Translater

06 اپریل 2013

اقتدار کے دو مرکز کو لیکر دگوجے بنام جناردن میں گھمسان

اقتدار کے دو مرکز کے مسئلے پر کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ اپنے قدم واپس کھینچنے کو تیار نہیں ہیں۔ دگوجے سنگھ نے دوہرایا کے میں نے جو کچھ کہا ہے میں اس پر قائم ہوں۔ میں نے وہ آن ریکارڈ کہا ہے۔ اس تنازعے کو چھیڑتے ہوئے کانگریس سکریٹری جنرل اور میڈیا انچارج جناردن دویدی نے میڈیا سے کہا کانگریس صدر اور وزیر اعظم کے درمیان بہتر تال میل ہے اور دونوں کے بیچ جو رشتہ ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ شاید مستقبل کے لئے بھی وہ ایک مثال ہے۔ اس بیان کے بعد یہ قیاس آرائیاں لگنی شروع ہوگئی ہیں کہ یوپی اے ۔III کی صورت میں یہ تجربہ دوہرا سکتی ہے۔ دگوجے سنگھ اور جناردن دویدی کے پاور کے دو مرکز فیل یا فائد ے مند کی بحث نے سیاسی تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی مبصروں کا کہنا ہے کہ جنریشن چینج کے دور سے گذررہی ہے اور پارٹی خود کو تبدیلی کے لئے ابھی پوری طرح تیار نہیں کرپائی ہے۔ اس کا خاطر خواہ اثر نہ صرف پارٹی پر پڑ سکتا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں یہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ساکھ پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ دراصل کانگریس بحرانی دور سے گذر رہی ہے۔ راہل کے جوش اور پرانے لیڈروں کے ہوش کے درمیان تال میل بٹھانے اور ان کے میعار کو بنائے رکھنے میں دقتیں صاف نظر آرہی ہیں۔ جہاں راہل اپنے حساب سے پارٹی کو نئے ویژن کے ساتھ آگے لے جانا چاہتے ہیں وہیں دوسری طرف دوسرا طبقہ تبدیلی کی رفتار کو لے کر فکر مند ہے۔ یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ اگر دگوجے سنگھ راہل گاندھی کے بھروسے مند ہیں وہیں جناردن دویدی سونیا گاندھی کے وفادار ہیں ،آخر ماجرہ کیا ہے؟ ان بیانوں کے پیچھے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ پہلا اگر لوک سبھا چناؤ کے بعد کانگریس کو امید سے کم سیٹیں ملتی ہیں تو شاید راہل گاندھی وزیر اعظم بننا پسند نہیں کریں گے اور ایسے میں منموہن سنگھ یا ایسے دوسرے پاور سینٹر کی ضرورت پڑے گی جو سرکار کی باگ ڈور سنبھالے۔ ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ راہل اتحاد کی سیاست سے اتنے زیادہ مطمئن نہیں رہے ہیں وہ وزیر اعظم تبھی بنیں گے جب انہیں لگے گا کے وہ اپنے طریقے سے فیصلے لے سکیں گے۔ ایسے میں205 سے زیادہ سیٹیں آنے پر ہیں راہل گاندھی وزیر اعظم بننے کی سوچیں گے۔ کانگریس 2014ء میں لوک سبھا چناؤ کو راہل بنام نریندر مودی نہیں بنانا چاہتی۔ ایسے میں مودی بنام منموہن کا ہی متبادل کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ سونیا گاندھی بطور کانگریس صدر ناکام نہیں ہوئی ہیں۔ انہی کی وجہ سے یوپی اے 9 سال سے اقتدار میں ہے۔ اگر سونیا نہ ہوتیں تو کانگریس اتنے طویل عرصے تک اقتدار میں نہ رہتی۔ فیل اگر کوئی ہے تو وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ ہیں۔ ان کی اقتصادی پالیسیاں ، ان کی سرکار کی انتہائی خراب پرفارمینس کانگریس کو ڈوبا رہی ہے۔ اس نقطہ نظر سے دگوجے سنگھ صحیح کہہ رہے ہیں کہ اقتدار کے دو مرکز (منموہن اور سونیا) ناکام ہیں۔ پارٹی کو اندرونی جمہوریت کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ اچھا سسٹم ہے کے تنظیم اور سرکار کی کمان الگ الگ ہاتھوں میں ہے۔ این ڈی اے کے عہد میں یہ ہی سسٹم تھا۔ اٹل جی پردھان منتری تھے اور اڈوانی جی ڈپٹی وزیر اعظم۔ اٹل جی اپنے اتحادی ساتھیوں سے بہتر تال میل کے ساتھ کام دیکھتے تھے اسی لئے انہوں نے شری جارج فرنانڈیز کو اپنے ساتھ لگائے رکھا تھا۔ اڈوانی جی پارٹی کی تنظیم اور سرکار کی کارگذاری پر پوری توجہ دیتے تھے تبھی تو وہ جاکر کامیاب ہوئے۔ ایسا نہرو، شاستری، اندرا گاندھی کے وزیر اعظم کے عہد میں بھی ہوا تھا جب کانگریس کی کمان یو این دیور ، کامراج اور نیلم سنجیوا ریڈی سے لیکر شنکر دیال شرما سمیت کئی لوگوں کے ہاتھوں میں رہی البتہ نرسمہا راؤ اور راجیوگاندھی کانگریس کے دو پردھان منتری تھے جو اپنی پوری میعاد میں پارٹی کے صدر بھی رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سونیا ،منموہن کی جوڑی پارٹی کی اندرونی جمہوریت سے نہیں بلکہ سیاسی حالات سے پیدا ہوئی ہے۔ جس میں منموہن سنگھ بری طرح ناکام رہے ہیں۔ سوال اقتدار کے ایک مرکز کا نہیں ہے اجتماعی ذمہ داری کا بھی ہے جس کی موجودہ سسٹم میں کمی دکھائی پڑتی ہے۔ اس کے ساتھ کانگریس کو جلد ہی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کے کیا لوک سبھا چناؤ 2014ء اسی جوڑی کی قیادت میں لڑنا چاہتی ہے؟ حقیقت میں یہ صورتحال کانگریس کی پریشانی کو ہی دکھا رہی ہے جسے آج نہیں کل یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کون نمبر 2 کا ہے۔ راہل گاندھی کا رول چناؤ میں کس طرح کا رہے گا؟
(انل نریندر)

جیل میں بند مسلم لڑکوں کو راحت دینے کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں

مسلم فرقے میں اپنی پکڑ بنانے کی سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے منموہن سنگھ سرکار نے طے کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے معاملوں میں ملزم بے قصور لڑکوں کے معاملوں کی سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے مطالبے پر غور کرے گی۔دہشت گردی کی سرگرمیوں کے الزام میں جیل میں بند بے قصور لڑکوں کے لئے انصاف کی مانگ کررہے لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا ہم ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔ مارکسوادی لیڈر اے بی بردھن کی قیادت والے اس نمائندہ وفد نے 14 نکاتی مانگوں پر مشتمل ایک میمورنڈم سونپا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بے قصور چاہے وہ کسی مذہب یا گروپ سے تعلق رکھتا ہو، زبردستی دہشت گردی کے الزام میں پولیس کو انہیں گرفتار نہیں کرنا چاہئے اور ایسے معاملوں میں عدالتی کارروائی جتنی جلدی ہوسکے ہونی چاہئے اور بے قصور رہا ہونے چاہئیں۔ لیکن سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر یہ پہل جیلوں میں بند ایک فرقے کے لڑکوں کے لئے ہی کیوں کی جارہی ہے؟ کیا یہ راحت دیش کے ہر ایک شہری کو نہیں ملنی چاہئے؟ چاہے وہ کسی بھی ذات ،مذہب، فرقے یا خطے کا ہو؟ ہم نے تو ہمیشہ سے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق معاملوں کا جلد نپٹارہ ہونا چاہئے۔ برسوں لگ جاتے ہیں فیصلہ آنے پر۔ کئی کیسوں میں تو آخر میں جب فیصلہ آتا ہے تو ملزم بری ہوجاتا ہے ۔ تب تک وہ کئی سال جیل میں گذار چکا ہوتا ہے ۔ اس کی زندگی تو تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔ سرکار کی ٹائمنگ کو دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ کیا یہ پہل 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کی جارہی ہے۔ اس پہل سے تو یہ ہی اشارہ ملتا ہے کہ مبینہ گناہگارمسلم لڑکوں کو راحت دینے کے نام پر چناوی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ شبہ اس وقت پکا ہوجاتا ہے جب مرکزی حکومت نئے سرے سے پسماندہ مسلمانوں کو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دینے کا عزم جتارہی ہے۔جہاں تک آتنک واد کے معاملوں میں بے قصور مسلم لڑکوں کو راحت دینے کی بات ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کئی مسلم نوجوان دہشت گردی سرگرمیوں میں ملوث جیلوں میں بند ہیں اور ان کے معاملے بھی قریب قریب ویسے ہی ہیں جیسے مسلم لڑکوں کے اور پھر صرف مسلم لڑکوں کے دہشت گردی سے متعلق الزامات کی ہی بات کیوں آج پورے دیش میں لاکھوں نوجوان جیلوں میں بند ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزام ثابت نہیں ہوسکے۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں ہزاروں قیدی موجود ہیں جنہیں زیر سماعت جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ کچھ معاملوں میں تو لوگ دہائیوں سے جیلوں میں ہیں آخر ایسے لوگوں کا خیال کیوں نہیں کیا جاتا؟ تہاڑ میں تو کچھ قیدی ایسے بھی ہیں جن کی کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں اور بس وہ ضمانتی نہ ہونے کے سبب تہاڑ میں سڑ رہے ہیں۔ سرکار کی منشا چاہے کچھ بھی ہو لیکن جنتا کے بیچ یہ ہی پیغام جائے گا کہ ایک بار پھر ووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2013

کیگ رپورٹ نے دہلی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا

دہلی اسمبلی میں بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) کی 2013 کی جو رپورٹ آئی ہے اس سے دہلی سرکار کی کارگزاری پر کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں سرکار کی تمام اسکیموں سے نتیجے نہ آنے کے علاوہ جنتا کے پیسے کی بربادی کے لئے مختلف محکموں میں خالی پڑے عہدے اور کام کی دھیمی رفتار اور پروجیکٹ کے تعمیل نہ ہونے اور وصولی میں لاپروائی اور پلاننگ کی کمی اور منظوری ملنے میں لیٹ لطیفی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ منگلوار کو دہلی اسمبلی میں رکھی گئی کیگ رپورٹ میں سرکار کے جن محکموں ، پروجیکٹ اور اسکیم کے کھاتوں کی جانچ کی گئی ان پر اپنی رائے زنی میں کیگ نے کچھ اسی طرح کے الزام لگائے اور گنائے ہیں۔ دہلی میں عورتوں کو محفوظ بتانے والی دہلی کی وزیر اعلی خود اس معاملے میں ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ ایک طرف جہاں پولیس کے لئے پیسہ دیری سے جاری ہوا وہیں پولیس بھی 4.33 کروڑ روپے کا استعمال نہیں کرپائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ محکمے میں جم کر گھوٹالہ ہوا ہے۔نامناسب رعایتیں دے کر کمپنی کوفائدہ پہنچایا گیا ہے۔ یہ ہی نہیں سیویج مینجمنٹ میں بھی کم ہی کام ہوا ہے۔ دہلی جل بورڈ نے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد ایک ایم جی صلاحیت کا سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا۔ یہ ہی نہیں کام میں تاخیر ہونے پر ٹھیکیدار پر جرمانہ تک نہیں لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے جواہرلعل نہرو قومی شہری مشن کے تحت نشانوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ سرکار نے فیصلے لینے میں دیری کی جس کے چلتے جمنا ندی کے پل کی لاگت672 کروڑ روپے بڑھ گئی۔ کیگ کو 243 ایسے معاملے ملے ہیں جہاں الاٹ شدہ رقم کا 20 فیصدی سے زیادہ یا 5 کروڑ روپے سے زیادہ کا استعمال نہیں ہوا۔ 22 معاملوں میں تو 50-50 کروڑ سے زیادہ کی رقم بچ گئی۔ نو گرانٹس کی 42 اسکیموں میں 100 فیصدی رقم جوں کے توں بچی رہ گئی۔ ایسی کچھ اسکیموں میں شہری ترقی کے لئے 300.94 کروڑ روپے کی مدد رقم پاور کوبنائے رکھنے کے فنڈ کے لئے اکویٹی کے لئے200 کروڑ روپے کا انتظام تھا۔ جل بورڈ کو سیویج اور پانی سپلائی کے کاموں کے لئے70 کروڑ روپے ، سڑک بنانے کے لئے کارپوریشن کو50.6 کروڑ روپے کا قرض اور ضلع و دیگر سڑکوں کے لئے 50 کروڑ روپے دئے گئے تھے۔ ان اسکیموں پر 2011-12 کے مالی سال کے ختم ہونے تک پیسہ خرچ کرنا تھا لیکن وہ نہیں ہوا۔ دوسری طرف 2310 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولی نہیں ہوسکی۔ ٹیکس وصولی سسٹم میں کم اندازہ اور چھوٹ کے نامناسب دعوؤں اور دیگر خامیوں کے چلتے سرکاری خزانے کو 2300 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ کیگ کا کہنا ہے دور اندیشی کی کمی کے چلتے یہ نقصان ہوا۔ سی اے جی نے دہلی سرکار کے ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیا۔ 
مشرقی دہلی کے گوروتیغ بہادر اسپتال میں 2009-12 میں ایمبولنس کا استعمال مریضوں کی جگہ دوائیں لانے یا ڈاکٹروں کو ان کے گھر چھوڑنے یا لاشوں کو مردہ گھر لانے لے جانے یا بینک سے نقدی وغیرہ لانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ جس ایمبولنس کا استعمال مریضوں کے لئے کیا جانا تھا اس میں زندگی بخش آلات بھی ندارد تھے۔ دہلی سرکار کے سب سے بڑے لوک نائک ہسپتال میں 3 برس کے دوران مریضوں کو لانے لے جانے کے لئے ایمبولنس 1 ایک ہے جو 324 کلو میٹرہی چلی۔ جی ٹی بی ہسپتال میں مارچ2010 میں 7.17 کروڑ روپے کی لاگت سے سٹی اسکین مشین خریدی گئی۔ اس کو جولائی 2010ء میں قائم کیا جانا تھا لیکن مشین لگانے میں 20 ماہ کا وقت لگا۔ سی اے جی کی رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب اسی برس دہلی اسمبلی کے چناؤ ہونے ہیں۔ اپوزیشن اس رپورٹ کو خوب اچھالے گی۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ نے کہا کہ کیگ کی رپورٹ میں دہلی سرکار کے ہر ایک محکمے میں زبردست کرپشن اور بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں ،کمپنیوں و ٹھیکیداروں کی ملی بھگت اور مجرمانہ لاپرواہی ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا بھاجپا شنگلو کمیٹی، لوک آیکت، سی بی سی ، سی بی آئی کے ذریعے اجاگر کئے گئے اسکنڈلوں کے ساتھ سی اے جی کی رپورٹ کو بھی شامل کرکے دہلی سرکار کے خلاف چارج شیٹ تیار کرے گی ۔ اسے لیکر دہلی کی گلی گلی محلے میں جنتا کے دربار میں جائے گی اور اسمبلی چناؤ میں اسے اہم اشو بنائے گی۔
(انل نریندر)

ڈرگس کیس میں پھنستے جارہے ہیں ویجندر سنگھ

بیجنگ اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتنے والے مکے باز ویجندر سنگھ منشیات معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ خیال رہے کہ کینیڈا کے باشندے مبینہ نشیلی ادویہ کے اسمگلر کہلو عرف روبی کو پولیس نے 3 مارچ کو گرفتار کیا تھا اور چنڈی گڑھ کے باہری علاقے میں واقع ان کے گھر سے 130 کروڑ روپے مالیت کی 26 کلو گرام ہیروئن ضبط کی تھی۔ ویجندر کی بیوی ارچنا کی کار کہلو کے مکان کے پاس سے پولیس نے برآمد کی تھی۔ یہیں سے ویجندر کا اس ڈرگس معاملے سے وابستہ ہونے پر سوالیہ نشان کھڑا ہوا ہے، جس پر جانچ شروع ہوئی۔ اس ڈرگس تنازعے کو ختم کرنے کی مہم کے تحت بھارت سرکار کے وزارت کھیل نے پیرکو قومی ڈوپنگ انسداد ایجنسی (ناڈا) کو فوراً اسٹار مکے باز ویجندر سنگھ کا ڈوپ ٹیسٹ (نشے کی جانچ)کرنے کی ہدایت دی۔ جن پر پنجاب پولیس نے ہیروئن لینے کا الزام لگایا ہے۔ناڈا کے ڈائریکٹر جنرل مکل چٹرجی کو بھیجے گئے احکام میں وزارت کھیل نے کہا کے میڈیا میں بیجنگ اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتنے والے ویجندر کے ذریعے مبینہ طور سے ہیروئن لینے سے متعلق خبریں مایوس کن تھیں اس لئے انہیں ناڈا کو اس مکے باز کا نشہ ٹیسٹ کرنے کا حکم دینا پڑا۔ یہ حالانکہ ٹورنامنٹ کے باہر کی جانچ کرنے والی ایجنسی سے ہوگی۔ 
وزارت کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں کھیلوں کا آئیکون کھلاڑی کے سلسلے میں اس طرح کی رپورٹ مایوس کن ہے۔ اس سے دیش کے دیگر کھلاڑیوں کا حوصلہ گرے گا۔ ویجندر نے ہیروئن لینے سے انکار کیا ہے اور اس تازہ معلومات کے سلسلے میں ان کی رائے نہیں لی جاسکی۔ پنجاب پولیس نے دو دن پہلے دعوی کیا تھا کہ ویجندر نے این آر آئی انوپ سنگھ کہلو سمیت ڈرگس اسمگلر سے ہیروئن حاصل کرنے کے بعد اس کا 12 بار استعمال کیا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک کی گئی جانچ کے مطابق ویجندر نے 12 مرتبہ اور رام سنگھ نے قریب5 مرتبہ ہیروئن کھائی۔ کینیڈا کے باشندے اور منشیات اسمگلر کہلو عرف روبی 3 مارچ سے ہی پولیس حراست میں ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے کہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ مکے باز رام سنگھ اور ویجندر سنگھ نے دسمبر2012 سے فروری 2013 کے درمیان کہلو اور ان کے ساتھی راکی سے نجی استعمال کے لئے ہیروئن لی تھی۔ ویجندر سنگھ کے معاملے کولیکر پیر کو فتح گڑھ صاحب پولیس کو جھٹکا لگا۔ پولیس نے ویجندر کے بال اور خون کے نمونے لینے کے لئے عدالت میں عرضی دائر کرنے کیلئے ضلع اٹارنی جنرل سے اجازت مانگی تھی لیکن اس نے یہ عرضی لوٹا دی۔ انہوں نے کہا کہ ویجندر کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ابھی تک گرفتار کیا گیا ہے ایسے میں ان کے بال اور خون کے نمونے نہیں لئے جاسکتے۔ پہلے پولیس ان پر مقدمہ درج کرے ،تبھی سیمپل لینے کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ویجندر سنگھ نے اپنے شاندار کیریئر پر دھبہ لگا لیا ہے۔ بالی ووڈ اور گلیمر کی دنیا نے انہیں تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک پرومسنگ باکسر کو اس حال میں دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ باقی کھلاڑیوں کے لئے یہ ایک وارننگ بھی ہے۔
(انل نریندر)

04 اپریل 2013

کینسر کے مریضوں کو سپریم کورٹ نے دی بڑی راحت

مریضوں کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر کینسر کی دوا پر اپنا حق جمانے کی دلیل دینے والی سوئٹزرلینڈ کی کمپنی نورٹیز کو بھارت کی سپریم کورٹ نے زبردست جھٹکا دیا ہے۔ جو کئی معنوں میں تاریخی و دوررس نتائج والا فیصلہ سنایا ہے۔سوئس کمپنی کی اس عرضی کو خارج کردیا جس میں اس نے گلیویک دوا پر پیٹنٹ کے اختیار کا دعوی کیا تھا۔ ساتھ ہی ہندوستانی کمپنیوں کو اس کے سستے(جینیرک) ایڈیشن کو بنانے سے روکنے کی اپیل کی تھی۔ یہ کمپنی 7 سال سے گلیویک کو بھارت میں پیٹنٹ کرانے کی قانونی لڑائی لڑ رہی تھی اس پر دنیا بھر کی فارما کمپنیوں کی نگاہیں لگا تھیں۔ گلیویک دوا کو خون و کھال و دیگر طرح کے کینسر کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپنی کا دعوی تھا کہ گلیویک میں زیادہ میٹلک اجزا کا استعمال ہوا تھا جو نیا پروڈکٹ ہے لہٰذا کمپنی کو اس دوا کا پیٹنٹ ملنا چاہئے۔ دوسری دلیل یہ بھی دی گئی تھی کہ دوا میں صرف اجزا کا ہی مرکب نہیں بدلا ہے برسوں سے تحقیق ہوئی ہے اس لئے یہ ایورگریننگ پیٹنٹ کا معاملہ نہیں ہے۔ تیسری دلیل یہ تھی کہ ہمارا مقصد غریب مریضوں سے پیسہ کمانا نہیں ہے۔85 فیصد غریبوں کا علاج مفت ہوتا ہے۔ ہم انہی اصولوں کی بنیاد پرلڑائی لڑ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کے پیٹنٹ کا حق صرف اصل ایجاد پر ہی دیا جاتا ہے۔ ایک ہی ایجاد کو دوبارہ ایجاد نہیں مانا جاسکتا۔ ایمینیٹو میرولیٹ کوئی نہیں ایجاد نہیں ہے۔ اس کی جانکاری پہلے سے ہی موجود ہے ۔ صرف اس بنیاد پر پیٹنٹ نہیں مل سکتا فیصلے سے غیرملکی کمپنیوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جب جب نئی ایجاد ہوں گی پیٹنٹ کا اختیار ضرور ملے گا۔ یہ دعوی بھارتیہ پیٹنٹ قانون کے تحت مقرر تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ نورٹیز کی طرح فائجر اور روم ہولڈنگ اے جی جیسی کمپنیاں بھی پیٹنٹ کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے گلیویک پیٹنٹ کی عرضی کو خارج کرکے غریبوں کو بری راحت دی ہے۔ کینسر کی دوا عام طور پر سوا لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ اب یہ صرف 10 ہزار روپے میں ملنے کی امید ہے۔ اس تاریخی فیصلے کا عالمی دوا کاروبار پر دور رس اثر پڑنا طے ہے۔ اس کی اہمیت اسی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی دوا کمپنی نورٹیز کو گلیویک کا پیٹنٹ دے دیا جاتا ہے تو وہ ہمارے یہاں مریضوں سے ہر مہینے سوا لاکھ روپے تک وصولنے کے لئے آزاد ہوجاتیں جبکہ اس فارمولے کی سستی دوائیں محض 8سے40 ہزار روپے میں بازارمیں دستیاب ہیں۔ اصل میں یہ ایک بڑا کھیل ہے جس میں بڑی بین الاقوامی کمپنیاں پہلے سے موجود دواؤں میں معمولی ردو بدل کرکے یا پھر ان کا نام بدل کر انجام دیتی ہیں۔ جس گلیویک کے پیٹنٹ کے لئے دعوی کیا جارہا تھا وہ یعنی نئے فارمولے سے نہیں بنی بلکہ 15 برس پہلے بازار میں اتاری جاچکی دوا کی نئی شکل ہے۔ اس دوا کی مانگ کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کے نورٹیز دنیا بھر میں 4 ارب ڈالر کی گلیویک دوا فروخت کر چکی ہے۔ نورٹیز کمپنی نے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ فیصلہ مریضوں کے لئے بڑا جھٹکا ہے اس سے کینسر کی بیماری کے اسباب و علاج کے متبادل مہیا نہیں رہنے سے میڈیکل ترقی میں رکاوٹ آئے گی۔ لیکن ہم بھارت میں پیٹنٹ کے لئے دعوی کرتے رہیں گے۔ دوسری طرف اس فیصلے سے بھارت کے کینسر مریضوں کے لئے گلیویک جینیرک سیریز کو تیار کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ جینیرک(سستی) دواؤں کے دام پیٹنٹ دواؤں کی قیمتوں سے بہت کم ہوتے ہیں جبکہ یہ دوائیں بھی اتنی ہی کارگر ہوتی ہیں جتنی پیٹنٹ شدہ۔ نورٹیز کی گلیویک دوا کی ایک مہینے کی خوراک تقریباً1 لاکھ20 ہزار روپے بنتی ہے۔ وہیں ہندوستانی کمپنیوں کی جانب سے جینیرک دوا پر خرچ 8 سے10 ہزار روپے مہینہ ہی آئے گا۔
(انل نریندر)

دیپک بھاردواج قتل کیس میں دہلی پولیس کو شاندار کامیابی

ارب پتی بسپا لیڈر و ریئل اسٹریٹ کاروباری دیپک بھاردواج کے قتل کی گتھی میں دہلی پولیس کو شاندار کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ اس نے اس معاملے کو سلجھا لینے کا دعوی کیا ہے۔ پیر کو پولیس دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔پٹیالہ ہاؤس کوٹ کے باہر بنیادی ملزم پرشوتم اور سنیل کو پولیس نے گرفتار کیا ۔ دونوں قاتلوں کو پکڑنے کے ساتھ پولیس نے اس اسکوڈا گاڑی سمیت ڈرائیور اور مالک راکیش کو بھی دبوچ لیا ہے۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے پولیس حراست میں ہے۔ اس معاملے میں اب تک 4 لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان ملزمان سے ہوئی پوچھ تاچھ کی بنیاد پر پولیس نے ان دو لوگوں کو بھی علی پور علاقے سے حراست میں لے لیا ہے جنہوں نے بنیادی ملزمان کو ہتھیار مہیا کرانے میں مدد کی تھی۔ حالانکہ انہیں ابھی سرکاری طور پر گرفتار نہیں دکھایا گیا ہے۔ کرائم برانچ نے دونوں کو پکڑ کر ساؤتھ دہلی پولیس کے حوالے کردیا۔ حالانکہ پولیس کیس کی گتھی سلجھانے کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ابھی بھی قتل کے اسباب کا انکشاف نہیں ہو پایا۔ ویسے بنیادی ملزم تک پولیس کے ہاتھ نہیں پہنچ سکے۔ پولیس کی کرائم برانچ نے پچھلے ہفتے ساؤتھ دہلی کے راجوکڑی میں واقع نتیش فارم ہاؤس میں دیپک بھاردواج کو تین گولیاں مارنے والے مشتبہ حملہ آور پرشوتم رانا اور سنیل مان کو ڈرامائی انداز میں پکڑا۔ ان دونوں پر ہی دیپک کو مارنے کا شبہ ہے۔ دونوں شارپ شوٹر بتائے جاتے ہیں جنہیں دیپک بھاردواج کے قتل کے لئے ان کے کسی قریبی رشتے دار کے ذریعے سپاری دینے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ دونوں پیر کو سرنڈر کرنے کے ارادے سے پٹیالہ ہاؤس کورٹ پہنچے تھے۔ پرشوتم گیٹ نمبر3 سے داخل ہوا لیکن پولیس اسے پہچان کر وہاں سے لے گئی اور اسی درمیان سنیل کسی طرح میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ پرشانت شرما کی کورٹ میں جاکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد مجسٹریٹ کے آنے پر سنیل کے وکیل نے سرنڈر اپلیکیشن دیتے ہوئے کارروائی کرنے کی اپیل کی لیکن عدالت نے اس کی سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ پولیس ملازمین سے سنیل و دیگر لوگوں کو باہر لے جانے کو کہا۔ باہر موجود کرائم برانچ کے پولیس ملازمین سنیل کو لے جانے لگے تو انہیں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ دیپک بھاردواج قتل کیس میں بنیادی ملزم پرشوتم عرف مونو(30 سال) نے ہی گولیاں ماری تھیں۔ اس شوٹ آؤٹ میں مونو کا ساتھ سنیل مان (26 سال) نے دیا۔ علی پور کے چھوٹا شیوراج مندر کے قریب رہنے والا مان دہلی یونیورسٹی کے سوامی شردھانندکالج میں تھرڈ ایئر کا اسٹوڈنٹ رہ چکا ہے۔ اس اسکوڈا کے ڈرائیور کا نام امت مان بتایا جاتا ہے وہ جہانگیر پوری کا باشندہ ہے۔ یہ اس اسکوڈا کار کو چلا رہا تھا جس میں سوار ہوکر پرشوتم، سنیل قتل کرنے کے بعد فرار ہوئے تھے۔ دیپک بھاردواج کا قتل 26 مارچ کو ہوا تھا۔ دہلی پولیس اس قتل کانڈ کو ایک ہفتے میں سلجھانے کے لئے مبارکباد کی مستحق ہے۔ جلد یہ بھی انکشاف ہوجائے گا کہ سپاری کس نے دی اور کیوں دی؟
(انل نریندر)

03 اپریل 2013

نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت کاورلڈ میں بھی ڈنکا

چڑھتے سورج کو دیر سویر سبھی سلام کرتے ہیں۔ترقی کے بل پر گجرات میں تیسری بار جیت کا ڈنکا بجانے اور وزیر اعظم کی کرسی کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آنے والے وزیر اعلی نریندر مودی سے میل جول بڑھانے کے لئے گذشتہ جمعرات کو خود امریکی ممبران پارلیمنٹ اور صنعت کاروں کا ایک نمائندہ وفد آگے آیا اور اس کے پہلے یوروپی یونین اور برطانیہ کے نمائندے ان سے ملاقات کر ان کی ترقی کا گن گان کرچکے ہیں۔ 3 امریکی ممبران پارلیمنٹ سمیت18 پارلیمانی نمائندہ وفد نے نہ صرف مودی سے ملاقات کی بلکہ انہیں امریکہ آنے کی بھی دعوت دی۔ ان ممبران نے یہ بھی یقین دلایا کہ وہ دیگر ممبران کے ساتھ امریکی انتظامیہ سے مل کر مودی کو ویزا دلانے کی کوشش کریں گے۔ یہ دعوت اس لحاظ سے بھاجپا اور مودی کے لئے لائق تحسین بات ہے کہ یوروپ کے بعد اب امریکہ میں بھی مودی کی اہمیت کو سمجھا جارہا ہے۔ کم سے کم اہمیت سمجھنے کی شروعات تو ہوہی رہی ہے لیکن واقف کاروں کا خیال ہے دعوت دینے کا مطب ویزا دینے نہیں ہے۔ کیا یہ ایم پی امریکی انتظامیہ کو مطمئن کر پائیں گے اس کا جواب وقت ہی دے پائے گا لیکن یہ صحیح ہے گجرات میں امریکی کاروباریوں کے لئے سرمایہ کاری کی کافی بھرپور امکانات کے بارے میں امریکہ میں لابنگ کی شروعات ہورہی ہے۔ سچ تو یہ ہے اس کا کوئی جواز نہیں کے ایک سے بڑھ کر ایک کٹر تاناشاہوں کو گلے لگانے والا اپنی سرزمین پر ان کی مہمان نوازی کرنے والا امریکہ اسبنیاد پر مودی کی مخالفت کرتا رہے کہ گجرات میں 2002ء میں جو خوفناک فساد ہوئے تھے انہیں روکنے میں مودی ناکام رہے تھے۔ ایک تو اس سلسلے میں نریندر مودی کو سپریم کورٹ سے کلین چٹ مل چکی ہے اور دوسرے وہ مسلسل تین بار بھاری اکثریت سے اسمبلی چناؤ جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دیش کی جنتا کا ایک بڑا طبقہ بھی امکانی وزیر اعظم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ حال ہی میں اپوزیشن لیڈروں میں ان کے بڑھتے قد کا کوئی اس وقت لیڈر نہیں ہے فی الحال یہ طے نہیں ہوا کہ مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے دیگر ممالک ان ملکوں پر کسی طرح کی پابندی لگائیں۔ لیکن مودی کا نام آئے اور کانگریس اور اس کے حمایتی چپ بیٹھے رہیں؟ شکاگو سے شائع اخبار ’ہائی انڈیا‘ کے مطابق اس نمائندہ وفد میں شامل ہونے کے لئے امریکی تاجروں سے7 ہزار سے16 ہزار (قریب ڈیڑھ لاکھ سے8 لاکھ روپے) فی شخص سے پیسہ لیا گیا۔ قانون کے مطابق امریکی کانگریس کے ممبر کسی طرح کے تحفے یا سفر کے اسپانسر کو قبول نہیں کرسکتے۔ بھاجپا نیتا وجے جولی نے مودی سے امریکی نمائندہ وفد کے ممبران سے ملاقات کے نام پر پیسے لینے کی بات کو غلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی سچائی نہیں جبکہ کانگریس ترجمان شکیل احمد کا کہنا تھا اس واقعے سے صاف ہے کہ نریندر مودی امریکی ویزا پانے کے لئے اس قدر بے چین ہیں کے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔مودی کو دیش سے معافی مانگنی چاہئے۔ جہاں تک مودی کے سیاسی مخالفین کی بات ہے یہ افسوسناک ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نریندر مودی کو اچھوت بنانے کے لئے ان کی طرف سے کی جارہی سخت محنت کے باوجود گجرات کے وزیر اعلی کی مقبولیت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ امریکی ممبران نے جس طرح گجرات جا کر مودی کے درپر دستک دی اور انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی اس سے بھی نریندر مودی کی مقبولیت ہی بڑھے گی۔
(انل نریندر)

کوٹ لکھپت جیل میں ہندوستانی قیدی چمیل سنگھ کی موت کا معاملہ

پاکستان نے ایک بار پھر بربریت کی ساری حدیں پار کردیں ہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل میں مارے گئے چمیل سنگھ کے جسم کے اندر کے سارے اہم اعضا نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان نے بھارتیہ قیدی چمیل سنگھ کی لاش اٹاری سرحد پر ہندوستانی حکام کو13 مارچ کو سونپی۔ جموں ضلع کے باشندے چمیل سنگھ کی جنوری میں مشتبہ حالت میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں موت ہوئی تھی۔ وہ غلطی سے 2008ء میں سرحد پار کر پاکستان چلے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے کے دوران ڈاکٹروں نے پایا ان کے جسم میں دل ،گردہ، جگر جیسے کئی اہم اعضا نہیں تھے ایسے حالات میں موت کے اسباب کے بارے میں پتہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔ ناجائز طریقے سے پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں پانچ برس کی سزا کاٹ رہے 40 سالہ چمیل سنگھ کی موت مبینہ طور پر جیل کے حکام کی پٹائی کے سبب ہوئی تھی۔ تکلیف دہ بات یہ بھی ہے کہ چمیل سنگھ کی سزا 2015ء میں پوری ہونے والی تھی۔ کوٹ لکھپت جیل میں اس وقت 33 ہندوستانی قیدی بند ہیں۔ بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی جیل میں ہندوستانی قید چمیل سنگھ کی کن حالات میں موت اس بارے میں مفصل رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی ایک کاپی بھارت کو سونپے۔ بھارت چمیل سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لئے پاکستان پر مسلسل دباؤ بنا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران ایک ہندوستانی افسر کے موجود رہنے کے سلسلے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان پر ہندوستانی افسر نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران ہندوستانی ہائی کمیشن کا کوئی افسر موجود نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم ایک تکنیکی میڈیکل کارروائی ہے جس میں ڈپلومیٹک مشن کے ممبران کا کوئی رول نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے اسلام آباد میں موجود ہندوستانی افسر اس معاملے میں یا سابقہ کسی دیگر معاملے میں کسی بھی پوسٹ مارٹم کے دوران موجود نہیں رہے۔ انہوں نے چمیل سنگھ کے پوسٹ مارٹم کرا نے میں دیری کے لئے پاکستان کی نکتہ چینی کی تھی۔انہوں نے کہا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پاکستانی حکام نے کیوں پوسٹ مارٹم کرانے اور لاش کو سونپنے کے لئے تقریباً دو مہینے کا وقت لیا۔ بھارت پاکستان کو اس سلسلے میں کئی ریمائنڈر بھیج چکا ہے لیکن ابھی تک پاکستان نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ ابتدائی رپورٹ میں پاکستان کی طرف سے کہا گیا تھاکہ چمیل سنگھ کی لاش پر چار چوٹ کے نشان پائے گئے تھے۔ اس میں دائیں گھٹنے کے جوڑ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، بائیں گھٹنے کے جوڑ سے دو ایک کھرونچ اور اوپری حصے پر چوٹ کا نشان تھا اور اندرونی حصے میں بھی زخم تھے۔ چمیل سنگھ کو سرکاری جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں نے مردہ قراردیا تھا۔ دھوکہ دھڑی کے معاملے میں کورٹ لکھپت جیل میں 42 مہینے کی سزا پوری کرنے والے عیسائی وکیل تحسین خاں نے دعوی کیا کہ چمیل سنگھ کی جیل ملازم کے ذریعے پٹائی کرنے کے بعد ہی موت ہوئی تھی۔
(انل نریندر)

02 اپریل 2013

راجناتھ کی نئی :ٹیم صحیح سمت میں صحیح قدم

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ نے اپنی نئی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔ میری رائے میں یہ ایک صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔ کسی بھی ٹیم کا اعلان آسان نہیں ہوتا۔ کہیں نہ کہیں کچھ لوگوں کی نظروں میں خامیاں رہ جاتی ہیں اور وہ انہیں لیکر تنقید کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ کس مقصد سے یہ ٹیم بنائی جارہی ہے، اور جو لوگ ٹیم میں شامل کئے گئے ہیں کیا وہ اس کے حقدار ہوسکتے ہیں؟ بھاجپا کا 2014ء کا لوک سبھا چناؤ روڈ میپ صاف ہے۔اسے ان چناؤمیں200 سیٹیں جیتنی ہوں گی تب جاکر وہ اقتدار کا خواب دیکھ سکتی ہے۔ اس کے لئے اسے پہلے اپنا گھر مضبوط کرنا ہوگا۔ راجناتھ سنگھ کے ذریعے اپنی ٹیم کی تشکیل اور پارلیمانی بورڈ کو پھر سے بنانے میں نریندر مودی کے بڑھتے اثر کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ نریندر مودی نہ صرف خود پورے زور شور کے ساتھ پارٹی کی سپریم باڈی پارلیمانی بورڈ میں واپسی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ انہیں اپنے بھروسے مند کئی لوگوں کو اہم عہدے دلانے میں بھی کامیابی ملی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے سماجی ، سیاسی اور علاقائی توازن بناتے ہوئے جو ٹیم اعلان کی ہے اس میں تقریباً ایک درجن مودی حمایتیوں کو جگہ ملی ہے۔ سینٹرل سیاست میں مودی نے زور دار طریقے سے اپنی موجودگی درج کرادی ہے۔ 6 سال پہلے پارٹی کی جس سپریم فیصلہ لینے والی تنظیم پارلیمانی بورڈ سے انہیں انہی راجناتھ سنگھ نے ہٹایاتھا۔ اسی میں انہی راجناتھ سنگھ نے مودی کوا پنی شرطوں پر لانے کو ایک طرح سے مجبور کیا ہے۔ا ب وہ اس جگہ کھڑے ہوگئے ہیں جہاں لوک سبھا و اسمبلی انتخابات کیلئے دعویداروں کا مستقبل طے کریں گے۔ مشن2014ء کو ذہن میں رکھ کر تیار کردہ ٹیم میں راجناتھ سنگھ نے ورون گاندھی کے ذریعے ایک بڑی چال چلنے کی تیاری کی ہے۔ ورون کے ذریعے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی کوشش کی ہے ۔ ورون گاندھی کو لاکر انہوں نے یہ پیغام تو دے دیا ہے کہ وہ اترپردیش کو زیادہ اہمیت دینے جارہے ہیں ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ بی جے پی اب نوجوان چہروں کو آگے بڑھانے میں کوئی قباحت نہیں کرے گی۔ ورون گاندھی کی ساکھ سے ہندوتو کو بھی تقویت ملتی ہے اور اگر کانگریس کے پاس راہل گاندھی ہے تو بھاجپا کے پاس ورون گاندھی ہیں۔ پارٹی مانتی ہے کہ یوپی میں جب تک بی جے پی شاندار کارکردگی نہیں دکھاتی اس کے لئے دہلی کے اقتدار کا راستہ آسان نہیں۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اہم کردار نبھا چکی تیز طرار اور ہندوتو کی مضبوط علامت اما بھارتی کو اپ پردھان بنا کر صاف اشارہ دیا ہے کہ پارٹی اپنے بنیادی اصولوں پر لوٹے گی۔ دوسری طرف بہار میں جنتا دل (یو) کے ساتھ بنتے بگڑتے رشتوں کے درمیان مودی حمایتی سی پی ٹھاکر و رامیشور چورسیہ ٹیم میں آئے تو راجیو پرتاپ روڑی، شاہنواز حسین، ایس ایس اہلوالیہ کو شامل کرکے راجناتھ سنگھ نے جتادیا ہے کہ ان کی نظروں میں بہار کتنا اہمیت کا حامل ہے۔ کرناٹک اسمبلی چناؤ کے پیش نظر اننت کمار کے ساتھ ساتھ سدانند گوڑا کو بھی سینٹرل کمیٹی میں جگہ اس لئے دی گئی ہے کہ راجناتھ سنگھ کی نئی ٹیم میں تین خوبیاں نظر آرہی ہیں۔ جنرل سکریٹریوں کی اوسط عمر50 سال ہے ۔جس سے نوجوان لیڈر شپ کو ترجیح دئے جانے کی نیت صاف جھلکتی ہے۔ 40 فیصدی عورتوں کو ٹیم میں جگہ ملی ہے۔ ٹیم میں سبھی طبقوں کو نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ساتھ بنیادی ورکروں کو نظرانداز نہیں کیا گیا ہے۔ ٹیم راجناتھ کے سامنے اب تین اہمیت بڑی چنوتیاں ہیں۔ کرناٹک اور دیگر ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں بہتر کارکردگی دکھانا،جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومتیں ہیں ان میں اقتدار برقرار رکھنا اور جن میں نہیں ہیں وہاں اقتدار میں آنا۔ این ڈی اے پارٹیوں سے بہتر تعلق بنانے کی سمت میں کام ضروری ہوگا۔ بہتر ہوگا کے جیسے اٹل جی نے جارج فرنانڈیز کو یہ کام دے رکھا تھا اسی طرز پر ایک دو لیڈروں کویہ کام سونپا جائے کہ وہ کنبے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔ نریندر مودی کی ساکھ کو قومی سطح پر قابل قبول بنانا یہ بھی ٹیم راجناتھ کے لئے ایک اہم چیلنج بھرا کام ہوگا۔ ہر ٹیم کے اعلان کے بعد تھوڑی ناراضگی تو ہوتی ہے لیکن ان کو سمجھا بجھا کر لائن پر لایا جاتا ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ میری رائے میں یہ راجناتھ سنگھ کا صحیح سمت صحیح قدم ہے۔ باقی تو آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

تاملناڈو میں سیاسی لڑائی کا شکار آئی پی ایل6-

سارے کرکٹ شائقین آئی پی ایل شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ 20۔ٹوئنٹی میچوں سے اچھی تفریح مل جاتی ہے اور یہ اتنے لمبے بھی نہیں ہوتے کے عام آدمی کو اس کو دیکھنے کے لئے خاص پروگرام بنانا پڑے۔ لیکن اس سال آئی پی ایل6- کو ایک زبردست جھٹکا لگا ہے۔ یہ اتنہائی افسوس کی بات ہے کہ سیاسی اسباب سے سیاسی لڑائی کو کرکٹ میدان میں اتاردیا گیا ہے۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے ریاست میں سنہالی مخالف جذبات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط لکھ کر کہا کہ ریاست (تاملناڈو) میں آئی پی ایل میچوں کو تبھی کھیلنے کی اجازت ملے گی جب ان میچوں میں سری لنکا کا کوئی کھلاڑی، امپائر، افسریا اس کا ساتھی اسٹاف شامل نہ ہو۔ اس کے بعد آئی پی ایل گورننگ کونسل نے فیصلہ کیا ہے سری لنکائی کرکٹر چنئی میں ہونے والے آئی پی ایل میچوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ سری لنکا کے13 کھلاڑی 3 اپریل سے شروع ہونے والے آئی پی ایل6- میں حصہ لیں گے۔ چنئی سپرکنگ کے گھریلو میدان پر کل 10 میچ ہوں گے جن میں ایلیمنیشن کے دو میچ بھی ہیں اوروہ جگہ برقرار رہے گی۔ سری لنکا کے سابق کپتان ارجن راناتنگا نے کرکٹ بورڈ اور حکومت کی سری لنکائی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے اسے سری لنکا کے خلاف لگائے جارہے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی حمایت قراردیا ہے۔رانا تنگا کا کہنا تھا کہ اس بات کو نظر انداز کردیا گیا ہے کہ جے للتا اور کروناندھی دونوں سری لنکائی کھلاڑیوں کو تاملناڈو میں کھیلنے سے اس لئے روکنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سری لنکا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔اس لئے تاملناڈو کو چھوڑ کر دیگر ہندوستانی ریاستوں میں کھیلنے کا مطلب ہمارے دیش کے خلاف لگائے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی حمایت ہے۔ رانا تنگا نے تاملناڈو کے دونوں لیڈروں پر کھیلوں کے ساتھ سیاست کرنے کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ تاملناڈو میں چناؤ کے وقت کو چھوڑ کر کبھی اتر ،کبھی مشرقی (سری لنکا) کے تاملوں کی بہبود کے لئے فکرمند نظر نہیں آئے۔ ادھر سری لنکائی کھلاڑیوں کو چنئی میں نہ کھیلنے ،آئی پی ایل گورننگ کونسل کے فیصلے پر کئی فرنچائزی ٹیموں نے گھیری ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کرنے کے بجائے میچوں کو چنئی سے باہر کیوں نہیں منعقد کرایاگیا۔اس بات کی بھی ناراضگی ہے کہ گورننگ کونسل نے اس معاملے میں ان سے کوئی صلاح مشورہ کئے بغیر ایکطرفہ فیصلہ لے لیا۔ ایسا کرتے وقت پہلے کے اپنے فیصلے کو بھی نظرانداز کیا ہے ساتھ ہی انہیں اس بات کی بھی فکر ہے بدلے حالات میں چنئی سپر کنگ کو گھریلو حالات کا فائدہ ملے گا۔ چنئی سپر کنگ میں دو سری لنکائی کھلاڑی مکیلا دھننجے اور پل شیکھر شامل ہیں۔ لیکن ٹیم میں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ دوسری ٹیموں میں تو کئی ایسے سری لنکائی کھلاڑی ہیں جو کافی اہم ہیں۔ ان میں کمارسنگاکارا، مہلا جے وردھنے، متھیا مرلی دھرن، ملنگا اور تلک رتنے ، دلشان جیسے سرکردہ کھلاڑی شامل ہیں جو کسی بھی ٹیم کے لئے بیحد اہم ہیں۔ سپر کنگ کو چھوڑ کر آٹھوں ٹیموں کے افسران سرکاری طور سے کچھ بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ نہ ہی وہ اسے لیکر کوئی باقاعدہ شکایت درج کرانے جارہے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو لیکر ناراض ہیں کے گورننگ کونسل نے پچھلے فیصلے کی تعمیل کیوں نہیں کی۔ بینگلورو میں دو بم دھماکے کے بعد اور حیدر آباد میں تلنگانہ اشو پر احتجاج بھڑکنے کے سبب وہاں میچوں کا مقام منتقل کردیا گیا تھا لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ کل ملاکر یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ تاملناڈو کی دو پارٹیوں میں لگی سیاسی دوڑ کا شکار آئی پی ایل6- بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

31 مارچ 2013

ملائم سنگھ کی تلخی، نشانے پر یوپی اے اور کانگریس

پچھلے کچھ دنوں سے سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور کانگریس پارٹی میں تلخی بڑھ گئی ہے۔ یہ تکرار کہاں جاکر بند ہوگی کہا نہیں جاسکتا لیکن جس طرح سے دونوں فریق ایک دوسرے کو دھمکا رہے ہیں اس سے نہیں لگتا کہ ان کا ساتھ اب زیادہ دن چلنے والا ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے کانگریس کو دھوکے باز اور چالاک لوگوں کی پارٹی قراردیا ہے۔ بدھوار کو سیفئی میں ملائم پورے جوش میں نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ جنتا مرکز کی یوپی اے سرکار کے کرپشن سے اب تنگ آچکی ہے۔ کانگریس سے لوگوں کی رقبت ختم ہوچکی ہے۔ لوگوں کے پاس اب تیسرا مورچہ ہی متبادل ہے۔ ادھر اعظم خاں نے بھی کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل اور پرینکا گاندھی سکے کے دو پہلوں ہیں۔ جس میں سے راہل کھوٹے سکے ہیں۔ یوپی اے سرکار کی سب سے بڑی ساتھی رہی ڈی ایم کے کے حمایت واپسی کے بعد ملائم سنگھ نے سیاسی داؤ پیچ تیز کردئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بھاجپا کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی کی جم کر تعریف کردی۔ تنگ آکر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس کو مسترد کرتے ہوئے ساؤتھ افریقہ سے لوٹتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا چناؤ اپنے وقت پر2014 میں ہیں ہوں گے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ سماجوادی پارٹی حمایت واپس لے سکتی ہے تو لے لے۔ لیکن ملائم نے کہا کہ یوپی اے سے حمایت واپسی کے بارے میں ا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ملائم نے کہا کہ کانگریس اپنی سرکار سی بی آئی اور ا نکم ٹیکس محکمے کے ذریعے بچا رہی ہے۔ کانگریس ہمیشہ سے اپنی سرکار بچانے کے لئے دونوں محکموں کو ہتھیار بناتی ہے۔ کانگریس بھروسے مند پارٹی کبھی نہیں رہے۔ کانگریس کے پاس بہت سے پتتے ہیں۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے وہ لاتی ہے۔ میڈیا کی طاقت بھی کانگریس کے ساتھ ہے۔ دہلی میں روز آبروریزی ہوتی ہے لیکن میڈیا یوپی کے معاملے زیادہ اچھالتا ہے۔ ملائم سنگھ ایک نہیں درجن بار کہہ چکے ہیں یہ یوپی اے سرکار اپنی میعاد پوری نہیں کرسکے گی۔ اب انہوں نے کہا کہ نومبر میں عام چناؤ ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ کانگریس نے2014ء کے لوک سبھا چناؤ کی تیاری نومبر 2012ء سے ہی شروع کردی ہے لیکن ڈی ایم کے کی حمایت واپسی کے بعد پارٹی اور سرکار میں بے چینی ضرور بڑھی ہے۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ملائم سنگھ پر جیسے ہی بجٹ ختم ہوتا ہے ہلہ بول دے گی۔ قانون و نظام کے ساتھ ساتھ بھاجپا کے تئیں ملائم کی نرمی سے درجن بھر اشوز پر سپا سرکار کو گھیرا جائے گا۔ اترپردیش چناؤ کے برعکس یہ تحریک ان سے نہ شروع ہوکر بلاک اور تحصیل و ضلع اور پردیش سطح پر چھیڑی جائے گی۔ کانگریس مان رہی ہے کہ لیفٹ پارٹیاں بسپا جیسی پارٹی ابھی چناؤ نہیں چاہتیں۔ لیفٹ مورچہ مغربی بنگال میں جہاں ممتا بنرجی سرکار کے خلاف لوگوں کا غصہ بڑھنے کا انتظار کررہا ہے وہیں مایاوتی بھی مان رہی ہیں کہ اترپردیش میں ہر دن سپا سرکار کے خلاف اقتدار مخالف لہر زور پکڑ رہی ہے۔ ادھر ڈی ایم کے بھی سرکار سے باہر جانے کے باوجود مرکز کے خلاف تلخ نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ ان حالات میں ملائم کی حمایت واپس لینے سے بھی سرکار شاید ہی مشکل میں پڑے۔ ابھی فی الحال یوپی اے سرکار اور کانگریس کی ترجیح پارلیمنٹ سے بجٹ پاس کرانے کی ہے اس لئے کانگریس بجٹ اجلاس نمٹتے ہی ملائم اور اکھلیش سرکار کے خلاف اترپردیش میں زور دار مہم چھیڑے گی۔ پارلیمنٹ میں سپا کے ساتھ کی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ ان دنوں کانگریس اترپردیش میں تنظیم کو مضبوط کرنے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔ ملائم کا ہلہ بول کیا رنگ لاتا ہے اور کب لاتا ہے یہ کہنا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

لیاقت کی گرفتاری : جموں و کشمیر و دہلی پولیس آمنے سامنے

دہشت پھیلانے کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار حزب المجاہدین کے دہشت گرد سید لیاقت علی شاہ کی گرفتاری تنازعات میں گھر گئی ہے اور گرفتاری کو لے کر ایک بار پھر دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان ٹکراؤ سامنے آگیا ہے۔ اب مرکزی سرکار اس معاملے کی جانچ قومی سراغ رساں ایجنسی آئی این اے کو سونپ دینے کے اشو پر پس و پیش میں ہے۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ وہ نیپال سے گورکھپور کے راستے راجدھانی دہلی میں ہولی کے موقعے پر دہشت پھیلانے کے لئے آرہا تھا۔ اس کے پاس سے ایک اے کے۔56 رائفل، تین دستی بم اور دو میگزین،30 کارتوس برآمد کئے گئے۔ وہیں جموں و کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تو خود سپردگی کرنے کے لئے بھارت آرہا تھا جس سے ریاستی سرکار کی بازآبادکاری پالیسی کے فائدہ اٹھاسکے۔ ظاہر ہے جموں و کشمیر پولیس یا دہلی پولیس دونوں میں سے ایک تو سچ نہیں بول رہی ہے۔ دہشت گردی اس دیش کے لئے کتنا سنگین مسئلہ بن گیا ہے لیکن اس واقعہ سے صاف ہے کہ اس کے تئیں سرکار سنجیدہ دکھائی نہیں پڑتی۔ لیاقت بازآبادکاری کے لئے آرہا تھا یا تباہی مچانے اس کا خاندان اس کے ساتھ تھا یا نہیں اس کی صحیح جانکاری نہ ہو پانا سرکار کی نااہلیت نہیں ہے تو کیا ہے؟ آتنک واد پر ایسی غفلت دیش اورشہریوں کی سلامتی کے لئے کتنی خطرناک ہے شاید سرکار یہ سمجھنے کو تیار نہیں؟پہلے بھی بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ جیسے واقعات کو لیکر پولیس کی کارروائی پر سوال کھڑے کئے جاتے رہے ہیں۔ ان تنازعوں میں دیش کی سلامتی سے زیادہ سیاست ہی سامنے آئی ہے۔اب جموں و کشمیر پولیس نے لیاقت کو ریاست کی بازآبادکار پالیسی کے تحت حوالگی کے لئے بھارت آرہے سابق دہشت گرد بتا کر دہلی پولیس کے دعوے پر سوال کھڑے کردئے ہیں جبکہ دہلی پولیس کے مطابق لیاقت علی دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کا گرگا ہے اور اپنے پاکستانی آقاؤں کی ہدایت پر تباہی مچانے بھارت لوٹ رہا تھا۔ اس سچائی کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تصدیق ہونی چاہئے کہ کہیں جموں و کشمیر اسمبلی کے اس سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر اس گرفتاری کو لیکر سیاست تو نہیں ہورہی ہے، کیونکہ پچھلے 23 سال سے دہشت گردی کی تپش جھیل رہی ریاست میں دہشت گردی اور سیاست کے مبینہ میل جول پر پہلے بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ چاہے وہ پی ڈی پی سرکار کی دہشت گردی کے تئیں نرم پالیسی رہی ہو یا موجودہ نیشنل کانفرس و کانگریس اتحاد کی سرکار کی بازآبادکاری پالیسی رہی ہو۔ مرکز ی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ لیاقت کی گرفتاری سے جڑے سوالوں کے جواب کے لئے تفتیش این آئی اے کو سونپی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ این آئی اے کن کن نکتوں کی جانچ کرے گی؟ لیکن یہ طے ہے کہ این آئی اے کو لیاقت علی کو حراست میں لیکر اس سے پوچھ تاچھ کرنی پڑے گی۔لیکن لیاقت کیا کہے گا وہ کیوں مانے گا دہلی میں فدائین حملے کے لئے آیاتھا؟ اس اشو پر دہلی پولیس بیک فٹ پر ہے۔ اسے اپنے ذرائع بتانے پڑیں گے۔ کچھ فون نمبروں پر بات چیت پکڑی ہے وہ بھی بتانی پڑے گی۔ اب سبھی پہلواین آئی اے کے افسروں کو بتانے پڑ سکتے ہیں۔ این آئی اے کو بھی یہ دیکھنا پڑے گا کہ جامع مسجد کے قریب گیسٹ ہاؤس سے ملے اتنے خطرناک ہتھیار کس کے ہیں۔ وہاں کیسے پہنچے۔ وہاں کہاں سے آئے دو شخص اصل میں کون تھے۔ہوٹل اسٹاف کا کیا کہنا ہے۔ادھر خبر آئی ہے کہ لیاقت کی گرفتاری سے حزب المجاہدین میں کھلبلی ہے۔ آپریشن کے فیل ہونے سے آتنکی سکتے میں ہیں۔ ایک بڑے دہلی پولیس افسر کی مانیں تو کچھ اسی سلسلے کی ایک کال خفیہ ایجنسیوں نے پکڑی ہے۔ جموں وکشمیر سے کچھ لوگوں نے پاکستان میں آقاؤں کو فون پر لیاقت کی گرفتاری کی خبردی تھی۔ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ جو اے کے۔56 رائفل جامع مسجد علاقے سے برآمد ہوئی وہ چین میں بنی ہے۔ گیسٹ ہاؤس میں جس آتنکی نے کمرہ بک کرایاتھا اس نے اپنانام محمد اور پتہ بھوانی ہریانہ کا لکھوایا تھا جو فرضی پائے گئے۔ ادھر اسپیشل سیل کے حکام نے بتایا لیاقت کی گرفتاری میں مسلح فورس کی بھی مدد لی گئی تھی۔ لیاقت علی شاہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے مظفر آباد کا رہنے والا ہے۔ اس کے پاس سے ایک مہاجر کارڈ ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مہاجر بن کر وہ اپنی بیوی و بچے کے ساتھ رہتا تھا۔ بتادیں کے اس کارڈ کے ہولڈر کو وہاں کی سرکار کی طرف سے 15 ہزار روپے ماہانہ کی مدد ملتی تھی۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...