Translater

20 اکتوبر 2018

’’می۔ ٹو‘‘ ابھیان میں گئی اکبر کی سلطنت

بہت سی خاتون صحافیوں کی جانب سے لگائے گئے جنسی استحصال کے الزامات سے گھرے وزیر مملکت خارجہ و سینئر صحافی ایم جے اکبر کے پاس کیبنٹ سے استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں رہ گیا تھا۔ ساڑھے چار سال میں مودی سرکار کے اکبر پہلے وزیر ہیں جنہیں ایسے سنگین الزامات کے سبب عہدہ سے ہٹنا پڑا۔ الزام لگانے والی خواتین کی تعداد جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس میں اکبر سے استعفیٰ لیکر سرکار اور بی جے پی کو بے عزت ہونے سے بچا لیا۔مناسب تو یہ ہی ہوتا کہ وہ اپنے خارجی دورہ سے لوٹتے ہی استعفیٰ دے دیتے کیونکہ اس وقت تک کئی عورتیں ان پر جنسی استحصال کے الزامات لگا چکے تھیں۔ اپنے اوپر لگے داغ کو دھونے کے لئے دم خم کے ساتھ قانونی لڑائی لڑنے کا دعوی کرنے والے اکبر کو آخر کار جھکنا پڑا۔ اکبر کا استعفیٰ مانگ رہی کانگریس کی نہ تو یہ سیاسی جیت ہے اور نہ ہی اس سے پلہ جھاڑنے والی بھاجپا کی ہار ہے۔ یہ جیت ہے ’می۔ ٹو‘ مہم چلانے والی خواتین کی۔ جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے سرکار پر اتنا دباؤ بنا دیا کہ اکبرکو استعفیٰ دینا مجبوری بن گیا تھا ۔ اگر اکبر کو اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دینا ہوتا تو وہ جنسی استحصال کے پہلے الزام کے بعد ہی دے دیتے۔ لیکن 10 دن بعد غیر ملکی دورہ سے لوٹ کر استعفیٰ دیا اورصفائی پیش کرنے کے بجائے جارحانہ رخ اپنایا۔ الزام لگانے والی قریب 20 خاتون صحافیوں کو جھوٹا ٹھہرا رہے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اکبر کی دلیلوں میں دم نہیں ہے اور وہ بیحد کھوکھلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ یعنی 20 خواتین صحافی اپوزیشن کے کہنے پر ان پر الزام لگا رہی تھیں وہ بھی سماجی ساکھ کو داؤ پر لگا کر۔ سرکار کے پاس متبادل محدود تھے۔ پہلے بھاجپا نے کہا کہ وہ اکبر کی طرف سے صفائی پیش کرنے کا انتظار کرے گی۔ پھر انہیں ایک سینئر وزیر کے رابطے میں رہنے کو کہا لیکن پارٹی نے نفع نقصان کا حساب لگانے کے بعد آخر کار ان سے استعفیٰ دینے کو کہہ دیا۔ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال منگل کے روز اکبر سے ملنے پہنچے تو قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ شاید استعفیٰ دینے کا سندیش لیکر گئے تھے۔ پارٹی نے انہیں سمجھایا کہ عدالت میں بطور وزیر ان کا پیش ہونا اور کیس لڑنا مناسب نہیں ہوگا۔ دراصل پانچ ریاستوں میں جاری چناؤ کمپین کے دوران سیاسی اشو بننے کے اندیشے نے پارٹی لیڈر شپ کے ہاتھ باندھ دئے تھے۔ راہل گاندھی نے کہنا بھی شروع کردیا تھا کہ ’بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ ‘ کا نعرہ دینے والی سرکار کے وزرا سے اپنی بیٹی بچاؤ۔یقینی طور پر جن صحافیوں نے اکبر کے خلاف سوشل میڈیا میں آرٹیکل وغیرہ کے ذریعے الزام لگائے ہیں ان میں سے کوئی بھی ان کے خلاف عدالت یا تھانے میں نہیں گئی (ایک کو چھوڑ کر) اور یہ بھی صاف ہے کہ اتنے برس بعد ان الزامات کوثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اسی سال فلمی ستارے جتیندر پر بھی ان کے ایک رشتے دار نے 20 سال بعد جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے اسے آئی پی سی کی دفعہ کے تحت اس بنا پر خارج کردیا تھا کہ معاملہ پرانا ہے اور اتنے برسوں کے بعد نہ تو یہ ثابت ہوسکتا اور نہ ہی کوئی ثبوت بچا ہوگا۔ اس لئے ان خاتون صحافیوں کے لئے یہ ہی سب سے بڑی چنوتی ہے کہ وہ مختلف اداروں میں اپنے ساتھ ہوئے جنسی اذیت کو دلیل آمیز انجام تک پہنچائیں۔ دوسری طرف ایم جے اکبر خود پر لگے الزامات کے خلاف ایک شہری کے طور پر قانونی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں لیکن دیش کے مشہور مدیر اور صحافی کی شکل میں انہیں پتہ ہوگا کہ کوئی خاتون اپنی عصمت اور ساکھ کو لیکر یوں ہی الزام نہیں لگاتی۔ 
(انل نریندر)

پاکستان نے 10 مہینے میں درندہ کو پھانسی پر لٹکایا

بھارت میں آئے دن بچیوں کے ساتھ بدفعلی و اس کے بعد ان کے قتل کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں۔ ابھی دو دن پہلے ہی گجرات میں سورت میں اپنے گھرکے باہر سے لاپتہ ہوئی ساڑھے تین سالہ بچی کی لاش ملی ہے۔ بچی کو قتل سے پہلے اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ سلسلہ کیوں نہیں رک رہا ہے؟ جواب ہے کہ ان درندوں کو کوئی خوف نہیں ۔ نربھیا کانڈ کو چھ سال گزر چکے ہیں۔16 دسمبر 2012 کے اس خوفناک واقعہ کے قصوروار ابھی تک پھانسی پر نہیں لٹکائے جاسکے۔ حال ہی میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تھا۔ عدالت نے 2012 کے اس نربھیا اجتماعی آبروریزی معاملہ میں تین قصورواروں کو پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کی درخواست خارج کردی تھی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی تین نفری بنچ نے اس معاملہ میں پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کا فیصلہ صحیح ہے اسے نہیں بدلا جائے گا۔ یہ تو صحیح ہوا لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کب ہوگی ان درندوں کو پھانسی؟ 6 سال گزر گئے ہیں اور ہم ابھی اپیلوں کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں؟ ہم سے تو ہمارا پڑوسی دیش پاکستان اس معاملہ میں بہت آگے ہے۔ پاکستان میں چھ سال کی بچی زینب انصاری سے بدفعلی اور اس کے قتل کے قصوروار عمران علی (24 سال) کو بدھوار کے روز (یکم اکتوبر 2018 ) کی صبح لاہور کی کورٹ لکھپت سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کے وقت مجسٹریٹ عادل سروور اور زینب کے والد امین انصاری موجود تھے۔ جیل میں ایک ایمبولنس بھی پہنچی تھی جس میں عمران کے بھائی اور اس کے دوست بھی تھے۔ زینب کے پتا نے کہا وہ کورٹ کے شکر گزار ہیں۔ خاندان کو انصاف ملا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا پھانسی کا سیدھا ٹیلی کاسٹ ہوتا تو اور بہتر ہوتا۔ دراصل انصاری نے قصوروار کو کھلی جگہ پر پھانسی دینے اور اس کے سیدھے ٹیلی کاسٹ کی مانگ کرتے ہوئے عرضی داخل کی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے اسے منگل کے روز خارج کردیا تھا۔ گھر سے لاپتہ ہوئی زینب کی پانچ دن بعد لاش کچرے کے ڈبے میں ملی تھی۔ یہ بات اسی سال 4 جنوری کی ہے۔ دو ہفتے کے بعد پولیس نے عمران کو گرفتار کیا تھا۔ واردات کے احتجاج میں قصور میں جسٹس فار زینب ریلی نکالی گئی تھی۔ عمران نابالغوں سے بدفعلی اور قتل کے معاملوں میں ملزم تھا۔ اس میں چار معاملوں میں ملزم پر کورٹ فیصلہ سنا چکی تھی۔ پاکستان کے جسٹس سسٹم اور عدلیہ نظام کی تاریخ رقم ہونی چاہئے۔ اسی سال جنوری میں واردات ہوتی ہے اور 10 مہینے بعد درندے کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ بھارت میں بدفعلی کے معاملہ میں آخری بار 14 سال پہلے 4 اگست 2004 کو کولکتہ کے دھننجے چٹرجی کو پھانسی دی گئی تھی۔ دھننجے کا کیس 14 سال تک چلا تھا۔ نربھیا کیس ابھی بھی چل رہا ہے۔ ہمیں پاکستان سے سیکھنا چاہئے۔ جب تک ان درندوں میں خوف پیدا نہیں ہوگا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔
(انل نریندر)

19 اکتوبر 2018

کیا راہل کی رافیل رٹ سے مقامی اشو دب رہے ہیں

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا بگل بج گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں میں ہونے جا رہے اسمبلی حلقوں سے پہلے مرحلہ کے لئے منگلوار کو نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی کاغذات کی نامزدگی شروع ہوگئی ہے۔ پہلے مرحلہ میں 8 اضلاع میں 18 اسمبلی سیٹوں کے لئے چناؤ ہوں گے۔ دسمبر میں ووٹوں کی گنتی کے ساتھ چناوی خانہ پوری پوری ہوجائے گی۔ یہ اسمبلی چناؤ لوک سبھا چناؤ سے پہلے کے سیمی فائنل مانے جارہے ہیں۔ ان کے نتائج سے لوک سبھا چناؤ 2019 پر سیدھا اثر پڑے گا۔ ان ریاستوں میں کل 680 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ ان ریاستوں میں 83 لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ ان میں سے 2004 میں بھاجپا کو 63، کانگریس کو6 اور ٹی آر سی نے 11 سیٹیں جیتی تھیں۔ ظاہر ہے بھاجپا کو 2019 کے نمبروں کے حساب کتاب تک پہنچنے کے لئے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ ،راجستھان انتخابات میں 2013 کو دوہرانا ہوگا۔ تلنگانہ اور میوزرم میں اپنی پرفارمینس بہتر کرنی ہوگی۔ اگر کانگریس 2019 میں بہتر پرفارمینس کرنا چاہتی ہے تو کم سے کم ان تین ریاستوں میں اسے واپسی کرنی ہوگی۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ سے پہلے بھلے ہی کانگریس رافیل سودے کو اشو بنانے کی کوشش کررہی ہو لیکن لگتا ہے بھاجپا اسے زیادہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔ بھاجپا ان ریاستوں میں کانگریس کی پچھلی موجودہ حکومتوں کے کام کاج کا جائزہ عوام کے سامنے رکھ رہی ہے تاکہ جنتا جان سکے کہ کون بہتر ہے۔ وہ مختلف اشوز پر کانگریس کے ساتھ زیادہ الجھنے کے بجائے سماجی تجزیوں پر زیادہ غور کررہی ہے خاص کر پسماندہ طبقات پر جس سے خود وزیر اعظم مودی آتے ہیں۔ بھاجپا کے اپنے تجزیئے میں سب سے راحت کی بات یہ سامنے آرہی ہے کہ رافیل کہیں بھی چناؤ اشو بنتا نظر نہیں آرہا ہے۔ کم سے کم بھاجپا کا تو یہ ہی ماننا ہے۔کل ملا کر سیاسی مبصروں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کے ذریعے رافیل کی لگاتار رٹ لگانے سے عام آدمی کو متاثر کرنے والے اشو مہنگائی اور بے روزگاری دبتے چلے جارہے ہیں۔ بھاجپا کے نیتا بھی رافیل کو بوفورس کی طرز پر استعمال کرنے کی ہوا ختم ہوتے ہوئے راحت محسوس کررہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں رافیل کی پھونک نکلتی دیکھ بھاجپا اعلی کمان نے اس پر توجہ دینا اب ضروری نہیں سمجھا ہے۔ بھاجپا کو اندیشہ ہے کہ بھاجپا حکمراں ریاستوں میں اپوزیشن مخالف ماحول کے چلتے مقامی اشوز کے ذریعے حملہ آور ہوں گے اوربھاجپا کی پوزیشن بچاؤ کی بنی رہے گی لیکن مرکزی نیتاؤں کے ذریعے رافیل کو زیادہ توجہ دینے پر حکمراں مخالف حملے کے دباؤ میں بھاجپا کو کم پسینہ بہانا پڑے گا۔ بھاجپا کے اپنے تجزیئے میں سب سے بڑی راحت کی بات یہ سامنے آرہی ہے رافیل کو لیکر کانگریس کا شور کسی بھی ریاست کے چناؤ میں اشو نہیں ہے۔ وہاں پر مقامی اشو زیادہ حاوی ہے اور نتیجہ ان پر ہی آنے والا ہے۔ ایسے میں پارٹی رافیل جنگی جہاز سودے پر جنتا میں صرف ایک بات پر زور دے رہی ہے کہ کانگریس صدر جھوٹ بول رہے ہیں۔ 
(انل نریندر)

جیسیکا قتل کانڈ جیسا واقعہ دوبارہ ہوتے ہوتے بچا

آر کے پورم سے لگے بھیکاجی کاما پلیس میں بنے پانچ ستارہ ہوٹل ’’حیات ریجنسی‘‘ میں سابق بسپا ایم پی راکیش پانڈے کے بیٹے آشیش پانڈے نے پستول کے زور پر نہ صرف لڑکا لڑکی کو دھمکایا بلکہ بیہودہ زبان کا بھی استعمال کیا۔ آشیش کا تذکرہ سوشل میڈیاپر خوب ہوا۔ کسی نے طنز کا تو کسی نے ہوٹل انتظامیہ کے سکیورٹی سسٹم کی خامی بھی گنا دی۔ اس واردات میں پہلی بارماڈل جیسیکا لال کے قتل جو 29 اپریل 1999 میں رات میں دہلی کے ٹریمریڈ کوٹ ریستوارں میں گولی مار کر قتل کردئے جانے کے واقعہ کی یاد دلا دی۔اس کی وجہ جیسیکا لال کے ذریعے منو شرما کو شراب پلانے سے منع کرنے کی چھوٹی سی بات تھی جس پر منو نے اسے گولی مار د ی تھی۔ منو ہریانہ کے بڑے لیڈرونود شرما کا بیٹا ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالت نے جیسیکا کے قاتل منو شرما کو عمر قید کی سزا سنائی ہوئی ہے۔ حیات ہوٹل میں تقریباً ویسی ہی حالت بن گئی تھی فرق صرف اتنا تھا کہ آشیش پانڈے کو اس کے دوستوں نے حادثہ ہونے سے پہلے ہی گھسیٹ لیا اور ان کیو بی ایم ڈبلیو کار میں بٹھا دیا۔ متاثرہ گورو دہلی کے سابق کانگریسی ممبر اسمبلی کے بیٹے ہیں۔گورو کے مطابق وہ ریستوراں میں اپنی دوست کے ساتھ بیٹھے تھے۔فرینڈ کو الٹی آئی تو وہ اسے لیڈیز باتھ روم تک لے گیا۔ جھگڑا یہیں سے شروع ہوا۔ آشیش کے ساتھ آئی تین عورتوں ان سے بیہودگی سے پیش آئیں۔ باہر نکلے تو آشیش نے پستول تان لی۔ واردات 13 اکتوبر کی ہے۔ ویڈیو وائرل ہوا تو آر کے پورم تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے واقعہ کا ویڈیو کار میں بیٹھی ہی کسی لڑکی نے بنایا۔ متاثرہ لڑکی کے دوست نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ ملزم کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر میں ڈر گیا تھا۔ ہوٹل اسٹاف نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی لیکن وہ بھی ڈرے ہوئے تھے۔ اس سارے واقعہ پر وزیر مملکت داخلہ کرن ریججو نے ٹوئٹ کیا کہ دہلی پولیس نے ہتھیار ایکٹ و آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔ معاملہ میں سخت اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے اشیش پانڈے کو پکڑنے کے لئے دہلی اور لکھنؤ میں کئی جگہ چھاپے مارے ہیں۔ اس مضمون کے لکھتے وقت تک ملزم پکڑا نہیں جاسکا تھا اس کی تلاش کے لئے نوٹس جاری کیا ہے۔ مجھے 19 سال پہلے رونما جیسیکا لال قتل کی یاد آگئی اور دیش اور راجدھانی میں بڑھتے بندوق کلچر اور مغربی اثر کے سبب نوجوان طبقہ بھٹکتا جارہا ہے۔ نہ ہی انہیں سماج کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اپنی عزت کی۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں غنڈہ گردی اور دبنگی عام ہوتی جارہی ہے۔ لڑکوں کو تو چھوڑ لڑکیوں کا آج برا حال ہے۔ ماں باپ نے تو انہیں ایسا کھلا چھوڑ رکھا ہے اور ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوجائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس میں ہم سماج اور بڑھتے مغربی کلچر کے اثر کو زیادہ قصور وار مانتے ہیں۔ ایسے قصوں میں پولیس کچھ نہیں کرسکتی۔ واردات کے بعد قصورواروں کو ضرور پکڑ کر انصاف دلا سکتی ہے۔
(انل نریندر)

18 اکتوبر 2018

آتنک واد کا ووٹ سے منہ توڑ جواب

جموں وکشمیر میں چار مرحلوں میں ہوئے تحریک بلدیاتی انتخابات منگل کے روز ختم ہوگئے۔وادی میں آخری مرحلہ میں بھی کم پولنگ ہوئی جہاں دہشت گردی سے متاثرہ کشمیر وادی میں کل 4.2 فیصد ووٹروں نے ہی ووٹ ڈالے۔ ووٹوں کی گنتی 20 اکتوبر کوہوگی۔ ریاست میں 13 سال بعد ہوئے میونسپل انتخابات سیاست کے لئے اچھا قدم ہے۔ چار مرحلوں میں ہوئے شہری میونسپلٹیوں و کارپوریشنوں میں جنتا کاحصہ لینا دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو شروع سے ہی جمہوری سیاست کٹر مخالف رہے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے دھمکی دی اور علیحدگی پسندوں نے چناؤ کا بائیکاٹ و بند کی اپیل کی۔ وادی میں دھمکیوں کی وجہ سے کئی وارڈوں میں ووٹ نہیں پڑے اور کئی امیدوار بلا مقابلہ چنے گئے لیکن جموں خطے میں ووٹروں میں کافی جوش دکھائی دیا۔ 2005 میں کرائے گئے میونسپل انتخابات میں تمام رکاوٹوں کے باوجود قریب 48 فیصد ووٹروں نے چناؤ میں حصہ لیا تھا۔ بدقسمتی سے اس مرتبہ کے چناؤ میں پردیش کی دو بڑی پارٹیوں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی نے حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے دفعہ 35A کی آڑ لی ہے ریاست کی مقامی ترقی کی علامت میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ کا بائیکاٹ کرنے سے کیا ان کا مفاد حل ہوجائے گا؟ ریاست میں 13 سال بعد ہوئے میونسپل انتخابات میں نہ تو علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کا جادو چلا اور نہ ہی دہشت گردوں کی دھمکی کا اثر۔ پاکستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے لگتے علاقوں میں پہلے تین مرحلوں میں 70 فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی۔ چوتھے مرحلہ کے اعدادو شمار ابھی نہیں آئے ہیں۔ عوام نے جمہوریت پر اعتماد جتا کر پاکستان کوصاف پیغام دیا کہ ریاست کو کمزور کرنے کی ساز ش کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ جموں میں لوگوں نے 62 فیصدی پولنگ کر چناؤ بائیکاٹ کرنے والی پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کو آئینہ دکھا دیا۔ لداخ میں تو پولنگ کے لئے لوگوں کا جوش سر چڑھ کر بولا۔ چاہے کشمیرمیدانی ہو یا جموں لداخ، سمانگ سبھی جگہ سرحدی علاقوں میں جم کر ووٹ ڈلے۔ کشمیر کے اڑی ، سمبل، ہندواڑہ اور جموں سمانگ کے پونچھ، راجوری، سندر بانی، آر ایس پورہ، رام گڑھ، ارمیا، وشنا، نوشیرا سمیت دیگر مقامات پر کارپوریشن کے چناؤ میں کافی تعداد میں لوگ ووٹ کرنے کے لئے نکلے۔ جموں سمانگ کے پونچھ ، راجوری، کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، بنیہال وغیرہ علاقہ وادی سے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ چناؤ بائیکاٹ کا اعلان کرنے والے علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی و میر واعظ فاروق ، عمر فاروق، یاسین ملک کے علاقوں میں بھی لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ دہشت گردی کا گڑھ ساؤتھ کشمیر میں بھی لوگ منہ ڈھک کر اور برقع پہن کر عورتیں بوتھوں تک پہنچیں ۔ دراصل ریاست کی زندگی میں مقامی ادارہ مختلف شکلوں میں اپنی اہمیت ثابت والے ہیں۔ بیشک علیحدگی پسندوں کی دھمکی کااثر وادی میں نہیں ہوسکا۔کل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں جموں و کشمیر کی عوام نے منہ توڑ جواب دے دیا ہے۔
(انل نریندر)

آسا رام، گورمیت رام رحیم کے بعد اب رامپال

آسا رام اور رام رحیم کے بعد رامپال تیسرا ایسا بابا ہے جسے مجرمانہ معاملوں میں ملوث پایاگیا ہے۔ حصارکی اسپیشل عدالت نے ستلوک آشرم کے کنوینر اور خود ساختہ بابا رامپال کو قتل کے دو معاملوں میں بدھوار کو قصوروار قراردیا گیا۔ اس کے 26 ماننے والوں کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔ اس معاملہ میں 17 اکتوبر کو رامپال کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس کے حمایتیوں کے پاس بیشک اس فیصلہ کو اوپری عدالت میں چنوتی دینے کا متبادل موجود ہے لیکن صاف ہوگیا ہے کہ بابا کو اب لمبے وقت تک جیل میں رہنا ہوگا۔آسا رام اور رام رحیم کے بعد وہ تیسرا بابا ہے جو قانونی شکنجے میں آچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی ایسے سوال بھی اٹھے ہیں جو نہ صرف سماج میں بیداری پھیلانے کے محاذ پر کمزوری سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ ایسے باباؤں کے پنپنے اور پھلنے پھولنے میں سرکار اور سماج دونوں کی کمزوری و لاپرواہی کو ظاہر کرتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ نومبر 2014 میں ستلوک آشرم میں ایک خاتون کی مشتبہ حالت میں ہوئی موت کے معاملے میں گرفتاری کے سوال پر پولیس اور رامپال کے حمایتیوں کے درمیان تشدد پر مبنی ٹکراؤ ہوا تھا جس سے پانچ عورتوں اور ایک بچے کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد رامپال کے خلاف قتل کے دو معاملے درج ہوئے تھے۔ دراصل رامپال کی گرفتاری کے وقت پولیس کو جس جدوجہد سے گزرنا پڑا تھا اور اس دوران جوتشدد بھڑکا تھا وہ اپنے آپ میں بتانے کے لئے کافی ہے اس خودساختہ بابا نے اپنے حمایتیوں کے بوتے پر کس طرح ایک آزاد اور یکساں دنیا بنا لی تھی اور خود کو قانون سے اوپر ماننے لگا تھا۔ حصار کے بروالا قصبہ میں رامپال کا آشرم ایک قلعہ کی طرح تھا جہاں سے اسے گرفتار کرنے کے لئے پولیس کو باقاعدہ مورچہ لینا پڑا تھا۔ یہ فیصلہ جہاں سنایا گیا وہ عدالت جیل کمپلیکس میں ہی لگائی گئی تھی۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے بیشک جب جیل میں ہی عدالت لگی ہو ۔ ایسے بہت سے بابا ہیں جن کے معاملوں کو حساس ترین مانتے ہوئے جیل میں ہی عدالت لگانے کا چلن بن گیا ہے۔ دراصل جب گرمیت رام رحیم کو سزا سنائی گئی تھی تب اس کے حمایتیوں نے تشدد برپا کیا تھا۔ آبروریزی کے معاملہ میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد سزا کاٹ رہے آسا رام کے حمایتیوں نے جس طرح سے قانون و نظام کو چنوتی دینے کی کوشش کی تھی۔ خود رامپال کے ستلوک آشرم میں عدالت کی ہدایت پر کارروائی کرنے پہنچی پولیس پر حمایتیوں نے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران آشرم میں پولیس کو ہتھیار بھی ملے تھے۔ ان سب باباؤں کے طورطریقے ایک جیسے ہوتے ہیں اور ان سب نے سماج کے محروم اور انتہائی پچھڑے طبقوں کے درمیان اپنا دبدبہ بنا کر انہیں ورغلانے کی کوشش کی۔ ان سب کی پردہ کے پیچھے کی زندگی عیش و آرام کی رہی اور بھولے بھالے لوگوں کے استحصال سے بھری رہی۔ سیاسی سرپرستی کے بغیر ان باباؤں کا اسٹیٹ اور ان کی تلسمی دنیا کھڑی نہیں ہوسکتی۔اب رامپال تا عمر جیل میں رہے گا۔
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2018

ضائع نہ جائے گنگا کے اس یودھا کا بلیدان

مشہور ماحولیاتی رضاکار اور گنگا کی صفائی کے لئے جدوجہد کرنے والے یودھا گوروداس اگروال یعنی سوامی گیان سروپ سانند کی موت غمزدہ کرنے والی تو ہے ہی جس طرح انہوں نے موت کو گلے لگا وہ ہماری بے حسی کے نظام کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ گنگا کی صفائی کے لئے 111 دن بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے پروفیسر جی ڈی اگروال نے جان دے دی ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی گنگا کی صفائی کے لئے تین بار انشن پر بیٹھ چکے تھے ۔ ان کی موت کے بعد ایک بار پھر گنگا کی صفائی کو لیکر بحث چھڑ گئی ہے۔ مودی سرکار کا کہنا ہے کہ اس نے گنگا کی صفائی کے لئے 21 ہزار کروڑ روپے کا اہم ترین پروجیکٹ ’’گنگا‘‘ شروع کیا ہے۔ مرکزی وزیر نتن گڈ کری کئی موقعوں پر یہ دعوی کرچکے ہیں سن2020 تک گنگا کی صفائی کا 70-80فیصد کام پورا ہوجائے گا۔ حالانکہ اس پروجیکٹ کا صرف10 فیصد ہی کام ابھی پورا ہوا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ محض ایک سال کے کم وقت میں گنگا کی صفائی کیسے ہو پائے گی؟ سرکار میں نمابھی پروجیکٹ کے لئے کئی سطح پر حکمت عملی منصوبوں کا خاکہ تیار کیا ہے۔ اسٹیم آرٹ اہم حکمت عملی کے نقطوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ ان میں خاص ہی گنگا کے کنارے سیور ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانا۔ اسکیم کے تحت 63 سیویج مینجمنٹ پروجیکٹ اتراکھنڈ ، اترپردیش،بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال میں قائم کئے جائیں گے۔ اب تک ان میں 12 پر کام چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہری دوار، وارانسی میں دو PPP ماڈل یعنی نجی شراکت کی بنیاد پر شروع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہیں ندی کے کناروں کے ڈولپمنٹ کے تحت 182 گھاٹوں اور 118 شمشان گھاٹوں کو ماڈرنائزڈکیا جائے گا۔ پروفیسر اگروال چاہتے تھے کہ سرکار گنگا کو بچانے کے لئے پارلیمنٹ سے گنگا تحفظ مینجمنٹ ایکٹ پاس کرائے اور اگر وہ نہ ہوسکے تو آرڈیننس جاری کرے۔ نتن گڈکری نے اناؤ تک گنگا میں کچرے کے بہاؤ کو یقینی کرنے کی مانگ منظور کرلی تھی لیکن پروفیسر اگروال کا کہنا تھا کہ یہ پوری گنگا کو محفوظ کرنے کی اسکیم نہیں ہے۔ اس میں ان لینڈ آبی راستوں کی حفاظت ہوگی جن کا کمرشل مقصد ہے۔ حالانکہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پروفیسر اگروال کی موت پر دکھ جتا یاہے۔ پروفیسر اگروال نے 22 جون کو انہیں جو خط لکھا تھا وہ کافی سخت تھا۔ اس خط میں انہوں نے یوپی اے سرکار کے وزیر اعظم رہے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو موجودہ وزیر اعظم سے زیادہ سنجیدہ بتایا تھا۔ ان کا کہنا تھا ڈاکٹرسنگھ نے ان کے انشن پر غور کرتے ہوئے لوہاری ناگ پال کی 90 فیصد پورے ہوچکے پروجیکٹ کو بند کروادیا تھاجبکہ مودی سرکار نے گنگا کے تئیں چار برسوں میں کوئی قائدے کا کام نہیں کیا۔ آئی ٹی آئی کے پروفیسر رہے اور دیش کے آلودگی کنٹرول بورڈ کے پہلے سکریٹری پروفیسر اگروال کاوہخط دیش اور دنیا کے درمیان چھڑی جنگ چھڑکا ماحولیاتی تحریک اور خاص کر گنگا بچاؤ ابھیان کا ڈکلریشن دستاویز بن سکتا ہے۔پہلی بار جنوری 1986 میں راجیو گاندھی کے پردھان منتری کے عہد میں گنگا ایکشن پلان کی شروعات ہوئی تھی لیکن اسی کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار کے وقت گنگا سے ناجائز کھدائی روکنے کی مانگ کے ساتھ انشن کرتے ہوئے سوامی نگمانند سرسوتی نے جان دے دی تھی۔ سوامی کو تو نہیں بچایا جاسکا لیکن ان کی قربانی ضائع نہیں ہونی چاہئے۔ ایک آئینی اور جدید سائنس سے واقف رشی پروفیسر اگروال اس دنیا سے اٹھ گئے اس لئے انہوں نے صنعتی کچرے سے گنگا کو بچانے کے لئے جان دے دی۔ جو لوگ جدیدیت اور ماحولیات دونوں کی فکرمندی میں پھنسے ہوئے ہیں وہ ایسے ہی گنگا کے ساتھ وہ سوامی نگما نند ہوں تو کبھی گیان سروپ سانند کو جان دیتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ آشا ہے کہ ان لوگوں کا بلیدان ضائع نہیں جائے گا۔
(انل نریندر)

دہلی کے شہریوں کیلئے ’’اسکائی واک‘‘ کا آغاز

آئی ٹی او کے قریب دہلی کا پہلا’’اسکائی واک ‘‘ جنتا کے لئے پیر کو چالو ہوگیا۔ اس اسکائی واک کو لیکر مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار میں ٹکراؤ بھی بڑھ گیا ہے۔’’اسکائی واک‘‘ اسکیم کی کل لاگت 54 کروڑ روپے آئی ہے۔ اس کی لمبائی 570 میٹر ہے۔ اندازہ ہے کہ 30 ہزار لوگ یومیہ اس کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تلک مارگ، بہادر شاہ ظفر مارگ و سکندرہ روڈ کی طرف سے آنے والے لوگوں کو اس سے سہولت ہوگی۔ پرگتی میدان میٹرو کی طرف سے آنے والوں کے لئے یہ آرام دہ ہوگا۔ اس کی حفاظت کے لئے سی سی ٹی وی و پولیس بوتھ خاص طور پر بنایا گیا ہے۔ متھرا روڈ و ہنس بھون کے پاس اسکائی واک کے قریب شوچالیہ بھی دستیاب ہے۔ دعوی کیا جارہا ہے کہ یومیہ ہزارو لوگ اس کا استعمال کرسکیں گے۔ صحیح تصویر اگلے کچھ دنوں میں صاف ہوجائے گی کہ اس کا استعمال کتنے لوگ کرتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے حکام کا خیال ہے کہ اگر یہ فٹ اوور برج انجینئرس انسٹیٹیوٹ کے سامنے بنانے کے بجائے آئی ٹی او کراسنگ پر بنایا جاتا تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ حالانکہ پی ڈبلیو ڈی کے حکام کی دلیل ہے کہ آئی ٹی او کے پاس ڈی ایم آر سی نے انڈر پاس بنا رکھا ہے۔ اسکائی واک پر سیاسی رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ اس کی ابتدائی تقریب میں دہلی سرکار کے کسی نمائندوں کے نہ بلائے جانے سے ناراض عام آدمی پارٹی نے ایتوار کو اس اشو پر مرکز کی بی جے پی سرکار کو پھر سے آڑے ہاتھوں لیا۔ تو وہیں مرکزی وزیر شہر ترقی ہردیپ پوری نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا موقف رکھا۔ پارٹی کے ترجمان سورو بھاردواج نے ایتوار کو ایک بیان جاری کر دہلی کی عوام کو اسکائی واک کے آغاز کے موقعہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا دہلی سرکار نے پی ڈبلیو ڈی منسٹر ستیندر جین کی رہنمائی میں دہلی کے پی ڈبلیو ڈی محکمہ کے انجینئروں نے بیحد بہترین پیشوارانہ طریقے سے اس پروجیکٹ کو پورا کیا۔ اسکائی واک کی افتتاحی تقریب میں دوسری طرف وزیر ہردیپ پوری نے کہا کہ اس پروجیکٹ سے دہلی سرکار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسکائی واک سمیت دہلی میں شہری ترقی سے متعلق چار پروجیکٹ سال 2016 میں ہی منظور ہوچکے تھے جس میں اسکائی واک بھی شامل تھا لیکن دہلی سرکار کے ذریعے پہل نہ کئے جانے سے اس میں دیری ہوئی۔ انہوں نے کہا جب میں نے ان پروجیکٹوں کے اسٹیٹس جاننے کے لئے محکمے کے حکام سے میٹنگ کی تو پتہ چلا ان پروجیکٹوں کے لئے80 فیصدی فنڈ مرکزی سرکار کو دینا ہے اور 20 فیصدی فنڈ دہلی سرکار کو دینا تھا لیکن دہلی سرکار نے یہ فنڈ نہیں دیا۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ دہلی سرکار نے اس کام کو ہی نہیں روکا بلکہ دہلی۔ میرٹھ، آر آر ٹی پروجیکٹ اور میٹرو فیس کے کام میں دیری کی۔ جواب میں دہلی سرکار نے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کا دعوی غلط ہے۔ دہلی سرکار نے اس پروجیکٹ کے لئے 12 کروڑ روپے دئے وہیں یہ پروجیکٹ دہلی سرکار نے ہی تیار کیا تھا۔ اس اسکائی واک کے اوپر سولر پینل لگیں گے ، ساتھ ہی اس میں ایل ای ڈی لائٹوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسکائی واک پر ایک پلازہ بھی بنایا گیا ہے جہاں فوڈ اور شاپنگ کے لئے اسٹال بھی ہوں گے۔ ریمپ پر جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ اس کا استعمال زیادہ سے زیادہ لوگ کریں اس کے لئے اس اسکائی واک کے سبھی اینٹری پوائنٹ پر گلاس لفٹ لگائی گئی ہے۔ ہم سبھی متعلقہ محکموں اور حکام کو دہلی کے پہلے اس ’’اسکائی واک‘‘ کے لئے مبارکباد دیتے ہیں۔ ویسے اگر افتتاحی تقریب میں دہلی کے وزیر اعلی کو بھی مدعوکیا جاتا تو کوئی حرج نہیں تھا آخر وہ دہلی کی جنتا کے ذریعے دہلی میں ترقیاتی کام کے لئے چنے گئے ہیں۔ اتنے امپوٹنٹ لینڈ مارک میں ان کی غیر موجودگی افسوسناک رہی۔
(انل نریندر)

16 اکتوبر 2018

ججوں کی حفاظت پر اٹھے سوال، رکھشک ہی بھکشک بن گیا

گوروگروام میں سنیچر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج کرشن کانت شرما کی سکیورٹی میں تعینات گن مین ہیڈ کانسٹیبل مہیپال کے ذریعے بیچ بازار جج صاحب کی بیوی اور بیٹے کو گولی مار دینے کا چونکانے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واردات کے وقت ماں اور بیٹا سیکٹر 49 کی عالیشان آر کیڈیا مارکیٹ میں خریداری کرنے گئے تھے۔ ماں کوتین اوربیٹے کو دو گولیاں لگیں۔ پولیس نے انہیں ایک پرائیویٹ اسپتال میں بھرتی کرایا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ شام 4 بجے یہاں سڑک کے کنارہ کارروکنے کے بعد جج کی بیوی رینو اور بیٹا دھرو جیسے ہی کار سے اترے گن مین ہیڈ کانسٹیبل مہیپال نے اپنی سروسز بندوق سے دونوں پر گولیاں چلانی شروع کردیں۔ چلاتے ہوئے مہیپال نے زخمی دھرو کو کار میں ڈالنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوا۔ واردات کا ویڈیو بنا رہے لوگوں سے اس نے کہا کہ یہ شیطان ہے اور شیطان کی ماں ہے۔ اس کے بعد ماں بیٹے کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے ناکہ بندی کر گوڑگاؤں ،فرید آباد روڈ پر واقع گوال پہاڑی کے پاس اسے پکڑ لیا۔ مہیپال کی جانب سے سرے راہ فائرننگ سے بچنے کے لئے رینو اور دھرو نے چلاتے ہوئے مدد مانگی لیکن کوئی بھی مددگار آگے نہیں آیا۔ چشم دید مدد کے بجائے ویڈیو بنانے میں زیادہ مصروف تھے۔ ملزم مہیپال نارنول کا رہنے والا ہے اور پچھلے ڈیڑھ سال سے جج کرشن کانت کے ساتھ بطور سکیورٹی گارڈ تعینات تھا۔ قریب 8 ماہ پہلے اس نے ہندو مذہب چھوڑ کر عیسائی مذہب اپنا لیا تھا۔ اس کی جج کی بیوی کے ساتھ ناراضگی رہتی تھی۔ پولیس لاک اپ میں بھی وہ چلاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ تبدیلی مذہب کو لیکر جج کی بیوی اسے پریشان کرتی رہتی تھی۔ ملزم واردات کے بعد اپنے دوستوں کے پاس اسلام پور پہنچا۔ ان سے جج کے خاندان کے ساتھ حادثے کی بات کہہ کر انہیں ساتھ چلنے کو کہا۔ جب وہ سبھاش چوک کی طرف چلا تو اس نے تیز رفتار میں دو آٹو کو ٹکر مار دی۔ شبہ ہونے پر دوست راستے میں اتر گئے اور پولیس کو خبر کردی۔ اس کے بعد ملزم کو گوال پہاڑی کے پاس سے دبوچ لیا گیا۔ اس واردات سے ججوں اور دیگر سینئر حکام کی سکیورٹی کو لیکر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ عدلیہ سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے اب جس کے ذمہ سکیورٹی ہے اگر وہی اس طرح کے واقعہ کو انجام دینے لگے تو یہ بیحد تشویشناک ہے۔ اس کے ساتھ ہی ججوں کے سکیورٹی گارڈوں کی جسمانی اور ذہنی حالت کی باقاعدہ جانچ کرنے کی مانگ اٹھنا فطری ہے۔ ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور پولیس کئی بار آمنے سامنے رہتے ہیں ۔ پولیس جو کام کرتی ہے اس پر عدلیہ سوال اٹھاتی ہے ایسے میں ججوں کی سکیورٹی یا ذمہ پولیس کی جگہ آر پی ایف یا کسی ایسی ایجنسی کو دئے جانے پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ رکھشک ہی جب بھکشک کی پوزیشن میں آجائے تو یہ حالت سب کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔ اس لئے سکیورٹی گارڈوں کا ریگولر میڈیکل چیک اپ ہونا انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

دہلی صرف دہلی والوں کی ہی نہیں ہے

دہلی کے گوروتیغ بہادر اسپتال میں علاج کو لیکر دہلی سرکار کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی بڑی بنچ نے صاف کیا کہ دہلی صرف دہلی والوں کی ہی نہیں چیف جسٹس راجندر مینن و جسٹس وی کے راؤ کی بنچ نے کہا دہلی کو راجدھانی کے طور پر دئے گئے خصوصی درجے کے تحت اسے قومی راجدھانی علاقہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔بنچ نے دہلی کو لیکر سپریم کورٹ کے ذریعے جگدیش سرن بنام بھارت سرکار کے 1980 اور حال ہی میں بیر سنگھ بنام دہلی جل بورڈ کے معاملے میں کئے گئے تبصرہ کو فیصلے کی بنیادبنایا۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے فیصلہ میں کہا تھا کہ دیش کی راجدھانی صرف دیش کا ایک حصہ ہی نہیں بلکہ چھوٹا بھارت ہے۔ چیف جسٹس رنجن مینن کی بنچ نے دہلی سرکار کو سبھی مریضوں کا علاج اسی طرح کرنے کی ہدایت دی جیسا کہ ریزرویشن سے متعلق سرکولر جاری ہونے سے پہلے کیا جاتا تھا۔ عرضی گزار اشوک اگروال نے کہا دہلی سرکار کا آدیش دیش میں ووٹ بینک اور بانٹنے کی سیاست کرنے والوں کے منہ پرطمانچہ ہے اور سرکار کا کام عام شہریوں کو سہولیت دینے کا راستہ کھولنے کا ہے لیکن یہاں تو غریبوں کے لئے اسپتال کا دروازہ بند کیا جارہا تھا۔ ہائی کورٹ نے غریبوں کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور صاف کہا کہ صحت کا حق سب کو ملنا چاہئے۔ دہلی سرکار کی جانب سے مستقل وکیل راہل مہرہ نے کہا کہ باہری مریضوں کے علاج پر کسی طرح کی پابندی نہیں ہے۔ دراصل اسپتال میں دہلی سے باہر سے آنے والے مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس سے اسپتال میں بھیڑ بڑھتی ہے۔ دہلی کے شہریوں کو بہتر علاج اور ہیلتھ خدمات مہیا کرانے کے لئے یہ پائلٹ پروجیکٹ تیار کیا گیا ہے۔ یہ سرکار کی پالیسی ہے اور عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ دہلی سرکار کے وزیر صحت ستیندر جین نے بتایا کہ سرکار عدالت میں اپنا موقف سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ایسے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بہتر تیاری کے ساتھ ہم سپریم کورٹ جائیں گی۔ انہوں نے کہا سرکار نے اسپتالوں میں سہولیت کو فروغ دیا ہے۔ اس سے مریضوں کی تعداد دوگنی تک بڑھ گئی ہے لہٰذا دہلی والے ان سہولیات کا فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں۔ سرکار نے او پی ڈی و ایمرجنسی میں کسی طرح کا ریزرویشن نہیں کیا۔ بتادیں دہلی سرکار نے 1 اکتوبر کو گورو تیغ بہادر اسپتال میں دہلی کے مریضوں کے لئے 80 فیصدی اور اوپی ڈی کے 17 میں سے13 بیڈ کاؤنٹر ریزرو کرنے کے لئے سرکولر جاری کیا تھا۔ غیر سرکاری انجمن سوشل جورسٹ میں سرکار کے اس قدم کو آئین کی دفعہ 14 اور 21 کے تحت ملے حق کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے اس سرکولر کو منسوخ کرنے کی مانگ کے لئے عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔
(انل نریندر)

14 اکتوبر 2018

’’می ٹو‘ ‘ابھیان تیزی پکڑنے لگا ہے

جنسی استحصال کے معاملوں کو اجاگر کرنے کے لئے امریکہ میں بھی ’می ٹو‘ نام سے شروع ہوئی کمپین دنیا کے دیگر دیشوں میں بھی اثر دکھانے کے بعد بھارت میں بھی اب جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جارہی ہے۔ ’می ٹو‘ اور ’یو ٹو‘ میں تشریح کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ مرکزی وزیر ایم جے اکبر کا نام آنے سے یہ سیاسی اشو بھی بن گیا ہے۔ اکبر پر اب تک پچھلے کچھ دنوں میں 9 عورتوں نے جنسی استحصال کا نام لگایا ہے۔ فلم دنیا سے لیکر میڈیا اور سیاست کی دنیا سے وابستہ کچھ بڑے نام عورتوں سے جنسی بدسلوکی کے الزامات سے گھر گئے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ دیہات سے لیکر قصبات اور شہروں تک لڑکیوں، عورتوں کی ایسی بڑی تعداد ہوگی جن کو کبھی نہ کبھی جنسی چھیڑ چھاڑ کا شکار ہونا پڑا ہے۔ یہ ہمارے سماج کی ایک تلخ سچائی ہے۔ بھارت میں اس مہم کا اثر دکھائی دینا اس لئے اچھا ہے کیونکہ یہ سچائی ہے کہ اپنے یہاں بھی عورتوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ خوشیال لوگ اپنے عہدے یا اثر کا بیجا استعمال کر عورتوں کو اپنی جنسی خواہش کا شکار بناتے ہیں لیکن می ٹو ابھیان ابھی تک زیادہ تر اونچے طبقے یا سوشالائٹ مانے جانے والی کچھ عورتیں ہی سامنے آئی ہیں جن میں زیادہ تر جنسی برتاؤ کے خلاف کارروائی کی وکالت کرتی ہیں۔ 20-20 سال پرانے مردے بھی اکھاڑے جارہے ہیں۔ حالانکہ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ جنسی استحصال کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کسی کو اس کے لئے مجبور کرے۔ اس میں کئی عورتیں بھی قصوروار ہیں۔ وہ کبھی کبھی اپنے کیریئر اور پوزیشن کو بڑھانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ جہاں ناجائز فائدہ اٹھا کر عورت سے جنسی استحصال ہوا اس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور قصورواروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن محض شکایت کرنے سے کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوجاتا۔ سوشل میڈیا میں ہیش ٹیک# میں ٹو پر عورتوں کے ذریعے کی جارہی جنسی ذیادتی کی شکایتوں کی قانون میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ قانون کی مشینری تبھی سرگرم ہوگی جب متاثرہ خاتون اس کی باقاعدہ شکایت پولیس میں کرے گی ، ورنہ الزام لگانے والی متاثرہ سنگین طور سے اس شخص کی بے عزتی کے دائرہ میں رہے گی جس پر اس نے الزام لگائے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے کہا کہ جنسی ذیادتی کی شکایت رجسٹرڈ کرانے پر ہی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے۔ یہ شکایت آئی پی سی کی دفعہ 354( عزت سے چھیڑ چھاڑ، بے عزتی) ، دفعہ 376 کے تحت درج کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ پولیس اس معاملے میں گرفتاری نہیں کرے گی کیونکہ اسے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ خاتون اتنے دن تک چپ کیوں رہی؟ ایسے معاملے جو کئی برس پرانے ہیں ان میں میڈیکل ثبوت نہیں ملیں گے۔ اگر ان کے پاس دیگر ثبوت جیسے الیکٹرانک ثبوت (ای ۔ میل، ویڈیو ریکارڈنگ، واٹس اپ) اسے بتا سکتے ہیں۔ ثبوت ملنے پر یہ معاملہ کورٹ میں ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک وقت آپ کے رشتے بہت اچھے رہے ہیں اپنی رضامندی سے خواہشات پوری کیں اور آگے جب رشتے خراب ہوگئے تو آپ نے اسے جنسی استحصال کا معاملہ بنا دیا۔ اگر کوئی عورت الزام لگا دے تو مرد کو قصوروار مان لیا جاتا ہے۔ اس کی صفائی بھی ہم سننے کوتیار نہیں ہوتے۔ یہ حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اگر کسی عورت کو اپنے ساتھ ہوئی بدفعلی کے لئے انصاف مانگنے کا حق ہے تو مرد کو بھی اپنا موقف رکھنے کا حق ہے۔ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہمیں دونوں فریقوں کو سننا چاہئے۔ انصاف سب کے لئے برابر ہے اس لئے اس پر متوازن نظریہ ضروری ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ بھارت میں یکدم شروع ہوئے ’می ٹو‘ ابھیان کا انجام کیا ہوگا لیکن عورتوں کو جنسی استحصال بچائے رکھنے والا ماحول بنانا ہر کسی کی ترجیح ہونی چاہئے۔ امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا الزام لگانے والی عورتوں کو سنا جائے لیکن مردوں کو بھی موقعہ ملنا چاہئے۔
(انل نریندر)

اس سال پچھلے برس کے مقابلے میں 11 فیصدی زیادہ نے رشوت دی

دیش سے کرپشن جڑ سے ختم کرنے کے دعوے کرنے والے نیتاؤں کے لئے یہ اچھی خبر نہیں ہے۔ کرپشن ختم ہونا تو دور کی بات الٹا بڑھتا جارہا ہے۔ ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل انڈیا کے ساتھ مل کر لوکل ایجنسی سرک ہنس نے بدھوار کو کرپشن کی سطح اور شہریوں کی اس بارے میں چائے پر انڈیا کمپیشن سروے 2018 نام سے رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ دیش میں رشوت خوری بڑھی ہے۔ پچھلے سال دیش میں 45 فیصد شہریوں نے رشوت دی تھی لیکن اس سال 54 فیصدی شہریوں نے درپردہ طور سے کہیں نہ کہیں رشوت دی ہے۔ دیش کے 215 شہروں میں مقیم 50 ہزار شہریوں نے اس سروے میں حصہ لیا۔ جس میں 33 فیصدی عورتیں تھیں اور 67فیصدی مرد تھے۔ میٹرو سٹی پہلے زمرے کے شہروں سے 45 فیصدی، دوسرے زمرے سے 34فیصدی اور تیسرے زمرے کے شہروں اور دیہاتی علاقوں سے 21فیصدی لوگوں کو شامل کیا گیا۔ یہ سروے خاص کر ایسے وقت میں جاری ہوا جب پوری دنیا میں کرپشن ایک اہم اشو بنا ہوا ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ نے کرپشن انسداد (ترمیم) ایکٹ 2018 میں پاس کیا اس میں یہ دعوی کیا گیا کہ یہ دیش میں کرپشن مخالف سسٹم کو بدل کر رکھ دے گا۔ دوسری طرف دنیا کی ریگولیٹری کئی ادارہ یہ اپیل کر چکے ہیں کہ جس طرح سے کرپشن سرمایہ کاری میں رکاوٹ ڈالتا ہے یہ تجارت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اور اقتصادی ترقی کو کم کرتا ہے۔ سرکاری خرچ سے متعلق ثبوتوں کوختم کرتا ہے اور مروڑتا ہے۔ اس سروے کا مقصد عام آدمی کی یومیہ زندگی اور بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے وقت ان کے سامنے آنے والی مشکلوں پر دھیان مرکوز کرنا تھا۔اس میں کرپٹ لوگوں کے کسی بھی پہلو کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے اگر کام کرنا ہے تو رشوت دینی ہی پڑے گی۔ نہیں تو آپ کا کام مہینے تک لٹکا دیتے ہیں یہ افسران۔ تقریباً 43فیصدی کو لگتا ہے نیا قانون سرکاری افسران کے ذریعے لوگوں کی مشکلیں بڑھا دے گا کیونکہ قانون افسران کے ہاتھ میں ان لوگوں کو بھی پریشان کرنے کا موقعہ دے گا جو ایماندار ہیں۔ اس کے علاوہ49 فیصد شہریوں نے کہا کسی بھی سرکاری افسر کی جانچ سے پہلے نوڈل افسر سے پہلے منظوری لینا ضروری ہونے سے رشوت اور کرپشن میں اضافہ ہوگا کیونکہ اس سے کرپٹ افسران پر فوری مقدمہ چلانا مشکل ہوجائے گا۔ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال 2310 فیصدی زیادہ نے رشوت کا سہارا لیا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...