Translater

12 ستمبر 2015

Indian Islamic scholars issue Fatwa against IS

For the first time, Indian Muslims in the world have openly and publicly raised their voice against IS (Islamic State). Signing the fatwa, more than 1000 Ulemas and Muftis have declared the terrorist set up IS as un-islamic and inhuman. Ultimately, Indian Muslims are mobilizing against IS. More than one thousand Islamic scholars and Muftis have declared the actions of IS, which has become a synonym of terror as un-islamic. While sending these fatwas to the UN Secretary General, an appeal has also been made to Muftis of other countries to follow suit. Shahi Imam Syed Ahmed Bukhari of Jama Masjid, Delhi, heads of Ajmer and Nizamuddin are among the persons issuing fatwas. For the first time in the world, Muslim scholars and Muftis have simultaneously issued fatwa against IS. So far IS has indulged in instigating Muslim youth around the world and recruiting them in the name of Jehad. Innocent youth are falling prey to this call also. This joint fatwa will at least discourage the IS efforts to penetrate among the Indian youth. The fatwa says that IS actions are un-Islamic. It says that Islam strictly prohibits the killing of women, children and aged. But the terrorists of IS are performing such cruel acts every day. Defence Cyber of Mumbai Chief Abdul Rahman Anjaria had sought opinion from Muslim scholars and Muftis across the country about IS. All of them declared it non-Islamic in a single tone and issued a fatwa against it. Anjaria has forwarded the fatwa issued by 1050 Muslim scholars and Muftis to the UN Secretary General Ban Ki-moon.  Ban Ki-moon has been appealed to encourage Muslim Scholars and Ulemas to issue such fatwas so that the Muslim youths around the world may be saved from the disinformation campaign of IS. Raising the voice against the world’s most savage and cruel organisation IS by the Islamic scholars and Ulemas was the need of the hour. Though IS has included” Islamic” in its name, yet it’s itself harming Islam the most by its actions. It is surprising that often some youth are seen approaching it and it’s necessary to prevent them. Its flags were seen even in Kashmir. Some elements in Afghanistan and Pakistan also have a soft corner for such horrible intention. We wish to appreciate Indian Muslim scholars, Muftis and Ulemas that they atleast showed their courage to declare this terrorist set up un-islamic.

-        Anil Narendra

بہار میں اس بار کس کی منے گی دیوالی

بہار کے بڑی سیاسی پارٹیاں چناوی لڑائی کا بگل پہلے ہی پھونک چکی ہیں لیکن اب بیحد اہم چناوی جنگ کی تاریخیں ان کے سامنے آچکی ہیں۔ چناؤ کمیشن نے پانچ مرحلوں میں چناؤ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ بہار میں اس بار تہواروں کا موسم اور چناوی آتش بازیوں سے اور جگمگا اٹھے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ دیوالی کون مناتا ہے؟ تاریخوں کے اعلان کے وقت چناؤ کمیشن نے خود بقرہ عید ، محرم، وجے دشمی ، دیوالی اور دیگر تہواروں پر غور خوض کیا اور با آور کیا کہ سب کچھ ٹھیک ہی گزرے گا۔ ریاست کی 247 سیٹوں کے چناؤ قریب تین ہفتوں تک کھینچنے کے پیچھے چناؤ کمیشن کا خاص مقصد ہے اس بار ہر ایک پولنگ اسٹیشن پر سینٹرل سکیورٹی فورسز تعینات رہیں گی۔ ووٹروں کو مقامی شر پسند عناصر کی دہشت سے پاک رکھنے کی خاص تیاری ہے کیونکہ ایسے موقعوں پر مقامی انتظامیہ یا پولیس بے اثر پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ تہواروں کا فائدہ یہ بھی ملے گا کہ دیش کے دور دراز علاقوں سے کروڑوں بہاری اس موقعے پر اپنے گاؤں گھروں میں موجود ہوں گی اور وہ جوش سے اپنے جمہوری اختیار کا استعمال کرسکیں گے۔ اس بار دو اتحاد آمنے سامنے ہیں۔ دونوں کے درمیان برابری کا مقابلہ مانا جارہا ہے۔ اس مہا بھارت میں سابق دوست بھاجپا نتیش آمنے سامنے سیاسی حریف ہیں۔ تو کٹر دشمن (لالو ۔نتیش) ایک ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں سونیا گاندھی۔لالو ۔نتیش کی کوشش ہوگی کہ مودی کا این ڈی اے شکست کھائے ،تو این ڈی اے کی کوشش ہوگی لالو۔ نتیش کا بے میل ڈی این اے اقتدار سے باہر ہوجائے۔ اس بار چناؤ کمیشن نے ایک اور پہل کی ہے ووٹنگ مشینوں پر امیدواروں کی تصویر چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے پولنگ کے وقت ایک جیسے نام یا چناؤ نشان کے سبب غلط فہمی سے بچا جاسکے گا۔ بہار چناؤپہلے ہی سے قومی دلچسپی کا موضوع بن چکا ہے۔ اب دیش کی توجہ بہار کی طرف اور بھی زیادہ مرکوز ہوگی اس لئے 12 اکتوبر سے5 نومبر تک ہونے والی ووٹنگ سے دیش کی سیاسی سمت طے ہوگی۔ داؤ پر ہے ایک طرف سیدھے وزیر اعظم نریندرمودی کا سیاسی جادو ، تو دوسری طرف خودساختہ سیکولر پارٹیوں کا مستقبل بھی اس سے طے ہوگا۔ یہ بھی طے ہوگا کہ کیا اس بار بہار میں ذات، مذہب، غریبی وغیرہ اہم اشوز کو وکاس کا دعوی دبا سکے گا؟ کیا مودی کی قیادت والا اتحادتمام گٹھ بندھنوں کو ہرا پائے گا؟ مودی کے ساتھ نتیش کا اشو بھی وکاس ہے لیکن این ڈی اے لالو کو روڑا مان کر نتیش کو لڑانے سے باز نہیں آرہا ہے۔ وہ لوک جن شکتی پارٹی کے جنگل راج کو بھی یاد کرانا نہیں بھولتا۔ نتیش۔ لالو اور سونیا کے ایک ساتھ آنے سے بہار میں ایک نیا تجزیہ بن گیا ہے۔ عقل مند لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں ذات پات کے بغیر کچھ بھی نہیں چلتا اور اس اشو پر نتیش۔ لالو تجزیہ مودی پر حاوی ہوسکتا ہے۔ اکبر الدین اویسی کے بہار میں چناؤ لڑنے سے بھی پولارائزیشن ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سپا چیف ملائم سنگھ یادو نے پہلے ہی نتیش ۔ لالو کو جھٹکا دے کر بہار کی پوری سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا اعلان کررکھا ہے تو وہیں6 لیفٹ پارٹیوں نے بھی مشترکہ طور سے میدان میں اترنے کا اعلان کررکھا ہے۔ اس سے بھاجپا گٹھ بندھن کو ووٹ بٹوارے کا فائدہ مل سکتا ہے۔ وہیں اگر مانجھی اور پاسوان کے درمیان صلح کی بات نہیں بنتی تو اس کا نقصان این ڈی اے کو اٹھانا پڑے گا کیونکہ ریاست میں 20 فیصد ووٹر دلت ہیں۔مگر اصل سوال تو بہار کے ساڑھے چھ کروڑ ووٹروں کا ہے جن کا مستقبل ان چناؤ سے جڑا ہوا ہے۔ کیا وہ ذات پات، فرقہ پرستی کے پولارائزیشن سے باہر نکل کر صرف ترقی کے اشو پرصاف ستھری سیاست و صاف ستھرے امیدواروں کو اس بار ووٹ دیں گے؟
(انل نریندر)

سعودی عرب کے سفارتکار پر بدفعلی کا مقدمہ

ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر کے سکریٹری (فرسٹ) پر دو گھریلو خادموں کودہلی سے لگے گوڑ گاؤں کے ایک فلیٹ میں مبینہ طور پر یرغمال بنا کر رکھنے اور آبروریزی کرنے کا سنگین الزام لگا ہے۔ الزام لگانے والی دو نیپالی عورتوں کا کہنا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ ان کی شکایت پر سکریٹری و ان کی بیوی اور دو بیٹیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ بدھ کے رو ز متاثرہ لڑکیوں کا دوبارہ میڈیکل کرایا گیا۔ پولیس نے سعودی سفیر کے خلاف اجتماعی آبروریزی اور غیر فطری جنسی استحصال، مار پیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا معاملہ درج کیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔ بتایا جاتا ہے معاملہ ایک غیر ملکی سفارتخانے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے وزارت خارجہ کو خط لکھ کر واقعے کے بارے میں جانکاری دے دی ہے۔ متاثرہ لڑکیوں کا بیان کورٹ میں درج کرانے کے بعد معاملے کی جانکاری نیپالی سفارتخانے کو بھی دے دی گئی ہے۔ دہلی ۔گوڑ گاؤں ایکسپریس وے پر واقع کیٹرینہ اپارٹمنٹ میں سعودی عرب سفارتخانے سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔ یہاں یرغمال بنائی گئی دو لڑکیوں کو پولیس نے این جی او کے ساتھ مل کر آزادکرایا۔ متاثرہ لڑکیوں نے اپنی آب بیتی بتاتے ہوئے سنایا کہ انہیں گھریلو کام کاج کے لئے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ خطرناک برتاؤ کیا اور ہمیں مارنے کی دھمکی دی گئی ، چاقو دکھایا گیا۔ ادھر الزامات پر وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے بتایا کہ ہم نے گوڑ گاؤں پولیس سے رپورٹ مانگی ہے۔ ایک بار وزارت کو پوری جانکاری مل جائے اس کے بعد آگے کیا کرنا ہے یہ فیصلہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب سفارتخانے کے سکریٹری کی بیہودہ ذہنیت کی جیسی تفصیل سامنے آئی ہے وہ نہ صرف ایک مجرمانہ کرتوت ہے بلکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی افسر سیاسی سرپرستی یعنی ڈپلومیٹک امیونٹی کا کس طرح فائدہ اٹھانے و بیجا استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خبر کے مطابق کچھ وقت پہلے نیپال میں زلزلے میں سب کچھ تباہ ہوجانے کے بعد وہاں کی دو عورتوں روزی روٹی کی تلاش میں بھارت آئیں۔ ایک پلیس مینٹ ایجنسی نے نوکری دلانے کے نام پر انہیں سعودی عرب بھیج دیا۔ پھر دہلی میں لاکربیچ انہیں بیچ دیا۔ پھر متعلقہ سفارتکار کے گھر یہ پہنچائی گئیں۔ دونوں عورتوں سے نہ صرف بے رحمی سے گھریلو کام کرائے بلکہ ان کے ساتھ مسلسل آبروریزی بھی کی جاتی رہی۔ یہاں تک کہ ڈپلومیٹ نے انہیں گھر میں آنے والے دوسرے لوگوں کے حوالے بھی کرتا رہا۔ الزامات پر سعودی سفارتخانے نے بیان جاری کر انہیں غلط بتایا اور سبھی ڈپلومیٹک سمجھوتوں کے خلاف ایک ڈپلومیٹ کے گھر میں پولیس کے گھسنے پر احتجاج ظاہر کیا۔ بیان کے مطابق وزارت خارجہ میں تعینات افسران کے نوٹس میں اس بات کو لایا گیاکہ جانچ پوری ہونے سے پہلے میڈیا بریفنگ مناسب ہے۔بھارت میں سعودی عرب کے سفیر سعود محمد السانی نے وزارت خارجہ کے سینئرافسروں سے مل کر اپنا احتجاج جتایا تھا۔
(انل نریندر)

11 ستمبر 2015

ہندوستانی اسلامی پیشواؤں نے آئی ایس کے خلاف فتوی جاری کیا

دنیا میں بھارت کے مسلمانوں نے پہلی بار کھلے اور پبلک طور پر آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ دیش کے ایک ہزار سے زائد علماء کرام اور مفتیوں نے فتوے پر دستخط کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیم آئی ایس کو غیر اسلامی اور غیر انسانی قراردیا ہے۔ آخر کار ہندوستانی مسلمان آئی ایس کے خلاف متحد ہونے لگے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد اسلامیپیشواؤں اور مفتیوں نے فتوی جاری کر دہشت کی علامت بن گئی آئی ایس کی کرتوت کو غیر اسلامی قراردیا ہے۔ ان فتوؤں کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو بھیج کر دوسرے ملکوں کے مفتیوں کو ایسا ہی فتوی جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ فتوی جاری کرنے والوں میں دہلی جامعہ مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری، اجمیر شریف اور نظام الدین کے مذہبی پیشوا شامل ہیں۔دنیا میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں مسلم پیشواؤں اور مفتیوں نے ایک ساتھ آئی ایس کے خلاف فتوی جاری کیا ہے۔ ابھی تک آئی ایس جہاد کے نام پر دنیا بھر کے مسلم لڑکوں اور ورغلاتی رہی اور ان کی بھرتی کرتی آرہی ہے۔ انجان لڑکے ان کے جھانسے میں آکر ان کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ اس مشترکہ فتوے سے کم سے کم ہندوستانی نوجوانوں میں آئی ایس کی گھس پیٹھ بنانے کی کوششوں کو جھٹکا لگے گا۔ فتوے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس کی کرتوت اسلام کے خلاف ہیں۔ اس کے مطابق اسلام میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے قتل کی سخت مناہی ہے لیکن آئی ایس خوفناک قہر کی ہر روز ایسی وارداتوں کو انجام دے رہی ہے۔ 
ممبئی کے ڈیفنس سائبر کے چیف عبدالرحمان انجاری نے دیش بھر کے مسلم پیشواؤں اور مفتیوں سے آئی ایس کے بارے میں رائے مانگی تھی۔ سبھی نے ایک آواز میں اسے غیر اسلامی قراردیا اور اس کے خلاف فتوی جاری کردیا۔ انجاری نے1050 مسلم پیشواؤں اور مفتیوں کے ذریعے جاری فتوے کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکیمون کو بھیج دیا ہے۔ اور ان سے دوسرے ممالک کے مسلم پیشواؤں اور مفتیوں سے ایسے ہی فتوے جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ پوری دنیا میں مسلم لڑکوں کو آئی ایس کے گمراہ کن پروپگنڈے سے بچایا جاسکے۔ اسلامی پیشواؤں اور علماؤں کی طرف سے دنیا کے سب سے بربریت اور آئی ایس کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کی مانگ تھی۔ آئی ایس بھلے ہی اپنے نام سے اسلامک لفظ وابستہ کئے ہوئے ہو لیکن وہ اپنی حرکتوں سے سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام کو ہی پہنچا رہی ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ جب جب کچھ نوجوان اس کی طرف جاتے دکھائی پڑتے ہیں اور انہیں روکنا ضروری ہے۔ کشمیر میں تو ان کے جھنڈے بھی دکھائی دے جاتے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں بھی ایسے عناصر ہیں جو اس خوفناک تنظیم کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہم ہندوستانی اسلامی پیشواؤں اور مفتیوں اور علماؤں کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ کم سے کم انہوں نے تو اس دہشت گرد تنظیم کو غیر اسلامی قرار دینے کی ہمت دکھائی ہے۔
(انل نریندر)

ممبئی پولیس کمشنرکی وداعی کیوں ہوئی؟

ریاستوں میں ہونے والے افسروں کے تبادلے عام طور پر اخبارات اور میڈیا میں بحث کا موضوع نہیں بنتے لیکن ممبئی کے پولیس کمشنر راکیش ماریہ کو بڑے نازک موقعے پر اچانک وقت سے پہلے ہی ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل ہوم گارڈ بنا دیا گیا۔ میڈیا اور مہاراشٹر انتظامی حلقوں میں یہ بحث کا اشو ضرور بن گیا ہے۔ ماریہ شینا بورا قتل کانڈ کی جانچ کررہے تھے۔ ایک دم ٹرانسفر سے کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان کی جگہ ڈی جی ہوم گارڈ پر کام کررہے احمد جاوید کو ممبئی کا نیا پولیس کمشنر مقرر کردیا گیاہے۔ ماریہ 30 ستمبر کو ممبئی پولیس کمشنر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے تھے لیکن21 دن پہلے ہی انہیں ترقی دے کر ڈی جی ہوم گارڈ بنایا گیا ہے۔ وقت نہیں آیا؟ حالانکہ اس تبادلے سے ماریہ خوش نہیں ہیں۔ پہلے ٹی وی چینلوں پر چلایا گیا کہ ماریہ استعفیٰ دے سکتے ہیں لیکن ان خبروں کے درمیان ماریہ نے صفائی دی کے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ شینا بورا کیس کی تیزی سے جانچ کررہے ماریہ نے پہلے کہا تھا کہ شینا قتل کانڈ کو آروشی کانڈ نہیں بننے دوں گا۔ حالانکہ ماریہ کو ہٹانے سے مچے واویلے سے سہمی ہوئی مہاراشٹر سرکار کے ایڈیشنل چیف سکریٹری نے کہا کہ ماریہ ہوم گارڈ کے ڈی جی کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اب شینا بورا قتل کیس کی بھی جانچ کی نگرانی کریں گے۔ ممبئی کے نئے پولیس کمشنر احمد جاوید نے کہا کہ شینا قتل کانڈ کی جانچ باقاعدہ ویسے ہی پیشہ ور طریقے سے چلتی رہے گی۔ ذرائع کے مطابق راکیش ماریہ کا یکدم تبادلہ کیوں ہو ، اس کا جواب کچھ لوگ شینا بورا قتل کانڈ ہے، وہی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی پھڑنویس تو اسی سال جون میں انہیں ہٹانا چاہتے تھے۔ ماریہ نے خود قبول کیا تھا کہ لندن میں وہ آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی سے ملے تھے تب ماریہ سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔ جب بات اسٹار انڈیا کے سابق سی ای او پیٹر مکھرجی کے بے نامی لین دین اور ان کے آئی این ایکس چینل میں کالی کمائی کی سرمایہ کاری راز کھولا تو دہلی تک نیتاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ پولیس محکمے میں بحث چھڑی ہوئی ہے کہ این ایکس چینل میں دیش کے ایک بڑے صنعت کار نے 300 کروڑ روپے لگائے تھے۔ 
جب ماریہ نے راز کو کھنگالنا شروع کیا تو جانچ ایک بڑے صنعت کار تک پہنچی۔ پیٹر مکھرجی نے یہ جانکاری بھروسے مند سیاسی رابطہ کار کے ذریعے دہلی کے لیڈروں تک پہنچائی۔ مہاراشٹر سرکار کے اس فیصلے کے احتجاج میں تمام سیاسی پارٹیاں اتر آئی ہیں۔ این سی پی نیتا نواب ملک نے ماریہ کو ہٹانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پیٹر مکھرجی کے منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کو دبانے کے لئے دباؤ میں یہ فیصلہ ہوا ہے۔ شینا مرڈر کیس کے میڈیا میں گھرے راکیش ماریہ کی وزیر اعلی پھڑنویس نے بھی کھنچائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا میڈیا میں خبر بنے شینا مرڈر کیس پردھیان دینے کے ساتھ ساتھ پولیس کو ان معاملوں پر بھی توجہ دینی چاہئے جو میڈیا کی نگاہوں میں نہیں آتے؟ کیا ممبئی پولیس کمشنر کی توجہ ان کی طرف بھی جاتی ہے؟
(انل نریندر)

10 ستمبر 2015

جنرل راحیل شریف کی بوکھلاہٹ ہم سمجھ سکتے ہیں

ہم نے پاکستان کی ایک عادت ابھرتی دیکھی ہے جب بھی کسی سطح پر بھارت۔ پاک بات چیت ہوتی ہے تو پاکستان کی جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا بیان آجاتا ہے جس سے کشیدگی مزید بڑھ جائے۔ این ایس اے سطح کی بات چیت پر بھی یہی دیکھنے کو ملا اور اب جب ہند۔پاک رینجرس کی پانچ روزہ کانفرنس 9 ستمبر کو شروع ہوئی ہے تو پاکستانی فوج کے چیف جنرل نے ایک چیلنج بھرے لہجے میں بیان دے دیا۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف چھوٹی یا بڑی کیسی بھی جنگ ہوتی ہے تو دشمن کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔پاکستانی فوجی کے سربراہ نے کشمیر کو ادھورا ایجنڈا قراردیتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے کوئی ہمت کی تو اسے ناقابل برداشت نقصان جھیلنا پڑے گا۔ راحیل نے 1965ء کی بھارت۔ پاک جنگ کی 50 ویں برسی پر ایتوار کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ ایک خاص پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کا نام نہیں لیا لیکن اشارہ صاف تھا کیونکہ ان کا تبصرہ ہندوستانی فوج کے چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کے اس بیان کے پس منظر میں تھا جس میں انہوں نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ ہندوستانی فوج مستقبل کی جنگوں کے لئے تیار ہے۔ وہ پاکستان کے ذریعے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور جموں و کشمیر کو لگاتار شورش بنائے رکھنے کی حکمت عملی کے سلسلے میں تقریر کررہے تھے۔ یہ بھی فطری ہے کہ جنرل سہاگ نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب اسی انداز میں پاک فوج دے۔ کیونکہ پاکستان میں تو فوج کی ہی حیثیت سب سے بڑی ہے۔ پاکستانی فوج کے بارے میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ دیگر ملکوں کے پاس تو ایک فوج ہوتی ہے لیکن پاکستان میں فوج کے پاس ایک دیش ہے۔ اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔پاک فوج مسلسل تلخی کا ماحول بنائے رکھے لیکن پاکستان پر بھارت دیش کی سب سے بڑی پریشانی ہے یا یوں کہیں کہ ایک واحد مسئلہ ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ فوج بار بار پاکستانی عوام کو یہ یاد دلاتی رہے کہ یہ فوج ہی ہے جس نے دیش کو دشمن (بھارت) سے بچایا ہوا ہے۔ کشیدگی بھرے ماحول میں پاکستان کی طرف سے دی جانے والی دھمکیاں کوئی نہیں بات نہیں ہے۔ پہلے سرتاج عزیز پھر وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھیوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے نیوکلیائی ہتھیار دکھانے کیلئے نہیں رکھے ہیں؟ جب بھارت نے ان کوری بھبکیوں پر خاص توجہ نہیں دی تو اب پاکستانی فوج کے چیف آگے آگئے ہیں۔ آج پاکستانی سیاست کی زمینی حقیقت یہ ہے ویسے تو نام کی مقبول چنی ہوئی نواز شریف سرکار ہے لیکن اس کی حکومت راجدھانی اسلام آباد تک نہیں چلتی باقی دیش کی بات تو چھوڑیئے۔ وہاں اصل حکومت چلتی ہے پاکستانی فوج اور ان جہادیوں تنظیموں کی۔ پاک فوج میں اس وقت دو طرح کی جنرل ہیں ایک وسکی جنرل اور دوسرے جہادی (لمبی لمبی دھاڑی والے) جنرل جو جہادی جنرل ہیں۔ وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ ہمارا دشمن بھارت ہے اور ہم ہر ممکن طریقے سے بھارت کو نقصان پہنچائیں گے۔ اسی کڑی میں ہم آئی ایس آئی کو بھی شامل کرتے ہیں۔ یہ ان جہادی تنظیموں کو آگے کر کے کشمیر اور بھارت کو کمزور اور شورش پھیلانے میں لگے رہتے ہیں۔ جو وسکی جنرل ہیں وہ 1971ء کی لڑائی میں لیفٹیننٹ و کیپٹن وغیرہ رینک کے فوج کے افسر تھے وہ آج جنرل بنے ہوئے ہیں۔ یہ 1971ء کا انجام بھولنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنی فوج کے چھوٹے افسروں کو1971 کی ہار کا بدلہ لینے کے لئے قسمیں دلاتے رہتے ہیں۔ جب یہ جنرل جموں وکشمیر میں حالات مسلسل ٹھیک ہونے کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں تو یہ بوکھلا جاتے ہیں۔ بھارت کو دشمن نمبر ون بنانے کے لئے پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کشمیر راگ رٹتا رہتا ہے عوام کی بے روزگاری اور مہنگائی، بیماری وغیرہ مسائل سے توجہ ہٹاتا رہتا ہے۔ کشمیر کا راگ رٹنے سے پاک عوام کی توجہ بلوچستان ،سندھ میں بڑھتی علیحدگی کے مسئلے سے بھی ہٹاتا رہتا ہے۔ ہم جنرل راحیل شریف کی مجبوریوں اور بوکھلاہٹ کو سمجھ سکتے ہیں، بس انہیں اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ پہلے آپ اپنا گھر سنبھالئے ہندوستان اور کشمیر کو بھول جائیں ان کوری بھبکیوں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔
(انل نریندر)

ہمارے مندروں کا بیش قیمت اثاثہ

بھارت ایک مذہب کا حامل دیش ہے اور ہمارے دیش میں مندروں ،مساجد ، گورودواروں، گرجا گھروں کی خاص اہمیت ہے۔ زیادہ تر ہندو مندروں میں جاتے ہیں اور اپنی شردھا کے مطابق چڑھاوا چڑھاتے ہیں۔ہمارے مندر کتنے امیر ہیں اس کا صحیح تجزیہ تو کبھی نہیں ہوسکا لیکن حساب لگایا جائے تو دنیا میں ہم سب سے آگے ہوں گے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں دیش کے صرف6 بڑے مندروں کی سالانہ کمائی 3287 کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پیسہ عطیہ کی شکل میں مندروں کے پاس آتا ہے۔ پیسہ مندروں کی دیکھ بھال کے علاوہ بھی کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ دیش کے یہ6 مندر ہیں تروپتی ترومالا، شرڈی سائیں بابا، سدھی ونایک، کاشی وشوناتھ، ویشنو دیوی اور جگناتھ منتری پوری۔ ان کی ایک دن کی اوسطاً کمائی قریب10 کروڑ روپے ہے۔ دیش کے ان چار مندروں کی کل کمائی 1.32 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ یہاں قریب5 لاکھ شردھالو روزمرہ درشن کیلئے آتے ہیں۔ چاروں مندروں کی سالانہ کمائی 2691 کروڑ روپے ہے لیکن مندروں پر صرف سالانہ 40 کروڑ روپے ہی خرچ ہوتا ہے یعنی کمائی کا صرف1.40 فیصدی، باقی پیسہ جو بچتا ہے وہ یا تو بینک میں جمع کیا جاتا ہے یا سرکار و ٹرسٹ کو و تنخواہ جیسی مدوں میں جاتا ہے۔ان چار بڑے مندروں کے علاوہ ویشنو دیوی مندر ، جگناتھ پوری مندر میں بھی کروڑوں روپے کا دان آتا ہے۔ ویشنو دیوی مندر کی کمائی 580 کروڑ روپے اور جگناتھ پوری مندر کی کمائی 16 کروڑ (صرف چڑھاوے سے)یعنی انہیں جوڑ کر 6بڑے مندروں میں سالانہ3287 کروڑ روپے کما رہے ہیں۔ تروپتی مندر کا کل اثاثہ تخمینہ 1.30 لاکھ کروڑ مانا جارہا ہے۔ اس کے پاس 4200 ایکڑ زمین ،60 ہزار کروڑ روپے کی مالیت کے سونا چاندی اور زیورات ہیں۔ 18 ہزار کروڑ کی دیگر پراپرٹی ہے۔ 18500 کروڑروپے کی ایف ڈی اور انویسٹمنٹ ہے۔ شرڈی سائیں بابا کی کل پراپرٹی1.9 ہزار کروڑ روپے ہے۔ 1098 کروڑ روپے بینک ایف ڈی و انویسٹمنٹ کے ہیں۔696 کروڑ روپے کی دیگر پراپرٹی ہے اور74 کروڑ روپے کا سونا چاندی ہے۔سدھی ونایک مندر کی پراپرٹی 306 کروڑ روپے جانچی گئی ہے۔اس میں 225 کروڑ روپے کی بینک ایف ڈی و انویسمنٹ ہے 40.5 کروڑ روپے کا سونا چاندی، 40.5 کروڑ روپے کی دوسری پراپرٹی ہے۔ کاشی وشوناتھ کا کل اثاثہ 71.34 کروڑ روپے مانا گیا ہے۔ 50.55 کروڑ روپے بینک ایف ڈی و سرمایہ کاری ہے۔8.08 کروڑ روپے کی زمین ،بلڈنگ ہے اور11.30 کروڑ کے دوسرے اثاثے ہیں اور1.41 کروڑ کا سونا چاندی ہے۔ وشنودیوی مندر کی580 کروڑ روپے کی سالانہ کمائی ہے جبکہ جگناتھ پوری میں15.44 کروڑ روپے سالانہ چڑھاوا آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانپور کی کرپٹ مشینری ونائک شنی مندر دیش کا اکلوتا ایسا مندر ہے جہاں جج ، نیتا، ایم پی، ایم ایل اے اور وزرا کیلئے داخلہ ممنوع ہے۔ مندر میں ان کے آنے پر پابندی ہے ۔ بہرحال یہ سارے اعدادو شمار دینک بھاسکر کی ایک رپورٹ میں شائع ہوئے ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے مندروں کے پاس بھاری بھرکم اثاثہ ہے۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2015

نیتاؤں اور سرکار پر بیجا تبصرہ ہوگا ملکی بغاوت

مہاراشٹر حکومت کے محکمہ داخلہ کے ذریعے 27 اگست کو جاری ایک گائیڈ لائنس اطلاع پر واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے ڈپٹی سکریٹری کیلاش گائیکواڈ کے ذریعے27 اگست2015 کو جاری مارگ درشن اطلاع میں کہا گیا ہے کہ طنزیہ نگار آرٹسٹ کارٹونسٹ اور سماجی ورکر اسیم ترویدی کے خلاف جب آئی پی سی کے دفعہ124(A) یعنی ملکی بغاوت سے متعلق ایک ایف آئی آر درج ہوئی تو سرکاری وکیل سے رائے لیکر یہ دفعہ ہٹا دی گئی تھی۔ مگر سنسکار مراٹھے نامی شخص نے ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی اور جس طرح سے ترویدی کے خلاف ملک دشمنی کا مقدمہ درج ہوا اس طرح کا واقعہ مستقبل میں کسی شخص کے خلاف نہ ہو، اور اظہار آزادی برقرار رہے اس کے لئے ہائی کورٹ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران ریاستی حکومت کے وکیل کی طرف سے پولیس حکام اور ملازمین کو ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے بارے میں گائیڈ لائن اطلاع جاری کرنے کی تحریری جانکاری دی گئی۔ خیال رہے ہائی کورٹ میں دی گئی اس تحریری جانکاری کی وجہ سے 27 اگست کو محکمہ داخلہ نے ملک کی بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے بارے میں ایک گائیڈ لائنس اطلاع جاری کی تھی جس کو لیکر مہاراشٹر میں تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کیونکہ محکمہ داخلہ خود وزیر اعلی دویندر پھڑنویس کے پاس ہے۔ لہٰذا اس اطلاع کی آڑ میں کانگریس اور این سی پی نے سیدھے ان پر تنقید شروع کردی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے ریاستی حکومت پر ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا نیتاؤں یا کسی سرکار کے خلاف تبصرہ کئے جانے یا طنزیہ کارٹون شائع کرنے پر ملکی بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی اطلاع غلط ہے۔ اپوزیشن نے کہا کہ اظہار آزادی کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے سرکار۔ مہاراشٹر سرکار اس سے پہلے بھی ملک سے بغاوت کا ایک معاملہ درج کرنے کے بعد پیچھے ہٹ چکی ہے۔ کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی تحریک کے دوران 2011-12 میں اسیم ترویدی کے خلاف پولیس نے ملکی بغاوت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ بعد میں جب معاملہ ہائی کورٹ میں چلا تو حکومت نے 124(A) ہٹا لی تھی اور ترویدی بری ہوگئے تھے۔ ادھر مہاراشٹر سرکار کے وزیر اعلی دویندر پھڑنویس نے الزام لگایا ہے کہ راج دروہ کے الزامات کے سلسلے میں ان کی سرکار کی طرف سے جاری متنازعہ سرکولر کیلئے ریاست کی سابقہ کانگریس ۔این سی پی سرکار ذمہ دار ہے۔ سرکولر جاری کرنے والے محکمہ داخلہ کی ذمہ داری سنبھال رہے پھڑنویس نے اخبار نویسوں سے کہاکہ سرکولر کانگریس این سی پی حکومت کے دوران ممبئی ہائی کورٹ میں ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل کے بیان سے لیا گیا ہے۔ انہیں گائیڈ لائنس کی تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بہرحال پھڑنویس نے اس تنازعہ سے دوری بناتے ہوئے کہا ایک چیزکا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی سرکار کا فیصلہ نہیں ہے ریاست کے داخلہ محکمے کے ایک افسر نے کہا قانونی طریقے سے تنقید یا احتجاج کرنے پر حکومت کے خلاف بغاوت کا الزام نہیں لگے گا۔
(انل نریندر)

تین بار طلاق کہنے کو ایک بار نہیں مانا جاسکتا

تین طلاق کے بڑھتے بیجا استعمال کو روکنے کے لئے ہندوستان کے مسلم سماج میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کانپور میں سنی علماء کونسل نے اس کے خلاف مہم چلا دی ہے۔سکریٹری جنرل حاجی محمد سلیس نے اس طریقے سے تمام کنبوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت دیوبندی و بریلوی مسلک کے علماء کو بھی خط لکھا ہے۔ مظفر نگر میں محلہ لداوالا کا باشندہ ایک شخص جب دیر رات گھر لوٹا تو اتفاق سے رات کے کھانے پر دال میں نمک کم تھا ، جس پر وہ شخص اتنا آگ بگولہ ہوا کہ اپنی بیوی کو طلاق طلاق طلاق کہا۔ اور اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ اس کی بیوی کے پاس نہ تو کوئی نوکری ہے نہ وراثت میں کچھ ملا ہے اور نہ ہی روزگار کا اس کے پاس کوئی ذریعہ ہے؟ اس کے گھر والے غریب ہیں ایسے میں طلاق کے بعد وہ ایک دم بے سہارا ہوگئی ہے۔اپنی اس دور اندیشی کے لئے وہ مسلم مردوں کو ملے طلاق دینے کا یکطرفہ حق کو قصووار مانتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس پر پابندی لگے تاکہ مسلم خواتین کے ازواجی اختیارات محفوظ رہ سکیں۔بہت بڑی تعداد میں مسلم خواتین نے نہ صرف مسلم پرسنل لا کے توڑنے کے حق میں ہے بلکہ تین طلاق جیسی غلط روایت پر بھی پابندی چاہتی ہیں۔ کانپور میں پچھلے دنوں علما نے ایک اجلاس کرکے شوہر سے چھٹکارا چاہنے والی دو عورتوں کے حق میں فیصلہ دیا۔ ان عورتوں کی شکایت پر دارالافتاح نے دونوں عورتوں کا نکاح ختم کردیا۔ اس طرح سے شوہر کے ذریعے ستائی جانے والی عورتوں کو شرعی عدالت سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ زبانی تین طلاق ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ مصنفہ زکیہ سومن کا کہنا ہے کہ سال2014 میں شرعی عدالتوں میں جو 235 معاملے آئے ان میں سے80فیصدی زبانی تین طلاق کے تھے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا زبانی تین طلاق کا اثر نہ صرف متاثرہ عورتوں پر پڑتا ہے بلکہ گھر کے بچے بھی بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستہ تنظیموں نے ایک موقعہ پر تین طلاق کہئے جانے کو ایک بار کہا جانے سے متعلق گزارش کو تقریباً مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک اور حدیث کے مطابق ایک بار میں تین طلاق کہنا حالانکہ جرم ہے لیکن اس سے طلاق ہر حال میں مکمل مانی جائے گی اور اس سسٹم میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ انہیں اخباروں سے پتہ لگا ہے کہ آل انڈیا سنی مسلم علما کونسل نے بورڈ کے ساتھ ساتھ دیوبندی اور بریلوی مسلک کو خط لکھا ہے اگر اسلامی قانون میں گنجائش ہوتو کسی شخص کے ذریعے ایک ہی موقعہ پر تین طلاق کہے جانے کو ایک بار مانا جائے کیونکہ اکثر غصے میں لوگ ایک ہی مرتبہ تین طلاق کہنے کے بعد پچتاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خبروں کے مطابق علماء کونسل نے پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ایسا سسٹم لاگو ہونے کی بات بھی کہی ہے۔ حالانکہ بورڈ کو ابھی ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے لیکن وہ کونسل کی تجویز سے متفق نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کسی اور مسلم ملک میں کیا ہوتا ہے اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش ، ایران، سوڈان اور دیگر ملکوں میں کیا ہورہا ہے وہ ہم نہیں دیکھتے۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ قرآن شریف ، حدیث اور سنت کیا فرماتی ہے۔ اسلام میں ایک ہی موقعہ پر تین طلاق کہنا اچھا نہیں مانا گیا ہے لیکن اس سے طلاق مکمل مانی جائے گی۔ اس نظام میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
(انل نریندر)

08 ستمبر 2015

شہر میں پیشاب کرنے پر قتل،دیہی آنچل میں سرکاری راشن بند

ایک بار بہت برسوں پہلے انگلینڈ کی مہارانی ایلزبتھ دہلی تشریف لائیں تھیں انہوں نے دہلی کے بارے میں رائے زنی کی تھی ’دہلی از اے اوپنسلم‘ (یعنی دہلی میں اتنی گندگی ہے کہ جیسے کسی سلم بستی میں آگئے ہوں) اس پر پورے دیش میں زبردست رد عمل سامنے آیاتھا لیکن ٹھنڈے دہلی سے سوچیں تو ہوسکتا ہے کہ مہارانی نے غلط الفاظ کا استعمال کیا ہو لیکن جہاں تک ہمارے دیش کے شہریوں کا سوال ہے ان میں زیادہ تر میں پرسنل ہائی جین ، صاف صفائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ آئے دن ہم خبریں پڑھتے رہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ حال ہی میں دہلی میں ایک بار پھر دل دہلانے والی واردات سامنے آئی ہے۔ شاہ آباد ڈیری میں ایک شخص کو گھر کے باہر پیشاب کرنے سے روکنے پر ناراض لڑکے نے 12 مرتبہ چاقو مار کر اس کو قتل کردیا۔ یہ واردات بدھوار کی رات قریب11 بجے کی ہے۔ قتل سے ناراض رشتے داروں نے بدھوار کی رات اور جمعرات کو تھانے میں مظاہرہ کر قصورواروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک شخص بھرم پرکاش خاندان سمیت شاہ آباد ڈیری علاقے میں رہتا تھا اور وہ آر ٹی وی ڈرائیور تھا۔ بدھ کے روز رات میں وہ گھر پر ہی تھا کہ تقریباً 11 بجے اس نے دیکھا اس کے گھر کے باہر ایک لڑکا پیشاب کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا لڑکا بھی تھا۔ اس نے اس لڑکے کو وہاں پیشاب کرنے سے منع کیا اور بھگانے کی کوشش کی اس پر ان کے درمیان تو تو میں میں ہوگئی اور بات بڑھنے پر بھرم پرکاش نے پی سی آر وین کو ٹیلی فون کردیا۔ پولیس کے پہنچتے ہیں ملزم بھاگ گئے۔ پولیس کے جاتے ہیں دونوں لڑکے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ آئے اور پہلے انہوں نے بھرم پرکاش اور اس کے بھائی ہنسراج سے مار پیٹ کی اور پھر چاقو سے کئی حملے کئے۔ بھرم پرکاش کو مردہ قراردے دیا گیا جبکہ ہنسراج کا علاج چل رہا ہے۔ صفائی کی بات سے ایک اچھی خبر بھی آئی ہے کہ سوچتا مشن کے تحت ٹوائلٹ نہ بنوانے پر بھرموڑ سب ڈویژن (چمبا) کی 11 پنچایتوں کے 748 خاندانوں کا سرکاری راشن بند کردیا گیا ہے۔ جب تک یہ خاندان ٹوائلٹ نہیں بنوا لیتے تب تک سرکاری راشن کی دوکان سے راشن نہیں لے سکتے۔یہ کارروائی زونل ڈیولپمنٹ افسر (بی ڈی او) نے اپنے سطح پر کی ہے۔ اس کے لئے ضلع انتظامیہ یا سرکار کی طرف سے کوئی حکم یا ہدایت تو نہیں تھی لیکن سب ڈویژن کو مکمل صاف ستھرا بنانے کی مہم کی سراہنا ہونی چاہئے۔ بی ڈی او کی دلیل ہے جب غریب خاندانوں کو ٹوائلٹ بنوانے کے لئے سرکار کی طرف سے رقم دی جارہی ہے تو لیٹ لطیفی کیوں؟ بھرموڑ سب ڈویژن میں سے11 پنچایتوں کے کنبوں پر کارروائی کی جاچکی ہے۔ بتا دیں کہ ہماچل پردیش سرکار کی طرف سے فوڈ سپلائی کارپوریشن کے ڈپو آدھے سے بھی زیادہ کم قیمت پر تین دالیں ، آٹا اور چاول دئے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے سوچتا ابھیان کا آہستہ آہستہ اثر ہوناشروع ہوگیا ہے۔ خاص کر ہمارے دیہی آنچل میں۔ دیہی آنچل میں تو کام شروع ہوگیا ہے لیکن شہروں میں کب شروع ہوگا؟
(انل نریندر)

بچوں کے بستے کا بوجھ کم کرنے کیلئے منیش سسودیا کا اعلان!

دہلی کے نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے اعلان کیا ہے کہ راجدھانی کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں کلاس تک پڑھنے والے بچوں کو اب اسکول کے لئے بھاری بستے کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔ ہم جناب منیش سسودیا کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ میں نے اسی کالم میں کئی بار اسی مسئلے کی طرف توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کی ہوگی۔ قارئین کو شاید یاد ہو بچے سے بھاری بستہ نامی عنوان سے بچوں پر کتابیں کاپیں وغیرہ کا چھوٹے چھوٹے بچوں پر وزن سے نقصان بتایا۔ آخر دہلی کے نائب وزیر اعلی نے اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا۔ دہلی سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ آٹھویں کلاس تک کے نصاب میں 25 فیصدی کٹوتی ہوگی اور اس کی پوری تیاری بھی کرلی گئی ہے۔ اکتوبر ماہ (اسی سال ) سے یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ اسکولوں میں اب کھیل ، تھیٹر، ٹیلنٹ، کلچر ، موسیقی کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے برس تک بارہویں کلاس تک کہ نصاب میں بھی25 فیصد کمی ہوگی۔سسودیا نے کہا کہ اسکول جانے والے بچوں کی نشو و نما کے فروغ کے لئے سرکار نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بچوں کے بستوں کا بوجھ کم کرنے کی بات کہی تھی جس کہ پیش نظر محکمہ تعلیم نے اس سمت میں کام شروع کردیا ہے۔ محکمے نے بہت سے ماہرین تعلیم اساتذہ ، والدین اور دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر اس کا خاکہ تیار کرلیا ہے۔ بچوں کا بچپن بستوں کے بوجھ تلے دبا جارہا ہے۔ نصاب میں کچھ ایسے مضمون ہیں جن کی اب کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس لئے بچوں کو غیر ضروری طور سے پڑھائے جانے والے مضامین کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ بچوں کے مکمل ڈیولپمنٹ کے لئے یہ ضروری ہے کہ غیر ضروری نصاب کو گھٹا کر کھیل،فن، موسیقی، ڈرامہ جیسے موضوعات کے لئے وقت نکالا جائے۔ بچے کی مکمل شخصیت بنانے کے لئے ایسے ٹیلنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابھی کیا ہورہا ہے کہ بھاری بھرکم سلیبس کی وجہ سے بچوں کو کتابیں کاپیوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ باقی دیگر فنون پر تو توجہ نہیں دے سکتے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بچوں کو گھر میں بھی اتنا ہوم ورک کرنا پڑتا ہے کہ انہیں وقت ہی نہیں ملتا۔ ماں باپ کی الگ پریشانی اور ٹیوشنوں کا چکر ۔ سابق صدر جمہوریہ مرحوم ڈاکٹر اے پی جے کلام کے ساتھ اپنی ایک ملاقات میں ان کی تجاویز کا ذکر کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ کلام صاحب نے کہا تھا کہ اسکولی تعلیمی پاس ہونے کے بعد بچوں کو دو سرٹیفکیٹ دئے جانے چاہئیں پہلا تعلیمی صلاحیت کا اور دوسرا ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ سے وابستہ اہلیت کا۔ اس سے بچوں کو بارہویں کلاس کے بعد ہی اچھے روزگار کے موقعے ملیں گے۔ وہ آگے کی پڑھائی یا فن کے میدان میں آگے بڑھ سکیں گے۔ منیش جی نے کہا کہ سرکار کلام صاحب کی ان تجاویز کی سمت میں پہلے سے ہی کام کررہی ہے اسی سلسلے میں بچوں کی اسکل ڈیولپمنٹ کو بڑھاوا دیا جائے گا۔ اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

07 ستمبر 2015

Warning of Army Chief Gen. Dalbeer Singh Suhaag

Pakistan is not going to desist from its actions. It seems in Pakistan neither poverty is a problem nor inflation or disease. It has one and only problem i.e. Kashmir. It sings Kashmir song day and night, and is adopting dual policy to achieve its objective.  The first is to raise Kashmir issue at international forums or by forcibly creating an opportunity and the other is to keep disturbing Kashmir peace through infiltration. Through these jehadis it is waging a proxy war against India. Even the self proclaimed champion of anti-terrorist campaign, US has once again warned Pakistan which is running the terror nursery in harsh words to take strict and effective steps to abolish terrorist camps and jihadist set ups being operated and financed from its territory. The warning was given to Pak Prime Minister and Army Chief by US Security Advisor on her one day visit to Pakistan recently. It has also been reported that Pakistan is preparing muslim youths between in the age group of 18 to 30 years to create terror in India by instigating them in the name of religion. It’s provoking terrorists by showing them fake images and videos of atrocities allegedly committed on Muslims in various countries of the world including Palestine, Kashmir etc.  The groups prepared in terrorist camps are deputed on security duties in the programmes of terrorist organisation Jamaat-ud-Dawa. Recently apprehended Pak terrorist Naved and his co-trainee terrorists were deputed on security duty in the programme of Jamaat-ud-Dawa led by Hafiz Saeed in Meenar-e-Pakistan at Lahore. Indian security agencies have got solid proofs through the disclosure by the captured terrorist Naved about the alliance between different terrorist set ups and their intention to create terror in India. India will share these proofs, if necessary, with US and UN including the countries on whose shoulder Pakistan often cries. Naved informed that terrorists are trained to undergo of 100 round firing from AK-47, 5 round firing from LMG and 10 round firing from pistol at one time. These trainees are of 20 to 30 years of age. Terrorists are also taught map reading, GPS planting, compass reading, radio communication, working on Google Earth. Indian Security agencies have completed mapping of 24 locations of Naved in Pakistan, as such none can raise question over his (Naved’s) being a Pakistani citizen. Jong company phone and mobile numbers of Naved have also been detailed. The level of terrorist training being run in Pakistan is revealed from this information from Naved that 180 terrorists are given 21 days military training in Daur-e-Aam at a time. Fresh disclosures from Naved and reports from across the border by our intelligence agencies make it clear that  Pakistan is preparing a huge army of terrorists whom it wants to infiltrate under the cover of firing on border. India should not expect support from any other country in this war. Especially from US, who has always been playing dual role. On one hand it says that Pakistan is the largest terrorist nursery in the world and shelter place of Osama Bin Laden and Mulla Umar, on the other hand it fully supports Pakistan with financial help and military weapons. When US strictly orders Pakistan why doesn’t Pakistan take note of it? In fact to much extent the double standard of the US is responsible for this. US in its own interest has officially recognized the term good and bad terrorist groups of Pakistan. It chooses to keep silent over the Pakistani misadventure on border and the terror hit territory inside India which is four times more as compared to the terrorist group targeting US forces and establishments in Afghanistan. Terrorists have taken advantage of this US dual policy and have got such a hold over power in association with army and Pakistan intelligence agency ISI that nobody has the might or will to control them.

It is for these reasons the Indian Army Chief Gen. Dalbir Singh Suhaag has told the three armed forces of India (Indian Army, Navy & Air Force) to be prepared for swift, short nature of future wars. Slamming Pakistan for using "new methods" to create unrest in Jammu and Kashmir as well as spread the "arc of violence" to other areas, the Indian Army on Tuesday said it was ready for short wars which could be swiftly unleashed without much warning He said we should always be prepared for a quick and precise war in future. Without naming Pakistan he has said that in the new circumstances, the warning time from the enemy for war will be less. So it is necessary for India to be prepared at all times. In the preview of the ongoing tension with Pakistan on border and continuous violation of the ceasefire, the statement of the army chief gains much importance.

In such circumstances the question also arises as to what is the utility and justification of the proposed meeting between the commanders of BSF and Pak Rangers? Why are we humiliating ourselves again and again? The fresh statement of the Pakistani Prime Minister Nawaz Shareef should be an eye opener for India. The proverb also says: Some people understand only the language of force.

-        Anil Narendra

06 ستمبر 2015

ملائم کے دھوبی پاٹ داؤ سے نتیش۔ لالو چت

کشتی میں دھوبی پاٹ اور چرخہ داؤ کے ماؤ سماجوادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو نے اب کی سیاسی اکھاڑے میں اپنے ہی رشتے دار لالو یادو پر داؤ آزمایاہے۔بہار چناؤ کے ذریعے خود کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کررہے لالو سے الگ ہوکر ملائم نے ثابت کردیا کہ وہ سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ بہار میں مودی میجک و بھاجپا کو روکنے کے لئے پہلے الحاق اور پھر مہا گٹھ بندھن کی مہم چناؤ کے پہلے ہی دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ سیٹوں کے بٹوارے میں سپا کی اندیکھی سے نہ خوش چل رہے پارٹی کے سپریموں ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کی پارلیمانی دل کی بیٹھک بلا کر سپا کو مہا گٹھ بندھن سے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یہ بھی اعلان کردیا کہ وہ ایک وچار دھارا والے (وام دلوں) کچھ دیگر دلوں کے ساتھ یا آزاد روپ سے راجیہ کی سبھی اسمبلی سیٹوں پر چناؤ لڑیں گے۔این سی پی کے بعد جس طرح سماج وادی پارٹی مہا گٹھ بندھن سے باہر نکلی ہے اسے بہار کا اقتدار بچانے میں لگے نتیش۔ لالو خیمے کیلئے خوش آئند اشارہ نہیں کہا جاسکتا۔ سماجوادی پارٹی نہ صرف جنتا پریوار کی ممبر تھی بلکہ اس کے چیف ملائم سنگھ یادو کو جنتا پریوارکا صدر بھی قرار دیا گیا تھا۔ بہار میں مہا گٹھ بندھن سے الگ ہونے کے فیصلے سے ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کو اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی کچھ خاص فائدہ نہ ہو لیکن اس سے نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو جھٹکا ضرور لگے گا۔ حقیقت میں بہار میں سپا کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود جنتادل (یو) راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے گٹھ بندھن نے اسے پانچ سیٹیں دی تھیں لیکن پارٹی کی ناراضگی واجب ہے کہ ٹکٹ بٹوارے پر ہونے والی بات چیت میں اسکے نیتا کو وشواس میں نہیں لیا گیا۔پھر بھولنا نہیں چاہئے کہ اسی سال اپریل میں ہی جنتا پارٹی کے 6 پرانے دھڑوں کو ملا کر جنتا پریوار کی ایکتا کا اعلان کیا گیا تھا اور بنا نام والی اس متوقعہ نئی پارٹی کا چیف بھی توملائم کو بنایا گیا تھا۔ جنتا دل (یو) کے نیتا شرد یادو نے نیتا جی کو منا لینے کی امید جتائی ہے لیکن سپا نیتا سیاست کے ایسے ماہر کھلاڑی ہیں کہ وہ کوئی بھی داؤ بنا سوچے سمجھے نہیں چلتے۔ یہ بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ ناطہ توڑنے والے ملائم سنگھ ایک وقت جنتا پریوار کی ایکتا کی کوششوں کے مرکز میں تھے۔ جنتا پریوار کی ایکتا اور بکھراؤ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن اس بار بہار سے تجربہ کر دیش بھر میں بھاجپا اور کانگریس مخالف گول بندی کی جو پہل ملائم سنگھ نے کی تھی اس میں ان کے ساتھیوں نے نجی مفاد اور اہنکار کا پہلا جھٹکا انہیں دے ہی ڈالا۔
بہار میں بھاجپا اور نریندر مودی کو ملتی دکھ رہی بڑھت سے بوکھلائے نتیش کمار ملائم سنگھ کی چوکھٹ چومتے چومتے جس طرح سونیا گاندھی کی گود میں جا بیٹھے وہ ناگوار تو آرجے ڈی چیف لالو یادو کو بھی لگا لیکن ملائم اسے پچا نہیں سکے۔ اندیکھی کی انتہا یہ ہوئی کہ مہا گٹھ بندھن کے محرک اور سوتر دھار نیتا جی سے سیٹوں کے بٹوارے سے پہلے بات تک کرنی ضروری نہیں سمجھی گئی اور سونیا کی پارٹی کو40 سیٹیں تھما دیں جبکہ پچھلے چناؤ میں اسے آدھا درجن سے بھی کم سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔کانٹے کی لڑائی میں ایک ایک ووٹ قیمتی ثابت ہونے والا ہے۔ یہ نوبت تب ہے جبکہ گٹھ بندھن کی پارٹیوں کو ٹکٹ بٹوارے کا کام ابھی کرنا باقی ہے۔ اندیشہ ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کیلئے ٹکٹ بٹوارہ کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ سالوں بعد دونوں اتنی کم سیٹوں پر لڑ رہے ہیں۔ اس سوال کو سلجھانے میں اگر اختلاف ابھرا یا کاریہ کرتاؤں میں ایکتا کی کمی آئی تو اس کا خمیازہ پہلے سے کمزور پڑے گٹھ بندھن کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال بھاجپا بہار کے ہورہے تماشے کو دیکھ رہی ہے اور من ہی من میں اس کے لڈو پھوٹ رہے ہوں گے۔
(انل نریندر)

3 سال کے معصوم کی لاش نے ہلا دی دنیا

ترکی کے ساحل پر ملے 3 سال کے سیریائی معصوم کی لاش کی دل دہلادینے والی تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تصویر کی وجہ سے دنیا کی توجہ عالمی مہاجرین کے مسئلے پر گئی ہے۔ ایک جانب جہاں پوری دنیا میں خاص طور پر یوروپ میں مہاجر سمسیاکو لیکر جگہ جگہ مظاہرے ہوئے ہیں تو وہیں دوسری جانب فرانس، جرمنی اور اٹلی نے یوروپی مہاجر ضوابط کے بارے میں دوبارہ سوچنے اور غور کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ 28 ممبری یوروپی ملکوں کے درمیان مہاجروں کا بوجھ اٹھانے کا صاف طور پر بٹوارہ ہوسکے۔اس سے پہلے بدھوار کو ترکی کے بورڈیم ساحل پر ملے معصوم بچے کی لاش کی پہچان3 سالہ ایان کردی کے طور پر ہوئی ہے۔ ترکی کی میڈیا ایجنسی ڈوگن کی رپورٹ کے مطابق ایان اور اس کے ساتھ کے لوگ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) سے بچنے کے لئے سیریا کے کوبانی سے بھاگ کر ترکی پہنچے تھے۔ اس بچے کے 5 سالہ بھائی گالپ اور ماں ریحان کی بھی کشتی ڈوبنے سے موت ہوگئی۔ ایان کی سوشل میڈیا میں وائر ل ہوئی اس تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ بچہ ان 12 سیریائی لوگوں میں سے ایک ہے جو گریس پہنچنے کی کوشش کررہے تھے مگر ناؤ ڈوب جانے سے بیچ راستے میں ہی ان کی موت ہوگئی۔دو ناؤ میں سوار23 لوگوں میں سے محض9 لوگ ہی زندہ بچ سکے جس میں اس کا باپ عبداللہ کردی بھی ہے۔ کشتی حادثے میں اپنے بیوی بچوں کو گنوانے والے اس بدقسمت عبداللہ نے بتایا کہ اس کی خواہش ہے کہ بیوی اور بچوں کی لاشوں کے ساتھ کوبین لوٹے جہاں وہ انہیں دفنانے کے بعد خود ان کی بغل میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ بی بی سی کے ایک ٹوئٹ کے مطابق عبداللہ کردی نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو پانی میں پکڑنے کی کوشش کی مگر کوئی امید نہیں تھی۔ یو این ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق سیریا میں 2011 ء سے جاری خانہ جنگی کے چلتے40 لاکھ سے زیادہ سیریائی شہری ہجرت کو مجبور ہوچکے ہیں۔ اس سال اب تک ترکی میں سب سے زیادہ قریب17 لاکھ مہاجر پہنچے ہیں۔ یوروپی یونین کے بڑے دیشوں نے اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں مگر ان ملکوں میں اختلاف بھی صاف طور پر ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔یوروپی دیشوں کا کہنا ہے کہ مہاجروں کا مسئلہ خطرناک تو ہے مگر مہاجروں کا بوجھ اٹھانے کے لئے یوروپی یونین کے28 دیشوں کے پاس کوئی طے پروگرام نہیں بن سکا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس انسانی آفت کے مسئلے کا جلد کوئی حل نکلے گا۔

(انل نریندر)



میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...