Translater
28 جنوری 2023
درجہ حرار ت ما ئنس 25 ڈگری سیلسئس بڑھ جاتا ہے پر زندگی جاری رہتی ہے!
ناروے جیسے دیش جہاں درجہ حرارت مائنس 25ڈگری تک چلا جاتاہے ،وہاں زندگی پھر بھی عام طور سے جار ی رہتی ہے 50،50دن سورج نہیں دکھائی دیتا ۔برف پگھلنے سے چوٹ لگنا عام بات ہے اندھیر میں حادثے بھی ہوتے ہیں اور چیزیں بہت مہنگی ہو جاتی ہیں۔ایسی جگہ کیا آپ رہ پائیںگے؟مگر یہ سکے کا ایک پہلو ہے کئی بار منفیت میں بھی مثبت بھی ہوتی ہے صرف نظریہ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے سین خود بدل جاتا ہے ۔یہ رپورٹ پڑھنے کے بعد یقین ہے کہ آپ کو بھی یہ ضرو ر لگنے لگے گاکہ کاش کہ میں بھی وہاں جاتا پھر وہیں سب جاتا جیساکہ ابھیشیک رنجن یونیورسٹی آف ناروے اقتصادی ریسرچ اسکالر کو لگتا ہے ۔ قریب 70ہزار کے آبادی والے اس شہر کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ چاروں طرف سے اونچی پہاڑیوںسے گھیرا ہوا ہے بیچ میں سمند ر ہے آسمان چھوتی قدرتی رنگین روشنیاں اور دونوں کناروں پر بسی آبادی کا نظارہ دیکھتے ہی بنتا ہے۔پھر 50دنوںمیں سورج نہیں نکلتا جس سے لوگ ویٹامن ڈی اور ویٹامن سی کی گولیوں کی گھیپ جمع کر لیتے ہیں تاکہ جسم میں درکار اجزا کی کمی نہ ہو ۔ سبھی لوگ روز گھر میں کچھ وقت کیلئے ایل ای ڈی لائٹس کو دیکھتے ہیں تاکہ جسم میں سورج کی طرح کی کمی کو پورا کرسکے ۔ پیڑ پودوں کے سامنے بھی یہی لائٹیں لگاتے ہیں تاکہ وہ زندہ رہ سکیں ۔برف پر نہ پھسلیں اس کیلئے اسپائسیز لگاتے ہیں ۔ باہر نکلنے کے وقت ریٹرو رفلیکٹر پہنتے ہیں جو بازوں میں لگتا ہے لائٹ پڑتے ہی چمکنے لگتا ہے تاکہ حادثہ نہ ہو ۔ سردی ہو گرمی برف باری ہو یا بارش یہاں اسکول ،کالج ،آفس کا وقت نہیں بدلتا اور یہ وقت صبح 8بجے سے 4بجے تک رہتا ہے ۔ لوگ پوری زندہ دلی سے جیتے ہیں پیسوں کے بارے میں تو سوچتے بھی نہیں بچت نہیں کرتے چوںکہ علاج ،پڑھائی وغیرہ کا خرچ سرکار اٹھاتی ہے ۔ڈرائیور اور کلینر کا کام کرنے والے بھی ہر مہینے 2.50سے 3لاکھ روپے کما لیتے ہیں ۔ ایک سنیما ہال ہے جہاں الگ الگ زبانوں کی فلمیں چلتی ہیں۔ جنہیں انگریزی میں سب ٹائٹل ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں لال سنگھ چڈھا ایک سنیما میں لگی تھی ۔ یہاں کرائم نہ کے برابر ہے اگر آپ کے پیسے بس میں گر جائیں تو وہ خود واپس مل جائیںگے ۔ یہاں چور نہیں ہیں جہاں سب کچھ ڈیجیٹل ہے جھگڑا تو دور کی بات ہے لوگ چلاتے تک نہیں ۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس آڈی ،مرسڈیز جیسی قمتی گاڑیاں ہیں۔ہنر مند جاب میں کم از کم اجرت 1840روپے فی گھنٹہ غیر ہنر مند 1656روپے فی گھنٹہ نوکری گئی تو بے روزگاری بھتہ ملے گا۔ پانچ سال کی نوکری کی تو پینشن ملنا طے ہے بچہ ہے تو پر ورش کیلئے 12000روپے اور بیوی حملہ ہے تو 9مہینے کی پیڈ علاج کا خرچ 16ہزار روپے تک ۔اس سے اوپر فری ہے۔
(انل نریندر)
فوج سے ثبو ت کی ضرورت نہیںہے!
بھارت جوڑ و یاترانے نہ صر ف راہل گاندھی کی امیج بدلی ہے بلکہ ان میں سنجیدگی بھی آئی ہے ۔ وہ اب اپنی پریس کانفرنسوں میں خود اعتمادی کے ساتھ سنجیدہ جواب دیتے ہیں۔تازہ مثال ہے کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے ذریعے پلوامہ آتنکی حملے کے بارے میں مانگے گئے ثبوت ہی ہے ۔راہل گاندھی نے ٹارگیٹ حملے پر اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کی رائے زنی کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ مسلح افواج نیک نیتی اور غیر معمولی انداز سے اچھا کام کر رہی ہیں اور انہیں کوئی ثبوت دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ راہل گاندھی کو پلوامہ آتنکی حملے پر دئے گئے دگ وجے سنگھ کے بیانات کی طرف توجہ دلائی تھی ۔ان کو لیکر جھجر کاٹھیلی ،جموںمیں منگل کو اخباری نمائندوں کے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی دگ وجے سنگھ کے بیان سے پوری طرح غیر متفق ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایسے لوگ ہےں جو بات چیت کے دوران مضحکہ خیز باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اور پارٹی کے ایک سینئر نیتا کے بارے میں ایسا بیان دینے پر مجھے دکھ ہو رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے ۔ اگر فوج اچھا کام کرتی ہے تو اسے کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ان کے بیان سے میں پوری طرح سے غیر متفق ہوں اور یہی موقف کانگریس پارٹی کا بھی ہے۔اور یہ بیان دگ وجے سنگھ کا ذاتی نظریہ ہے ۔ گانگریس صدر کھڑگے نے بھی کہا کہ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔ہم ہمیشہ دیش کی ایکتا کیلئے کام کرتے آئے ہیں اور آگے بھی ایسا ہی کریں گے۔ راہل نے ایک بار پھر سنگھ اور بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ہی ان کی امیج (پپو)کہہ کر بگاڑنے کیلئے ہزاروں کروڑ روپے پبلیسٹی پر لگائے ہیں لیکن سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے ۔کانگریس نیتا نے کہا کہ آپ کسی کو بے عزت اور کسی کی امیج کیسے بگاڑ سکتے ہیں۔کسی سرکار کو خرید سکتے ہیںپیسے سے سب کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن وہ سچ نہیں ہوگا۔ سچ ہمیشہ پیسے اور طاقت کو کنارہ کر دیتا ہے اور بھاجپا کے نیتا آہستہ آہستہ اس حقیقت سے واقف ہو رہے ہیں ۔ اس درمیان نامور مصنف پیرومل میروگن اور جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی اور ان کے سابق جی اے میر اور سابق وزیر طارق حمید بھی ترنگا لیکر سیکڑوں لوگوں کے ساتھ پد یاترا کرتے نظر آئے لداخ خطہ کانگریس کے صدر نوانگ ریگن جوٹا کی رہنمائی میں لداخ کے 65ممبری نمائندہ وفد نے یاترا کی شروعات کی ۔ راہل گاندھی کے ساتھ چلتے ہوئے انہیں لوگوں کے مسائل سے واقف کرایا ۔کشمیری پنڈتوں کے ایک نمائندہ وفد نے بھی راہل گاندھی سے ایک گھنٹے بات چیت کی تھی۔راہل گاندھی نے اس کا ذکر پریس کانفرنس میں بھی کیا۔ جموں وکشمیر میں یاترا کےساتھ جس طرح مقامی لوگ جڑ رہے ہیں وہ بہت ہی اہم ہے ۔راہل گاندھی کی یاترا سے ایک نیا ماحول تیار ہوا ہے ۔ورکروں میں نئی جان آئی ہے فصل تیار ہے کاٹنے والا چاہئے ۔دیکھنا یہ ہے کہ راہل کی یاترا کا کانگریس کیا فائدہ اٹھاتی ہے ۔
(انل نریندر)
24 جنوری 2023
پاکستان کے اقتصادی حالات سری لنکا سے بھی بد تر !
پاکستان اقتصادی تنگی کے بحران میں پھنستا جا رہا ہے ۔جنتا کو آٹے جیسی ضروری چیزوں کی قلت کے ساتھ زبردست مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قرض 274ارب ڈالڑ یعنی 62لاکھ کروڑ کا پاکستان قرضدار ہو گیا ہے ۔ جو جی ڈی پی 90فیصد ہے ۔ اس کی پوزیشن سری لنکا سے بھی زیادہ خراب ہے اور ملک کا غیر ملکی کرنسی ذخیرہ 9سال میں سب سے نچلی سطح پر 4.3ارب ڈالر رہ گیاہے۔ جس سے مشکل سے تین ہفتے کیلئے سامان منگایا جا سکتا ہے ۔ اور غیر ملکی کرنسی مشکل کی وجہ سے ضروری سامان کی در آمدات بھی نہیں ہو پارہی ہے ۔ ضروری سامان سے بھرے ہزروں ٹینکر کراچی بندر گاہ پر پیسے کی عدم ادائگی کی وجہ سے اٹکے ہوئے ہیں ۔ قرض چکانے کیلئے پاکستان کو 8ارب ڈالڑ چاہیے تین مہینے کیلئے ۔پاکستان سرکار نے آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کی مدد مانگی تھی لیکن اس نے پیٹرول ڈیژل پر ٹیکس بڑھانے کی شرط رکھی ۔ آنے والے چناو¿ کے چلتے شہباز شریف حکومت قیمتیں بڑھانے سے بچ رہی ہے اور پاکستان روپے کی قیمت گھٹ رہی ہے جس کا مطلب کہ 1کیلئے 228پاکستانی روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں ۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور فوج کی سیاست میں دخل اندازی سے حالات خراب ہو رہے ہیں اس پر ایک سال میں قرض 11.9لاکھ روپے یعنی 25فیصد بڑھا ہے ۔ دسمبر میں مہنگائی 54فیصد بڑھ گئی تھی۔ پاکستان کے 90لاکھ لوگ غریبی کے شکار ہیں ۔عمران سرکار نے جاتے جاتے پیٹرول ڈیژل میں سبسڈی دے دی اب موجودہ سرکار کو اسے واپس لینے کی ہمت نہیں ہے اگر سبسڈی واپس لی جاتی ہے تو دام بڑھنے سے مہنگائی اور بڑھ جائے گی۔اور درمیانی اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی خریداری صلاحیت 30فیصد کم ہوگئی ۔ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور خرید کم ہوگئے ہیں اس سے حالات اور خراب ہو گئی ہے ۔ مال کی ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے جس وجہ سے انڈسٹری میں خصارہ میں آ گئی ہے اور ڈالڑ کی کمی کی چلتے سامان باہر سے نہیں آ پا رہا ہے ۔آٹا، پیاز اور ضروری دوائیں بھی نہیں مل رہی ہیں۔ بینکوں سے لیٹر آف کریڈٹ نہ ملنے سے ہزاروں کنٹینر وں میں سامان اٹکا پڑا ہے ۔ سپلائی چین ٹوٹی ہوئی ہے ۔مرغا مچلی کے دام 45فیصد بڑھ گئے ہیں اور کار کمپنیوں سو زوکی نے اپنے کارخانے بند کر دئے ہیں اور کپڑا انڈسٹری بھی بند ہے ٹوئیٹا کمپنی نے بھی 3دسمبر سے اپنی کاروں کی پروڈکشن روک دی ہے ۔ پچھلے سال گرمیوں میں زبر دست سیلابے دیش میں 80فیصد فصلیں تباہ ہوگئی اس سے غذائیت کی کمی ہو گئی ۔ اٹلانٹک کونسل کے پاکستان میںنمائندے عذیر یونس کا کہنا ہے کہ سیلا ب سے مصیبت زیادہ بڑھی ہے یہی وجہ سے کہ ملک میں غذائیت کی قلت بڑھی ہے۔بہر حال ہم سری لنکا کے حالات پر کافی دکھی تھے لیکن اس سے زیادہ پاکستان میںاقتصادی تنگی کے حالات بن گئے ہیں۔
(انل نریندر)
بی بی سی کی ڈوکومینٹری پر تنازعہ !
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی پر بی بی سی کی ڈوکومینٹری کے بارے میں بھارت کے وزارت خارجہ نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے اور ساتھ ہی بر طانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک نے بھی اس بارے میں برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھے اس سوال کا جواب دیا ہے ۔ واضح ہو کہ بی بی سی نے دو قسطوں کی ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جس کا نام ہے :انڈیا :دی مودی کنیکشن ۔اس پہلی قسط 17جنوری کو برطانیہ میں ٹیلی کاسٹ ہو چکی ہے۔ اگلی قسط آج 24جنوری کو ریلیز ہونے جا رہی ہے ۔جہاں قسطوں میںنریندر مودی کے ابتدائی سیاسی کریئر کو دکھایا گیا ہے جس میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان اروندم باگچی نے جمعرات کو میڈیا سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں یہ صاف کردینا چاہتاہوں کہ ڈوکومینٹری محض ایک پروپیگینڈا پیس ہے اس کا مقصد ایک طرح سے وزیر اعظم کی ساکھ کو نیگیٹو پیش کرنا ہے ۔ جبکہ اسے لوگ پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں ۔فلم یا دستاویزی فلم بنانے والی ایجنسی اور شخص اسی نگیٹی ویٹی کو دوبارہ چلانا چاہ رہے ہیں۔ ترجمان نے بی بی سی کے ارادے پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا کہا کہ ہم اس کے پیچھے کے ایجنڈے پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ دستاویزی فلم ایک غیر شائع رپورٹ پر مبنی ہے جسے بی بی سی نے وزارت خارجہ کے دفتر سے حاصل کیا ہے ۔ اس دستاویز ی فلم میں نریندر مودی کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے گجرات میں سال 2002میں ہوئے دنگوںمیں کم سے کم 2000لوگوں کی موت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ ہے کہ مودی گجرات میں تشدد کا ماحول بنانے کیلئے در پردہ طور پر ذمہ دار تھے ۔پی ایم مودی ہمیشہ تشدد کیلئے ذمہ دار ہونے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں ۔ لیکن جس طرح برطانوی ڈپلومیٹ نے برطانوی وزارت خارجہ کیلئے رپورٹ لکھی ہے اس سے بی بی سی نے بات کی ہے اور وہ اپنی رپورٹ کے نتیجے پر قائم ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ پہلے ہی وزیر اعظم مودی کو گجرات تشدد میں کسی طرح سے ملوث ہونے کے بارے بری کر چکا ہے ۔اس رپورٹ کو لکھنے والے ایک حکمت عملی ساز بتاتے ہیں کہ ہماری جانچ منصفانہ اور واجب ہے ۔سال 2002میں گجرات میں ایک منظم فسا د میں 2000لوگ مارے گئے تھے یہ بھی ایک حقیقت ہے اس رپورٹ کے بارے میں بی بی سی نے خبر بھی دی تھی ۔ یہ رپورٹ اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کے ذریعے آڈٹ کی گئی تھی اور یہ جانچ کا حصہ تھی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ تشدد کا فروغ بھی میڈیا میں آئی رپورٹوں نے کہیں زیادہ تھا۔فسادات کا مقصد ہندو علاقوں سے مسلمانوں کو بھگانا تھا۔ برطانیہ کے ایم پی عمران حسین نے یہ اشو وہاں کی پارلیمنٹ میں اٹھا یا اور پوچھا کہ موجودہ وزیر اعظم رشی سونک ڈپلومیٹس کی اس رپورٹ سے اتفاق رکھتے ہیں جس میں مودی کو تشدد کیلئے سیدھے طور ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ اس پر وزیر اعظم رشی سونک نے کہا کہ وہ ایم کے ذریعے کئے گئے کردار کشی سے متفق نہیں ہیں۔ بر طانیہ کی سرکار کی اس بارے میں پوزیشن اس وقت سے ہی صاف ہے اور میں عزت مآب ایم کے ذریعے کردار کشی سے بالکل متفق نہیں ہوں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...