Translater

19 جنوری 2013

دامنی کی قربانی بیکار نہیں تھی آہستہ آہستہ تبدیلی آنے لگی ہے

6 دسمبر کی رات کو وسنت وہار علاقے میں بدقسمت دامنی عرف انامیکا کی قربانی ضائع نہیں جانے دی جائے گی یہ تصوران ہندوستانیوں نے اسی دن کر لیا تھا۔ ایک مہینے سے زیادہ کا وقت ہوچکا ہے۔ کڑاکے کی سردی میں، بارش میں، اولوں میں آج بھی جنترمنتر پر انصاف کے لئے لو جل رہی ہے۔ پورا دیش ان بہادر لڑکوں کو سلام کرتا ہے۔ انہوں نے پولیس کے ڈنڈے کھائے، پانی کی بوچھاریں جھیلیں لیکن ان کا حوصلہ نہیں گرا۔ مظاہرین کی تعداد بیشک کم ہوگئی ہے لیکن ایک مہینے بعد بھی ان کا حوصلہ بلند ہے۔ جنترمنتر پر22 دسمبر سے مسلسل مظاہرہ کررہے لڑکوں کا کہنا ہے کہ ہمارے اندر اتنی ناراضگی ہے جب تک سسٹم نہیں بدلتا ہماری تحریک جاری رہے گی۔ طالبعلم سدھانشو نے بتایا کہ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے لیکن متاثرہ کا درد اور پولیس کی ذیاتی ہمیں یہاں کھینچ لاتی ہے۔ جب تک قانون نہیں بنے گا ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ پچھلے ایک مہینے میں جو تبدیلی آئی ہے وہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔ راجدھانی میں 5 فاسٹ ٹریک عدالتیں بن چکی ہیں۔ ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے تو دو برس پہلے تین سال کی بچی سے بدفعلی اور اس کے قتل کے معاملے کو محض 10 دنوں میں ہی نپٹا کر قصوروار شخص 60 سالہ بھرت سنگھ کو پھانسی کی سزا بھی سنا دی ہے۔ ہم جج وجیندر صاحب کو یہ بدھائی دینا چاہتے ہیں۔ اب پولیس شکایت ملنے پر فوراً ایف آئی آر درج کرنے لگی ہے ۔ عورتوں سے ہوئی کسی بھی ناخوشگوار واردات کی جانکاری سینئر پولیس افسروں کو دیں۔ سبھی180 پولیس تھانوں میں چوبیس گھنٹے مہلا ڈیکس بنادیا گیا ہے۔ دو خاتون پولیس ملازم تعینات کردی گئی ہیں۔ پولیس ڈپٹی کمشنر سطح کے افسران کو دیر رات سڑکوں پر گشت کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ راجدھانی کے ہر حصے میں بیریگیڈ لگاکر گاڑیوں کی جانچ کے احکامات دئے گئے ہیں۔سرحدی تنازعے کو لیکر جھگڑنے والے پولیس ملازم ،خاص کر پی سی آر وین کو سخت ہدایات ہیں۔ اسکول ،کالجوں اور اسٹینڈ پر سادی وردی میں پولیس ملازمین کی تعیناتی کا حکم ہے۔ کالی شیشے لگا کر گاڑی چلا رہے ڈرائیوروں پر دہلی پولیس سخت کارروائی کرتی نظر آئی۔ ایک اچھی تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ سبھی سرکاری ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ اور وہاں کے ڈاکٹروں کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کے پہلے متاثرہ لڑکی کا علاج کیا جانا چاہئے اور بعد میں کاغذی کارروائی پر زوردیا جائے اور متاثرہ لڑکیوں کی تکلیف سننے کے لئے مناسب سسٹم بنانے اور قصورواروں کو جلد سے جلد سزا دلانے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کے لئے ایک ہیلپ لائن سروس شروع کی گئی ہے اسے سیدھے وزیر اعلی کے دفتر سے جوڑا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکی سیدھے وزیر اعلی سے فریاد کرسکتی ہے۔ دیر رات چلنے والی بسوں کی تعدا بڑھانے کے ساتھ ان میں ہوم گارڈ کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔ آٹو اور ٹیکسی ٹیمپوں کی منمانی پر لگام لگانے کے لئے ٹریفک پولیس نے سخت کارروائی شروع کی ہے۔ جنتا کی ذہنیت بدلنے میں وقت لگے گا بیشک انتظامی قدم اٹھائے گئے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہوئے لیکن پھر بھی اس سمت میں صحیح قدم ہیں۔ یہ سب دامنی کی قربانی کی وجہ سے اور جنترمنتر جیسے دھرنوں کی جگہوں پر پورے دیش سے آئے لوگوں کی ناراضگی کے سبب ممکن ہوا ہے۔ بلاتاخیر ابھی راستہ لمبا ہے ڈٹے رہو۔
(انل نریندر)

ہر خاص و عام کیا پولیس سکیورٹی کا حقدار ہے؟

ویسے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہئے تھی لیکن جب سرکار انتظامیہ لاپرواہ ہوجائے تو پبلک سیفٹی کے لئے عزت مآب عدالت کو پوچھنا ہی پڑا کے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سمیت تمام ایسے اشخاص کو بھی پولیس سکیورٹی کیوں دی جارہی ہے جن کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے؟ جسٹس جی ایس سنگھوی کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے کہا کہ آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں یا ایسے اشخاص کو جن کی زندگی کو خطرہ ہو، پولیس سکیورٹی فراہم کی جانی چاہئے۔ ججوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ ، نائب صدر، وزیر اعظم، لوک سبھا اسپیکر، چیف جسٹس اور آئینی عہدوں پر فائض افراد اور ریاستوں میں ایسے ہی ہم منصب عہدوں پر فائض افراد کو سکیورٹی دی جاسکتی ہے لیکن ہر عام و خاص شخص کو لال بتی کی گاڑی اور سکیورٹی کیوں؟ صورتحال یہ ہے کہ مکھیا اور سرپنچ بھی لال بتی کی گاڑی لیکر گھوم رہے ہیں۔ جج صاحبان نے ریاستوں میں لال بتی کی گاڑیوں کے بیجا استعمال کو لیکر دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ احکامات دئے۔ ججوں نے کہا آخر سرکار اس سسٹم کو ختم کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرکے یہ واضح کیوں نہیں کرتی کے لال بتی کون استعمال کرسکتا ہے؟ دہلی پولیس جمعرات کو اس وقت سپریم کورٹ میں ہنسی کا موضوع بن گئی جب اس نے دلیل دی کے سرکار میں بڑے عہدوں پر فائض افراد کو واضح خطرے کے کارن نہیں بلکہ نڈر اور آزاد ہوکر فیصلہ کرنے کی سہولت دینے کے لئے دی جاتی ہے۔ دہلی پولیس نے عدالت میں داخل 8 صفحات کے حلف نامے میں یہ بات کہی۔ پولیس کی اس بے تکی دلیل پر جج صاحبان نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کے سکیورٹی کے سبب ہمارے فیصلے کیسے نڈر ہوسکتے ہیں؟ کیا یہ افسر کی سمجھ کا پیمانہ ہے؟ یہ یقینی ہی آئی پی ایس افسر ہوگا اور اس نے آئی پی سی اور سی آر پی سی کی دفعہ کے بارے میں پڑھا ہوگا۔ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں اس لئے دخل دینا پڑا کیونکہ مرکز اور ریاستی حکومتیں سلامتی وجوہات سے کم اور سیاسی اسباب سے زیادہ منمانی کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ ممبران اور ممبران اسمبلی کو تو چھوڑئیے اثردار لیڈروں یہاں تک بیڈ کریکٹر لوگوں تک کو سکیورٹی ملی ہوئی ہے۔ دراصل آج یہ ایک طرح کا اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ میں نے تو ایسے بھی نظارے دیکھیں گے کے سائیکل نیتاچلا رہا ہے اور اس کے پیچھے بندوق دھاری پولیس والا بیٹھا ہے اور یہ سب عام جنتا کی سلامتی کی قیمت پر ہورہا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں نیتاؤں کو ایسی سکیورٹی دی جاتی ہے؟ اس سے انکار نہیں کے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو سکیورٹی ملنی چاہئے لیکن یہ کام عام آدمی کی سلامتی کی قیمت پر بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اگر سرپنچ سے لیکر پردھان منتری تک سبھی اہم عہدے والے لوگ خود اپنے آپ کو انتہائی اہم ماننے لگیں گے اور اس ناطے سرکاری سکیورٹی چاہئیں گے تو عام آدمی کی سکیورٹی کا بیڑا غرق ہونا طے ہے۔ چاہئے تو یہ ہے کہ مرکز اور ریاستی سرکاریں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالوں پر سنجیدگی سے غور کریں اور انتہائی اہم شخص کون ہے اس کی تشریح کریں اورخطرے کی نویت یا اس کے حالات کے حساب سے سکیورٹی دیں۔ 
(انل نریندر)

18 جنوری 2013

پاکستان میں مولاناقادری ، عدلیہ اور پاک فوج کی اصل نیت کیا ہے؟

پاکستان کے اندرونی حالات اور تجزیئے اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ سمجھنا مشکل ہورہا ہے۔ اس پڑوسی دیش میں آخر ہوکیا رہا ہے؟ ایک طرف بھارت سے ہندوستانی جوانوں کے سر قلم کرنے کے واقعے کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی بنی ہوئی ہے اورمستقبل کو لیکر تشویش پائی جاتی ہے۔ وہیں راتوں رات پاکستان کی سیاست میں ایک مولوی کا قومی منظر پر آنا اور ایک معمول کی طرح پورے دیش کو ہلا دینا، رہی سہی کثر پاکستان کی سپریم کورٹ نے پوری کردی ہے۔ اب تو یہ سوال پوچھا جارہا ہے کیا پاکستان میں اسی طرح کا انقلاب آئے گا جیسے عرب ممالک آیا ہے؟ پاکستان کیا ’عرب بسنت ‘کا نیاپتہ ہے؟ منگلوار کو راجدھانی اسلام آباد میں صوفی اور مذہبی پیشواؤں نے مذہبی لیڈر طاہرالقادری کی قیادت میں سرکار کے استعفے کی مانگ کو لیکر زبردست مظاہرہ کیا۔
پاکستان کی سڑکوں پر ایک انقلابی ماحول دیکھنے کو ملا۔ راتوں رات کینیڈا سے 8 سال بعد آئے مولانا طاہرالقادری کے پیچھے لاکھوں پاکستانی کیسے لگ گئے، یہ اپنے آپ میں ایک معمہ کا موضوع ہے۔ یہ مولانا جو آیت اللہ خمینی کی یاد دلاتے ہیں پچھلے 8 سالوں سے کینیڈا میں تھے۔ پڑھے لکھے ،دانشور دنوں سنی۔ شیعہ اپیل کرنے والے یہ مولانا کس مقصد سے پاکستان آئے، کیا گل کھلائیں گے ؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال انہیں ایسے وقت عوامی حمایت مل رہی ہے جب پاکستان کی عدلیہ اور چنی ہوئی سرکار کا ٹکراؤ سرحد پر ہے۔ ٹھیک اسی وقت پاکستان سپریم کورٹ نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی 24 گھنٹے کے اندر گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ اشرف انٹیل پاور پروجیکٹ میں کروڑوں روپے کے بنیادی ملزم ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کئی سابق وزرا اور پاور پروجیکٹ س جڑے افسران کی بھی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔دلچسپ یہ ہے کہ یا اسے محض اتفاق کہیں کے پاکستان میں یہ سب کچھ ہورہا ہے۔وہاں سڑکوں پر انقلابی ماحول ہے۔مولانا قادری کے اسلام آباد مارچ کو وہاں کی عوام کی بھاری حمایت مل رہی ہے۔ پاکستان کی بڑی عدالت جس طرح سے سخت تیور کے ساتھ قومی مفاد کی سرداری کو آگے رکھتے ہوئے قانون اور آئین کی مدد سے بڑے فیصلے لے رہی ہے اس میں مستقبل کے لئے تبدیلی کے بیج بونا ضروری ہے۔ پچھلے سال جون میں جب اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نااہل قراردیا گیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہوئے استعفیٰ دینا پڑا تھا، تبھی یہ لگ رہا تھا کہ پاکستان میں آئی یہ عدلیہ کی سرگرمی ملک میں تبدیلی کے لئے ہوا بنا رہی ہے۔ 
سپریم کورٹ کے وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کے حکم سے پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ میں چل رہی سرکار کے سامنے سیاسی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرے یا خلاف ورزی؟ اگر وہ تعمیل کرتی ہے تو 7 مہینے کے اندر دوسرا وزیر اعظم عدالت کی بلی چڑھے گا۔ پچھلے سال جون میں یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے دباؤ کے سبب عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس بار سپریم کورٹ ایک قدم اور آگے بڑھ گئی ہے اور عدالت نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے یہ حکم پہلے بھی دیا گیا تھا لیکن گیلانی نے یہ کہتے ہوئے منع کردیا تھا کہ آئینی طور پر صدر وزیر اعظم سے بڑا ہوتا ہے اس لئے وہ اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے مجاز نہیں ہے۔ آج زرداری سرکار کے خلاف پاکستانی عوام ، پاک فوج، پاک عدلیہ و مولانا قادری سبھی متحدہوگئے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں مولانا قادری کی ۔ وہ تحریک منہاج القرآن نامی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ وہ مقبول بریلوی فرقے کے پیشوا ہیں۔ اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری یافتہ قادری پاکستان اور کینیڈا کی دوہری شہریت لئے ہوئے۔ وہ 2005ء میں کینیڈا چلے گئے تھے ۔ اس سے پہلے وہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی کے ممبر تھے اور استعفیٰ دے گئے تھے۔ اب 7-8 سال بعد اچانک وہ پاکستان لوٹے اور راتوں رات عوامی لیڈر بن گئے؟ مولانا قادری کو اتنی عوامی حمایت کیسے مل رہی ہے؟ کیا جو باتیں یہ آج کررہے ہیں اسی پر آگے قائم رہیں گے یا ان کا کوئی پوشیدہ ایجنڈا ہے؟ درپردہ طور پر پاکستانی فوج اور عدلیہ دونوں نے قادری کی تعریف کی ہے۔ کیا یہ پاکستانی فوج کے پلانٹ کردہ ہیں یا پھر کسی غیر ملکی طاقت کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں؟ ہندوستانی سفارتی ماہرین کا خیال ہے پاکستان کے تازہ حالات دیش کو ایک بار پھر فوجی حکومت کی طرف لے جارہے ہیں
ڈاکٹر قادری کی پانچ اہم مانگیں ہیں۔ پہلی پارلیمنٹ اور چاروں اسمبلیوں کو فوراً بھنگ کیا جائے۔ دوسری کرپشن جڑ سے ختم ہونے تک چناؤں نہ ہوں۔ تیسرے چناؤ کمیشن کو بھی توڑدیا جائے۔ چوتھی پارٹیوں ا ور فوج سے صلاح لے کر عارضی سرکار بنے۔ پانچویں جمہوری تاناشاہی روکنے کے لئے نئے قواعد بنیں۔ ایک پاکستانی صحافی کا تجزیہ ہے قادری کا اسی وقت آندولن کرنے کے پیچھے مقصد ہے پاکستان میں چناؤ ٹلوانا اور انتم سرکار فوج کے حوالے کرنا۔ قادری سمجھتے ہیں یہ وقت اس لئے موزوں ہے کیونکہ سرکار کرپشن کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ خود صدر زرداری پر کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں۔ ویسے بھی پارلیمنٹ کی میعاد پوری ہونے والی ہے اور نئے چناؤ ہوں گے۔ ممکن ہے مئی ۔ جون میں ہونے والے عام چناؤ ٹل جائیں اور یہ بھی ممکن ہے فوج کی حمایت سے کام چلاؤ سرکار بن جائے۔ قادری اور بڑی طاقت بن کر ابھریں۔ بھارت کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ پاکستان میں عدم استحکام اب بھارت کے حق میں نہیں ہے۔ پاکستان میں عدم استحکام ہوگا تو وہاں بھارت مخالفت سرگرمیوں کو ہی بڑھاوا ملے گا۔ پاکستانی فوج بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ خطرہ یہ بھی ہے کہ اس عدم استحکام کا فائدہ کہیں یہ جہادی گروپ نہ اٹھا لے۔ پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ محفوظ ہاتھوں میں رہے یہ تشویش صرف بھارت کو ہی نہیں بلکہ امریکہ اور مغربی ملکوں کو بھی ہے۔ کل ملا کر آنے والے کچھ دن نہ صرف پاکستان کے لئے چیلنج بھرے ہیں بلکہ بھارت سمیت پوری دنیا کے لئے بھی ایک زبردست چیلنج ہیں۔
(انل نریندر)

17 جنوری 2013

پاکستان کے اکسانے کے پیچھے آخر اصل منشا کیا ہے؟

دراصل ہم تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کے پاکستان بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بڑھ رہی کشیدگی کو کم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ان کا کوئی بڑا گیم پلان ہے جس کا میندھر سیکٹر میں دو ہندوستانی فوجیوں کا سر قلم کرنا ایک حصہ ہے۔اگرایسا نہ ہوتا تو کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے کے لئے مشکل سے ہوئی فلیگ میٹنگ سے ٹھیک ایک دن پہلے جنگ بندی کی پھر سے خلاف ورزی نہ کرتا۔ یہ ہی نہیں بھارت نے پاکستان پر تازہ الزام لگایا ہے کے دونوں ملکوں کے درمیان برگیڈیئر سطح پر ہوئی فلیگ میٹنگ کے بعدسے اب تک وہ پانچ بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے لہٰذا پیر کو فلیگ میٹنگ کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ ہی نکلا یعنی کچھ بھی نہیں۔ کوئی 25 منٹ تک چلی میٹنگ میں دونوں فریقین اپنی اپنی بات رکھتے رہے لیکن اس میٹنگ میں ہندوستانی نمائندہ وفد نے پاکستانیوں کو بخشا نہیں اور ان کی للو چپو نہیں کی۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے بات کررہے برگیڈیئر ایم ایم سمترا نے پاکستان سے سیدھا پوچھا کے کیا بارڈر پر پاک فوج کی بجائے کوئی اور نگرانی کررہا ہے؟ ہندوستانی برگیڈیئر کے اس سوال کو سن کر پاکستانی افسر بغلیں جھانکنے لگے۔ برگیڈیر سمترا نے نے یہ سوال میندھر واقعہ میں پاکستانی فوج کے اپنے آپ کو بے قصور بتانے پر پوچھا تھا۔ ہندوستانی فوجیوں حکام نے اس معاملے میں اپنا سخت احتجاج درج کراتے ہوئے اعلانیہ طور پر کہا کہ فوجیوں کے سر کاٹنے جیسی کسی بربریت آمیز کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کو براہ راست وارننگ دے دی اور کہا کہ اس کی کرتوت معافی کے لائق نہیں۔ اگر مستقبل میں ایسی کوئی حرکت سامنے آئی تو بھارت صرف جوابی کارروائی ہی نہیں کرے گا بلکہ جارحانہ رویہ اپنائے گا۔ پاکستانی فوج سرحد پر بربریت میں اکثر آتنک وادیوں کا استعمال کرتی ہے۔ جنرل نے پیر کو صاف کیا کہ ہندوستانی فوج پاکستان کی حرکتوں و کرتوت کو اچھی طرح سمجھتی ہے اور مثبت کارروائی کی پالیسی میں اس پہل کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ 
جنرل سنگھ نے کہا پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں آتنک وادیوں کے کیمپ پوری طرح سے برقرار ہیں اور لشکر چیف حافظ سعید کی موجودگی کئی بات دیکھی گئی ہے۔ فلیگ میٹنگ میں بھی برگیڈیئر نے شہید ہیمراج کے سر کو پاکستان سے دینے کی مانگ کی تھی لیکن پاکستانی فوج خاموش رہی۔ پاکستانی نمائندوں نے بھارتیہ فوج کے سبھی دلائل کو سرے سے مسترد کردیا۔ الٹے بھارت پر ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور معاملے کی اقوام متحدہ سے جانچ کرانے کی مانگ کرڈالی۔ اس لئے اہم بتاتے ہیں کے اصل میں کیا ہوگیا ہماری ملٹری انٹیلی جنس بیورو کو۔ ملی اطلاعات کے مطابق پاکستان کی اسپیشل سروس گروپ جس میں 653 مجاہدین ریجمنٹ میں لشکر طیبہ اور تحریک طالبان کے آتنکیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔جیسے ہی امریکی فوج ہٹے گی طالبان آتنکیوں کو حافظ سعید بھارتیہ فوج کی چوکیوں پر تعینات کرے گا۔ یہ خلاصہ پاکستان کے فوجی افسروں اور لشکرکے چیف کے درمیان بات چیت میں ہوا ہے۔ ایم آئی بی نے اس بات چیت کو پکڑا ہے۔ بھارت نے اپنے تمام سفارتکاروں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ ڈپلومیٹک سطح پر پاکستان کا چہرہ بے نقاب کرے۔ ایسے میں بھارت نے نہ صرف امریکہ ،انگلینڈ اور یوروپ کے ممالک کے ساتھ ساتھ روس اور چین کو بھی آگاہ کیا ہے کہ ایشیائی برصغیر میں پاکستان ایک بار پھر شورش پھیلانا چاہتا ہے۔ جو ہوا وہ غیر انسانی تھا، بربریت کی علامت تھا لیکن ایک سوال ہم بھارتیہ فوج سے بھی پوچھنا چاہتے ہیں۔ بھارتیہ فوجیوں سے بھی میندھر سیکٹر میں 8 جنوری کو بھاری بھول ہوئی تھی۔گشت لگاتے وقت7 فوجیوں میں سے صرف 2 مارے گئے باقی فوجی کہاں پھنس گئے؟ انہوں نے جوابی کارروائی کیوں نہیں کی تھی؟ فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے مان لیا ہے کہ کنٹرول لائن پر گشت کے دوران ممکنہ طور پر تکنیکی بھول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر تعینات فوجیوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ چست اور حرکت میں رہیں۔ جنرل کے مطابق ایل او سی پر ان کے فوجیوں نے جو قدم اٹھایا وہ بہادری بھرا تھا اور انہیں اس پر فخرہے۔ بکرم سنگھ نے کہا یہ بھی ممکن ہے گشت لگاتے وقت فوجیوں نے غلط وقت پر جارحانہ رویہ اپنایا ہوگا اور پاکستانی فوج کو سر کاٹنے جیسی بربریت کا موقعہ مل گیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں ان کا جارحانہ ہونے کا فیصلہ غلط تھا۔ وہ ایک خاص حالت میں لیا گیا فیصلہ تھا۔ فوج اندرونی سطح پر اس کی جانچ کررہی ہے۔ اس پوری کارروائی میں خاص توجہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ فوجیوں کے حوصلے پر اس کا الٹا اثر نہ پڑے۔ جہاں تک بھارت سرکار کے رویئے کا سوال ہے فوج کے سربراہ اور ایئر فورس کے سربراہ نے جو وارننگ بھرے بیان دئے ہیں۔ 
یہ سرکار سے منظوری لینے کے بعد دئے ہوں گے لیکن اس سے آگے بڑھنے کے لئے سرکار کو لگتا ہے کہ وہ ابھی تیار نہیں ہے وہ فی الحال ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی صاف ہے وہ بات چیت کی رسمی ادائیگی میں بھارت کو مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے یہاں حالات اور فوج کے نظریئے کے پیش نظر نہیں لگتا کہ صحیح میں وہ کشیدگی میں کمی لانا چاہتا ہے یا کرنے کا خواہشمند ہے۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا پاکستان کے سکریٹری اور وزیر بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ یہ سب کرکے پاکستان نے 2012ء سال گزار دیا اور خود پر چل رہے دباؤ کو کم کرگیا۔ دراصل اس کی نیت پر ہر حال میں کشمیر مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی ہے۔ اس وقت اس پوزیشن میں بھی ہے ۔یہ تو ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم ان سب باتوں کا کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ صاف ہے پاکستان گھما پھرا کر کسی بھی طرح سے معاملے میں تیسرے فریق کی دخل اندازی چاہتا ہے یہ دوطرفہ معاملہ ہے بھارت سرکار نے صاف کردیا ہے وہ کسی بھی حالت میں اس معاملے کو عالمی رنگ نہیں لینے دے گا۔ پاکستانی فوجیوں کے سر کاٹنے کے واقعے کو لیکر دیش بھر میں فوج میں ناراضگی کا ماحول ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کے پاکستانی فوج نے یہ بربریت آمیز برتاؤ کیا ہے۔ پچھلے 13 سالوں میں ایسی تین وارداتیں ہوچکی ہیں۔ ان میں 4 فوجی اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ فوجی ہیڈ کوارٹر کے ذرائع کے مطابق سر کاٹنے کی پہلی واردات 2000 ء میں سامنے آئی تھی۔اس کے بعد 2012 ء میں ہوئی ایک واردات میں 2 فوجیوں کے ساتھ غیر انسانی حرکت کی گئی تھی۔ سارا دیش بھارتیہ ردعمل کا انتظار کررہا ہے۔
(انل نریندر)

16 جنوری 2013

صنعت کاروں نے تومودی کو اپنا مستقبل کا لیڈر مان لیا

اگر بھارت کی صنعتی دنیا کو ہندوستان کا اگلا وزیر اعظم چننا ہوتو ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو ہی دیش کا اگلا وزیر اعظم چنیں۔ جس طریقے سے بڑے صنعتکاروں نے نریندر مودی کی تعریف میں پل باندھے ،ایسی تعریف وہ بھی کھل کر پبلک اسٹیج پر پہلے کبھی شاید کسی لیڈر کی ہوئی ہو۔ مسلسل تیسری بار گجرات اسمبلی چناؤ جیتنے والے نریندر مودی کو ’’انڈیا اِنک‘‘ نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ مودی کی وائبرینٹ گجرات کانفرنس میں شامل ہوئے ملکی و غیر ملکی سرکردہ صنعتکاروں نے ان کے ترقی کے ماڈل کو سب سے بڑھیا مانتے ہوئے ان کی لیڈر شپ کی تعریف کی ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے جہاں نریندر بھائی کو ایک دور اندیش لیڈر بتایا وہیں ان کے چھوٹے بھائی اور اے ڈی اے جی کے چیف انل امبانی نے تو مودی کا موازنہ مہاتما گاندھی اور سردار پٹیل سے کردیا ہے۔ انل امبانی نے کہا کہ جس طرح مہاتما گاندھی اور سردار پٹیل نے گجرات کو چمکایا، اسی لائن میں نریندر مودی آج کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا ارجن کی طرح مودی کی نگاہیں ہمیشہ مقصد پانے پر لگی رہتی ہیں۔ وہ پہلے مقصد کو پاتے ہیں اور پھر پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ بڑے بھائی مکیش امبانی نے کہا کہ مودی میں اپنے نظریئے کو حقیقت میں بدلنے کی عزیم المثال اہلیت ہے۔ ریلائنس کو فخر کے ساتھ گجراتی کمپنی بتاتے ہوئے مکیش نے کہا کہ ہم نے اسی زمین سے اپنی شروعات کی تھی اور بار بار واپس آکر یہیں سرمایہ کاری کی ہے۔ مکیش نے پنڈت دین دیال اپادھیائے، پیٹرولیم یونیورسٹی میں پانچ ہزار کروڑ روپے کی نئی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔ ممتا بنرجی کی مخالفت کے بعد مغربی بنگال کے سنگور سے اپنی ماڈل نینو پروجیکٹ کو گجرات کے ساگند قصبے سے لے آئے۔ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رتن ٹاٹا نے کہا کہ گروپ نے پہلے گجرات میں سرمایہ کاری نہ کرکے بیوقوفی کی تھی۔ اکیلے ٹاٹا کیمیکل کے ذریعے گجرات میں سرمایہ کاری کرنا ہماری غلطی تھی۔ اب ٹاٹا گروپ یہاں 34 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کوتیار ہے۔ مہندرا گروپ کے آنند مہندرا نے کہا کہ آج لوگ گجرات کی ترقی کو چین کا ماڈل قراردیا۔ترقی بتاتی ہے وہ دن دور نہیں جب لوگ کہیں گے چین میں گجرات کے ماڈل پر ترقی ہورہی ہے۔
تعمیراتی سیکٹر میں گجرات کو سب سے آگے بتاتے ہوئے انڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا کہ گجرات کی آبادی بھارت کی آبادی کا5 فیصدی ہے جبکہ بھارت کی برآمدات میں گجرات کا 25 فیصدی حصہ ہے۔ ’’انڈین اِنک‘ ‘ کے سر میں سر ملاتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر جینس بیون نے کہا کہ ہم گجرات کے ساتھ کاروبار ہی نہیں سماجی رشتہ بنانے آئے ہیں۔ گجرات کاروبار اور سرمایہ کاری کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ امبانی بھائیوں سے لیکر ٹاٹا ،مہندرا سمیت تمام صنعتکاروں کو ایک ہی یکسانیت نظر آئی، وہ ہے نریندر مودی مستقبل کے لیڈر۔ یہ واقعی مودی کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ دیش کی صنعتی دنیا ان پر بھروسہ کررہی ہے اور انہیں بڑھ چڑھ کر تعاون دینے کیلئے تیار ہے لیکن صرف صنعتی دنیا ہی نہیں ریاست کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بھی مودی کے تئیں بھروسہ رکھتا ہے اور یہ اچھی علامت ہے۔ مودی نے جدید ترقی کا ایک سپنا دکھایا ہے اور اسی سپنے کو زمین پر اتارنے کی قوت ارادی دکھائی ہے۔ وہ آگے بڑھنے کی بات کرنے والے اور مثبت نظریہ رکھنے والے لیڈر کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گجرات کا مڈل کلاس اور خاص کر نوجوان نسل کو ان میں ایک امید کی نئی کرن دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ریاست کو ایک اچھا انتظامیہ دیا جو نہ صرف کرپشن سے پاک تھا ساتھ ساتھ قانونی و انتظام کی نظر سے بھی ایک مثالی ریاست بنی۔ جب سے مودی اقتدار میں آئے سوائے گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے دنگوں کے علاوہ کوئی دنگا نہیں ہوا۔ ہاں کچھ عناصر اس دنگے کو بھولنے نہیں دیتے اور اسی سے مودی کی ٹانگ کھینچنے میں لگے رہتے ہیں۔ مودی کی مشکل یہ ہے کہ آج بھی دیش کی زیادہ تر اقلیتیں مودی کو آگے بڑھتے دیکھنا نہیں چاہتیں۔
(انل نریندر)

دنیا کے سب سے بڑے دھارمک یگیہ مہا کنبھ کا آغاز

دنیا کے سب سے بڑے دھارمک پروگراموں کے انعقاد میں سے ایک مہا کنبھ کے شاہی اشنان کا آغاز ہوچکا ہے۔ پیر کو سوریہ ادے ہونے کے ساتھ ساتھ ہی شاہی اشنان کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پورے 147 برسوں کے بعد بنے درلبھ گریہی سنیوگ پر الہ آباد سنگم میں اشنان کے لئے دنیا بھر سے شردھالوؤں ، سادھوسنتوں کے ساتھ ریلا امڑ پڑا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایتوار کی دیر رات تک میلہ زون میں 25 لاکھ سے زیادہ افراد پہنچ چکے ہیں۔ میلہ انتظامیہ پہلے شاہی اشنان مکرسنکرانتی پر تقریباً سوا کروڑ شردھالوؤں کے سنگم اشنان کا امکان ظاہرکررہا ہے۔ پیر کو بھگوان بھاسکر پہلی کرن کے ساتھ شردھالوؤں کی بھیڑ گنگا جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر امڑ پڑی۔الہ آباد میں صدی کے دوسرے مہا کنبھ میں شاہی اشنان اپنی الگ طرح کے نظارے پیش کررہا ہے۔ سب سے پہلے مہانروانی اکھاڑے کے سنتوں نے شاہی اشنان کیا ۔ اس کے فوراً بعد نکھی اکھاڑے کے سنتوں نے اشنان کیا۔ ان کے لوٹنے کے ساتھ ہی آنند اکھاڑا ، اٹل اکھاڑا کے سنت اشنان کے لئے پہنچے۔ سرکاری اندازے کے مطابق 1 کروڑ10 لاکھ شردھالو سنگم میں پوتر ڈبکی لگا کر موکش کی کلپنا کریں گے۔ دیوتاؤں سے امرت کا گھڑا چھیننے کی کوششوں سے کبھی جس کنبھ کی شروعات ہوئی تھی آج بھی اسی طرح کا انعقاد ہماری روحانی روایت کی ہی ایک اور نایاب مثال بن گیا ہے۔ کنبھ ہماری زندگی کے توقعات کو پورا کرنے کی علامت ہے۔ پوتر ندیوں میں اشنان ویسے ہی ہمیشہ ہی ہمیں الوکک آنند سے بھرتا ہے لیکن کنبھ کے دوران اشنان کی اپنی ہی اہمیت ہے کیونکہ ایسی روایت ہے کہ ایسے موقعوں پر جل میں امرت کا درلبھ سنیوگ ہوتا ہے۔ کنبھ میں اشنان کی اہمیت صدیوں سے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی آئی ہے۔ جب کنبھ میلوں میں ٹھہرنے کا انتظام آج جیسا نہیں تھا اور میلے کے اندر شرپسند عناصر و ٹھگوں کی نگاہوں سے بچنا شردھالوں سے بچنا بہت مشکل تھا، تب بھی یہ آستھا لاکھوں لوگوں کو کنبھ کی طرف کھینچ لاتی تھی۔ الہ آباد میں شروع ہوئے مہا کنبھ میں آئے عوامی سیلاب کے پیچھے بھی یہ آستھا ہی ہے۔ یہ آستھا ہمالیہ سے کسی جٹاجٹ دھاری سنت کو یہاں لے آئی ہے، تو بیلجئم کی کسی لڑکی کو بھی سنگم کے کنارے ہاتھ جوڑے ،آنکھیں بند کئے دیکھا جاسکتا ہے۔ بھارتیہ دھرم اور روحانیت کے ایسے موقعوں پر اپنی منتیں پوری کرنے کے موقعے آتے ہیں۔ سادھو سنتوں کے لباس میں بھی بہت سی عورتیں دکھائی پڑتی ہیں۔ ان کی اُپاسنااور جدوجہد بھی ان کے ارادوں کو پورا کرتی ہے۔
یہ سنگم صرف گنگا جمنا اور سرسوتی کا نہیں بلکہ سادھو سنتوں ،مہا منڈلیشور کے ساتھ کارپوریٹ ہستیوں اور نامی گرامی عالمی شخصیتوں کا بھی ہے۔ جس حوصلے کے ساتھ مہا کنبھ کا آغاز ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ امید کرنی چاہئے آنے والے مارچ تک بھکتی سمرپن اور مہا ملن کا ایک ایسا اتسو بنا رہے گا۔ امید یہ بھی رہے گی یہ مہا کنبھ کسی تنازعے کا گواہ نہیں بنے گا اور بدنظمی کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئے گی۔ بھیڑ میں بچے اور بے سہارا بزرگ نہیں کھوئیں گے۔ عام شردھالو بھی یہاں سے اپنی کامنا پوری ہونے کے ساتھ لوٹیں گے۔ اترپردیش سرکار کو اس مہا کنبھ کو کامیابی کے ساتھ منعقد کرانے کے لئے خصوصی چوکسی برتنی ہوگی۔
(انل نریندر)

15 جنوری 2013

گڈکری کی غیر دوراندیشی اور موقعہ پرست پالیسی سے جھارکھنڈ میں یہ دردشا ہوئی

بھاجپا اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کا میل پوری طرح سے اقتدار کے لئے ہوا تھا اور اس بے اصولی اور پالیسیوں کے سمجھوتے کا یہ ہی حشر ہونا تھا۔ جے ایم ایم اور بھاجپا کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے تکرار جاری تھی۔ جے ایم ایم نیتا اور ارجن منڈا سرکار میں نائب وزیر اعلی رہے ہیمنت سورین نے حمایت واپسی کی کئی وجوہات گنائی ہیں۔ دراصل یہ ایک محض یا سب سے بڑا اشو اقتدار کے بٹوارے کا رہا۔ سورین کا کہنا ہے اتحاد اس بنیاد پرہوا تھا کہ دونوں پارٹیاں باری باری سے سرکار سنبھالیں گی۔ ارجن منڈا ستمبر2010ء میں جے ایم ایم کی حمایت سے ریاست کے وزیر اعلی بنے تھے اب سورین کی باری ہے لیکن بھاجپا اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس نے سرے سے ہی اس بات کو مسترد کردیا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان 28-28 مہینے کا کوئی سمجھوتہ بھی ہوا تھا۔ جب دیش کا موجودہ سیاسی ماحول بھاجپا کے موافق مانا جارہا ہو تب دوریاستوں میں اس کی سرکار گرجائے یا گرنے کے دہانے پر ہو اس کے برے دن ہی کہا جائے گا۔ منڈا سرکار تو گر چکی ہے کرناٹک میں جگدیش شیٹر سرکار کے عدم استحکام میں گھرنے سے اگر کچھ صاف ہے تو وہی کے قومی پارٹی کی شکل میں اس پارٹی کا مستقبل اچھا نہیں لگتا۔ خیال رہے کہ کچھ دن پہلے ہی بھاجپا ہماچل پردیش میں اقتدار گنوا چکی ہے۔ بھاجپا کے نئے نئے بنے قومی صدر نتن گڈکری نے لال کرشن اڈوانی سمیت پارٹی کے سرکردہ لیڈروں کو اعتماد میں لئے بغیر ’’موقعہ پرست، بے بھروسہ اور اقتدار کا لالچی‘‘ جے ایم ایم سے اتحادکر سرکار بنانا طے کرلیا تھا۔ اڈوانی اس سرکار کا زوال یقین جانتے ہوئے حلف برداری میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ تازہ واقعات نے اڈوانی کو بھاجپا کا ہتیشی اور دور اندیش نیتا تو گڈکری کو غیر دوراندیش اور ناتجربہ کار اور پیسے کا لالچی ٹھہرادیا ہے ۔ جنہوں نے محض اپنا پروفائل بڑھانے کی ہڑبڑی میں اس وقت کے حالات کو نظر انداز کیا۔ یہ واقعہ گڈکری کی اگلی میعاد کے فروغ پر ایک موزوں تبصرہ ہونا چاہئے تھا لیکن تازہ خبروں کے مطابق نتن گڈکری کو دوسری میعاد ملنا طے ہے۔ اوپر والا ہی بچائے اس بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو۔ دوسری طرف کانگریس پھونک پھونک کر جھارکھنڈ میں اپنے قدم بڑھا رہی ہے۔ کانگریس جھارکھنڈ میں نئی متبادل سرکار دینے کے لئے جے ایم ایم سے پھر سے سودے بازی کررہی ہے۔ نئی سرکار میں اسے اہم ذمہ داری مل سکے اس کے لئے اس نے سب سے پہلے وزیر اعلی کے عہدے کے لئے اپنی دعویداری پہلے سے ہی پیش کردی ہے تاکہ اگر اسے یہ مانگ چھوڑنی بھی پڑے تو کم سے کم اسے اچھے من پسند وزارتیں سرکار کے قیام کے بعد ملیں۔ کانگریس کے جھارکھنڈ انچارج جنرل سکریٹری شکیل احمد کا کہنا ہے کیونکہ کانگریس کے پاس خود کے13، آر جے ڈی کے5 اور آسو کے6 ممبر اسمبلی ہیں یا حمایت حاصل ہے جو شیبو سورین کی جے ایم ایم18 کے مقابلے 6 زیادہ ہیں، اس لئے اس عہدے پر ان کا دعوی بنتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر جے ایم ایم نے کانگریس کی تجویز نہیں مانی اور اپنا وزیراعلی بنانے کی ضد نہیں چھوڑی تو ریاست میں چناؤ ہوسکتے ہیں کیونکہ این ڈی اے اور آسوشیبوسورین یا ہیمنت سورین میں سے کسی کا وزیر اعلی بننا منظور نہیں ہوگا اور اگر وقت سے پہلے چناؤ ہوئے تو یہ جے ایم ایم کے فائدے میں نہیں ہوگا اور اس کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی اٹھالے گی۔ اصل میں کانگریس جانتی ہے کہ اس کی ممبر شپ کچھ ممبران (81 میں سے20 فیصدی) (13) کے قریب ہیں جو پارٹی لحاظ سے بھی چوتھے نمبر پر ہے۔ ایسے میں اس کی دعویداری سی ایم کے عہدے کے لئے نہیں بنتی۔ ایسے سخت رخ کے پیچھے محض ایک مقصد یہ دکھائی پڑتا ہے کہ دباؤ بنا کر اگر نئی سرکار بنتی ہے تو اسکے ہاتھ ملائی دار وزارت آجائے۔ ویسے ہمیں نہیں لگتا جھارکھنڈ کے موجودہ نمبروں کی بنیاد پر کوئی بھی جوڑ توڑ سے زبردستی بنی سرکار چل پائے۔ امکان اس بات کا ہے کہ ریاست میں اسمبلی معطل کر صدر راج لگا دیا جائے۔
(انل نریندر)

ایسے نابالغوں سے بچاؤگے... جے جے ایکٹ کی دفعات بدلو

دہلی میں 23 سالہ فیزیوتھیراپسٹ طالبہ کے ساتھ بدفعلی کے بعد جب ملزم گرفتار ہوئے تو کہا گیا تھا کہ طالبہ پر سب سے گھناؤنی حرکت کرنے والا ملزم17 سال کا ہے۔ اس کے بارے میں بتایا گیا ہے وہ ساڑھے سترہ سال کا ہے اور قصوروار پائے جانے پر بھی وہ چھوٹ جائے گا۔ اسے نابالغوں کے ساتھ اسپیشل ہوم میں رکھا جائے گا اور نہ ہی اسے جیل میں بھیجا جاسکتا ہے۔ جیسے جیسے دہلی آبروریزی کے حقائق سامنے آرہے ہیں یہ مانگ زور پکڑتی جارہی ہے کم سے کم خواتین کے خلاف جرائم میں نابالغ کی عمر حد کو گھٹا دیا جانا چاہئے ۔دراصل اس گھناؤنے معاملے میں پکڑے گئے مبینہ نابالغ نے سب سے زیادہ بربریت دکھائی تھی۔ ویسے ابھی اس کی اصلی عمر کو لیکر تحقیقات و ٹیسٹ جاری ہیں۔ اسی ماحول میں ہوئی پولیس ڈائریکٹر جنرلوں اور ہوم سکریٹریوں کی میٹنگ میں تجویز پیش کی ہے کہ اطفال مجرم کے زمرے میں آنے کی عمر حد18 سال سے گھٹا کر16 کردی جائے ۔ مرکزی وزیر خواتین و اطفال کرشنا تیرتھ بھی اس مطالبے کی حمایت کررہی ہیں۔ قانون کے واقف کاروں کے درمیان ضروری اس مسئلے پر دو رائے ہے۔ ظاہر ہے یہ معاملہ سنگین ہے۔
ابھی دیش میں18 سال سے کم عمر کے بچوں کو نابالغ مانا جاتا ہے۔غور طلب ہے کے1986ء تک جونائل جسٹس ایکٹ میں عمر کی حد16 برس تھی ۔ بچوں کے حقوق کو لیکر اقوام متحدہ میں 1992ء میں ایک کانفرنس ہوئی تھی اور بین الاقوامی پیمانے کے مطابق نابالغ کی عمر18 سال کردی گئی۔ دہلی ہائی کورٹ میں اسی سلسلے میں ایک عرضی داخل کی گئی۔ عرضی میں جونائل جسٹس ایکٹ کی کچھ دفعات کو خارج کرنے کی اپیل کی گئی۔ عرضی سپریم کورٹ کی خاتون وکیل شویتا کپور میں دائر کی تھی۔ جس میں کہا گیا ہے جے جے ایکٹ کی دفعہ۔16(1) اور 16 کے سب سیکشن 2 کو منسوخ کیا جانا چاہئے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ دفعات میں کچھ تضاد ہیں،ایسے میں یہ منسوخ کی جائے۔ آبروریزی معاملے میں لڑکے نے جو جرم کیا ہے اس سے یہ دکھائی پڑتا ہے کہ وہ نابالغ نہیں ہے بلکہ اس سے سماج کو پروٹیکشن کی ضرورت ہے۔ دفعہ16 کے تحت یہ سہولت ہے کہ چاہے جرم کتنا بھی سنگین کیوں نہ ہو، یعنی معاملہ پھانسی یا عمر قید کا ہی کیوں نہ ہو لیکن نابالغ ملزم کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ بھی سہولت ہے کہ جونائل کو18 سال کی عمر تک اسپیشل ہوم میں رکھا جاسکتا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کئی معاملوں میں ایسے نابالغ جو16 سے18 سال کے درمیان ہیں اور انہوں نے گھناؤنی حرکت کی ہے ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جے جے ایکٹ کے کچھ دفعات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں جونائل ہونے کا فائدہ نہیں ملنا چاہئے۔ ایک آدمی جو17 سال یا 364 دن کا ہے اسے اس شخص سے کیسے الگ کیا جاسکتا ہے جو اس سے ایک دن زیادہ یعنی پورے18 سال کا ہے؟ بہرحال یہ پوری بحث کیونکہ دہلی کی ایک ایسی واردات سے جڑی ہے جس نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا تو ہل اور اس کا متبادل ضرور نکالا جاسکتا ہے کے ایسے معاملوں میں عمر کی حد کو لیکرا یک غیر متنازعہ قانون بنایا جائے۔ اس سے اطفال کے اختیارات کی خلاف ورزی نہیں ہوگی اور لوگوں کی فکر اور مانگ کا آسانی سے حل بھی نکل آئے گا۔
(انل نریندر)

13 جنوری 2013

اندھیر نگری چوپٹ راجہ، ’’ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجا‘‘

دیش کی جنتا میں ہائے توبہ مچی ہوئی ہے، لوگ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں، فوج میں بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی اور یہ یوپی اے سرکار اور کانگریس کی صحت پر اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ دہلی گینگ ریپ کیس میں آج بھی جنتا جنترمنتر پر بیٹھی ہے۔ عدالتیں سخت رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی کے چلتے سرکار نیا دوز دین کو تیار ہے۔ رہی سہی کثر پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میں دو ہندوستانی جوانوں کے پاکستانی فوج کے ذریعے سرقلم نے پوری کردی ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے یوپی اے سرکار ان کے تھنک ٹینک کو لگتا ہے کہ دیش بھر میں جو بھی تحریکیں چل رہی ہیں ان کے پیچھے درپردہ طاقتوں کا ہاتھ ہے جو اس سرکار اور کانگریس پارٹی کو کمزور کرنا چاہتی ہیں اور ساری تحریک سیاسی ہے۔ سرکار کو یہ اپوزیشن کی سوچی سمجھی چال لگ رہی ہے کہ اسے بدنام کرنے کے لئے پارٹی کے تھنک ٹینک کا یہ ماننا ہے کہ بھلے ہی دکھائی دینے میں ایسا لگ رہا ہو جیسے یہ عام آدمی کا غصہ ہے اور بغیر کسی کے بلاوے پر سڑک پر آرہا ہے، لیکن ایسا نہیں۔ ان سب کے پیچھے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی بنا کر ملکی و غیر ملکی طاقتیں ایسا کروارہی ہیں۔ ایک سینئر کانگریسی پالیسی ساز کا کہناکے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔ یہ سب ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں جو الگ الگ طرح سے کانگریس سے مخالفت کے نام پر سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے انا ہزارے، پھر بابا رام دیو، اور پھر کیجریوال کرپشن کا جھنجھنا بجا کر سڑک پر اتر آئے۔ اسی کے برابر پہلے کرناٹک میں ، پھر اترپردیش اور آندھرا پردیش اب مہاراشٹر میں فرقہ واریت کی چنگاری بھڑکائی جارہی ہے۔ دیش کی عوام کو پرکھا جارہا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ کچھ غیر ملکی طاقتیں ملک کی اندرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر یہ سب کھیل کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ بھی کیا کے جلد ہی مرکز اور ریاستی حکومتیں اس بات کی پڑتال اور ثبوت اکٹھا کریں گی۔ وہ مشہور کہاوت یاد آتی ہے ’روچ جل رہا ہے اور نیرو سورہے ہیں‘ یہ آج اس سرکار اور کانگریس پارٹی پر فٹ بیٹھتی ہے۔ معاملہ چاہے آبروریزی، قتل کے ہوں چاہے مہنگائی کے ہوں ، چاہے قانون و نظام یا دیش کی ساکھ کا ہو ، ہر مورچے پر یہ سرکار ناکام دکھائی پڑتی ہے۔ بچیوں سے آبروریزی کا معاملہ کم نہیں رہا۔ جنتا کی ناراضگی کو سمجھنے کی بجائے اسے سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ سال شروع ہوتے ہی عوام کو اس سرکار نے مہنگائی کی طرف ایک خوراک کے طور پر تحفے میں دیا ہے۔ سی این جی کے داموں میں 1.55 پیسے اور این سی آر میں 1.80 پیسے فی لیٹر کی شکل میں اضافہ کیا ہے۔ریل بجٹ پیش ہونے سے قریب ڈیڑھ مہینے پہلے ہی حکومت نے بدھوار کو اچانک دوسرے درجے سے لیکر ایئر کنڈیشن درجے تک کے کرائے میں اضافہ کردیا ہے۔ صفائی دی جارہی ہے کہ دس سال بعد یہ کرائے بڑھائے جارہے ہیں۔ یہ بات تو ہمیں سمجھ میں آتی ہے لیکن عام آدمی جس دوسرے درجے سے سفر کرتا ہے اس میں اضافے سے بچنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ بیشک فرسٹ کلاس کے مسافروں سے یہ اضافہ کور کرلیتے۔ سال2012ء جاتے جاتے دہلی کے وسنت وہار میں آبروریزی کے واقعے سے کانگریس کے سیاسی سروکارو کی نیند ٹوٹنی چاہئے۔سڑکوں پر اس واردات کے خلاف اتری بھیڑ نہ تو کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی کسی غیر ملکی طاقت کے اشارے پر سڑکوں پر اتری ہے۔ آج پورے دیش میں خاص کر عورتوں میں اتنی عدم سلامتی کا احساس ہے کہ جنتا کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اپنا غصہ کس طرح ظاہرکریں؟ اس لئے وہ سڑکوں پر اتر آئے ہیں کہ شاید اب تو سرکار جاگے گی۔ اگر مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے تو اس میں غیر ملکی ہاتھ کہاں سے آگیا؟ دکھ تو اس بات کا ہے کے آج یوپی اے سرکار نے تو دیش کے اندر سلامتی کا مسئلہ کھڑا کردیا ہے اور سرحد پر سرکار سوچتی ہے کیش سبسڈی کے بہانے جنتا کے گھر پیسے پہنچاکر سارے پاپ ڈھک جائیں گے تو اس میں ہمیں شبہ ہے۔ وقت رہتے اگر یہ حکومت اور کانگریس پارٹی نہ بیدار ہوئی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جنتا کے صبر کا اور امتحان نہ لے یہ ہی ان کے لئے بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

سرکار بیشک بربریت آمیز حرکت کو طول نہ دینا چاہے لیکن فوج میں بغاوت کے حالات

پاکستان یہ بات بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ حکومت ہند میں کوئی دم نہیں ہے۔ وہ کچھ بھی کرلے یہ یوپی اے سرکار معاملے کو رفع دفع کرنے میں لگ جائے گی اور جنگ بندی کو نظر انداز کرنا اور کنٹرول لائن پر خلاف ورزی کر پاکستانی فوج نے تو بربریت کی حدیں ہی پار کردیں تو اب اسلام آباد نے صرف اس واردات سے پلہ جھاڑنے کی کوشش کی ہے لیکن اقوام متحدہ سے جانچ کرانے کا داؤ چل کر معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی پرانی عادت کا بھی ثبوت دے رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز ختم ہونے کے فوراً بعد اور ویزا پالیسی کو پائیدار بنانے اور آسان کرنے کے پس منظر میں سرحد پار سے ہوئی یہ بربریت بیشک نئی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی دہلی ۔لاہور بس سیوا شروع کرنے کے بعد کارگل جنگ ہوئی تھی۔ بیشک اب حکومت ہند اس واقعے کو زیادہ طول دینے کے حق میں نہ ہو لیکن فوج میں اپنے ساتھیوں کے سر قلم کردینے کے واقعے نے بھاری ناراضگی پیدا کردی ہے۔ اپنے دو ساتھیوں کے سر قلم کے معاملے کے بعد راجپوتانہ رائفلز کے ایک ہزار جوانوں نے اس دن کھانا پینا چھوڑدیا اور وہ بہت غصے میں ہیں۔
یونٹ کے کمانڈنگ افسر نے ان ناراض جوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی، انہیں یہ بھی یقین دلایا کے ہندوستانی فوج بھی پاکستان کی اس حرکت کا مکمل جواب دے گا۔ وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق ان سنگین حالات کو دیکھ کر فوج کے دو لیفٹیننٹ جنرلوں کو منہار کے لئے بھیجا گیا ہے۔ بھارتیہ فوج اپنے ڈسپلن کے لئے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے لیکن اب اس کے جوانوں کا صبر ٹوٹنے لگا ہے۔ سرکار کو اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے فوجی کمانڈر بغیر سرکار کی اجازت لئے کوئی سخت جوابی کارروائی کرڈالیں؟ فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا بھی خیال ہے فوج کی تاریخ میںیہ بڑا سنگین اور حساس معاملہ ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوج کے جوانوں کا ٹوٹا بھروسہ اور اعتماد پھر سے قائم کیا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے بھارت سرکار اب پاکستانی رویئے کے تئیں ٹال مٹولی کی حکمت عملی کو فوراً بدلے اور اسی ٹال مٹول پالیسی کا نتیجہ ہی ہے کہ اس کا ازالہ تو دور بات پاکستانی سینئر افسر قاتل مجاہد ریجمنٹ کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں۔ جموں کے مینڈھر سیکٹر میں گھس کر بربریت آمیز حرکت کرنے والے 653 مجاہدین ریجمنٹ کے فوجیوں کے اعلی افسروں نے شاباشی دی اور کہا ’’عمدہ عمدہ‘‘ پاک فوج کے دوسرے ریجمنٹوں نے بھی انہیں مبارکباد دی ہے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب بھارتیہ فوجی خفیہ بیورو نے پاکستانی فوج پکڑے۔ ایم آئی بی پی کی رپورٹ فون پکڑنے کے ذریعے ان کی بات سے یہ سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے کے شہید لانس نائک ہیمراج اور سدھاکر سنگھ کی موت کی خبر جیسے ہی میڈیا میں آئی پاکستانی فوج کی تمام ریجمنٹوں سے 653 مجاہدین ریجمنٹ کی ٹکڑی کو مبارکبادی پیغام ملنے شروع ہوگئے۔ پاکستان اپنے الگ ہی انداز میں اس بربریت آمیز واردات سے صرف اپنا پلہ جھاڑ رہا ہے بلکہ اپنی فوجی ٹکڑیوں کو بھی بے قصور بتا رہا ہے۔ یہ بھی دعوی کیا جارہا ہے کہ پہلے حملہ بھارتی فوج نے کیا تھا۔ پہلا حملہ کسی نے بھی کیا ہو لیکن آپ کو سر قلم کرنے کی چھوٹ کس جنگ میں ملتی ہے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...