Translater

05 اپریل 2014

ان صوبیداروں کی بڑھتی بالادستی دیش کیلئے بدقسمتی ہے!

سیاسی بازار میں چناؤ بعد تیسرے مورچے کی تشکیل پرضرب ۔تقسیم پھر تیز ہوگئی ہے۔ تین چار دن پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر اے ۔ کے انٹونی کی جانب سے سیکولر فرنٹ کا پانسہ پھینکنے اور اس کے بعد سی پی ایم کی جانب سے اس مورچے کے لئے کانگریس کی مدد لینے کی بات آنے کے بعد چناؤ کے بعد ممکنہ مورچے اور اس کے تجزیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دراصل تمام اوپینین پول میں یوپی اے کی کراری شکست کے آثار کے باوجود نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کو مکمل اکثریت نہ ملنے کا بھی اندیشہ جتایا جارہا ہے۔ایسے میں سیکولر ازم کے نام پر نریندر مودی کو روکنے کے لئے کانگریس تیسرے مورچے کی سرکار بنانے کے امکان کو ترکش کے آخری تیر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے دو دن پہلے بالاگھاٹ(مدھیہ پردیش) میں ایک عوامی ریلی میں دعوی کیا کہ اپریل میں شروع ہورہے عام چناؤ کے بعد مرکز میں تیسرے مورچے کی سرکار بنے گی جس میں ان کی پارٹی کا اہم کردار رہے گا۔ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کی تلخ تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا (مودی) کا پی ایم بننے کا خواب صرف ایک دکھاوا رہ جائے گا کیونکہ بھاجپا اس بار لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش سے ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ بیشک کانگریس ملائم و پرکاش کرات چناؤ بعد تیسرے مورچے کی تشکیل کو ہوا دے رہیہوں لیکن تلخ سچائی یہ ہے کہ یہ راہ اتنی آسان نہیں ہوگی۔ایک منٹ کے لئے چلو مان بھی لیا جائے کہ مودی کی قیادت میں این ڈی اے کو جادوئی نمبر272+ نہیں مل پاتا تو اس مورچے کے لئے کیا متحد ہونا اتنا آسان ہوگا؟ اس میں کوئی دقت فی الحال دکھائی نہیں پڑتی۔ جے للتا، کروناندھی ایک مورچے کاحصہ بن سکتے ہیں۔ ممتا اور لیفٹ کا بھی ایک مورچے میں ایک ساتھ آنا مشکل ہے۔ مایاوتی اور ملائم بھی بہت مشکل سے اس مورچے میں آئیں گے۔ حالانکہ یوپی اےII- کو دونوں باہر سے حمایت دے رہے ہیں۔ فرنٹ کا نیتا کون ہوگا اس کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔ ایک نہیں کئی (ملائم۔ جے للتا۔ ممتا ) پی ایم بننے کی خواہش شارے عام طور پر ظاہر کرچکے ہیں۔ میرا تو ہمیشہ سے ہی یہ خیال رہا ہے کہ اس دیش کو یا تو کانگریس صحیح طریقے سے چلا سکتی ہے یا بی جے پی۔ بھلے ہی ان کی لیڈر شپ میں تشکیل ہو یہی دونوں دیش کو پائیدار اور مضبوط ترقی کے راستے پر چلا سکتی ہیں۔ یہ تیسرا مورچہ جب جب اقتدار میں آیا ہے۔ دیش 10-15 سال پیچھے چلا گیا ہے۔ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے۔ 1996ء میں کانگریس اور بی جے پی دونوں کے بغیر سرکار بننے کی کوشش ہوئی۔ بی جے پی161 ایم پی کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بنی لیکن اکثریت کا نمبر نہیں مل پایا۔ ایسے میں لیفٹ جے ڈی ایس، ٹی ڈی پی، بی ایس پی، انا ڈی ایم کے جیسی 13 پارٹیوں نے کانگریس کی حمایت سے سرکار بنائی۔ دیو گوڑا وزیر اعظم بننے لیکن یہ تجربہ زیادہ دن تک نہیں چلا۔ اب موجودہ سیاسی حالات کی بنیاد پر دیکھیں تو 2014ء کے چناؤ میں اگر کوئی امکان بنتا ہے جس میں کسی کے پاس اکثریت نہیں رہی تو کانگریس کے لئے بہتر حالت بی جے پی قیادت والی سرکار کے بجائے ایسے مورچے کوحمایت دینے کا امکان ہے کے مرکز کے اقتدار میں علاقائی پارٹیوں کی بالادستی دیش کے لئے میری رائے میں بدقسمتی ہیکیونکہ ان پارٹیوں کے لیڈرعلاقائی پارٹیوں کو دھیان میں رکھ کر آسانی سے پالہ بدل لیتے ہیں۔ سال1996-98 کے وقت علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی طاقت اور ان کے مرکزی اقتدار میں ان کے فیصلہ کن کردار کی عکاسی کرنے والا ہے اور شاید سبق لینے والا بھی۔ ان دو برسوں میں تین وزیر اعظم بنے۔دورقدیم کی تاریخ میں جس طرح علی بندھو دوچار مہینوں کے لئے دہلی کے تخت پر مغل بادشاہوں کو بٹھاتے تھے ٹھیک اسی طرز پر یہ علاقائی پارٹیاں نیا اتحاد بناتی ہیں اور پھر اسے توڑ دیتی ہیں۔ اس وقت دل بدلنے والے لوگوں کی فہرست لمبی ہے۔ دیش کے نیتا اپنی آسانی سے نئے اصول گھڑنے، نئے بہانے بنا کر زبردستی گٹھ جوڑ کرنے میں ماہر ہوچکے ہیں۔ لیکن دیش کی جنتا بھی پہلے سے زیادہ سمجھدار ہوچکی ہے وہ ان کی چالبازیوں کو سمجھتی ہے۔ آخر میں ایک خبر دلچسپ آئی ہے کہ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کی تمنا ہے کہ اس چناؤ کے بعد تھرڈ فرنٹ کی سرکار بنے اور انہیں پی ایم بننے کا موقعہ ملے۔ اس کے لئے جے للتا جیوتشیوں کے کہنے پر نام بدلنے کو بھی تیار ہوگئی ہیں۔ اب جے کی جگہ جیا لکھنے لگی ہیں۔
(انل نریندر)

دہلی میں عام چناؤ ، ہرسیٹ پر سہ رخی مقابلہ متوقع!

دہلی میں 16 ویں لوک سبھا چناؤ کیلئے پولنگ شروع ہوچکی ہے۔چونکئے مت یہ سچ ہے۔ چناؤ کمیشن کی جانب سے دہلی میں بیشک چناؤ کی تاریخ 10 اپریل ہے لیکن چناؤ میں لگے ملازم جن میں دہلی پولیسبھی شامل ہے کہ لئے بیلٹ پیپر سے ووٹ ڈالنے کا آغاز پیر سے ہی ہوگیا ہے اور بدھوار کو یہ عمل ختم ہوگیا۔ آخری دن تک 14 ہزار سے زیادہ لوگوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے پولنگ کی۔ دہلی کی ساتوں سیٹوں کے لئے 93 ہزار سول ملازم پولیس کے 31 ہزار جوان اور 4 ہزار ہوم گارڈ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ اس بار ان کو دو طریقوں سے ووٹ ڈالنے کا موقعہ ملا تھا۔ ایک بیلٹ پیپر اور دوسرا الیکشن ڈیوٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے۔ جو ملازم ووٹ نہیں ڈال سکے وہ الیکشن سرٹیفکیٹ کے ذریعے اپنی رائے دیہی کا استعمال کریں گے۔ قومی راجدھانی میں نامزدگی کا کام پورا ہوچکا ہے اور کل 150 امیدوار 7 سیٹوں پر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ پہلی بار عام آدمی پارٹی کے لوک سبھا چناؤ میں اترنے سییہاں ہر سیٹ پر سہ رخی مقابلہ اور دلچسپ بن گیا ہے۔ راجدھانی کی ساتوں نشستوں کے لئے کانگریس ۔بھاجپا۔ بسپا۔ شیو سینا ۔ترنمول کانگریس سمیت تقریباً25 علاقائی پارٹیوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔بسپا نے جہاں ساتوں سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں وہیں ترنمول کانگریس نے پانچ اور شیو سینا نے تین امیدوار کھڑے کئے ہیں۔58 آزار سمیت150 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 10 خاتون امیدوار بھی شامل ہیں۔ دہلی لوک سبھا کے چناوی دنگل میں اس بار نوجوان عمر دراز امیدواروں کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔ دہلی میں کل امیدواروں میں سے 64 فیصد حصے داری نوجوانوں کی ہے۔ میدان میں اترے 150 امیدواروں کی عمر24سے50 سال کے درمیان ہے جبکہ 51 امیدوار (34فیصدی) کی عمر 51سے80 برس کے درمیان ہے۔ کانگریس ۔ بھاجپا۔ عام آدمی پارٹی۔ ترنمول نے تعلیم یافتہ امیدواروں پر زیادہ بھروسہ کیا ہے۔اے ڈی آر اور دہلی الیکشن واچ کی رپورٹ کے مطابق 27 امیدواروں پر مجرمانہ مقدمے ہیں جبکہ 13 امیدوار ایسے ہیں جن پر اغوا ،جبری وصولی کے معاملے درج ہیں۔ صوبے کے ووٹروں کی گہری خاموشی کے درمیان فیصلے کی گھڑی اب قریب آتی جارہی ہے۔ 5 دنوں کے بعد ساتوں لوک سبھا سیٹوں کے لئے ووٹ ڈال کرراجدھانی کے سوا کروڑ سے زیادہ ووٹر ان امیدواروں کی قسمت طے کریں گے۔ دہلی کا سیاسی اونٹ کس کرونٹ بیٹھے گا ۔ تازہ رجحان سے تو بات صاف دکھائی پڑ رہی ہے کہ مودی کی لہر پر سوار بھاجپا اپنی حریف جماعتوں کانگریس و عام آدمی پارٹی سے آگے دکھائی پڑ رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا گراف نومبر۔ دسمبر 2013 سے تیزی سے گرا ہے۔ اس کو اسمبلی چناؤ میں ووٹ دینے والے درمیانہ طبقے کے ووٹروں میں بھروسہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ غریب طبقے کے لوگوں میں اس کے تئیں اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ عام آدمی پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں تو کچھ ٹوٹ کر کانگریس کا دامن پھر سے تھامتے نظر آرہے ہیں۔سیاسی واقف کاروں کی مانیں تو مسلم ووٹروں کا رجحان نارتھ ایسٹ اور مشرقی اور چاندنی چوک چناؤ نتائج طے کرے گا۔انڈیا ٹوڈے گروپ کے ایک تازہ سروے میں آپ کو دہلی میں سات سیٹوں میں سے دو سیٹوں پر جیت کی امید بتائی گئی ہے۔ کانگریس کو01 اور بی جے پی کو سب سے زیادہ5-7 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اگر دسمبر اسمبلی چناؤ میں پولنگ کے حساب سے نتیجے نکالے جائیں تو چار سیٹوں پر بھاجپا کا پلڑا بھاری مانا جائے گا اور تین پر عام آدمی پارٹی کا اور بھاجپا جن سیٹوں پر بھاری ہے ان میں ویسٹ دہلی، ساؤتھ دہلی، نارتھ ویسٹ اور نارتھ ایسٹ سیٹیں ہیں۔ وہیں عام آدمی پارٹی کا پلڑا چاندنی چوک سے ایسٹ دہلی اور نئی دہلی سیٹ پر ہے۔ دیکھیں دہلی میں مودی کی لہر کتنی موثر ہے۔
(انل نریندر)

04 اپریل 2014

اعظم گڑھ میں گوروچیلے میں ٹکر تو الہ آباد میں سہ رخی مقابلہ

اترپردیش میں سیاسی دنگل میں اس بار چناؤ دلچسپ ہونے والے ہے اعظم گڑھ کی بات کریں تو بنارس سے نریندر مودی کے چناؤ لڑنے کے ا علان ہوتے ہی اعظم گڑھ سے چناؤ لڑنے کا سماج وادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو نے بڑا دعوؤں چلا ہے لیکن پورونچل میں بہت اثر ڈالنے کی حکمت عملی فی الحال پروان چڑھتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ بھاجپا کے دبنگ ایم پی رمن کانت یادو کے مقابلے اب ملائم سنگھ پلڑا بھاری بھلے ہی نظر آئے لیکن یہاں انہیں واک ا وور نہیں ہے۔ بھاجپا کے امیدوار کے ساتھ ساتھ بسپا اور قومی ایکتا فیکٹر سے خطرہ ہے ملائم کی طاقت کی بات کریں تو مسلم یادو الگ تجزیہ ہے اعظم گڑھ میں ان کے اس پرانے نسخہ کی کڑی زور آزمائش ہونے والی ہے یہی وجہ ہے کہ سپا چیف کی چناؤ مہم کی کمان خود صوبے کے وزیراعلی اور صاحب زادے اکھلیش یادو سنبھال رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ طور سے بے حد پولارائزیشن کے ماحول میں بھاجپا کے پچھلی مرتبہ یہاں سے چناؤ جیتے تھے۔خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف سپا میں رہے ہیں بلکہ ملائم کے چیلے بھی رہے ہیں۔ وہ 1996و1999میں سپا ، 2004میں بسپا اور 2009میں بھاجپا کے ٹکٹ پر چناؤ جیت چکے ہیں اس مرتبہ ملائم و رما کانت کو بڑی چنوتی دینے کے لئے بسپا نے مقامی ایم ایل اور مسلم لیڈر گڈو جمالی کو ٹکٹ دیا ہے ملائم کے آنے سے پہلے رما کانت اور جمالی میں ٹکر مانی جارہی تھی مگر ملائم کے میدان میں اترنے میں سیاسی حالات بدل گئے ہیں اگر ہم الہ آباد کی بات کریں تو یہاں کے لوک سبھا سیٹ پر ذات پات اور پرانے بھروسے مند لوگوں کی جنگ میں بھاجپا اور بسپا اس مرتبہ اترپردیش سیٹ کو حکمراں سپا سے چھیننے کی کوشش میں ہے سماج وادی پارٹی نے اپنے موجودہ ایم پی کنور ریپتی رمن سنگھ کو اتارنے کی بات کہی وہی بہوجن سماج پارٹی نے پچھلے چناؤ میں اس سیٹ پر نمبر 2 رہے اور برہمن امیدوار کو پارٹی سے نکال دیا اور 2014کے چناؤ میں پسماندہ طبقے کی عورت کو امیدوار بنایا ہے۔سپا اور بسپا دونوں کو چناوی جنگ میں شکست دینے کے ارادے سے بھاجپا نے اس سیٹ سے سابق سپا لیڈر اور کاروباری شیاما چرند گپتا کوا میدوار بنا کر سبھی کو تعجب میں ڈال دیا ہے وہ پہلے بھاجپا میں تھے لیکن بعد سپا میں چلے گئے اور ایک بار وہ باندہ سے بھی ایم پی رہے اس مرتبہ سپا سے ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے بھاجپا کادامن تھاما۔اور انہیں ٹکٹ بھی مل گیا بسپا نے اس مرتبہ چناؤ میں کیسری دیوی پٹیل کو ٹکٹ دیا ہے۔ پارٹی کے حق میں او پی سی کے ووٹروں کو راغب کرنے کے لئے سپا نے دو بار ایم پی رہے ریپتی رمن سنگھ پر پھر سے بھروسہ جتایا ہے بھاجپا کے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے خلاف 2004میں زبردست جیت حاصل کی تھی کانگریس کو اس سیٹ پر 1984کے بعد سے کوئی کامیابی نہیں ملی۔ادارکار امیتابھ بچن نے سینئر سیاست داں ہیم وتی نندن بہوگنا کے قریب 2لاکھ ووٹوں سے ہرایاتھا۔ پچھلے چناؤ میں 2009 میں جب کانگریس کی کارکردگی اترپردیش میں اچھی رہی پارٹی میں 26 سیٹیں جیتی تھی جب بھی کانگریس امیدوار اس سیٹ پر چوتھے مقام رہے اور انہیں 10% فیصد کم ووٹ ملے تھے عام آدمی پارٹی نے ابھی تک اپنے امیدوار کااعلان نہیں کیا ہے لیکن قیاس آرائیاں جاری ہے کہ پارٹی اس سیٹ سے پرشان بھوشن کو اتار سکتی ہے۔
(انل نریندر)

مشرف نے جو نفرت کا بیچ بویا تھا آج اسی کی کھیتی کاٹ رہے ہیں

یہ پاکستان جیسے دیش میں ہی ممکن ہے جہاں فوج کے سربراہ رہ چکے شخص پر ملک کی بغاوت کا مقدمہ چل سکے۔جی ہاں! پاکستان کے سابق صدر اور سابق فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف ان دنوں اسی ذلالت کے دور سے گزر رہے ہیں یا یوں کہاجائے کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے مشکل مرحلے سے گزررہے ہیں پاکستان کی ایک خصوصی عدالت نے اس سابق جنرل مشرف پر ملک کی بغاوت کے الزام طے کئے ہیں ان پر ایسے الزامات عائد کئے گئے ہیں اور ثابت ہوجائے تو انہیں موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔ وہ ملک کے پہلے فوجی حکمراں ہوں گے جن پر اس طرح مقدمہ چلایا جائے گا 1999میں وزیراعظم نواز شریف کا تختہ پلٹنے کے بعد انہوں نے دیش کی زبردستی دیش کااقتدار ہتھیالیا تھا تو ان کاپہلا نشانہ نواز شریف بنیں تھے امریکہ جیسی طاقتتوں و سعودی عرب کے شاہی خاندان کی مداخلت کی وجہ سے وہ کسی طرح اپنی جان بچا کر دیش سے بھاگ گئے تھے۔ وقت کا تقاضہ دیکھئے آج وہی نواز شریف باقاعدہ چناؤ جیت کراقتدار پر قابض ہے اور جب کہ مشرف بڑھاپے میں جیل کی ہوا کھا رہے ہیں اس وقت پاکستان کی وہی عدلیہ مشرف کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے جسے انہوں نے اپنے عہد کے دوران ٹھینکا دکھایا تھا اور تھوک کے بھاؤ میں بہت ججوں کو جیل میں بند کردیاتھا 2007میں پہلے مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو زبردستی چھٹی پر بھیجنے کا حکم دیا۔ لیکن کورٹ کی تیرہ ججوں کی بنچ نے اکثریت کے ساتھ ان کی چھٹی کو منسوخ کردیا۔ چیف جسٹس کوپھر سے عہدہ سنبھالنے کو کہا اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگا کرکے چودھری کو برخاست کردیا۔بلکہ عدالت کمپلیکس میں فوج کو بھی بھیج دیا اور وہاں جمع ججوں کو گرفتار کروا دیا ان کے غصہ کی وجہ صرف اتنی تھی کہ عدالت اس عرضی پر غور کررہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مشرف فوج کے عہدے پر رہتے ہوئے صدارتی چناؤ نہیں لڑسکتے اور اس کے بعد جو واقعات رونما ہوئے اس میں مشرف کے ہاتھ سے اقتدار چلا گیا اور انہیں لندن میں پناہ لینی پڑی۔ فی الحال مشرف کے بچنے کی امید بہت کم ہے انہوں نے عدالت میں اپنی بے گناہی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کو حب الوطن ثابت کرنے کی دلیلیں پیش کی اس سے پہلے ان پر سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو بلوچ لیڈر اکبر بگتی کے قتل کے متعلق مقدمے چل رہے ہیں پچھلے سال وہ اس امید سے پاکستان لوٹیں تھے کہ وہ چناؤ لڑکر پھر سے پاکستان کا اقتدار سنبھالیں گے لیکن عدالت نے انہیں چناؤ لڑنے سے نااہل قرار دیا اتنا ہی نہیں انہیں کے گھر میں انہیں نظر بند کردیا ججوں کو جیل بھیجنے والے مشرف کو عدالت نے بری طرح پھنسا دیا ہے اپنے عہد میں مشرف نے ایسے کئی کام کئے جن کے لئے انہیں جواب دہی ہوناپڑے گا ان ہی کے اشارے پر بھارت میں وسیع پیمانے پر گھس پیٹھ ہوئی تھی اورنتیجہ بھارت اور پاکستان کے بیچ کارگل جنگ ہوئی بے نظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے بھی مشرف کا ہاتھ بتایا جاتا ہے اسلامی دہشت گردی کو سب سے زیادہ بڑھاوا ان کے عہد میں ہی ملا۔ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ دینا بھی مشرف نے ہی فیصلہ لیا تھاپاکستان میں طالبان کو طاقتور بنانے میں مضر نتائج آج پاکستان بھگت رہا ہے مشرف نے جو نفرت کا بیچ بویا تھا آج اسی کی کھیتی کاٹ رہے ہیں۔
(انل نریندر) 

03 اپریل 2014

اگر نریندر مودی نہیں تو کون؟

16 ویں لوک سبھا کا چناوی منظر فی الحال دھندھلا دکھائی دے رہا ہے۔ اس چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کے درمیان زیادہ تر سیٹوں پر سیدھی ٹکر ہے۔ علاقائی پارٹیاں دیواربن کر بیچ میں کھڑی ہوئی ہیں جبکہ اروند کیجریوال دونوں قومی پارٹیوں کی کامیابی مہم کی رفتار تھامنے میں لگے ہوئے ہیں اور ووٹ کٹوا کردار میں نظر آرہے ہیں۔ چناوی ہوا کا مزاج بھانپ کر ہیں اب بھاجپا کے پی ایم امیدوار اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کیجریوال پر اب سیدھے حملے شروع کردئے ہیں۔ ابھی تک نریندر مودی کانگریس کو ہی نشانہ بناتے رہے ہیں اور کانگریس انہیں۔ لیکن ’آپ‘ کے بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کردی ہے۔ انہیں ہندی بولنے والے علاقوں میں ’آپ‘ سے سیاسی نقصان ہونے کا خطرہ لگ رہا ہے۔ ان ناگزیں سیاسی حالات کے چلتے این ڈی اے اور یوپی اے کو اکثریت کے لئے جادوئی نمبر تک پہنچانا ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔ چناؤ کے پہلے مرحلے کے لئے پولنگ 7 اپریل کو ہے۔ جیسے جیسے پولنگ کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے چناؤ مہم اپنے شباب پر پہنچ رہی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ 81 کروڑ ووٹروں کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ 1989ء کے چناؤ سے اب تک کسی بھی قومی پارٹی کو اکثریت نہیں مل سکی ہے۔ تقریباً26 سال کے اس سیاسی کھیل میں دو بار غیر کانگریس ،غیر بھاجپا حکومتیں ضرور بنی تھیں جو یا تو کانگریس یا بھاجپا کی بیساکھی پر ٹکی تھیں۔ ان کی میعاد بمشکل دو سال چلی اور اس دوران دیش کئی برسوں پیچھے چلا گیا ہے۔ آج دیش کے سامنے میری رائے میں سب سے بڑا چیلنج دیش میں ایک پائیدار مرکزی سرکار کی ضرورت ہے۔ دیش کے سامنے درجنوں چیلنج منہ کھولے کھڑے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ موجودہ سیاسی پس منظر میں ایک پائیدار سرکار کون دے سکتا ہے۔ یا تو کانگریس دے سکتی ہے یا پھر بھاجپا۔ بدقسمتی سے کانگریس اس حالت میں نہیں لگ رہی ہے کہ وہ 100 سے زیادہ سیٹیں لے سکے گی رہی بھاجپا تو وہ اس وقت سب سے مضبوط متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے۔اس کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی پورے دیش میں ایک قابل تسلیم لیڈرکی شکل میں اپنے آپ کو پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ آج وہ اس صورت میں ہیں کہ دیش کو جس مضبوط لیڈر شپ کی ضرورت ہے اور جس ڈسپلن ،واضح نقطہ نظر اور ترقی اور صحیح ترجیحات کی ضرورت ہے وہ دے سکتے ہیں۔ ایک منٹ کے لئے تصور کیجئے مودی و بھاجپا یا ان کی لیڈر شپ میں اتحاد اقتدار میں نہیں آتا تو کیا؟ کون آگے آئے گایہ صوبیدار جو کبھی اپنی ریاست سے باہر نہیں نکلے کیا یہ دیش چلائیں گے یا پھر اروند کیجریوال جو49 دنوں میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ ایسے کئی تجربے ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔ شری ہردن ہلی دیو گوڑا بیشک دیش کے وزیر اعظم بنیں لیکن وہ کبھی کرناٹک سے باہر نہیں نکلے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کانگریس کا کمزور ہونا اور بھاجپا کا پورے دیش میں صحیح طرح سے پاؤں نہ جما پانا ہماری بدقسمتی ہی مانا جائے گا۔کانگریس کے کمزور ہونے سے علاقائی پارٹیوں کو ابھرنے کا موقعہ ملا جو ووٹ بینک کی سیاست اور کانگریس اور بھاجپا میں چلائی ہے وہی ان صوبیداروں نے اپنا لی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے اپنے صوبوں میں یہ طاقتور ہوگئیں اور دیش کے اقتدار کی چابی ان کے ہاتھ میں آگئی۔ اس بار بہت دنوں کے بعد ایسا موقعہ آیا ہے کہ نریندر مودی ایسے نیتا کی شکل میں آسکتے ہیں جن کی دیش کی ایکتا اور اکھنڈتا کے لئے سخت ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

لوک سبھا کے چناوی دنگل میں فلمی ستاروں کی بھرمار!

ایک زمانہ تھاجب فلمی ستارے سیاست میں آنے سے کترایا کرتے تھے اور ایک یا دو اداکار سیاست میں آیا کرتے تھے۔ لیکن وقت بدلتا گیا اور سیاست میں فلمی ستاروں کی تعداد بڑھتی گئی یہ ہی نہیں سیاست پر فلمیں بھی بننے لگیں۔ آج تو ایسی فلموں کا سیلاب آگیا ہے۔دیش کی 16 ویں لوک سبھا کے لئے ایک سے ایک بڑھ کر اداکار سیاست کی پچ پر اترکر اپنا ہاتھ آزمانے کو تیار ہیں۔ اگر ہم اترپردیش کی سیاسی پچ پر نظر ڈالیں تو فلموں کی قطار خاصی لمبی ہے۔ دیش کی دیگر ریاستوں میں بھی فلمیں ستارے سیاسی دنگل میں نظر آرہے ہیں۔ پہلے بار کرتے ہیں اترپردیش کی سیاسی فضا کی جو ہمیشہ اپنی طرف فلمی اداکاروں کو راغب کرتی آرہی ہے۔ اس بار فلم اداکارہ ہیما مالنی بھاجپا سے متھرا لوک سبھا سیٹ سے اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔متھرا کو آر ایل ڈی کا گڑھ مانا جاتا ہے لیکن ہیما مالنی کو امیدوار بنا کر بھاجپا نے اجیت کے گڑھ میں سیند لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بیٹے جینت چودھری فی الحال متھرا سے ایم پی ہیں اور اس بار وہ بھی یہیں سے میدان میں ہیں۔ فلم اداکارہ نغمہ اس بار کانگریس امیدوار میرٹھ سے میدان میں ہیں۔ یہ بھاجپا کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ پارٹی نے راجندر اگروال کو یہاں سے نغمہ کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ پچھلے چناؤ میں اگروال کامیاب رہے تھے۔ بھوجپوری فلموں کے سپر اسٹار روی کشن کو کانگریس نے پوروانچل کی اہم سیٹ جونپور سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔روی کشن کی مقبولیت پورے علاقے میں ہے۔ روی کی جیت اتنی آسان نہیں ہے کانگریس امیدوار راج ببر غازی آباد سے اترے ہوئے ہیں۔ ان کا مقابلہ سابق چیف فوج جنرل وی کے سنگھ اور عام آدمی پارٹی کی شازیہ علمی سے ہے۔ فی الحال راج ببر کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ بجنور میں سابق ایم پی جے پردہ میدان میں ہیں۔ وہ راشٹریہ لوکدل کی امیدوار ہیں۔ جے پردہ پچھلی مرتبہ رامپور سے چناؤ لڑی تھیں لیکن پچھلے دنوں امرسنگھ کے ساتھ آر ایل ڈی میں شامل ہوگئیں۔ اڑیسہ فلم انڈسٹری میں ایک بڑا نام اپراجتا موہنتی کا ہے جو 70 سے زیادہ فلموں میں کام کرچکی ہیں وہ کٹک سے کانگریس کی امیدوار ہیں۔ ایک اور فلمی اداکار وجے موہنتی کانگریس ٹکٹ پر بھوبنیشور سے میدان میں ہیں۔ بھاجپا نے تین ستاروں کو میدان میں اتارا ہے۔شریتم داس ، پنٹو نندا اور پنکی پردھان۔ یہ فلم اور ٹی وی سے ہیں۔ موہنتی نے کسی بڑی پارٹی کے ساتھ آنے کے بجائے اڑیسہ کی ایک چھوٹی سی پارٹی اڑین پارٹی جوائن کی۔ مشہور گلوکار سبھاش داس نے سپا جوائن کی۔ سب سے زیادہ ستارے بیجو جنتا دل کے ساتھ ہیں ان میں سانکھیکی مشرا اور گلوکار ترپتی داس شامل ہیں۔اس کے علاوہ مغربی بنگال کے چناؤ میں کئی فلمی ستارے بھی چناؤ میدان میں ہیں۔ پٹنہ صاحب سے شتروگھن سنہا، چنڈی گڑھ سے کرن کھیر، گل پناگ بھی قسمت آزمارہی ہیں۔ پرکاش جھا بھی بہار سے میدان میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ان میں سے کتنے بیلٹ باکس سے ہیرو بن کر نکلتے ہیں۔ اپنے فینس کو ووٹوں میں بدل پاتے ہیں؟
(انل نریندر) 

02 اپریل 2014

چیلنج بھری ہے راجناتھ سنگھ کی لکھنؤ میں فتح کی راہ!

16 ویں لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے گڑھ مانے جانے والے لکھنؤ میں امیدوار کے نام بدلنے پر یہاں کے سیاسی ماحول کو دلچسپ اور تلخ بنادیا ہے۔ یہ تلخی کہیں بھاجپا پر بھاری نہ پڑ جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اترپردیش میں جو ٹکٹ بانٹے ہیں اس کے پیچھے صدر راجناتھ سنگھ کا رول دیکھا جارہا ہے۔ موجودہ ایم پی لال جی ٹنڈن کی جگہ خود لکھنؤ سے چناؤ لڑ رہے راجناتھ سنگھ کے لئے یہاں مخالفین بھرے پڑے ہیں۔ دراصل راجناتھ سنگھ براہمن اور مسلم تجزیوں کی پھانس میں الجھ گئے ہیں۔ 1951ء سے1991 ء تک بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہاں پاؤں نہ جمانے دینے والا لکھنؤ کا مزاج پھر سے اپنے سخت تیور میں دکھائی دے رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ کانگریس ،سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی حکمت عملی ہے۔ لکھنؤ کے 18 لاکھ ووٹروں پر نظر ڈالیں تو تصویر اور صاف ہوجاتی ہے۔ لکھنؤ میں چار لاکھ مسلمان اور ڈھائی لاکھ براہمن ووٹر ہیں۔لکھنؤ مشرق سے کلراج مشرا ممبر اسمبلی ہیں انہیں دیوریا سے امیدوار بنائے جانے کا اثر براہمن ووٹر اور ورکر دونوں میں ہی دکھائی دے رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ کو اس ووٹ بینک کو شیشے میں اتار پانا بڑی چنوتی ہوگی کیونکہ ان کی ساکھ پہلے ہی علاقائی حمایتی کی بن چکی ہے۔ مسلمانوں اور براہمنوں کی حمایت حاصل کر بھاجپا کے گڑھ میں سیند ماری کی کوشش کا ہی نتیجہ ہے کہ کانگریس نے یہاں سے ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی کو ٹکٹ دیا ہے۔ وہ یہاں سے ممبر اسمبلی بھی ہے اور 2009ء میں ہوئے لوک سبھا چناؤ میں محض20 دن پہلے ٹکٹ ملنے کے باوجود دیوریا سے 27 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتے تھے۔ ڈاکٹر جوشی کے ساتھ ایک بات اور جڑتی ہے 1977ء میں ہوئے لوک سبھا کے چناؤ میں ان کے والد ریاست کے سابق وزیر اعلی ہیموتی نند بہوگنا لکھنؤ سے ایم پی چنے گئے تھے۔ لکھنؤ میں ڈھائی لاکھ پہاڑی ووٹ کو کھینچنے کے لئے سماجوادی پارٹی نے ڈاکٹر اشوک باجپئی کو میدان میں اتارا ہے۔ بنیادی طور پر ہردوئی کے باشندے ڈاکٹر باجپئی پچھلے ڈیڑھ سال سے لکھنؤ میں ہی سرگرم ہیں۔ انہوں نے یہاں اپنی موجودگی درج کرانے کی پرزور کوشش کی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کانگریس ،سپا کے امیدوار کچھ دن پہلے بھاجپا ایم پی لال جی ٹنڈن سے ملنے گئے تھے اور کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ لال جی ٹنڈن نے انہیں اپنا آشیرواد دے دیا ہے۔راجناتھ سنگھ کے لئے یہ بڑی پریشانی کھڑی کر سکتا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے نکل دوبے کو یہاں سے میدان میں اتارا ہے۔ اس نے ایسا کرکے براہمنوں اور مسلمانوں کے ساتھ یہاں کے 22 فیصد پسماندہ لوگوں کا ووٹ حاصل کرنے میں چال چلی ہے۔ اگر بسپا اپنی منشا میں کامیاب ہوئی تو ایسی صورت میں بھی راجناتھ سنگھ کے لئے پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ اب بات راجناتھ سنگھ کے حریفوں کی۔دیوریا سے ٹکٹ ملنے سے خفا بھاجپا کے سابق پردیش پردھان سوریہ پرتاپ شاہی 16 ویں لوک سبھا کے چناؤ میں جگہ نہ ملنے سے ناراض ہیں اور ونے کٹیار الہ آباد سے ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہیں جبکہ کیجری ناتھ ترپاٹھی کی کانپور سے ٹکٹ پانے کی حسرت پوری نہ ہونے پر ناراض چل رہے ہیں۔ کلراج مشر اور اوم پرکاش جیسے سنجیدہ لیڈروں کی لمبی فوج ہے جو راجناتھ سنگھ سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔ ان سبھی سرکردہ لوگوں کے حمایتیوں کا بڑا طبقہ لکھنؤ میں ہے رکشے ،تانگے اور گلیوں میں گھومتے پھیری والوں کے ساتھ شاپنگ مال اور حضرت گنج و حسین آباد میں سمیٹے نوابوں کے اس شہر میں بھاجپا خیمہ شروع سے ہی اندرونی حریفوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہر لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو نقصان پہنچانے کی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ایسے میں اب لوک سبھا چناؤ میں یہ بڑا سوال اٹھتا ہے کہ راجناتھ سنگھ کا غازی آباد سے لکھنؤ آنا کتنا خطرے بھرا ثابت ہوگا۔ آدھی صدی تک اٹل بہاری واجپئی کے پرائیویٹ سیکریٹری شیو کمار کو راجناتھ سنگھ اپنی پہلی لکھنؤ یاترا میں ساتھ لیکر آئے تھے ان کے ساتھ لانے کے مطلب چاہے کچھ بھی ہوں لیکن راجناتھ سنگھ کو وہ یہ سندیش دینا چاہ رہے ہیں کہ میں اٹل جی کی وراثت کا اصلی وارث ہوں۔
(انل نریندر)

سپر ہرکولس حادثے سے سرکار اور ایئرفورس سوالوں کے گھیرے میں!

پچھلے جمعہ کو دیش و ہندوستانی فضائی کو ایک بہت برا جھٹکا لگا۔ ایئرفورس کا ایک ہزار کروڑ روپے کا انتہائی جدید سہولیات سے آراستہ مالبردار جہازC-130J سپر ہرکولس حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔یہ حادثہ راجستھان کے مہاراج پور گاؤں کے قریب ہوا۔ حادثے میں بحری حکام سمیت کیپٹن ٹیم کے سبھی پانچ افسر مارے گئے۔ طیارے نے صبح 10 بجے آگرہ سے گوالیار کے لئے اڑان بھری تھی ایک گھنٹے بعد وہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ مارے گئے لوگوں میں ونگ کمانڈر پرشانت جوشی، ونگ کمانڈر اے جی نائر، اسکوائڈن لیڈر کوشک مشرا اور دوسرے آشیش یادو اور کے۔ پی سنگھ وغیرہ شامل ہیں۔ چشم دید گواہوں کے مطابق پرواز کرنے کے دوران ہی جہاز میں دھنواں نکلنے لگا تھا۔ اس نے آسمان میں دو تین چکر لگائے اور پھر گودا گھاٹ کے پاس جا گرا۔ ایئر فورس کا یہ وسیع ترین جہاز کسی آبادی والے شہر میں گرتا تو یقیناًتباہی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ اس حادثے کے خطرے کو کیپٹن ونگ کمانڈر پردیپ جوشی اور ان کے ساتھی بھانپ نہیں پائے۔ہم ان پائلٹوں کی سوجھ بوجھ کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے آخری لمحوں میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے بے قصور لوگوں کو موت کا شکار ہونے سے بچا لیا۔ تین سال پہلے ایئر فورس نے امریکہ سے C13J سپر ہرکولس طیارہ خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اب تک بھارت میں اس معاہدے کے تحت تین جہاز آچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے ایک جہاز کی قیمت ایک ہزار کروڑ روپے ہے۔ یہ جنگی جہاز اسپیشل آپریشن ایئر کرافٹ طیارہ ہے جس کے دو سال پہلے ایئرفورس میں شامل ہونے سے فضائی فوج کی طاقت بڑھی ہے۔یہ جنگی جہاز ہنگامی حالات میں مالبردار جہاز کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس میں چار انجن ہوتے ہیں 20 ٹن وزنی یعنی ٹینک کے ساتھ کئی جیپیں لیکر اڑ سکتا ہے اور اس میں اڑان کے درمیان ہی ایندھن بھرا جاسکتا ہے۔ قریب97 فٹ لمبا ہونے پر بھی چھوٹے رن وے پر اترسکتا ہے۔ پچھلے دنوں ہی بھارت نے چینی سرحد سے لگے دولت بیگ اولڈی میں اسے اتار کر چین کو تیور دکھائے تھے۔ حال ہی میں لاپتہ ملیشیائی جہاز MM370 کی تلاش میں بھی اس جہاز کا استعمال کیا گیا۔ اتراکھنڈ میں قدرتی آفت کے وقت بھی یہ جہاز کافی کارآمد ثابت ہوا۔ اس جہاز کے حادثے کا شکار ہونے سے وزارت دفاع ایئر فورس پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ وزیر دفاع اے ۔ کے ۔انٹونی نے ایئر فورس چیف انوپ راہا سے حادثے کی تفصیل مانگی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ جہاز کے تباہ ہونے پر انٹونی نے بحریہ کے اس افسر سے سنگین سوال کئے ہیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق طیارے کے اندر اتنی جلدی سب کچھ ہوگیا کے پائلٹ کواے ٹی سی کو کچھ بتانے کا موقعہ تک نہیں ملا۔ وزارت دفاع کے اعلی ذرائع کے مطابق طیارے کے تباہ ہونے کی کوئی تکنیکی وجہ نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ معاملے کی جانچ کے بعد ہی اصل وجہ پتہ چل پائے گی۔ ایسے میں افسران انسانی غلطی کے اندیشے سے انکار نہیں کررہے ہیں کیونکہ امریکہ کے لئے اس جہاز میں چار انجن لگے تھے ساتھ ہی اس میں ایمرجنسی لینڈنگ کی بھی جدید ترین سہولت ہے۔ گوالیار کے جس میدانی علاقے میں یہ حادثہ ہواوہاں کا موسم بالکل صاف اور ٹھیک تھا۔ ایئر فورس بحریہ میں آئے دن ہونے والے حادثات کی جوابدہی سرکار کی بنتی ہے اور اس معاملے کی باریکی سے جانچ ہونی چاہئے۔ امریکہ کا یہ ہرکولس جہاز بہت ہی مضبوط اور بھروسے مند جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے اس کے ساتھ عموماً ایسے حادثے نہیں ہوتے۔ یہ بڑھتے حادثات سرکار کے ڈھیلے ڈھالے رویئے کو بھی دکھاتے ہیں جس کی بہت بڑی قیمت دیش کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

01 اپریل 2014

بہار میں سہ رخی مقابلہ میں داؤں پر لگی نتیش اور لالو کی ساکھ!

بہار کے موجودہ وزیر اعلی نتیش کمار کے لئے چناؤ کی فکر اور چنوتی کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اس بار کے لوک سبھا چناؤ میں وہ سب سے مشکل امتحان کے دور سے گزر رہے ہیں۔ اس چناؤ سے صاف ہوجائے گا کہ عوام نے بھاجپا سے الگ ہونے کے نتیش کے فیصلے کو صحیح مانا ہے یا نہیں۔ یہ بھی طے ہوجائے گاکہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کو لیکر نتیش کی تحریک کو جنتا کی کتنی حمایت ملی۔ وزیر اعلی فی الحال بہار کے ووٹروں کو سمجھا رہے ہیں کہ اگر ہم دہلی میں مضبوط نہیں ہوتے تو پھربہار کی آواز وہاں کوئی نہیں سنے گا۔ بڑی چنوتی یہ بھی ہے اس بار ان کے سامنے40 سیٹوں کی چنوتی ہے۔38 سیٹوں پر ان کی پارٹی اور 2 پر مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار ہیں۔ بہار میں اس بار ہر سیٹ پر سہ رخی مقابلہ ہے۔ پچھلے چناؤ میں بھاجپا جنتا دل (یو ) کے ساتھ تھی اس لئے آرجے ڈی سے جنگ آمنے سامنے کی تھی۔ اس بار جنتادل (یو) کے سامنے بھاجپا کے ساتھ ساتھ آر جے ڈی ۔کانگریس اتحاد بھی ہے۔ بھاجپا کے ساتھ ایل جے پی آگئی ہے۔ کچھ جگہوں پر ووٹ کٹوانے کی امید کی بھی بڑی چنوتی ہے۔ برسوں سے جنتادل (یو) اور بھاجپا اتحاد تھا مگر پچھلے سال نتیش کمار نے اس سے رشتہ توڑ لیا نتیجتاً بھاجپا جنتا دل (یو) کے حریف کی شکل میں اس بار میدان میں ہے۔ وہیں لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی اپنے کھوئے ہوئے مینڈینٹ کو دوبارہ حاصل کرنے کی امید سے ایک بار پھر طاقت آزما رہی ہے۔ ریاست میں جنتادل (یو) بھاجپا اتحاد مودی کے مسئلے پر ٹوٹا تھا۔ بھاجپا لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کو وزیر اعظم امیدوار کا دعویدار اعلان کرنا چاہتی تھی لیکن ’وکاس پرش ‘کی ساکھ اختیار چکے نتیش کو مودی کی فرقہ وارانہ ساکھ سے پرہیز تھا۔ ویسے تو نتیش خود کو وزیر اعظم عہدے کا دعویدار بھی مانتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے جب دوسروں کے مقابلے خود کو پی ایم عہدے کے لئے بہتر دعویدار بتایا تو کسی کو یہ سمجھنے میں پریشانی نہیں ہوئی کہ ان کا اشارہ کس طرف تھا۔ اس چناؤ میں نتیش کمار کے خلاف کئی مورچے کھل گئے ہیں۔ ان کو نریندر مودی بھاجپا کے بڑے کمپینر سے لوہا لینا ہے۔ بھاجپا میں دیگر پارٹیوں کے مقابلے اسٹار کمپینر بھی زیادہ ہیں اور وہ اس ہوا کے ساتھ میدان میں ہیں۔اس بار نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ مغربی چمپارن ،مشرقی چمپارن، شیو وہار، مدھوبنی، ارہریا، کٹیار، دربھنگہ، سیوان، بھاگلپور، پٹنہ صاحب، بکسر، گیا اور نوادہ لوک سبھا سیٹیں جنتادل (یو) کے لئے اس بار نئی ہیں۔ ان سیٹوں پر جنتادل (یو) نے پچھلا لوک سبھا چناؤ اتحاد کے تحت لڑا تھا تب یہ سیٹیں بھاجپا کے کھاتے میں تھیں لیکن اس بار ان سیٹوں پر نتیش کو الگ سے طاقت جھونکنی پڑے گی۔ اپنی سیٹوں پر محنت الگ بہار میں مدھے پورہ کے بارے میں ایک کہاوت چلتی ہے ’’روم پوپ کا اور مدھے پور ہ گوپ کا‘‘ دراصل مدھے پورہ لوک سبھا حلقے میں گوپ یعنی یادو اکثریتی اور طاقتور ہیں اس بار یہاں سے جنتادل (یو)صدر شرد یادو اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔لیکن اس بار ان کا مقابلہ آر جے ڈی کے دبنگ لیڈر راجیش راجن عرف پپو یادو سے ہے۔ دوسری طرف بھاجپا کا روایتی براہمن ووٹ بھی اس بار ان کے ساتھ نہیں ہے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے بھلے ہی سال2008ء میں حد بندی کے بعد اس لوک سبھا سیٹ میں تبدیلی آئی ہے لیکن اس کے باوجود اس حلقے میں یادو طاقتور مانے جاتے ہیں۔ اسی کو ذہن میں رکھ کر آر جے ڈی نے موجودہ ایم پی شرد یادو کو ٹکر دینے کے لئے پپو یادو کو میدان میں اتارا ہے۔ اگر ہم یادو ووٹوں کی بات کریں تو لوک سبھا چناؤ کے اعلان ہونے کے چار ماہ پہلے یادو ووٹوں پر سبھی پارٹیاں ڈورے ڈال رہی تھیں لیکن ٹکٹ دینے میں جنتادل (یو) بھاجپا سے آگے رہی۔بھاجپا کا پی ایم امیدوار بننے کے بعد نریندر مودی اکتوبر میں پٹنہ کی پہلی ریلی میں مدھوونشی اور گجرات کے کنکشن کی بات کر یادو کو رجھانے کی کوشش کی تھی۔ بھاجپا کا سیاسی مقصد آر جے ڈی کے کمزور علاقوں کے یادو ووٹروں کو راغب کرنا تھا۔ چارہ گھوٹالے میں لالو یادو کے جیل جانے کے بعد بھاجپا نے اپنی کوشش اور تیز کردی تھی لیکن جب امیدوار کھڑا کرنے کا وقت آیا تو بغیر کسی کمپین کے جنتادل (یو) نے یادو فرقے کو ٹکٹ دینے میں بھاجپا کو پچھاڑدیا۔ سبھی پارٹیوں نے یادو پر بڑا داؤں کھیلا ہے۔ کل 22 یادووں کو امیدوار بنایا ہے۔ بہار کا چناوی منظر آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ پاٹلی پتر لوک سبھا سیٹ سے بیٹی کا پرچہ داخل کراکر باہر نکلے لالو پرساد یادو نے کہا میسا کی جیت طے ہے۔ رام کرپال کے بارے میں پوچھنے پر بولے کے ہماری کسی سے کوئی ٹکر نہیں ہے۔ بہار میں آرجے ڈی ۔ کانگریس۔ یوپی اے اتحاد کی لہر ہے۔ بھاجپا اور جنتادل (یو) کا کوئی نام نشان نہیں ہے۔ آخر میں لالو پرساد کے سالے انرودھ پرساد عرف سادھو یادو اپنی بہن رابڑی دیوی کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر چناؤ لڑیں گے۔ سادھو یادو نے بتایا کہ وہ آسن لوک سبھا چناؤ سارن سیٹ سے آزاد امیدوار کے طور پر چناؤ لڑیں گے۔ لالو نے کہا نتیش کے پودے کو انہوں نے لگایا ہے اگرجنتاکا یہ پودہ ببول نکل جائے تو گرم پانی ڈال دیتا۔ انتظامیہ رعب سے چلتا ہے لیکن نتیش کمار افسروں کے آگے جھک گئے ہیں۔ نتیش کا سارا آن لائن اب آف لائن ہوگیا ہے۔ بہار کی جنتا اب مین لائن میں رہے گی۔
(انل نریندر)

کیا گواسکر کے عہد میں کرکٹ میں صفائی آئے گی و نیا دور شروع ہوگا؟

آخر کار سپریم کورٹ نے وہ کام کردکھایا جو حکومت ہند نہیں کرسکی۔ سپریم کورٹ نے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیف کی کرسی پر کنڈلی مارکر بیٹھے اور وہاں سے ہٹانے کی کوشش کرنے والوں کو پھنکار مار کر بھگادینے والے این سرینواسن کو ان کی حیثیت بتادی ہے۔ یہ نوبت تب آئی جب بھانمتی کا پٹارہ کھل جانے کے باوجود مرضی سے عہدہ چھوڑنا تو دور بلکہ سماجی دباؤ کرکٹ شائقین اور سینئر کھلاڑیوں کو وہ مسلسل ٹھینگا دکھاتے رہے۔ یہاں تک کہ دیش کی بڑی عدالت کے ذریعے صاف صاف کہہ دینے کے بعد بھی وہ آخری پل تک عہدے سے چپکے رہنے کی کوئی کوشش کو جانے نہیں دینا چاہتے تھے اور بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے نکلے ہم۔ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ کی صفائی کرنے کے لئے عہد بند سپریم کورٹ نے جمعہ کو بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کو ہٹا کر سابق کپتان سنیل گواسکر کے ہاتھوں چیئرمین کا عہدہ تھمادیا۔ ساتھ ہی 18 اپریل سے ممبئی میں شروع ہورہے آئی پی ایل 7- کو بھی ہری جھنڈی دے دی۔ آئی پی ایل7- سنیل گواسکر کی نگرانی میں ہوگا ساتھ ہی بی سی سی آئی کے سینئر وائس پریزیڈنٹ شیو لال یادو کو بورڈ کے باقی کام کاج کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آئی پی ایل کے موجودہ سی ای اوسندر رمن اپنے عہدے پر بنے رہیں گا یا ان پر بھی گاج گرنے والی ہے اس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے گواسکرپر چھوڑدیا ہے۔ قابل دذکر ہے سندر رمن پر سرینواسن کو بچانے کے الزام لگے تھے۔ عدالت کے ذریعے آئی پی ایل کی کمان سنیل گواسکر کو سونپے جانے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ بی سی سی آئی کا انترم پردھانی سونپے جانے پر فخر محسوس کررہا ہوں۔ وہ اس رول میں سب سے اچھا کام دینے کی کوشش کریں گے۔ بھارتیہ سپریم کورٹ نے آئی پی ایل 7- کا انعقاد اور اس کی اختتامی تقریب ٹھیک ٹھاک کرانے کے لئے جوابدہی سونپی ہے۔ میں اپنی کرکٹ زندگی کی طرح یہاں بھی اس جوابدہی کو بہتر ڈھنگ سے نبھاؤں گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا سبھی نے خیر مقدم کیا ہے۔ سابق کرکٹر چندو بورڈے نے کہا سپریم کورٹ نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے۔ یہ کھلاڑیوں کے لئے اچھا موقعہ ہے کیونکہ اب آئی پی ایل میں کرکٹ کو ترجیح ملے گی جس کی ساکھ کو سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے الزامات سے نقصان پہنچا ہے۔ گواسکر غیر جانبدارانہ طریقے سے فیصلے کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ان کی رہنمائی میں کافی شفافیت آئے گی اور ایک سابق کرکٹر اجیت واڈیکر نے کہا کہ خوشی ہے کہ گواسکر جیسے کھلاڑی کو بی سی سی آئی کی کمان دی گئی ہے۔ کرکٹروں کو شامل ہوتے دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔ بی سی سی آئی کے وائس پریزیڈنٹ اور سابق آئی پی ایل کمشنر راجیو شکلا نے کہا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کھیل اور کرکٹ شائقین کے مفاد میں ہے۔ اس معاملے میں دھونی کو نہیں گھسیٹا جانا چاہئے ان کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہ بھی ہے کورٹ کی اس پہل کا کتنا اثر بی سی سی آئی کے طریقہ کار پر پڑے گا؟ 2000ء میں میچ فکسنگ ایپی سوڈ کے سامنے آنے کے بعد جگموہن ڈالمیا کی بدائی کے ساتھ اس تنظیم کے کایہ پلٹ ہونے کی امیدجاگی تھی لیکن للت مودی اور این سرینواسن جیسی شخصیتوں کا بول بالا رہا اور کھیل میں زیادہ ان کی مداخلت رہی اور پیسوں کی اہمیت کھیل سے کہیں زیادہ تھی۔ سپریم کورٹ کے اس قدم سے بی سی سی آئی میں کیا تبدیلی آئے گی؟
(انل نریندر)

30 مارچ 2014

تین اے ۔کے پاکستان کے مددگار،مودی کا کیجریوال پر حملہ

ابھی تک عام آدمی پارٹی (آپ) کے الزامات کا جواب دینے سے بچ رہے بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی نے آپ پر زور دار حملہ بولا ہے۔ ہیرا نگر (جموں )میں مودی نے ویشنودیوی کے درشن کے بعد ایک وشال ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل تین اے۔ کے پاکستان کے اہم ہتھیار بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سرحد پر ایک ریلی میں نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کو تین اے۔ کے کی شکل میں تین نئے سپہ سالار مل گئے ہیں جن کی پاکستان میں خوب واہ واہی ہورہی ہے۔ یہ دیش کے دشمن اور پاکستان کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تین انوکھی طاقتوں میں پہلی اے۔کے 47 ہے جو لوگوں کو لہو لہان کرتی ہے، دوسرے بھارت کے رکشا منتری اے۔ کے انٹونی ہیں جو بھارتیہ جوانوں کا سر کاٹنے والوں کوپاکستانی فوجی نہیں کہہ کر پاک وردی پہنے لوگ بتاتے ہیں اور تیسرے ہیں دہلی میں 49 دن سرکار چلانے کے بعد سی ایم کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے اے۔کے 49 یعنی اروند کیجریوال ۔ جموں اور اترپردیش کے بعد نئی دہلی میں ہوئی تیسری ریلی میں مودی نے پھر عام آدمی پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مودی نے کہا کہ ’آپ ‘کانگریس کی بی ٹیم ہے۔پہلے ’آپ‘ کے ذریعے تو اب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے کانگریس راجدھانی کو چلا رہی ہے۔ یمنا پار علاقے کے شاستری پارک کے لئے منعقد دہلی میں پہلی چناؤ ریلی میں انہوں نے کہا کہ یہ پہلا چناؤ دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں گٹھ بندھن اس لئے ہورہا ہے کہ کہیں بھاجپا جیت نہ جائے۔ مودی کو روکنے کے لئے دل گٹھ بندھن کررہے ہیں۔ آج تک تو اروند کیجریوال نریندر مودی پر تیکھے حملے کرتے رہے پر پہلی بار مودی نے کیجریوال پر سیدھا حملہ بولا۔ کیجریوال نے ان پرکی گئی اے۔کے49 اور پاکستانی ایجنٹ والی تنقیدکو لیکر مودی پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری عہدے کے امیدوار کو ایسی تنقیدشوبھا نہیں دیتی لیکن مودی نے جس مدعے کو لیکر کیجریوال پر الزام لگائے تھے اس کے جواب میں عام آدمی پارٹی کے نیتا کچھ نہیں کہہ پائے۔ انہوں نے مودی کی تنقید کا جواب نہیں دیا۔ ’آپ‘پارٹی نیتاؤں کا کہنا ہے کہ مودی دیش کو بے مطلب کے مسئلوں میں الجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ کچھ بھی کہہ لیں اے۔کے عوام میں مشہور ہے۔منیش سسودیا نے ٹوئٹ کر کہا کہ مودی کے جھوٹ پر سوال اٹھانے والا ہر شخص پاکستانی ایجنٹ کہلائے گا۔ پارٹیترجمان دلیپ پانڈے نے کہا کہ بھاجپا کے نیتا کیجریوال کو پاکستانی ایجنٹ بتا رہے ہیں جو پاکستان جا کر جناح کی مزار پر ماتھا ٹیکتے ہیں۔ ’آپ‘ پارٹی کاسپورٹ بیس لگاتار گرتا جارہا ہے۔ عام آدمی پارٹی لوک سبھا چناؤ میں شایدودھان سبھا چناؤ جیسا کرشمہ نہیں دکھا سکے گی۔ دیش کی راجدھانی سے باہر نکل کر قومی فلک پر چھانے کی کوشش میں عام آدمی پارٹی کا دہلی میں ہی قلعہ کھسکتا دکھ رہا ہے۔ اے بی پی نیلسن کے سروے کے مطابق جنوری سے مارچ تک ’آپ‘ کے ووٹ فیصد میں ایک تہائی سے زیادہ کی کمی آئی ہے لیکن ملک بھر میں مودی کی لہر کا دعوی کررہی بھاجپا کی بجائے ’آپ‘ کا ووٹ فیصد کانگریس کی طرف واپس جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ودھان سبھا چناؤ میں ’آپ ‘ نے کانگریس کو حاشئے پر دکھیل دیا تھا۔بھاجپا کا ووٹ فیصد بھی جنوری سے مارچ کے بیچ تین فیصد بڑھا ہے پر زیادہ فائدہ کانگریس کو ہورہا ہے۔کانگریس اپنے روایتی ووٹ بینک کو واپس کھینچ رہی ہے اور اس بٹوارے کا فائدہ بھاجپا کو مل سکتا ہے۔ شاید دہلی کا ووٹ لوک سبھا چناؤ میں سرکار بنانے کے دعویدار بھاجپا اور کانگریس کے بیچ متبادل چننے کوفوقیت دینے کے اشارے کررہی ہے۔
(انل نریندر)

اترپردیش میں داؤں پر ہے کئی دگجوں کی مان۔پرتشٹھا!

دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لئے یوپی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ 80 سیٹوں والیپردیش میں ایک طرف بھاجپا کے پردھان منتری عہدے کے امیدوار نریندر مودی وارانسی سے اپنا وجے رتھ دوڑائیں گے تو کانگریس کے پردھان منتری پد کے چہرے راہل گاندھی اپنی خاندانی سیٹ امیٹھی سے تیسری بار میدان میں اتر کر کانگریس کا جھنڈا لہرائیں گی۔ سماجوادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو و بہوجن سماج پارٹی چیف مایاوتی بڑی طاقت کے طور پرپہلے سے یہاں جمے ہوئے ہیں۔ کانگریس چیف سونیا گاندھی رائے بریلی سے تو بھاجپا صدر راجناتھ سنگھ لکھنؤ سے اپنی قسمت آزمائیں گے۔ اسی جنگ میں عام آدمی پارٹی بھی کود رہی ہے جس کے نیتا اروند کیجریوال بھی وارانسی سے تال ٹھوک رہے ہیں۔ ورون گاندھی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، آدتیہ ناتھ جیسے ہندو وادی چہرے بھاجپا کا پرچم لے کر دنگل میں اترے ہیں تو راج ببر ،سلمان خورشید، ریتا بہوگنا جوشی کانگریس کے لئے میدان میں ہیں۔ 16 ویں لوک سبھا چناؤسے قبل سماجوادی پارٹی نے دس چناوی سبھاؤ ں میں 8 لاکھ سے زیادہ کی بھیڑ جٹانے کا د عوی کیا۔ یہ ہی حال بی جے پی کا بھی رہا جس نے 8 سبھاؤں میں 40 لاکھ کے قریب لوگوں کو جٹایا لیکن اس وقت لوک سبھا چناؤ کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے چناؤ کمیشن حرکت میں نہیں آیا تھا۔ اب تصویر الگ ہے۔ کانگریس کے نیتا بتاتے ہیں کہ لوک سبھا چناؤ کے دوران سونیا گاندھی 10 جگہوں پر چناوی سبھائیں کرنے والی ہیں۔ جن جگہوں پر سونیا اور راہل کی سبھائیں ہونی ہیں ان میں لکھنؤ، کانپور، الہ آباد، وارانسی، سلطانپور، رائے بریلی، گورکھپور اہم ہیں۔ کل ملا کر یہ لگ بھگ 30 چناوی سبھاؤں کو مخاطب کریں گے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو اور مکھیہ منتری اکھلیش یادو کا 40 سے زیادہ سبھاؤں کو مخاطب کرنے کا پلان ہے۔ اس کے علاوہ یہ دونوں ہی نیتا 20 ہزار کلو میٹر سے زیادہ کا سڑک راستے سے سفر کی اسکیم بھی بنا رہے ہیں۔ ادھر بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی ، نریندر مودی، راجناتھ سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ، سشما سوراج، مہنت یوگی ناتھ جیسے اعلی اور اثر دار لیڈروں کی کئی سبھائیں اترپردیش میں رکھی گئی ہیں۔ وہیں بسپا کی قومی صدر مایاوتی نے یوپی کی سبھی80 لوک سبھا سیٹوں پر چناوی سبھائیں کرنے کے پروگرام کا اعلان کردیا ہے۔ بھاجپا نے جیسے ہی نریندر مودی کا وارانسی سے چناؤ لڑنے کا اعلان کیاویسے ہی سوشل میڈیا پر ان کی تلاش اور تیز ہوگئی۔15 مارچ کو وارانسی سے امیدوار کا اعلان ہونے کے 24 گھنٹے کے اندران کے فیس بک پیج کو40 ہزار لوگوں نے پسند کیا۔ ایتوار شام تک پیج کو 1 لاکھ14 کروڑ سے زیادہ لوگ پسند کرچکے تھے۔ٹوئٹر پر بھی ان کے فالوور کی تعداد میں 40 لاکھ کا اضافہ ہوا۔ ان کے ہیش ٹیگ #myvoteformodi پر بھی ایک منٹ میں قریب 100 ٹوئٹ آرہے ہیں۔اس کے برعکس مودی کے خلاف چناؤ لڑ رہے اروند کیجریوال کی مقبولیت سوشل میڈیا میں تیزی سے گھٹی ہے۔ ان کے آفیشیل فیس بک پیج کو 10 مارچ سے16 مارچ کے دوران صرف 61 ہزار لوگوں نے لائک کیا ہے۔ اس کے پلے ہفتے میں یہ تعداد 71 ہزار سے اوپر تھی۔ ٹوئٹر پر بھی ان کے فالوور کی تعداد 15 لاکھ ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...