Translater

26 فروری 2016

پل بھر میں خاک ہوگئی پیڑھیوں کی کمائی

ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن تحریک کے دوران ہوئے بلوے اور آتشزنی سے ہوئے نقصان کی بھرپائی میں برسوں میں لگ جائے گے صوبے کے لوگوں نے بھائی چارہ ہی نہیں کھویا، روزی روٹی و انسانیت کھو ڈالی ۔ جس کاروبار کو کھڑا کرنے میں پیڑھیاں کھپ گئی وہ اس احتجاجی کے طوفان میں تنکے کی طرح تباہ ہوگیا۔ بچیں ہے تو بے بسی، لاچاری اور نفرت ۔ نفرت اور ان کے خلاف ہے جنہوں نے چمن کو اجاڑ دیا ہے غصہ ان پر ہی ہے جو ان کی بربادی کو تماش بین بن دیکھتے رہے ۔ سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی کاسہارا چھین گیا ہے۔ کل تک جو مالک تھے آج وہ راکھ کے ڈھیر پر بیٹھے اپنی بے بسی کو کوس رہے ہیں۔ ہندوستانی ریلوے کے مطابق ایک درجن اسٹیشنوں کو جلا دیا گیا ہے۔ ٹرین کے تین انجن بری طرح سے احتجاجیوں نے تباہ کردیئے۔ کئی جگہ ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچایا گیا ہے کروڑوں کانقصان ہوگیا ہے۔ ایسی تحریک ہم نے کبھی نہیں دیکھی ہریانہ کے سونیا پت جند ریزرویشن تحریک کی آگ میں جل رہا تھا اسی دوران پیر کی صبح جی ٹی روڈ پر مکھل کے پاس کچھ عورتوں سے بدسلوکی کی گئیں۔ ایسے بھی خبر ہے کہ بدمعاشوں نے عورتوں سے بدفعلی بھی کی ہے کہاں جارہا ہے کہ بدمعاشوں نے گاڑیوں کو روک کر ان میں آگ لگا دی ۔ جان بچا کر بھاگ رہی عورتوں کو ساتھ بدسلوکی ، بدتمیزی کی گئی۔ دہلی کے وزیرآبی وسائل کپل مشرا منگل کو منک نہر کی مرمت کاجائزہ لینے گئے تھے۔ 150فٹ نہر کاحصہ ٹوٹاہوا ہے۔ دہلی جل بورڈ اور ہریانہ کی ٹیموں نے مل کر جنگی سطح پر 24 گھنٹے میں اس کو مرمت کی۔ اور باقی ساری نہر کو ٹھیک ٹھاک کرنے میں 15دن لگیں گے۔ اس دوران دہلی کے باشندے پانی کو ترس رہے ہیں۔ وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے کہاہے کہ اس تحریک اور بلوے کے پیچھے بڑی سازش ہے پردیش میں سیاسی پارٹی اور انجمنوں نے سازش کے تحت یہ بلوہ کروایا ہے جانچ کرا کر سازش کا مکمل خلاصہ جلد کیاجائے گا اور سازش رچنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہریانہ کو آگ میں جلانے والوں پر کارروائی کی جائے گی۔ ہریانہ کے سابق وزیراعلی بھوپندر ہڈا کے سیاسی مشیر کا آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد سرکار کے نشانے پر سب سے زیادہ کانگریس ہے آڈیو کلپ کی جانچ شروع ہوگئی ہیں۔ وزیراعلی کے مطابق 19 افراد کی موت ہوگئی ہیں۔ اور 20ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ ادھر مراڑی لال گپتا کی مفاد عام عرضی پر جج ایس کے متل اور ایم ایس سدھو کی بنچ نے سرکاری وکیلبی آر مہاجن کو رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ عدالت نے سبھی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو فلاحی کام کے بارے میں سوچنا چاہئے ہریانہ وہی ہریانہ رہنے دیں جیسا کہ اسے جانا جاتا ہے نہیں تو وہ پچاس برس پیچھے چلاجائے گا۔
 (انل نریندر)

پٹھان کوٹ کے بعد اب پامپور

سیکورٹی فورسس نے جموں وکشمیر کے پامپور میں واقع انڈسٹریل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی عمارت میں چھپے سبھی دہشت گردوں کو 48 گھنٹوں تک لمبی چلی مڈ بھیڑ کے بعد مار گرایا۔ عمارت میں تینو دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایتوار کوایک دہشت گرد کو مار گرایا تھا ۔ مڈ بھیڑ میں دو بہادرکیپٹن سمیت 5جوان شہید ہوگئے۔ ایک شہری کی بھی موت ہوگئی۔ سبھی دہشت گرد لشکر طیبہ کے غیرملکی آتنکی وادی تھے۔ مامپور میں ہوا یہ آتنکی حملہ محض 50دن پہلے پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر ہوئے حملے سے کم ضرور تھا لیکن یہ حملہ سرحد پار سے انجام دی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی دوبارہ سے فروری جیسا تھا۔ یہ حملہ اور خوفناک ہوسکتا تھا اگر فوج کے نوجوانوں نے سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے کے بعد پی ڈی آئی پر دہشت گردوں کے قبضے سے پہلے وہاں موجود 100 سے زیادہ طلباء اور اساتذہ کو ہٹا نہیں لیا گیا ہوتا تو یہی نہیں ای ڈی آئی کی عمارت پر بھی نیشنل ہائی وے پر واقع ہے جہاں آمدورفت بنی رہتی ہیں۔ 48 گھنٹے سے بھی زیادہ چلی اس کارروائی میں دیش نے دو نوجوان کیپٹن پون کمار اور تشار مہاجن سمیت پانچ جوان کھو دیئے اس آتنکی حملے کے لئے لشکر طیبہ کی پیٹھ تھپتھپانے والی پاکستانی جہادی تنظیم جماعت الدعوۃ نے اپنا اصلی چہرہ اجا گر کردیا ہے ایسی قابل مذمت واردات کے لئے جماعت الدعوۃ کی سوشل میڈیا کے چیف نے ٹوئیٹ کرکے لشکر طیبہ کو نہ مبارکباد دی ہے بلکہ فوج پر کئی اور حملے کرنے کی وارننگ بھی دے ڈالی ہیں۔ بے رحم کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے دیش کتنی بھاری قیمت چکانی پڑرہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حال کے دو حملوں کو دیکھے جو ایک خاص طریقہ کاپتہ چلتا ہے یہ ایک محض اتفاق نہیں ہے جب جب بھارت پاکستان کے درمیان بات چیت کے امکانات دکھائی پڑتے ہیں تو سرحد پر آتنکی کارروائی کو انجام دیاجاتا ہے۔ مثلاً پامپور میں اس حملے کو انجام جب دیا گیا جب پاکستان میں آخر کار پٹھا کوٹ حملے کو لے کر ایف آئی آر درج کرنے کی خبریں سامنے آئیں ہیں ادھر پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے غیرملکی معاملوں کے مشیر سرتاج عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ پٹھان کوٹ انڈین ایئر بیس پر آتنکی حملے سے متعلق ایک موبائل فون نمبر کاپتہ چلا ہے یہ نمبر جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر پھاولپور کا ہے عزیز نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے میں درج کی گئی ایف آئی آر ایک مکمل اور مثبت قدم ہے۔ اس سے قصورواروں کو انصاف کے کٹھگرے میں کھڑا کرنے میں مدد ملے گی۔ بیشک پاکستانی حکومت نے پٹھان کوٹ حملے پر تعاون کا رخ دکھایا ہے مگر جب تک اظہر مسعود اورحافظ سعید جیسے آتنکی آزاد گھومیں گے تو حملے ہوتے ہی رہیں گے۔
(انل نریندر) 

25 فروری 2016

عمر خالد کی خودسپردگی سوچھی سمجھی حکمت عملی کا حصہ

ملک کی بغاوت کے ملزم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد اور انی بارم بھٹا چاریہ آخر کار منگل کو دیر رات دہلی پولیس کے سامنے سرنڈر کردیا تھا۔ یا یوں کہیں کہ وہ سپردگی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ منگل کے روز دہلی ہائی کورٹ سے راحت نہ ملنے پر یہ دونوں آدھی رات میں جے این یو کیمپس سے باہر نکلے اور خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ دونوں کے خلاف وسنت کنج تھانے میں معاملہ درج ہے۔ اور انہیں تھانے کے ایس ٹی ایف دفتر میں رکھا گیا ہے دونوں طلباء کو دفعہ 124Aکے تحت گرفتار کیاگیا ہے۔ابھی بھی راما ناگا اور انند آشو توش نے سرنڈر نہیں کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ دہلی پولیس نے بڑی سمجھد اری اور صبر سے کام لیا ہے۔ اور وہ ان سیکولرسٹوں کی چال میں نہیں پھنسی۔ وہ کشیدگی چاہتے تھے کہ پولیس جے ا ین یو میں داخل ہوں اور ایک نیا اشو بنائے لیکن پولیس نے تحمل سے کام لیا۔ ہمیں تو یہ بھی لگتا ہے کہ عمر خالد اور دیگر طلباء اچانک سامنے آنا ایک سوچھی سمجھی حکمت عملی اور تیاری کا حصہ ہے۔ قانونی مشورے کے ساتھ تیاری کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ کے سیشن کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔ وہ 9 فروری کے بعد سے لاپتہ رہنے کے بعد عمر ٹھیک پارلیمنٹ سیشن سے سامنے آئے اورانہوں نے سیشن کے دوران گرفتاری دینے پر زیادہ فائدہ ملنے کی امید ہے۔ ساتھ ہی لگتا ہوگا کہ سیشن چلنے کی وجہ سے سرکار دباؤ میں رہے گی۔ کیا عمر خالد اور ان کے ساتھی جے این یو میں چھپے بیٹھے تھے؟ کیا ان کو چھپانے کے لئے جے این یو کے اساتذہ کا رول تھا؟ جس طرح سے 10 دنوں کی لوکا چھپی کے بعد اچانک یہ طلباء سامنے آئے وہ ایک شش وبنچ پیدا کرتی ہیں۔کہ کہیں یہ طالب علم کیمپس میں ہی کسی لیکچرار کے یہاں تو نہیں چھپے ہوئے تھے جے این یو کے اسٹوڈنٹ یونین کے جوائنٹ سیکریٹری سوربھ شرما کی مانیں تو سبھی ملزم کیمپس میں ہی چھپے ہوئے تھے۔اے وی بی پی نے جے این یو کے کچھ ٹیچروں پر الزام لگایا ہے کہ ان تعلقات علیحدگی پسندوں، ماؤں وادیوں اورپاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ہیں جے این یو میں اے وی بی پی کے عہدے دار آلوک سے پیر کو کیمپس میں اخبار نویسیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 9 فروری کے واقعہ کے ملزمان نے ایک بار پھر کیمپس میں آواز بلند کی ہے یہ ہی نہیں، ملک کی بغاوت کے ملزم عمر خالد نے جے این یو کے کچھ طلباء کی توجہ بھی مرکوز کی ہے۔ ہمیں شک ہے کہ ان ٹیچروں سے انہیں شے ملی ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ایسی ٹیچروں کی جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے چند مٹھی بھر لوگ جے این یو کو بدنام کررہے ہیں۔ اگر پولیس جانچ ہوگی تو صاف ہوجائے گا کہ کیمپس میں کہاں ان ملکی باغیوں کو پناہ ملی ہیں۔ جے این یو معاملے میں سنیچراور ایتوار کو خالد سے وابستگی رکھنے والے جے این یو اوردہلی یونیورسٹی کے قریب 40 ٹیچروں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی دس سنیئر صحافیوں سے سوال جواب کئے گئے۔ 30دیگر اساتذہ اور طلباء کو پوچھ تاچھ کے لئے نوٹس دیا گیا ہے۔ جانکاری کے مطابق جن ٹیچروں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہیں وہ مختلف لیفٹ تنظیموں سے جوڑے ہوئے ہیں جانچ میں شامل جنرنلسٹ اور آزاد تصنیف کا کام کرتے رہے ہیں۔ اور لیفٹ تحریکوں سے کسی نہ کسی طرح سے وابستگی رہی ہیں ساتھ ہی جے این یو کے طلباء بھی رہے ہیں۔ فرار ہونے سے پہلے عمر کے موبائل فون ان سبھی سے بات چیت ہوتی تھیں حالانکہ پولیس نے ان لوگوں کے شامل ہونے پر کچھ بولنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن ان لوگوں سے عمر اور اس کے ساتھیوں کی جانکاری شیئر کرنے کے لئے کہا گیا ہے پوچھ تاچھ ان ٹیچروں نے عمر کے ٹھکانے کے بارے میں واقفیت ہونے سے انکار کیا ہے۔ عمر خالد کو جھوٹا پھنسایا جارہا ہے یا وہ دیش دشمن ہے اب سچائی سامنے آجائے گی۔ عدالت میں سب کچھ پتہ چل جائے گا۔
 (انل نریندر)

حافظ سعید کچھ ہندوستانی صحافیوں کو بھرتی کرنے کے فراق میں

اب تک بھارت میں اپنے ناپاک منصوبوں سے کامیاب نہ ہونے سے بوکھلائی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اب اپنی حکمت عملی بدل لی ہیں اب اس کی کوشش ہے کہ بھارت کے نوجوانوں، صحافیوں اور کچھ انجمنوں تک اپنی پہنچ بنائیں اب آئی ایس آئی سوشل میڈیا کو اپنا ہتھیار بنا رہی ہیں ۔ اپنی انوٹھی چھاپ لشکر چیف حافظ سعید کے ٹوئٹر پر اور فیس بک اکاؤنٹ چلا کر بھارت کے خلاف زہر اگل رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک بھارت میں اپنے ناپاک منصوبوں میں ناکام ہونے کے بعد آئی ایس آئی اپنے جہادی پروپیگنڈے کے ساتھ نوجوانوں کو بھڑکانے اور ان تک پہنچ بنانے کے علاوہ کچھ تنظیموں تک اپنی پکڑ بنائے رکھنے کے لئے ٹوئٹر ، اور فیس بک اور یو ٹیوب اکاؤنٹ کا سہارا لے رہی ہیں یہ بھی خبر ہے کہ حافظ سعید ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا چینلوں کے کچھ صحافیوں و اینکروں کے بارے میں جانکاری لینا شروع کردی ہیں۔ تاکہ ان سے رابطہ قائم کرکے اپنے پروپیگنڈوں کے لئے انہیں ذریعہ بنائے ان صحافیوں و اینکروں کا بیک گراؤنڈ کے بارے میں پتا لگایاجارہا ہے اور یہ بھی کوشش کی جارہی ہیں کہ مودی سرکار کے خلاف ہیں اور اکثر مودی اور ان کی سرکار کے خلاف اشو اٹھاتے رہتے ہیں۔ یہ دیکھاجارہا ہے کہ ان میں کون کون قابل رابطہ ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی آتنکی تنظیم لشکر کے چیف حافظ سعید کے اکاؤنٹ چلانے اوراس پر بھارت میں عدم استحکام پیدا کرنے، نوجوانوں کو بھڑکانے اور جہادی باتوں کو لوڈ کرنا شروع کردیا ہے۔ کیونکہ انگوٹھا چھاپ حافظ سعید کو اپنی زبان کے علاوہ اور کوئی زبان بولنی اور لکھنی نہیں آتی ہیں۔ لہذا آئی ایس آئی نے اس ٹوئٹر اور فیس بک اور یو ٹیوب اکاؤنٹ چلانے کا ذمہ بھی لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے ا ب تک حافظ سعید کے اس طرح کے قریب دو درجن اکاؤنٹ بند کرائے ہیں۔ اس کے بعد آئی ایس آئی حکمت عملی بدلتے ہوئے اپنے ہاتھ میں کمان لے لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کہنے کو حافظ سعید کا سائبر سیل ہے جو ہندوستانی صحافیوں کا ایک ڈاٹا بینک تیار کررہا ہے۔ اس میں صحافیوں کے موبائل نمبر، ای میل اورٹوئٹر اکاؤنٹ اور دیگر چیزیں ہیں اس کے علاوہ کچھ طلباء یونینوں اورکچھ دیگر انجمنوں کا بھی ڈاٹا بینک تیار کیاجارہا ہے تاکہ حافظ سعید کے نام پر سوچھی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنی باتوں کو اس اکاؤنٹ پر ڈالا جاسکیں۔ اگر ذرائع کی مانیں تو کچھ دن پہلے حافظ سعید نے کچھ ہندوستانی صحافیوں سے ٹوئٹر کے ذریعے سے رابطہ قائم بھی کیا تھا۔ حافظ سعید کے نام نہاد اکاؤنٹ پر آرہے تشفی بخش جواب سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکس کردیا ہے۔ سیکورٹی ایجنسی ان ہندوستانی صحافیوں سے بھی رابطہ قائم کرنے والی ہے جو ٹوئٹر کے ذریعے لشکر سرغنہ حافظ سعید سے جڑے ہوئے ہیں۔ آئی ایس آئی کی اس خطرناک حکمت عملی پر بلا تاخیر روک لگانا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

24 فروری 2016

ہند ۔نیپال میں دور ہوئی غلط فہمیاں

گزشتہ پانچ مہینوں سے مدھیشی آندولن کے چلتے بھارت سے نیپال کے رشتوں میں آئی گرواہٹ اب دور ہوگئی ہیں۔ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر بھارت آئے نیپال کے وزیراعظم کے پی اولی شرما نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ساری غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں۔ یہ ا چھا ہوا ہے کہ بھارت کے دورے پر آئے نیپال کے وزیراعظم نے کھلے دل سے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیا ن جو غلط فہمیاں تھیں وہ اب دور ہوگئی ہیں یہ اس لئے بھی کیونکہ جو تلخی اولی اور ان کے وزراء نے پچھلے پانچ مہینوں میں دکھائی تھیں وہ اس دورے کے دوران ختم دکھائی دی۔ اچھا ہوتا یہ کام اور پہلے ہوجاتا۔ لیکن کم سے کم اب دونوں فریقین کو یہ یقینی بناناچاہئے کہ دوستی کی راہ میں آگے کوئی رکاوٹ آئے بھارت کی پالیسی کبھی ہندو مخالف تھی اور نہ ہی ہوسکتی ہیں۔ بھارت کبھی نیپال یا وہاں کے لوگوں کو نفرت کی نظر سے دیکھ ہی نہیں سکتا لیکن نیپال کے پہاڑی علاقوں میں جس طرح بھارت مخالف جذبات وقتا فوقتا بھڑک جاتے ہیں ان سے روایتی باہمی رشتوں پر اثر پڑتا ہے۔ جو آئین نیپال نے منظور کیا اس میں پورے مدھیشی علاقے کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اولی اور ان کے وزراء نے و دوسری پارٹی کے لیڈروں نے بھی اس ناانصافی کے اسباب کو سمجھنے کے بجائے مدھیشیوں کی نفرت بھری تحریک کو بھارت کی سازش قرار دے دیا۔ تحریک کے سبب بھارت سے ضروری سامان کی سپلائی متاثر ہوئی۔ مدھیشیوں کی ناکہ بندی سے آئی رکاوٹ کو جان بوجھ کر بھارت کی شرارت کہا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے جلائے گئے۔ ہندوستانی ٹی وی چینلوں کے کیبل سے اتارے گئے ہندوستانی فلموں کی نمائش بند ہوئی، ہندوستانی سفارت خانے پر حملہ ہوئے بھارت نے پورے معاملے میں صبر سے کام لیا اور ایک لفظ بھی نیپال کے خلاف نہیں بولا۔ بھارت پہلے ہی دن سے یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ نیپال کے مفاد میں ہی اس کا مفاد ہے اور اس لئے وہ اس کی ہرممکن مدد کرنے کو تیار ہیں۔ بھارت کا یہ عزم نیپال کے ساتھ ہوئے معاہدوں میں بھی دکھائی دیا ہے۔ نیپال کے ساتھ جو 9معاہدے ہوئے وہ ایک طرح سے اس کی زیادہ تر توقعات تھی تبدیلی کرنے والے ہیں۔ وزیراعظم اولی کو حکومت ہند نے اتنا اعزاز دیا ہی جتنا عام طور پر کسی غیرملکی سربراہ کو دیاجاتا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر وزیراعظم نریندر مودی نے نیپال کے ساتھ روٹی۔ بیٹی یعنی خون رشتے کی بھی بات کہی۔ جو 9 معاہدے و نیپال کی مانگ کے مطابق زلزلہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے 25کروڑ ڈالر یعنی 1600کروڑ روپے دینے کے معاہدے پر بھارت نے خوشی سے دستخط کردیئے۔ راہ داری اور غیرملکی تجارت کے لئے مزید راستہ دینے پر بھی حامی بھردی۔ ان سب سے اولی اور ان کے ساتھیوں کو احساس ہوا ہوگاکہ اس نے ایک بار پھر بھارت کو سمجھنے میں بھول کی تھی۔ 
(انل نریندر)

رنگنگ بیلس کا فریڈم 251 اسمارٹ فون

صرف 251 روپے میں دنیا کا سب سے سستا اسمارٹ فون دینے کا دعوی کرکے شہرت بٹورنے والی رنگنگ بیلس کمپنی کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ فریڈیم ۔ 251 فون کے معاملے میں تنازعہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے۔ رنگنگ بیلس بھلے ہی لاکھوں فون فروخت کرنے کا نشانہ طے کریں،لیکن ابھی تک کمپنی نے اسمارٹ فون بنانے کے لئے ایکسائز ٹیکس محکمہ سے اپنا رجسٹریشن نمبر تک نہیں لیا ہے۔ دراصل کسی بھی کمپنی کو کوئی بھی پروڈکٹ شروع کرنے سے پہلے محکمہ ا یکسائز سے رجسٹریشن نمبر لینا ضروری ہوتا ہے۔ رنگنگ بیلس میک ان انڈیا پروگرام کے تحت فون بنانے کا اعلان کرچکی ہیں۔ کمپنی کاکہناہے کہ 10 اپریل سے 30 جون کے درمیان 25لاکھ فریڈم 251اسمارٹ فون کی ڈلیوری شروع کرے گی۔ حالانکہ گزشتہ سنیچر تک فریڈم 251 کی پانچ کروڑ سے زیادہ بکنگ ہوگئی تھی لیکن کمپنی صرف 25لاکھ فون بنانے ہر مہینے رنگنگ بیلس کو چھ لاکھ سے زیادہ فون بنانے ہوں گے۔ یعنی یکم مارچ سے بھی فون کا پروڈکٹ شروع کیاجاتا ہے تو 3 جون تک یومیہ 20ہزار فون تیار کرنے ہوں گے۔ رنگنگ بیلس کے اسمارٹ فون کی بکنگ کے دوران کمپنی کی طرف سے کوئی ادائیگی نہیں لی گئی ہیں۔ کمپنی نے بکنگ کرانے والے گراہکوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں ادائیگی کرنے کے بارے میں جان کاری دینے کی بات کہی ہیں۔ فریڈم 251 فون کے معاملے میں بڑھے تنازعے کو دیکھتے ہوئے وزیرمواصلات روی شنکر پرساد نے جانچ کے احکامات دے دیئے ہیں انہوں نے یہ قدم بھاجپا ایم گریٹ سمیا کی شکایت پر دیئے تھے۔ انہوں نے اتنی کم قیمت میں اسمارٹ فون دینے کا دعوی کرنے والی اسکیم پر شبہ ظاہر کیاتھا۔ رنگنگ بیلس کو لے کر وزیرمواصلات اور وزیرمالیات سمیت کئی وزارتوں سے رابطہ قائم کیا گیا تھا۔ فریڈم 251اسکیم کے تحت اب تک قریب پانچ کروڑ بکنگ ہوچکی ہیں۔ کمپنی نے اب اپنی ویب سائٹ پر آن لائن بکنگ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ رنگنگ بیلس کے ایم ڈی محیط گوئل نے سستے فون کی لاگت وصولنے کا فارمولہ پولیس کو بھی بتایا ہے کمپنی کا دعوی ہے کہ اس نے میک ان انڈیا پروگرام کے تحت کارخانہ لگانے پر 30 فیصدسبسڈی سرکار سے ملے گی۔ اور ساتھ ہی ای کامرس فرم سنپ ڈیل کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے۔ گوئل نے بتایا کہ فریڈم 251کے تحت دیئے جانے والے فون کی لاگت قریب ساڑھے 1400 روپے ہے۔ پولیس نے ان دعوؤں پر بھی یقین نہ کرتے ہوئے سبھی ملازمین کی تفصیلات مانگی ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ حقیقت ہے یا جھانسہ!
(انل نریندر)

23 فروری 2016

جے این یو کی بساط پر سیاسی روٹیاں سینکتی سیاسی پارٹیاں

پچھلے کئی دنوں سے جاری جے این یو تنازعے کے لئے گناہگار کون کون ہے یہ تو اب عدالتیں ہی طے کرے گی لیکن سیاسی پارٹیاں بحال اس اشو کو لے کر اپنی سیاسی فائدے ونقصان کے لئے اپنی روٹیاں سینکنے میں کوئی کسر چھوڑ رہی ہیں۔ حب الوطنی اور ملک دشمن گیرپالے کھینچ کرا یک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ دراصل تلخ حقیقت یہ ہے کہ جس دن سے نریندر مودی دیش کے وزیراعظم بنے اسی دن سے ایک طرف کانگریس پارٹیاں اور مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان کے خلاف ہوگیا ہے۔ آپ پچھلے دو سال دیکھے شاید ہی کوئی ایسا اشو ہو جب کانگریس و اس اقلیتی طبقے نے مودی کی مخالفت نہ کی ہو۔ جہاں تک لیفٹ پارٹیوں کا سوال ہے تقریبا ساری دنیا میں سمٹ چکی لیفٹ پارٹیوں کی بھی موقع کی تلاش تھی۔ جب وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرسکے۔ ان کی مدد کررہی ہے الیکٹرانک چینل کے اینگر اور مینجمنٹ۔ ٹی وی پر روز یہ کسی نہ کسی بہانے مودی اور ان کی حکومت کو نقطہ چینی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج الیکٹرانک چینل بھی خیموں میں بٹ گئے ہیں کچھ تو کھل کر مخالفت کررہے ہیں اور کچھ حمایت میں ہے ۔ اس سیاسی جنگ میں اصل اشو دب رہے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی 19 فروری کو کیا ہوا؟ 9 فروری جے ا ین یو ایک ریلی میں پاکستان زندہ باد، کشمیر کی آزادی اور بھارت کی بربادی تک نعرے لگے تھے نعرے بازی میں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ نہ صرف جے این یو کے طلبا و طالبات تھی بلکہ اس میٹنگ میں کنہیا کمار بھی موجود تھا اس لئے ریلی تو ہوئی اور اس میں ملک دشمن نعرے لگے۔ یہ تو طے ہے کہ اب سوال اٹھتا ہے کہ کنہیا کمار نے نعرے لگائے یا نہیں؟ کیا اس پر ملک کی بغاوت کا مقدمہ درج ہوناچاہئے تھا یا نہیں؟ دہلی پولیس کمشنر بھیم سین بسئی نے کئی بار دوہرایا ہے کہ پولیس کے پاس کنہیا کے خلاف ٹھوس ثبوت ہے جو عدالت میں پیش کردی گئے ہیں۔ ویڈیو ریکارڈنگ صحیح ہے یا نہیں غیر جانبدارانہ اور سینٹفک جانچ سے ہی طے ہوپائے گا اس کا پتہ لگانے کے لئے دہلی پولیس اور بھارت مخالف نعروں کے ٹیپ اور کنہیا کمار کی آواز کی فورنسک جانچ کرا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائر ہوئے الگ الگ ویڈیو میں کنہیا کمارکے ملک مخالف نعرے لگانے اور نہیں لگانے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ یہ فورنسک جانچ سے ہی صاف ہوپائے گا کہ ملک مخالف نعروں میں کنہیا کی آواز تھی یا نہیں؟ دہلی پولیس کادعوی ہے کہ ویڈیو ٹیپ کے علاوہ پولیس کے پاس 17 گواہ ہے انہوں نے پولیس کے سامنے کنہیا کے خلاف بیان درج کرایا ہے زیادہ تر نے کہا ہے کہ کنہیا نے دیش مخالف نعرے لگا رہاتھا اور اس پروگرام کاحصہ تھا جس میں ملک مخالف نعرے بازی ہوئی۔ کنہیا نے نہ تو نعروں کو روکنے کے لئے کہا اورنہ ہی میٹنگ سے ہٹا۔ 17گواہوں میں زیادہ جے این یو کے ہی لوگ ہے لیکن یہ سیاسی پارٹیاں کورٹ کے فیصلہ کاانتظار نہیں کرناچاہتی اور کنہیا کو بے قصور ثابت کرنے میں لگی ہوئیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ا گر کنہیا نے دیش ملکی بغاوت نہیں کی اور ان پر زبردستی یہ الزام لگایا گیا ہے کہ عدالتیں ہے کہ وہ اسے ملکی بغاوت سے آزاد کردے گی ہماری لڑائی جے این یو سے نہیں ہے اور یونیورسٹی ایسی بھی نہیں ہے کہ وہ ایک بڑا ادارہ ہے جو مٹھی بھر طلبا ء کی وجہ سے آج نشانے پر آگیا ہے اگر آج جے این یو غلط وجوہات سے سرخیوں میں ہے تو اس کے لئے سرکار، یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء سبھی ذمہ دار ہے ملک مخالف سرگرمیوں کے لئے یونیورسٹی میں گرفتاری بھلے ہی پہلی بار ہوئی ہوں لیکن اظہارآزادی کی آڑ میں ایسی حرکتیں ہوں جو بھارت کے ٹکڑے کرنے کی نعرے بازی سبب بنے اگر پہلے ہی ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جاتی تو یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا۔ 80 کی دہائی میں جے این یو کیمپس میں اندرا گاندھی کے خلاف نعرے بازی کو سیاسی احتجاج مان کر بھلا دیاجائے لیکن 2000 میں کارگل میں لڑنے والے بہادر نوجوانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کو قطعی بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ کارگل جنگ ختم ہونے کے بعد ہی جے این یو کیمپس میں بھارت پاکستان مشاعرے کا انعقاد کیاگیا مشاعرے کا لطف اٹھانے کے لئے کارگل میں پاکستان کے ساتھ لڑنے والے فوج کے میجر کے کے شرما اور میجر ایل کے شرما بھی پہنچ گئے۔ ایک پاکستانی شاعر کے ہند مخالف شاعری شعر کا ان کارگل کے دونوں جاں بازوں نے مخالفت کی تھی الٹا ان دونوں جوانوں کی وہاں کے طلباء نے پٹائی کردی۔ان کوادھر مری حالت میں ہسپتال میں بھرتی کیا گیا اس وقت یہ اشو پارلیمنٹ میں بھی اٹھا تھا اس وقت کے وزیر دفاع جارج فرنانڈیز زخمی میجروں کو دیکھنے ہسپتال بھی گئے تھے لیکن طالب علم اور طلباء کی مخالفت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوپائے۔ سرکار نے ایک جانچ کمیٹی بنائی ہے لیکن اس کو جے این یو میں داخل نہیں ہونے دیا۔ 2010 میں پورا دیش میں چھتیس گڑھ نکسلیوں کے ہاتھوں 76جوانوں کے مارے جانے کا غم منارہا تھا۔ جب جے این یو میں اس کی خوشی میں پارٹی چل رہی تھی۔ اخباروں میں اس کی خبر چھپنے کے باوجود اس وقت کی یوپی اے سرکار نے کوئی کارروائی کرنا ضروری نہ سمجھا۔اس کے بعد جے این یو میں کچھ طلباء کے سیدھے نکسلیوں کے ساتھ رشتے بھی ملے اور گڑھ چیرولی میں جے این یو طالب علم ہیم مشرا کو گرفتار بھی کیا گیا تھا پولیس کی جانچ سے صاف ہوگیا ہے کہ بھارت کی بربادی کے لئے پروگرام منعقد کرنے کی سازش رچنا والا عمر خالد بھی ہیم مشرا کی طرح ڈی ایس یو کا ممبر ہے آج بدقسمتی ہے کہ جے این یو کے طلباء کی سرگرمیوں پر لگام لگانے کی جگہ کچھ سیاسی پارٹیاں اپنی روٹیاں سینکنے میں لگی ہوئی ہیں۔
(انل نریندر)

21 فروری 2016

سرپھرے عاشق کی یکطرفہ پیار کی داستاں

حال ہی میں اسنیپ ڈیل کی لیگل ایگزیکٹو دپتی سرنا کا مشہور زمانہ اغوا کانڈ سامنے آیا۔ سوموار کو جب پولیس نے اس کی پرتیں کھولیں تو جو کہانی سامنے آئی وہ کسی رومانچک فلم کی کہانی کو مات دیتی نظر آئی۔ اس کانڈ کو ہریانہ کے 3 لاکھ کے انعامی بدمعاش دیویندر نے انجام دیا۔ جو 16 سال کی عمر میں قتل کے جرم میں جیل جاچکا ہے۔جیل میں اس نے جرمنی کے تاناشاہ ہٹلر اور اپنی بے رحمی کے لئے مشہور منگول بادشاہ چنگیز خاں کی خودنوشت پڑھی۔ یہی نہیں شاہ رخ خاں کی فلم ’’ڈر‘‘ سے بھی وہ کافی متاثر ہے جس میں ہیرو یکطرفہ پیار میں پاگل رہتا ہے۔ دپتی سرنا سے ایک طرفہ پیار کرنے والے دیویندر نے اس کی نگاہ میں اپنا عکس ہیرو کی طرح بنا کر اس کے دل میں اپنے لئے پیارجگانے کیلئے اس واردات کو انجام دیا لیکن اس کی یہ اسکیم دھری کی دھری رہ گئی اور پولیس نے اہم ملزم کے ساتھ اغوا کانڈ میں شامل5 لوگوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار کئے جانے کے بعد دیویندر نے فلمی انداز میں کہا ’’مجھ پر پہلے سے اتنے کیس چل رہے ہیں ایک مقدمہ محبت کا بھی صحیح‘‘ ۔ ایس ایس پی دھرمیندر نے بتایاکہ ایک سال پہلے1 جنوری 2015ء میں دیویندر نے دپتی کو دہلی کے راجیو چوک میٹرو اسٹیشن پر دیکھا اور اسے پہلی نظر میں ہی دپتی سے پیار ہوگیا۔ پہلے ہی دن اس نے اپنے دل میں ٹھان لیا کہ وہ دپتی کو حاصل کرکے رہے گا۔ اس کے بعد اس نے دپتی کا پیچھا کرنا شروع کیا۔اس کے میٹرو اسٹیشن آنے کے وقت کا دیویندر نے ریکی کر پتہ لگا لیا اور اس کے روز مرہ کی سرگرمیوں و پہناوا دیکھنے کیلئے میٹرو اسٹیشن آنے لگا۔ گزشتہ ایک سال میں دیویندر نے قریب150 بار دپتی کی ریکی کی اور اس کے گھر تک بھی پہنچا۔ اس ایک سال میں اس نے کبھی بھی دپتی سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔واقعہ کے دن اسکیم کے مطابق دیویندر ، پروین و حامد آٹو میں تھے اور موہت ،فہیم و ماجد سوفٹ کار میں تھے۔ دپتی 7.40 بجے ویشالی میٹرو اسٹیشن سے باہر نکلی اور دیویندر کے آگے والے آٹو کواوور ٹیک کیا اور صاحب آباد منڈی کے پاس دپتی والے آٹو کا پہیہ پنکچر کردیا۔ اس دوران دپتی اور اس میں بیٹھی ایک اور لڑکی دیویندر والے آٹو میں آگئی۔ اس کے بعد بدمعاش آگے بڑھے اورآٹو میں بیٹھی دوسری لڑکی کو چاقو کی نوک پر میرٹھ تیراہے پر اتاردیا اور راج نگر ایکسٹینشن کے پاس دپتی کو اغوا کرلیا۔ دیویندر دپتی کو اپنے گاؤں لے گیا۔ وہاں ایک زیرتعمیر مکان میں رات و دن رکھا۔ اس دوران دیویندر نے دپتی کا پورا خیال رکھا اور کھانے پینے کا سامان دیا۔ اس نے یہ سب دپتی کے دل میں پیار جگانے کے لئے اپنے دوستوں کی برائی کی اور ساتھ رہنے کو کہا۔ اگلے دن صبح6 بجے دپتی کو سونی پت کے پاس چھوڑدیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’ڈر‘ فلم میں اس کریکٹر کو سائیکوپیتھ سے جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں بھی ایک خاص طرح کی بیماری ہوتی ہے جسے ’ایروٹومینیا‘ کہتے ہیں۔ اس کنڈیشن میں اس شخص کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ سامنے والے کو اس سے پیار ہوگیا ہے پھر اس کے ساتھ وہ اسی طرح سے برتاؤ کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کو پانے کیلئے کچھ بھی کرجاتا ہے۔ حالانکہ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اس طرح کی دماغی حالت والے مجرم ہی ہوں لیکن کئی موقعوں پر ان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کام نہیں کرتی اور وہ کسی طرح کی غلطی کرجاتے ہیں۔ یہ لوگ فلم دیکھ کر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ہے نا فلمی کہانی؟
(انل نریندر)

جنک فوڈ ریکٹ پر صحت تنبیہ کتنی اثر دار ہوگی

پیزا، برگر، نوڈلس جیسے جنک فوڈ پر تمباکو اور سگریٹ کی طرح ہی فوٹو سمیت تنبیہ پیغام لگانے کے متعلق آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) کے ڈاکٹروں کے سجھاؤ کا سواگت ہونا چاہئے۔ ایف ایس ایس آئی کو ڈاکٹروں کے اس سجھاؤ پر جلد سے جلد غور کرنا چاہئے اور اسے سختی سے لاگو کرنے کی سمت میں قدم اٹھانا چاہئے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ فاسٹ اور جنک فوڈ کھانے سے کئی طرح کی بیماریاں ہورہی ہیں۔ مثال کے طور پر بچوں میں بڑھتی ڈائبٹیس، بلڈ پریشر، فیٹی لیور وغیرہ بیماریاں ہوتی ہیں پھر بھی بچے ان کو کھانے سے پرہیز نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے ماں باپ انہیں روکنے کی سنجیدہ کوشش ہی کرتے ہیں۔ایسے میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس سے ہورہے نقصان جاننے کے بعد بھی اس کا استعمال بڑھ رہا ہے؟ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ سالوں میں کھان پان میں کافی بدلاؤ آیا ہے۔لوگ گھر کی چیزیں کھانا کم پسند کرتے ہیں خاص کر بچے باہر کی چیزیں کھانا زیادہ پسند کررہے ہیں۔ یہ دیکھا جارہا ہے کہ پیزا، برگر، چپس جیسے فاسٹ فوڈ و جنک فوڈ زیادہ کھانا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک اثر فیٹی لیور کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ موٹاپے کی وجہ سے بچوں کے گھٹنوں میں درد وخفیہ اعضاء کا عام وکاس نہیں ہونے کی پریشانی ہوتی ہے۔ ان کے علاج کے لئے پہنچے 10سے15 سال کے درمیان کے 220 بچوں پر مطالعہ کیا گیا۔ اس میں پتہ چلا کہ 62.5فیصد بچے فیٹی لیور سے متاثر تھے۔ اس کے علاوہ 20 فیصد بچوں کو بلڈپریشر ہوگیا۔ 60فیصد بچوں میں کالسٹرول کی مقدار زیادہ تھی۔ڈائبٹیس بڑھتی جارہی ہے۔ کثیرالملکی کمپنیاں انہیں بیچنے کیلئے اشتہارات پر کروڑوں خرچ کررہی ہیں جو کہ بچوں اور نوجوانوں کو کافی متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کیلئے نئی نئی اسکیمیں پیش کی جاتی ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ راجدھانی میں قریب6 فیصد بچے اس کی چپیٹ میں آگئے ہیں۔ وہیں بالغوں کی بات کریں تو قریب 25 فیصدی اس سے متاثر ہیں۔سگریٹ شراب کی طرز پر جنک و فاسٹ فوڈ کے پیکٹ میں صحت کے لئے نقصاندہ ہونے کی تنبیہ لکھنے کو لیکر ایک جانب بڑی اور غیر ملکی کمپنیوں میں ہڑکمپ مچ گیا ہے۔ وہیں دوسری جانب اس کے فائدے اور نقصان کو لیکر تنازعہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سگریٹ اور شراب کو لیکر تمام طرح کے پرچار اور چیتاونیاں پیکٹ پر لکھی ہوتی ہیں تو لوگ اسے نہیں مانتے تو کیا پیزا اور برگر جیسے جنک فوڈ پر لکھی چیتاونی کو مانیں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ لوگوں کو نہیں پتہ کہ اس قسم کے فوڈ صحت کے لئے اچھے نہیں لیکن پھر بھی ذائقے کے لئے کھانا پسند کرتے ہیں۔ پیکٹ پر تنبیہ کا کتنا اثر ہوگا یہ کہنا مشکل ہے لیکن کوشش تو کرنی ہی چاہئے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...