Translater
18 مئی 2024
پاسوان وراثت بچانے کی جنگ !
حاجی پور سے آٹھ بار کامیاب ہونے والے رام ولاس پاسوان کی کمی ان کے چاہنے والے بہت محسوس کرتے ہیں اتنا ہی نہیں پیر کو منعقدہ ایک چناوی ریلی میں وزیراعظم نریندر مودی بھی انہیں یاد کر جذباتی ہو گئے ۔موسم ماہرین کے نام سے مشہور رام ولاس پاسوان کی کمی ان کے بیٹے چراغ پاسوان پورا کرنے کا وعدہ کررہے ہیں ۔وہاں کے لوگوں سے یہ اپیل کر ووٹ مانگ رہے ہیں کہ آپ کا ایک ایک ووٹ رام ولاس پاسوان کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے مجھے مضبوط بنائے گا لیکن راشٹریہ جنتا دل امیدوار شیو چندر رام کی دلیل ہے کہ مقامی امیدوار ہی حاجی پور کی پریشانیوں سے روبرو ہو کر حل کر سکتا ہے ۔مقامی اور باہری کو لیکر یہ دینے کی اپیل کررہے ہیں ۔انہیں دونوں میں سیدھی لڑائی ہے مگر مقابلہ ٹکر کا بتایا جا رہا ہے ۔حاجی پور،لال گنج ،مہنر پورہ ،مہوا ،راجپا ،رادھوپور،چھ اسمبلی حلقے ہیں یہاں کی 19 لاکھ 53 ہزار سے زائد ووٹر پانچویں مرحلے میں 20 مئی کو یعنی پیر کے روز اپنے ووٹ کا پرچار کااستعمال کریں گے ۔سابق سینٹرل ریلوے ہیڈ کوارٹر حاجی پور میںبنانے کا سہرہ سورگیہ رام ویلاس پاسوان کو ہی لوگ دیتے ہیں ۔گنگا اور بوڑھی غنڈق ندی سے گھرے رہنے والے حاجی پور کا کیلا دیش ہی نہیں دنیا میں مشہور ہے ۔2019 کا چناو¿ چراغ پاسوان کو ماما پشوپتی ناتھ پارس لڑے تھے ۔اور آر جے ڈی کے شیو چندر رام کو 2 لاکھ سے زیادہ ووٹ سے انہیں ہرایا تھا اب پارس اور چراغ ساتھ نہیں ہیں ۔بلکہ پشو پتی پارس خود یہاں سے لڑنا چاہتے ہیں لیکن باغی بھتیجے چراغ پاسوان کے حق میں چلی گئی ۔لیکن تلخی کی وجہ سے اندر کھانے خطرہ ہے ۔تلخی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چراغ پاسوان کی نامزدگی میں پاس کہیں نظر نہیں آئے بلکہ زبانی جنگ میں دونوں میں اب بھی جاری ہے ۔چراغ پاسوان اور 2019 میں جموئی سے منتخب ہوئے تھے تب ان کے والد رام ویلاس پاسوان زندہ تھے ۔یہ پہلا چناو¿ ہے جب خود امیدواری کے ساتھ ایل جے پی کی پانچ سیٹوں کو بچانے کا دارومدار چراغ پاسوان پر ہے ۔یہ الگ بات ہے بھاجپا اور جنتا دل یونائٹڈ ساتھ ہے ۔جموئی سے انہوں نے اپنے بدلے جیجا ارون بھارتی کو اتارہ ہے ۔یہاں پہلے مرحلے کا چناو¿ ہو چکا ہے ۔1977 میں 4 لاکھ 69 ہزار ووٹوں سے حاجی پور سیٹ پر کامیابی کا جھنڈہ لہرانے والے رام ویلاس پاسوان ہوتے ہوئے بھی زمینی لیڈر کے نام سے اپنے آپ کو واقف کرایا ۔پھر 1989 میں کانگریس کے مہاویر پاسوان کو 5 لاکھ 4 ہزار ووٹ سے ہرا کر ریکارڈ بنایا تھا ۔1984 میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔کانگریس کے رام رتن رام نے ان کو ہرایا تھا ۔1957 سے 2019 تک ہوئے پارلیمانی چناو¿ میں سے پانچ مرتبہ کانگریس جیتی ۔1991 میں جنتا دل کے رام سندر داس جیتے ۔2009 کا چناو¿ بھی انہوں نے جیتا مگر وہ جنتا دل یونائیٹڈ کے تیر کے نشان پر جیتا ۔آٹھ بار رام ویلاس پاسوان نے کامیابی کا جھنڈہ لہرایا مگر لوک دل ،جنتا پارٹی اور جنتا دل یونائٹڈ پھر ایل جے پی بنا کر کامیابی پائی ۔دیکھیں کہ ان کے بیٹے چراغ پاسوان کیا اپنے والد کی وارثت کو بچانے میں کامیاب رہتے ہیں یانہیں ۔
(انل نریندر)
دونوں ہی رام للا سے اپنا جڑاو ¿ بتا رہے ہیں!
دیش بھر میں رام مندر بھاجپا کے لئے اہم چناو¿ کی بنیادی اشو رہا ہے لیکن ایودھیا سماج وادی پارٹی کے لئے بھی یہ اتنا نہیں اہمیت رکھتا ۔رام مندر میں بھگوان رام کی پران پرتیسٹھا ہونے کے بعد پہلی بار یہاں لوک سبھا چناو¿ ہو رہے ہیں ۔بھاجپا امیدوار للو سنگھ خود کو رام بھگت اور رام مند ر تعمیر کو کارنامہ و پارٹی کے لئے ایک آستھا کا اشو کہتے ہیں ۔سپا امیدوار ابھدیش پرکاش کہتے ہیں کہ ہماری رگ - رگ میں رام ہیں وہ اپنے دادا نیول ، پتا دکھی رام اور چاچا پرشو رام اور بڑے بھائی رام ہوت کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ہم تو پیڑیوں سے بھگوان رام کو مانتے آرہے ہیں ۔بھگوان کا ہمیں بھی آشیرواد ملتا ہے ۔فیض آباد ضلع کا نام بدل کر ایودھیا کر دیا گیا ہے لیکن لوک سبھا سیٹ فیض آباد ہی ہے ۔بھاجپا کے للو سنگھ جہاں جیت کی اپنی ہیٹ ٹرک لگانے کے لئے میدان میں اترے ہیں تو سپا 1998 سے اس سیٹ پر جیت نہیں پائی ہے ۔سپا نے جیت کے لئے ذات برادری تجزیوں کے تحت ایس سی فرقہ کے اودھیش پرساد کو اتارا ہے ۔وہ حال ہی میں لوک سبھا حلقہ کے ملکی پور سے ۹بار ممبر اسمبلی ہیں ۔اور پانچ بار ریاستی سرکار میں وزیر رہے ہیں ۔بسپا نے سچیدہ نند پانڈے کو امیدوار بنایا ہے ۔کبھی کمیونسٹ پارٹی کے ایم پی رہے متر سین یادو کے بھائی اور یٹائرڈ آئی پی ایس اروند سین بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر یہاں سے چناو¿ لڑرہے ہیں ۔بھاجپا کے لئے یہ سیٹ بہت اہمیت رکھتی ہے ۔یہاں وزیراعظم نریندر مودی روڈ شو بھی کر چکے ہیں ۔چناو¿ کے اعلان کے بعد صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپندی مرمو اور نائب صدر جناب جگدیپ دھنکھڑ صاحب رام للا کے درشن کر چکے ہیں ۔بھاجپا امیدوار للو سنگھ پارٹی کے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہے ہیں ۔رام مندر اور آدتیہ ناتھ یوگی اور مودی سرکاروں کی عوامی بہبودی اسکیموں کو بنیاد بنا رہے ہیں وہیں سپا امیدوار مودی ،یوگی سرکار کی خامیاں اور لوک سبھا اور آئین بچانے کے دہائی دے کر ووٹ مانگ رہے ہیں ۔یہاں سب سے بڑا اشو رام مندر ہے ۔رام مندر کے ساتھ ہی سرکار نے جو اسکیمیں شروع کی ہیں اس سے لوگوں کو امید جاگی ہے ۔ہوائی اڈہ شروع ہو چکا ہے ۔نئی ایودھیا بس آرہی ہے ۔کئی بڑے ہاو¿سنگ پروجیکٹ اور ہوٹل بنانے کے سینکڑوں تجاویز ہیں ۔بھاجپا امیدوار للو سنگھ کہتے ہیں کہ چناو¿ جیتنے کے ساتھ ایودھیا کا باقاعدہ وکاس یقینی کریں گے ۔گھاٹون کی تعمیر سیکورٹی اور ٹورازم اور روزگار ہماری ترجیح ہے ۔وہیں سپا ا میدوار اودھیش کہتے ہیں کہ ایودھیا کے آس پاس ساری زمیں ،گجراتی وگجراتی کاروباریوں کو دے دی گئی ہیں اور وہ ہی کاروبار کریں گے ۔میں جیتا تو ایک ایک سودے کی جانچ کراو¿ں گا ۔سڑک چوڑی کرنے کے نام پر لوگوں کے گھروں کو بڑی تعداد میں توڑا گیا اور معاوضہ تک نہیں دیا گیا ۔معاوضہ کے سلسلے میں للو سنگھ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے دستاویز دئیے انہیں اچھا معاوضہ ملے ہیں لیکن دستاویزوں کے نا ہونے پر پریشانی آئی ہے ۔یہاں قریب ڈیڑھ لاکھ مسلمان ووٹر ہیں ۔سب سے ز یادہ 7.20 لاکھ او بی سی ووٹر ہیں اس کے بعد کرمی اورپچھڑا سمیت کئی برادریاں ہیں ۔ایس سی ووٹروں کی تعداد 4 لاکھ 70 ہزار ہے ۔برہمنوں کی تعداد 5.66 لاکھ ہے ۔فیض آباد سیٹ میں پانچ اسمبلی حلقے ہیں ۔ایودھیا ، ردولی ،بیکاپور ،گوری گنج ، ملوی پور(ریزرو)آتے ہیں۔
(انل نریندر)
16 مئی 2024
جے پرکاش اگروال بنام پروین کھنڈیلوال!
پرانی دہلی چاندنی چوک پارلیمانی سیٹ نہ صرف ایک وقار کی سیٹ ہے بلکہ کئی معنوں میں تاریخی بھی ہے ۔اس مرتبہ اہم مقابلہ کانگریس کے لیڈر جے پرکاش اگروال اور بھاجپا کے امیدوار پروین کھنڈیلوال کے درمیان ہے ۔پروین کھنڈیلوال بڑے تاجر ہیں اور ٹریڈ فیڈریشن کے عہدیدار بھی ہیں ۔جے پرکاش اگروال سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں اور دہلی کی جانی مانی ہستیوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔وہ ملنسار مجاز کے ہیں اور لوگوں کی ہر ممکن مدد کو تیار رہتے ہیں ۔لوگوں کے دکھ سکھ میں ہمیشہ شریک ہوتے ہیں ۔جے پرکاش اگروال چاندنی چوک سیٹ سے چوتھی بار پارلیمانی چناو¿ لڑرہے ہیں اس پارلیمانی حلقہ سے وہ پہلے تین بار ایم پی رہ چکے ہیں ۔چاندنی چوک حلقے میں پلے بڑھے جے پرکاش اگروال کا یہ آٹھواں لوک سبھا چناو¿ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حریف پارٹیوں کو شاید چاندنی چوک کی جغرافیائی اور لوک سبھا حلقہ کی پوری اور صحیح جانکاری نہیں ہے ۔جے پرکاش اگروال کا پریوار قریب 100 سال سے چاندنی چوک میں بسا ہوا ہے ۔چاندنی چوک میں واقع کناری بازار کے نوگھرا سیاسی حلقہ ایک اہم مرکز رہا ہے ۔یہاں مکان نمبر 1998 آزادی سے پہلے مجاہدین آزادی کا بسیرا رہا ہے ۔لالہ رام چرن اگروال اسی گھر میں رہا کرتے تھے وہ اسی مکان سے آزادی کی لڑائی میں تین مرتبہ جیل گئے پھر انہوں نے 1945 میں میونسپل کمیٹی کا پہلا چناو¿ لڑا اور کامیابی حاصل کی تب نوگھراں کا سیاسی سفر شروع ہوا اور اب تک جاری ہے ۔آج عام آدمی پارٹی اور کانگریس اتحاد انڈیا کی جانب سے مشترکہ امیدوار جے پرکاش اگروال اسی گھر میں رہتے ہیں اور وہیں سے لوک سبھا چناو¿ کے لئے دس مرتبہ کھڑے ہوئے ہیں ۔جے پرکاش اگروال نے بتایا کہ اس گھر سے اب تک قریب 20 چناو¿ لڑے جا چکے ہیں یہ اپنے آپ میں دہلی میں ایک ایسا مکان ہے جہاں سے اتنے چناو¿ لڑے گئے ۔جے پرکاش اگروال نے بتایا کہ 1983 میں کارپوریشن کا ممبر چناگیا ۔1984 سے اب تک اسی مکان سے لوک سبھا کے 10 چناو¿ لڑ چکا ہوں اسی گھر سے راجیہ سبھا کا چناو¿ بھی لڑا ہے اور آج بھی اسی گھر کے پتہ پر الیکشن آئی کار ڈ ہے ۔بھلے اب میں یہاں نہیں رہتا ہوں لیکن آنا جانا برابربنا ہوا ہے ۔یہاں بھائی کا دفتر ہے کسی وقت یہاں ایک گیٹ میں 9 گھر ہوا کرتے تھے لہذا اس کا نام نو گھراں پڑگیا ۔جے پرکاش نے بتایا کہ پنڈت جواہر لال نہرو خانے پینے کے شوقین تھے اور وہ یہاں گلی پراٹھے والی میں پراٹھے کھانے آئے تھے تب ہمارے گھر بھی آئے تھے ۔لال بہادر شاستری جی بھی اس مکان میںآچکے ہیں جب میرے والد لالہ رام چرن اگروال کی موت ہوئی تھی تب اندرا گاندھی بھی گھر پر اائی تھی ۔جے پرکاش اگروال نے اپنی نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر بتایا کہ وکاس کے نام پر جنتا کے ساتھ مزاق کیا گیا ہے ۔اور وہ اچھے کام کے لئے انہیں جتائے گی ۔ان کا کہنا ہے کہ چاندنی چوک کی جنتا اچھی طرح سے جانتی ہے کہ حلقہ میں وکاس کا کام بالکل ٹھپ ہو گئے ہیں اور بھاجپا ایم پی کے ذریعے مسلسل دس سال تک جنتا کو ٹھگا گیا ۔جے پرکاش اگروال پر کوئی بھی مجرمانہ مقدمہ نہیں ہے ۔وہ صاف گو ہیں اب دیکھتے ہیں ۴جون کو لوگ ان کی قسمت کے بارے میں کیا فیصلہ سناتے ہیں ۔
(انل نریندر)
کشمیر میں بی جے پی چناو ¿ کیوں نہیں لڑ رہی ہے؟
جموں وکشمیر سے چار سال پہلے آرٹیکل 370 ہٹانے والی برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ کشمیر وادی میں لوک سبھا چناو¿ میں اپنے امیدوار نہیں اتارے گی اور مسلم اکثریتی کشمیر وادی کی تینوں سیٹوں میں سے ایک سیٹ پر بھی اپنا امیدوار نہیں کھڑا کرے گی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ بھاجپا کا یہ فیصلہ یہاں کے لوگوں کے درمیان غصہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے پارٹی مان رہی ہے ۔کشمیر اور دہلی کے درمیان دہائیوں سے رشتہ کشیدہ رہے ہیں ۔حکومت ہند کے خلاف کٹر پسند اور اسے دبانے کے لئے ہوئی فوجی کاروائی نے پچھلی تین دہائیوں سے یہاں بہت سے لوگوں کی جان لے لی ہے ۔حالات تب اور خراب ہوئے جب سال 2019 میں وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر جموں اور کشمیر کو دو مرکزی حکمراں ریاستوں میں بدل دیا اورجموں و کشمیر اور لداخ یہ دو ریاستیں بنیں ۔ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 جموں وکشمیر کو اچھی خاصی مختاری دیتا تھا۔ساتھ ہی مرکزی حکومت نے انٹر نیٹ اور کمیونیکیشن سسٹم کو بھی محدودکرتے ہوئے تین سابق وزرائے اعلیٰ سمیت سینکڑوں لیڈروں کو مہینوں جیل میں ڈالے رکھا تب سے پی ایم مودی اور ان کے وزیر سال 2019 میں لئے گئے فیصلے کو نا صرف صحیح بتاتے ہیں بلکہ اپنے بڑے کارنامے بھی گناتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہوئے تھکتے نہیں کہ اس سے جموں اور کشمیر میں امن لوٹا ہے اس لئے عام چناو¿ میں کسی بھی امیدوار کو میدان میں نہ اتارنے کے پارٹی کے فیصلے پر حیرانی ہو رہی ہے ۔ہندو اکثریتی جموں کی دونوں سیٹیں فی الحال بھاجپا کے پاس ہیں لیکن مسلم اکثریتی کشمیر وادی کی تینوں سیٹوں میں سے ایک بھی سیٹ بھاجپا کے پاس نہیں ہے ۔جہاں تک یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا ہے ۔یہ بھی صحیح نہیں ہے ۔کشمیر میں 2021 سے لیکر اب تک 50 سے زیادہ نشانہ بنا کر ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔کیا کشمیر وادی میں اپنا امیدوار کو نہ کھڑا کرنے کے پیچھے یہ نظریہ تو نہیں ہے کہ پارٹی نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔کشمیر کی تینوں سیٹوں پر امیدوار اعلان نہ کرنے کے مسئلے پر بھاجپا کے ایک سینئر لیڈر کہتے ہیں کہ بڑا نشانہ پانے کے لئے چھوٹے اشو چھوڑنے پڑتے ہیں ۔پارٹی نے کشمیر میں دو چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے این ڈی اے میں شامل کرنے کا پلان بنایا ہے ۔انہیں پارٹیوں کی حمایت کرے گی لیکن پارٹی کا بڑا نشانہ نیشنل کانفرنس کو ہرانا اور درپردہ طور سے پی ڈی پی کو بھی جتانا ہے ۔کیوں کہ نیشنل کانفرنس کانگریس اتحاد کا حصہ ہے ۔پی ڈی پی چناو¿ جیت کر بھی کانگریس کے ساتھ نہیں جائے گی ۔وہ بی جے پی کا ساتھ دے سکتی ہے ۔بھاجپا کو امید تھی کہ آرٹیکل 370 ہٹنے سے وہاںپارٹی کا مینڈیٹ بڑھے گا لیکن کشمیر مین اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ۔یہاں سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے کو کارنامہ بتا کر دوسری ریاستوں میں اس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔اپوزیشن لیڈروں کا الزام ہے کہ بھاجپا 2019 میں لئے گئے اپنے فیصلے کو ریفرنڈم میں تبدیل ہونے سے بچانا چاہتی ہے اس کی وجہ سے اس نے کشمیر میں چناو¿نہیں لڑنے کا فیصلہ کیاہے ۔سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر لوگ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے فیصلے سے خوش ہوتے ہیں تو بھاجپا چناو¿ لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹتی ۔بھاجپا خود کو بے نقاب نہیں کرنا چاہتی اور چہرے کوبچانے کے لئے اس نے چناو¿ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
(انل نریندر)
14 مئی 2024
متاثرہ پہلوانوں کا سنگھرش رنگ لایا!
ممبر پارلیمنٹ انڈین کشتی فیڈریشن کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو عدالت کے سمن اور جنسی اذیت رسانی کا ملزم ثابت کرنے کیلئے متاثرہ خاتون پہلوانوں کو لمبی جدوجہد کرنی پڑی اس درمیان عدالتی کاروائی کو لٹکا کر رکھنے کی کئی کوششیں بھی ہوئیں ۔الزام طے کئے جانے کیلئے عدالت میں دو بار بحث چلی ایسا بیچ میں مجسٹریٹ کے تبادلے کی وجہ سے ہوا ۔دوسری بار بحث پوری ہونے کے بعد عدالت نے 27 فروری کو الزامات طے کرنے کے مسئلے پر اپنا حکم محفوظ کر لیا تھا ۔لیکن حکم آنے سے پہلے برج بھوشن شرن سنگھ ایک اور عرضی لیکر عدالت پہونچ گئے جو 26 اپریل کو خارج کر دی گئی تھی اس میں انہوں نے اپنے خلاف چھ خاتون پہلوانوں کے ذریعے درج کرائے گئے جنسی اذیت رسانی کے معاملے کی آگے کی جانچ کی مانگ کی گئی تھی ۔وہ الزامات پر اور دلیلیں پیش کرنے لگے اور آگے کی جانچ کے لئے وقت مانگ رہے تھے ۔دلیل دی گئی تھی کہ وہ تاریخ پر بھارت میں نہیں تھے جس میں ایک شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ اسے ڈبلیو ایف آئی آفس میں پریشان کیا گیا تھا ۔الزامات پر بحث کے دوران شکایت کنندگان اور پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے کافی ثبوت ہیں ۔دہلی پولیس نے ملزمان کی اس دلیل کو خارج کر دیا کیوں کہ مبینہ واقعات بیرون ملک میں ہوئے تھے ۔اس لئے دہلی کی عدالتوں کے دائر اختیار میں نہیں آتے پولیس نے کہا تھا کہ برج بھوشن سنگھ کے ذریعے بیرون ملک اور دہلی سمیت بھارت میں کی گئی جنسی اذیت رسانی کے مبینہ واقعات ایک جرم کا حصہ ہیں ۔دوسری طرف ملزم ایم پی نے مبینہ جرم کی رپورٹ کرنے میں دیری کی اور شکایت کنندگان کے بیانوں میں تضاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بری کئے جانے کی اپیل کی تھی ۔برج بھوشن شرن سنگھ کی جانب سے پیش وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ طور پر واقعات 2012 میں ہوئے لیکن پولیس کو 2020 میں رپورٹ کی گئی ۔سنگھ نے کہا کہ نگرانی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر بھلے ہی میں بے قصور نہیں مانا جاسکتا لیکن یہ رپورٹ ان کی بے گناہی ثابت ہونے کے امکان کو مسترد بھی کرتی ہے ۔خاتون پہلوانوں نے پہلے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا جس کے بعد 28 اپریل 2023 کو معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ۔برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری کو لیکر پہلوانوں کی جانب سے 23 اپریل 2023 کو جنتر منتر پر دھرنا بھی دیا گیا ۔اس دھرنے میں کیا کیا ہوا تھا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔آخر کار پہلوانوں کا شنگھرس رنگ لایا ہے اور دہلی کی عدالت نے خاتون پہلوانوں کےخلاف جنسی اذیت رسانی معاملے میں جمع کو بھاجپا ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف الزام طے کرنے کے احکامات دئیے ۔کورٹ نے مانا46میں سے 5 شکایتوں میں انڈین کشتی فیڈریشن کے سابق چیف کے خلاف الزام طے کرنے کے لئے کافی ثبوت ملے ہیں ۔ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پرینکا راجپوت نے ایک شکایت خارج کر دی اور کورٹ نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کسی خاتون کی ایمیج کو ٹھیس پہونچانے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال کرنا دفع 354 اور جنسی اذیت (354-A) اور مجرمانہ دھمکی (دفعہ 506) کے تحت الزامات طے کئے گئے ہیں ۔ان پر 21 مئی کو بحث ہوگی اس میں دفعہ 354 میں زیادہ سے زیادہ سزا پانچ برس 354-A تین برس اور 506 میں زیادہ سے زیادہ 2 سال کی سزا ہو سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
وراثت بچانے اور گڑھ بھیدنے کی لڑائی!
رائے بریلی کے چناوی دنگل میں راہل گاندھی کی اینٹری ہوتے ہی یہاں کا چناوی ماحول گرم ہو گیا ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ راہل نے امیٹھی سے چناو¿ نہ لڑ کر رائے بریلی کو چنا اسے ایک طرح سے ترپ کا اکّا رہا ۔بھاجپا نے امیٹھی سے راہل کو گھیرنے کی پوری تیاری کر دی تھی آخری لمحہ میں یہ فیصلہ کہ راہل رائے بریلی سے لڑیں گے اور پنڈت کشوری لال امیٹھی سے لڑیں گے نے نہ صرف بھاجپا کو بیک فٹ پر لا دیا ہے بلکہ خود کانگریسیوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔اور چنندہ وی آئی پی سیٹوں میں شمار رائے بریلی گاندھی خاندان کا گڑھ رہا ہے اس بار راہل سے مقابلہ کرنے کیلئے بھاجپا نے یوگی سرکار کے وزیر دنیش پرتاپ سنگھ کو میدان میں اتارا ہے وہیں بسپا نے ٹھاکر پرساد یادو کو چناوی میدان میں اتارا ہے ۔اس چناو¿ میں رائے بریلی کی لڑائی کئی معنوں میں خاص ہے ۔یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ راہل اپنے خاندان کی وراثت بچانے کے ساتھ ہی والدہ سونیا گاندھی سے بڑی جیت کانگریس کو دلا پاتے ہیں یا نہیں ۔سپا کے ساتھ میں اس لڑائی کو اور دلچسپ بنا دیا ہے ۔دوسری طرف بھاجپا کے سامنے کانگریس کے اس مضبوط قلعے کو مسمار کرنے کی چنوتی ہے ۔وہیں بسپا کی کوشش کرے گی کہ وہ رائے بریلی کی جنگ کو تکونے مقابلے میں بدل دے ۔گاندھی خاندان کی یہ تیسری پیڑی ہے جو رائے بریلی سے چناو¿ میدان میںاتری ہے ۔پہلا چناو¿ راہل گاندھی ے دادا فیروز گاندھی نے لڑا تھا اس کے بعد اندرا گاندھی اور سونیا گاندھی یہاں سے چناو¿ لڑ چکی ہیں ۔رائے بریلی سے گاندھی خاندان کی انحصاری لگی آرہی ہے ۔یہی وجہ رہی کہ کانگریس کا اس سیٹ پر دبدبہ رہا حالانکہ اس سیٹ پر تین بار غیر کانگریسی ایم بھی چنے گئے ہیں ۔1977 میں راج نارائن اور 1996 اور 1998 میں بھاجپا کے اشوک سنگھ چناو¿ جیتے تھے ۔باقی سبھی چناو¿ نتایج کانگریس کے حق میں گئے ۔سونیا گاندھی 2004 سے یہاں مسلسل ایم پی رہیں ۔لیکن ووٹ فیصد ہر بار کم ہوتا رہا ہے ۔کانگریس کو 2009 میں 72.3 فیصد 2014 میں 63.8 اور 2019 میں 55.8 فیصد ووٹ ملے ۔اب راہل گاندھی کے سامنے اپنا ووٹ فیصد بڑھانے کی چنوتی ہوگی ۔رائے بریلی کی سیٹ پر کانگریس کو سپا کا ساتھ ملا ہے ۔رائے بریلی لوک سبھا حلقہ میں پانچ اسمبلی حلقہ آتے ہیں ۔2022 میں ان میں سے 4 سیٹوں پر سپا کامیاب رہی تھی ۔یہاں او بی سی ووٹر قریب 23 فیصد ہیں ۔اور 9 فیصد یادو ووٹر ہیں یہ حساب کانگریس کی راہ پر آسان کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔چناو¿ میں سپا تنظیم بھی کانگریس کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چل رہی ہے ۔بسپا کی دلت اور یادو ووٹروں پر نظر ہے ۔اس سیٹ پر دلت ووٹر قریب 32 فیصد ہیں ۔بسپا نے اپنا روایتی ووٹر مانتی ہے ۔بسپا نے 2014 کے چناو¿ میں اپنا امیدوار اتارا تھا اس وقت کے امیدوار 63633 ووٹ لیکر پانچویں نمبر پر تھا اب بسپا امیدوار اس برادری میں سیندھ لگانے کی کوشش میں ہیں ۔اس بار سیٹ کی تاریخ دلچسپ ہے ۔یہاں بڑے بڑے سورما ہار گئے ہیں خود اندرا گاندھی بھی 1977 میں چناو¿ ہاری تھیں اس کے علاوہ بھیم راو¿ امبیڈکر کی بیوی سویتا امبیڈکر ،وجے راجے سندھیا ،جنیشور مشرا ،ونے کٹیار یہاں سے چناو¿ ہار چکے ہیں ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اہل کی جیت تقریباً پکی ہے ۔دیکھنا صرف یہ ہوگا کہ وہ کتنے ووٹوں سے کامیاب ہوتے ہیں اور ووٹ فیصد کتنا بڑھا سکتے ہیں ۔رائے بریلی کا سیدھا اثر آس پاس کی سیٹوں پر بھی پڑ سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...