Translater
04 مئی 2024
دلچسپ ہونے جا رہا ہے ہریانہ کا چناو!
اس مرتبہ لوک سبھا کاچناو¿ ہریانہ کا دلچسپ ہونے جا رہا ہے ۔اس بار ہو رہا لوک سبھا چناو¿ پچھلے چناو¿ سے الگ ہے ۔ہر بار چناوی دنگل میں کودنے والے ہریانہ کے کئی سیاسی سرکردہ اس مرتبہ لوک سبھا چناو¿ کے دنگل سے باہر ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ ،سابق وزیراعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا اور سابق نائب وزیراعلیٰ دشینت چوٹالہ تینوں ہی چناو¿ میدان سے باہر بیٹھ کر اپنی پارٹی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں ۔کوپی چوٹالہ بزرگ ہونے اور دس سال سزا کے چلتے چناوی میدان میں نہیں ہیں ۔جبکہ ان کے بیٹے اور جن نائک جنتا پارٹی کے بانی ڈاکٹر ابھے سنگھ چوٹالہ بھی دس سال کی سزا ہونے کے چلتے چناو¿ نہیں لڑرہے ہیں ۔پچھلی بار چناو¿ لڑنے والے ہڈا اور دشینت چوٹالہ دونوں ہی چناو¿ سے باہر ہیں اور اپنی اپنی پارٹی کی کمان سنبھال رکھی ہے ۔تینوں امیدواروں کی کمپین کو تیزی دیں گے ۔پچھلی بار سابق وزیراعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے سونی پت سے اور دشینت سے حصار سے چناو¿ لڑا تھا اور دونوں کو ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔جن نائک پارٹی نے اس بار دشینت چوٹالہ کی جگہ پر حصار سے ممبر اسمبلی نینی چوٹالہ پر داو¿ کھیلا ہے ۔حالانکہ پہلے تیاری تھی دشینت کو ہی میدان میں اتارا جائے لیکن پارٹی کے عہدیداران کے استعفیٰ کے بعد تنظیم کو سنبھالنے کیلئے دشینت نے فیصلہ کیا کہ وہ ریاست بھر میں امیدواروں کیلئے کمپین کریں گے ۔ہریانہ میں لوک سبھا چناو¿ اور 2024 میں اس بار کئی سیٹ ہاٹ رہنے والی ہیں ۔لیکن سب سے دلچسپ مقابلہ حصار لوک سبھا سیٹ پر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔حصار لوک سبھا سیٹ پر ایک ہی خاندان کے تین ممبر چناو¿ لڑ رہے ہیں وہ بھی الگ الگ پارٹیوں کے نشان پر ۔حصار پارلیمانی حلقہ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے جب دیش کے سابق نائب وزیراعظم چودھیری دیوی لال کے خاندان کے تین افراد ایک ہی سیٹ پر آمنے سامنے ہیں ۔حصار لوک سبھا سیٹ پر بھاجپا نے سابق نائب وزیراعظم چوھری دیوی لال کے بڑے بیٹے رنجیت سنگھ چوٹالا کو اپنا امیدوار بنایا ہے وہیں جن نائک پارٹی نے نینا چوٹالا کو میدان میں اتارا ہے ۔نینا جے جے پی صدر ابھے سنگھ چوٹالا کی بیوی ہیں جو دیوی لال کے دوسرے بیٹے سابق وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالا کے بیٹے ہیں اسی طرح سے انڈین نیشنل لوک دل نے پارٹی کی ویمن ونگ کی جنرل سیکریٹری سنینا چوٹالا کو حصار سیٹ سے میدان میں اتارا ہے ۔سنینا روی چوٹالا کی بیوی ہیں ۔روی چوٹالا چودھری دیوی لال کے سب سے چھوٹے بیٹے سورگیہ پرتاپ سنگھ چوٹالا کے بیٹے ہیں ۔اس طرح سے صاف ہے کہ حصار لوک سبھا سیٹ پر سیاسی حالات ایسے ہیں کہ دو بہوو¿ں اور ایک سسر کے درمیان لڑائی لوگوں کو دیکھنے کو مل رہی ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ سبھی تین امیدوار چودھری دیوی لال خاندان سے ہیں ۔چودھری دیوی لال کے خاندان کی بات کریں تو ایک چوتھا چوٹالا پریوار کا ممبرابھے سنگھ چوٹالا فرزند اوم پرکاش چوٹالا کرکچھیتر لوک سبھا سیٹ سے چناو¿ میدان میں ہے۔بہر حال ہریانہ میں دیوی لال پریوار کے افراد میں دلچسپ مقابلہ ہونے جا رہا ہے ۔اس پر سبھی نے نظریں بنائے رکھی ہیں ۔
(انل نریندر)
بھاجپا کی ناقابل تسخیر ریاست گجرات !
آئے گا تو مودی ہی ،کانگریس ختم ہو چکی ہے ۔بھاجپا کلین سوئپ کرے گی یہ وہ الفاظ ہیں جو گجرات کی ہر ایک لوک سبھا سیٹ پر ہر دوسرا یا تیسرا ووٹر دہراتا ہے لیکن بھاجپا انہی الفاظ سے پریشان ہے ۔بھاجپا کا ڈر یہ ہے کہ کہیں یہ اکڑ کسوٹی ووٹر انتہائی بھروسہ مند ووٹ ڈالنے گیا تو اگرگجرات میں 6 سے 7 فیصد ووٹنگ کم ہوتی ہے تو بھاجپا کو 3 سے 4 سیٹوں پر نقصان ہو سکتا ہے ۔پچھلے گزرے 2 چناو¿ میں بھاجپا کو کانگریس سے 26 سے 30 فیصد زیادہ ووٹ ملے تھے ۔بھاجپا کیلئے نا قابل تسخیرمیں بھی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پلس پوائنٹ بنے ہوئے ہیں ۔مودی کی گارنٹی لفظ پر ووٹر بھروسہ کرنے کو تیار ہیں ۔ایودھیا رام مندر آرٹیکل 370 کا خاتمہ ،سرجیکل اسٹرائک اور اکنومکل گروتھ ،چین پاکستان پر دباو¿ ترقی یافتہ بھارت ہندوتو کا اتحاد جیسے اشو بھاجپا کا سب سے بڑے ٹانک بنے ہوئے ہیں حالانکہ کچھ مائنس پوائنٹ بھی ہیں ۔مقامی لیڈران کو بھرشٹاچار ، گھمنڈ و بیان بازی نگیٹو پوائنٹ ہیں ۔ٹکٹوں میں من مانی سے ورکر ناراض ہیں ۔روپالا کو راج کورٹ ،بھاونگر کے مانڈویہ کو پوروندر اور موربی کے منرو رہاروں کو سریندر نگر سے ٹکٹ دینے پر مقامی ورکر ناراض چل رہے ہیں ۔دیش بھر کی سیاست میں اچانک سرخیوں میں آئے گجرات کے علاقائی چناو¿ کی نئی عبارت لکھنے کا دعویٰ کررہے ہیں خود کو مضبوط ہندو سمجھنے والے علاقائی ہندوتو کی لے پر چلنے والی بھاجپا سے بیر لینے میں ہندوتو پر کالے نہیں بلکہ بھگوا جھنڈے کا استعمال کررہے ہیں ۔یہ اپنے آپ میں پہلا اور انوکھا ہے ۔سیاست دولفظوں سے بدل سکتی ہے ۔برٹیشرس کے سامنے راجہ ،مہاراجہ بھی جھک گئے ۔روٹی ،بیٹی تک کا برتاو¿ کیا ۔مرکزی وزیر اور راج کورٹ سے بھاجپا کے لوک سبھا امیدوار پرشوتم روپالا کو انہی دو لفظوں سے سیاست کے راجپوت اینگل میں زلزلہ لا دیا ہے ۔ہوا یوں کہ پچھلے مہینے روپالا دلت سماج کے ایک شخص کے یہاں کسی کی موت پر تعزیت کرنے کیلئے گئے تھے وہ دلتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگے کہ آپ لوگ کبھی جھکے نہیں آپ کے سبب ہی سناتن دھرم ٹکا ہوا ہے ورنہ راجیہ مہاراجاو¿ں نے اپنی بیٹیوں کی شادی انگریزوں سے کر ڈالی ۔روپالا کے بیان پر چھتریہ سماج ناراض ہو گیا اور انہوں نے بھاجپا سے روپالا کاٹکٹ واپس لینے کی مانگ کی ۔احتجاج میں ریلیاں ہونے لگی جگہ جگہ سریندر نگر ،بھاو¿ نگر اور ایسی ہی کچھ 5-6 جگہوں پر چھتریہ سماج کا اکٹھا ہونا ۔راج کوٹ میں ریلی ہوئی تو 3 لاکھ لوگ شامل ہوئے اس میں تیس ہزار تو صرف عورتیں تھیں ۔خاص یہ تھی کہ اس ریلی کیلئے نہ کسی کو بلایا گیا اور نہ ہی بس گاڑیاں بک ہوئیں لوک خود ہی یہاں پہونچے ان کا بیر نہ بھاجپا سے نہ مودی سے ۔ان کی مانگ تھی کہ روپالا سے ٹکٹ واپس لو بھاجپا ہائی کمان اس احتجاج کا ڈیمج کنٹرول کرنے میں لگا ہوا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنا ڈیمج کنٹرول کر پاتا ہے ۔چھتریہ تنازعہ سے کانگریس کو کتنا نفع نقصان ہوگا اس سوال پر کانگریس خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔
(انل نریندر)
02 مئی 2024
کیا پھر راجستھان میں لگے گی ہیٹ ٹرک !
پچھلے چناو¿ کے مقابلے کم ووٹنگ ، کسان اور جاٹوں کی ناراضگی دل بدلی کے سبب اس بار راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 25 کی ہیٹ ٹرک بننے کی راہ مشکل نظر آرہی ہے ۔اس بار 2019 جیسی مودی لہر نہیں دکھائی پڑتی موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف لوگوں میں غصہ ہے ۔چورو ،ناگور اور جھنجھنو و سیکر ،دوسہ ،کوٹا ،جودھپور،باڑھمیڑ ،جھالور اور بانسوڑہ لوک سبھا سیٹوں پر اپوزیشن امیدواروں نے بھاجپا امیدواروں سے مضبوط ٹکر نظر آرہی ہے ۔پچھلے دو بار سے راجستھان کی جنتا نے بھاجپا کی جھولی میں 25 میں سے 25 سیٹیں ڈالی تھیں ۔وزیراعظم نریندر مودی کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔لیکن اس بار پوزیشن اتنی آسان نہیں نظر آتی ۔راجستھان میں پہلے مرحلے میں 12 ،دوسرے مرحلے میں 13 لوک سبھا سیٹوں کی پولنگ کے وقت بھاجپا نیتاو¿ں نے آپس میں لگی نمبر پر غور کیا ۔26 اپریل کو پولنگ کے دن صبح سے ہی بھاجپا کے بڑے لیڈر جے پور میں پارٹی کے دفتر میں پولنگ اور ہر ایک سیٹ کی باریلی سے تجزیہ کررہے تھے کیوںکہ اس بار بھاجپا نیتاو¿ں کو اشارے مل رہے تھے کہ کانگریس کا گراف بڑھ رہا ہے اور کچھ مسئلوں پر جنتا بھاجپا کے خلاف ووٹ ڈال سکتی ہے ۔اس بار بھاجپا نے پردیش کے 7 ممبران پارلیمنٹ کے ٹکٹ کاٹے تھے اور تین ایم پی نے اسمبلی چناو¿ لڑا ۔اس میں راجیہ وردھن سنگھ راٹھور ،اور مہارانی دیا کماری ،کو نائب وزیراعلیٰ بنایا گیا ۔جبکہ یوگی بالک ناتھ کو کچھ نہیں ملا ۔جبکہ ان کا نام وزیراعلیٰ کے عہدے کے لئے چل رہا تھا ۔ٹکٹ کٹنے کے سبب کچھ نیتاو¿ں نے پارٹی چھوڑ دی تھی تاکہ کچھ ناکام ہو کر گھر بیٹھ گئے ۔پردیش کے چناو¿ میں اگنی ویر ،کسانوں کی ناراضگی ،جاٹ راجپوت کی ناراجگی بھی چناوی اشو بنے ۔پہلے مرحلے میں زیادہ کم ووٹنگ ہوئی ہے ۔اس مرحلے میں نقصان کا اندیشہ بڑھنے پر بھاجپا نے دوسرے مرحلے میں زور لگایا اور جم کر ووٹنگ بڑھائی ۔ووٹنگ تو بڑھی ہے لیکن ان حلقوں میں زیادہ ووٹنگ ہوئی جہاں ایم پی کے خلاف ناراضگی تھی ۔شروع سے بھاجپا کے باغی ایم پی راہل کانسوا نے کانگریس سے چناو¿ لڑا تھا ۔بھاجپا نے ان کے خلاف پیرا اولمپک گولڈ میڈل ونر دیوندر جھاجریا کو ٹکٹ دے دیا تھا اس سے کانگریس بڑی امیدلگائے ہوئے ہے ۔ناگور سیٹ پر اس بار بھاجپا نے ہنومان وینی وال سے اتحاد کرنے کے بجائے کانگریس سے آئی جوتی مردھا کو ٹکٹ دے دیا حالانکہ یہاں مردھا خاندان کی بالادستی ہے لیکن وینی بال نے کانگریس کی حمایت کی ہے اور یہاں کسانوں نے سرکار کے خلاف خوب مظاہرہ کیا تھا ۔2019 میں وینی بال نے بھاجپا کی حمایت سے کانگریس کی جوتی مردھا کو ہرایا تھا اور اب وینی بال کی پارٹی راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کانگریس کے ساتھ مل کر چناو¿ لڑ رہی ہے ۔جوتی مردھا بھاجپا کی طرف سے چناو¿ میدان میں ہے ۔راجستھان کے موجودہ ماھول کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ بھاجپا ریاست میں ہیٹ ٹرک لگانے جا رہی ہے ۔
(انل نریندر)
تیسرا مرحلہ بھاجپا کیلئے بڑی چنوتی !
دوسرے مرحلے کاچناو¿ ختم ہونے کے بعد بھاجپا کیلئے تیسرا مرحلہ بھاجپا کیلئے بے حد اہم ہے ۔اسی مرحلے میں بھاجپا نے 2019 کے عام چناو¿ میں سب سے زیادہ 75 سیٹیں جیتی تھیں ۔بہار میں پرانا این ڈی اے دوبارہ سے متحدہو گیا ہے لیکن مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کے الگ ہونے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔تیسرے مرحلے میں بارہ ریاستوں کی 94 سیٹوں کیلئے سات مئی کو ووٹ پڑیں گے اس مرحلے میں 2019 میں ہوئے چناو¿ بھاجپا کو 70 اور این ڈی اے کو 78 سیٹیں ملی تھیں ۔اب تک دو مرحلوں مین ہوئے چناو¿ میں 199 پارلیمانی سیٹوں پر پولنگ ہو چکی ہے ۔اس میں 2019 میں بھاجپا کو 40 سیٹیںملی تھیں دوسرے مرحلے میں 88 سیٹوں کیلئے چنا و¿ ہوا تھا جس میں بھاجپا کی جھولی میں 62 سیٹیں گئی تھیں ۔اب 7 مئی کو ہونے والے تیسرے مرحلے میں 12 ریاستوں و مرکزی حکمراں ریاستوں کی 94 سیٹوں پر پولنگ ہوگی ۔تیسرے مرحلے میں 12 ریاستوں اس میں آسام کی 4 ، بہار کی 5 ،چھتیس گڑھ کی 7 ، گوا کی 2 ۔گجرات کی سبھی 26 ،کرناٹک کی 14 ، ایم پی کی 8 ،مہاراشٹر کی 11 ،اتر پردیش کی 10 ،مغربی بنگال کی 4 ، دادرا نگر ہویلی اور دمندیپ اور جموں وکشمیر کی اننت ناگ راجوری سیٹ پر چناو¿ ہوں گے ۔بھاجپا نے آسام کی 4 میں سے ایک گوہاٹی سیٹ جیتی تھی ۔بہار میں پانچ میں سے بھاجپا کو ایک سیٹ ملی تھی لیکن باقی 4 سیٹیں این ڈی اے میں شامل جے ڈی یو اور ایل جے پی کو ملی تھیں ۔چھتیس گرھ میں سات میں 6 سیٹیں بھاجپا نے جیتی تھیں ۔گوا کی 2 میں سے 1 سیٹ بھاجپا کی جھولی میں گئی تھی ۔سب سے بڑا حصہ بھاجپا کو گجرات سے ملا تھا ۔وہاں 26 میں سے 26 سیٹیں بھاجپا کو ملی تھیں ۔کرناٹک کی 14 سیٹوں کیلئے چناو¿ ہوگا جس میں سے 11 سیٹیں بھاجپا کے پاس ہیں ۔مدھیہ پردیش کی 9 میں سے 9 سیٹیں بھاجپا نے جیتی تھیں جبکہ مہاراشٹر کی 11 میں سے 5 سیٹیں بھاجپا کو ملی تھیں ۔شیو سینا نے 4 سیٹیں جیتی تھیں ۔اس بار شیو سینا الگ ہے ایکناتھ شندھے گروپ بھاجپا کے ساتھ ہے اس گروپ کا سخت امتحان ہونا ہے ۔اتر پردیش کی 10 لو ک سبھا سیٹوں کیلئے چناو¿ ہونا ہے اس میں سے بھاجپا کے پاس 8 سیٹیں اور سماج وادی کے پاس 2 سیٹیں ہیں ۔تیسرے مرحلے میں مغربی بنگال کی 4 سیٹوں پر چناو¿ ہے جس میں سے بھاجپا کو 1 سیٹ بھی نہیں ملی تھی ۔تیسرے مرحلے میں بھاجپا کے پاس اتر پردیش ،آسام ،مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں سیٹیں بڑھانے کا موقع ہے ۔باقی ریاستوں میں بھاجپا کی سیٹیں کم ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے ۔بھاجپا کی کوشش ہے کہ اگر سیٹیں نہ بڑھیں تو کم بھی نہ ہونی چاہئیں ۔اس لئے پارٹی نے چناو¿ مہم کو پولرائزیشن کی طرف موڑ دیا ہے ۔تیسرے مرحلے تک دیش کی 543 سیٹوں میں سے 284 سیٹوں پر چناو¿ ہو چکے ہوں گے ۔پچھلے چناو¿ کے اعداد شمار کے مطابق بھاجپا اب تک ہوئی کل سیٹوں پر ہوئے چناو¿ میں سے پچھلی مرتبہ 162 سیٹیں جیتی تھی ۔اس میں این ڈی اے کی 10 سیٹیں جڑ جائیں تو 172 ہو جاتی ہیں ۔اب کی بار 400 پار کا نشانہ حاصل کرنے کیلئے بھاجپا کو باقی 254 سیٹوںمیں سے زیادہ سیٹیں جیتنی ہوں گی ۔اور یہ بہت بڑی چنوتی ہے ۔
(انل نریندر)
30 اپریل 2024
مودی کے بیان پر بین الاقوامی میڈیا !
حکمراں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کیلئے اپنا پورا دم خم لگا رہی ہے تو وہیں انڈیا اتحاد بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے ایسے میں نیتاو¿ں کی تقریر اور ان کے دعوے اور دوسری پارٹیوں کے نیتاو¿ں کو لیکر دئیے بیان ہر روز اخبارات کی سرخیاں بن رہے ہیں لیکن پہلے مرحلے کی پولنگ کے بعد اب وزیراعظم کا دیا ایک بیان خاص طور سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ہندوستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اسے اپنے صفحات پر جگہ دی ہے۔استعمال کئے گئے کچھ خاص لفظوں کے سبب یہ تقریر چناو¿ کمیشن میںپی ایم مودی کی شکایت کا سبب بنی ہے ۔19 اپریل کو پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہوئی اس کے بعد 21 اپریل کو راجستھان کے بانسواڑہ میں چناو¿ ریلی میں دی گئی تقریر میں پی ایم مودی نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا اور مسلمانوں پر رائے زنی کی ۔پی ایم مودی نے اپنی تقریر میں فرقہ خاص کو درانداز اور زیادہ بچے پیدا کرنے والا جیسی باتیں کہیں اپنی تقریر میں مودی نے کہا تھا کہ جب پہلے ان کی سرکار تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ دیش کی املاک پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے اس کا مطلب یہ پراپرٹی اکھٹا کرکے اس کوبانٹیں گے جن کے زیادہ بچے ہیں ۔ان کو بانٹیں گے گھسپیٹھیوں کو بانٹیں گے کیا آپ کو یہ منظور ہے ۔حالانکہ پی ایم مودی نے منموہن سنگھ کے جس 18 سالہ پرانی تقریرکا ذکر کیا ہے اس میں منموہن سنگھ نے ایسا کچھ نہیں کا تھا سال 2006 میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ درج فہرست ذاتوں ،قبائلیوں کو نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے انہیں نئی اسکیمیں لاکر یہ یقینی کرنا ہوگا کہ اقلیتوں کا خاص کر مسلمانون کی بھی بھلائی ہو سکے ۔وکاس کا فائدہ انہیں مل سکے ۔ان سبھی کا وسائل پر پہلا دعویٰ ہونا چاہیے ۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 22 اپریل کو اسے لیکر مودی پر چناوی ریلی میں مسلمانوں کے خلاف نفرتی تقریر کرنے کے الزام کے عنوان سے رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے ۔اس میں اس نے لکھا ہے کہ بانسواڑہ میں دی گئی تقریر کے بعد 22 اپریل کو اتر پردیش کے علی گڑھ میں مودی نے اسی طرح کا ایک اور تقریر کی ۔اس رپورٹ میں بھارت کی شہریت قانون کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔لکھا گیا ہے کہ اس قانون کی یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ اس میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو دیش کے سیکولرزم کے اصولوں سے الگ ہے ۔ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ بھارت کی آبادی 1.44 ارب ہے اور مودی کی بی جے پی کی تنقید مسلمان فرقہ کو باہر سے آئے غیر ملکیوں کی شکل میں دیکھنے کے لئے ہوتی رہی ہے ۔تنقید نگار کہتے ہیں کہ مودی کے تبصرے کی بنیاد تقسیم کاری ہندو راشٹر واد ہے ۔جس کے تار حکمراں بی جے پی سے جڑتے ہیں ۔نیویارک ٹائمس نے اس پر 23 اپریل کو اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مودی نے بھارت کے مسلمانوں کو گھس پیٹھیا کیوں کہا کیوں کہ وہ ایسا کر سکتے تھے ۔نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ اپنے اقتدار کو محفوظ مان کر پی ایم مودی اقتصادی اور سفارتی سطح پر دیش کی ترقی کو لیکر ورلڈ لیڈر کے طور پر خود کو پیش کررہے تھے ایسا کرکے وہ پارٹی کی رائج تقسیم کاری رویہ سے خود کو الگ رکھے ہوئے تھے ۔اس طرح کے معاملوں میں ان کی خاموشی تھی اس درمیان کٹر پسند نظریہ والے غیر ہندو فروقوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور ان کی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ میں نسلی اور نفرتی الفاظ کا استعمال کررہے تھے ۔ایک اور اخبار الجزیرہ نے لکھا ہے کہ مقامی چناو¿ حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں مودی کی تقریر سے جڑی شکایتیں ملی ہیں جن کی وہ جانچ کررہے ہیں ۔
(انل نریندر)
قنوج میں اکھلیش نے قبول کر لی چنوتی!
آخر قنوج سے اکھلیش یادو خود ہی میدان مین اتر آئے ہیں ۔پہلے وہ یہاں سے اپنے بھتیجے اور لالو پرساد یادو کے داماد تیج پرتاپ یادو کو چناو¿ لڑانا چاہتے تھے مگر بھاجپا نے جب طنز کسا کہ اکھلیش یادو ہار کے ڈر سے بھاگ رہے ہیں تو انہوں نے چنوتی قبول کر لی ۔چناو¿ میں یادو خاندان کے اب کل پانچ امیدوار ہیں ۔بدایوں سے آدتیہ یادو ،مین پوری سے ڈمپل یادو ،فیروز آباد سے اکشے یادو، اعظم گڑھ سے دھرمیندر یادو اور خود اکھلیش یادو قنوج سے چناو¿ لڑرہے ہیں ۔قنوج اکھلیش کیلئے نئی سیٹ نہیں ہے ۔وہ 2000 میں ہوئے چناو¿ میں ہوئے ضمنی چناو¿ میں پہلی بار یہاں سے کامیاب ہوئے تھے پھر 2004 اور 2009 میں بھی جیتے لیکن 2012 میں وزیراعلیٰ بنے تو استعفیٰ دینا پڑا۔ضمنی چناو¿ میں ان کی بیوی ڈمپل یادو بلا مقابلہ جیت گئیں ۔پھر 2014 میں بھی یہاں سے ڈمپل جیتی انہوں نے بھاجپا کے سبرت پاٹھک کو ہرایا لیکن 2019 میں سبرت پاٹھک نے تقریباً 13 ہزار ووٹ سے ڈمپل یادو کو ہرا کر اپنی ہار کا بدلہ لے لیا ۔ظاہر ہے 2024 لوک سبھا چناو¿ میں مقابلہ اکھلیش اور سبرت کے درمیان ہوگا ۔سبرت کو اکھلیش یادو 2009 میں ہرا چکے ہیں ۔سماج وادی کے صدر اکھلیش یادو جمعرات کو قنوج پارلیمانی سیٹ سے اپنے کاغذات داخل کرنے کے بعد جوش میں نظر آئے انہوں نے کہا سماج وادی پارٹی چناوی میچ میں پہلی گیند پر چھکا مار کر بھاجپا کی منفی سیاست ختم کریں گے ۔وزیراعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر اکھلیش یادو نے کہا کہ وہ من کی بات نہیں من مرضی کرتے ہیں ۔سرحد پر دراندازی کرنے کے ساتھ چین بڑھتا چلا آرہا ہے ۔یہ بس ہندوستان ،پاکستان کی باتیں کررہے ہیں انہوں نے کہا سماج وادی رکی ترقی کو شروع کرائیں گے ۔اب بھاجپا اور ان کے امیدوار کی زبان بدلی ہے ۔جو پردیش میں سپا کے حق میں رجحان کے اشارے ہیں ۔دیر سے خود کے نام کا اعلان پر بولے کہ کہاوت ہے کہ ہتھوڑا تب مارو جب لوہا گرم ہو جائے ہم نے وہی کیا ہے ۔اکھلیش نے کہا قنوج کی پہچان خوشبو ،محبت اور پریم سے ہے جسے وہ بہائیں گے ۔لوگوں کے سمان کی تاریخ کو بڑھا کر آگے لے جائیں گے یہاں کا وکاس بھاجپا نے روکا کیوں کہ وہ کام سماج وادیوں کے تھے ۔بھاجپا نے بے عزت کیا ہے ،لوہیا و بابا صاحب کے اصولوں کو ماننے والے اس کا بدلہ لیں گے ۔قنوج تو سماج وادیوں کا گڑھ اور اپنا گھر بتاتے ہوئے سپا سرکار و ایم پی رہنے کے وقت وکاس کام بھی گنائے ۔اکھلیش یادو نے سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ذریعے شرو ع کئے گئے سولر اینرجی پلانٹ کو بند کرائے جانے کا الزام بھاجپا پر منڈنے کیساتھ کہا کہ قنوج صدر میں اسٹیڈیم اب تک نہیں بنا انہوں نے کہا کہ انہوں نے میڈیکل پیرا میڈیکل ونرسنگ کالج بنایا ۔کینسر سے لیکر ہر مرض کے علاج کا انتظام کیا لیکن موجودہ سرکار رکھ رکھاو¿ کے بجائے اس کا نام بدلنے میں مصروف ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...