Translater
22 اکتوبر 2022
بی جے پی کیلئے کیا عآپ چنوتی ہے؟
گجرات اسمبلی چناو¿ کا اعلان کسی دن بھی ہو سکتاہے ،گجرات میں بی جے پی حکومت ہے وہ اپنے اقتدار کو بنائے رکھنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے کیا بی جے پی کیلئے عام آدمی پارٹی و کانگریس کوئی چنوتی کھڑی کر سکتی ہیں؟ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھاجپا سرکار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہ گجرات ڈبل انجن والی نہیں نئے انجن والی سرکار چاہتا ہے ۔بھاو¿نگر ریلی میں انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو بھاجپا سرکار میں مختلف فرقوں گروپوں اور سرکاری ملازمین کے خلاف آندولن کرنے کیلئے درج سبھی جھوٹے مقدموں کو ترجیحاتی بنیاد پر واپس لے لے گی ۔ کیجریوال نے کہا کہ ڈبل انجن بہت پرانا ہوگیا ہے دونوں انجن 40سے 50سال پرانے ہیں ۔ ایک نئی پارٹی ،نئے چہرے ،نئے نظریہ ،نئی توانی اور ایک نیا سویرا نئی پارٹی آزماکر دیکھیں۔آپ اس کوشش میں کچھ نہیں گنوائیںگے ۔اس بار ہمیں موقع دیں وہیں انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ گجرات میں بھاجپا کی بڑی لہر ہے اور اس بار پارٹی پچھلے سبھی ریکارڈ توڑ دے گی اور پھر سرکار بنائے گی ۔ اور بھاجپا سرکار 400سے زیادہ پارلیمانی سیٹیں جیت کر 2024میں تیسری مرتبہ اقتدار میں واپس آئے گی ۔انوراگ ٹھاکر نے بھاجپا کی گورو یاترا سے خطاب میں کہا کہ مودی کی قیادت میں ہندوعلامات کا سمان کیا گیا ایودھیامیں رام مندر ایک سچائی بن گیا ہے ۔کانگریس اور عام آدمی پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے ایک اٹلی کی خاتون وزیر اعظم کی بے عزتی کرتی تھی اب اٹلی اس کی ماں کی بے عزتی کررہا ہے۔ دہلی کے بعد عام آدمی پارٹی اسی سال پنجاب میں اپنی سرکار بنائی اور پنجاب میں کئے وعدوں کے مطابق ریاست کے لوگوں کو مفت بجلی مل رہی ہے 300یونٹ تک ۔عورتوں کو ہر مہینے 1000روپے دینے کا بھی گجرات میں بھی وعدہ کیا ہے بی جے پی مسلسل عآ پ کو ریوڑیاں بانٹنے کے الزام کو لیکر گھیر رہی ہے۔بی جے پی کے سامنے یہ چنوتی ہے کہ عآپ کے وعدوں سے کیسے وہ نمٹ پائے گی؟ عآپ کے میدان میں آنے سے بی جے پی کے ساتھ کانگریس کو بھی نقصان ہوا ہے ۔ عام آدمی پارٹی جس ریاست میں مضبوط ہوئی اس ریاست میں کانگریس کا ووٹ بینک عآپ کی طرف کھسک گیا ہے دہلی میں بھی یہی ہوا اور پھر پنجاب میں اسے دہرایا گیا ۔ کانگریس کے کمزور ہونے کا فائدہ عام آدمی پارٹی ملے گا۔ اس سے بی جے پی کی چنوتی بھلے ہی کم لگ رہی ہو لیکن اگر مقابلہ تیکونہ ہوا تو بی جے پی کو نقصان اٹھا نا پڑ سکتا ہے کیوں کہ عام آدمی پارٹی بھاجپا کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے ۔اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بی جے پی مسلسل عام آدمی پارٹی پر حملہ آور ہے ۔بی جے پی کے نیتا بھلے کہہ رہے ہیں کہ گجرات میں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے ہے لیکن بی جے پی کو زیادہ خطرہ عآپ سے ہے ۔گجرات اسمبلی کی 182سیٹیں ہیں اس میں سے بھاجپا کا کم سے کم 140سیٹیں جیتنے کا ٹارگیٹ ہے ۔
(انل نریندر)
جواب لمبا پر حقائق کی کمی!
سپریم کورٹ نے منگل کے روز کہا کہ بلقیس بانو اجتماعی آبروریزی معاملے میں 11قصور واروں کی رہائی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر گجرات حکومت کا جواب بہت ہی بے دلائل ہیں جس میں کئی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے لیکن حقائق کے پہلو پر بیان قلمبند نہیں ہیں ۔ بڑی عدالت نے عرضی گزاروں کو گجرات حکومت کے حلف نامے پر اپنا جواب داخل کرنے کیلئے وقت دیا ہے اور کہا کہ وہ عرضیوں پر پھر 29نومبر کو سماعت کرے گی ۔ جن میں 2002کے معاملے میں قصورواروں کی سزا میں رعایت اور انکی رہائی کو چیلنج کیا گیاہے ۔ اس سے پہلے گجرات سرکار نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ سی بی آئی نے معاملے کی چھان بین کی اس نے سزا میں چھوٹ کیلئے مرکزی حکومت سے اجازت لی تھی ۔ قصورواروں کو ان کے چال چلن کی بنیاد پر رہا کیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا جواب لمبا ہے لیکن حقائق کی کمی ہے ۔اس میں کئی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے لیکن اصلی باتیں غائب ہیں ۔ہم نے دیکھا ہے کہ کئی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے لیکن اصل حقائق ہونے چاہیے ۔ کورٹ نے کہا کہ ضمیر کا استعمال کہاں ہواہے؟جب ہمارے پاس آنے سے پہلے اخبار وں میں دیکھنے کو ملا معاملہ گجرات میںہوئے فسادات سے جڑا ہے جس میں بلقیس و ان کے خاندان کے سات لوگ مارے گئے تھے۔جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کہا کہ میں نے کوئی ایسا جوابی حلف نامہ نہیں دیکھا ہے جہاں فیصلوں کی ایک لمبی چوڑی تشریح کی گئی ہوبلکہ حقائق پر مبنی بیان دیا جانا چاہیئے تھا وہ انتہائی بچکانا جوا ب ہے ۔حقائق والا بیان کہاںہے؟محکمے کا استعمال کہاں ہے؟بنچ نے ہدایت دی کہ گجرات سرکار کے ذریعے دائر جواب سبھی فریقین کو دستیاب کرایا جائے ۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کی سینئر لیڈر سبھاشنی علی اور دیگر عورتوں نے قصورواروں کوسزا میں چھوٹ دیئے جانے اور ان کی رہائی کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ شروع میں عرضی گزاروں کی طرف سے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ انہیں جوا ب داخل کرنے کیلئے وقت چاہئے ۔جسٹس رستوگی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے وہ گجرات سرکار کے جواب کو پڑھ لیں یہ اخباروں میں صاف دکھائی دے رہا ہے ۔انہوں نے سرکار ی وکیل تشار مہتا سے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی جوابی حلف نامہ نہیں دیکھا ہے جس میں کئی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہو ۔ریاستی حکومت نے 10اگست 2022کو قصورواروں کی رہائی کو حکم دیا تھا ۔ان قصور واروں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ریاستی حکومت نے حالاںکہ دعویٰ کیا تھا کہ قانون کے عرضی ٹکنے والی نہیں ۔یہ پی آئی ایل مجرمانہ معاملے سماعت کیلئے نہیں ہے یہ عرضی سیاسی سازش کا حصہ ہے اسے خارج کیا جانا چاہئے عرضی گزروں کی طرف سے کپل سبل نے دلیل دی تھی کہ یہ اچانک ہوا واقعہ ہے مجرموں نے گینگ ریپ اور قتل کی واردات کو انجام دیا ہے اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ واردات کے بارے میں ذکر کر رہے ہیں معاملے میں قصور واروں کو سز امیں مل چکی ہے ۔یہاں سوال ہے سزا میں جو چھوٹ دی گئی اور رہائی کا حکم دیا گیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں ؟وہ قانون کے دائرے میں ہے یا نہیں ؟
(انل نریندر)
18 اکتوبر 2022
اسلامی ممالک سے متحدہونے کی اپیل!
ایران میں حجاب کے خلاف مظاہروں کو لیکر ایک بار پھر اس دیش کے سپریم لیڈر آیةاللہ خامنہ ای نے وارننگ جاری کی ہے ۔ اس بارے میں انہوںنے کہا کہ پیغام دینے کے ساتھ اسلامی ملکوںسے اتحاد دکھانے کی اپیل بھی کی ۔سرکاری ٹی وی چینل پر تقریر میں جہاں انہوں نے کہا کہ ایران ایک طاقتور پیڑ ہے جسے کوئی ہلا نہیں سکتا ہے۔ بڑے عاجزانہ طریقے سے انہوں نے مسلم ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ساتھ آئیں۔نیوز ایجنسی رائٹر کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ جو پیڑ تن کر کھڑا ہوا تھا وہ اب ایک طاقتور پیڑ ہے اور اسے کوئی اکھاڑ نہیں سکتا اور اس بارے میں کوئی سوچنے کی بھی ہمت نہ کرے ۔ ایران میںکردخاتون مہسا امینی کی موت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔حجاب نہ پہننے کو لیکر مہسا امینی کو پولیس نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انکی موت ہوگئی تھی ۔ایران کے سپریم لیڈر آیةاللہ علی خامنہ ای نے اسلامی ملکوں میں اتحاد کی اپیل کی ہے ۔اور ان میں اتحاد ممکن لیکن اس کے لئے کام کرنی کی ضرورت ہے ۔ ہماری اسلامی ملکوں کے سیاستدانوں اور حکمرانوں میں امید ختم نہیں ہوئی اور لیکن ہماری سب سے بڑی امید خواتین لیڈروں سے ہے جس میں مذہبی اسکالر ،دانشور ،پروفیسر ،سمجھدار نوجوان ،شاعر ،مصنف ،پریس وغیر کے لوگ شامل ہیں ۔انہوںنے آگے کہا کہ مسلم دیش حال ہی میں متاثر ہیں وہ اپنی تقسیم کی وجہ سے ہیں جب ہم بٹے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی فکر نہیں کرتے اور ہر وقت ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے ہیںتو یہی ہوتا ہے قرآن فرماتا ہے کہ جب آپ منقسم ہوتے ہیں تو آپ کو بے عزت کیا جائے گا۔اس لئے آپ دوسروں کو اپنے اوپر حاوی ہونے میں مد د کرتے ہیں ۔دشمن آج مسلمانوں کے دومیان اتحاد نہیں دیکھنا چاہتا ۔ یہودی حکومت اس خطے میں کینسر کے سیل بنا رہا ہے تاکہ اسلام کے خلاف مغرب کی دشمنی کا اسے ایک مرکز بنایا جائے ۔وہ ہتھیار کٹر یہودیوں کولیکر آئے اور ایک فرضی سرکار بناکر فلسطینیوں کو کچلا ۔ ایران میں حجاب پہننے کولیکر شروع ہوئے مظاہروں میں اب تک تقریباً 200لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کی کاروائی میں کوئی احتجاجی نہیں مارا گیا جبکہ 26سیکورٹی ملازمین کی موت ہوئی ہے ۔یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ جھڑپوں میں سیکورٹی جوان مارے جائیں اور ایک بھی احتجاجی نہ مارا جائے ۔ ایران میں بھاری احتجاجی برادری اقلیتی صوبوںمیں زیادہ دیکھے گئے ہیں۔جہاں مظاہرے ہوئے ہیںان میں کرد اور جبوب مشرق بلوچ شامل ہیں وہ کافی وقت سے ایران کے سامنے اپنی مانگے رکھتے رہے ہیں ۔انسانی حقوق گروپوںکا کہنا ہے کہ مظاہرے کے خلاف کاروائی میں 200سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔ جن میں نابالغ لڑکیاں بھی شامل ہیں ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مظاہروں میںکم سے کم 23بچوں کی موت ہوئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوںمیں مظاہرین نے تانا شاہ مردہ باد کے نعرے لگائے ہیں ۔ ان میں دو لڑکیاں سڑک پر تھیں وہ گھر واپس نہیں لوٹ پائیں۔
(انل نریندر)
ہم لکشمن ریکھا سے واقف ہیں!
ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی ستائش کرتے ہیں کہ انہوںنے نوٹ بندی کی عدلیہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نوٹ بندی نے ہزاروں کنبوں کو اجاڑ دیا ،سیکڑوں لوگوں نے تو بینکوں کے باہر لائنوں میں لگ کر اپنی جان قربان کردی ۔ان خاندانوں کی تو زندگی ہی بدل گئی ،سرکار نہیں چاہتی تھی کہ نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کسی طرح غور کرے ۔ اٹارنی جنرل اور سولیسیٹر جنرل نے مرکزی سرکار کی طرف سے کہا کہ نوٹ بندی پر سماعت غیر ضروری ہے کیوں کہ یہ چھ سال پہلے کا فیصلہ ہے اور اس میں کچھ نہیں بچا ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ صرف اکیڈمک نہ ہو ۔ ہماری ڈیوٹی ہے کہ جو سوال ہمیں ریفر کئے گئے ہیں اس کا جواب دیں ۔جسٹس بوپنا نے کہا کہ جو ہو چکاہے وہ واپس نہیں ہو سکتا ہے لیکن مستقبل کیلئے کیا ایسا ہو سکتا ہے یہ دیکھا جانا چاہئے ۔ 2016میں کی گئی نوٹ بندی کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں بدھوار کو پانچ ججوںکی آئینی بنچ کے سامنے سماعت شروع ہوئی اس دوران عدالت نے مرکزی سرکار اور ریزرو بینک سے حلف نامے کے ذریعے جواب مانگا ۔ عرضی گزار وکیل پی چدمبرم نے دلیل دی تھی کہ مرکزی سرکار کی طرف سے ریزرو بینک کو اس بارے میں لکھے گئے خط اور آر بی آئی کی سفارش وغیرہ سے متعلق دستاویزا ت مانگے جائیں ساتھ ہی کہا کہ آر بی آئی ایکٹ کے تحت مرکزی سرکار کو پوری کرنسی منسوخ کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اس دلیل کے پیش نظر حلف نامہ دینے کو کہا گیا ہے۔ عدالت نے مرکزی سرکار سے کہا کہ وہ اپنے حلف نامے میں ضروری دستاویزات کے بارے میں جانکاری مہیہ کرائیں ۔ وہ آر بی آئی کی بورڈ میٹنگ کے دستاویزات دیکھنا چاہیں گے جو نوٹ بندی سے پہلے تیار ہوئے تھے ۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کیلئے اگلی تاریخ 9نومبر طے کردی ہے ۔مرکزی سرکار کی طرف سے پیش سولیسیٹر جنرل توشار مہتا نے کہا کہ اکیڈمک اشوز پر عدالت کا وقت برباد نہیں کیا جانا چاہئے تبھی وکیل نے کہا کہ پچھلی بنچ نے کہا تھا کہ اس معاملے کو آئینی بنچ دیکھے ۔معاملے کی سماعت کے دوران مدعی کے وکیل پی چدمبرم نے کہا کہ نوٹ بندی کے سبب لوگوں کی نوکری چلی گئی کئی بے روزگار ہو گئے اگر نوٹ بندی کرنی ہی تھی تو بیک اپ میں کیش ہونا چاہئے تھا۔کیا اس فیصلے کیلئے ضمیر کا استعمال کیا گیا ؟کیا یہ اپنی مرضی کا فیصلہ نہیں تھا ؟ دستاویز کا محاسبہ ہونا چاہئے کہ سرکارنے آربی آئی کو جو صلاح دی اس سے متعلق دستاویزات دیکھیں جائیں ۔ پارلیمنٹ میں بھی یہ دستاویز دکھائے نہیں گئے ۔ سپریم کورٹ بڑی عدالت ہے ایسے میں یہاں دیکھے جائیں ۔ججوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ جانتے ہیں کہ لکشمن ریکھا کہاں ہے ، لیکن جس طرح سے اسے کیا گیا تھا اس کی پڑتال کی جانی چاہئے ۔ہمیں یہ طے کرنے کیلئے وکیل کو سننا ہوگا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...