Translater
06 فروری 2021
کسان آندولن میں شامل لا پتہ کسان !
بدھوار کو وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بتایا کسان آندولن شروع ہونے کے بعد دیش کی مختلف ریاستوں سے آئے 115کسان اس وقت دہلی کی جیلوں میں بند ہیں ۔یہ کسان دہلی کی سرحد پر مختلف دھرنوں کی جگہ پر زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے جاری مظاہروں میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے لاپتہ کسانوں کے بارے میں انہیں کسان لیڈروں نے ہی جانکاری دی ۔اور انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے دہلی سرکار سے مدد مانگی تھی کیجریوال نے اس ملاقات کے بعدد دہلی کی سبھی جیلوں میں بند ایسے لوگوں کی فہرست تیار کی ہے ۔اس جانکاری کی بنیاد پر کسان آندولن سے جڑے لوگ اپنے لا پتہ لوگوں کی پہچان کر سکیں گے ۔اور پچھلے کچھ دنوں میں کسان آندولن سے جڑے نیتاو¿ں اور علیحدہ علیحدہ لوگوں نے اس معاملے میں رابطہ قائم کیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شامل ہونے آئے لوگ واپس گھر نہیں پہونچے اور ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو پارہا ہے ۔سرکاروں کی ذمہ داری ہے جو لوگ لاپتہ ہیں ان کو تلاش کرکے ان کے گھر والوں کو جانکاری دیں وزیراعلیٰ کیجریوال نے یقین دلایا کہ ان کی دی گئی فہرست کے بعد بھی اگر کچھ لوگ لاپتہ ہیں ان کی تلاش کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور معاملے مین دہلی کے لیفٹننٹ گورنر اور مرکزی سرکارسے بھی بات ہوگی ۔
(انل نریندر)
دی ان ایکوالٹی وائرس !
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد دس کروڑ کے قریب ہے جبکہ 21لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں وہیں انسانی زندگی پر سو سال کے سب سے بڑی مشکل میں بھی امیروں کی پراپرٹی بے تحاشہ بڑھی ہے ۔اور اس وبا کے نو مہینوں میں دیش کے بڑے سو امیروں کی کمائی 13لاکھ کروڑ روپے تک بڑھ گئی اگر اسے دیش کے 3.8کروڑ غریبوں میں بانٹ دیا جائے تو ہرشخص کے حصہ میں 54ہزار کروڑ روپے آئیں گے ۔یہ انکشاف آکس فریم دی ان یکوالٹی وائرس نام کی رپورٹ میں ہوا ہے ۔اس کے مطابق 18ماہ سے 31دسمبر تک دنیا میں غریبوں کی تعداد پچاس کروڑ بڑھی ہے ۔جبکہ ارب پتیوں کی پراپرٹی 284لاکھ کروڑ روپے بڑھی ہے ۔سب سے زیادہ نقصان بھارت میں غیر ہنر مند مزدوروں کو ہوا ہے ۔دیش کے 12.2کروڑ مزدوروں میں سے 9.2کروڑ یعنی 75فیصد کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ۔چھوٹے کاروباری تباہ ہو گئے ہیں کار خانے لاکھوں کی تعداد میں بند ہو گئے ہیں ۔مزدوروں کو پیٹ بھرنے کے لالے پڑ گئے اور لاکھوں بے روزگار لڑکوں کو خاندان سمیت اپنے گھر کی طرف واپس لوٹنا پڑا راستہ میں کئی نے تو اپنی جان تک گنوادی ۔حقیقت یہ ہے کووڈ وبا کے قہر سے دنیا ابھی بھی پوری طرح سے نکل نہیں پائی ہے ۔اس کورونا دور میں اقتصادی محاذ پر کئی چیلنج دیکھنے کو ملے ہیں ایک طرف جہاں یومیہ دیہاڑی سے گزارہ کرنے والی غریب جنتا کو دو وقت کی روزی کمانے کے لئے جد و جہد کرنی پڑی وہیں دوسری طرف اس کے برعکس دھن کویروں کے خزانہ اور بھرتے چلے گئے میگزین کی رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کووڈ 19-وبا کے نتیجے میں اقتصادی نظریہ سے سماج میں نا برابری بڑھی ہے ۔کورونا دور میں جانے مانے صنعتکار مکیش امبانی نے جہاں 90کروڑ روپے فی گھنٹے کے حساب سے پیسہ کمایا وہیں 24فیصد لوگوں کی ایک مہینہ کی آمدنی 3ہزار روپے سے بھی کم رہی اس کا مقصد یہ ہے کہ کورونا دور میں مکیش امبانی نے ایک گھنٹے میں جتنی کمائی کی اسے ایک عام آدمی کو اسے کمانے میں 11ہزار سال لگیں گے ۔اس شرح سے مکیش امبانی نے ایک سکنڈ میں جتنا کمایا ،اتنا کمانے کے لئے ایک عام انسان کو تین سال لگیں گے ۔بھارت کے 11بڑے ارب پتیوں کی آمدنی میں وبا کے دوران جتنا اضافہ ہوا ہے اس سے منریگا ،ہیلتھ اور دیگر مدوں میں موجود بجٹ ایک دھائی تک حاصل کر سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
نریندر مودی کے بھائی پرہلاد مودی کادکھ!
گجرات کے بلدیاتی چناو¿ہونے میں اب زیادہ دن باقی نہیں بچے ہیں ۔چناو¿ چاہے کوئی بھی ہو لیکن تنیجہ کو لیکر بے چینی رہتی ہے ۔لیکن اس بار گجرات کے بلدیاتی چناو¿ کئی معنوں میں بے حد اہم مانے جارہے ہیں ۔گجرات میں یہ چناو¿ د و مرحلوں میں ہونے ہیں یعنی 21فروری اور 28فروری کو ایک طرف جہاں کانگریس نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے ،وہیں بی جے پی بھی چناو¿ کو لیکر کمر کس چکی ہے ۔گجرارت بی جے پی صدر سیار پاٹل نے امیدواروں کے لئے ضروری قواعد کا اعلان میں کہا ہے کہ 60سال سے زیادہ عمر کے لوگوں و نیتاو¿ں کے رشتہ داروں اور جو لوگ پہلے سے کارپوریشن میں تین سال کی میعاد پوری کر چکے ہیں انہیں اس مرتبہ ٹکٹ نہیں دیا جائے گا ۔پٹیل کے اعلان کے بعد سے ہی ریاست میں بھاجپا ورکروں اور نیتاو¿ں کے درمیان ہلچل کا ماحول ہے ۔وزیراعظم کے بڑے بھائی پرہلاد مودی نے بھی اس سلسلے میں رائے زنی کی ہے انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی سونل مودی احمد آباد کے بودک دیو سے چناو¿ لڑنا چاہتی تھیں ۔لیکن اب جب اس طرح کے پیمانہ طے کئے گئے ہیں تو یہ طے ہوجاتا ہے کہ وہ چناو¿ نہیں لڑ پائیں گی ۔چونکہ وہ تو سیدھے طور پر پی ایم مودی کے خاندان سے آتی ہیں ۔پرہلاد مودی سے چناو¿ سمیت دیگر اشو پر ایجنسی نے بات کی ۔سوال ۔آپ کی بیٹی چناو¿ لڑنا چاہتی ہیں؟ جواب۔ہاں میری بیٹی احمد آباد کی بودک سیٹ کی او بی سی سیٹ سے چناو¿ لڑنا چاہتی ہیں ۔سوال: گجرات بی جے پی کے چیف سیار پاٹل نے تو اعلان ہی کردیا ہے بی جے پی نیتاو¿ں کے رشتہ داروں کو اس بار ٹکٹ نہیں ملے گا تو اب ؟جواب: ہم نے کبھی بھی اس طرح کی کوئی امید نہیں رکھی ۔ہم پی ایم مودی کی تشہیر کا استعمال کرکے اپنی زندگی نہیں چلاتے ہیں ۔خاندان کے سبھی لوگ سخت محنت کرتے ہیں اور کماتے ہیں اسی سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں ۔میں راشن کی دوکان چلاتا ہوں ۔بی جے پی میں ہمارے خاندان کی طرف سے کوئی بھائی بھتیجا واد نہیں ہے ۔نریندر مودی نے سال 1970میں گھر چھوڑ دیا تھا ۔اور پورے بھارت کو اپنا گھر بنالیا وہ ہمارے خاندان میں پیدا ضرور ہوئے ہیں لیکن وہ بھارت کے بیٹے ہیں ۔سوال: تو کیا نریندر مودی خاندان کے فرد نہیں ہیں ؟ جواب: بھارت سرکار نے پریوار کی ایک تشریح مقرر کی ہے جن جن لوگوں کے نام پر گھر کے راشن کارڈ پر ہیں وہ سبھی پریوار کے فرد ہیں ہمارے پریوار کے راشن کارڈ میں نریندر دامودر داس مودی کا نام نہیں ہے تو کیا وہ میرا پریوار ہے ؟ میں یہ سوال آپ سے اور دوسروں سے پوچھ رہا ہوں جس راشن کارڈ میں نریندر بھائی کا نام ہے وہ احمدآباد کے رانی کا ہے ۔ایسے مین تو رانی کے لوگ ان کا پریوار ہوئے ۔سوال : اگر سونل مودی چناو¿ لڑتی ہیں تو لوگ کہیں گے وہ پی ایم مودی کی بھتیجی ہیں ؟ جواب : بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھگوان رام کی نسل سے ہیں کیا ہم انہیں روک سکتے ہیں؟ یہ رشتہ حقیقی ہے ہم اسے مٹا نہیں سکتے لیکن اگ آپ پتہ کرتے ہیں کیا سونل کبھی بھی پی ایم کے سرکاری مقام پر گئیں توپتہ چل جائے گا یہ رشتہ کتنا مضبوط ہے ۔سوال : سونل پی ایم مودی سے کب ملی تھیں ؟ جواب: جب سے نریندر بھائی دیش کے وزیر اعظم بنے ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے گھر کا دروازہ کیسا نظر آتا ہے تو میرے بچوں کو کیسے پتہ چلے گا ۔سوال:ہم ان سے تبھی مل سکتے ہیں جب وہ ہمیں بلائیں اگر وہ ہمیں نہیں بلاتے ہیں تو میں ان کے دروازے پر جاکر انتظار نہیں کر سکتا ۔سوال: جب بھی پی ایم مودی گاندھی نگر آتے ہیں تو وہ ہیرا اپنی ماں سے ملنے جاتے ہیں ؟جواب :وہ با یعنی ماں سے ملتے ہیں لیکن اس بات کو لیکر کافی صاف ھدایتیں ہوتی ہیں خاندان کے باقی افراد دور ہی رہیں اپنے شروعاتی دوروں میں جب بھی وہ با سے ملنے آئے تو آپ نے غور کیا ہوگا تو آپ نے غور کیا ہوگا چھوٹے بھائی کا خاندان آس پاس دکھائی دیتا تھا لیکن اب نہیں ۔پچھلے کچھ برسوں کی تصوریریں اٹھا کر دیکھیں گے تو ان میں با کے علاوہ تصویر میں کوئی نظر نہیں آتا ۔اگر پارٹی ہمیں ان کے خاندان کے طور پر دیکھتی ہے اور ہمیں ٹکٹ نہیں دیتی ہے تو ،یہ پارٹی کاسٹڈ ہے جب نریندر بھائی پتھنڈہ کے یہاں بھی جاتے ہیں کیوں کہ با وہیں رہتی ہیں ۔لیکن اس بات کا کیا مطلب جب وہ آتے ہیں تو ایک بھی آدمی نہیں دکھائی دیتا جب انہوں نے گھر چھوڑ دیا ہے تو انہیں پریوار کی ضرورت نہیں تو ہم بھی ان سے ملنے نہیں جاتے ۔
(انل نریندر)
05 فروری 2021
سڑکوں پر کیل بندی ، رکاوٹوںکے چلتے مذاکرات کیسے ممکن!
کسان لیڈروں کو پوچھ تاچھ کے لئے طلب کرکے کچھ کے خلاف لک آو¿ٹ نوٹس جاری کرنا ،سڑکوں پر کیل بندی کرنا سڑکیں کھود کر ویلڈر لگا کر جیسے اقدامات سے حکومت اور کسانوں میں بے اعتمادی کی خلیج اور بڑھ گئی ہے ۔ان حالات میں نہ صرف بے اعتمادی کا احساس بڑھے گااور اس ماحول میں دونوں فریقین میں بات چیت ممکن نظر نہیں آتی ۔سرکار اورکسانوں کے درمیان ان قدموں سے عدم اعتماد کی خلیج بڑھ گئی ہے ۔اور یہ کیسے پر ہوگی؟ بات چیت کے لئے ایک کال کی دوری کی وزیراعظم کی اپیل پر کسان بولے کہ پہلے رہائی پھر کریں گے بات چیت ۔احتجاج کررہی کسان انجمنوں کے مشترکہ مورچہ نے کہا ہے کہ جب تک سرکار گرفتار کسانوں کو چھوڑ نہیں دیتی تب تک ہم بات چیت نہیں کریں گے ۔اور انہوں نے مظاہرے کی جگہ پر لگائی گئی بندشوں کو بھی ہٹانے کی مانگ کی اس کے جواب میں مرکزی زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا انجمنوں کی ضدی رویہ کے چلتے ہی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل رہاہے ۔26جنوری کے واقعے کے سلسلے میں دہلی پولیس گرفتاریوں میں لگی ہوئی ہے اور تقریباً 60کسان لیڈروں سمیت 250سے زیادہ لوگوں کو پوچھ تاچھ کے لئے بلایا گیا ۔کسان نیتا پوچھ تاچھ کے لئے آئیں گے ،اس میں شبہ ہے احتجاجی لیڈروں اور اپوزیشن لیڈروں کا بھی کہنا ہے اس سب سے لگتا ہے کہ سرکار کی نیت بات چیت کرنے کی نہیں ہے ۔اور نہ وہ اس کا ماحول بننے دینا چاہتی ۔اس کا نقصان اسے اور بی جے پی کو ہوگا ۔ہریانہ سرکار کو تو جلد ہی بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔وہاں سرکار کی اتحادی جماعت جے جے پی کے لوگ الگ ہو رہے ہیں ۔اس سب پر سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بات چیت کے لئے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں لیکن 26جنوری کے واقعہ کے سلسلے میں قانون اپنا کام کررہا ہے ۔مورچہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سرکار کسانوں کے مظاہرے بڑھنے سے بہت ڈری ہوئی ہے دہلی کی سرحدوں کے پاس کئی جگہوں پر کسان پچھلے 70دنوں سے زیادہ وقت سے تینوں زرعی قوانین کےخلاف مظاہرہ کررہے ہیں اس میں زیادہ تر کسان پنجاب ہریانہ اور اتر پردیش سے ہیں ۔کسان مورچہ نے کہا کہ ایس کے ایم نے پیر کو اپنی میٹنگ میں فیصلہ لیا کہ کسان آندولن کے خلاف پولیس اور انتظامیہ کیطرف سے کی جارہی زیادتیوں کو فوراً بند ہونا چاہیے ۔سرکار کی طرف سے باقاعدہ بات چیت کو لیکر کوی تجویز نہیں ہے ۔کسان مورچہ نے اپنے بیان میں کہا دہلی پولیس نے 122آندولن کاریوں کی فہرست جاری کی جنہیں حراست میں لیا گیا اب کسان آندولن دنیا بھر میں بھی سرخیاں بٹوررہا ہے ۔پہلے ہی کئی ملکوں میں کسان تحریک پر تبادلہ خیال ہو چکا ہے اب گزشتہ دنوں امریکی پوپ اسٹارک ریحانہ نے اس کو لیکر اپنی حمایت دی ہے ۔اس کے بعد سے ہی انٹرنیشنل سیلیبرٹی مسلسل آندولن کو لیکر اپنی رائے رکھ رہے ہیں ۔ریحانہ اپنے ٹوئیر ہینڈ ل پر کسان آندولن سے جڑی ایک رپورٹ شیئر کی ہے جس میں کسانوں کے پولیس کے ساتھ ٹکراو¿ کے چلتے انٹرنیٹ سروس بند ہونے کا ذکرہے ۔ٹوئیٹڑ پر انہوںنے لکھا ہے کہ ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کررہے ہیں ؟ ان کے ٹوئیٹ کے بعد امریکہ کی ماڈل امانڈہ سینی اور ماحولیات رضاکار گریٹا چین ورگ ، باگسر کیل گروپ اور امریکی نائب صدر کملا ہیرث کی بھانجی اور مصنف مینا ہیرث او بہت سی ہستیاں ہیں ۔جنہو ں نے کسان آندولن کی حمایت میں ٹوئٹ کئے ہیں ۔کسانوں کا آندولن تیزی پکڑتا جارہا ہے ۔سکاری مبینہ زیادتی والے قدموں سے اور ماحول خراب ہو رہا ہے ۔اس کے چلتے سرکار اور کسانوں کے درمیان خیر سگالی سے بات چیت ہوگی ہمیں تو یہ ممکن نہیں لگتی ۔
(انل نریندر)
جو سچائی سے ڈرتے ہیں ،وہ سچے صحافیوں کو گرفتار کرتے ہیں!
یہ انتہائی تکلیف دہ اور کچلنے کی بات ہے کہ سرکار اب صحافیوں کو ان کی رپورٹنگ کے لئے نشانہ بنا رہی ہے کچھ دن پہلے ہی کئی سینئر مدیروں پر دیش سے بغاوت کا مقدمہ درج کیاگیا ۔یہ سلسلہ ختم نہیں ہواکہ اب ایک اور سینئر مدیر پر یوپی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے ۔9وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ ورد راجن پر یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر ریلی کے دوران ایک کسان کی موت سے وابسطہ خبر ٹوئٹ کرنے کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ان پر لوگوں کو بھڑکانے ، امن و قانون سسٹم کو بگاڑنے کی کوشش اور بلوا پیدا کرنے والا بیان دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔دہلی میں جس کسان کی موت ہوئی تھی وہ یوپی کے رام پور کا باشندہ تھا ،ورد راجن نے ایک رپورٹ ٹوئٹ کی تھی جس میں کسان کے خاندان نے رد عمل ظاہر کیا تھا اس میں رشتہ داروں نے الزام لگایاتھا کہ کسان کو گولی ماری گئی ہے اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک نے ان سے کہا تھا کہ ڈاکٹرو ںکے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اس سلسلے میں دہلی پولیس کیطرف سے کہا گیا کہ کسان کی موت ٹریکٹر پلٹنے سے ہوئی تھی ۔سدھارتھ ورد راجن کے ٹوئیٹ پر رام پور کے ڈی ایم نے جواب دیا اور کہا کہ ہم آپ سے صرف اور صرف عقائد پر بات کرنے کی ہدایت کرتے ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ ہماری درخواست آپ کے ذریعے ایمانداری سے لی جائے گی ۔شکریہ ! ڈی ایم نے ایک کسان کی موت پر سرکاری بیان بھی ٹوئٹ کیا اس سے پہلے کانگریسی لیڈر ششی تھرور اور چھ صحافیوں پر نوئیڈا پولیس نے دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کو لیکر بغاوت و دیگر الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا ۔کسان آندولن کی رپورٹنگ کررہے پورٹل سے جڑے فری لانس صحافی مندیپ پنیا کو اتوار کو گرفتار کیا اور دوپہر کو میٹرو پلوٹین مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جہاں ان کو 14دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیاگیا ان کے علاوہ پولیس نے ایک دوسرے صحافی دھرمندر کو بھی پکڑا اور انہیں اتوار صبح 5:30بجے چھوڑ دیا گیا ۔مندیپ کی گرفتاری پر پولیس کا کہنا ہے کہ جمع کے روز کسانوں اور مقامی لوگوں کے درمیان ٹکراو¿ کے بعد سنیچر وار کی صبح ہی احتیاطاً بغیر شناختی کارڈ کے کسی کو بھی اس علاقہ میں داخل ہونے کی ممانعت تھی ۔سنیچر کی شام 7بجے مندیپ پنیا موبائل سے ویڈیوریکارڈ کرنے لگا تب پولیس والوں نے ایسا کرنے سے روکا اور پوچھ تاچھ کی تو اس نے خود کو پترکار بتایا لیکن وہ کوئی پہچان پیش نہیں کر سکا ۔اور شبہہ کی بنیاد پر اسے پوچھ تاچھ کی گئی تھی تو وہ پولیس ملازمین کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے لگا ۔اس کے خلاف اہل پور تھانہ میں مقدمہ درج کیا گیا ۔صحافیوں پر پولیس کاروائی کی انڈین ویمنس اسیوسی ایشن اور دیگر انجمنوں نے واقعہ کی مذمت کی اور تینوں نے کہا پولیس کاروائی یہ پریس کی آزادی کے حق میں مداخلت ہے اتوار کو سبھی صحافی انجمنوں نے بیان جاری کرکے کہا کہ دھرمیندر کو تو بعد میں رہا کر دیا گیا مگر دک کارواں سے جڑے فری لانس صحافی مندیپ پنیا پر بے رحمی کے ساتھ طاقت کا استعمال کیاگیا ہے ۔اور کسی کو یہ جانکاری نہیں دی گئی ہے وہ کہا ں ہے ۔انہوں نے الزام لگایا پولیس کے ذریعے گرفتار مندیپ رپورٹنگ کررہے تھے ایسے میں انہیں گرفتار کرنا غلط ہے ۔مندیپ پنیا کی گرفتاری کے بعد اپوذیشن کے کئی لیڈروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی رہائی کی مانگ کی ۔کانگریس کے نیتا راہل گاندھی نے پنیا کی گرفتاری پر طنز کرتے ہوئے کہا جو سچ سے ڈرتے ہیںسچے پترکاروں کو گرفتار کرتے ہیں ۔راشٹریہ لوک دل کے لیڈر جینت چودھری نے کہا انٹرنیٹ بند کرنے اور صحافی مندیپ پنیا کو گرفتار کر ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی سازش رچی جارہی ہے ہریانہ کہ کانگریس لیڈر دپیندر ہڈا نے روہتک کے صحافی پنیا کو جس طرح سے پولیس نے حراست میں لیا ہے اس سے کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں صحافیوں کی گرفتاری کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)
04 فروری 2021
کہانی ایک سنکی جنرل کی! میانمار میں تختہ پلٹ
پڑوسی ملک میانمار میں فوج نے پیر کے روز تختہ پلٹ کر دیا اور دیش کی سرکردہ لیڈر آنگ سانگ سوچی سمیت کئی لیڈروں کو حراست میں لے کر نظر بند کردیا اور خود کو بابائے قوم کہنے والے میانمار کی آنگ سانگ سوچی کو ملی بھاری حمایت برداشت نہیں کر پائی ۔چونکہ پچھلے نومبر میں ہوئے عام چناو¿ میں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی اورپارٹی کو 80فیصد سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں ۔دیش میں اگلے سال کے لئے ایمرجنسی لگا دی گئی فوج کے ٹی وی چینل نے بتایا کہ ملیٹری نے دیش کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور اس تختہ پلٹ کو انجام دینے والے فوج کے بڑے جنرل آنگ لائن نے دیش میں اقتدار سنبھال لیا ہے ۔تختہ پلٹ کے کچھ گھنٹے بعد ہی بیان جاری ہوا کہ اب آئن سازیہ،انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری جنرل لائنگ کے ہاتھوں میں رہے گی ۔ملیٹری کمانڈر ان چیف لائنگ اب بین الاقوامی برادری کے نشانہ پر آگئے تھے جب انہوں نے میانمار کے رخائن صوبہ سے روہنگیوں کو نشانہ پر لیتے ہوئے دیش نکالا کر دیاتھا2015میں آنگ سانگ سوچی کی میانمار سرکار میں اہم رول نبھانے سے پہلے آنگ لائن نے بی بی سی کو ایک انٹر ویو میں بتایا تھا کہ یہاں شہری انتظامیہ کے لئے کوئی طے ڈیڈ لائن نہیں ہوگی ۔اور یہ سرکار پانچ سال تک چل سکتی ہے ۔یا دس سال رہ سکتی ہے ۔میں یہ نہیں کہہ سکتا لائن کی طاقت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہویں نے اہم ترین وزارتوں ڈیفنس سرحدی امور اورگھریلو امور کے لئے وزیروں کی تقرری کر سکتے ہیں ۔سوچی کے ہاتھ میں صرف شہری انتظامیہ میں قانون بنانے کا ہی اختیار ہے فوج کے لئے پارلیمنٹ کی چوتھائی سیٹیں رزرو ہیں اور سرکار مین وزیردفاع اور سرحدی امور کے وزیر کی بھی تقرری فوج کا چیف کرتا ہے اور اس کے علاوہ آئینی تبدیلیوں پر ویٹو کا حق رکھنے کے علاوہ کسی بھی چنی ہوئی سرکار کا تختہ پلٹ کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔آئین نے سوچی کو صدر بننے سے منع کر دیا چونکہ ان کے برطانوی شوہر کے ساتھ بچے تھے ۔جو غیر ملکی شہری ہیں ۔میانمار میں کئی سال بعد جمہوریت بحال ہوئی تھی اور تقریباً پچاس سال تک دیش میں فوجی تانہ شاہی تھی آنگ سانگ سوچی جمہوریت بحالی کے لئے جد و جہد کرتی رہیں اور پندرہ سال جیل میں بھی رہیں ۔اب میانمار میں اچانک ہوئے تختہ پلٹ پر ماہرین بھی حیران ہیں ۔نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ایشیائی ریسرچ کے ہیڈ گیراڈ میکارتھی کہتے ہیں دیش کا موجودہ سسٹم فوج کے لئے کافی فائدہ مند ہے فوج کا سرکار پر کنٹرول ہے ۔غیر ملکی سرمایہ آرہا ہے ۔فوج کو جنگی جرائم کے چلتے سیاسی سرپرستی حاصل تھی ۔اس کے باوجود اقتدار کا تختہ پلٹ کیا گیا تاکہ غیر چینی انرنیشنل ساتھیوں کو کنارے کیا جا سکتے ساتھ ہی فوج حمایتی اپوذیشن کی ڈور اور مسلسل دوسری بار آن سانگ سوچی کی پارٹی کے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے پر فوج فکر مند ہے ۔اس لئے دیش میں ایک سال کے لئے ایمرجنسی لگا دی گئی ہے ۔ملک میں ہوئے واقعات پر امریکی صدر جوبائیڈن نے میانمار پر نئی پابندی لگانے کی وارننگ دے دی ہے ۔اور فوج کے ذریعے تختہ پلٹ کر آنگ سانگ سوچی کو حراست میں لیا جانا اور ایمرجنسی ڈکلیر کرنا دیش میں اقتدار کے جمہوری منتقلی پر سیدھا حملہ ہے ۔
(انل نریندر)
پرل قتل کانڈ کے اہم ملزم کو پاک امریکہ کے حوالے نہیں کرے گا!
پاکستان کی سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے معاملے میں القاعدہ کے دہشت گرد احمد عمر شیخ اور ا س کے تین ساتھیوں کو رہا کرنے کا حکم منسوخ کرنے کے عمران حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے حالانکہ معاملے میں سرکار کا موقف جاننے کے ایک دن بعد ملزم شیخ اور اس کے ساتھیوں فہد نسیم شیخ عادل اور سلمان ثاقب کی حراست بڑھانے کے حکم کو منظور کر لیا ہے ۔امریکہ کے پھٹکار لگانے کے بعد پاکستان نے سپریم کورٹ میں القاعدہ کے دہشت گردوں کو رہا کرنے کے حکم پر روک لگانے کی مانگ کی تھی ۔انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کے مطابق پاکستان کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے ملزم کو رہا کرنے کے فیصلے پر روک لگانے کی درخواست دی تاکہ وہ معاملے میں تفصیل سے دلیلیں پیش کر سکیں ۔لیکن عدالت نے اس کو خارج کر دیا اور سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے ملزمان کو بری کرنے کے خلاف اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا ۔سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی تھی ۔فال اسٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل (38سال)کو 2002میں اغوا کر ان کا بے رحمی سے سر قلم کیا تھا اس وقت وہ پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی اور القاعدہ کے درمیان ملی بھگت معاملے کی چھان بین کررہے تھے ۔بہرحال پاکستان کے وزیر خارجہ احمد قریشی نے کہا کہ پاکستان معاملے میں اہم ملزم کو امریکہ کے حوالے نہیں کرے گا امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی ولنکن سے فون پر بات کرنے کے بعد یہ رائے زنی کی کہ شیخ پر امریکہ میں مقدمہ چلانے کی پیش کش کی تھی ۔بڑی عدالت کے فیصلے پر امریکی وزیر خارجہ نے گہری تشویش ظاہر کی تھی ۔
(انل نریندر)
منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ کی ضرورت ہے!
سپریم کورٹ نے جمعرات کو اکسانے یا بھڑکاو¿ ٹی وی پروگراموں کو لے کر مرکزی سرکار کے لاچاری رویہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا کہ سرکار نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ہے ۔اور اس نے اس طرح کے پروگاموں کو کنٹرول کرنا نہ صرف احتیاطی قدم ہوگا بلکہ قانون و سسٹم بنائے رکھنے کے لئے یہ اہم ترین بھی ہے ۔26جنوری کو ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئے تشدد کے بعد انٹرنیٹ سروس بند کئے جانے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بووڑے کی بنچ نے کہا کہ منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ کی ضرورت ہے ۔لیکن مسئلہ تب کھڑا ہوتا ہے جب اس کا استعمال اکسانے کے لئے ہوتاہے نبچ نے سرکاری وکیل تشار مہتا سے کہا کہ بات یہ ہے کہ ٹی وی کے کئی پروگرام ایسے ہوتے ہیں جو بھڑکانے والے ہوتے ہیں لیکن سرکار اس سلسلے میں کچھ نہیں کررہی ہے ۔بنچ نے یہ خیال پچھلے برس کورونا وبا کی شروعات میں نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کو لیکر میڈیا کی بھڑکیلی رپورٹنگ کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران ظاہر کیا ہے رپورٹنگ میں اس اجلاس میں شامل لوگوں پر دیش کے الگ الگ حصوں میں کورونا پھیلانے کے الزامات لگائے گئے تھے ۔بنچ نے کہا کہ کئی پروگرام ایسے ہیں جو اشتعال پیدا کرتے ہیں ۔یا فرقہ خاص پر غلط اثر ڈالتے ہیں لیکن سرکار ان کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے ۔26جنوری کو انٹر نیٹ اور موبائل بند کردئیے گئے چونکہ کسان دہلی آرہے تھے اور ہم غیر متنازعہ لفظوں کا استعمال کررہے ہیں اس طرح کا مسئلہ کہیں بھی پیدا ہو سکتا ہے منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ سے کوئی پریشانی نہیں ہے مسئلہ تو تب کھڑا ہوتا ہے جب اس میں اکسانے والی باتیں قلم بند ہوتی ہیں اسی طرح سے اہم یہ بھی ہے جس طرح سے پولیس والوںکے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے تویہ قانون و امن کو برقرار رکھنے کے لئے احتیاطی قدم ہے ۔ہماری تشویش اکسانے والے ٹی وی پروگراموں کو لیکر ہے ۔کچھ نیوز پر کنٹرول ضروری ہے ہم نے نہیں کہا کہ سرکار نے آنکھیں بند کیوں کی ہوئی ہیں ؟ ۔عدالت کا کہنا تھا ہم آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں کررہے ہیں لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔بھڑکانے والے ٹی وی پروگراموں سے غلط ٹرینڈ سامنے آتا ہے ۔ان دنوں لوگ کچھ بھی بولتے ہیں جواب میں سرکار ی وکیل مہتا نے کہا کہ بھارت سرکار کا براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن اور نیوز براڈ کاسٹ اسٹنڈرڈ اتھارٹی جیسے ادارے ہیں ان کا اپنا سسٹم ہے ہم او وی ٹی کے زمانہ میں ہیں ۔ڈی ٹی ایچ اور کیبل سروس بھی ہے ہمیں ان سبھی کے لئے کچھ سسٹم بنانے ہوں گے اس کے بعد عدالت نے فریقین کو تین ہفتہ میں حلف نامہ داخل کونے کو کہا دیش کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس کے دوران کہا سرکار نے دہلی میں دہلی آنے کی وجہ سے موبائل و انٹرنیٹ بند کر دیا ۔اس پر مرکزی سرکار کے وکیل مہتا نے ویزٹ لفظ پر اعتراض جتایا تب چیف جسٹس نے صاف کیا کہ میں جان بوجھ کر متنازعہ لفظ وزٹ کا استعمال کررہا ہوں ۔
(انل نریندر)
02 فروری 2021
نابالغ بچیوں کا ہاتھ پکڑنا ،پینٹ کی جپ کھولنا جنسی حملہ نہیں ہے !
سپریم کور ٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر روک لگادی جس میں کہا گیا تھا کہ کسی کے روابط میں آئے بنا نابالغ کے اعضاءکا چھون جنسی استحصال نہیں ہے ہائی کورٹ نے معاملے میں پاس کو ایکٹ کے تحت ملزم کو رہا کردیا تھا سینئر عدالت نے معاملے میں مہاراشٹر سرکار کو نوٹس دے کر 2ہفتے میں جواب دینے کو کہا ساتھ ہی اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کو ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دے دی چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین نفری بینچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم صحیح نہیں ہے اور اس سے خطرناک نظیر قائم ہوگی بینچ نے ان کی دلیلوں کو مانتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کی ناک پور بنچ کے ذریعے ملزم کو ضمانت دینے کے فیصلے پر روک لگا دی بنچ نے وینو گوپال کو اسپیشل اجازت عرضی دائر کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے ۔ ناک پور کی عدالت نے 19جنوری کو حکم دیا تھا کیونکہ ملزم نے بچی کے جسم کو اس کے کپڑے ہٹائے بغیر چھو ا تھا اس لئے اسے جنسی ٹارچر نہیں کہا جاسکتا اس کے بجائے یہ آئی پی سی کی دفعہ 354کے تحت عورت کے ساکھ کو ٹھیس پہونچانے کا جرم بنتا ہے ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کی تھی جس میں39سالہ شخص کو بارہ سالہ لڑکی سے جنسی ٹارچر کیلئے 3سال کی سزا ساناتے ہوئے پاسکو ایکٹ سے بری کردیا تھا۔ جسٹس پشپا گنیڈی والا نے اس سے پہلے اپنے 2فیصلوں میں کہا تھا کہ کپڑوں کے اوپر سے حساس اعضاءکو چھونا و نابالغ بچی کا ہاتھ پکڑنا اور پینٹ کی جپ کھولنا پاسکو ایکٹ کے تحت جنسی حملے کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔ اسکن ٹو اسکن کے روابط کی ان کی دلیل پر سپریم کورٹ نے اعتراض جتایا تھا۔
(انل نریندر)
میڈیا کو ڈرانے و دھمکانے کی کوشش!
کسان ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد بربھڑکانے کے معاملے میں کانگریس نیتا ششی تھرور سمیت کئی صحافیوں کے خلاف بغاوت کا کیس درج کردیا گیا ہے جو نوئیڈا کے تھانے سیکٹر 20میں درج ہوا رپورٹ کے مطابق الزام ہے کہ سینئر صحافی راجدیپ سر دیشائی ،مرنال پانڈے ،ظفر آغا،پارس ناتھ ،ونودنے کسان ٹریکٹر مارچ کے دوران اکسانے والے کمینٹ سوشل میڈیا پر ڈالے تھے ان لوگوں نے جان بوجھ کر کسانوں کو مستعل کرنے کیلئے اپنے اخبارت کے ذریعے ایسی خبرین شائع کی ہیں جن کی وجہ سے دہلی این سی آر میں کسانوں نے تشد د برپا کیا ہے ساتھ ہی مدھیہ پردیش پولس نے بھی ششی تھرور اور چھ صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے وہیں ایڈیٹر گلٹس آف انڈیا سینئر مدیروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے سخت مذمت کی تھی ایک بیان میں کہا ہے یہ کاروائی میڈیا کو ڈرانے دھماکنے کی کوشش ہے گلڈ نے مانگ کی ہے ایسے معاملے فوراً واپس ہوں اور میڈیا کو بغیر کسی ڈر کے آزاد ی کے ساتھ رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے ایک مظاہرین کی موت سے جڑی واردات کی رپورٹنگ کرنا موقع واردات اور اس کی جانکاری اپنے ذاتی سوشل میڈیا ہینڈل پر اور اپنے اخبارات میں دینے پر صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جن صحافیوں کے نام ایف آئی آر میں ہیں وہ اوپر ذکر کئے گئے ہیں ۔ایک گمنام شخص کے خلاف بھی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے ایڈیٹر س گلڈ س نے کہا یہ خیا ل رہے کہ مظاہر ہ اور کاروائی والے دن موقع واردات پر موجود چشم دید گواہوں اور پولس کے جانب سے بہت سی اطلاعات ملی اور صحافیوں کے لئے ایک فطری بات تھی کہ وہ ان معلومات کی بنیا د پر ایک رپورٹ بنائیں یہ صحافت کے قواعد کے مطابق ہی تھی گلڈ نے کہا کہ وہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے پولس کے ڈرانے دھمکانے کی طریقے کی کاروائی پر مذمت کرتے ہیں ۔ جنہوں نے کسانوں کے مظاہروں اور ریلوں اور تشدد کی رپورٹنگ کرنے پر مدیروں اور صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی ان سینئر صحافیوں اور مدیروں کے سابق اور موجودہ عہدے دار بھی شامل ہیں گلڈ نے صفائی پیش کی ہے کہ ان ایف آئی آر میں الزامات لگائے گئے ہیں کہ ٹویٹ ارادةًافسوس ناک اور لال قلعہ پر ہوئے تشدد کا سبب بنے گلڈ نے پہلے کی گئی اپنی مانگ دہرائی کی سپریم کورٹ کو اس بات پر بھی نوٹس لینا چاہئے کی بغاوت جیسے کئی قوانین کا استعمال اظہار رائے کی آزادی میں خلل کیا جارہا ہے یہ یقینی کرنے کیلئے گائیڈ لائنس جاری کئے جائیں کی اس طرح کے قوانین کے کھلم کھلا اور پریس کی آزادی کے خلاف ہے اور نظریات کی آزادی پر ڈنڈا چلانے کے واقعات میں حال ہی میں بہت تیزی آئی ہے یہ بے حد خطرناک ٹرینڈ ہے بد قسمتی سے سرکاریں یا تو اس کو بڑھاوا دے رہی اب جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہیں لیکن اگر اس ٹرینڈ کو نہیں روکا گیا تو ہندوستان کی جمہوریت چھلنی ہوجائے گی ۔ کیا 21صدی میں ترقی پسند بھارت کی یہی پہچان ہونی چاہئے؟
(انل نریندر)
تکیت کے آنسوں نے آندولن میں پھونکی نئی جان!
یوم جمہوریہ کے دن کسان کی ٹریکٹر پریڈ کے دوارن کئی جگہوں پر تشدد کے بعد سے دو مہینے سے جاری کسان آندولن کے مستقبل پر سنکٹ کے بادل منڈرانے لگے تھے کیونکہ جمعرات کے دن جس طرح سے سندھو اور ٹکری وغازی پور بارڈر پر بھاری تعداد میں پولس فورس تعینا ت کی گئی کسان لیڈروں پر کیس درج کرنے اور انہیں پولس کے نوٹس بھیجے گئے ساتھ ہی لک آو¿ٹ نوٹس بھی جاری کئے گئے اس کے بعد سوال اٹھ رہے تھے کہ اگر یہ نیتا گرفتار ہوگئے تو آندولن کی کمان کون سنبھالے گا؟ لیکن جمعرات کی دیر شام غازی پور بارڈر پر بھارتی کسان یونین کے لیڈر راکیش تکیت کے پولس کے سامنے کی سرینڈ ر کرنے بھی خبریں آگئی تھی اور غازی آباد کے ایس پی و اے ڈی ایم انہیں جگہ خالی کرنے کا نوٹس دینے گئے تھے تب مانا جا رہا تھا کہ چند گھنٹوں میں غازی پور بارڈ ر خالی ہوجائے گا لیکن پھر راکیش تکیت ایک ایسا ویڈیو سامنے آیا جس نے پوری بازی ہی پلٹ دی اور محض ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو میں راکیش تکیت پھوٹ پھو ٹ کر روئے اور وہ کہہ رہے تھے گرفتاری کے نام پر کسان آندولن کو ختم کرنے اورانہیں جان سے مارنے کی سازش رچی جا رہی ہے اس کے کچھ ہی دیر پہلے بھاجپا کے ممبر اسمبلی نند کشور گجر اور سنیل شرما کی رہنمائی میں کچھ لوگ ہاتھوں میں ترنگا لئے آندولن کی جگہ پر پہونچے یہ لوگ کسانوں کو وہاں سے ہٹائے جانے کی مانگ کر رہے تھے اس دوران تحریک میں شامل کچھ لوگوں نے کسانوں کے ساتھ مار پیٹ بھی کی اور تنبو تک اکھاڑ دئے تکیت نے اسی کا حوالہ دیا تھا کہ بی جے پی کسان آندولن کو کچلنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے اعلان کر ڈالا کہ وہ نہ تو اب یہاں سے ہٹیں گے اور نہ ہی گرفتاری دیں گے وہیں یوپی انتظامیہ کی جگہ سے دھرنے کی جگہ پر بجلی اور پانی کی سپلائی کاٹ دی تھی اسے بڑا اشو بناتے ہوئے تکیت بھوک ہڑتا ل پر بیٹھ گئے۔ اعلان کردیا جب تک ان کے گاو¿ں سے ان کیلئے پانی نہیں آئے گا تب تک وہ پانی نہیں پئےگیں۔ راکیش تکیت کے آنسو کے سیلاب کے بعد کسان آندولن ایک بار پھر تیزی پکڑ رہا ہے غازی پور بارڈر اب کسان آندولن کا نیا مرکز بن گیا ہے ۔ مغربی اتر پردیش اور ہریانہ کے الگ الگ علاقوں سے بھاری تعداد میں کان غازی پور بارڈ ر آگئے ہیں اور دونون طرف سے یہ بارڈر بند کردیا گیا ہے تکیت نے کہا کہ اب ہم مظاہرے کی جگہ خالی نہیں کریں گے ہم اپنے اشوز پر بھارت سرکار سے بات کریں گے اور لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کر تا ہوں ۔ اس درمیان تکیت کو سیاسی پارٹیوں کی حمایت بھی ملنے لگی ہے راشٹریہ لوک دل کے نیتا جینت چودھری راکیش تکیت سے ملے اس کے بعدا نہوں نے کہا کہ سرکار کو لگتا ہے کہ وہ کسانوں کو کچل دیں گے ایسا نہیں ہوگا ۔ جب سے آدتیہ ناتھ یوگی وزیر اعلیٰ بنے ہیں یوپی میں دفعہ144لاگو ہے کسان یہاں گھر بنانے نہیں آئے ہیں بلکہ تینوں قانون کی منسوخی کیلئے آئے ہیں اوریہ اشو پارلیمنٹ کے اند ر بھی اٹھنا چاہئے اگر سرکار پیچھے ہٹتی ہے تو اسے ان کی کمزور ی نہیں جھلکے گی ادھر کسان لیڈر نریش تکیت نے کہا اگر حکومت نے بھارتی کسان یونین کے درمیان راکیش تکیت گرفتاری پولس سے کروائی تو اس کے احتجاج میں لوکھوں کسان گرفتاری دیں گے اورکسان سرکار کے کسی بھی کاروائی کے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے ۔ چودھری راکیش تکیت کے آنسوں نے سرکار کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔
(انل نریندر)
31 جنوری 2021
لاشوں کو آخری حق دلانے والے شنٹی کو پدم شری !
ہندوستانی کلچر میں سنسکار اہم ہوتے ہیں در اصل میں یہ سنسکار دھرم ہی نہیں بلکہ قوم کو بھی ایک سوت میں باندھتے ہیں ۔انسانی زندگی کے آخری دور انتم سنسکار کے بارے میں ہر کلچر اور سماج مین مانا جاتا ہے کہ یہ متوفی کے اعتماد کے مطابق پوتر ہاتھوں سے پورا کیا جائے کورونا وباءکی شروعات میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب کورونا سے مرے افراد کا انتم سنسکار سے اپنے نے ہی ہاتھ کھینچ لیا تھا ایسے وقت میں جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا انتم سنسکار ان کے اعتقاد کی بنیاد پر کیا گیا ایسے ہی لوگوں پر مبنی ہے تنترکے گڑ شرپلا ہی آخری کڑی ۔۔ایک کورونا دورمیں لوگوں نے ایسے دن بھی دیکھے جن کا تصور کرنا بھی مشکل ہے لاشوں کو کندھا پریوار کے افراد یا رشتہ دار دینے کیلئے ہوتے ہیں ۔ لیکن جب دہلی میں کورونا انفیکشن کی شروعات ہوئی اور لوگون کی تیز ی سے موتیں ہونے لگی تو پریوار کے لوگوں نے ہی اپنوں کا ہی انتم سنسکا ر کرنے سے دوری بنا لی ایسے میں شہید بھگت سنگھ سیوا دل کے بانی جتندر سنگھ بھاٹی آگے آئے ۔بیٹے نوجوت اور ان کی انجمن کے ممبروں کےساتھ ملکر وہ کورونا سے جان گنوانے والے 965کورونا سے مرے لوگوں کی لاشوں کو انتم سنسکار کی جگہ تک پہونچا چکے تھے زیادہ تر انتم سنسکار بھی اپنے ہاتھوں سے کئے شہید بھگت سنگھ سیوا دل قریب 26برس سے مفت ایمبولینس سروس دستیاب کرارہے ہیں ۔ یہ مریضوں کے گھر اسپتا ل اور اسپتال سے گھر پہونچانے کاذمہ لیا اور 2020میں جب اسپتالوں میں موتوں کے معاملے بڑھے تو سیوا دل کی طرف سے 7ایمبولینس کے لاشوں کو انتم سنسکار کی جگہ تک پہونچانے میں لگی تھی شینٹی بتاتے ہیں اس وقت خاندان کے لوگ سمسان استھل پر بھی نہیں پہونچ رہے تھے ۔ یہ دیکھ کر کافی دکھ ہوتا تھا ہمیں ہماری قوت اراد ی اور مضبوط ہوگئی اور بعد میں12ایمبولینس لاشوں کو ڈھونے میں لگادی گئی اور تعداد بڑھتے بڑھتے 18ایمبولینس ہوگئی ساتھ ہی آٹھ مردہ باکس بھی تیار کئے گئے تاکہ رشتہ دار کے انتظار میں لاشیںخرا ب نہ ہوں ۔ اس دوران جتیندر سنگھ شنٹی اور ان کا پورا خاندان کورونا کی ضد میں آگیاا ن کے ایمبولینس ڈرائیو ر محمد عارف خان نے تو اپنے جان تک گنوا دی وہ شروع سے ہی ایمبولینس کے ذریعے مریضوں کو ڈھونے کی سیوا کر رہے تھے اور جتیندر شینٹی کو کورونا مریضوں کی سیو ا اور ان کی موت کے بعد انہیں سمسان گھاٹ پہونچانے والے شینٹی کو پدم شری ایوارڈ سے نوازے جانے پر ہم بھی انہیں بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح جنتا کی سیوا کرتے رہیں اور انہیں لمبی عمر دے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی سیوا کر سکیں ۔
(انل نریندر)
روسی صدر پوتن کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ!
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے کٹر مخالف الیکسی نویلنی کے گرفتاری کے احتجاج میں روس کے109شہروںمیں کڑاکے کے ٹھنڈ کے درمیان مظاہرے ہوئے پولس نے اتوار تک ساڑھے تین ہزار سے زیادہ مظاہرین کو گرفتارکیا ہے ان میں نویلنی کی بیوی یولیا اور ترجمان وکیل بھی شامل ہیں ۔ پوتن کے خلاف روس میں یہ سب سے بڑا اب تک کا مظاہرہ ہے اسے لیکر پوتن نے بھی سخت رویہ اپنایا ہے مظاہرین پر قابو پانے کیلئے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند کی گئی اور موبائل نیٹورک بھی جام کئے گئے پولس نے مظاہرین کو اٹھا اٹھا کر ٹرکوںمیں بھر دیا اور انہیں کہیں دور لے جایا گیا پھر بھی بڑی تعداد میں نعرے لگا رہے تھے کہ روس آزاد ہوگا اور پوتن چور ہے کے پوسٹرر لیکر پوتن کے خلاف مظاہرے جاری ہے مظاہرین کی مانگ ہے کہ وہ اپنے کٹر حریف نولینی کو جلد سے جلد رہا کیا جائے وہیں 57ڈگری مائنس والے درجہ حرارت میں لوگوں کا جوش کم نہیں ہوا اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر اترے امریکہ اور یوروپی یونین نے پوتن کی کاروائی کی مذمت کی ہے اور 44سالہ الیکسی نولینی کرپشن مخالف تحریک چلانے والے شخص ہیں انہوں نے 2018میں صدارتی چناو¿ لڑنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ایک الزام میں قصور وار ٹھہرا کر انہیں روک دیا گیا پچھلے سال 20اگست کو اپوزیشن لیڈر نوویموف کو زہر دیئے جانے کے بعد سے وہ جرمنی میں علاج کرا رہے تھے جیسے ہی وہ 17جنوری کو ماسکو لوٹے تو انہیں ہوائی آڈے سے ہی پولس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے ان کو لوئزا نام سے بھی جانا جاتا ہے انہوںنے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر پوسٹ کی جس میں اپنی مشکلات سے بھری زندگی کے بارے میں کچھ بتایا اپوزیشن لیڈروں اور ورکروں کو چائے میں زہر ملا کر پلایا گیا تھا اور کئی مہینے جرمنی جاکر علاج کرانا پڑا پوتن کے صدر بننے کے بعد سے کٹر مخالف لوئز ا کے قیادت میں روسی صدر کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے پوتن کیسے ان مظاہروں سے نمٹتے ہیں ۔
(انل نریندر)
دیپ سدھو کی صفائی میں کسان نیتاو ¿ں کو دھمکی!
لال قلعہ پر نشان صاحب لگائے جانے کیلئے لوگوں کو بڑھکانے کا قصور وار ٹھہرائے جا رہے۔گلوکار ایکٹر دیپ سدھو نے خود کو بے گناہ بتایاہے انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لائیو آکر کسان لیڈروں کو دھمکی دی اور کہا تم نے مجھے گدار کا سرٹی فیکیٹ دے دی ہے،ا گر میں نے تمہاری پول کھولنی شروع کردی تو تمہیں دہلی سے بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا سدھو نے کہا مجھے اس لئے لائیو آنا پڑا کیونکہ میرے خلاف مجھے اس لئے لائیو آنا پڑا کیونکہ میرے خلا ف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور بہت کچھ جھوٹ پھیلا یا جا رہا ہے میں اتنے دنوں سے یہ سب سہہ رہا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے مشترکہ سنگھرس کو کوئی نقصان پہونچے ،لیکن آپ جس پڑاو¿ پر آگئے ہیں وہاں کچھ باتیں بتانا بہت ضروری ہے ۔پہلی بات تویہ ہے کہ 25تاریخ کی رات کو لڑکوں نے اسٹیج پر ناراضگی ظاہر کی تھی ،کیونکہ انہیں پنجاب سے دہلی میں پریڈ کرنے کو کہہ کر ہی بلایا گیا تھا اس کے لئے بار بار اسٹیج سے بڑے بڑے اعلان اور وعدے کئے گئے تھے ناراضگی جتا رہے نوجوانوں نے کہا کہ جب ہم دہلی آگئے تو آپ ہمیں سرکار کی طرف سے طے کردہ روٹ پر جانے کیلئے کہہ رہے ہیں، جو ہمیں منظور نہیں تھا ۔ سدھو نے ویڈیو میں کہا کہ اس دوران اسٹیج پر حالات ایسے بن گئے تھے کہ رہنمائی کر رہے کسان لیڈر وہاں سے کنارہ کشی کر کے بھیڑ کو اکسانے کا الزام:کسنا انجمنوں نے دہلی میں کسانوں کے ٹریکٹر مارچ کے دوران لال قلعے پر ہوئے تشدد کا الزام دیپ سدھو پر لگایا ہے ۔ بھارتی کسان یونین کے لیڈر گرنام سنگھ چھوڑنی نے کہا کہ کسان انجمنوں کا لال قلعے جانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا دیپ سدھو نے کسانوں کو بڑھکایا اور آو¿ٹر رنگ روڈ سے لال قلعہ تک لے گئے جب لال قلعے پہونچا تب تک گیٹ ٹوٹ چکا تھا وہاں ہزاروں کی بھیڑ جمع کھڑی ہوئی تھی سینکڑوں ٹریکٹر پہلے سے ہی کھڑے تھے سدھو کا کہنا کہ میں پیدل ہی لال قلعہ کے اندر گیا تھا وہاںکوئی کسان لیڈر نہیں تھا نہ کوئی شخص تھا جو پہلے بڑی بڑی باتیں کر رہا تھا سوشل میڈیا پر لائیو آکر بڑے بڑے اعلان کئے تھے کہ ہم دہلی کی گردن پر گھٹنا رکھیں گے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اس درمیان مجھے کچھ نوجوان پکڑ کر لے گئے وہاں تودو جھنڈے پڑے تھے ایک کسان جھنڈا اور دوسرا نشان صاحب ہم نے سرکار کے سامنے ناراضگی جتانے کیلئے دونوں جھنڈے وہیں لٹکادیئے ہم نے ترنگا نہیں لہرایا تھا ہمیں کوئی ڈر نہیں ہے ، کیونکہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے پولس ذرائع کی مانے دہلی پولس نے اداکار و گلوکار دیپ سدھو اور گینگ اسٹر سے سماجی کارکن بنے لکھا سنگھانا کی تلاش تیز شروع کردی ہے لال قلعے پر جھنڈا پھیرانے والوں میں 22سالہ لڑکے جگراج سنگھ کا نام بھی آرہاہے جو فی الحال فرار ہے وہ بھی پولس کے ابھی تک ہاتھ نہیں لگ سکا اور پولس اس کی تلاش میں لگی ہوئی ہے وہ پنجاب کے ترنتارن علاقے کا رہنے والا ہے ادھر پولس دیپ سدھو کے ٹیکنیکل سرویلانس کی مدد سے اس کا پتہ لگا رہی ہے ۔سدھو نے لال قلعہ پرآتے ہی اپنا فون بند کر لیا تھا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...