Translater

24 اگست 2013

اس مرتبہ برے پھنسے آسا رام باپو لڑکی سے بدفعلی کا الزام!

لوگوں کو مذہب اور مہذب معیار زندگی گزارنے کی تلقین کرنے والے 74 سالہ آسا رام باپو ویسے تو پچھلے کئی برسوں سے تنازعوں میں رہے ہیں لیکن اس مرتبہ ان پر ایسا الزام لگا ہے جس سے ان کے پھنسنے کاپورا امکان ہے۔ اس مرتبہ ان پر جودھپور میں انشٹھان کے بہانے ایک لڑکی سے بدفعلی کا معاملہ درج ہوا ہے۔ مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ میں واقع ان کے گوروکل کی ایک متاثرہ طالبہ نے دہلی کے کملا مارکیٹ تھانے میں آکر شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے زیرو ایف آئی آردرج کرمعاملہ جودھپور پولیس کو سونپ دیا ہے۔ قانوناً جس تھانہ علاقے میں واردات ہوئی ہے اسی میں معاملہ درج کیا جاتا ہے اور وہیں کا نوڈل افسر جانچ کرتا ہے لیکن کوئی متاثرہ لڑکی اگر شکایت لے کر کسی دوسرے تھانے میں جاتی ہے تو پولیس افسر کو اس کی بات سمجھ میں آئے تو معاملہ سنگین ہے تو بھلے ہی واردات کسی دیگر تھانے علاقے یا ضلع یا ریاست میں ہوئی ہو وہ اپنے تھانے میں ایک زیرو ایف آئی آردرج کرکے معاملہ متعلقہ تھانے کو بھیج دیتا ہے جس سے متعلقہ تھانہ پولیس کے ذریعے جانچ کی جاسکے۔ ایف آئی آر کی کاپی کے ساتھ متعلقہ تھانے میں بھیجی جاتی ہے۔ دہلی کے کملا مارکیٹ تھانے کے ایس ایچ او پرمود جوشی کے مطابق میڈیکل جانچ سے آبروریزی کی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے پہلے جو کچھ ہوتا ہے وہ سب سامنے آیا ہے۔ متاثرہ بچی نے 10 اگست کو اپنے رشتے داروں کو اپنی طبیعت خراب ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ رشتے دار جب گوروکل پہنچے تو انہیں بتایا گیا بچی کی طبیعت پہلے سے ٹھیک ہے لیکن اوپری چکروں کا شکار ہے۔ اسے علاج کے لئے باپو کے پاس لے جانا ہوگا۔ اس کے بعد 13 اگست کو رشتے دار اسے لیکر جودھپور میں بابا کے ایک انویائی کے پاس پہنچے۔سبھی لوگوں کو ایک آشرم میں ٹھہرایا گیا۔15 اگست کو لڑکی کے لئے باپو کے ذریعے انشٹھان کرنے کی بات کہتے ہوئے اسے ایک کمرے میں بھیجا گیا۔ کمرے میں آسا رام باپو پہلے سے بیٹھے تھے۔ لڑکی کا الزام ہے کمرے میں باپو نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی اور پھر دھمکی دی واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اس کے ماں باپ کو مروادیا جائے گا۔ خود بچی نے ایک اخبار کو بتایا میں باپو کے چھندواڑہ میں واقع گوروکل میں رہتی ہوں۔ وہیں اگست کے پہلے ہفتے میں میری طبیعت خراب ہوئی۔ والدین کو بھی اس کے بارے میں مطلع کیا۔ وہ چھندواڑہ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کے طبیعت تھوڑی ٹھیک ہے لیکن جھاڑ پھونک کی ضرورت ہے جو باپو خود کریں گے۔ وہ ابھی جودھپور میں ہیں اس لئے آپ جودھپور چلے جائیں۔ 15 اگست کو ہم جودھپور پہنچے۔ آسارام نے میرے ماتا پتا کو کہا کے مجھے آشرم میں چھوڑدیں انشٹھان کی ضرورت ہے۔ اسی رات آسا رام مجھے الگ کمرے میں لے گئے اور میرے ساتھ غلط کام کیا پھر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ اگلے دن مجھے چھندواڑہ جانے کو کہا لیکن میں ماں باپ کے ساتھ شاہجہاں پور چلی گئی۔ میری ڈری ہوئی تھی اس لئے گھر پر پہنچ کر ماں باپ کو پورا واقعہ بتایا۔ وہاں سے ہم دہلی پہنچے۔ کیونکہ دہلی کے رام لیلا میدان میں18سے20 اگست کو ست سنگ ہونے والا تھا لیکن ہمیں کسی نے باپو سے ملنے نہیں دیا۔ پھرمیں نے 19 اگست کو میدان سے لگے کملا مارکیٹ تھانے میں جاکر شکایت درج کرائی۔ آسا رام کے خلاف پولیس نے پاسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس میں آسا رام کو خود کو بے قصور ثابت کرنا ہوگا۔ قانون میں متاثرہ کا بیان ہی سب سے اہم مانا جاتا ہے حالانکہ آسا رام کے ترجمان سنیل وانکھڑے کا دعوی ہے کہ 15 اگست کو باپو جودھپور میں نہیں تھے یہ باپو کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ سب مخالفین کی چال ہے۔ سنتوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ اس معاملے میں کسی جانچ کی ضرورت نہیں ہے جبکہ جودھپور کے جس فارم ہاؤس میں یہ واردات ہوئی اس کے مالک رنجیت کھیڑا کا کہنا ہے کے15 اگست کو آسا رام باپو یہیں تھے اور یہ بچی اپنے ماں باپ کے ساتھ آئی تھی۔ دوسری طرف آسا رام کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ کررہی پولیس کا کہنا ہے خودساختہ دھارمک گورو کے خلاف آبروریزی کا الزام لگانے والی لڑکی کا بیان پہلی نظر میں صحیح لگتا ہے۔پولیس نے حقیقت جاننے کے لئے جمعرات کو منئی گاؤں میں آسا رام کے آشرم میں اس جگہ کا معائنہ کیا جہاں لڑکی کے مطابق واردات کو انجام دیا گیا۔ وہاں کے حالات لڑکی کو بچانے سے میل کھاتے ہیں۔ آسا رام اس بار برے پھنسے ہیں۔ ان پر سنگین دفعات (376) آبروریزی دفعہ(354) چھیڑ خانی اور دفعہ(509) دھمکی دینا خاص ہے۔ اس معاملے میں آسا رام کی گرفتاری ممکن لگتی ہے۔
(انل نریندر)

شام فوج نے دمشق کے فاؤٹا میں کیمیائی حملہ کیا!

اپنے ہی شہریوں کے خلاف اس طرح کے ہتھیار سے آدمی کیسے حملہ کرسکتا ہے ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ شام کے صدر اسد نے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف کیمیائی حملہ کیا ہے۔ شام میں فوج اور باغیوں کے درمیان کافی عرصے سے چلی آرہی لڑائی نے بدھ کے روز ایک نہایت خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ شام کے صدر اسد کے فوجیوں نے دمشق میں کیمیائی حملہ کر سینکڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ شام کے باغیوں نے زہریلی نرو گیس سے کئے گئے اس حملے میں کم سے کم1300 لوگوں کی موت ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں بکھری پڑی لاشوں کی تصویریں بتاتی ہیں کہ قتل عام خوفناک ہے اور بڑی تعداد میں معصوم بچے اور عورتیں ماری گئی ہیں۔ اگر باغیوں کا دعوی صحیح ہے تو یہ حالیہ دہائیوں میں کیمیائی حملے میں قتل عام کا یہ سب سے بڑا معاملہ ہے۔ حالانکہ اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی بات سے صاف انکار کیا ہے اور فوراً بین الاقوامی مداخلت کی مانگ کی ہے۔ امریکہ سمیت مغربی ملکوں سے اقوام متحدہ کے ماہرین سے اس معاملے کی جانچ کرانے کی مانگ کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسد کے وفادار فوجیوں نے راجدھانی دمشق کے چھوٹے علاقے فاؤٹامیں کیمیائی ہتھیاروں سے یہ حملہ کیا۔ حملے کا ایک ویڈیو یو ٹیوب پر بھی ڈالا گیا ہے جس میں لوگوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ ویڈیو میں لوگوں کا ہسپتال میں علاج ہوتے بھی دکھایا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کیمیائی حملے کے بعد جنگی جہازوں سے بمباری بھی کی گئی ہے۔ نرو گیس کی دو کیٹیگری ہیں ’جی‘ اور’ وی جی‘۔یہ زہریلی گیس ہے جو ہر چیز کو ختم کردیتی ہے۔ جس سے زندہ رہنے کے لئے ضروری جسمانی خلئے خراب ہوجاتے ہیں۔ عراق میں1988ء میں صدام حسین کی فوج نے حلبزہ میں کیمیائی گیس سے حملہ کیا تھا۔ اس میں تقریباً5 ہزار کرد لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ شامی فوج کے پاس 300 سے زیادہ بی ایم21 کثیر المقصد راکٹ لانچر ہیں۔ ان سے120 ملی میٹر کے راکٹ میں دو کیمیائی ہتھیار لوڈ کئے جاسکتے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں سرین گیس (نرو گیس) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ شامی فوج کے پاس 650 ٹن سرین گیس ہے۔ شامی فوجیوں کا یہ سال میں ساتویں بار کیمیائی حملہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مارچ2011ء میں شروع ہوئی خانہ جنگی میں شام میں اب تک 1 لاکھ20 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔ اور 17 لاکھ سے زیادہ لو گ بے گھر ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن کا دعوی ہے اب تک1400 سے1450 لوگ کیمیائی حملوں میں مارے جاچکے ہیں۔ شام میں صدر بشرالاسد طویل عرصے سے اقتدار پر قابض ہیں۔ ارب انقلاب کے دوران ان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے اپوزیشن پہلے سڑکوں پر اتری لیکن بعد میں یہ لڑائی خونی جھڑپوں میں بدل گئی۔ اسد اقلیتی شیعہ فرقے سے آنے کے بعد بھی اقتدار پر قابض ہیں اور وہاں اکثریتی سنی اپوزیشن ان کو برداشت نہیں کرپارہا ہے۔ اسد سرکار کی اب مصیبتیں بڑھنے کی امید ہے۔ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل شام پر فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ امریکہ نے مبینہ طور پر عراق میں اسی طرح کے اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں کا الزام لگاتے ہوئے2003ء میں اس پر حملہ کرتے ہوئے صدام کا تختہ پلٹا تھا۔
(انل نریندر)

23 اگست 2013

84 کوسی پریکرما پر یوپی سرکار اور سنتوں میں ٹکراؤ

اس چناوی برس میں ایودھیا کے مشہور رام مندر کا اشو ایک بار پھر بڑے ٹکراؤ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ وشو ہندو پریشد نے رام مندر کے اشو پر نئے سرے سے لوگوں کو متحد کرنے کے لئے 84 کوسی پری کرما کی تیاری کرلی ہے۔ یہ یاترا 25 اگست سے شروع ہوکر13 ستمبر تک چلنی ہے۔ اس پلان کی تیاری میں ایودھیا سمیت اترپردیش کے کئی شہروں میں وی ایچ پی نے سنت مہاتماؤں کی بھیڑ اکھٹا کرنا شروع کردی ہے لیکن اترپردیش میں اکھلیش یادو سرکار نے وی ایچ پی کی اس مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ پیر کو یوپی انتظامیہ نے اس پری کرما کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا۔ ریاست کے چیف داخلہ سکریٹری آر ایس سریواستو اور ڈی جی پی دیوراج ناگر نے میڈیا کو سرکار کے فیصلے کی جانکاری دی۔ یہ روک 19 اگست سے15 ستمبر تک لگائی گئی ہے۔ دونوں افسران نے کہا اس پریکرما کی اجازت سے ایک نئی روایت پڑے گی۔ اس سے قانون و سسٹم بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ ادھر وشو ہندو پریشد و رام جنم بھومی نیاس کے ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی نے کہا کہ ہم اپنے وقت سے پریکرما شروع کریں گے۔ سرکار روکے گی تو وہیں بیٹھ کر رام نام کا جاپ کریں گے۔ مندر میں درشن پوجن و پریکرما کے لئے سرکار کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ یوپی انتظامیہ کی جانب سے چیف داخلہ سکریٹری سریواستو نے بتایا کے روک کس لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کے وی ایچ پی نیتا اشوک سنگھل نے یاترا کا مقصد متنازعہ رام جنم بھومی مندر تعمیر بتایا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ نے متنازعہ کمپلیکس میں جوں کے توں پوزیشن بنائے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا یاترا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے بتایا کے مذہبی روایات کے مطابق84 کوسی کی پریکرما چیت پورنیماسے بیساکھ پورنیما تک چلتی ہے۔ اس بار یہ میعاد25 اپریل سے20 مئی کے بیچ تھی ایسے میں اگست ستمبر میں پریکرما یاترا کا کوئی جواز نہیں بیٹھتا۔ ڈی جی پی ناگر نے بتایا کے 6 ضلعوں فیز آباد، بارہ بنکی، گونڈا، بہرائچ، بستی، امبیڈکرنگر سے یاترا نکالنا تجویز ہے۔ سبھی ضلعوں کے انتظامیہ نے اس سے قانون و نظم کے حالات بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔یوپی سرکار نے پریکرما روکنے کا پورا انتظام کرلیا ہے۔ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں پر خاص نظر رکھی جارہی ہے۔ ٹکراؤ کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے عارضی جیلیں اور مظاہرین کو لے جانے کے لئے بسوں کا انتظام بھی شروع کردیا ہے۔ وی ایچ پی اور یوپی سرکار میں نظریاتی ٹکراؤ ٹالنے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیںآرہا ہے۔ وی ایچ پی نیتا اشوک سنگھل و سنتوں نے گذشتہ17 اگست کو ملائم سنگھ یادو سے مل کر ایودھیا تنازعہ ٹالنے کی کوشش کی تھی لیکن سرکار کا رویہ مایوس کن رہا۔ 84 کوسی پریکرما پر ملائم سنگھ یادو کو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن اچانک اعظم خاں کے کہنے پر پریکرما روکنے کا سرکاری اعلان کردیاگیا۔وی ایچ پی نیتا اشوک سنگھل نے اب کمان خود سنبھال لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر و پریکرما کے لئے جمہوری طریقے سے لڑائی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ووٹ بینک کے پیش نظر ہندو سماج کا دمن بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندو دھارمک جذبات کو کچل کر اپنی پارٹی کے مسلم لیڈروں کے دباؤ میں سرکار یہ کام کررہی ہے۔ وی ایچ پی اور یوپی سرکار میں ٹکراؤ طے لگتا ہے۔ ملائم سنگھ اور کانگریسی لیڈروں کے ذریعے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ 60 برس بعد بھی یہ فیصلہ آگیا کے جہاں آج رام للا بیٹھے ہیں وہی اس کا جنم استھان ہے تو ملائم سنگھ کا فرض بنتا تھا کے مسلم مذہبی پیشواؤں کے ذریعے دئے گئے وعدوں کی تعمیل کراتے جس میں انہوں نے بیان دیا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ڈھانچہ ہندو مندر کو توڑ کر بنایا گیا تھا تو اپنا دعوی واپس لے لیں گے۔ یہ یاترا اپنے طے پروگرام کے تحت چلے گی کیونکہ یہ سنتوں کا آدیش ہے۔ جے شری رام۔
(انل نریندر)

ٹنڈا کے سنسنی خیز انکشاف سے پھر بے نقاب ہوا پاکستان!

بھارت کے خلاف دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے پیچھے پاکستان ہے یہ بات بار بار سامنے آتی رہی ہے اور ہر بار پاکستان اس سے انکار کرتا رہتا ہے۔ ایک بار پھر اس معاملے میں پاکستان بے نقاب ہوگیا ہے۔ عادت سے مجبور پاکستان اس بار بھی اسے ہوا میں اڑادے گا۔ میں بات کررہا ہوں عبدالکریم ٹنڈا کی۔ جس نے خلاصہ کیا ہے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور بھارت سے بھاگ کر پاکستان پہنچے انڈین مجاہدین اور بی کے آئی (ببر خالصہ انٹر نیشنل) کے دہشت گردوں کی پوری مدد کررہا ہے۔ انہیں رہنے و روزگار مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں کئی نام سے پاسپورٹ بھی دئے گئے ہیں۔ اس سے بین الاقوامی ایجنسی کی پوچھ تاچھ میں پاکستان یہ کہہ کر بچ جاتا ہے کے اس کے یہاں رہ رہا شخص پاکستانی شہری ہے یا اس نام کا کوئی شخص پاکستان میں نہیں ہے۔ عبدالکریم عرف ٹنڈا نے گرفتاری کے بعد کئی اہم سوالوں کے جواب دئے ہیں۔ مثلاً داؤد ابراہیم پاکستان میں آئی ایس آئی کی پناہ میں رہ رہا ہے۔ لشکر کو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے۔ دہشت گردی ٹریننگ کیمپوں کو چلانے میںآئی ایس آئی کی بھرپور مدد ملتی ہے۔ پاکستان میں داؤد ابراہیم لشکر کے بانی حافظ سعید وغیرہ لگاتار رابطے میں ہیں۔ ٹنڈا نے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، نیپال اور بھارت میں اپنی دہشت گردی کا مضبوط جال بچھا رکھا ہے۔ بم مشین عبدالکریم ٹنڈا پاکستان کے سرحدی علاقوں میں چپ چاپ چل رہے القاعدہ ٹریننگ کیمپ میں بھی گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے جب یہ سوال پوچھا تو پہلے تو وہ چپ رہا بعد میں گول مول جواب دیا۔ ٹنڈا جہادی تقریروں کے لئے بھی خاصا مقبول ہے اسے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر دہشت گردی کی راہ پر جھونکنے میں مہارت حاصل ہے اس لئے آئی ایس آئی نے اسے پاکستان میں مدرسے چلانے کی ذمہ داری سونپی۔ کراچی میں اس کا محدود تعلیمی اسلامی دارالفنون نام سے مدرسہ ہے جس میں500 سے زیادہ بچے پڑھتے ہیں۔ پوچھ تاچھ میں ٹنڈا نے بتایا کے مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو جہاد کے علاوہ دھماکو و ہتھیار چلانے کی ٹریننگ بھی دلاتا تھا۔ پاکستان کے دیگر شہروں میں مدرسوں میں جہادی تقریردینے کے لئے اسے بلایا جاتا تھا۔پاکستان میں شیخو پورہ ضلع کے مرکز جماعت الدعوی ہیڈ کوارٹر کے سامنے ٹنڈا کا دو منزلہ مکان ہے وہاں اس کی تین بیویاں، چھ بچے رہتے ہیں۔ ٹنڈا نے بنگلہ دیش میں56 سال کی عمر میں18 سال کی لڑکی سے تیسری شادی کی تھی۔ ممبئی دھماکوں میں لشکر طیبہ کا ہاتھ ہونے اور داؤد ابراہیم کے پاکستان میں چھپے ہونے کے ثبوتوں کو پاکستان سرے سے مسترد کرتا رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے خاص نمائندے شہر یار خاں نے کچھ دن پہلے ہی داؤد سے جڑے حقائق کو بے بنیاد بتایا تھا۔ اس لئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ٹنڈا کے اس خلاصے کو پاکستان کہاں تک قبول کر پائے گا کے داؤد ابراہیم آئی ایس آئی کی حفاظت میں ہے اور وہاں کی فوج کے ساتھ بھی اس کے اور لشکر چیف کے گہرے تعلقات ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہوگا کے بھارت کس طرح سے ٹنڈا کے تازہ انکشافات کی بنیاد پر پاکستان اور عالمی برادری پر دباؤ بنا پاتا ہے۔ قصاب کو تو آخری وقت تک اپنا شہری ماننے سے انکار کرنے والا پاکستان ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)

22 اگست 2013

کوئلہ گھوٹالے کی فائلیں کس نے غائب کرائیں اور کیوں؟

پہلے لوٹ کھسوٹ کروپھر جب پکڑے جاؤتو اس لوٹ کھسوٹ کے سارے دستاویزی ثبوت ہی غائب کردو۔پہلے چوری پھر سینا زوری۔ کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے میں ٹھیک یہ ہی ہوا ہے۔ خبر آئی ہے کہ کول بلاک گھوٹالے سے متعلق کچھ اہم فائلیں غائب ہوگئی ہیں۔ اس معاملے سے متعلق 1993ء سے 2004ء کے درمیان کے کچھ اہم دستاویز غائب ہونے سے سی بی آئی کے سپریم کورٹ میں چل رہے مقدمے پر برااثر پڑے گا۔ ان فائلوں کے غائب ہونے کی جانکاری خود وزیر کوئلہ کے ذریعے دی گئی۔ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جب اتنے سنگین معاملے کی جانچ جاری ہو تو سرکار اور متعلقہ وزارت اس کے تئیں اتنی لاپرواہ کیوں ہے کے ان کی ناک کے نیچے سے اہم دستاویزی ثبوت و فائلیں غائب ہوگئی ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ جانچ اب اہم دور سے گذر رہی ہے تبھی اس جانکاری کا خلاصہ کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا یہ فائلیں پہلے سے غائب ہوئیں یا پھر اب غائب کرا دی گئیں؟سی بی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ 1993-2004 ء کے درمیان کئی فائلیں غائب ہوئی ہیں اس وجہ سے 2004ء کے پہلے کے معاملوں کی جانچ میں دقتیں آرہی ہیں۔ حالانکہ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے جو13 ایف آئی آر درج کی ہیں ان سے جڑیں سبھی فائلیں ان کے پاس ہیں۔ یہ فائلیں2006ء سے 2009 ء کے درمیان کی ہیں۔ یہ حالت تب ہے جب خود سپریم کورٹ پورے معاملے کی نگرانی کررہا ہے اور جانچ کی ہر سرگرمی پر نظر ہے۔ بدھوار کو لوک سبھا میں معاملے کو اٹھاتے ہوئے اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے کہا کہ وزیر اعظم اس کی ذمہ داری ہیں اور ہاؤس کو بتائیں کے 147 فائلوں کا کیا ہوا؟ لاپتہ فائلوں میں کوئلہ بلاک کی درخواستیں بھی شامل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے سشما سوراج نے الزام لگایا کے یہ فائلیں اس لئے لاپتہ ہوئی ہیں کیونکہ کانگریس کے کچھ بڑے نام اس میں شامل ہیں۔ سشما چاہتی تھیں کہ لوک سبھا اسپیکر میرا کماروزیر اعظم منموہن سنگھ کو ایوان میں بیان دینے کے لئے ہدایت دیں۔ وزیر اعظم کے پاس 2006 سے2009ء کے درمیان کوئلہ وزارت کی ذمہ داری تھی۔راجیہ سبھامیں بھی اس مسئلے کو لیکر بھاری ہنگامہ ہوا ہے۔ خبر ہے کہ11 کمپنیوں کے کول الاٹمنٹ سے متعلق فائلیں غائب ہیں اور ان11 کمپنیوں کو یوپی اے سرکار نے ہی الاٹ کیا تھا اور زیادہ تر کانگریسی اس میں ڈائریکٹر ہیں یا ان کی کمپنیاں ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ کارنامہ انہی میں سے کسی نے انجام دیا ہے تاکہ سپریم کورٹ میں سی بی آئی کا کیس کمزور پڑجائے۔ پچھلی کچھ وجوہات سے بھی یہ شبہ کرنا نامناسب نہیں کے جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ قریب1.76لاکھ کروڑ کے کرپشن کے اب تک کے سب سے بڑے معاملے میں سی بی آئی کی اسٹیٹس رپورٹ میں تبدیلی کو لے کر پہلے ہی سرکار کی فضیحت ہوچکی ہے اور سرکار بے نقاب ہوچکی ہے۔ سی بی آئی کی یہ رپورٹ وزیر قانون وزیراعظم کے دفتر اور کوئلہ وزارت کے حکام تک نے نہ صرف دیکھی بلکہ رپورٹ میں تبدیلی بھی کروائی۔ کہیں سرکار کو یہ ڈر تو نہیں کے جانچ میں اگر پرتیں کھلیں تو گھوٹالے کی آنچ کوئلہ وزارت کے انچارج رہے وزیر اعظم تک نہ پہنچ جائے؟ 

(انل نریندر)

ایڈیشنل سیشن جج راجندر شاستری کا حوصلہ افزاء فیصلہ!

دہلی میں اور کئی ریاستوں میں پولیس نظام میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر یعنی ایس ایچ او ایک بہت اہم کڑی ہوتا ہے۔کسی بھی علاقے کے تھانے میں اے سی پی اور ایس ایچ او ہی تھانے کو چلاتے ہیں۔ اے سی پی سے لیکر پولیش کمشنر تک سبھی کو ایس ایچ او کے ذریعے سے قانون و نظام چلانا ہوتا ہے اس لئے ایس ایچ او ایماندار اور اچھے کردار والا ہونا ضروری ہے اور یہ بات دہلی کے نئے پولیس کمشنر بھیم سین بسّی اچھی طرح سے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ گذشتہ منگلوار کو سیول لائن میں واقع شاہ ایڈیٹوریم میں انسپکٹر اور ایڈیشنل پولیس کمشنر سطح کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے بسیّ نے کہا کہ راجدھانی کے تھانوں میں تعینات ایس ایچ او کے خلاف کسی بھی طرح کے کرپشن کی شکایت ملنے پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کئی ایس ایچ او اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کر لوگوں سے پیسہ لیتے ہیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ جب ایسے ملازم اپنے طریق�ۂ کار میں تبدیلی نہیں لائے تو شکایت ملنے پر ان پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے راجدھانی میں رہنے والی خواتین اور لڑکیاں اپنے آپ کو عدم تحفظ محسوس کرتی ہیں۔ انہیں اکیلے میں گھر سے نکلنے میں ڈر لگتا ہے، اس حالت کو ہمیں بدلنا ہوگا۔ مسٹر بسیّ کی ترجیحات تو صحیح ہیں لیکن ان پرکتنا عمل ہوتا ہے یہ دیکھنے کی بات ہے۔ جب عورتوں کی بات کریں کے جب مہلا تھانے میں پولیس وردی میں محفوظ نہیں تو باہر کیاعالم ہوگا آپ خود ہی اندازہ لگا لیں۔ گذشتہ دنوں ساکیت کے ایڈیشنل سیشن جج راجندرکمار شاستری نے ایک نچلی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خاتون کانسٹیبل کی شکایت پر ایک ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ معاملہ کالکاجی تھانے کے علاقے کا ہے۔ بتایا جاتا ہے کے کالکاجی تھانے میں اس وقت تعینات خاتون کانسٹیبل سومیکا بھاٹی اور انسپکٹر بی ۔ایس راناکے درمیان تنازعے کا ہے۔اس معاملے میں 22 سالہ خاتون کانسٹیبل نے شکایت کی تھی کے7 جنوری 2012ء کو جب کالکا جی تھانے میں رات کو وہ ڈیوٹی کررہی تھی تب اسے فوراً ایس ایچ او نے رات1 بجے پہلی منزل پر بنے ریسٹ روم میں بلایا اور چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔ اس کے خلاف متاثرہ لڑکی نے جرائم کی دفعہ 156(3) کے تحت کارروائی کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اے سی ایم ایم کے یہاں مقدمہ دائر کردیا۔ متاثرہ نے اپنے علاقے (ساؤتھ ایسٹ ) کے ڈی سی پی سے بھی اسی دن شکایت درج کرائی تھی لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ اسی درمیان متاثرہ لڑکی کا تبادلہ سریتا وہار تھانے میں کردیا گیا۔ تھانہ انچارج رانا کے خلاف شعبہ جاتی جانچ بٹھا دی گئی اور اس پر سینسر شپ لگا دی گئی۔27 جون 2013ء کو متاثرہ کی عرضی یہ کہتے ہوئے مسترد کردی گئی کے ملزم کے خلاف کارروائی کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔ اس کے خلاف متاثرہ لڑکی نے ایڈیشنل سیشن جج راجندر کمار شاستری کی عدالت میں اپیل کی اور سبھی حقائق اور دلیلوں پر غور کرنے کے بعد عزت مآب جج موصوف نے کہا کہ نچلی عدالت معاملے کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ ملزم متاثرہ کاباس ہے اور ایس ایچ او یہ جگہ ملازمت پر ایک خاتون سے جنسی اذیت رسانی کا معاملہ بنتا ہے۔ ایسے معاملوں میں مناسب تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیش معاملے میں کسی آزاد گواہ کا کوئی سوال نہیں ہے کیونکہ یہ واردات رات کو 1 بجے اور تھانے کی پہلی منزل پر بنی آرام گاہ میں ہوئی تھی جو سنسان رہتی ہے۔ متاثرہ لڑکی کو رات 1 بجے ریسٹ روم میں بلایا گیا تھا۔ وہ شعبہ جاتی جانچ کے دوران ملزم پر لگی سینسر شپ سے ظاہر ہے اس سے پیڑت کی شکایت کو مضبوطی ملتی ہے۔ پورے معاملے کی جوائنٹ سی بی (ویجی لنس) نے بھی جانچ کی ہے۔ ایس ایچ او جیسے کسی طاقتور افسر کے خلاف کوئی خاتون ملازم بلاوجہ الزام نہیں لگائے گی۔ عدالت نے اس بات پر بھی ناراضگی جتائی کے بغیر ایف آئی آر درج کئے متاثرہ لڑکی کا تبادلہ کردیا گیا۔ دہلی پولیس کے رویئے کو افسوسناک بتاتے ہوئے جج صاحب نے کہا کہ جس دہلی پولیس کی ذمہ داری کرائم روکنے کی ہے اسی پولیس نے اپنی ایک خاتون ملازم کے ساتھ ہوئے کرائم کے خلاف آنکھیں بند کرلی ہیں۔ اپنے فیصلے میں جج شاستری نے کہا کہ پہلی نظر میں معاملے کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ کرائم ہوا ہے۔ اس وقت کے ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سے متاثرہ لڑکی کی شکایت پر مناسب کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ ہم ایڈیشنل سیشن جج راجندر کمار شاستری کو اس حوصلہ افزاء فیصلے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ایسے وقت پر عورتوں پر ہر سطح پر جرائم بڑھ رہے ہیں۔ خود پولیس ہی اپنی خاتون ملازموں سے ایسا برتاؤ کرے، برداشت سے باہر ہے۔ جب خود پولیس افسر ایسے برتاؤ اپنے ساتھیوں سے کرے گا تو جنتا کا کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

21 اگست 2013

مودی کا مشن 2014 اور مسلم ووٹ!

حالانکہ ایک کے بعد ایک سروے جو آرہے ہیں وہ بھلے ہی این ڈی اے کو2014ء لوک سبھا چناؤ میں ڈیڑھ سو کے آس پاس سیٹیں دے رہے ہوں لیکن نریندر مودی کی رہنمائی سے گد گد بی جے پی نے اپنے دم پر 272 سیٹیں جیتنے کا نشانہ طے کرلیا ہے۔ ایتوار کو نئی دہلی میں ہوئی قومی چناؤ مہم کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں پارٹی صدر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ انہیں بھروسہ ہے کہ پارٹی اس مرتبہ اپنے دم پر اکثریت حاصل کرلے گی۔ میٹنگ میں لال کرشن اڈوانی سمیت تمام نیتا موجود تھے۔ اس چناؤ کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت نریندر مودی نے کی۔ انہوں نے راجناتھ سنگھ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر272 سیٹوں کا نشانہ حاصل کرنا ہے تو دیش کے ووٹروں کے ہر طبقے کو ساتھ لیکر کوشش کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا مسلم ووٹ بی جے پی کو نہیں ملیں گے یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ جب گجرات میں 25 فیصدی مسلم ووٹ ہمیں دے سکتے ہیں تو دوسری ریاستوں میں کیوں نہیں؟ گجرات میں مودی کو مسلم ووٹ ملنے پر کچھ اعدادو شمار آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو کچھ دن پہلے گجرات کے ایک مسلم لیڈر مسٹر ظفر نے بتائے۔ ان کا کہنا ہے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ پچھلے 10 برسوں میں گجرات میں خاص کر گجراتی مسلمانوں کی ترقی کے لئے مودی نے کیا کیا؟ 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں31 فیصدی مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ مودی کو 2002ء کے فسادات کے لئے دن رات کوسا جاتا ہے۔ بھلے ہی یہ دنگے مودی کے لئے ایک بدنما داغ ہیں لیکن ایسا نہیں کہ یہ فسادات پہلے نہ ہوئے ہوں اور دیش کے دیگر حصوں میں نہیں ہوئے۔ 
بھارت میں آزادی کے بعد کی تاریخ میں سب سے خوفناک فساد 1969ء میں احمد آباد میں ہوئے تھے جس میں 5ہزار مسلمان مارے گئے تھے۔ اس وقت گجرات کے وزیر اعلی کانگریس کے ہتیندر بھائی ڈیسائی تھے او ر دیش کی وزیر اعظم اندرا گاندھی ہوا کرتی تھیں اس کے بعد دوسرا بڑا فساد1985ء میں گجرات میں ہوا جس کے بعد چھوٹے موٹے دنگے مہینوں چلتے رہے۔ تب گجرات کے وزیر اعلی کانگریسی مادھو جی سولنکی تھے اور بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی ہواکرتے تھے۔ 1987ء میں گجرات میں پھر فساد ہوئے اور تب بھی گجرات کے وزیر اعلی کانگریس کے امرسنگھ چودھری ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد 1990ء میں پھر دنگے کی آگ بھڑکی۔ اس وقت کانگریس کے ہی چمن بھائی پٹیل وزیر اعلی تھے اور آخر1992ء میں ہوئے فساد کے سمے گجرات کے وزیر اعلی کانگریس کے چیمابھائی پٹیل ہی تھے۔ گجرات کی تاریخ میں سینکڑوں فسادات میں سے ان پانچ بڑے فسادات کے لئے ہمارے دانشور اور مسلمان کسے ذمہ دار مانیں گے؟ اور یاد کیجئے کہ گجرات میں 2002ء کے بعد امن چین قائم ہے تو کیا آج تک مسلمانوں کے محبوب کانگریسیوں نے ان دنگوں میں مارے گئے مسلمانوں کے لئے کبھی اپنے منہ سے ایک بھی لفظ نکالا کیوں؟ کانگریس محض 2002ء کے دنگوں کے لئے روتی رہتی ہے؟ کانگریس کے راج میں ان دنگوں میں مارے گئے مسلمانوں کا خون خون نہ ہوکر کیا پانی تھا؟ جب گجرات کے مسلمان 2002ء کے دنگوں کو بھول چکے ہیں توکانگریس کیوں انہیں بار بار اچھالتی ہے؟
میڈیا اس بات کو نہیں نوٹ کرتا کہ گجرات اسمبلی چناؤ (2012ء) میں 8 میں سے6 مسلم اکثریتی سیٹوں پر بھاجپا جیتی تھی اور2013ء کے بلدیاتی اداروں میں بھی مسلمانوں نے بی جے پی کو ہی ووٹ دیا تھا۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے کے نریندر مودی کی قیادت میں گجرات میں امن چین اور ترقی کا دور آیا ہے اور مسلمان بس اتنا ہی چاہتے ہیں ۔ کیونکہ ترقی کرنے میں وہ اہل ہیں اگر امن چین رہے حال ہی میں سلمان خان کے والد اور کہانی مصنف سلیم خان نے ایک ٹی وی چینل پر سوال کیا کہ مہاراشٹر میں جب فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے تو کون بتائے گا کہ اس وقت کے وزیر اعلی کا نام؟مسلم فسادات میں اترپردیش کا وزیر اعلی کون تھا؟ میرٹھ دنگوں کے دوران وزیر اعلی کون تھا؟ جب بہار کے بھاگلپور میں فساد ہوئے تو وہاں کانگریس کی حکومت تھی کیا کسی کو یاد ہے کہ 1984ء کے دہلی دنگوں میں کون وزیراعلی تھا؟ تو پھر کیوں اکیلے نریندر مودی کو2002ء کے فسادات کے بارے میں بار بار برا بھلا کہا جاتا ہے؟ مودی نے گجرات میں ترقی کا نیا طریقہ جو اپنایاہے اس میں مذہب۔ ذات کی کوئی جگہ نہیں ہے اسی وجہ سے مہذب مسلم دانشور مولانا وستانوی جو خود ایک گجراتی مسلمان ہیں، کا کہنا ہے کہ گجراتی مسلمانوں نے مودی سرکار کی پالیسیوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور ایک دیگر تاریکین وطن لارڈ ایڈم پٹیل (انگلینڈ) جب بھارت آئے تھے تو انہوں نے گاندھی نگر جاکر نریندر مودی سے ملاقات کی اور گجراتی مسلمانوں کی ترقی کے لئے مبارکباد دی۔ یہ ہی نہیں گجرات کے مسلمان ہی اکیلے مودی کی حکومت کی تعریف کرتے ہیں۔ایک مسلم اخبار’ملی گزٹ‘ کو دئے گئے انٹرویو میں سابق ڈی جی مہاراشٹر ایس۔ ایم شریف نے کہا کہ تمام بھارت میں مسلمانوں کے لئے سب سے محفوظ جگہ گجرات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان مہاراشٹر نے پہنچایا ہے۔ یہاں پچھلے 10 سالوں سے کانگریس۔ این سی پی کی حکومت چل رہی ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار مشہور فلم ساز مہیش بھٹ نے چیلنج بھرے لہجے میں کہا کہ نریندر مودی سن رہے ہوں کہ جس مذہب کو تم آئے دن کوستے رہتے ہو کہ یہ آتنک وادیوں کی سرزمیں ہے؟ اس کے رسول نے کیا کہا ہے۔۔۔؟ مہیش بھٹ کو کچھ دنوں کے بعد نریندر مودی نے فون کیا کے مہیش بھائی پانچ مسلمان آئیں ،50 آئیں،500 آئیں میں سب سے ملنے کو تیار ہوں۔ میں آپ کی ساری پریشانیوں کو حل کرنے کے لئے تیار ہوں۔ گجرات میں مسلم مدرسے کے طلبا اب ایس ایس سی اور 12 ویں جماعت کا امتحان دے سکتے ہیں۔ 
مسلم مدرسوں اور ہسپتالوں کی تعداد بڑھی ہے۔ حج کے لئے جہاں گجراتی مسلمانوں کا کوٹہ3500 کا ہے وہاں اب تک 41 ہزار درخواستیں آچکی ہیں۔ حج پر جانا مسلمانوں کی اقتصادی و سماجی ترقی اور سلامتی کی علامت ہے۔ گجرات میں کچھ اور بھڑوچ دو ایسے علاقے ہیں جہاں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ کچھ میں 35 فیصدی مسلمان ہیں بھڑوچ میں20 فیصدی۔ گجرات سرکار کے ملازموں میں 10 فیصدی مسلمان ہیں جبکہ پولیس میں12 فیصدی۔ ان سب کے باوجود کانگریس نریندر مودی کو مسلمانوں کا دشمن کہے تو اس کے پیچھے مقصد صاف ہے۔ یہ صرف سیاسی کھیل ہے اور ووٹ بینک کی سیاست ہے اور یہ بات اب مودی بھی خوب سمجھتے ہیں اور مسلمان بھی۔ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ بھارت کے مسلمانوں کو نریندر مودی سے نفرت ہو۔
(انل نریندر)

20 اگست 2013

ٹنڈاکی گرفتاری دہلی پولیس کی شاندار کامیابی!

دہلی پولیس نے ہندوستان کے 20 انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں شامل اور ممنوعہ لشکر طیبہ کے دہشت گرد و بم بنانے کے ماہر عبدالکریم عرف ٹنڈا کو گرفتار کرکے شاندار کارنامہ انجام دیا ہے۔ ٹنڈا کو جمعہ کی دوپہر قریب 3 بجے ہند۔ نیپال سرحد کے بنواسا مہندر گڑھ علاقے میں دبوچا گیا۔ اس کے پاس سے 23 جنوری کو بنایا گیا پاکستانی پاسپورٹ ملا ہے جس پر اس کا نام عبدالقدوس لکھا ہوا تھا۔ دہلی پولیس نے سنیچر کوا سے عدالت میں پیش کیا۔ جہاں سے اسے تین دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ عبدالکریم ٹنڈا کون ہے اور کیوں ہے اور اس کی گرفتاری کافی اہم مانی جارہی ہے۔ دہلی کے دریا گنج میں مقیم رہا عبدالکریم 70 برس بنیادی باشندہ پلکھوا ضلع ہاپوڑ کا ہے۔ 1985ء میں امونیم نائیٹریٹ اور پوٹاشیم کلوریڈ سے رنگے کپڑوں کا کیمیکل بناتے ہوئے دھماکے میں اس کا بایاں ہاتھ اڑ گیا تھا جس کی وجہ سے اس کو ٹنڈا کہا جاتا ہے۔ عبدالکریم ٹنڈا دیسی تکنیک سے بم بنانے میں ماہر ہے۔ وہ لشکر طیبہ کا دہشت گرد ہے۔5-6 دسمبر 1993 ء کو مختلف مقامات پر ٹرینوں میں ہوئے بم دھماکوں کے بعد ٹنڈا کا نام سامنے آیا تھا۔ حیدر آباد ،رودرگڑھ(راجستھان) لکھنؤ ،گلبرگ (کرناٹک) سمیت سورت میں ٹرینوں میں ہوئے دھماکوں میں اس کا ہاتھ تھا۔ 20/11 ممبئی حملے کے بعد پاکستان کو سونپی گئی 20 دہشت گردوں کی فہرست میں اس کا نام15 ویں نمبر پر تھا۔ جوائنٹ پولیس کمشنر ایم ۔ایم اوبرائے کے مطابق لشکر کے چیف حافظ سعید کے ساتھی کے طور پر ٹنڈا کو ایسی کئی کارروائیوں کی جانکاری ہوسکتی ہے جنہیں لشکر نے بھارت میں انجام دیا ہے۔ لشکر کے بانی اور جماعت الدعوی کے چیف حافظ سعید کے قریبی ٹنڈا اچانک 15 سال بعد اس طرح دیش میں داخل کرانے سے سکیورٹی ایجنسی چوکس ہوگئی ہیں۔ اسپیشل سیل کے پولیس کمشنر ایس۔ ایس سریواستو بتاتے ہیں کے ٹنڈا نے لشکر کمانڈر ریحان عرف ظفر، اعظم چیما عرف بابا جی، زکی الرحمان لکھوی کے علاوہ پاکستان میں بیٹھے ببر خالصہ انٹرنیشنل کے چیف بادواسنگھ اور انڈین مجاہدین کے عبدالعزیز کا بیحد قریبی ہے۔ داؤدا براہیم سے بھی ٹنڈا کے اچھے رشتے ہیں حالانکہ عبدالکریم کی گرفتاری پر تھوڑا تنازعہ ہے ۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے ایک خلیجی ملک سے جلا وطن کراکے لایا گیا ہے جبکہ دوسرے ذرائع کے مطابق ٹنڈا قریب 10 دن پہلے کراچی سے نکلا اور پھر دوبئی کے راستے کاٹھمنڈو پہنچا۔ خفیہ ایجنسیوں نے دہلی پولیس کو ٹنڈا کے ممبئی میں ہونے کی خبر دی تھی۔ حالانکہ پولیس کمشنر بی ۔ ایس بستی کا کہنا ہے کہ یہ سیدھے طور پر گرفتاری کا معاملہ ہے۔ بہرحال جیسے بھی ٹنڈا کی گرفتاری ہوئی ہے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ٹنڈا اس لئے خطرناک ہے کہ وہ بم ماہر کی شکل میں لشکر طیبہ کی اہم کڑی ہے۔ اس کا تعلق داؤد ،حافظ سعید و لشکر کے دیگر کمانڈروں سمیت انڈرورلڈ سے ہے۔ ممبئی میں 1993 ء میں بم دھماکے اور 97-98ء میں دہلی میں ہوئے دھماکوں سمیت دیش بھر میں قریب40 دھماکوں میں شامل ہونے کا شبہ ہے۔ کامن ویلتھ گیمز سے پہلے ٹنڈا نے دہلی اور آس پاس دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ ٹنڈا کے اشارے پر پاکستان اور بنگلہ دیش سے دہشت گردوں نے دہلی میں 24 اور ہریانہ میں5 اور یوپی میں3 بم دھماکے کئے۔ سی بی آئی نے ٹنڈا پر جموں وکشمیر کے باہر دہلی ،حیدر آباد، روہتک اور جالندھر میں43 بم دھماکوں کا الزام لگایا ہے۔ ان میں 20 لوگ مارے گئے تھے اور400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 1996ء میں انٹرپول میں ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا تھا۔20 سال سے مختلف ملکوں میں پھر رہا ٹنڈا پہلی بار گرفتار میں آیا ہے۔ 2011ء میں پاکستان کو دوبارہ دی گئی 49 آتنک وادیوں کی فہرست میں بھی اس کا نام شامل تھا۔اب جب پولیس کی گرفت میں عبدالکریم ٹنڈا آگیا ہے امید ہے کہ کئی نئی جانکاریاں ملیں گی۔ عبدالکریم ٹنڈا کی گرفتاری آتنک واد کے خلاف لڑائی میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ دہلی پولیس اورہماری خفیہ ایجنسیوں کو مبارکباد۔
(انل نریندر)

مصر پھر اسی موڑ پر آگیا ہے جہاں سے وہ2011ء میں چلا تھا!

بدقسمتی سے مصر اسی دور سے گزر رہا ہے جو تحریک 2011ء میں تحریر چوک سے شروع ہوئی تھی۔ جمہوریت کا خواب چکنا چور ہوتا نظر آرہا ہے۔ ویسے تو جولائی کی شروعات سے ہی محمد مرسی کو معزول کردینے کے بعد سے ہی مصر جل رہا تھا لیکن تب سے اب تک فوج کی بربریت جاری ہے اور جس نوعیت کی ہے اس کا تصور بھی نہیں تھا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ تشدد کی تصویریں فوجی ملازمین کی بے رحم حرکتوں کی کہانی بیان کرتی ہیں ۔قریب ساڑھے چھ سو کے قریب مرنے والوں کی تعداد بتائی جاتی ہے۔ مرسی کے ہٹنے کے بعد سے ہی ان کے حمایتی انہیں پھر سے اقتدار دلانے کی مانگ پر اٹل ہیں لیکن فوج کسی بھی قیمت پر اس کے لئے تیار نہیں دکھائی پڑتی اور یہ ٹکراؤ بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ بدھوار کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فوجی کارروائی میں 500 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ جنوری2011ء میں تیونس میں ’عرب بسنت ‘کے نام سے شروع ہوئے تبدیلی نظام کی لہر ایک ایک کرکے اب عرب ممالک میں پہنچ گئی ہے۔ مصر بھی اس سے اچھوتا نہیں رہا اور اس میں18 دنوں کے انقلاب کے بعد 11 فروری2011ء کو ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا تختہ پلٹ دیا اور جمہوریت کی طرف قدم بڑھائے۔ مبارک کی قریب تین دہائی چلی تاناشاہی کے دوران گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہے آگ بگولہ مصری باشندوں کو انقلاب کے مقام پر لا کر کھڑا کردیا ہے۔ مبارک کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد فوج کی نگرانی میں ہوئے انتخابات میں مصر کو جمہوریت کا راستہ دکھایاگیا اور مسلم تنظیم برادر ہڈ(اخوان المسلمین) کے لیڈر محمد مرسی کو صدر کی شکل میں دیش کی باگ ڈور سونپی گئی۔ یہ ٹھیک ہے کہ جمہوری سرکار کے سربراہ کے طور پر مرسی نے مصر کے آزاد اداروں کو ایک ایک کرکے ختم کردیا اور ساری طاقت مسلم برادر ہڈ کے ہاتھوں میں مرکوز کرکے انہوں نے صاف کردیا تھا کہ فوجی مشینری کے اقتدار والے مصر میں اب کٹر پسند راج چلے گا۔ بیشک مسلم برادر ہڈ ایک کٹر پسند تنظیم ہے لیکن انہیں دہشت گردوں کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ فوج دلیل دے رہی ہے کہ ملک کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔ اس معاملے میں سب سے اعتراض آمیز رویہ تو امریکہ کا ہے۔ صدر براک اوبامہ نے دکھاوے کے طور پرا س تشدد کی مذمت کی اور احتجاج کے طور سے دو سال میں ہونے والی امریکہ۔ مصر فوجی مشقوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا جبکہ 2011ء میں تشدد کے سبب یہ نہ ہوپائیں تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے قتل عام پر خاموشی اختیار کر جلد چناؤ کی مانگ کرتے ہوئے پوری طرح وضاحت کردی ہے کہ بڑی طاقت والا دیش (امریکہ ) مصر کی فوج کے ساتھ ہے۔ مرسی کے تختہ پلٹ کے بعد سے اب تک تین بڑے تشدد کے واقعات ہوئے ہیں جس میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں گئی ہیں پھر بھی مسلم برادر ہڈ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے مصر کے سبھی فریقوں کو تشدد ترک کرنے اور صبر سے کام لینے کی اپیل کی ۔ کئی ملکوں نے اپنے شہریوں کو وہاں کے سفر سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔ سعودی شاہ عبداللہ نے انترم حکومت کی وکالت کرتے ہوئے مظاہرین کو دہشت گرد بتایا ہے۔ مصر میں یہ خونی حالات کب ختم ہوں گے؟
(انل نریندر)


18 اگست 2013

پردھان منتری منموہن سنگھبنام بھاوی پردھان منتری نریندر مودی!

یوم آزادی کے ٹھیک ایک دن پہلے گجرات کے مکھیہ منتری اور بھاجپا کے چناوی مہم کمیٹی کے سربراہ نریندر مودی نے کہا تھا کہ دیش 15 اگست کودو پیغام سنے گا ۔ ایک بھاشن روایتی طورسے لال قلعہ سے ہوگا۔تو دوسرا لال کالج سے ہوگا۔ ان دونوں تقریروں کی بنیادپر لوگ اپنی رائے طے کریں گے۔انہی دعوؤں کے دوران جمعرات کو ادھر پردھان منتری منموہن سنگھ نے دیش کو دسویں بار لال قلعہ سے مخاطب کیا وہیں نریندر مودی نے منموہن سنگھ کی ہر بات اور دعوے کا جواب دیا۔ نریندر مودی کے اس قدم کی کچھ لوگ تنقید بھی کررہے ہیں۔ سینئر بھاجپا نیتا لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ یوم آزادی جیسے دن نیتاؤں کو ایک دوسرے کی تنقید نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج ڈاکٹرمنموہن سنگھ کو سنا یوم آزادی کے موقعہ پر آج کسی کی بھی آلوچنا کئے بغیر ہم سب کو مخصوص کرنا چاہئے کہ بھارت کے پاس مستقبل کے لئے لامحدود صلاحیت ہے۔ شری اڈوانی کے وچاروں سے زیادہ تر بھاجپا اور خاص کر مودی حمایتی ناراض ہے ان کاکہنا ہے کہ پردھان منتری کابھاشن ایک کانگریس ترجمان کی طرح تھا۔ انہوں نے کانگریس پارٹی والے راجیوں کی تو تعریف کی لیکن بھاجپا والے راجیوں کاذکر تک نہیں کیا۔ کیا یہ دیش کا پردھان منتری بول رہا تھا؟ ویسے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کا لگ بھگ آدھے گھنٹے کے بھاشن میں وہی دقیانوسی باتیں کہی گئیں۔ حالانکہ امید تو یہ تھی کہ منموہن سنگھ اپنے دسویں بھاشن میں ضرور کوئی اچھی باتیں کہے گے۔ پردھان منتری منموہن سنگھ کو سیدھی چنوتی دے کر نریندرمودی نے بھاجپا کے پردھان منتری عہدے کے امیدوار کی شکل میں خودکو پیش کردیا ہے۔ بھج کے لال کالج کے میدان سے لال قلعہ کے لئے اپنی دعوے داری پیش کرتے ہوئے انہوں نے منموہن سنگھ بے حد تیکھے نشانے سادھے۔ شاید یہ پہلی بار ہوگا جب یوم آزادی جیسے موقع پر کسی پردھان منتری کے بھاشن پر اپوزیشن کے کسی نیتا نے اتنی سخت تنقید کی ہو۔ نریندرمودی لیک سے ہٹ کر چلنے والے نیتا تو ہیں ہی، وہ اپناراستہ بھی خود طے کرتے ہیں۔ بھاجپا بھلے ہی مودی کی حسب معمول کے طور پردھان منتری عہدے کے امیدوار کے طور پر اعلان کرنے میں دیری کررہی ہو، لیکن مودی نے خود ہی آگے بڑھ کر پردھان منتری کو سیدھی چنوتی دے کر صاف کردیا ہے کہ 2014میں مقابلہ ان سے ہی ہونا ہے۔ اس پینترے سے مودی نے بھاجپا قیادت پر پردھان منتری عہدے کاامیدوار اعلان کرنے کا بھی دباؤ بڑھادیا ہے۔ 15اگست پر پردھان منتری کو دئے گئے چیلنج اور ان کے بھاشن کی تنقید ہورہی ہو لیکن بھاجپا اور سنگ کے زیادہ تر حمایتیوں نے اسے پسند کیا ہے۔ ان کے حمایتی کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ کن تیور ضروری ہے ۔ دھارضروری ہے۔ دھاردار وار سے دیش بھر میں ایک اپیل جاری ہے۔ نوجوانوں کے علاوہ ان طبقوں کے لوگوں کو بھی مودی لبھا رہے ہیں جو ترقی پر یقین کرتے ہیں یا وہ جو اکثر خاموش رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مودی کو زیادہ پسند کرنے والوں کا خیال ہے کہ ضرورت سے زیادہ شدت پسندی مہنگی کی بھی پڑ سکتی ہے۔ کئی نیتا اسے غیرپختگی کی شکل میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ سبب منظوری کے سوال کو اوربڑھا سکتا ہے۔ وہی کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ لا ل کرشن اڈوانی کے اہم رول میں ہونے سے محاذ کے بڑھنے کے آثار مودی کے مقابلے زیادہ ہے۔ادھر کانگریس کو بھاجپاکھلنائیک بتا رہی ہے۔ کانگریس نے مودی پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گری ہوئی راج نیتی کررہے ہیں۔ مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ پردھان منتری سب سے آخر میں آئیں گے۔ پہلے وہ ہمارے ساتھ بحث کریں۔ انہوں نے کہا کہ مودی پردھان منتری بننے کے لئے اتنے اتاؤلے ہے۔ مودی کے ساس بہو اور داماد سیریل کا ذکر کرنے پر خورشید نے کہاکہ وہ کھلنائک ہے۔ غلام نبی آزاد نے مودی اور پردھان کامقابلہ خارج کردیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرمیں کہوں کہ اوبامہ سے بڑا ہوں تو لوگ مجھے پاگل کہیں گے کیا راج بھوج اور کہا گنگو تیلی میں کوئی موازنہ ہوسکتا ہے؟ ہمارا کہناہے کہ کون راجہ بھوج اور کون گنگو تیلی ہے۔ اس کا تو ہمیں پتہ نہیں ہے لیکن اگر ایک منٹ کے لئے مان بھی لیاجائے کہ نریندر مودگی گنگو تیلی ہے تو اس تیلی نے راجہ بھوج کی ہوا نکال دی۔ پردھان منتری کی رپورٹ کارڈ میں کسانوں کی محنت کی وجہ سے ہی ہم فوڈ سیکورٹی قانون پر آگے بڑھیں۔ منریگا کی بدولت دیہی علاقوں میں کروڑوں غریب لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔ بھار ت میں ہر بچہ کو تعلیم کے مواقع دینے کے لئے ہم نے تعلیم کے حقوق کے قانون بنائے۔ مڈ ڈے میل اسکیم میں روزانہ تقریبا11 کروڑ بچوں کو سکول میں دوپہر کا کھانا دیاجارہا ہے۔ 2005 میں ہم نے قومی دیہی صحت مشن کی شروعات کی تھی۔ مادریت اور نوزائیدہ شرح اموات دونوں تیزی سے گھٹی ہے۔ کچھ سے کرارا کٹاکش کرتے ہوئے مودی کاجواب تھا ترقی اور اچھی سرکار پر ہم سے بحث کریں ۔ پی ایم، نہرو کے آخری بھاشن جیسا تھا، ان کا سمبودھن۔ کانگریس میں بدعنوانی،پریوار واد مضبوط ہے، پہلے ماما بھانجہ اور اب ساس بہو اورداماد کا سیریل چل رہا ہے۔ راشٹرپتی نے سین شکتی بدعنوانی کا سوال اٹھایا لیکن پی ایم چپ، پاکستان اور چین کے سامنے بھی لاچار ہے مرکز۔ ترقی کے مورچے پر ناکام سرکار، اندراگاندھی کی اسکیموں کو بھول گئی کانگریس۔ جیسے انگریزوں سے نجات پائی ویسے ہی بدعنوانی اور خراب طریقے سے سرکار سے لڑناہوگا۔ پردھان منتری نے ترقی کے لئے نہرو، اندراگاندھی، راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کے تعاون کا تو ذکر کیا لیکن سادگی والے لال بہادر شاستری اور سردار پٹیل کے لئے کچھ نہیں کہا۔ منوہن سنگھ کی اس دلیل کے فوڈ بل غریبوں کی سب سے بڑی کلیان کاری یوجنا پر مودی کا جواب تھا یہ ہے کہ نہ صرف ناکافی ہے بلکہ فوڈ بل سے کسی اور کا پیٹ بھرے گا۔ پی ایم نے کہا کہ ابھی ترقی کے لمبے سفر طے کرنے ہے اس پر مودی نے کہا کہ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ منموہن سنگھ کالال قلعہ پر آخری بھاشن ہے تو پھر کس سفر کی بات کررہے ہیں؟ پاکستان اور چین کے اکسانے پر بھارت کی کمزور لچیلا عمل پر منموہن سنگھ کی تنقید کرتے ہوئے مودی نے ان پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بھاشن میں پردھان منتری کو پاکستان کو سخت پیغام دیناچاہئے تھا۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ کیوں نہیں چھیڑ سکتے؟ اس بدعنوانی کا جنم کہا سے ہوا ہے کیا دیش کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ قیادت کے سوال پر بھی مشن 2014 کو انجام تک پہنچانے کی کوشش میں جٹے نریندرمودی کی تیاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آدھے گھنٹے پردھان منتری کے یوم آزادی کے سمبودھن کا جواب مودی نے ایک گھنٹہ تک دیا منموہن سنگھ کی نوسال کی حصولیابیوں کے ساتھ ہی کانگریس کے 60سال کے دورے اقتدار کی بخیاں نریندرمودی نے ادھیڑ کر رکھ دی۔

 (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...