Translater
15 جون 2023
اب کانگریس کی نظریں مدھیہ پردیش پر لگیں!
کرناٹک میں شاندار جیت حاصل کرنے کے بعد اب کانگریس پارٹی کی نظریں مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات جیتنے پر ہیں ۔کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے پیر کو کہا کہ مدھیہ پردیش کے جبل پور سے پارٹی کا چناوی بگل پھونک دیا ہے ۔پرینکا نے وزیراعلیٰ شیوراج چوہان سرکار پر کرپشن اور نوکریاں دینے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا ۔انہوں نے راشن بانٹنے میں وشیع مبینہ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی سرکار کے 220 مہینے کی حکمرانی میں 225گھوٹالے ہوئے ہیں پرینکا نے کہا پچھلے تین برسوں میں بی جے پی سرکار نے ریاست میں صرف 21 سرکاری نوکریاں دی ہیں ۔میں نے اپنے دفتر سے تین بار اس کی جانچ کرانے کو کہا اور پایا کہ یہ صحیح ہے اگر ہم مدھیہ پردیش میں اقتدار میں آئے تو عورتوں کو 1500 روپے ہر مہینے 500 روپے میں رسوئی گیس سلینڈرا ور 100یونٹ مفت بجلی دیں گے ۔اور پرانی پنشن اسکیم لائیں گے اور کسانوں کا قرض معاف کریں گے ۔ہم نے کرناٹک میں پانچوں گارنٹیوں کو پورا کر دیا ہے ۔ڈبل انجن کی سرکار کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ہم نے ڈبل اور ترپل انجن والی سرکاریں دیکھیں ہیں لیکن ہماچل اور کرناٹک میں لوگوں نے اس کا کرارہ جواب دیا ہے ۔ادھر کانگریس نے کرناٹک میں جیت کے پیروکار جی کے شیو کمار کو مدھیہ پردیش میں چناو¿ کمپین کی کمان سنبھالنے کے لئے میدان میں اتار دیا ہے ۔کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ شیو کمار اتوار کی صبح مدھیہ پردیش کے اجین میں واقع مہا کالیشور مندر میں بھسم آرتی میں شامل ہوئے ۔اور پھر کال بھیرو مندر میں پوجا ارچنا کی شیو کمار نے کہا ہندوتو مندر اور دیوتا بھارتیہ جنتا پارٹی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا مدھیہ پردیش چناو¿ کے لئے کانگریس کی حکمت عملی تیار ہے لیکن انہوں نے تفصیل بتانے سے انکار کر دیا ۔خیال کیا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش کانگریس کے لئے آنے والے اسمبلی چناو¿ میں وہ اہم حکمت عملی ساز ہوں گے ۔کانگریس نیتا نے کہا کہ تیسری اور چوتھی بار ہے جب وہ مہاکالیشور مندر آئے ہیں ۔کرناٹک چناو¿ سے پہلے میں نے اقتدار کے لئے مہا کالیشور اور کال بھیرو سے پرارتھنا کی تھی اب ہمیں کرناٹک میں اقتدار مل گیا ہے ۔شیو کمار نے یقین دلایا ہے کہ کانگریس کو 230 ممبری مدھیہ پردیش اسمبلی میں ان کی پارٹی کے ذریعے کرناٹک میں جیت حاصل ہوئی ہے اور 135 سیٹوں کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں ملیں گی ۔مدھیہ پردیش میں سال کے آخیر میں اندور میں کہا کہ ریاست کے لوگوں نے اقتدار میں تبدیلی کا فیصلہ کر تے ہوئے کر لیا ہے اور وہ واضح اکثریت سے کانگریس کو چننے کا من بنا چکی ہے ۔موجودہ بھاجپا سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی عوام کو ڈبل انجن کی سرکار یا آپریشن لوٹس سے بنی سرکار دیکھی ہے اور یہ سرکار ناکام رہی ہے ۔
(انل نریندر)
2024 کی تیاریاں شروع!
2024 عام چناو¿ کو لیکر بی جے پی نے ہائی کمان کی سطح پر تیاری شروع ہو گئی ہے ۔اس کی کمان خود وزیراعظم نریندر مودی نے سنبھال لی ہے اسی کڑی میں بہت جلد ہی سبھی بھاجپا حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ،نائب وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہوگی ۔اس میں مرکز اسپانسر فلاحی اسکیموں پر عمل در آمد کے علاوہ 2024 عام چناو¿ کی تیاری کو لیکر بھی جائزہ لیا جائے گا ۔سب سے پہلے 28 مئی کو بھی وزیراعظم مودی سبھی بی جے پی حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ملاقات کر چکے ہیں ۔سبھی بھاجپا حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو میٹنگ کے بعد عام چناو¿ کی تیاری کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے ۔یہ میٹنگ وزیراعظم مودی کے امریکہ دورہ پر جانے سے پہلے ہو سکتی ہے اس لئے بھی یہ میٹنگ اہم مانی جا رہی ہے کیوں کہ پچھلے کچھ دنوں سے بھاجپا صدر جے پی نڈا وزیرداخلہ امت شاہ اور تنظیمی جنرل سیکریٹری بی ایل سنتوش کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے ۔اس کے بعد سے ہی بی جے پی میں بڑے پیمانے پر تنظیمی تبدیلی کی شروعات کے بارے میں بات چھڑی ہوئی ہے ۔ذرائع کی مانیں تو اگلے کچھ دنوں میں تمام ریاستی یونٹوں سے لیکر مرکزی سطح تک بڑے پیمانے تک پارٹی میں ردو بدل ہو سکتی ہے ۔کچھ مہینوں میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ۔اگلے برس عام چناو¿ ہوں گے ۔بھاجپا اسمبلی انتخابات کی تیاری کے ساتھ لوک سبھا میں اپنی سیٹیں بچانے کے لئے بھی زور لگائے گی ۔وہ ان ریاستوں پر تو توجہ دے ہی رہی ہے جہاں پارٹی نے اچھی پرفارمنس نہیں دی تھی ۔ساتھ ہی الگ ہو گئے پرانے ساتھیوں پر بھی اس کی نظریں ہیں ۔اس مرتبہ بھی چناو¿ سے پہلے اپوزیشن اتحاد کی باتیں ہونے لگی ہیں اور یہ اپوزیشن پارٹیاں متحد ہو کر بی جے پی کو ہرانے کی اسکیم بنانے کے لئے میٹنگیں کررہے ہیں ۔نئی پارلیمنٹ کے افتتاحی تقریب کا کانگریس سمیت 20 اپوزیشن پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ایک طرف اپوزیش اتحاد کی کوشش ہو رہی ہے تو دوسری طرف بی جے پی بھی اپنا کنبہ بڑھانا چاہتی ہے ۔پچھلے کچھ برس میں بی جے پی کے کئی پرانے ساتھی الگ ہوئے ہیں ۔مہاراشٹر میں شیو سینا ،پنجاب میں سب سے پرانی ساتھی پارٹی اکالی دل اور آندھرا پردیش کو اسپیشل ریاست کے مسئلے پر این ڈی اے سے ٹی ڈی پی الگ ہو گئی ۔اس کے بعد جے ڈی یو نے بھی کنارہ کر لیا تھا ۔کیا بی جے پی کے پرانے ساتھی این ڈی اے میں واپس آسکتے ہیں اس سوال کے جوا ب میں پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ کسی خاص پارٹی کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا ۔حالانکہ یہ صاف کہا جا رہا ہے جو پارٹیاں ایک پارلیمنٹ کے افتتاح پر ان کے ساتھ تھیں ان کے لئے این ڈی اے میں آنے کا راستہ کھلا ہے ۔پچھلے دنوں ٹی ڈی پی چیف چندر بابو نائیڈو کے دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات ہوئی تھی ۔اسی کے بعد سے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ٹی ڈی پی بی جے پی اتحاد میں شامل ہو سکتی ہے ۔این ڈی اے کنبے کے بڑھنے کے بہت امکان ہیں ۔
(انل نریندر)
13 جون 2023
راہل گاندھی کے امریکہ دورے سے کیا حاصل ہوا ؟
اب سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی کو اپنے امریکہ دورے سے کیا فائدہ ہوا ؟ کانگریس پارٹی کے ترجمان اکھلیش پر تاپ سنگھ کہتے ہیں ،دنیا نے ان کو بڑی سنجید گی سے سنا اور دنیا میں وہ اپنا بہت اچھا تاثر چھوڑ کر آئے ہیں۔ راہل گاندھی جی کانگریس پا رٹی کے صدر رہ چکے ہیں اور لوک سبھا کی ممبر شپ گنوانے کے بعد وہ امریکہ چلے گئے ۔آج کی تاریخ میں راہل گاندھی سرکار طور پر تو ان کی کوئی حیثیت ہے نہ نہیں تنظیم میں اور نہ ہی حکومت میں اور نہ ہی کسی ایوان میں لیکن ان کی دنیا میں ایک امیج بنی ہے۔ ان کی ایک آواز ہے ،ویژن ہے جسے دنیا جاننا چاہتی ہے ۔پارٹی کے ترجمان اکھلیش کہتے ہیں کہ ان کی بات کو نہ تو بھارت میں نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا میں کوئی ایسا نیتا ہے کہ اقتدار سے ہٹ جائے اور اتنے جذبے سے کوئی ان سے سننے جاتا ہو؟ بی جے پی کو ہی دیکھ لیجئے ،کسی سابق وزیر اعظم کو کسی نے پوچھاہے؟راہل گھاندھی کا امریکہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب کرناٹک اسمبلی چناو¿ میں کامیابی سے پارٹی کا حوصلہ بڑھا ہے اور پارٹی اگلے سال کی عام چناو¿ کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے تو کیا چناو¿ میں اس کا فائدہ مل سکتاہے؟ کے جواب میں خارجی پالیسی کے ماہر اور بھاجپا ممبر ڈاکٹر سبرو دھ مل دتہ کہتے ہیں ۔مختصر یہ ہے کہ راہل گاندھی کے امریکہ دورے کا تجزیہ کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ میں بھارت مخالف اور پاکیستان حمایتی طبقے کے سامنے کچھ سستی سیاسی بنیاد ہوسکتی ہے۔ بنیاد ہی نہیں اس کے علاقہ سیاسی طور پر کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔ لیکن الکھلیش پر تاپ سنگھی کے مطابق امریکہ کے دورے سے راہل گاندھی کی باتیں اور ان کے خیالات دنیا والوں کے پاس پہنچے ہیں اس لئے ان کا دورہ کامیاب رہا راہل گاندھی کو ہر فلڈ ان کی جانکاری کتنی گہری ہے وہ لوگ بھی راہل جی کو سننے کے بعد اعتراف کر رہے ہیں کہ اس آدمی میں دیش او ردنیا کو ایک نئی دینے کی صلاحیت ہے او ر ویژن بھی لیکن حکمراں بی جے پی کی نظروں میں راہل گاندھی کے امریکہ دورے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر دتہ کہتے ہیں کہ مغرب کے ساتھ راہل گاندھی کا رومانس انہیں خوبصورت رومانٹک کہانی نہیں دیتا بلکہ انکی بھارت واپسی پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرناپڑتا ہے۔ واشنگٹن میں موجو دسینئر صحافی اجیت صحیح کہتے ہیں کہ ہندوستانی اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا امریکی دورہ دو معاملوںمیں کامیاب رہا وہ بتاتے کہ ہیں کہ پہلا نو برس میں پہلی بار واشنگٹن ڈی سی میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی الگ اور پالیسی بنانے والوں کے سامنے لایا دوسرا ان کے دورے نے نو برسوںمیں پہلی مرتبہ ان ہزاروں ہندوستانی امریکیوں کو ایک مو قع فراہم کیا جو مودی کی سیاست سے خود کو الگ دیکھتے ہیں اور الگ الگ شہروں می بڑے گروپوںمیں اکٹھا ہوتے ہیں۔اور اتحاد کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔
(انل نریندر)
ظلم ،گھناو ¿نیت کی انتہا!
سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ہمارے سماج کو آخر کیا ہو گیا ہے؟ظلم کی ساری حدیں پار ہو گئیں ہیں ۔ ہمار ے سماج کی انتہا نربھیاسے شروع ہوئی اور یہ ظلمیت کا یہ دور رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ممبئی سے لگے مامندر علاقے میں ایک عورت کا قتل اور اس کی جیسی نوعیت سامنے آئی ہے اس نے ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کوئی شخص کیسے اس حد تک جا سکتا ہے ۔ اپنے ہی ساتھی کے خلاف اتنا بر بر ہو جائے ۔ ایک شخص منوج سانے نے اپنے ساتھ لیو ان ریلیشن میں ساتھ رہ رہی اپنی خاتون فرینڈ سرسوتی ویت کے مبینہ قتل کے بعد اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا جو طریقہ اپنا یا وہ اتنا گھناو¿نا اور اذیت اور بر بریت سے بھرا ہے کہ اس معاملے کی نوعیت کے بارے میں شبہ ہوتا ہے ۔ انسانیت کو دہلاکر رکھ دینے والا ممبئی کا یہ معاملے ہمیں شردھا والکر قتل کی یاد دلاتا ہے ۔ گزشتہ سال نومبر می دہلی میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا ۔ دہلی پولیس کے مطابق پچھلے سال مئی میں 27سالہ لڑکی شرھا والکر کو آفتاب پوناوالا نے قتل کیا اور پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جنگل میں پھینگ دیا ۔ ایسے ہی ممبئی نیلا روڈ علاقے کی 56سالہ ملزم نے اپنی 32سالہ گرل فرینڈ و لیو ان پارٹنر کا قتل کر آری سے لاش کے ٹکڑے کر دئے اور بعد میں لاش کے ٹکڑے ایک ایک کرکے کوکرمیں ابالے ۔پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے ابالا ہوا گوشت کتوں کو کھلایا ملزم منوج سانے اس کے باوجود پولیس جب دروازہ توڑ کر اندر گھسی تو بیڈ روم سے لیکر رسوئی تک رکھے ہوئے لاش کے ٹکڑے ،بال اور خون میں لتپت جرم کی حیوانیت گواہی دے رہی تھی۔رونگٹیں کھڑے کر دینے والے اس معاملے کی پوری سچائی تو جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ لیکن اتنا تو صاف ہے کہ اپنے بوائے فرینڈ سے 24سال چھوٹی اور یتیم خانے میں پلی وہ ایسی سماج کی عورتوں کے موازنے میں ہی زیادہ اور عدم تحفظ کا شکار ہی ہوگی۔ پھر ایک سال پہلے ہوئے شردھا والکر قتل کے پسے منظر میں دیکھیں تو وہ بھی لیو ان ریلیشن مین رہ ہی تھی۔ کہا تو یہ جارہا تھا کہ وہ اجتماجی زندگی شادی کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے ۔کیوں کہ اس میں کنبوں اور سماج کی وابستگی نہیں ہوتی ۔یوہی قتل آخر ایک گھناو¿نا جرم تو ہے ہی لیکن ممبئی کے اس واقعے سے ایسے معاملوں کا کئی بار ایک یقین کرنے میں وقت لگ جاتا ہے ۔ آخر ایک عام دکھائی دینے والا انسان کیسے ایسا ظالم ہو جاتا ہے کہ اپنی ہی ساتھی کو مار ڈالنے کے بعد خود بچنے کیلئے ظلمیت کی ساری حدیں پار کر جاتا ہے ۔پچھلے کچھ وقت سے ایسے واقعات اکثر دیکھے اور سنے جارہے ہیں جس میں لیو ان ریلیشن میں رہنے والے کسی مرد نے اپنی خاتون ساتھ کی نہ صرف جان لی بلکہ کو خود کو بچانے کے مقصد سے اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کیلئے حساسیت کی ساری حدیں پار کری۔ سرکار سے لیکر سماج تک کو ایسے سخت قانون سے نمٹنے کے علاوہ اور کئی پہلوو¿ں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔لیو ان ریلیشن پر بھی تشویش ہونا فطری ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...