،ابو ظہبی پر مسلسل حملے کیوں کررہا ہے ۔امریکہ،اسرائیل -ایران کی اس جنگ میں ایران نے ان حملوں میں دبئی کے عالیشان ہوٹل ریفائنری ،ایئر پورٹ اور اہم کمرشیل زون کو کافی متاثر کیا ہے ۔ آخر دبئی کو تباہ کرنے کے پیچھے ایران کی حکمت عملی کیا ہے ؟ کیا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ امریکہ وہاں سے اپنے فوجی اڈے چلاتا ہے ؟ یا ان حملوں کے پیچھے ایران کے کچھ اور ارادے ہیں؟ تو اس کا جواب ہتھیاروں سے زیادہ اکونامکس اور انویسٹمنٹ کے آس پاس گھومتی ہے۔ دہشت ، وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی لگتی ہے ۔میگا (میک امریکہ گریٹ یگن) کے نعروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی اقتدار میں دوسری مرتبہ واپسی ہوئی جب سے وہ اقتدار میں لوٹے ہیں ، ان کا پورا فوکس امریکہ کی معیشت کومضبوط کرنے اور بڑے پیمانہ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہورہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے اعدادشمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کو اگلے 10 برسوں میں سرمایہ کاری کے لئے 5.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری عہد میں ملی ہے تو اس 5.2ٹریلین ڈالر میں سے سب سے بڑا حصہ یو اے ای لگارہا ہے ۔اکیلے یو اے ای 1.4ٹریلین ڈالر یعنی کل سرمایہ کا 27 فیصد) صرف یو اے ای نے وعدہ کیا ہے ۔سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو یو اے ای امریکہ کے لئے انکلیس ہیل بنا گیا ہے جس کا مطلب امریکہ کی کمزور کڑی بن گیا ہے۔ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر دبئی پر میزائلیں گریں گی تو وہاں کی معیشت ڈگمگائے گی اور اگر دبئی کی معیشت ہلی تو امریکہ میں آنے والے 1.4ٹریلین کا وہ سرمایہ سیدھے طور پر خطرے میں پڑ جائے گا ۔جس پر ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہا ہے ۔ایران کا نشانہ صرف امریکہ میں جانے والاہے۔دبئی کا پیسہ نہیں ہے بلکہ گلوبل انویسٹمنٹ ہب کی شکل میں دبئی اور یو اے ای کی پہچان کو تباہ کرنا ہے۔دبئی جو خطہ کا زون تھا اقتصادی ،ڈیجیٹل اور میڈیا ہب رہا ہے ۔اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے ۔اہم شیئر انڈیکس ایڈکز جنرل میں پچھلے مہینے میں 11.42 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ہوائی سیکٹربند ہونے لگے اور پروازیں منسوخ ہونے سے سیاحت اور ایویشن سیکٹر میں دبئی کو قریب کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یو اے ای سرکار اور میڈیا نے دیش کو محفوظ جگہ والی ساکھ بنائے رکھنی کی کوشش کی تھی ۔ صدر محمد زائد نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور دیش ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل حمد شیخ الشمسی نے حملوں کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرنے پر سخت وارننگ دی ۔اس حکم کے تحت کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر کم سے کم ایک سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کی سہولت ہے ۔ایران دنیا کو یہ بڑا سندیش دے رہا ہے کہ جنگ کے میدان سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر بھی وہ امریکہ کی دکھتی معاشی نس کو کاٹ سکتا ہے ۔ہر ڈرون حملہ،میزائل اسٹرائک دبئی اور یو اے ای اور خلیجی ملکوں کی اس محفوظ اور مضبوط سسٹم پر ایک زبردست حملہ ہے جسے انہوں نے سالوں سے ریفارم اور شاندار ڈھانچہ بندی کے دم پر بنایا ہے ۔ (انل نریندر)

31 مارچ 2026

زمینی جنگ کی تیاری کررہا ہےامریکہ؟

مغربی ایشیا میں جنگ بندی کی کوششیں کمزور پڑتی جارہی ہیں امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کی شرائط ایسی ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان پر کوئی بھی جھکنے کو تیار ہوگا ۔تو کیاا ب امریکہ منھ چھپانے کے لئے کوئی امریکی جنتاکو اس حماقت جنگ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے زمینی جنگ پر اتر سکتا ہے ؟امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اپنے رخ مزید سخت کر لئے ہیں ۔امریکہ مغربی ایشیا میں مزید فوج بھیج کر فوجی تعیناتی بڑھاتا چلاجارہا ہے ۔قریب 2500 مرین کمانڈو کے ساتھ امریکی وار شپ یو ایس ایس ٹریپولی مغربی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے ۔اسی طرح 82V ایئر بارن ڈویژن کے 2000 پیرائی پر بھیج رہے ہیں ۔دوسرا وارشپ یو ایس ایس باکسر بھی 2300 مرین کمانڈو کے ساتھ اپریل میں پہنچ رہا ہے اس طرح قریب 7000 امریکی فوجی علاقہ میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ 50000 فوجی پہلے سے ہی وسط مشرق میں موجود ہیں اس سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی ڈپلومیسی کے ساتھ زمینی حملے سمیت سبھی متبادل کھلے رکھنا چاہتا ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکمت عملی ناکام رہتی ہے تو ان امریکی فوجیوں کا استعمال خاص طور سے 4 مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے ۔پہلا ایران کے اہم تیل ایکسپورٹ سنٹرکھرگ جزیرہ پر قبضہ یا اس کی ناکابندی اس جزیرہ پر حال میں امریکی فوج نے 90 سے زیادہ ٹارگیٹ پر حملے کئے دوسرا ہرمز جل ڈروم وسط کو محفوظ رکھنا اور اس راستے میں جہازوںکی آمد ورفت کو پھر سے شروع کرنا ۔نمبر 3 ایران کے ساحلی علاقوں پر کاروائی چوتھا : اس کے ایٹمی ٹھکانوں کو محفوظ کرنا اور ایران کے یورینیم زخیرہ پر قبضہ کر لینا ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمینی جنگ کے منصوبوں کے جواب میں ایران نے بڑی تیاری کر لی ہے ۔ایران نے 10 لاکھ جوانوںکی فوج اکٹھی کی ہے ساتھ ہی ایران نے قسم کھائی ہے کہ اگر امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر جنگ کے لئے اترتے ہیں تو ان کے لئے ہم یہ فیصلہ تاریخی جہنم تیار کر دیں گے۔ چلیے ایک نظر اس بات پر ڈالتے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر اپنے فوجی اتاردیتا ہے اور خلیجی جزیرہ اور ایران کے ساؤتھ تیل ذخیرہ پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کے تیل ایکسپورٹ کو تقریباً پوری طرح الگ تھلگ کیاجاسکتا ہے شاید اس سے ہرمز جل ڈروم وسط کا ایشو پوری طرح حل نہیں ہو پایا ۔امریکہ اس کے کچھ حصوں پر قبضہ کر سکتا ہے لیکن ایران اچانک جنگ کی حکمت عملی (جیسے گوریلا وار) کا استعمال کرکے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول بنائے رکھ سکتا ہے ۔دونوں فریقین میں بھاری فوجی مریں گے یا زخمی ہوتے ہیں اور ایران میں شہری زخمی یا مرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتیجے ہوں گے ۔یہ امکان ہے کہ امریکی فوج محدود یا وسیع پیمانہ پر ایران میں پھنس سکتی ہے۔ مثال کے لئے ویتنام اور افغانستان ہمارے سامنے ہیں فوجی کاروائی آسان راستہ نہیں ہوسکتا ہے یہ کبھی بھی صاف ستھری مہم نہیں ہوسکتی ایسی مہم کبھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی اوریہی اس جنگ کی سچائی ہے ۔ (انل نریندر)

28 مارچ 2026

نہ ٹرمپ پر بھروسہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی منظور

مغربی ایشیا میں لڑائی کے خاتمے کے لیے امریکا کی 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایران نے الٹا اپنی 5 شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 15 نکاتی امن تجویز کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر مستر د کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ بڑی شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے واضحطور پر کہا ہے کہ وہ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب اس کے مطالبات پورے ہوں گے۔ امریکہ نے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو ٹرمپ پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی کو قبول کرتا ہے۔ ایران کی پانچ شرائط میں جنگی نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ، ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر سابقہ خود مختاری شامل ہے۔ تہران کا واضح موقف ہے کہ امن صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب امریکہ اس کی شرائط مان لے اور مخطے کے تمام مزاحمتی گروپوں پر حملے بند کر دے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس شدید جنگ میں تہران نے بھی اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 نکاتی تجویز پیش کی تھی ۔ ان مطالبات میں شامل ہیں : ایران اپنی تینوں بڑی ایٹمی سائٹس کو بند کر دے۔ اسے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دینا چاہیے۔ اسے اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے۔ اسے حماس ، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنی چاہیے۔ اسے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا چاہیے۔ اسے یہ وعدہ بھی کرنا چاہیے کہ وہ کبھی بھی جو ہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ موجودہ افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مطالبات تھے۔ میں نے امریکہ کے اہم مطالبات کا ذکر کیا ہے۔ مجھے اس بات پر سمجھوتہ کرنا مشکل ہے کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کم و بیش درست مسائل پر بات چیت فروری میں ہوئی تھی۔ ان نکات کو سرخ لکیریں کہا جا سکتا ہے، جن پر ممالک متفق نہیں ہو سکتے ۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تنازع کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایسے پیغامات کے تبادلے کا مطلب مذاکرات نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ چھیڑنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکہ ایران میں جنگ اور حکومت کی تبدیلی میں فتح چاہتا تھا، دونوں ناکام رہے۔ دریں اثناء ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جس امریکی سٹریٹجک طاقت پر فخر کیا تھا وہ اب تزویراتی شکست میں تبدیل ہو گئی ہے ۔... ہم امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے گمراہ نہیں ہوں گے ۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی ایک تجویز میں ایران کو جنگ بندی کے لیے پاکستان یا ترکی میں مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی جسے ایران نے صاف طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بیضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال جو ہری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسے سفارتی غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ہمیں دو بار دھوکہ دیا ہے، اور ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہماری رائے میں طاقت حل نہیں ہے ۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ایران پر حملے بند ہوں۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک طرف امن کی تجویز بھیجیں پھر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور حملے جاری رکھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ بھی یہ کر رہا ہے۔ وہ اپنی زمینی افواج میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ ایک طرف نئے جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے اور دوسری طرف امن کی بات کرتا ہے۔ یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ مجھے ٹرمپ پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔
ائل نریندر

26 مارچ 2026

ڈیمونا:اسرائیل کا سیکریٹ نیوکلیئر ری ایکٹر!



ایران۔ اسرائیل جنگ کاایک دوسرے کے نیوکلیائی اسٹیشنوں پر پہنچ جانا بیحد خطرناک ہے۔سنیچر کی صبح امریکہ۔ اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کو نتانگ نیوکلیئر مرکز کو نشانہ بنایا تو ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اراد کے ساتھ ساتھ ڈیمونا شہر پر بھی میزائلیں داغیں۔ڈیمونا اسرائیل کا وہ جنوبی حصہ ہےجہاں سے محض 13 کلو میٹر دور اہم نیوکلیائی مرکز ہے۔تل ا بیب کی مانیں تو یہ حملہ دراصل اس کے نیوکلیائی سینٹر کو مرکز میں رکھ کر ہی کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 180 سے زیادہ لوگ زخمی ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ اسرائیل فوج نے بتایا کہ وہ اس بات کی بھی جانچ کررہی ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکا کیوں نہیں جاسکا۔ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ایران کے دعوے میں کچھ سچائی ہے۔ اس کی میزائلوں نے اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیاہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل کو روکنے کی کوشش کی لیکن انٹرسپٹر اسے مار گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔انٹر نیشنل نیوکلیائی انرجی ایجنسی نے ان حملوں کے سبب شکر ہے کہ کسی طرح کی ریڈی ایشن یعنی کرنیں نکلنے سے انکار کیا ہے جو یقیناً اچھی بات ہے، لیکن دونوں جگہوں پر جان مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ڈیمونا سائوتھ اسرائیل کے نیگرو ریگستان میں واقع ہے ۔یہ ایک اہم نیوکلیائی پلانٹ ہے۔ اسرائیل کی اپنے نیوکلیائی پروگرام کو لیکر کوئی صاف پالیسی نہیں ہے۔ سرکاری طورپر اس کا کہنا ہے کہ ڈیمونا ری ایکٹر صرف ریسرچ کے لئے ہے۔ حالانکہ اسٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 90 نیوکلیائی جنگی جہاز ہیں جس سے وہ مشرقی وسطیٰ کا ایک واحد نیوکلیائی پاور کفیل دیش بن جاتا ہے۔ ڈیمونا ری ایکٹر کو شیمون پیریس میگو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے نیوکلیائی پروگرام کی ریڑھ مانا جاتا ہے۔ دراصل قریب36 مربع کلو میٹر کیمپس میں پھیلا ہوا ہے۔ قریب2700 سائنسداں اور تکنیکی ماہرین یہاں کام کرتے ہیں۔ ڈیمونگ کو اسرائیل کےلئے لٹل انڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی یہودی فرقہ رہتا ہے۔ قریب30 فیصد آبادی ہندوستانی نژاد کی ہے اور مراٹھی زبان بولتے ہیں۔ دوکانوں میں سوہن پاپڑی، گلاب جامن،پاپڑی چاٹ بھیل پوری ملتی ہے۔ امریکہ۔ ایران ۔ اسرائیل کی یہ جنگ جتنی خطرناک شکل اختیار کررہی ہے وہ نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ ڈیمونگ اور ایرانی نیوکلیائی مراکز میں یورینیم اور پلوٹینیم کے ذخیرے ہیں۔اگر ان میں اخراج ہوا تو نہ صرف آس پاس کے لوگ شکار ہوں گے بلکہ پورا مشرقی وسطیٰ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ نیوکلیائی مادہ کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں اس کی تکلیف دہ نظیر موجود ہیں۔ جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شر ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکہ نے نیوکلیائی بم گرائے تھے تو لٹل بام (یورینیم) اور فیٹ مین نامی ان بموں نے 2 لاکھ لوگوں کی زندگی ختم کردی تھی اور جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا تھا۔آج ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن بم کئی ملکوں کے پاس ہیں۔ ایران ۔ امریکہ۔ اسرائیل جنگ کو اور پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا کو سامنے آنا پڑے گا۔یہ اچانک نہیں عالمی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس پر مسلسل زور دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ مسئلہ کا حل جنگ نہیں۔ ٹیبل پر بیٹھ کر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔اس کا حل جنگ نہیں بات چیت سے تلاشنا ہوگا۔یہ کام جتنی جلدی ہو اس جنگ کو رکنا چاہئے۔دنیا کی اسی میں بھلائی ہے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2026

چار ہزار کلو میٹر دور ایران کے حملے نے چونکا دیا!

ایران اور امریکہ -اسرائیل جنگ خطرناک موڑ پر پہچ گئی ہے امریکہ اسرائیل کی ایئر فورس نے سنیچر کی صبح ایرانی نیوکلیئر ہارڈ نتاج نیوکلیئر پروسیسنگ سنٹر پر خوفناک حملہ کیا ۔ایرانی نیوکلیائی اینرجی آرگنائزیشن نے اسے مجرمانہ حملوں سے تعبیر کیا ہے ۔حالانکہ پلانٹ سے کسی ریڈیو کرنیں رساؤ کی خبر نہیں ہے ۔امریکہ -اسرائیل کے اس حملے کا اثر اب عالمی جنگ پھیلنے کی سطح تک پیدا ہوگیا ہے ۔نتانج پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی (آپریشن -2 پرسیسٹنس ) ہند مہاساگر میں موجود امریکہ برٹین کے ایئر بیس ڈی اے گے گراسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے اور دنیا کو چونکا دیا۔ ایران نے پہلی بار غیر اعلانیہ 2000 کلو میٹر کی لمٹ توڑ کر 4000 کلو میٹر دور تک حملے کی صلاحیت دکھائی ۔رپورٹ کے مطابق ایک میزائل اڑنے کے دوران ناکام ہو گئی ۔جبکہ دوسری کو روکنے کے لئے امریکی جنگی بیڑے نے ایس ایم -3 انٹر سپٹر کا استعمال کیا ۔حالانکہ اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔یہ حملہ اس لئے اہم ماناجارہا ہے کیوں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے قریب 4000 کلو میٹر دوری پر واقع ہے جو ایران کی اعلان کردہ 2000 کلو میٹر رینج سے دگنی ہے ۔اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ایران کی میزائل صلاحیت کو لے کر بنی پرانی کہانیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ایران کو لے کر خیال تھا کہ اس کے پاس 2000 کلو میٹر تک رینج کی صلاحیت ہے لیکن اس حملے سے دنیا حیران رہ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق 4000 کلو میٹر تک کی رینج ایران کو ایٹر میڈیٹ رینج میزائل صلاحیت کے قریب لے جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یوروپ کے کئی بڑے شہر جیسے پیرس ،برلن اور روم بھی ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں ۔جبکہ لندن بھی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ خطرہ اب صرف خلیجی ممالک یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حملہ صرف فوجی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑا حکمت عملی پیغام بھی ماناجائے گا ۔سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے مطابق ایران کے پاس مغربی ایشیا میں سب سے بڑے اور سب سے کارگر میزائل ذخیرہ ہے اس ذخیرے میں کئی لمبی دوری کی میزائلیں شامل ہیں جو اسرائیل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان میں اینجل ، خورم شہر اور قدرشامل ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلیں اسرائیل تک تو تباہی مچا ہی رہی ہیں ۔لیکن اب یہ دائرہ بھی بڑھ سکتا ہے ایران کے پاس الگ الگ صوبوں میں کم سے کم پانچ گھات حملہ آور زیر زمین میزائل شٹیز بھی ہیں ۔ایران کے میزائل ذخیرہ میں موٹار ،راکیٹ ،ڈرون اور بیلسٹک اور کروز میزائلیں شامل ہیں ۔بتادیں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے تقریباً 4000 کلو میٹر تک دور وسط ہند مہاساگر میں بھارت کے ساؤتھ اور سری لنکا کے ساؤتھ ویسٹ میں واقع ہے ۔ یہ یاگوس ذخیرہ گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ہند پرشانت سیکٹر خطہ میں واقع دو اہم ترین امریکی بم برسانے والے جنگی جہازوں کے بیس میں سے ایک ہے ۔دوسرا اڈہ ،گوام میں واقع اینڈر سین ایئر فورس اڈہ ہے ۔امریکہ -برطانیہ کے ذریعے چلائے جانے والاسب سے زیادہ حکمت عملی اہمیت والے بے حد خفیہ ملیٹری بیسس میں سے ایک ہے۔ ایران اگر یہاں تک پہنچا ہے تو یہ ایک بہت اہم ترین واقعہ ہے ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2026

نیتن یاہو کی سازشوں کا نتیجہ !

اگر ایران اسرائیل امریکہ جنگ پھیلتی جارہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ نتین یاہو کی سازشیں ہیں ۔یہ ساری کری کرائی نتین یاہو کی ہے ۔28 فروری کو سب سے پہلا کام نیتن یاہو نے یہ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپریم فوجی کمانڈر و خفیہ چیف وغیرہ کو شہید کر دیا ۔نیتن یاہو یہیں نہیں رکے انہوں نے اگلا نشانہ بنایا ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو مارڈالایہ اس لئے بھی کیا کہ تاکہ اس لیڈر کو راستے سے ہٹاد یاجائے جو ایک اصلاح پسند ،لائق اور بیچ بچاؤ کرکے اس جنگ کو کسی طرح روکنے میں مدد کر سکتا تھا اور یہی نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے ۔لاریجانی ایران کے نمبر 2 کے لیڈر تھے ۔یہ ٹرانزیشنل کونسل کے ذریعے دیش چلارہے تھے ۔ایران کے آئین کی آرٹیکل 111 کے مطابق سپریم لیڈر کی موت یا نااہلیت کی صورت میں ایک کونسل دیش چلاتی ہے لیکن لاریجانی ان سب کے اوپر تھے ۔ایران کی ریوولیوشنری گارڈ کور یعنی فوج بھی ان کے حکم کو مانتی تھی ۔پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین اور سینئرپالیسی مشیر کےطور پر علی لاریجانی کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نیوکلیائی مذاکرات حکمت عملی پر سورگیہ مرحمو آیت اللہ علی خامنہ ای کو صلاح دینے کے لئے معمول کیا گیا تھا۔علی لاریجانی کے قتل کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے جنرل غلام رضا سلیمانی کو بھی مار ڈالا۔ریولیوشنری گارڈ کی بسیط فوج کےوہ چیف تھے ۔دراصل نیتن یاہو نے سوچا تھا اگر وہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کر دیں گے تو جنگ جیتنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ایران بکھر جائے گا لیکن اس کا ہوا الٹا ۔ایرانی عوام ہمدردی میں سڑکوں پر اتر آئی جو آیت اللہ نظام سے ناراض تھی وہ ہی نظام کی حمایت میں اتر گئی ۔نیتن یاہو کو شاید اس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ اگر ختم ہو جائے گی تو اتنی جلدی اس کا متبادل سامنےآکر مورچہ سنبھال لے گاجب اسرائیل نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ الٹا ہو گیا تو اس نے نئی سازش رچی ۔اس درمیان یہ اشارے بھی آنے لگے کہ امریکی صدر گھریلو دباؤ کے سبب اس جنگ سے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے تو نیتن یاہو پریشان ہو گئے۔ یاد رہے کہ جب پچھلے سال جب 12 دن جنگ چلی تھی تو سب سے پہلے اسرائیل نے حملہ کیا تھا بعد میں اس نے امریکہ کو زبردستی اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا ۔اب بازی ہاتھ سے نکلتے دیکھ نیتن یاہو نے ایک نئی اور نہایت خطرناک چال چلی اس نے بغیر امریکہ سے پوچھےا یران کے سب سے بڑے اینرجی اداروں میں سے ایک بشر میں واقع اصلومیہ گیس پلانٹ (ساؤتھ پارس )پر حملہ کر دیا ۔اس ہوئے واقعہ سے ایران کو بھڑکنا فطری ہی تھا اس نے خلیج میں موجود تیل اور گیس کے کارخانوں کی سیٹلائٹ فوٹیج جاری کر زون بنا دئیے کہ ان علاقوں کو فوراً خالی کریں اسرائیلی حملے کے جواب میں قطر کے راس لافان کی ایل این جی پی گیس فیلڈ پر حملہ کر دیا یہ قطر کی اہم ایل این جی پروسیسنگ کارخانہ ہے ۔اور دیش کا اینرجی نیٹورک کا اہم مرکز ہے ۔سعودی عرب نے کہا کہ حالانکہ انہوں نے کئی ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا لیکن اس کے تیل بھنڈار کے اسٹوریج پر بھی کچھ نقصان ہوا ہے ۔ رہی سہی کسر ایران کے ذریعے ہرمز اسٹیج کوبند کرکے پوری کر دی ۔ہرمز اسٹریٹ دنیا کے سب سے اہم سمندری کمرشیل راستوں میں سے ایک ہے ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ماناہے اور لکھا کہ اسرائیل اس بات کو ضروری اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر کوئی اور حملہ نہیں کرے گا ۔کیا یہ بیان ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو سنانے کے لئے دیا تھا ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کو آگے بڑھانے کے لئے نیتن یاہو اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

17 مارچ 2026

جنگ کے لمبا کھچنے کا امکان

ایران -امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی ۔امریکہ اسرائیل کو امید تھی کہ یہ جنگ چند دن چلے گی اور ایران اپنے گھٹنوں پر آجائے گا ۔انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنا جوابی حملہ کرے گا اور یہ جنگ اتنی لمبی کھچے گی ۔ایران امریکہ -اسرائیل کو منھ توڑ جواب دے رہا ہے ۔ایران کے نئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں ہی صاف کر دیا کہ ایران جھکنے والانہیں ہے ۔خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی ٹی وی پر نشر ہوکرتے ہوئے اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔خامنہ ای نے پیغام میں اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی جاری رکھنے اور کناب اسکول کے بچوں سمیت شہید ہوئے لوگوں کے خون کا بدلالینے پر زور دیا ۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ کاذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے مسلسل حملے جار ی رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے آگے کہا کہ دیگر مورچوں کو کھولنے پر بھی غور کیاجارہا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یمن میں ایران کے ساتھیوں لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں مزاہمت کاروں کی تعریف کی ہے ۔خامنہ ای کا یہ پیغام ان کی صحت اور جسمانی حالت کو دیکھ کر چل رہی قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے ۔ادھر امریکہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان سے وابستہ کئی سینئرحکام کے بارے میں جانکاری دینے پر بڑی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔امریکی خارجہ محکمہ کے روارڈ فار جسٹس کے تحت ان لوگوں کے بارے میں ٹھوس جانکاری دینے والوں کوزیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام دیاجاسکتا ہے ۔یہ قدم ایران کی فوجی اور سیکورٹی ڈھانچہ سے جڑے نیٹورک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیڈروں کو مارنا سمان کی بات ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ہم ایران کے دہشت گردانہ حکومت کو فوجی ،اقتصادی او ر د یگر طور سے پوری طرح تباہ کررہے ہیں ۔وہ 47 برسوں سے بے قصوروں کو مارررہے ہیں اور اب میں انہیں ماررہاہوں۔ ایسا کرنا سمان کی بات ہے ۔امریکی صدر نے ادھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے کھرک آئی لینڈ پر بڑے حملے کئے اور فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا یہ امریکہ -اسرائیل کا ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے ۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے اس حکمت عملی جزیرہ پر بڑے ہوائی حملے میں فوجی اڈوں کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب پوری طرح کمزورہوچکا ہے اور سمجھوتہ چاہتا ہے لیکن ایسے سمجھوتہ نہیں ہوگاجسے وہ قبول کریں ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ہرمز آبی بندرگاہ میں جہازوں کی آمد ورفت روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ تیل اسٹرکچر پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بدل سکتا ہے ۔افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ ٹرمپ اب امریکی بری سینا کو بھی ایران میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔بتادیں کہ کھرگ آئی لینڈ سے ایران کا بہت بڑا حصہ دوسرے دیشوں پر تھوپاجاتا ہے ۔امریکہ اپنی مرین کارپ کے ذریعے کھرگ آئی لینڈ رپ زبردستی قبضہ کرنے کا پلان بنارہا ہے خبر تو یہ بھی ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے امریکہ نے 2500 مرین ایران کی طرف روانہ بھی کر دئیے ہیں ادھر ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں لبنان سے حزب اللہ نے نارتھ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے ہین اور اسرائیل نے بھی زبردست جوابی کاروائی کی ہے ۔اسرائیل نے لبنان میں بھاری تباہی مچائی ہے ۔اس بڑھتی جنگ سے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی لے کر تشویش بڑھ گئی ہے ۔اینرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی تیل سہولیات کو سیدھا نشانہ نہیں بنایاگیا ہو لیکن فوجی حملوں کا اثر ایکسپورٹ سسٹم پر پڑ سکتا ہے ۔جنگ لمبی کھچنے کی امریکہ نے خلیجی سیکٹر میں تو بے چینی بڑھائی ہی ہے ۔ساتھ ہی پورے دیش میں اس کو لے کر ٹنشن بڑھا دی ہے ۔ (انل نریندر)

14 مارچ 2026

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو برا پھنسایا!

ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں ماہرین اب یہ بات کرنے لگے ہیں کہ اصل میں اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے یعنی کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا پھنسایا ہے کہ اب انہیں پیچھے ہٹنے کا بہانہ مل رہا ہے ۔نہ صرف امریکہ کو ہی پھنسایا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے دیگر عرب ملکوں کو بھی پھنسا دیا ہے ۔اس سے آہستہ آہستہ خلیج میں امریکہ کے معاون ساتھی دیش بھی اس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔امریکہ میں ہوئے حالات کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام اس ایران جنگ کو غیر ضروری مان رہی ہے ،جو امریکہ پر بری طرح سے مالی بوجھ بڑھائے گی ۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو لے کر کئی تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔جنگ اب 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اسرائیل نے امریکہ کو ایسا پھنسایا ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے کیا کریں؟ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو جنگ میں کھینچ لیا ۔کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو خطرے کی شکل میں پیش کر ٹرمپ کو جنگ میں الجھا دیا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کہیں اور ہیں ۔وہ اس جنگ کے ذریعے سب کو دھمکانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کا اس حملے کے ذریعے اہم مقصد ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی میں رخنہ ڈالنا اور غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں سے عالمی توجہ بھٹکانا تھا ۔نیتن یاہو کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان پر چل رہے کرپشن کے مقدموں سے اسرائیلی عوام کی توجہ بھی ہٹانا ۔امریکی صدر ٹرمپ کو اسرائیل کی کاروائی میں کریڈٹ لینے کی چاہت نے پھنسایا ہے ۔شروع میں الگ تھلگ رہنے والے ٹرمپ ایران پر حملے سے بچتے رہے لیکن نیتن یاہو کے پاس پتہ نہیں ٹرمپ کی کون سی خفیہ کنجی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ دی ۔مجبوری میں ٹرمپ اب دعوے کررہے ہیں کہ ہم ایران کے آسمان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں ایسے دعوے کررہے ہیں کہ جو اسرائیل کی جارحانہ جارحیت کو بڑھاوا دے رہاہے وہ زبردستی امریکہ کے ساتھ لمبی کروائی میں جھونک رہا ہے ۔جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دراصل امریکہ ایران کا صحیح تجزیہ نہیں کرپایا ۔اسرائیل اور امریکہ نے سوچا تھا کہ ایران جلد ی ٹوٹ جائے گا لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں اور درپردہ گروپوں کی سرگرمی نے لڑائی کو زونل بنا دیا۔ سپریم لیڈر اور ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل جیسے قدموں نے نہ صرف دنیا کے شیعہ مسلمانوں کو متحد کیا بلکہ تمام سنی بھی امریکہ اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں ۔امریکی ٹھکانوں پر یہ پورے وسطی ایشیا میں عرب ملکون کے اوپر ایران تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔امریکہ کے 17 فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ 11 دن کی لڑائی میں اسرائیل پر 9115 میزائل ،راکٹ حملے ہوئے ہیں اور وہاں کی انشورنش کمپنیوں پر جو معاوضہ کے دعوے ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حزب اللہ حملوں سے 6586 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عمارت میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے جو یاتو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اسرائیل میں 1485 گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔1044 کارخانے بھی تباہ ہو گئے ہیں بتادیں کہ اسرائیل میں نقصان کی خبروں پر سنسر لگا ہوا ہے اس لئے صحیح پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے ۔یہ تو یروشلم پوسٹ کے دعووں کا حوالہ ہے ۔ٹرمپ اب باہر نکلنے کے راستے تلاش رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 مارچ 2026

خامنہ ای کبھی مرتے نہیں ہیں!

ایران نے اپنا سپریم لیڈر چن لیا ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر چنے گئے ہیں ۔دنیا کے خود ساختہ بادشاہ سلامت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا ؟ یہ میں ان ۔۔۔۔ایران نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور صاف بتادیا ہے کہ ایران ٹرمپ ،نیتن یاہو کے سامنے جھکنے والانہیں ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 ممبری دھارمک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کو چننے کے ادارے کے ایک بیان کو ایرانی ٹی وی پر اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں بےحد سنگین حالات اور ہمارے ادارے کے خلاف دشمنوں کی سیدھی دھمکیوں کے باوجود اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے سچیوالے کے دفاتر پر بم باری سے اس کے کئی ملازمین اور سیکورٹی ٹیم کے ممبران شہید ہو جانے کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کی کاروائی ایک پل کے لئے بھی نہیں رکی ۔اس کے بعد اینکر نے ایک نعرہ لگایا -اللہ اکبر ،اللہ اکبر خامنہ ای ہی رہبر ۔امریکی اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد کئی لوگوں کو اندیشہ تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی مارے گئے ہیں ۔کئی دنوں تک مجتبیٰ کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی لیکن تین مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا مجتبیٰ زندہ ہیں اور انہیں ایران کا سپریم لیڈر چن لیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تو کبھی کوئی پبلک بیان دیا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالانہ کوئی انٹرویود یا ان کی بہت کم تصویریں اور ویڈیو نشر ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتی دستاویز میں انہیں پردے کے پیچھے اصلی طاقت بتایا گیا تھا۔ ان کو حکومت کے اندر ایک اہل اور مضبوط لیڈر ماناجاتا ہے ۔8 ستمبر 1969 کو ایران کے نارتھ ایسٹ شہر یشہد میں پیدا مجتبیٰ ، امام علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے مقام پر ہیں ۔میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران -عراق جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔مدرسوں کے انتظام میں آیت اللہ کی ڈگری ہونا اور مذہبی اسلامی کلاسز کو پڑھانا کسی شخص کی کافی صلاحیت اور علم کا ثبوت ماناجاتا ہے ۔یہ مستقبل میں نیتا چنے جانے کی ضروری شرطوں میں سے ایک ہے ۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی نام کا اعلان ہوا ،ایران کی فوج ،اسلامی ریبولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی )اور سیاسی لیڈروں نے فوراً مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا حلف لیا ۔آئی آر جی سی نے بیا ن جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرنے خود کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔فوج کی سرکردہ لیڈر شپ نے بھی اپنی پوری وفاداری کا وعدہ کیا ہے ۔ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے طاقتور عہدہ سنبھالتے ہی ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا ۔مانا یہ پہلے سے طے تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یوں کہیں کہ ایران اب اور طاقت سے حملہ کرے گا ۔یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس جنگ کی زبردست نئی میزائلوں سے حملہ کیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس فتویٰ کو بدلیں گے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنائے گا؟ (انل نریندر)

10 مارچ 2026

ایران حملے کی قیمت ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تو نیتن یاہو کے اکسانے پر جنگ شروع تو کر دی لیکن انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑائی لمبی اور مہنگی پڑ سکتی ہے ۔جو لڑائی چار دن میں ختم ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی وہ آج دسویں دن بھی ختم ہونا تو دور کی بات ہے یہ بڑھتی جارہی ہے ۔یہ امریکہ کو دونوں فوجیوں کی موت اور مالی تنگی کی مار جھیلنی پڑرہی ہے جس کا اس نے کبھی اندازہ نہیں لگایا ہوگا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اب اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی یہ لڑائی چار پانچ ہفتے تک چل سکتی ہے ۔واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس اور کرسپارک کے ذریعے کئے گئے تجزیہ کے مطابق ایران کے خلاف آپریشن ایپک تھیوری کے تحت جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر (قریب 31 ہزار کروڑ روپے ) خرچ اٹھانا پڑرہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے شروعاتی 100 گھنٹوں میں امریکہ کا اوسط خرچ تقریباً 891 ملین ڈالر یومیہ یعنی قریب 90 کروڑ ڈالر روز رہا ہے ۔شروعاتی مرحلے میں سب سے زیادہ خرچ مہنگی میزائلوں ، ہتھیاروں اور بموں کے استعمال پر ہوا ہے ۔اس لئے شروعاتی دنوں میں لاگت سب سے زیادہ ہے ۔تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1.7 ارب ڈالر جیسے ایئر ڈیفنس انٹرسپٹرس سسٹم پر خرچ کئے گئے ہیں جبکہ 1.5 ارب ڈالر میزائلوں اور دیگر جارحانہ ہتھیاروں پر خرچ کئے گئے ہیں اس کے علاوہ 125 ملین ڈالر جنگی جہازوں اور ہوائی آپریشن کے چلانے پر خرچ کئے گئے ہیں ۔سی ایس آئی ایس کے مطابق خرچ میں سے صرف تقریبا200 ملین ڈالر ہی پہلے سے امریکی ڈیفنس بجٹ میں شامل تھے جبکہ قریب 3.5ارب ڈالر کا خرچ فاضل ہوا ہے ۔جس کے لئے الگ سے فنڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ڈیفنس وزارت کو جلد ہی جنگ جاری رکھنے کے لئے مزید بجٹ کی مانگ کرنی پڑ سکتی ہے ۔اس کے علاوہ قطر ،جارڈن ،یو اے ای میں جو ایئر ڈیفنس کے راڈار اور دیگر مشینری جو تباہ ہوئی ہے جن کی قیمت اربوں ڈالر میں ہے کا تو حساب ہی نہیں ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اندازہ کے مطابق جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ نے 2000 سے زیادہ طرح کے ہتھیار اور میزائلوں کا استعمال کیا ہے ۔ان ہتھیاروں کے اسٹاک کو 2 بار بھرنے میں تقریباً 3.1 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں ۔تھنک ٹینک نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ جنگ کا انسانی نقصان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ایران میں ہی تقریباً 1500 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ان میں 180 چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں جن کے اسکول پر امریکہ نے بحرین سے بم مارا ۔امریکہ کے کتنے فوجی مرے ہیں یہ تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے ۔امریکہ نے فی الحال 6-7 فوجیوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے ۔لیکن ایرانی دعویٰ کررہے ہیں یہ تعداد سینکڑوں میں ہے ۔خرچ کے علاوہ ، کویت میں فرینڈلی فائر کے واقعہ میں 3 امریکی اور 1 ایف -15 امریکی جنگی جہاز گر گئے ۔ بتادیں کہ ایک ایف -15 جو انتہائی جدید اس فائٹر جیٹ کی قیمت تقریباً 800 کروڑ روپے ہے ۔ایران پر حملہ کرتے وقت امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ یہ جنگ اسے کتنی مہنگی پڑے گی ۔ لڑائی لمبی کھچنے سے اور ایرانی جوابی کاروائی سے ٹرمپ کی نیند اڑی ہوئی ہے ۔آئے دن وہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں ۔ٹرمپ تو پھنس گئے ہیں لیکن باہر کیسے نکلیں انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے۔خرچ کےعلاوہ اندرونی سیاسی دباؤ ،ایپسٹین فائل ، ساتھ ہی عرب ممالک کا دباؤ یہ سب امریکہ ٹرمپ پر بھاری پڑرہا ہے۔ پریشان ہو کر ٹرمپ کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لیں جس سے پوری دنیا سکتے میں آئے؟ (انل نریندر)

06 مارچ 2026

جنگ تم شروع کرو گے ختم ہم کریں گے!

یہ وارننگ دی تھی آیت اللہ علی خامنہ ای نے شہید ہونے سے پہلے ۔انہوں نے ایک بار نہیں بار بار یہ خبردار کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر امریکہ -اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم منھ توڑ جواب دیں گے ۔ایسا جواب دیں گے جس کا امریکہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔اتنا ہی نہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جوابی کاروائی پورے مشرقی وسطیٰ کے ملکوںمیں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہوگی ۔اور یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چار دن میں ایران کو گھٹنوں پر لادیں گے ۔اور نیا اقتدار قائم کردیں گے اب جنگ کے 7-8 دن گزر چکے ہیں اب وہی ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ 4-5 ہفتے کھچ سکتی ہے ۔دراصل امریکہ پھنس گیا ہے طالبان اگر 20 سال بعد بھی لڑائی کے بعد بھی زندہ رہا تو اس کے پیچھے اس کی حکمت عملی اور افغانستان کے جغرافیائی حالات تھے ۔ایران بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی چیلنج پیش کرنے والاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یقینی جانیے اگر امریکی فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو ویتنام اور افغانستان کی طرح اسے ذلیل ہو کر بھاگنا پڑ سکتا ہے ۔دہائیوں سے خلیجی ملکوں کو امریکی سیکورٹی کو لے کر بھرم بنا ہوا تھا لیکن آسمان سے برستی ایرانی میزائلوں نے اس بھروسہ کو توڑ دیا ہے ۔ایران نے خلیج کے ملکوں ، یو اے ای ،سعودی عرب اور کویت بحرین میں جم کر میزائلیں برسائی ہیں اور امریکی اڈوں کو تباہ کیا ہے ۔ایرانی حملوں کا مقصد اور پیغام صاف تھا کہ جو دیش امریکی فوج کو حملے کے لئے اپنی زمین دے رہے ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ایران کے وزیرخارجہ عباس افراہیمی نے کہا کہ تہران نے اس علاقہ میں دشمنوں کے فوجی اڈوں پر حملے کرکے شروعات کی ہے وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ اگلے 4-5 ہفتوں تک اور چل سکتی ہے ۔جس سے مشرقی وسطیٰ میں اور تباہی پھیلنے کے اندیشات بڑھ گئے ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ کے قتل کے بعد مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں صورتحال امریکی ٹھکانوں پر تابڑ توڑ ایرانی حملے ہورہے ہیں اس میں سعودی عرب میں امریکی سفارتخانوں قطر کے العدید ایئر بیس ،بحرین میں امریکی ایئر فورس کے پانچوے بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور دبئی کے کئی ہوٹلوں اور اہم ترین فوجی عمارتوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اب جنگ پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیل چکی ہے ۔امریکی سعودیہ کے اکنامک مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے وہاں کی سب سے بڑی آرامکو ریفائنری پر بم برسائے ہیں۔ یہ حملے اتنے خطرناک ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کو لے کر ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا تھا اور ٹرمپ کو امید تھی کہ سر کاٹنے سے سسٹم گر جائے گا لیکن ہوا الٹا ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں ،خامنہ ای کے لئے لاکھوں لوگ ماتم کرتے نظر آئے ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں بلکہ ایرانی سرکار کی حمایت کرتے نظر آئے اور انتقام لینے کے ارادے دکھائی دئیے ۔اقتدار ڈہا نہیں بلکہ ایران نے پورے مشرقی وسطیٰ کو ہلا دیا ۔اب ٹرمپ بھی سمجھ گئے ہیں کہ جنگ لمبی چلے گی ۔کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ کی تیاری ایران پچھلے 40 سال سے کررہا تھا ۔اور وہ لمبی لڑائی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں دوسری طر ف امریکی فوجیوں کے باڈ ونگ امریکہ پہنچنے لگے ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اب یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے ؟ اشارہ صاف ہے کہ یہ آگ اور پھیلنے والی ہے اور تباہی ہوگی ۔ (انل نریندر)

03 مارچ 2026

آیت علی خامنہ ای کی شہادت!

میں سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنی شردھانجلی پیش کرنا چاہتا ہوں ۔دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو یاد رکھے گی ۔ان کی بہادری کی مثال شہادت کو ہر ذکر میں چھائی رہے گی ۔وہ یہ جانتے تھے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر ہیں اور ان پر کسی بھی لمحے حملہ ہوسکتا ہے پھر بھی وہ تہران چھوڑ کر نہیں بھاگے نہ تو کسی بنکر بین شیلٹر میں گئے اور نہ ہی کسی خفیہ جگہ پر ۔وہ اپنے دفتر میں کا م کرتے ہوئے انہوں نے شہادت کو گلے لگانا چنا۔وہ اپنے دیش کے لئے قربان ہو گئے لیکن دشمن کے سامنے پیٹھ نہیں چھپائی ۔بیشک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو خامنہ ای کو مار کر وینر ہونے کا دعویٰ کررہے ہوں لیکن انہوں نے خامنہ ای کا قتل کرکےبڑا خطرہ مول لے لیا ہے ۔خامنہ ای کی شہادت نے سارے ایران و اسلامی دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے خلا ف کھڑا کر دیا ہے اس کے نتیجے سامنے آنے بھی لگے ہیں ۔کویت یو اے ای ،قطر، بحرین پر ایرانی میزائلیں گررہی ہیں ۔یو اے ای تو اس آرٹیکل لکھنے تک 167 میزائلیں برسا چکا تھا ۔ایرانی پلٹوار کا قہر سب سے زیادہ یو اے ای پر ٹوٹا ۔یو اے ای کے وزارت دفاع نے کہا ایران کی جانب سے دیش کے کئی حصوں میں اب تک 165 بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور 541 ایرانی ڈرون سے حملہ کیا جاچکا ہے ان میں سے 506 کو ہوا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا جبکہ 35 دیش کے علاقہ میں گری ۔دبئی خاص طور پر نشانہ پر ہے کیوں کہ یہاں امریکی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹر ہیں اور ایران امریکہ کی اقتصادی طاقت کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے ۔اس لئے وہ ایسی جگہوں پر حملہ کررہا ہے جہاں امریکہ کی سب سے بڑی کمپنیاں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب کیسے گئے ؟ یہ سوال سب پوچھ رہے ہیں کیا کوئی موساد - سی آئی اے کا سلیپر ایجنٹ تھا جس نے پختہ جانکاری تھی کہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہوں گے اور میٹنگ میں کون کون ہوگا ؟ بغیر کسی پختہ جانکاری کے یہ حملہ ممکن نہیں تھا ۔پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کیا کررہے تھے ۔وہ اس میزائل یا کروز بموں کو انٹڑ سیپٹ کیوں نہیں کرسکا ۔کیا امریکہ نے ایران کے راڈار حملے سے پہلے ہی جام کر دئیے تھے ۔اسرائیل کے ایک ایف -35 فائٹر جیٹس نے ایران ایئر ڈیفنس کو ٹوہ لیتے ہوئے تہران میں اڈے بیت رہبری پیلیس پر 2000 کلو کے 40 بنکر بسر بم گرائے ۔یہ لیزر - گائیڈ دی ٹرینر ہیں یعنی پیلس کے اندر گراؤنڈ میں بھی چھپے خامنہ ای کو مار گرایاجاسکا ۔اسرائیلی فوج نے ریم پیج ڈیلیزا کروز میزائلوں سے بھی حملہ کیا ۔حملے میں وزیر دفاع عامر ناصر زادہ ،آرمی چیف عامر اور ریویوشنری گارڈس کے چیف محمد پاک پور سمیت تقریباً 40 اعلیٰ افسر اور مذہبی پیشوا مارے گئے ۔ذرائع کے مطابق ان سے تقریباً 15 لوگ خامنہ ای کے پیلیس میں ایک میٹنگ کے لئے جمع ہوئے تھے ۔امریکہ اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران میں نظام یعنی عہد بدلے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ اپنے اس مقصد میں کتنا کامیاب رہتا ہے ۔فی الحال تو ایران کی بدلے کی کاروائی سے بچنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ایران تہران نے بڑی جوابی کاروائی میں کویت، قطر ،بحرین میں امریکہ کے کئی بڑے ملیٹری اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغی ہیں ان میں بھاری نقصان کی خبر آئی ہے۔ سعودی عرب جارڈن میں بھی حملے کی خبر ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے مرنے سے پہلے ہی دوسری لائن کھڑی کرکے گئے تھے ۔ایران میں حملے کے فوراً بعد ہی جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ۔دیکھیں یہ جنگ آگے کتنی بڑھتی ہے ۔کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کی شکل تو نہیں لیتی ؟ (انل نریندر)

28 فروری 2026

مودی کا اسرائیل دورہ اور عرب میڈیا!

وزیراعظم نریندرمودی کا اسرائیل دورہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے رشتے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ان کی تقریر ان سب کا تذکرہ عرب میڈیا میں خوب ہورہا ہے ۔عر ب میڈیا اس دورہ کو صرف بھارت -اسرائیل رشتوں کے طور پر نہیں بلکہ بڑے علاقائی سبھی اسباب کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔کئی عرب تبصرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ یہاں تاریخی طور سے بھارت ٹو نیشن تھیوری کی بات کہتا ہے اور فلسطینی خطہ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے وہیں مودی کی لیڈر شپ میں وہ اسرائیل کے بےحد قریب آچکا ہے ۔عرب میڈیا اس بات پر بھی توجہ دے رہا ہے کہ بھارت کا موجودہ موقف اسرائیل اور فلسطینیوں کے رشتوں میں اس کے روایتی موقف سے الگ سمت میں جارہا ہے ۔جہاں پہلے بھارت کی خارجہ پالیسی میں اس بات پر زور تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی اہمیت اور دونوں سے ہی برابر دوری بنائے رکھے گا ۔وہیں اب بھارت کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں مفاد پر مبنی رشتے زیادہ اہم ہو گئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق بھارت اپنے پڑوسیوں سے کشیدگی بھرے رشتوں اور اپنی فوجی ضرورتوں کے پیش نظر اب وہ اسرائیل کے زیادہ نزدیک جارہا ہے ۔عرب میڈیا نے وزیراعظم مودی کے اس دورہ کا ذکر کے ساتھ ساتھ غزا میں اسرائیل پر لگے قتل عام کے الزامات کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے ساتھ ہی بھارت کے اپوزیشن لیڈروں کی ان تبصروں کو بھی اپنی کوریج میں شامل کیا ہے جن میں وہ اسرائیل پر لگے ان الزامات کے مد نظر پی ایم مودی کے دورہ کی مخالفت کررہے ہیں ۔الجزیرہ کے اسرائیل -فلسطین معاملوں کے واقف کار اعظم عبدالادس کہتے ہیں کہ ہندوستانی وزیراعظم کا یہ دورہ گہرے حکمت عملی تبدیلی کی علامت ہیں ۔بھارت اسرائیل ساجھیداری اس خطہ میں ایک نئے علاقائی پولورائزیشن کو جنم دے گی ۔آنے والے وقت میں مشرقی وسطیٰ اور ایشیا کی سیاست میں بھارت اسرائیل کا اہم رول ہوگا ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ فوجی ساجھیداری کا اشارہ دیا ۔اس سے صاف ہے کہ اس سیکٹر میں پاکستان ،ترکی وسعودی عرب کے امکانی اتحاد کو چنوتی دینے کے لئے بھارت اور اسرائیل اتحادی ملکوں کے ان میں نزدیک آرہے ہیں ۔بھارت اسرائیل کے ساتھ اس گٹھ بندھن کو پاکستان کے ساتھ اپنے علاقائی رشتوں اور ایشیا میں اپنی فوجی ،ڈپلومیسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔وہیں اخبار الجزیزہ نے مودی کے اسرائیلی پارلیمنٹ سینٹ میں دئیے گئے خطاب پر لکھا : غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کے سنگین الزام کے باوجود بھارت نے اسرائیل سے یکجہتی دکھائی اور پی ایم مودی نے غزہ میں اسرائیل کے تباہ کن جنگ کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔بھارت نے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لئے مودی سرکار ہندو راشٹر واد کا سہارا لے رہی ہے ۔پی ایم مودی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں ۔آپ کا دکھ سمجھتے ہیں وجہ کوئی بھی ہو شہریوں کے قتل کو جائز نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔خلیجی جنگ میں بھارت میں نریندر مودی کے اس دورہ کا جن اپوزیشن لیڈروں نے مخالفت کی ہے اسے بھی کور کیا ہے اور کانگریس نیتا پرینکا گاندھی کے اس بیان کو جگہ دی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پی ایم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے غزہ میں کئے گئے قتل عام کا بھی ذکر کریں گے ۔لندن ویسٹ اینڈ دی عرب لکھتا ہے کہ مودی ایک کٹر ہندو راشٹر وادی نیتا ہے وہ دنیا میں ان چند لیڈروں میں شمار ہے جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ اتحاد دکھایا تھا لیکن بھارت ان 100 سے زیادہ ملکوں میں بھی شامل ہے جنہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے محدود اختیارات کو کمزور کرنے کے اسرائیل کی کوششوں کی مذمت کی ہے ۔اسرائیل جنگ کے وقت دورہ کا کیا یہ مطلب نکالاجائے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھاری تبدیلی آرہی ہے ۔بھارت کو اب عرب ملکوں کے رد عمل کی کوئی فکر نہیں ہے ؟ (انل نریندر)

26 فروری 2026

ٹرمپ کی دھمکی ،رمضان کی رونق !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان ایران میں رمضان کو لے کر جوش میں کوئی کمی نہیں نظر آرہی ہے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے اندر عام زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ادھر ایران سے ملحق علاقے میں امریکی فوج کی مسلسل بڑھتی تعیناتی اب صرف اشارہ دینے تک محدود نہیں لگتی بلکہ یہ حقیقت میں جنگ کے واضح اشارے ہیں ۔امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس زیرلڈ فورڈ کے ایرانی آبی خطہ کے پاس پہنچنے سے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں امریکی فائٹر جیٹ و دیگر ساز وسامان بھی اس علاقہ میں پچھلے کچھ دنوں سے لائے گئے ہیں ۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ -اسرائیل یہاں کئی سطحوں پر فوجی کاروائی کے لئے متبادل تیار کررہا ہے ۔ایران میں یہ نظریہ مضبوطی ہوتا جارہا ہے کہ ٹرمپ اپنی بات منوانے کے لئے فوجی دباؤ بنا رہا ہے ۔جنگ کی آہٹ کے باوجود ایران میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آرہا ہے ۔مساجد میں خصوصی نماز و افتار پارٹیاں ، تراویح صدقہ و فطرہ اہمیت سے بٹ رہا ہے ۔اسلای رپبلکن نیوز ایجنسی نے رمضان کے موقع پر صدر مسعود زیششکین کا پیغام نشر کیا ہے ۔انہوں نے اس مہینے کو آتم چنتن اور اتحاد کا وقت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے کے لئے سازش کررہی ہیں ۔۔لیکن وہ ہمارے لئے جو بھی پریشانیاں پیدا کریں ، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اس سے مغربی ایشیا میں ایک علاقائی جنگ چھڑسکتی ہے۔ ساری کشیدگی اور زیادہ بڑھ سکتی ہے ۔خامنہ ای نے کہا کہ ایران اکسانے کی پالیسی نہیں اپناتا لیکن انہوں نے صاف کیا کہ ایرانی ملک پر اگر کوئی حملہ یا اذیت پہنچائی گئی تو ایران ایسا سخت جواب دے گا جس کا امریکہ -اسرائیل کو اندازہ نہیں ۔ہم پر کوئی بھی شرارت ہو چاہے وہ لمٹڈ اسٹرائک ہی کیوں نہ لیکن اس کا پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔وسطی مشرق کی تمام امریکی فوجی ساز وسامان سمیت ان کے جنگی بیڑے بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنی شرطیں بدل رہے ہیں پہلے انہوں نے تین شرطیں رکھی تھیں : ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام ختم کرے ، اپنی میزائلوں کی پروڈکشن اور صلاحیت کم کرے اور تمام اپنے پروکسیوں کی حمایت بند کرے ۔ایران سے امریکہ کی اس سلسلے میں دو بار جین ورب والی بات چیت ناکام ہو چکی ہے ۔اب تیسری اور آخری دور کی بات ہورہی ہے ۔ا س درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے اب کہا ہے کہ ایران میں اقتدار تبدیل سے بہتر کچھ ہو ہی نہیں سکتا ۔امریکہ ان چاروں طریقوں سے ایران کو گھیرنے کی جنگی پالیسی پر کام کررہا ہے ۔جنگی جہازوں کی تعیناتی بحر عرب میں تعینات امریکہ کے بڑے جنگی بردار بیڑوں کو گھیرنے کی ہے ۔پہلے بڑی تعداد میں ڈریکس سے جہازوں کی حفاظت سسٹم کو الجھائیں گے ، تاکہ میزائل کو روکنے میں کامیاب رہیں : دوسری خلیج کے ملکوں میں موجود امریکی 19 اڈوں پر قریب 50 ہزار فوجی کسی بھی وقت حملے میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ حالانکہ یہی فوجی ایران کے نشانہ پر بھی ہوں گے ۔تیسرا تیل سپلائی روکنا امریکہ اس کوشش میں ہے کہ ایران کسی بھی دیش کو اپنے یہاں سے تیل کی سپلائی نہ کر سکے تاکہ اس کی مالی حالت بگڑے ۔اس نے بھارت پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ بھارت ایران سے تیل لینا بند کرے ۔اس درمیان اسرائیل سے ایک غیر مصدقہ خبر سوشل میڈیا میں چل رہی ہے کہ اسرائیل نے اب وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے وجود پر خطرہ ہوا تو وہ ایسے ہتھیار چلائے گا جو ابھی تک استعمال نہیں ہوئے ۔اشارہ صاف ہے کہ نیوکلیائی بم کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔ کل ملا کر بڑی دھماکہ خیز حالت بنی ہوئی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ جنگ ٹلے کیوں کہ یہ اگر ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

24 فروری 2026

فیصلہ ٹرمپ کےٹیرف منسوخ کرنے کا !

ماننا پڑے گا کہ امریکہ میں آج بھی جمہوریت زندہ ہے ۔آئین بالاتر ہے ۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے دکھا دیا کہ وہ آئین کی حفاظت کرنے میں کسی کے سامنے نہ تو جھکنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گی چاہے وہ امریکہ کے صدر کیوں نہ ہوں ۔امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز فیصلہ سنایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ ٹیرف غیر آئینی ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جون رابرٹرس نے فیصلہ 6/3کی اکثریت سے دیا یعنی 6 ججوں نے ٹیرف کو ناجائز بتایا اور 3 اس سے غیر متفق تھے ۔ٹرمپ امریکی ٹریڈ معاہدوں کو نئے سرے سے کرنے کے لئے دنیا بھر میں ٹیرف کا دباؤ بنانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے دوسرے عہد کی کسی پالیسی کو فیصلہ کن طور سے منسوخ کیا ہے ۔دیگر سیکٹروں میں عدالت کے کنزرویٹو اکثریت نے اب تک ٹرمپ کو نگراں پاور س کے وسیع استعمال کی چھوٹ دی تھی ۔اس بار سپریم کورٹ میں چھ ججوں کی اکثریت تین کنزرویٹو اور تین لبرل نے کہا کہ بغیر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ ) کی واضح اجازت کے اتنے وسیع ٹیرف لاگو کر ٹرمپ نے حد پار کی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ 1977 کا قانون انٹرچنجنل ایمرجنسی اکنامک پاور س ایکٹ ، درپردہ طور سے ٹیرف کی اجازت دیتا ہے ۔جسٹس رابرٹس نے کہا کہ صدر جس اختیار کا دعویٰ کررہے ہیں وہ کسی بھی پیمانہ پر حد سے باہر کا تھا ۔چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا ہے ،اگر کانگریس ٹیر ف لگانے جیسی غیر معمولی اختیار دینا چاہتی ہے تو وہ صاف طور سے کر سکتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی دلیلوں کو قبول کرنا اور ٹریڈ پالیسی پر ایگزیکٹو اور آئین سازیہ کے لمبے اشتراک کو ختم کر صدر کو بے کنٹرول طاقت دینا ہوگا ۔ٹرمپ کے ٹیرف کو ناجاز بتانے کے فیصلے سے تین کنزرویٹو جج کلیرش تھامس ،سیموئل الیٹو اور بریٹ کیدنو نے رضامندی جتائی ۔ٹرمپ نے ان تینوں ججوں کی تعریف بھی کی ہے ۔کیدنونے کہا کہ کئی قانون صدور کے ٹیرف اور درآمدات پر پابندی لگانے کی اجازت دیتے ہیں ۔ان کے مطابق 1977 کا قانون نیشنل ایمرجنسی کے دوران غیر ملکی خطروں سے نمٹنے کے لئے صدر کو اجازت دیتے ہیں ۔اِدھر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں فیصلے کو خطرناک اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ وہ عدالت کے کچھ ممبران سے شرمندہ ہیں ۔انہوں نے کہا یہ فیصلہ غلط ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیوں کہ ہمارے پاس بہت طاقتور متبادل موجود ہے ۔ٹرمپ کے پاس دو بڑے متبادل ہیں ۔پہلا: ٹرمپ امریکی کانگریس یعنی نمائندہ ہاؤس اور سینٹ میں ٹیرف کی تجویز کو پاس کرانے کے لئے رکھ سکتے ہیں ۔435 ممبری ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی رپبلکن 218 جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹ 213 ممبران ہیں جبکہ 100 کی سینٹ میں رپبلکن 53 اور ڈیموکریٹ 47 ہیں ۔ٹیرف کے خلاف سینٹ میں دیکھا جائے تو ٹرمپ کو پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور ٹیرف کو رکھنے سے شاید پرہیز کریں ۔دیگر تقاضے لاگو کر سکتے ہیں ۔لیکن لمبی کاروائی ہوگی ۔ٹرمپ امریکی آئین کی دفعہ 301 کے تحت ٹیرف قانون کو لاگو کر سکتے ہیں ۔صدر سیکورٹی کے تحت ٹیرف کو جائز ٹھہرایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے چین اور کنیڈا اور میکسیکو پر انہیں تقاضوں کے تحت ٹیرف لگایا تھا حالانکہ انہیں تقاضوں کو بھی کورٹ میں چنوتی دی جاسکتی ہے ۔ٹرمپ نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔جمعہ کی رات انہوں نے کہا دیگر قانونی اختیارات کی بنیاد پر کیا 10 فیصد ورلڈ ٹیرف لگانے کے حکم پر دستخط کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ نے کہا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم اور زیادہ پونجی اکٹھا کریں گے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ساری دنیا میں اب ریفنڈ کی مانگ اٹھنی شروع ہو گئی ہے ۔آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا ؟ (انل نریندر)

21 فروری 2026

اجیت پوار طیارہ حادثہ!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت دادا پوار کے طیارہ حادثہ کے قریب 20 دن بعد ان کے بیٹےنے چُپّی توڑی ۔چھوٹے بیٹےجے پوار نے ایک بے حد جذباتی پوسٹ کے ذریعے جانچ پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔انہوں نے سیدھے طور پر کہا کہ طیارہ کا بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے ۔بتادیں کہ کسی بھی طیارہ حادثہ میں جب سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے تو اس کے اندر بلیک باکس نہ تو آگ سے اور نہ پانی سے زمین پر گرنے سے ،دھماکہ سے ضائع نہیںہوتا ۔20 برسوں تک وہ محفوظ رہتا ہے ۔جے پوار نے صاف طور پر کہا ہے کہ بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیاجارہا ہے ۔جنتا کو سچ جاننے کاحق ہے ۔جے پوار نے سسٹم کو کٹھ گھرے میں کھڑا کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ طیارہ حادثہ میں بلیک باکس آسانی سے ضائع نہیں ہوسکتے۔مہاراشٹر کی عوام کو اس دل دہلا دینے والے حادثہ کا پورا اور صاف ستھرا اور بلا تنازعہ سچائی جاننے کا حق ہے ۔جے پوار نے جہاز کی کمپنی وی ایس آر کے خلاف فوراً سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی ہے ۔اس کمپنی کے اڑانے اور کنٹرول کرنے پر فوری پابندی لگائی جانی چاہیے ۔اگر جہازوں کے دیکھ بھال میں ہوئی متعلقہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے ۔پوسٹ کے آخر میں انہوں نے بے حد جذباتی ہو کر لکھا : مس یو ڈیڈ ۔ادھر اجیت پوار کے بھتیجے اور ممبر اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی اچانک موت میں سازش کا اندیشہ ہے ۔روہت پوار نے ممبئی میں دعویٰ کیا کہ کئی ذرائع سے مفصل معلومات اکٹھی کرنے کے بعد وہ پریس کانفرنس کررہے ہیں اس میں روہت پوار نے کہا کہ انہیں ایئر لائنس کمپنی وی ایس آر بکنگ سنبھالنے والی کمپنی ایرو اور پائلٹ سمت کپور پر شبہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں جانکاری اس لئے اکٹھی کرنی پڑی کیوں کہ جانچ ایجنسیاں بہت دھیمی رفتار سے کام کررہی ہیں ۔اجیت دادا پوار کے پریوار اور این سی پی نے اب اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ تیزکر دی ہے نائب وزیراعلیٰ سمترا پوار نے وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس سے مل کر اس معاملے میں اعلیٰ سطحی جانچ کی درخواست دی ہے ۔پرفل پٹیل، سنل تٹکرے اور پارتھ پوار جیسی ہستیوں کی موجودگی میں سرکار سے مانگ کی ہے ۔اس حادثہ کے پیچھے کی ہر سازش یا لاپرواہی کا پردہ فاش ہونا چاہیے ۔ان کا سیدھا نشانہ اس جہاز رانی کمپنی پر ہے جس کا طیارہ اس حادثہ کا شکار ہوا ۔الزام لگ رہا ہے کہ کیا جہاز کی سروسنگ او ر سیکورٹی پیمانوں میں کوئی کمی برتی گئی تھی ؟ 28 جنوری کو ہوئے اس حادثہ میں اجیت پوار سمیت پانچ لوگوں نے اپنی جان گنوائی ۔اس واقعہ کے بعد سے ہی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ عام ایک حادثہ یا کوئی گہری سازش ؟ محترم اجیت دادا پوار کی اچانک موت سے پورے مہاراشٹر کو گہرا دھکا لگا ہے یہ کہنا ہے ایم پی سپریہ سلے کا این سی پی گروپ نے مانگ کی ہے کہ اس حادثہ کی جانچ پوری ہونے تک وزیر جہاز رانی کے رام موہن نائیڈو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے ۔ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ ا س معاملے کی منصفانہ آزادانہ جانچ ضروری ہے تاکہ حادثہ کے اسباب کا صاف پتہ چلے لیکن ایسا ہوگا کیا ؟  (انل نریندر)

19 فروری 2026

نکھل گپتا کو ہوسکتی ہے 40 سال کی جیل!


ایک ہندوستانی شخص نے جمعہ کو نیویارک میں علیحدگی پسند لیڈر گرو پنتھ سنگھ پنو ںکے 2023 میں قتل کی ناکام سازش رچنے کے الزام میں قصور قبول کر لیا ہے ۔پتہ نہیں پچھلے کچھ دنوں سے بھارت اور امریکہ کے ستارے ٹکرا رہے ہیں ۔ایک کے بعدا یک نئی پریشانی کھڑی ہوتی جارہی ہے ، پہلے گوتم اڈانی کا معاملہ پھنسا پھر بھارت -امریکہ ٹریڈ ڈیل پر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور اب پنوں کے قتل کی سازش میں معاملہ پھنس گیا ہے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ یہ اس معاملے میں پہلا جرم قبول کیا گیا ہے جسے کنیڈا اور امریکہ کے حکام نے بھارت سرکار کی جانب سے حریفوں کے قتل کی مہم سے جڑابتایا تھا ۔امریکہ میں ہندوستانی نژاد کے نکھل گپتا ، علیحدگی پسند لیڈر گروپنتھ سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش تیار معاملے میں اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت نیویار ک کی ایک عدالت میں ہورہی ہے ۔اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نکھل گپتا نے قتل کے لئے سپاری دینے ،قتل کی سازش تیاری کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ کی سازش سے جڑے تینوں الزامات کو بھی قبول کر لیا ہے ۔گپتا کو 26 مئی کو سزا سنائی جائے گی ۔ امریکہ میں ان تینوں الزامات میں ملوث طور پر 40 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ گپتا کو 30 جون 2023 کو چیک رپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا ۔بعد میں اس کی حوالگی کرائی گئی ۔الزام ہے کہ نکھل گپتا نے سازش ہندوستانی سرکاری ملازم رہے وکاس یادو کے کہنے پر رچی تھی اس سلسلے میں وکاس یادو کو سی سی کہہ کر مخاطب کیا گیا ۔اس سلسلے میں مارچ 2025 میں ہی وزارت خارجہ سے کہا تھا کہ وہ( وکاس یادو )اب بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔ چارج شیٹ کے مطابق ، 2023 میں یادو نے گپتا کو قتل کا کام سونپا تھا ۔یادو کے کہنے پر گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ قائم کیا جو اصلیت میں امریکی جانچ ایجنسی سی آئی اے کا ہی انڈر کور ایجنٹ تھا ۔وکاس یادو نے ایک ساتھی کے ذریعے اس ہٹ مین کو ایڈوانس کے طور پر 15 ہزار ڈالر دیے ۔2023 میں ہی وزارت خارجہ نے کہا تھا نکھل گپتا کو تین بار چیک جمہوریہ میں کونسلیٹ مدد دی گئی ۔یوں تو معاملہ امریکہ میں 2023 سے چھایا ہوا ہے، لیکن اس معاملے میں اس حالیہ واردات کی ٹائمنگ کو بھی اہم ماناجارہا ہے ۔جب بھار ت اور امریکہ کے تعلقات بہت صحیح نہیں ہیںاور دونوں دیشوں کے درمیان ٹریڈ ڈیل کو لے کر ایک تجارتی انترم سمجھوتہ کو اگلے مہینے تک قطعی شکل دینے کی امید ہے ۔ایسے میں بھارت کے لئے آگے کی راہ آسان نہیں نظر آتی ۔محکمہ انصاف نے پنوں کے قتل کو سازش اور 18 جولائی کو کنیڈا میں خالصتانی شخص نجر کے قتل سے بیچ میں لنک جوڑے ۔ایف بی آئی کے ڈائرکٹر رومن روز ہارٹ سونی نے کہا کہ امریکی شہری صرف بولنے کی آزادی کا سوال کرنے کے لئے ٹرانس نیشنل ریپریشن نشانہ بنا ۔یعنی اذیت کے لئے کسی دوسرے دیش کی سرزمین کا استعمال کی سازش ہے ۔اس لفظ کا استعمال کنیڈائی حکام نے کنیڈا میں نجر کے قتل پر کیا تھا ۔بھار ت سرکار کے اشارے پر کی گئی بتایا گیاہے ۔جسے بھار ت سرے سے خارج کر چکا ہے۔ بھارت میں پچھلے 7 نومبرمیں امریکہ کی جانب سے اٹھائی گئی سیکورٹی تشویشات پر غور کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جانچ ایجنسی تشکیل دی گئی تھی ۔اکتوبر 2024 میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پنوں کے خلاف ناکام قتل کی سازش سے جڑے محکمہ انصاف کے مقدمہ میں جس شخص (وکاس یادو) کا نام سامنے آیاتھا ۔وہ اب بھارت سرکار کا ملازم نہیں ہے ۔بنیادی طور سے کمیشن میں سرکاری افسر کو سی سی کہا گیا ۔اکتوبر 2024 میں ہی امریکی حکام نے دوسرا ترمیم مقدمہ سامنے پیش کیا ۔جس میں سی سی کی پہچان وکاس یادو کے طور پر کی گئی ۔بعد میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمیں مطلع کیا گیا مقدمہ میں تذکرہ شدہ شخص اب بھارت میں کام نہیں کرتا ہے ۔ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب وہ بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نکھل گپتا کے خلاف امریکی عدالت میں کیس آگے کیسے بڑھتا ہے ۔یہ دیکھنا ہوگا کہ وکاس یادو کو لے کر امریکہ بھارت پر کتنا دباؤ بناتا ہے اور بھار ت سرکار آگے کیا کرے گی؟ 
(انل نریندر)

17 فروری 2026

جیفری ایپسٹین فائلس!

آپ نے تارا کنڈ فائلس ،کیرالہ فائلس ،کشمیر فائلس اور بنگال فائلس کا تو نام سنا ہی ہوگا ۔اور آپ میں سے بہت سوں نے انہیں دیکھا بھی ہوگا لیکن آج میں آپ کو ورلڈ فیمس ایپسٹین فائلس کے بارے میں بتاتا ہوں ۔جیفری ایپسٹین کون تھا؟ ایپسٹین فائلس جی ہاں یہی وہ دو لفظ ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتظامیہ کو مہینوں سے پریشان کررہے ہیں ۔جیفری ایپسٹین امریکہ کا ایک امیر فائنانسر تھا اس پر عورتوں اور نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے سنگین الزام لگے تھے ۔وقت کے ساتھ اس نے کافی دولت بنائی اور اس کے بعد اس کے رشتے بڑے کاروباریوں ، سیاستدانوں اور بین الاقوامی ہستیوں سے جڑتے چلے گئے ۔ سال 2019 میں اسے امریکہ کے فلوریڈا اور نیویارک میں نابالغوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔اس سے پہلے وہ 2008 میں بھی ایسے ہی معاملوں میں جیل جاچکے تھے لیکن تب اسے بہت کم سزا ملی تھی ۔اگست 2019 میں جیل میں اس کی پراسرار طریقہ سے موت ہو گئی ۔جسے امریکی سرکار نے خودکشی بتایا۔ ایپسٹین فائلس ان سرکاری دستاویز کا ایک مجموعہ ہے ۔جو ان کے خلاف جانچ سے وابستہ ہیں ۔ان میں پوچھ تاچھ کے ریکارڈ عدالت سے وابستہ کاغذات اور دیگر ثبوت شامل ہیں ۔ایپسٹین کی پر اسرار موت کے بعد سے ہی لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اس کے معاملوں میں کن کن لوگوں کا ہاتھ رہا ہے ۔جب یہ فائلیں سامنے آئی تو کئی بڑے ناموں کاذکر ہونے کے سبب بحث اور تیز ہو گئی ۔چلڈرن جنسی استحصال کے قصوروار جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم کو لے کر ٹرمپ انتظامیہ مسلسل بحران سے لڑرہا ہے ۔امریکہ کی ہاؤس اوور سائیڈ کمیٹی نے ایپسٹین سے جڑے لاکھوں دستاویز جاری کئے ہیں۔ان میں ریل ،ویڈیو ،چیٹ وغیرہ شامل ہیں ۔معاملہ ایک نابالغ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے بعد سامنے آیا ۔تب ایک لڑکی (14 سال) کے والدین نے فلوریڈا پولیس کو بتایا کہ جیفری ایپسٹین نے اپنے پاس بیچ پر واقع گھر میں ان کی بیٹی سے چھیڑ چھاڑ کی تھی ۔پورے گھر میں لڑکیوں کی تصویریں ملیں اور اسے ایک نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کا قصوروار ٹھہرایا گیا ۔ایپسٹین سے جنسی جرائم کی شکل میں رجسٹرڈ کیا گیا ۔11 سال بعد 2019 میں اس پر پھر الزام لگاکہ وہ نابالغ لڑکیوں کو سیکس ریکٹ نیٹورک چلارہا ہے ۔جیل میں ٹرائل کا انتظار کرتے ہوئے اس کی موت ہوگئی جسے خودکشی بتایاگیا ۔ان دنوں میں بہت سارے دستاویز جمع ہوئے ہیں ۔جیسے متاثرین او ر گواہوں کے بیان ان کے گھروں میں الماری میں ملی چیزیں۔ 2025 کے امریکہ کے محکمہ انصاف کے ایک وزیر کے مطابق معاملے میں ایک دی مائی کے پاس 300 گیگا وائٹ (جی بی) سے زیادہ ڈیٹا اور ثبوت ہیں ۔محکمہ انصاف کہتا ہے کہ اس میں متاثرین کی بہت ساری تصویریں اور ویڈیو ہیں ۔جو بچیوں کے جنسی استحصال سے وابستہ ہیں ۔انہیں سامنے نہیں لایاجاسکتا کیوں کہ نیا قانون ڈسکور پہچان چھپانے کی اجازت دیتا ہے ۔یہی جانکاری ایپسٹین فائلس ہے جو وقتاً فوقتاً جاری ہو رہی ہے ۔ایپسٹین فائلس سے جڑے 30 لاکھ نئے دستاویز جاری کئے گئے ہیں ۔کچھ میٹر پہلے ہی سامنے آچکا ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملوں میں ایک انتہائی سنگین اور چونکانے والاالزام سامنے آیا ہے امریکہ کے محکمہ قانون کے ذریعے حال ہی میں جاری کئی فائلوں میں نابالغ لڑکیوں اور عورتوں کی درندگی کا انکشاف ہوا ہے ۔ایک فائل کے مطابق دو غیر ملکی عورتوں کی موت جنسی رشتوں کے دوران گلا پھاڑنےکے سبب ہوئی تھی ۔بعد میں ایپسٹین کے ایک ملازم نے انہیں نیو میکسیکو میں واقع فارم ہاؤس جوٹورینچ میں دفنا دیا ۔اس میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی میکسویل بھی شامل تھی ۔یہ میکسویل کون تھی ، اس کے بارے میں پھر بتاؤں گا ۔ایک دیگر فائل کے مطابق ایک نابالغ لڑکی نے خود کو ہیومن اچیور کی طرح استعمال کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ای میل کے مطابق ، جو ٹو رینچ میں لڑکیوں کو لمبے عرصے تک بند رکھا گیا اور ان سے زبردستی حمل ٹھہروایا گیا ۔بچے پیدا کرائے گئے اور پیدائش کے بعد یہ بچے غائب ہو گئے۔ میں نے جیفری ایپسٹین جو کہ ایک انسان نہیں تھا جانور سے بھی بدتر یا اس کے بارے میں کچھ جانکاری دی ہے کیوں کہ یہ معاملہ ابھی چل رہا ہے اس لئے جو بھی اپڈیٹ ہوگا آپ تک لانے کی کوشش کروں گا ۔اس انسان خور کی پرتیں کھلتی جارہی ہیں ۔ (انل نریندر)

14 فروری 2026

ایپسٹین سے میری ملاقات ہوئی تھی!

ساری دنیا میں اس وقت اس ایپسٹین فائلس کا تذکرہ جاری ہے ۔امریکہ میں نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانوں کی اسمگلنگ کے ملزم عرب پتی جیفری ایپسٹین سے جڑے خفیہ دستاویز سامنے آتے ہی دنیا کے اقتدار اور رسوخ کے گلیاروں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔جیفری ایپسٹین کی پوری کہانی کسی اور دن بتاؤںگا ،آج تو ایپسٹین فائلس اور بھارت کے ایک وزیر کا نام سامنے آنے کے بارے میں بتاؤں گا ۔ایک طویل تعطل کے بعد بدھوار کو لوک سبھا میں بجٹ پر بولتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ اور بھارت کی ٹریڈ ڈیل پر مودی سرکار پر کئی الزام لگائے انہوں نے کئی اہم اشوز پر سوال اٹھائے۔ اپنی تقریر میں لیڈر آف اپوزیش جیفری ایپسٹین فائلس، انل امبانی اور اڈانی سے وابستہ معاملوں پر بھی بولے۔ انہوں نے انل امبانی اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری پر بھی الزام لگائے ۔راہل گاندھی کی جانب سے ان اشوز کو اٹھانے کے بعد حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ بڑھ گیا۔ کیوں کہ لوک سبھا میں ہوئی بحث میں ہر دیپ سنگھ پوری کا نام آگیا تھا ۔اس لئے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بعد میں باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کی اور اپنا موقف رکھا ۔ہردیپ پوری نے کہا کہ ایپسٹین سے ان کی ملاقات صرف تین چار موقعوں پر ہوئی وہ بھی ایک نمائندہ وفد کے حصہ کے طور پر ہوئی تھی اور ان کے ساتھ صرف ایک ای میل کا تبادلہ ہوا تھا ۔پارلیمانی وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی کے الزامات کو بے بنیاد بتایا اور اسپیکر سے درخواست کی کہ راہل گاندھی کی تقریر کی غلط باتوں کو کاروائی سے ہٹا دیاجائے ۔اُدھر راہل گاندھی نے ایپسٹین فائلس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہی انل امبانی کا تعارف امریکی سرمایہ کار اور جنسی استحصال کرمنل جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ایک بزنس مین ہے انل امبانی ، میں پوچھا چاہتاہوں کہ وہ جیل میں کیوں نہیں ہے ۔میں ہردیپ پوری سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے انہیں ایپسٹین سے تعارف کروایا تھا ۔ہردیپ سنگھ پوری نے اپنی پریس کانفرنس میں کئی باتیں کہیں انہوں نے کہاایپسٹین سے وابستہ تیس لاکھ فائلیں ریلز ہوئی ہیں اور میں نیویارک میں 8 سال رہا ۔میں اقوام متحدہ میں بھارت کا سفیر بن کر 2009 میں پہنچا تھا اور 2017 میں میں وزیر بنا اور 8 برسوں میں ممکنہ طور پر تین یا چار بار میٹنگ کا سلسلہ رہا ۔ امریکہ میں ہندوستانی سفیر کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے کچھ ماہ بعد مجھے انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ ( آئی پی آئی ) میں مدعو کیا گیا تھا ۔ میں آئی سی ایم کے چیرمین جو آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم تھے کے ساتھ ایک ڈیلی گیشن میں ایپسٹین سے ملا تھا۔ ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا تھا کہ ایپسٹین سے جڑے دیگر معاملوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ہردیپ سنگھ پوری کی پریس کانفرنس کے بعد کانگریس کے سینئرلیڈر پون کھیڑا نے ایکس پر پوسٹ ڈالتے ہوئے پوری سے کچھ سوال پوچھے ۔پون کھڑا نے لکھا ۔۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ان کے روابط نے انہیں ریڈہاف مین سے ملوایا تھا ۔لیکن جو انہوں نے نہیں کہا وہ زیادہ معنی رکھتا ہے ۔4 اکتوبر 2014 کو ایپسٹین نے ہردیپ سنگھ پوری کو ای میل کیا ۔کیا ریڈ سے ملاقات ہوئی؟ پوری نے جواب دیا میں آج دوپہر ایک میٹنگ کے لئے سین فرانسسکو میں ہوں میرے دوست تم تو چنج کروا دیتے ہو کوئی صلاح؟ اس کے بعد پون کھیڑا نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں 6 سوال پوچھے ، یہ سوال تھے پہلا : ایپسٹین کی ریڈ کے ساتھ ان ملاقاتوں کے بارے میں پہلے ہی کیسے پتہ چل گیا ؟ دوسرا : کیا ایپسٹین ہی وہ کانٹیکٹ تھا جس نے ریڈ ہاف مین کے ساتھ ملاقات کروائی تھی ؟ تیسرا: ہردیپ اس سے ملاقات کی جانکاری کیوں ڈسکس کررہے تھے؟ چوتھا: ایپسٹین کو دوست کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا؟ پانچواں :ایپسٹین ہردیپ کے لئے کیا کروا رہا تھا؟ چٹھا: اگر ان کا تعلق مہتا ایک سمانگونش یا سطحی تھا ، تو ہردیپ سنگھ پوری ایپسٹین سے صلاح کیوں مانگ رہے تھے ۔ایپسٹین فائلس میں لاکھوں دستاویز ، ویڈیو ، ای میل ہیں ۔ابھی بہت سے راز کھلنے باقی ہیں ۔ان فائلس کے انکشافات کے سبب اب تک دس دیشوںمیں اہم ترین عہدوں پر بیٹھے سیاستداں ، صنعتکار ،افسر شاہ ، راج گھرانے سے جڑے اہم ترین لوگوں کے استعفیٰ ہو چکے ہیں اور 80 کی جانچ جاری ہے ۔ابھی تو معاملہ شروع ہوا ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ (انل نریندر)

12 فروری 2026

ٹرمپ جھکے گا بس جھکانے والاچاہیے!

امریکہ کے سب سے طاقتور ، ریمبو ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے سامنے جھُک گئے ہیں ۔پچھلے ایک پندرواڑے سے زیادہ ٹرمپ کی فوجوں سمندری جہازوں ، فائٹ جیٹس نے ایران کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے لیکن ٹرمپ نے ابھی تک حملہ نہیں کیا ۔اربوں ڈالر خرچ کر بھی اس کی ہمّت نہیں ہوپارہی ہے کہ ایران پر حملہ کرے ۔دراصل ایران نے دکھا دیا ہے کہ فوجی تیاری کیسی ہے ۔ایران کے پاس ایسی ایسی میزائلیں ہیں جو اسرائیل تو چھوڑیے امریکہ تک مار کر سکتی ہیں ۔وسط مشرق میں جہاں جہاں بھی امریکی فوجی اڈّے ہیں وہ سب ایران کی میزائلوں کی رینج میں ہیں اور یہی حقیقت سعودی عرب، قطر ،مصر ،کوئیت وغیرہ ارب ملکوں کو ستارہاہے ۔اسرائیل نے تو 12 دن کی جنگ میں دیکھ ہی لیا تھا کہ ایران کتنا تباہی کر سکتا ہے اور اسے ڈر ہے کہ اب اگر لڑائی چھڑی تو وہ تو نقشہ سے ہی مٹ سکتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ آگے کیسے بڑھے وہ اتنے آگے آچکا ہے اب پیچھے ہٹنا بھی ناک کٹانے جیسا ہوگا ۔اس لئے کچھ وقت گین کرنے کے لئے ٹرمپ نے بات چیت کا راستہ چنا ہے ۔عمان میں امریکہ اور ایران کے بیچ درپردہ بات چیت کا پہلا دور پورہ ہو چکا ہے دونوں فریق آگے بات چیت جاری رکھنے پر رضامند ہوئے ہیں ، لیکن کشیدگی برقرار ہے اور جنگ کی تیاری پوری چل رہی ہے ۔خلیجی دیش عمان کی راجدھانی مسقط میں جمعہ کو امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان درپردہ بات چیت ہوئی ۔دونوں دیش آمنے سامنے نہیں بیٹھے بلکہ عمان کے وزیر خارجہ ودوالاسیدی ایک پیغام رساںکے کر دار میں رہے ۔ایران کی جانب سے وزیرخارجہ عباس اشرافی شامل ہوئے جبکہ امریکہ کی طرف سے اسپیشل نمائندے اسٹیو وٹکاف اور ٹرمپ کے داماد نیریڈ کوئینر موجود رہے ۔بات چیت سے ٹھیک پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کھلی چنوتی دے چکے تھے کہ اگر ایران نے نیوکلیائی معاہدے پر دستخط نہیں کئے یا اپنی میزائلوں کی دوری کم نہیں کی تو امریکہ فوجی کاروائی کر سکتا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران نے دو ٹوک کہا کہ نہ تو اس کا یورینیم افزودگی بند ہوگی ، نہ ہی وہ اپنے میزائل پروڈکشن کو محدود یا کم کرے گا اور نہ ہی اپنے پراکسیوں حزب اللہ ، حوثی ، حماس ،یمن وغیرہ کو اپنی حمایت بند کرے گا ۔ہاں وہ امریکہ کے ساتھ اپنے نیوکلیئر پروڈکشن پر بات کرسکتا ہے ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس اشرافی نے قاہرہ میں کہا کہ نیوکلیائی پروگرام کو لے کر امریکہ کے ساتھ ہوئے مذاکرات کے بعد وہاں اپنا رخ اپناتے ہوئے اتوار کو کہا کہ طاقتور ملکوں کے آگے جھکنے نہ جھکنے سے ایران کو طاقت ملتی ہے ۔اشرافی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا نیادور جلد شروع ہوگا ۔انہوں نے ایک دن پہلے ہوئی بات چیت کو ایک اچھی شروعات بتایا، ساتھ ہی خبردار کیا کہ بھروسہ پھر سے بنانے میں وقت لگے گا ۔الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اشرافی نے یہ بھی صاف کیا کہ تہران اپنے یورینیم انرچمنٹ پروگرام کو نہیں چھوڑے گا ۔جسے انہوں نے ایک ایسا اختیار کہا جسے الگ نہیں کیاجاسکتا۔انہوںنے آگے کہا کہ ان کا دیش ایک ایسے ایگریمنٹ کے لئے تیار ہے جو بین الاقوامی برادری کو بھروسہ دلائے اور ساتھ ہی اس کی افزودگی سرگرمیوں کو بھی بچائے ۔انٹرویو کے دوران انہوں نے امریکہ کی اس مانگ کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر روک لگائے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری جانب بات چیت ناکام ہونے پر ایران کو خطرناک انجام بھگتنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نیوکلیائی سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے وینزویلا سے بھی سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔اب دیکھنا ہے کہ وسط مشرق میں امن ہوتا ہے یا جنگ ۔ایران اپنے موقف پر اڑا ہواہے اور کہیں بھی جھکنے کو تیار نہیں ۔پہلا راؤنڈ تو ایران نے جیت لیا ہے ۔ اب گیند ٹرمپ کے پالے میں ہے ۔دیکھتے ہیں وسط مشرق میں امن ہوتا ہے یا جنگ ؟ (انل نریندر)

10 فروری 2026

یہ جان لیوا کورین لووگیم !

غازی آباد میں تین سگی بہنوں کا نویں منزل سے کود کر جان دینے کے واقعہ نے ایک بار پھر ان جان لیوا گیمس کی بھاری قیمت چکانے کی یاد دلادی ہے ۔اس واقعہ کو محض خودکشی کہنا سچائی سے آنکھیں موندھنے جیسا ہوگا ۔ان تین نابالغ بچیوں کی دردناک موت نے ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔غازی آباد کے شالیمار گارڈن کی یہ واردات کئی دنوں سے سرخیوں میں ہے۔ اور کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔شالیمار گارڈن کے اے سی پی اتل کمار سنگھ نے صحافیوں کو بتایا 4 فروری کی رات تقریباً 2.15بجے اطلاع ملی کہ ٹیلا موڑ پولیس اسٹیشن علاقہ کے تحت بھارت سٹی میں ایک واردات ہوئی ہے ۔اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی وہاں تین بچیوں کی اونچی عمارت سے گرنے کے سبب موت ہو گئی تھی ۔انہیں ایمبولینس کے ذریعے لونی کے ایک ہسپتا ل لایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے تینوں کو مرا ہوا قرار دے دیا ۔تینوں بہنوں کے نام ہیں 16 سالہ نشیکا ، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی ۔12،14اور 16 کی عمر تو سپنوں کے پنکھ لگا کر اڑنے کی ہوتی ہے ۔اس عمر میں موت کو گلے لگانا بھلا کس کے گلے اتر سکتا ہے؟ دراصل، حالات اور صورتحال اور احساسی جذبات کی جھوٹی دنیا نے ان معصوموں کو موت کی در تک پہنچایا ۔یہ ایک ڈیجیٹل مرڈر ہے ۔یہ تکلیف دہ حادثہ خونی ڈیجیٹل ایلگوریدم کا نتیجہ ہے ، جو موبائل کے ذریعے ہم سب کے گھروں میں گھس آیا ہے ۔یہ واردات کو رین لوو گیم اور اس کے پیچھے ایلگوریدم کا نتیجہ ہے ۔شروعاتی جانچ میں موبائل فون اور کوریائی کلچر کے تئیں جنون اس واردات کی خاص وجہ ہوسکتی ہے ۔لڑکیاں کوریائی سنگیت ،ڈرامہ ،ہستیاں ،جاپانی فلمیں اور ڈوریمون کے علاوہ شن-چن جیسے کارٹونوں کے ساتھ-ساتھ آف لائن گیمس کی شوقین تھیں ۔ساتھ ہی وہ کوریائی کلچر سے اس حد تک متاثر تھیں کہ انہوں نے اپنے نام بھی بدل لئے تھےلیکن بلو-وہیل جیسے ٹاسک پر مبنی گیمس کو اس واردات کا ایک محض یا اہم وجہ نہیں ماناجاسکتا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں بچیوں کی موت جسم سے زیادہ خون نکلنے اور چوٹ سے ہوئی ہے ۔اونچائی سے گرنے کے سبب کئی ہڈیاں ٹوٹی تھیں ۔پریوار مالی تنگی کی مار جھیل رہا تھا اور گھر میں کلیش نے بھی چیزیں مشکل بنا دی تھیں ۔کمرے میں ایک سوسائیڈ نوٹ ملا جس میں ساری پاپا لکھا ہوا تھا اس واردات کے بعد بچیوں کے درمیان فون اور ایڈکشن کو لے کر پھر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں ۔کئی ماں باپ کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے رات کو سو ہی نہیں پارہے ہیں ۔وہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں ۔بال منو وگیانک بونائی کہتے ہیں کہ فون ایڈکشن اور کیمیکل وغیرہ کی لت جیسا ہی ہے ۔لڑکپن ایک نازک حالت ہے، جہاں بدلتے سماج کے ساتھ ، ٹیکنالوجی کا بھی حملہ بہہ رہا ہے ۔ اس صورت میں جب کوئی لڑکا یا لڑکی سے گھر والے ایک دم سے فون چھین لیتے ہیں تو ایک مصیبت سی کھڑی ہو جاتی ہے ۔ایک بچے کے لئے یہ ایک کیمیائی چیز کے ایڈکشن سے کم نہیں ہے ۔ڈاکٹر بھاونا ورما بتاتی ہیں کہ لمبے عرصے سے اسکول نہ جانے کا مطلب پڑھائی چھوٹنے سے نہیں ہے ۔یہ ذہنی لتوں کا ایک ملا جلا کمزوریوں کا ایک سلسلہ کھڑا کر دیتی ہیں ۔اسکول کے لڑکوں کی صحت ڈولپ کرنے کے لئے صرف حقائق سیکھنے کی جگہ سے کہیں زیادہ ایک اہم اسٹومر کے طور پر کام کرتا ہے ۔میں نے کئی لڑکوں اور پریواروں کو صلاح دی ہے جہاں جوڈو کے -پاپ تھے ۔ڈرامہ کوریائی بیوٹی رجحان اور آئیڈیلس کے تئیں تیزی سے رغبت ایک عام رمی سے کہیں زیادہ گہرا ہو گیا ہے جو بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہوچکا ہے ۔غازی آباد کی واردات ہر اس ماں باپ کے لئے ایک چیتاونی ہے جو یہ سوچ کر مطمئن ہو بیٹھے ہیں کہ ان کا بچہ کمرے میں محفوظ موبائل چلا رہا ہے ۔کورین لوو گیم جیسے ڈیجیٹل کھیل بچوں کے جذبات اور عدم تحفظ کا ٹرینڈ کا فائدہ اٹھا کر انہیں ٹاسک پورا کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔اسی کا نتیجہ غازی آباد کے اس دل دہلا دینے والی واردات کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ایسے خطرناک ، جان لیو ا گیمس پر فوراً پابندی لگائی جانی چاہیے۔ (انل نریندر)

07 فروری 2026

ٹریڈ ڈیل میں زراعت سیکٹر پر تنازعہ!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہوئی ٹریڈ ڈیل پر اتفاق رائے بننے اور ساتھ ہی بھارت پر امریکی ٹیرف کو کم کرتے ہوئے 18 فیصد کرنے کی جانکاری دی ۔حالانکہ اس ٹریڈ ڈیل کی مفصل معلومات آنا ابھی باقی ہیں ۔لیکن وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارت سرکار کے کئی وزراء نے اسے ایک بڑا کارنامہ بتایاہے لیکن اپوزیشن لیڈران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ٹریڈ ڈیل میں کسانوں اور ڈیری سیکٹر کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پارلیمنٹ میں کہا کہ بھارت نے اپنے ایگریکلچر اور ڈیری سیکٹروں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔گوئل نے کہا کہ ٹریڈ ڈیل پر آخری دور کی بات چیت میں تفصیلات طے کی جارہی ہیں اور بہت جلد بھارت اور امریکہ کی جانب سے اس پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا ۔ٹرمپ نے دوسری جانب اس کی سوشل میڈیاپر جو جانکاری دی اس میں کہا گیا ہے کہ بھارت امریکی سامانوں پر ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئرس کو زیرو کرے گا۔ انہوں نے آگے کہا کہ وزیراعظم مودی نے امریکہ سے زیادہ خرید پر رضامندی جتائی ہے ۔جس میں 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی اینرجی ، ٹیکنالوجی ،زراعت ،کوئلہ اور دیگر چیزوں کی خرید شامل ہے ۔اس کے بعد امریکی وزیر زراعت بروک رولنس نے بھی ا س ڈیل کو امریکی کسانوں کے لئے فائدہ مند بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی زرعی چیزوں کے بھارت کے وسیع بازار تک پہنچ بڑھنے اور اس سے 1.3 ارب ڈالر کے بھارت کے ساتھ امریکی زرعی تجارت خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔بھارت کی تشویشات پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ایک رپورٹ کے مطابق ، بھارت میں کھیتی سے دیش کی آدھی آبادی یعنی 70 کروڑ لوگوں کا کھان پان ہورہا ہے اور یہ سیکٹر بھارت کی ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا ہے ۔کھیتی بھارت کے قریب آدھے کام گاروں کو روزگار دیتی ہے ۔امریکہ کئی برسوں سے بھارت پر زراعت سیکٹر کی تجارت کھولنے کے لئے دباؤبنا رہا ہے ۔بھارت غذائی سیکورٹی ، گزر بسر اور لاکھوں کسانوں کے مفاد کا حوالہ دے کر اس سے بچتا رہا ہے ۔بھارت اور امریکہ کے درمیان زرعی تجارت 8 ارب ڈالر کی ہے جس میں بھارت چاول ،جھینگا مچھلی ،مسالے ایکسپورٹ کرتا ہے اور امریکہ میوے ، اور اخروٹ اور دالیں بھیجتا ہے ۔امریکہ ان اپنے 45 ارب ڈالر کے تجارت خسارے کو کم کرنے کے لئے مکّا ، سویا بین اور کپاس کے بڑی زرعی ایکسپورٹ کے لئے دروازے کھولے جانے کی بھی مانگ کرتا رہا ہے ۔ماہرین کو ڈر ہے کہ ٹیرف رعایتوں کو لے کر بھارت کو اپنے کم از کم ایم ایس پی اور عام خرید کو کم کرنے کے لئے دباؤ ڈال سکتی ہے ۔یہ دونوں ہندوستانی کسانوں کے اہم کوچ ہیں ، جو انہیں اپنی فصلوں کے مناسب دام کی گارنٹی دے کر انہیں قیمتوں میں اچانک کمی سے بچاتی ہے اور اناج خرید کو یقینی کرتی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نیتی آیوگ کے ایک تازہ دستاویز میں مجوزہ بھارت امریکہ تجارت معاہدے کے تحت چاول ، ڈیری ،مرغی پالن ،مکّا ،سیب ،بادام اور جی ایم سویا سمیت امریکی زرعی درآمدات پر ٹیرف کٹوتی کی سفارش کی گئی ہے ۔اس ٹریڈ ڈیل میں کیا کیا شرطیں ہیں یا کیا کچھ امریکہ نے مانگا ہے یا ہم نے قبول کیا ہے اسے صاف کرنا چاہیے ۔کیا بھارت سرکار نے زراعت ،ڈیری سیکٹر کے دروازے بھی کھول دئیے ہیں ۔ (انل نریندر)

06 فروری 2026

منی کارنیکا گھاٹ پر اہلیابائی کی مورتی کو لے کر تنازعہ

اتر پردیش کا وارانسی شہر پچھلے کچھ دنوں سے سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ ہندوؤں کی دھارمک نگری کی شکل میں مشہور وارانسی وزیراعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے۔وہ 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں یہاں سے تیسری بار منتخب ہوئے ہیں ۔وزیراعظم کا پارلیمانی حلقہ ہونے کی وجہ سے وارانسی میں ترقی کے کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں ۔اسی کڑی میں تاریخی منی کارنیکا گھاٹ کی بھی تزئین کاری کی جارہی ہے ۔کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے اس کے لئے پہلے پرانے ڈھانچے کو توڑا گیا ہے اس توڑ پھوڑ کو لے کر مقامی لوگ ناراض بھی ہیں ۔کاشی کے پال سماج کے صدر مہندر پال کہتےہیں کہ جب مورتی توڑی گئیں تو انہوں نے احتجاج کیا تھا ۔کئی لوگوں کا الزام ہے کہ وہاں موجود اندور کے سابق شاہی گھرانے کی اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی بھی ٹوٹ گئی ہے ۔لیکن وارانسی کے میئر اشوک تیواری اس سے صاف انکار کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مورتی محفوظ رکھی گئی ہے ، جس کے بعد اس کو لگا دیاجائے گا۔ اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی ٹوٹنے کے دعوؤں کے بعد وہاں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ۔پولیس نے اس معاملے میں کئی لوگوں کو حراست میں بھی لیا ۔احتجاجی مظاہرے میں شامل کاشی کے پال سماج کے صدر مہندر پال کہتے ہیں ،اہلیہ بائی ہولکر ہم لوگوں کی آبائی نژاد رہی ہیں ۔اور وہ پال سماج کی خاتون تھیں انہوںنے دعویٰ کیا کہ ہم لوگ موقع پر پہنچے تھے اور توڑ پھوڑ دیکھی تھی ۔جے سی بی لگاکر مورتی کو توڑا جارہا تھا اس لئے جب ان کی مورتی توڑی گئی تو ہم نے احتجاج کیا ۔لیکن پولیس نے ہمیں وہاں جانے نہیں دیا ۔ویسے تو وارانسی میں 80 سےزیادہ گھاٹ ہیں لیکن منی کارنیکا گھاٹ کو دھارمک شکل سے انتہائی اہم ترین ماناجاتا ہے ۔اسی گھاٹ کی تزئین کاری کے لئے کام شروع ہوا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تزئین کاری کے نام پر قدیم روایتوں اور شکلوں سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے ۔اجے شرما کاشی میں مورتیوں کو لگانے کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا جہاں جو ٹوٹی ہے وہ منی ٹوٹی ہے ۔میرا احتجاج قدیم وراثتوں کے تحفظ کے لئے ہے۔ اور وکاس کا کوئی احتجاج نہیں ہے ۔تزئین کاری اور خوبصورت شکل دینے کا بھی یہاں کوئی شخص مخالفت نہیں کرتا ۔اجے شرما کہتے ہیں اہلیہ وائی کی جو مورتی تھی یا گنیش جی کی مورتی تھی یا گنگا سوروپ کی جو مورتی تھی وہ ٹوٹی ہوئی نہیں ہے ۔لیکن وارانسی کے میئر اشوک تیواری نے سبھی الزامات کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سبھی مورتیاں محفوظ کی گئی ہیں اور گھاٹ کے وکاس کے بعد انہیں لگا دیا جا ئے گا ۔انہوں نے کہا کہ اسے جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا جاسکے ۔اس کے تحت خاص کر برسات کے موسم میں شوداہ میں آسانی ہوگی ۔اشوک تیواری نے بتایا انتم سنسکار کے لئے جانے والے لوگوں کے لئے اپروچ ریمپ ، ریمپ رجسٹریشن ،دفتر اور صاف پانی پینے کا انتظام بھی کیا جائے گا ۔اشوک تیواری کا دعویٰ ہے کہ یہ کام دو م راجہ کے کہنے پر ہی وزیراعظم نے شروع کرایا ہے ۔حالانکہ اس تنازعہ کے درمیان پھر وکاس کا کام جاری ہے ۔اس جگہ پر شوو داہ کا کام چلتا رہتا ہے۔ روایت ہے کہ یہاں انتم سنسکار ہونے سے موکش حاصل ہوتا ہے ۔ -انل نریندر

01 فروری 2026

اجیت پوار پلین کریش سے جڑے سوال!



آخر ہم ان ہوائی حادثات میں کتنی قیمتی جانیں گنوائیں گے؟ اگر حالیہ پلین حادثوں پر نظر ڈالیں تو 2021 میں سی ڈی ایس جنرل وپن راوت جو بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے ،کا دسمبر 2021میں تاملناڈو کے کنور کے پاس ایئر کریش میں موت ہوگئی تھی۔ 2 دسمبر 2009 آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا ہیلی کاپٹر نلہ مالہ جنگل میں حادثہ کا شکار ہو گیا۔30اپریل2011 کو اروناچل پردیش کے سابق وزیر اعلی ڈورجی کھانڈو کاتوانگ سے ایٹہ نگر جارہا ہیلی کاپٹر کریش ہوگیا اور ان کی موت ہوگئی ۔ 12جون 2025 کو احمد آباد میں ہیلی کاپٹر ایئر کریش میں سابق وزیر اعلی وجے روپانی سمیت242مسافروں کی موت ہوگئی۔ سابق لوک سبھا اسپیکر جی ایم سی بال یوگی کا بھی ندھن ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوا۔ اور اب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت دادا پوار کی پلین کریش میں موت ہوگئی۔پونے ضلع میںبارہمتی میں ہوئے اس حادثہ کی کئی پہلوئوں سے جانچ کی جارہی ہے، کیا یہ محض حادثہ تھا، پائلٹ کی غلطی تھی یا پھر کوئی سازش؟ اس کا جواب تو گہری جانچ سے ہی مل سکتاہے،اگر کبھی ملا بھی؟ کیونکہ آج تک جتنے بھی حادثے ہوئے ہیں ان میں سے کسی کا بھی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔یہ نہیں پتہ چل سکاحادثے کی اصل وجہ کیا تھی؟اجیت دادا پوار کے پلین کریش پر مرکزی شہری جہاز رانی وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آسمان میں روشنی کم ہونے کی وجہ سے بارہمتی میں رن وے نہیں نظر آیا اور لینڈنگ کی کوشش ناکام ہوگئی ۔ مگر مغربی بنگال کی وزیر اعلی سمیت کئی لیڈروں نے حادثے پر سوال اٹھائے ہیں اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کی مانگ کی ہے۔ حالانکہ اجیت پوار کے چاچا شرد پوار نے حادثہ کے پیچھے کسی بھی طرح کی سیاست ہونے کی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔ حادثہ کے بعد ابتدائی معلومات بھی سامنے آچکی ہیں، لیکن اب بھی کئی ایسے اہم سوال ہیں جن کے جواب دیش چاہتا ہے۔آخر پلوں میںکیا ہوا؟ لیڈنگ کے دوران کن حالات نے خطرہ بڑھایا اور سکیورٹی پروٹوکال کا پوری طرح سے پالن ہوا؟ یہ وہ سوال ہیں جو پورے معاملہ کو سنگین بنا رہے ہیں۔اب جن سوالوںکا جواب چاہئے ان میں اہم ہیں خراب روشنی میں لینڈنگ کی کوشش کیوں کی گئی؟کیا یہ ممکن تھا کہ جہاز واپس چلاجاتا(اگر اس میں ایندھن کافی تھا) ؟لینڈنگ کلیارینس کے پاس بعد اچانک کیا ہوا؟ کتنا محفوظ ہے لیئرجیٹ ۔45 جہاز؟ شہری جہاز رانی وزارت کے مطابق وی ٹی۔ایس ایس تھے۔ ایل جی۔45 درمیانے سازش کا بزنس جیٹ ہے، جنہیں کینیڈا کی کمپنی بام وارڈیئر ایرو اسپیس نے بنایا ہے، اس میں آٹھ مسافروں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ یہ جہاز چھوٹے رن وے والے ہوائی اڈوں پر بھی آسانی سے اتر سکتاہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہےکہ اس سے پہلے 14 ستمبر 2023 کو ایسا ہی جہاز ممبئی میں لینڈنگ کے بعد رنوے سے پھسل گیا تھا اور دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ بدھوار کے حادثہ کے بعدایک بار پھر سے سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ یہ جہاز کتنا محفوظ ہے؟کیا لینڈنگ اپروج محفوظ تھی؟ حادثہ کے چشم دید گواہوں نے بتایا کہ جہاز کو ہوا میں دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ وہ لینڈ نہیں کر پائے گا۔ ایک چشم دید نے بتایا کہ جب جہاز نیچے آرہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ و کریش ہوجائے گا؟تبھی وہ کریش ہوگیا۔ڈی جی سی اے کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جہاز کے پائلٹ نے پہلے رنوے نہ دکھائی دینے کی اطلاع دی اور بعد میں یہ اطلاع دی گئی کہ رنو ے دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں یہ جہاز ہوا میں ہی پلٹتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ کسی بھی جہاز حادثہ کے بعدمے ڈے لفظ کا استعمال کئی بار ہوتا ہے۔ یہ لفظ ایوی ایشن اور میری ٹائم ایمرجنسی کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ ایک اور پائلٹ نے کہا کہ مے ڈےکال نہ کیا جانا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ آخری وقت تک جہاز پائلٹ کے کنٹرول میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جہاز میں انجن فیل ہوگیا ہوتایا کوئی اور خرابی ہوتی تو پائلٹوں نے مے ڈے کال دی ہوتی۔ ان سوالوں کا جواب دیش چاہتا ہے۔ لیکن پتہ نہیں کبھی ملے یا یہ بھی تاریخ کا ایک ورق بن کر ر ہ جائے گا۔
(انل نریندر)

31 جنوری 2026

ایران کو ٹرمپ کی دھمکی!

جس طرح سے امریکہ نے ایران کو چاروں طرف سے جنگی ہتھیاروں و جدید ترین ساز وسامان سے اس وقت گھیر رکھا ہے ایسا جماوڑا ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھا ۔ایئر کرافٹ کیریئروں 500 جنگی جہازوں ، ہزاروں فوجیوں سے اس وقت ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو گھیر رکھا ہے ۔ٹرمپ نے ایران پر نیوکلیائی معاہدہ مذاکرات کے لئے دباؤ بنانے کے مقصد سے یہ جنگی بیڑا بھیجا ہے ۔ٹرمپ نے ایران کو سیدھی دھمکی دی ہے کہ وہ نیوکلیائی معاہدہ کر لے ورنہ اس پر اگلا حملہ اور خطرناک ہوگا ۔ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوج کسی بھی امریکی فوجی کاروائی کا زوردار جواب دے گی ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس اشرافی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کی فوج تیار ہے اور دیش پر کسی بھی حملے کا زوردار جواب دینے کے لئے ٹرائگرپر انگلی رکھے ہوئے ہے۔ یہ خطرناک تبصرہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا ہے ۔جس میںٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران متنازعہ نیوکلیائی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ڈیل کرے ورنہ اسے بڑے پیمانہ پر امریکی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر ٹرمپ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ہمارا بڑا جنگی بیڑا ہے ۔وینزویلا سے بھی بڑا ہے ۔تہران میں موجود حکام مسلسل اشارہ دے رہے ہیں کہ ایران بات چیت کے لئے تیار ہے ۔ٹرمپ نے کہا وہ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں ۔مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے کئی بار ٹیلی فون بھی کیا ہے ۔ٹرمپ نے آگے کہا امید ہے کہ ایران جلد ہی بات چیت کے لئے تیار ہوگا ۔اورایک منصفانہ اور برابر ی کا سمجھوتہ کرے گا ۔کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ہے جو سبھی فریقین کے لئے اچھا ہو۔وقت کم ہے اور سچ میں یہ بہت ضروری ہے ۔اگلا حملہ خطرناک ہوگا ۔اسے مت ہونے دو ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے درمیان وسط مشرق کے عرب ممالک میں بھی ہلچل بہت تیز ہو گئی ہے ۔سعودی عرب ،ترکیہ ، قطر وغیرہ ملکوں کے سربراہ مملکت و راجہ اپنی پوری طاقت لگائے رکھے ہیں کہ جنگ ٹل جائے۔ سعودی بادشاہ سلمان نے تو پوری طاقت جھونک دی ہے۔یہ اس لئے بھی ہے کہ ایران نے کھلی دھمکی دی ہے ۔کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی طر ف سے کوئی بھی حملہ ہوتا ہے تو ایران عرب دیشوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسا دے گا اور انہیں تباہ کر دے گا۔بتادیں کہ سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک میں جنگی جہاز وغیرہ رکھے ہوئے ہیں ۔ اگر لڑائی چھڑتی ہے تو ایک طرف ایران اسرائیل کو تباہ کر دے گا اور د وسری طرف وسط مشرق میں تمام امریکی فوجی اڈوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ایران خود جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔وہ پچھلے 20 سال سے اس دن کا انتظار کررہا ہے اس دوران اس نے دنیا کی سب سے طاقتور میزائلوں کو بنا لیا ہے ۔اس نے ایسی ایسی میزائلیں تیار کر لی ہیں جو 10 ہزار فی گھنٹے کی رفتار سے بہت دوری تک مار کر سکتی ہیں ۔دنیا نے پچھلے سال 12 دن کی جنگ میں ایران نے اسرائیل کا کیا حال کیا تھا سب نے دیکھاتھا ۔اس درمیان خبر یہ بھی آئی ہے کہ سعودی عرب نے صاف کہا ہے کہ اگر ایران پر امریکہ حملہ کرتا ہے تو سعودی حملے کے لئے اپنی زمین نہیں دے گا ۔سعودی عرب شہزادہ و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعد نے کہا ہے کہ ان کا دیش ایران کے خلاف کاروائی کے لئے اپنی زمین یا اپنا ایئر اسپیس کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا ۔وسط مشرقی ا یشیا میں اس وقت جنگی بادل منڈر ا رہے ہیں۔اور کسی بھی ذرا سی چنگاری سے زبردست جنگ چھڑ سکتی ہے۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ یہ جنگ ٹل جائے اور بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے اور پوری دنیا جنگ کی تباہی سے بچ جائے ۔ (انل نریندر)

30 جنوری 2026

مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی بدھ کے روز طیارہ حادثہ سے جہاں پورا دیش حیران ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے وہیں یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کی اچانک موت سے مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ 66 سالہ اجیت پوار کی پرائیویٹ جہاز مہاراشٹر کے بارامتی میں لینڈکرتے وقت حادثہ کا شکار ہو گیا ۔بتادیں کہ اجیت پوار نے جولائی 2023 میں اپنے چاچا شردپوار کی قیادت والی راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سے بغاوت کر دی تھی ۔2023 میں 2 جولائی کو وہ اپنی پارٹی کے 8 ممبران کے ساتھ مہاراشٹر سرکار میں شامل ہو گئے تھے اور حکومت میں نائب وزیراعلیٰ بنے۔ شردپوار سے بغاوت کر ایکناتھ شندے سرکارمیں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر اجیت پوار نے کہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ترقی کررہا ہے ۔اس لئے بی جے پی کے ساتھ کچھ اختلافات ہونے کے باوجود این سی پی نے مہاراشٹر کی ترقی کے لئے سرکار کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ۔نومبر 2024 میں مہاراشٹر میں اسمبلی چناؤ ہوئے اور اجیت پوار اپنے چاچا پر بھاری پڑے ۔حالانکہ چھ مہینے پہلے ہی لوک سبھا چناؤ میں اجیت پوار کی پارٹی کو صرف ایک ہی سیٹ پر جیت ملی تھی ۔تب اجیت پوار کو مہاراشٹر کی حکمراں بی جے پی قیادت والے مہایوتی گٹھ بندھن کی سب سے کمزور کڑی کہاجارہا تھا ۔لیکن اسمبلی چناؤ میں اجیت پوار سب سے مضبوط کھلاڑی کی شکل میں ابھرے ۔انہوں نے 41 اسمبلی سیٹیں حاصل کی تھیں اور تقریباً اپنے چاچا کے باغی گروپ این سی پی کو ختم کر دیا ۔جو صرف 10 سیٹیں ہی جیت پائی ۔اجیت پوار نے 5 دسمبر 2024 کو ریکارڈ چٹھی مرتبہ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ شردپوار کی سرپرستی میں 20 سال گزارنے کے بعدا جیت پوار کو لگا چاچا ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں اسی لئے انہوں نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا۔15 فروری سے مہاراشٹر ضلع پریشد پنچایت سمیتی کے چناؤ ہونے جارہے ہیں اسی کے پرچار کے لئے اجیت داد ا پوار بارامتی جارہے تھے ۔این سی پی کی پوری ذمہ داری اجیت پوار کے اوپر تھی ۔اجیت پوار کا ندھن اس وقت ہوا جب شردپوار سیاسی طور سے بہت کمزور ہو گئے ہیں ۔ضلع پریشد کےچناؤمیں اجیت نے اپنے چاچا کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے والے تھے ۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ پوری ہمدردی شردپوار کو سبق سکھائے گی ۔بی جے پی کے ابھار کے بعد مہاراشٹر میں مراٹھا نیتاؤں کی حیثیت کمزور ہوئی ہے اور اس کا احساس پردیش میں سب کو ہے ۔مراٹھابرادری کی بالادستی کھیتی، تعلیم اور بینکنگ پر ختم ہو چکی ہے ۔شردپوار کے ساتھ اب مراٹھا برادری کی ہمدردی آئے گی۔ دیہات پر مہاراشٹر کے اقتصادی نظام پر بھی مراٹھا برادری کی پکڑ ہے اور انہیں اب لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے آنے سے ان کی پکڑ کمزور پڑرہی ہے ۔دیوندر فڑنویس کی سرکار میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور اجیت پوار کی رہنمائی والی این سی پی ہے ۔اجیت پوار کے مرنے کے بعد این سی پی اگر سرکار سے ہٹ جاتی ہے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔بھلے ہی سرکار اقتدار میں بنی رہے گی لیکن فرق دوسری طرح سے پڑے گا۔مراٹھا برادری اجیت پوار کے ندھن کے بعد سوچے گی کہ اب ان کے پاس کون ہے ؟ شردپوار خود ہی زندگی کے زوال میں ہیں ۔مہاراشٹر طبقہ اب سوچے گا کہ انہیں کس طرح رخ اپنانا ہے ؟ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اجیت پوار مہاراشٹر کی سیاست میں ہندوتو کے بڑھتے اثر کے درمیان اپنی طاقت بنائے ہوئے تھے اور یہ بڑی با ت تھی ۔بی جے پی اور شیو سینا دونوں ہندوتو کی سیاست کرتے ہیں ۔بی جے پی کی رہنمائی والی سرکار مضبوط رہے گی لیکن مراٹھا سیاست کا عروج ہوسکتا ہے ۔این سی پی پھر سے شردپوار کی قیادت میں متحد ہوسکتی ہے ۔اور یہ بی جے پی کی مضبوطی کے حق میں نہیں ہوگی ۔اجیت پوار کو دیوندر فڑنویس سرکار میں ایکناتھ شندے کی طاقت کا بیلنس کرنے کی شکل میں دیکھاجاتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ اگر اجیت دادا پوار کا تعلق نہیں ہوتا تو نومبر 2024 میں ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چنا ؤ کے بعدا یکناتھ شندے وزیراعلیٰ بننے کے لئے اڑ ے ر ہ سکتے تھے ۔ایسے میں بی جے پی کے پاس متبادل تھا کہ وہ اجیت پوار کے ساتھ سرکار بنا لیں ۔ہم اجیت پوار کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریوار کو اس بھاری نقصان سے نکلنے کی ہمت دے ۔ (انل نریندر)

28 جنوری 2026

ٹرمپ کو اسی زبان میں جواب!

بڑبولے اور بے لگام بولنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اگر انہیں کی زبان میں جواب دیا ہے تو وہ ہے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی ۔دراصل ہوا یہ مارک کارنی سوئزرلینڈ کے داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فارم میں تقریر کررہے تھے ۔مارک کارنی کی دی گئی تقریر کو امریکی دب دبے والے ورلڈ آرڈر کو آئینہ دکھانے کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر دیش ٹرمپ کی پالیسیوں سے پریشان ہیں لیکن اس طرح بولنے کا خطرہ مارک کارنی نے اٹھایا ۔منگل کو سوئزرلینڈ کے داؤس میں ورلڈ اکنامکس فارم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ طاقتور ملکوں کے عزم میں مڈ ل پاور والے ملکوں کے سامنے دو متبادل ہیں ۔۔یا تو حمایت پانے کے لئے آپس میں مقابلہ کریں ہمت کے ساتھ یا تیسرا راستہ بنائیں اور ایسا کرنے کے لئے ساتھ آئیں ۔بھار ت سمیت دنیا کے باقی ملکوں کو لگ رہاہے کہ ابھی چپ رہنا زیادہ بہتر ہے ۔دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم کو لگ رہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ تباہی کے حالات ہیں ۔اور پھوٹ کا پردہ ہٹ رہا ہے ۔مارک کارنی کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ پرانے نظام واپس نہیں آئے گا ۔اور اس کا غم نہیں منانا چاہیے بلکہ نئی اور انصاف یقینی کرنے والے عالمی نظام کے لئے کام شروع کر دینا چاہیے ۔کارنی یہ کہہ رہے ہیں درمیانی طاقت والے ملکوں کو غلط فہمی کی دنیا سےباہر آنا چاہیے ۔کارنی کو پتہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کاخطرہ بھی ہے ۔کینیڈاکی معیشت بہت حد تک تجارت پر منحصر ہے ۔2024 میں کینیڈا کی کل برآمدات کا 75 فیصد امریکہ میں ہوا تھا ۔ٹرمپ نے امریکہ کے تئیں عہد نہ دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے مارک کارنی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ویسے کینیڈا ہم سے بہت سی مناسب سہولیات پاتا ہے انہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں کررہے ہیں ۔منگلوار کو مارک کارنی کو دیکھا اور وہ زیادہ باعزم نہیں تھے ۔کینیڈا امریکہ کی وجہ سے ہی وجود میں ہے ۔اگلی مرتبہ جب مارک کارنی بیان دیں گے تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم سے پہلے ٹرمپ کینیڈا کو امریکہ کا 51 واں اسٹیٹ بنانے کی بات کر چکے ہیں۔اتنی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود کینیڈا نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیا ۔ایسے میں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں،دھمکیوں کے باوجود بھارت کے مفادات کو چوٹ پہنچارہا ہے ۔پھر بھی بھارت کینیڈا کی طرح ٹرمپ کو انہیں کی زبان میں جواب آخر کیوں نہیں دے پارہا ہے ۔ٹرمپ نے ایران سے تیل خریدنے ، روس سے تیل خریدنے ، 50 فیصد ٹیرف لگانے سے لے کر 70 بار سے زائد بھارت -پاک جنگ رکوانے کی بات کر چکا ہے ۔امریکہ نے وینزویلا میں تبدیلی اقتدار کرایا ۔ایران میں بھی اقتدار تبدیلی کروانے کی بات کررہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت کینیڈاکی طرح ٹرمپ کی پالیسیوں پر کیوں نہیں بول پارہا ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...