Translater

20 جولائی 2023

آزادی پر لگام لگانا !

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بلاوجہ حراست کو لیکر قانون سخت ہے اور یہ ایسے کسی شخص کی شخصی آزادی پر روک لگاتے ہیں جسے بغیر مقدمے کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے ۔اس لئے مقررہ پروسیس کا سختی سے عمل کیا جا نا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے ایک شخص کی رہا ئی کا حکم دیتے ہوئے یہ رائے زنی کی تھی ۔ جس کی حراست حکام کے ذریعے اس کی اپیل پر غور کئے بغیر دو مرتبہ بڑھا دی گئی تھی۔ جسٹس انیردھ باس ،جسٹس سودھانشو پھلیا کی بنچ نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کردیا جس میں پرکاش چندر یادو عرف منگیری یادو کی حراست کو بر قرار رکھا گیا تھا۔ یادو کو جھارکھنڈ کرائم کنٹرول ایکٹ 2002کے تحت بیڈ کیرکٹر شخص ڈکلیئرکیا گیا تھا ۔ بنچ نے 10جو لائی کو دی اپنے حکم میں کہا کہ قانون کی خانہ پوری پر تعمیل نہیں کی گئی اور یادو کو جھارکھنڈ کے صاحب گنج ضلع کی راج محل جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔بنچ نے کہا کہ بے دلیل حراست کو لیکر سبھی قانون سخت ہیں وہ ایسے کسی شخص کی شخصی آزادی پرروک لگاتے ہیں جسے بغیر کسی مقدمے کے سلاخوں کے پیچھے رکھا جاتا ہے۔ ایسے معاملوںمیں ایک قیدی کے پاس صرف قانونی چارہ جوئی ہی ہوتی ہے ۔جھارکھنڈ کرائم کنٹرول ایکٹ 2002سماج دشمن عناصر کے اخراج اور حراست سے متعلق ہے ۔ایکٹ کے تقاضوں کے تحت ریاستی حکومت کسی سماج دشمن عناصر کو ناموافق سر گرمیوںمیں شامل ہونے سے روکنے کیلئے اسے حراست میں لے سکتی ہے ۔ بنچ نے کہا کہ اپیل کنندہ کی تین مہینے کی میعاد سے زیادہ حراست ناجائز اور غیر منظور تھی۔ اس نے کہا کہ 7نومبر 2022اور 7فروری 2023کے احکامات جن میں حراست کی میعاد بڑھا دی گئی تھی،کو منسوخ کر دیا گیا ہے ۔جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی ڈویزن بنچ کے 2مارچ 2023اور سنگل جج کے 2نومبر2022کے حکامات کو بھی خارج کر دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ کے اپر وکیل ارون گام چودھری کی اس دلیل پر اتفاق جتا یا کہ 8اگست 2022کے ابتدائی حراستی حکم کوچنوتی دینے کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔اور کہا کہ یادو نے صر ف بات بعد کے احکامات کو چنوتی دی ہے جس میں حراست کو غلط طریقے سے بڑھا یا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ ایک اہم ترین فیصلہ ہے جس میں ہزاروں قید یوں کو فائدہ ہوگا جو اس وقت بغیر کسی مقدمے کے جیلوںمیں پڑے ہوئے ہیں۔ (انل نریندر)

پوار-شندے کو ساتھ لینے کا فائدہ؟

کیا ہار میں کیا جیت میں کی قیمت نہیں ،میں کرتویہ پتھ پر جو ملا یہ بھی صحیح وہ بھی صحیح 1996میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی سرکار کا اکثریت میں آنا اور بعد میں 13دن کے وقفے میں گر گئی تھی۔ یہ اس سرکار کا انجام تھا ۔سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے پارلیمنٹ میں اکثریت نہ جٹانے کے درد کے طور پر اٹل جی نے یہ کویتا پارلیمنٹ میں پڑھی تھی۔ واجپائی کے دور میں بی جے پی اقتدار کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنے کا اپنا موقف دکھا رہی تھی۔ وہ بدلے دور میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے میں ہچک نہیں رہی ہے ۔ مہاراشٹر کی سیاست کی موجودہ تصویر سے اسے بہتر ڈھنگ سے سمجھا جا سکتا ہے ۔مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے ہنگامے دارہونے کی امید ہے ۔ تعجب ہی بھی ہے کہ اقتدار میں شامل سیاسی پارٹیوں کی مشکلیں اپوزیشن پارٹیوں سے کم نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ مہاراشٹر کی موجودہ اسمبلی میں 105ممبران کے ساتھ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہے۔اب وہ شندے کی حمایت سے بی جے پی اقتدار میں آئی اور سب سے بڑی پارٹی ہونے کے بعد بھی اسے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چالیس ممبران اسمبلی والی شندے گروپ کو دینا پڑا ۔ ایک سال بعد جب لگا کہ کیبنٹ میں توسیع اور بی جے پی کے کئی چہروں کو شامل کیا جائے گاتبھی اجیت پوار کی این سی پی اتحاد میں شامل ہوگئی اور بی جے پی کے پانچ وزیر کے عہدے این سی پی کے کھاتے میں چلے گئے ۔ اتنا ہی نہیں کہ اب اندیشہ جتا یا جا رہا ہے کہ بی جے پی کو اپنے کچھ اہم محکمے پوار گروپ کیلئے چھوڑنے ہوں گے ۔ ایسی میں بی جے پی ممبران اسمبلی کا اقتدار میں اپنا پورا حصہ نہیں مل رہا ہے اور اس بات کو لیکر ان کی ناراضگی مسلسل بڑھی رہی ہے ۔ ایک سال سے جاری شندے سرکار میں شندے ضرور وزیر اعلیٰ ہیں لیکن زیادہ اہم وزارت فڑنویس اور بی جے پی کے پاس تھے۔ جب پوار کی قیادت میں این سی پی کے 9وزراءنے حلف لے لی توانہوں نے اہم وزارتوں کی مانگ کی۔ اجیت پوار کو مالیات کوآپریٹیو ،خواراک و سول سپلائی ،میڈیکل ،تعلیم ،خاتون و اطفال ترقی جیسے اہم ترین محکمے بھی بی جے پی سے لیکر این سی پی گروپ کو دے دئے گئے۔ حالاں کہ بی جے پی ممبران اسمبلی کے پاس مرکزی لیڈر شپ کے فیصلے کی حمایت کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے لیکن کئی اہم وزارتوں کے چھن جانے کی وجہ سے بھاری ناراضگی دیکھی جا رہی ہے ۔حالاںکہ سرکار میں وزارت کے بٹوارے سے جڑے مسئلے کو سلجھا نا مشکل نہیں ہوتا ۔لیکن اس اتحاد کے الجھنے کا کہیں زیادہ اندیشہ ہے۔ دراصل اتحاد میں شامل ہوئے اجیت پوار گروپ کے کچھ نتیاو¿ں کو اپنی اپنی اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی سے سیدھی ٹکر رہی ہے ۔ برسوں تک این سی پی کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے والے ممبران اسمبلی اور عہدیدارون کے سامنے اب شش وپنج کی حالت ہے ۔ مہا وکاس اگھاڑی سرکا ر بننے کے بعد ان سیٹوں پر پارٹی کے عہدیداران نے تینوں پارٹیوں کے خلاف چناو¿ کی تیار شروع کردی تھی۔ لیکن اب انہیں اجیت پوار اور ایک طرف شندے کے ساتھ کام کرنا ہوگا ۔اصل مشکل یہی ہے کہ حالاںکہ ابھی یہ ناراضگی اندرونی لگ رہی ہے لیکن چناو¿ کے دوران ٹکراو¿ بڑھنے کا اندیشہ لگایا جا رہا ہے۔ پچھلے چناو¿ میں بی جے پی نے جہاں اسمبلی کی 160سیٹوں پر چناو¿ لڑا تھا وہیں اس بار دو پارٹیوں سے تال میل بٹھاتے ہوئے ان سیٹوں پر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ پوار شندے دونوں کو ساتھ لینے سے بی جے پی کو کتنا چناوی فائدہ ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ (انل نریندر)

18 جولائی 2023

کیا سیما حیدر آئی ایس آئی ایجنٹ ہے؟

ان دنوں پاکستان سے آئی خاتون سیما حیدر کافی سرخیوںمیں چھائی ہوئی ہے۔وہ اپنے بچوں کے ساتھ غیر قانونی طریقے سے سند ھ پہلے اپنے بچوں کے ساتھ دبئی اور پھر وہاںسے نیپال ہوتے ہوئے یوپی کے گریٹر نوئیڈا آ پہنچی بتایا جاتا ہے کہ یہاںپر سیما نے ہندو دھرم کو اپنا کر اپنے بوائے فرینڈ سچن سے شادی کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ سیما حیدر کون ہے اور کیوں اس طرح غیر قانونی طریقے سے بھارت آئی ؟ اس کا اپنے بچوں کے ساتھ پریمی سچن کے پاس نیو گریٹر نوئیڈا آنا شبہ کی نظریہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔ بریلوی عالم مولانا شہاب الدن رضوی نے جمعہ کو کہا کہ یہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سازش کا حصہ ہو سکتی ہے ۔اسے ذہن میں رکھتے ہوئے مرکزی حکومت سیما پر سخت نگرانی کرائے اور انہیں پاکستان واپس بھیج دیا جا نا چاہئے ۔ درگاہ کے اعلیٰ حضرت درگاہ سے وابسطہ آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی نے پورے معاملے کو پاکستان کی ناپاک سازش سے جوڑا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک ہمارے خلاف مختلف طریقے سے سازش رچتا آیا ہے ۔سرحدوں پر در اندازی کرائی جاتی ہے ۔کشمیرمیں آتنکی حملے کرائے جاتے ہیں۔ سیما حیدر کا پاکستان سے آنا نئی طرح کی سازش کا اندیشہ جتا رہا ہے ۔ ان کا نیپال پہنچ کر مندر میں شادی کرنا اور اس کے بعد چپکے سے گریٹر نوئیڈا تک پہنچنا عام بات نہیں ہے ۔ ایک گھریلوخاتون اپنے چار بچوں کے ساتھ اتنا مشکل اور بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی ہے یہ یقینی طور پر منظم لگتا ہے ۔سیما کے طلاق کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ وہ اسلام چھوڑ کر ہندو دھرم اپنا چکی ہے ۔ایسے میں اس سے طلاق کی ضرورت نہیں ہے ۔ چاروں بچے حیدر سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور شریعت کے مطابق انہیں کے مانے جائیںگے اس کے علاوہ تین طلاق متاثر ہ عورتوں کی آواز اٹھانے والی انجمن حق فاو¿نڈین کی صدر فرحت نقوی نے بھی سیما حیدر پر سوال اٹھائے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کو پال بوس کرنے والا دیش ہے اس لئے اس کے کسی شہری پر بھروسہ کرنا مناسب نہیں ہے ۔ربو پورا میں رہ رہ پاکستانی خاتون سیما حید ر مسلسل کسی سے نہیں مل رہی ہے ۔ اترپردیش کے علاوہ دیش کے کئی صوبوں کے لوگ بھی اس سے ملنے آرہے ہیں۔ پورادن میڈیا ٹیلی ویژن ،کے ملازمین ڈیرا ڈلے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ میڈیا کے ذریعے سے معلومات ہونے پر سیما سے ملنے آئے ایک شخص نے بتایا کہ وہ سیما اور سچن کیلئے تحفہ لیکر آئے تھے لیکن وہ مل نہ سکے ۔ دوبارہ آئیںگے ۔ سیما کیا آئی ایس آئی کے ذریعے بھارت میں جاسوسی کیلئے بھیجی گئی ہے؟ (انل نریندر)

نہ کبھی سنی تھی نہ ہی دیکھی تھی!

دہلی میں ایسی برسات ہوئی جو نہ تو کبھی دیکھی تھی اور نہ ہی سنی تھی۔دہلی کا ایک حصہ پانی میں ڈوب گیا کئی برسوں بعد دہلی میں اتنی زیادہ بارش ہونے کے سبب سیلاب جیسے حالات بن گئے ہیں۔ کئی لوگ بے گھر ہو گئے ہیں تو کئی بازاروں کی دکانوںمیں پنی بھر گیا ہے ۔یہاںتک کہ نوجوانوں کی پسندیدہ مونسٹری مارکیٹ،جمنا بازار ،چندگی رام اکھاڑا ،پرانا ہنومان مندر اور لال قلع کا پچھلاحصہ پانی میں ڈوب گیا ۔پانی اتنا کہ پوری کی پوری کار ڈوب رہی تھی ۔ظاہر ہے کہ ان علاقوں کے باشندے پریشان ہیں۔ ساتھ ہی وہ طلبہ بھی پریشان ہیں جو دہلی یونیورسٹی میں پڑھنے جاتے ہیں اور جن کا شاپنگ اڈا مونسٹری مارکیٹ ان لڑکو ں نے اپنی زندگی میںشاید پہلی با ایسا سیلاب دیکھا ہوگا۔ لڑکے حیران ہیں کہ آخر دیش کی راجدھانی میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔ یہاںتک کہ کئی لوگ جمنا اور پانی بھرے علاقوں میں ڈوب ڈوب کر سیلفی اور فوٹوبھی لے رہے ہیں۔ دہلی میں یو پی ایس سی کی تیاری کر رہے ایک طالب علم نے کہا کہ میں نے پہلی بار اتنے سنگین حالات دہلی میں دیکھے ہیں ۔اس سے پہلے 2013میں خوب بارش ہوئی تھی تب دیکھا تھا کہ پانی شمشان گھاٹ تک آگیا تھا۔لیکن اس سے آگے پانی آتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پہلے ہم دوسری ریاستوں کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ فلاں جگہ پر سیلاب آیا ہے مگر کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم بھی ایسے باڑھ دیکھیں گے ۔ براڑی کے سنت نگر کے باشندے مہیندر کی بہن کا منگل کو نیدھن ہو گیا تھا۔آئی ایس بی ٹی کشمیر ی گیٹ ،نیگم بودھ شمشان گھاٹ پر انتم سنسکار کیا گیا تھا۔ رسمی خانہ پوری کے چلتے بدھوار کو آخر استھیا ں چننے نہیں آیا پورا شمشان گھاٹ سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اور باہر سڑک تک پانی تھا۔ ایسے میں رشتہ داروں نے شمشان گھاٹ کے باہر کھڑے ہوکر ہی باقی کی رسوم پوری کی ۔ مہندر کا کہنا تھاکہ اندر چھ چھ فٹ پانی بھرا ہوا ہے ۔ہم تو اب یہی مان کر چل رہے ہیں کہ استھیاں جمنا جی میں خود ہی وسرجت ہو گئی ہوںگی اس لئے ہم یہی باہر سے باقی رسم ادا کرکے چلے جائیںگے۔ یہی حال گیتا کالونی ،پشتہ روڈ شمشان گھاٹ کا بھی رہا ۔ پانی کی وجہ سے سنسکار کیلئے بنائے گئے سبھی پلیٹ فارم زیر آب تھے ۔شمشان گھاٹ کے آچاریہ جتن شرما نے بتایا کہ بدھوار کو ہی شمشان گھاٹ کے اندر پانی آگیا تھالیکن پلیٹ فارم تک پانی نہیں پہنچ پایا تھا۔ اس لئے دہاسنسکارمیں کوئی پریشانی نہیں آئی لیکن پھر پانی آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور لوگوں کو رات میں ہی بلاکر متوفی کے رشتہ داروں کو استھیاںلینے کو کہا گیا۔ بر سات کے پانی کی وجہ سے تین دن تک گیتا کالونی کا شمشان گھاٹ داہ سنسکار کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...