21 جولائی 2012

’کاکا‘ کا آخری ڈائیلاگ:ٹائم ہوگیا پیک اپ

بالی ووڈ کے پہلے رومانی سپر ہیرو راجیش کھنہ عرف کاکا ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ان کا بچپن کا نام جتن کھنہ تھا کا انتم سنسکار جمعرات کو کردیا گیا۔69 سالہ سپر اسٹار کا دیہانت طویل علالت کے بعد ہوا۔ انہیں بالی ووڈ کا پہلا سپر اسٹار مانا گیا تھا۔1965 ء سے راجیش کھنہ نے فلمی سفر شروع کیا تھا۔ محض 7 برسوں میں ہی وہ کسی معجزاتی معاجزے کی طرح سپر اسٹار کا درجہ پا گئے تھے۔ انہوں نے169 فلموں میں اداکاری کی ، ان میں سے128 فلموں میں ان کا کردار ہیرو کا رہا۔ ان کی15 سے زیادہ فلمیں سپر ہٹ رہیں۔ اس طرح راجیش کھنہ نے کئی نئے ریکارڈ بنائے۔ بالی ووڈ میں ان کا ’کاکا‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ راجیش کھنہ کے ڈائیلاگ اور ان پر فلمائے گئے گیت ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ کچھ ڈائیلاگ تو اتنے ہٹ تھے اور ہیں وہ بھلائے نہیں جاسکتے۔ فلم ’آنند‘ میں نہ تو ان کا کردار بھلایا جاسکتا ہے نہ اس ڈائیلاگ کو ’’زندگی اور موت اوپر والے کے ہاتھ میں ہے جہاں پنا جسے نہ آپ بدل سکتے ہیں نہ میں، ہم سب تو رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں جس کی ڈور اوپر والے کے ہاتھ میں ہے کون کب ، کیسے اٹھے گا یہ کوئی نہیں جانتا‘ اسی فلم میں ایک اور ڈائیلاگ تھا ’کیا فرق ہے 70 سال اور 6 منٹ میں۔ موت تو ایک پل ہے آنے والے چھ مہینوں میں جو لاکھوں پل میں جینے والا ہوں اس کا کیا ہوگا بابو مشائے زندگی بڑی ہونی چاہئے لمبی نہیں‘‘۔ کاکا کی زندگی بھی بڑی تھی لمبی نہیں۔ کاکا ہمیشہ اپنے اسٹائل سے ایک کے بعد ایک لگاتار سپر ہٹ فلمیں دینے والے کاکا کا ایک الگ ہی اسٹائل تھا۔ یہ انداز انہیں اپنے سے پہلے کے تمام رومانی اداکاروں سے الگ کرتا تھا۔ آنکھ بند کرکے ایک طرف سر گھما کر ان کے ڈائیلاگ بولنے کی ادا فلم شائقین کو کچھ الگ ہی بھا جاتی تھی۔ ان کی شرارتی مسکان اور زیب چہرہ بھی پہلے سے قائم ہیرو کی ساکھ سے الگ تھا۔ اس نئے چہرے اور اسٹائل کی وجہ سے لوگ ان کے ڈائیلاگ اور ان کے اسٹائل کی نقل کرنے لگے تھے ایک طرح سے وہ اس زمانے کے فیشن کی علامت بن چکا تھا۔ ان کے چاہنے والوں کی تعداد جتنی شہروں میں تھی اتنی ہی دیہات میں تھی۔ بات اگر سنیما کے ذریعے سے سماج کی آنکھوں میں اترنے والے سپنوں کی کریں تو راجیش کھنہ ان سپنوں کے چکرورتی راجہ تھے۔ بزرگوں نے فلم ’آنند ‘ میں ان کے کینسر سے مرنے کے دردناک سین میں زندگی کی پہیلی کو سمجھا تو لڑکوں نے ’کٹی پتنگ اور ارادھنا، امر پریم‘ جیسی فلموں میں۔ راجے رجواڑوں کے زمانے کے پریمی اداکاروں کو بنیادسے نئے دور کے سماج کو فیشن ایبل رومانی آئی کون دیکھا۔ماؤں نے اپنے بچوں کا نام راجیش کھنہ رکھنا شروع کردیا۔ مقبولیت کی حد یہاں تک پہنچ گئی اس دور میں محاورہ ہی چل پڑا’اوپر آقا اور نیچے کاکا‘۔ راجیش کھنہ ایک بہت الگ ہی انسان تھے۔ وہ زیادہ ملنا جھلنا پسند نہیں کرتے تھے رشتے داروں اور دوستوں سے زیادہ انہوں نے شراب کی بوتل کا سہارا لیا۔ وہ اتنے خوددار انسان تھے کہ ان کی موت کا سبب ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔فلمی پردے پر سب سے ہٹ جوڑی کے طور پر راجیش نے اداکارہ ممتاز کے ساتھ کئی ہٹ فلمیں دیں۔ دونوں کی فلم ’آپ کی قسم، روٹی، اپنا دیش، سچا جھوٹا‘ سمیت10 فلمیں سپر ہٹ رہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ لندن میں رہ رہی ممتاز نے بتایا کہ انہیں اس بات کی تسلی ہے کہ پچھلے مہینے وہ کاکا سے ملی تھیں۔ اس دوران دونوں نے کینسر سے اپنی اپنی لڑائی کی بات شیئر کی تھی۔ حالانکہ کاکا کے خاندان نے کبھی ان کی بیماری کے بارے میں نہیں بتایا۔ چھاتی کے کینسر سے لڑائی جیتنے والی ممتاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں بہت مضبوط ہوں اور وہ جانتے تھے کہ کیموتھیریپی کے دوران میں کس درد سے گذری تھی۔ ان کے لئے آرڈر کئے گئے بہت سارے کھانوں کے بارے میں مذاق کرنے پر انہوں نے کہا تھا کہ انہیں بھوک محسوس نہیں ہوتی۔ اس دن بھی کاکا نے کچھ نہیں کھایا تھا لیکن بیماری کی اس حالت میں بھی وہ زندہ دل انسان تھے۔ مذاق کرنا، مسکرانا، قہقہے لگانا ان کی عادت تھی جو آخری وقت تک قائم رہی۔ بہرحال کاکا اپنے پیچھے صرف چمک اور مقبولیت کی دھوم نہیں چھوڑ گئے بلکہ ان کا سفر اپنے آخری مقام تک پہنچتے پہنچتے آخر میں تکلیف دہ حالت میں بدل گیا۔ راجیش کھنہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ایک اشتہار ’اوتار‘ میں لوگ جب ڈھلتے جسم اور کانپتی آواز میں یہ کہتے سنتے ہیں ’میرے فینز مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا‘ تو صاف لگتا ہے کہ وہ اپنے اداسی کے دن گذارنے کے بعد بھی راجیش کھنہ کی تلاش اسی چکاچوند میں تھی جو کبھی ان کے نام کے ذکر کے ساتھ پیدا ہوجایا کرتی تھی۔ آج جب کاکا نہیں ہیں تو ان پر فلمائے گئے یادگار گانے اور ڈائیلاگ ہمیشہ یاد رہیں گے۔ آنند کبھی مرتا نہیں تو ان پر ہے،بدھوار کی دوپہر قریب ڈیڑھ بجے جب انہوں نے آخری سانس لی تو ان کے آخری الفاظ تھے ’ٹائم ہوگیا پیک اپ‘ اپنے آنند کی یاد میں بیحد جذباتی بابومشائے یعنی امیتابھ بچن نے دیر رات ٹوئٹر پر یہ بات شیئر کی تھی۔

بچوں کو پیزا،برگر کم ہندوستانی کھانا زیادہ دیں

ہر ماں باپ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ جنک فوڈسے بچائیں۔یہ پیزا، برگر آج کل بچوں کی سب محبوب غذا مانی جارہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کا استعمال بالکل بند کردیا جائے بلکہ ان کا روز بروز کھانا ، بچوں کی صحت کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ آئے دن یہ سروے آتے رہتے ہیں کہ اس جنک فوڈ کے سبب بچوں میں ذیابیطس کا مرض بڑھ رہا ہے۔ عالمی صحت تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نمک برگر، پیزا ،فرینچ فرائی اور فرائی چکن میں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو تیز نمک کھانے کی عادت ہے تو چوکس ہوجائیں کیونکہ یہ آپ کے دل اور جسم کو بایو کیمیکل سسٹم کو خراب کرسکتا ہے۔ لیڈی ہارڈنگ کی ایک ڈاکٹر مونیکا سود کے مطابق ایک دن میں صحت مند شخص کو دوملی گرام سے زیادہ نمک کا استعمال نہیں کرناچاہئے۔ امریکی جنرل آف ہائیپرٹینشن کے مطابق فاسٹ فوڈ میں ضرورت سے زیادہ نمک (سوڈیم) کی مقدار ہوتی ہے جس سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ زیادہ نمک سے ہائی بلڈ پریشر، وقت سے پہلے موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بھارت میں ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ زیادہ نمک کھانے سے خون کی نسوں میں پانی کے ذرات کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے جس سے خون کے دوران میں رکاوٹ آتی ہے اور دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے سبب بلڈ پریشر کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔ جسم میں موجود سوڈیم پیشاب میں چلا جاتا ہے اس سے گردے پر مضر اثر پڑتا ہے۔ گردے میں پتھری بننے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔اس سے گردہ فیل ہونے کا بھی خطرہ بنا رہتا ہے۔ زیادہ نمک کے استعمال سے دل کمزور ہوسکتا ہے۔ جسم میں نمک کی مقدار زیادہ ہونے سے دل کو اپنا کام کرنے میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے جس سے دل میں سوجن بڑھ جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک مطالعہ میں پایاگیا ہے کہ پیزا، برگر سے ہندوستانی کھانے بہتر متبادل ہیں۔ اس کے مطابق فاسٹ فوڈ میں مقرر نمک مقدار سے تین گنا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ہندوستانی کھانوں میں کم نمک کا استعمال ہوتا ہے۔ لیور پول جون موروس یونیورسٹی کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ پیزا میں سب سے زیادہ نمک کی مقدار قریب 9.45 گرام ہوتی ہے۔ یہ وہیں چائنیز فوڈ میں اوسطاً8.1 گرام ، کباب میں 6.2 گرام جبکہ ہندوستانی کھانوں میں یہ 4.7 گرام اور انگلینڈ کے کھانوں میں 2.2 گرام نمک کی مقدار ہوتی ہے۔ مطالعہ کے مطابق پیزا میں اوسطاً12.94 گرام نمک ہوتا ہے جبکہ سی فوڈ پیزا میں 11 گرام نمک ہوتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں نمک کی مقدار کا پتہ لگانے کے لئے یہ پہلا مطالعہ سامنے آیا ہے۔ اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ضرورت سے زیادہ پیزا ،برگر و چائنز فوڈ نہ کھلائیں اور ہندوستانی کھانے اور سبزی وغیرہ کی زیادہ عادت ڈالیں۔

20 جولائی 2012

کیا دگوجے سنگھ کی چھٹی تنظیم میں ردوبدل کی شروعات ہے؟

اب جب صدارتی اور نائب صدارتی چناؤ کا معاملہ نمٹ گیا ہے لگتا ہے کانگریس اور یوپی اے سرکار میں تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ موصولہ اشاروں سے لگتا ہے کانگریس صدر سونیا گاندھی اب تنظیم میں ردو بدل کرنے کے موڈ میں آچکی ہیں۔ خبر ہے کانگریس تنظیم میں کئی سرکردہ لیڈروں کو ہٹایا جائے گا اور کچھ کے پر کتر دئے جائیں گے اور کچھ کو کیبنٹ سے ہٹا کر تنظیم میں لایا جاسکتا ہے۔تنظیمی ردوبدل کیلئے سونیا گاندھی کے سینئر مشیروں سے صلاح مشورہ تقریباً پورا ہوچکا ہے۔ یوپی اور پنجاب کے چناؤ میں کراری ہار کو پارٹی ہضم نہیں کر پارہی ہے۔ اس سال اور2013ء میں کئی ریاستوں میں اسمبلی اور آنے والے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر بھی یہ ضروری ہے کہ کانگریس اپنی تنظیم کو درست کرے۔ کیا شری دگوجے سنگھ کے پر کترنے سے یہ ردو بدل شروع مانی جائے؟ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کو لیکر منگل کے روز افواہوں کا بازار گرم رہا۔ کہا گیا ہے کہ اترپردیش کی ہار کی وجہ سے سنگھ سے اترپردیش اور آسام کی ذمہ داری چھین لی گئی ہے۔ ایک وجہ یہ بھی سننے کو ملی کہ دگوجے سنگھ سے ان ریاستوں کی ذمہ داری ان کے متنازعہ بیانات کے چلتے لی گئی ہے تو دوسری طرف یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اپنی بیوی کی بیماری کی وجہ سے وہ خود ہی اپنی ذمہ داری سے آزاد ہوئے ہیں۔ بات بڑھتی دیکھ کانگریس سکریٹری جنرل اور میڈیا کے محکمے کے چیئرمین جناردن دویدی کو ان سبھی سوالوں کی تردید کرنے کیلئے آگے آنا پڑا۔ بتایا گیا ہے دگوجے سنگھ راشٹرپتی چناؤ کو لیکرکسی اور کام میں مصروف ہیں، لیکن انہیں الجھن اس وقت ہوئی جب سونیا گاندھی سے ملنے اترپردیش کے ممبران کے ساتھ کانگریس سکریٹری جنرل ڈی کے ہری پرساد 10 جن پتھ پہنچے جبکہ ریاست کے انچارج دگوجے سنگھ ہیں۔ اس سے پہلے الیکٹرانک میڈیا کے ہاتھ کانگریس پارلیمانی پارٹی کا ایک وہ خط لکھ گیا جس میں ممبران کے ساتھ سونیا گاندھی کی ملاقات کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس خط اور ہری پرساد کو اترپردیش کے ممبران کے ساتھ جاتا دیکھ کر اس بات کا خدشہ بڑھ گیا کہ کیا واقعی دگوجے سنگھ سے اترپردیش اور آسام کی ذمہ داری لے لی گئی ہے۔ سونیا گاندھی ان دنوں کانگریس ممبران پارلیمنٹ سے مل رہی ہیں۔ منگل کو وہ یوپی کے ممبران سے ملی تھیں۔ خبر ہے کہ کچھ وزرا نے جن میں وزیر دیہی ترقی جے رام رمیش اور وزیر صحت غلام نبی آزاد کے نام خاص ہیں ، نے مرکزی سرکار میں وزارت سے استعفیٰ دے کر پارٹی کی خدمت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ صدر اور نائب صدر کے چناؤ کے فوراً بعد دونوں مرکزی کیبنٹ اور کانگریس تنظیم میں بڑی تبدیلی ہوگی۔ مرکزی کیبنٹ میں ردوبدل کے لئے کانگریس کے ساتھیوں کا بھی دباؤ ہے۔ شری پرنب مکھرجی کے جانے کے بعد سے وزارت مالیات کا عہدہ بھی بھرنا ضروری ہے۔ لگتا ہے کہ دونوں اور تنظیم میں ردوبدل ہوگی لیکن دیکھیں کیا ہوتا ہے؟

ہند ۔ پاک کرکٹ میچوں کا متنازعہ فیصلہ

مرکزی سرکار نے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو پاکستان کے ساتھ تین ایک روزہ اور دو ٹوئنٹی میچ کھیلنے کیلئے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ رشتے بحال کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی نے لیا۔ بورڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دسمبر2012ء سے2013ء کے درمیان تین ایک روزہ ،دو ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کے لئے مدعو کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کولکتہ، چنئی ،دہلی میں ایک روزہ جبکہ بنگلورو اور احمد آباد میں ٹی ٹوئنٹی کے مقابلے ہوں گے۔ بورڈ کے سینئر ممبر راجیو شکلا کے مطابق پی چدمبرم نے وزارت داخلہ کی طرف سے اس سیریز پر کسی طرح کا اعتراض نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ وزارت نے اس فیصلے کے تئیں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اتنا ہی نہیں وزارت خارجہ سے بھی ہری جھنڈی ملنے کی اطلاع ہے۔ مرکزی سرکار اور بی سی سی آئی کا یہ فیصلہ حیرت اور ساتھ ہی سوال کرنے والا ضرور ہے۔ دیش کی عوام کے دل میں یہ سوال اٹھنا فطری ہی ہے کہ آخر اس درمیان ایسا کیا خوشگوار معاملہ ہوا جس سے بھارت سرکار نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ملک میں کھیلنے کی اجازت دے دی؟ ابھی بھی تو نئے سرے سے یہ سامنے آیا ہے کہ ممبئی حملے میں پاکستان کی سرکاری ایجنسیوں کی ساجھیداری تھی۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ قصاب ، ڈیوڈ ہیڈلی اور ابو جندال کے خلاصوں کے بعد بھی پاکستان نے 26/11 کے گنہگاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس فیصلے کی سنیل گواسکر نے بھی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ممبئی کے باشندہ ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ جب ممبئی حملے کی جانچ میں پاکستان سے تعاون نہیں مل رہا ہے تو میچ کے انعقاد میں جلد بازی کیوں کی گئی؟ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین کا تبصرہ دلچسپ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میچ کے لئے پہلے بھی بھارت آچکی ہے ،اب ممبئی حملے کے گنہگار آتنکیوں کی ٹیم کو بھی بھارت بلایا جانا چاہئے۔ سپا لیڈر ابو اعظمی کا کہنا تھا ممبئی حملے کے ذمہ داردیش کے ساتھ ہم کیسے کھیل رشتے رکھ سکتے ہیں۔ میں نے اسی کالم میں آئی پی ایل میچوں کے دوران تجویز رکھی تھی کہ جب پاکستان امپائر آسکتے ہیں تو اظہر محمود لندن کے ذریعے آسکتے ہیں تو پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل کھیلنے پر پابندی کیوں۔ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کا کھیلنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ وہ بھارت سرکار کے مدعو کردہ نہیں ہیں لیکن بھارت۔ پاک سیریز وہ بھی بھارت سرکار کی دعوت پر کھیلی جائے تو اور بات بن جاتی ہے۔ آج بھارت سمیت سبھی مہذب دنیا کا پاکستان پر دہشت گردی پر لگام لگانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ایسے وقت پاکستان کے ذریعے آتنک واد پر منفی نظریہ دکھانے کے باوجود انہیں اپنے دیش میں بلانا کیا مناسب ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم کے اس فیصلے کے پیچھے مرکزی سرکار کی کیا رائے ہے لیکن شبہ یہ ہی جاتا ہے کہ پاکستان کے تئیں ان کی پالیسی پہلے کی طرح ٹال مٹول والی بنی ہوئی ہے۔ بیشک بھارت سرکار کی پالیسی ٹال مٹول والی ہو لیکن پاکستان کا رویہ دہشت گردی کے تئیں پرانا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے زیادہ مایوس کن اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت آکر کھیلنے کی اجازت دینے کے 24 گھنٹے کے اندر وہیں کی ایک عدالت نے ممبئی حملے کی جانچ کے لئے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کو غیر قانونی بتاتے ہوئے سرے سے خارج کردیا۔ اس سے یہ پرانا سوال نئے سرے سے اٹھنا فطری ہے کہ کیا پاکستان ممبئی حملے کی سازش رچنے والوں کو سزا دینے کیلئے ذرا بھی خواہشمند ہے؟ یہ سوال اس لئے اور سنجیدہ ہوجاتا ہے کہ کیونکہ ممبئی حملے کی سازش رچنے کے 7 آتنکیوں کے خلاف سماعت شروع ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

19 جولائی 2012

کیا لندن اولمپک میں ہم بیجنگ سے آگے بڑھ سکیں گے؟

اس دیش کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ کھیلوں میں سیاست اتنی بڑھ گئی ہے کہ فضول کے جھگڑوں میں الجھنے کی کب فرصت ہے لیکن اصلی اشوز پر کوئی توجہ نہیں دیتا؟ سریش کلماڑی لندن اولمپک جائیں گے یا نہیں ،ثانیہ مرزا کی ماں کیوں لندن جا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ وقت بربادی کے اشوز پر دن رات بحث ہورہی ہے لیکن کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ لندن اولمپک میں بھارت کتنے میڈل جیت کر لائے گا؟ لندن اولمپکس میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے لئے سب سے بڑی چنوتی کیا ہے؟ یہ سوال کھلاڑیوں ،کوچ اور افسران سے پوچھا جائے تو زیادہ تر کا جواب ہوگا کھلاڑیوں کی فارم، قسمت اور باقی ٹیموں کا دم خم۔ لیکن دیش کا ایک بڑا طبقہ کچھ اور ہی سوچ رہا ہے۔ ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہوگی بیجنگ 2008 اولمپکس میں جیتے تین میڈل کی برابری لندن اولمپکس میں کرنا۔ کھیل واقف کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس اس برس سنہرہ موقعہ ہے کہ وہ تین میڈلوں سے آگے بڑھے۔ یہ بھارت کے لئے حوصلہ بڑھانے والی بات ہوسکتی ہے۔ اولمپک برطانیہ کی راجدھانی لندن میں ہورہے ہیں اور برطانیہ کی مشہور ریٹنگ ایجنسی پرائس پاور ہاؤس کوپرس نے اپنے تجزیئے میں پیشگوئی کی ہے کہ بھارت لندن میں 6 میڈل جیت سکتا ہے۔ بھارتیہ کھلاڑی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان سے اس بار کتنی امید لگائی گئی ہے۔ لندن اولمپکس بھارتیہ کھیلوں کی سمت اور راہ عمل بن سکتے ہیں۔ بیجنگ سے اچھا مظاہرہ ہندوستانی کھیلوں کو میلوں آگے لے جا سکتا ہے لیکن بیجنگ سے کمزور مظاہرہ بھارتیہ کھیلوں کو میلوں پیچھے بھی دھکیل سکتا ہے۔ نشانے بازی، مکے بازی، کشتی، تیر اندازی، بیٹ منٹن اور ٹینس جیسے کھیل ہیں جو اولمپکس سے بھارت کو میڈل دلا سکتے ہیں۔ بیجنگ میں جیتے ایک طلائی اور دو تانبے کے میڈل بھارتیہ کھیلوں کی ترقی اور تبدیلی کی تصویر کو لندن میں پیش کریں گے۔ اگر لندن میں بھارت 4 میڈل بھی جیت پایا تو یہ مان لینا چاہئے بھارتیہ کھیل آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑی کامیابی ملتی ہے تو صاف ہوجائے گا کہ بھارتیہ کھلاڑیوں نے میڈل جیتنے اور بڑے مقابلوں میں کامیاب ہونے کا منتر سیکھ لیا ہے۔ حالانکہ مکے بازی، کشتی ، نشانے بازی، تیر اندازی، ٹینس، بیٹ منٹن وغیرہ کھیلوں میں بھارت کے پاس ورلڈ چمپئن کھلاڑی ہیں لیکن اولمپکس کے سامنے کسی بھی مقابلے کے معنی نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں جیتے میڈل بھارتیہ کھلاڑیوں کیلئے سخت چنوتی بن کر کھڑے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ ہم بھارت کے شاندار پردرشن کے نام پر تین چار میڈلوں کی بات کرتے ہیں جبکہ ہمارا پڑوسی دیش چین 1983 کے لاس اینجلس کے تین میڈلوں سے2008 میں بیجنگ اولمپک میں 57 طلائی اور100 سے زیادہ دیگر میڈل جیت کر میڈل ٹیلی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون پر آگیا تھا۔ بھارت 112 برسوں کی اپنے اولمپک تاریخ میں کل 20 ہی میڈل جیت پایا ہے جن میں11 میڈل تو ہاکی کے نام ہیں۔ کھیلوں میں یہ اصول اب کہیں پیچھے چھوٹ چکا ہے کہ میڈل جیتنے سے زیادہ اہم حصہ لینا ہے۔ کھلاڑی بھی جانتے ہیں کہ اولمپک میں کامیابی انہیں راتوں رات اسٹار بنا دے گی۔

اوبامہ کا تبصرہ اتنا برا کیوں لگ رہا ہے؟

justify;">امریکہ کے صدر براک اوبامہ کے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو لیکر کئے گئے تبصرے کا حکومت ہند نے برا مانا ہے۔ اوبامہ نے دیکھا جائے تو کوئی نہیں بات نہیں کہی۔ یہ ہی بات ہندوستان کی کارپوریٹ لابی بہت دنوں سے کہتی آرہی ہے۔ اوبامہ نے ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری خاص طور پر خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی پر لگی پابندی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تقریباً یہی بات گذشتہ دنوں امریکی میگزین ٹائمس نے بھی کہی تھی۔ منموہن سرکار کو اوبامہ کا تبصرہ ناگوار گذرا ہے۔حیرانگی اس بات کو لیکر ہے کہ اسی امریکی لابی کی پالیسیوں پر یہ حکومت آج تک گامزن ہے آج انہیں برا کیوں لگ رہا ہے؟ منموہن سنگھ ، مونٹیک سنگھ آہلووالیہ خود امریکہ کے حمایتی ہیں۔ آج اوبامہ کی بات انہیں کیوں چبھ رہی ہے؟ کیا منموہن سنگھ اس بات سے انکارکرسکتے ہیں کہ بھارت کی ترقی (معاشیات) تقریباً ٹھپ پڑی ہوئی ہے؟ کیا وہ اس بات سے انکارکرسکتے ہیں کہ اقتصادی اصلاحات کی رفتار رک سی گئی ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اوبامہ نے جو کچھ کہا ہے وہ امریکی کارپوریٹ لابی کے دباؤ میں کہا ہے۔ پچھلے کافی عرصے سے امریکہ کی نگاہ بھارت کے خوردہ کاروبار پر ہے۔ کچھ ماہ پہلے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن آئیں تھیں ان کے اس دورہ کا مقصد ہی خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ اسی لئے اپنے سرکای دورہ میں وہ وزیر اعظم ، وزیر خارجہ، کانگریس چیف، مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سے بھی ملاقات کرگئیں۔ موجودہ حکومت نے خوردہ تجارت سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو کھلی چھوٹ دینے کیلئے بل بھی لائیں تھیں۔ منموہن سرکار نے ایف ڈی آئی لانے کیلئے بل پر پورے دیش میں واویلا کھڑا ہونے کی وجہ سے اسے آگے نہیں بڑھاسکی۔ چھوٹے سے لیکر بڑے تاجر اور مختلف سیاسی پارٹیوں اور دیگر انجمنوں کے نمائندے اسے کالے قانون سے تشبیح دیتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ مہینوں انشن ،دھرنوں اور جیل بھرو تحریک چلی۔ مرکز کو ان تحریکوں و سیاسی پارٹیوں کے دباؤ میں بل کو واپس لینا پڑا تھا۔ دراصل ہندوستان میں خوردہ بازار میں انگنت امکانات امریکہ کو دکھائی پڑ رہے ہیں۔ مندی کی مار سے نکلنے کی کوشش کررہے امریکہ کو اپنے یہاں کی مقامی کمپنیوں کو کھپانے کیلئے بازار کی تلاش ہے۔ بھارت اس کے لئے انہیں بہت موزوں دکھائی پڑ رہا ہے۔ وہاں کے تمام صنعتی دھندے اور روزگار اسی پر ٹکے ہوئے ہیں۔ امریکہ کو بھارت سے زیادہ اپنی فکر ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا ہے جب یہ وقت آئی کہ امریکن کمپنیوں نے بھارت میں پاور ویکیوم کی شکایت کرتے ہوئے اوبامہ کے دفتر کو ایک میمورنڈم دیا ہے۔ اب جبکہ وہاں اوبامہ صدر کے طور پر ایک اور پاری کھیلنے کے لئے چناؤ میدان میں ہیں تو انہیں وہاں ساری باتیں کہنی پڑرہی ہیں جس سے دیش کے اندر ان کی مخالفت کم ہوجائے۔ بھارت کو اوبامہ کی ساری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ چناوی سال میں وہ بہت سی باتیں اپنے دیش کے ووٹروں کو رجھانے کے لئے کہیں گے۔ آج کی تاریخ میں جب یوروزون سے لیکر ڈالر اکنامی تک کے آگے گراوٹ کا سنگین خطرہ منڈرا رہا ہو تو کھلے پن کی پیروکاری کرنے والی بڑی معیشتیں بھی اپنی تحفظاتی پالیسیاں اپنانے کو مجبور کوچکی ہیں اور اپنی گلوبل اکنامک پوزیشنگ اس طرح کررہی ہیں کے جن میں ان کے لئے آسانی زیادہ ہے۔ یہ ہی حکمت عملی امریکہ کی بھی ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں کیلئے ہندوستان میں دروازے کھولنے کیلئے دباؤ بڑھائے۔ امریکہ کو اپنی فکر ہے لیکن اس سے ہندوستانی کاروباریوں ، صنعتکاروں اور دستکاروں اور مزدوروں کو خطرہ بڑھ جائے گا۔ منموہن سنگھ سرکار کیلئے بھارت کی رکی ہوئی معیشت میں دوبارہ روح پھونکنا ایک چنوتی ہے لیکن یہ بات ہمیں امریکہ سے نہیں جاننی چاہئے۔ منموہن سنگھ میں دراصل قوت ارادی کی کمی ہے۔ کبھی اتحادی دھرم کی وجہ سے ، کبھی غلط اسکیموں کی وجہ سے یہ سرکار صحیح فیصلے نہیں کرپا رہی ہے۔ اب اس سرکار کی یہ مشکل ہے کہ اوبامہ کے تبصروں کے بعد کچھ ٹھوس قدم اٹھاتی ہے تو یہ دھبہ لگے گا کہ یہ سب امریکہ کے دباؤ میں ہوا ہے۔ اس لئے بھارت سرکار کو بغیر دباؤ میں آئے اپنا راستہ خود طے کرنا چاہئے۔

18 جولائی 2012

رحم میں لڑکیوں کا قتل روکنے کیلئے کھاپ مہا پنچایت کا سراہنئے فیصلہ

باغپت ضلع کی ایک کھاپ مہا پنچایت کی جانب سے عورتوں پر تازہ پابندی کے الزامات کے عجیب و غریب فرمان سے تو ہنگامہ ہونا ہی تھا۔ پنچایت نہ طالبانی انداز میں جاری کردہ فرمان میں 40 سال سے کم عمر کی عورت کو اکیلے گھر سے نکلنے پر پابندی لگادی ہے۔ عورتیں اکیلے بازار نہ جائیں۔ گاؤں کی عورتوں کا سر ہمیشہ دھکا ہونا چاہئے۔ عورتیں گھر سے باہر موبائل فون کر استعمال نہ کریں۔ پنچایت کے اس فیصلے سے ملک میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ پہلے بھی کھاپ پنچایتوں کے فیصلے پر واویلا مچا تھا۔ چاہے معاملہ عزت کے نام پر ہلاکتوں کا رہا ہو یا کورٹ میرج یا عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف فتوی جاری کرنا رہا ہو، جب پنچایتوں نے دیکھا کہ ہنگامہ زیادہ ہوگیا تو انہوں نے ایک اور فرمان جاری کردیا۔ اس مرتبہ سوا سو کھاپ مہا پنچایت رحم میں لڑکیوں کے قتل کے خلاف سخت احتجاج کے لئے کھڑی ہوگئی ہیں۔ ہریانہ کے جند کے بی بی پور گاؤں میں منعقدہ مہا پنچایت میں دہلی، راجستھان، اترپردیش کی سوا سو سے زیادہ کھاپ پنچایتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ہریانہ اور راجستھان کے کچھ علاقے رحم میں لڑکیوں کے قتل کے لئے بدنام ہورہے ہیں۔ یہ ہرروز پہلے اترپردیش کے باغپت ضلع میں ہوئی پنچایت نے جہاں عورتوں کے مفادات پر حملہ کرنے والے ریزولوشن پاس کئے تھے وہیں سنیچر کو اعلان کیا کہ رحم میں لڑکیوں کے قتل کو اپنی سطح پر روکنے کی کوشش کریں گے اور ساتھ ہی پنچایت نے مطالبہ کیا کہ سرکار رحم میں قتل کرنے والے قصورواروں کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کرنے کی سہولت پیدا کرے۔ ہمیں لگتا ہے کہ عورتوں پر پابندی لگانے والے فیصلے پر جب پنچایتوں نے ردعمل دیکھا تو اپنی بگڑتی ساکھ کو بہتر بنانے کیلئے بلاتاخیر رحم میں لڑکیوں کے قتل کوروکنے سے متعلق ریزولوشن لایا گیا۔ کھاپ کو سمجھنا ہوگا کہ عورتوں سے متعلق ان کا پہلا فرمان وقت اور سماج کی ہماری روایت کو کمزور کرنے کے ساتھ ہی دیش کی ساکھ پر بھی بٹا لگاتے ہیں۔ سماجی اصلاحات کی ایسی کوئی پہل کامیاب نہیں ہوسکتی جو عورتوں پر پابندی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ کھاپ پنچایت کے فیصلے سامنتی نظریئے کی عکاس ہیں۔ ایسے فیصلے پرعمل کرنے پر کوئی سماج یا گروپ آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ صرف قانون کے زور پر سماج کے اندر منفی نظریئے کو نہیں بدلا جاسکتا اس معاملے میں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ سماج اور سیاسی عوامی نمائندے لوگوں کو نصیحت دیں اور انہیں سمجھانے بجھانے کے لئے آگے آئیں کہ وہ اس قدم کے بہانے کھاپ پنچایت کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آرہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ راہ دکھانے والے خود بے سمت ہوتے جارہے ہیں۔ ہم کھاپ پنچایت کے تازہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ رحم میں بچیوں کے قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن صرف قانون سے ہی لوگوں کا نظریہ نہیں بدلا جاسکتا۔ پنچایتوں کے ذریعے اس کے خلاف آواز اٹھانے سے ماحول اور نظریہ دونوں میں فرق پڑتا ہے۔ جہاں تک عورتوں کے سر ڈھکنے کی بات ہے تو اسلام میں بھی پردہ سسٹم ہے۔ گاؤں میں گھونگھٹ کا رواج ہے یہ نئی بات نہیں، ہاں طریقہ یہ نہیں چل سکتا کہ بچیوں کے بڑھتے قتل کے معاملوں کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر اس جرائم کو قتل کے زمرے میں لانا چاہتا ہے اس کے لئے اس نے پچھلے ہفتے مرکزی حکومت سے رائے مانگی ہے۔ اگر مرکزی حکومت رضامند ہوتی ہے تو غیر قانونی اسقاط حمل کرانے والے ڈاکٹر اور اس میں لگے لوگوں پر (رشتے دار یا کنبے والے) کو قتل کا قصوروار مانا جائے گا۔ اترپردیش قانون بنانے کو تیار ہے۔ ریاست کی نئی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر مذہبی تنظیمیں ارر مذہبی پیشوا آگے آئیں تو بچیوں کے رحم میں قتل کو روکونے کے لئے قانون بنانے کو تیار ہے۔ تین ماہ پہلے اسمبلی چناؤکے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زیر پارلیمانی امور اعظم خاں نے کہا تھا کہ موجودہ قانون سخت نہیں ہے اور اس گھناؤنے جرائم کو قتل کے زمرے میں لایا جانا چاہئے۔

سرکار میں نمبر2-کی لڑائی کھل کر سامنے آئی

میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ مسٹر پرنب مکھرجی کے یوپی اے سرکار سے رخصت ہونے کے بعد سے اس منموہن سنگھ سرکار کو چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ پرنب دا اس حکومت کے سنکٹ موچک تھے وہ ہر سیاسی مسئلے کا حل نکال لیا کرتے تھے۔ اب منموہن سرکار کو پرنب بابو کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ سلسلہ شروع ہوبھی گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبر دو کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبردو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکھرجی کے صدر کے عہدے کے امیدوار بننے کے بعد ان کی کرسی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ پرنب کے سرکار سے باہر جانے کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار کی جگہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو وزیر اعظم کے بعد نمبردو کی جگہ دینے کا اشو یوپی اے اتحاد میں رسہ کشی کا سبب بن گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد منہ کھولنے والے مراٹھا سردار شرد پوار نے نائب صدر چناؤ کے لئے بلائی گئی میٹنگ سے دور رہ کر اپوزیشن کو یوپی اے کے اتحاد پرسوال اٹھانے کا ایک اور موقعہ دے دیا ہے۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر ذراعت شرد پوار یوپی اے I اورII میں کیبنٹ کی سینیرٹی میں پرنب مکھرجی کے بعد وہ آتے تھے۔ مکھرجی کے سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد نمبردو کی حیثیت انہیں ملنی چاہئے۔ مکھرجی کے استعفے کے بعد ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں شردپوار کو وزیر اعظم کی بغل میں بٹھایاگیا۔ پی ایم او کی وزرا کی سیریز والی ویب سائٹ سے بھی ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا مگر بعد میں ویب سائٹ سے فہرست ہٹا دی گئی۔ ادھر میٹنگ کے دو دن بعد کیبنٹ میں وزرا کی سینیرٹی کے زمرے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو سرکار میں نمبردو بنا دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں این سی پی نے سنیچر کو نائب صدر کا امیدوار طے کرنے کیلئے بلائی گئی یوپی اے کی میٹنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا۔ این سی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کیبنٹ میں سینیرٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نیتا نے کہا کہ این سی پی ایسی پارٹی نہیں ہے جو چھوٹے چھوٹے اشوز پر ہنگامہ کرتی آئی ہے لیکن ایسا رویہ ہماری بے عزتی ہے اور ہم یہ بے عزتی برداشت کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔ این سی پی نے کبھی بھی اس سے پہلے کیبنٹ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے اور وجہ ہے شرد پوار کی بے عزتی۔ اپوزیشن نے اسے یوپی اے میں بکھراؤ کا ایک اور اشارہ دے دیا ہے۔ بھاجپا سکریٹری جنرل مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس اتحادی دھرم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدارتی چناؤ کے بعد یوپی اے ٹوٹ جائے گا اور دیش کو وسط مدتی چناؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوار کا تجربہ اور سینیرٹی پرنب مکھرجی کے برابر ہے۔این سی پی کے ایک نیتا نے کہا کہ اس مسئلے پر رسمی خانہ پوری سے پارٹی اپنی طرف سے کانگریس سے کوئی بات نہیں کرے گی لیکن جو ہوا وہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔

17 جولائی 2012

لشکرسب سے خطرناک انتہا پسندتنظیم اور پاکستان سب سے خطرناک ملک

انتہا پسند حافظ سعید اور حال میں گرفتار ہوئے ابو جندال کے مطابق بھی 26/11 ممبئی حملوں کے پیچھے لشکر طیبہ اور آئی ایس آئی کا براہ راست ہاتھ تھا۔ ممبئی کے 2008ء آتنکی حملے کے دوران کراچی میں کنٹرول روم میں آئی ایس آئی کا افسر میجر سمیر علی کا موجود ہونا اس کو ثابت کرنے کیلئے کافی ثبوت ہے کہ لشکر اور آئی ایس آئی مل کر ہندوستان و دنیا کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ کہنا اس لئے بھی غلط نہ ہوگا کہ آج کی تاریخ میں لشکر طیبہ القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک انتہا پسند تنظیم بن چکی ہے اور پاکستان دنیا کا اس نقطہ نظر سے سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے۔ حال ہی میں ایک سابق آئی ایس آئی افسر کا بھی خیال ہے کہ لشکر طیبہ اب دنیا کی سب سے خطرناک انتہا پسند تنظیم ہے۔ سابق آئی ایس آئی تجزیہ نگار بروس ریڈل جو آج کل جانس ہاکن اسکول میں ایک پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ لشکر پاکستان کے اندر آزادانہ طور پر کام کررہی ہے اور پاکستانی مسلح فورسز اور دیش کے خفیہ اداروں کے ساتھ مضبوط کنکشن ہیں۔فی الحال چونکہ ریڈل ایک پرائیویٹ ادارے کے ساتھ کام کررہے ہیں اس لئے ان کی رائے کو امریکی حکومت کے افسر کی رائے تو نہیں مانی جاسکتی لیکن حکومتوں کی رائے اپنے دیش کے حکمت عملی سازوں کے بدلے نظریئے سے ہی اپنی پالیسی کو بدلتی ہے۔ کچھ وقت پہلے لشکر کو اتنی گہرائی سے نہیں لیا جاتا تھا سمجھا جاتا تھا کہ وہ پاکستانی پنجاب کے جنوبی حصے میں سرگرم ایک بڑ بولی انتہا پسند تنظیم ہے جو کبھی لال قلعہ پر تو کبھی وائٹ ہاؤس پر جہادی جھنڈا لہرادینا چاہتی ہے۔ امریکی حکومت کا خیال تھا کہ اس قسم کی درجنوں آتنکی تنظیموں میں سے ایک لشکر بھی ہے۔ امریکہ اس لئے بھی زیادہ فکر مند نہیں تھا کیونکہ وہ مانتا تھا کہ یہ امریکہ پرحملہ نہیں کرسکتا لیکن 26/11 نے امریکہ کی رائے میں بھی تبدیلی لادی ہے۔ بروس ریڈل کا خیال ہے کہ لشکرطیبہ کا درجہ فی الحال دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں میں سب سے اونچا ہے کیونکہ ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت پاکستان سرکار بھی نہیں دکھا پاتی اور اس تنظیم کو پاکستانی فوج و اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کسی نہ کسی سطح پر حمایت بھی حاصل ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق لشکر کے بانی حافظ سعید پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں کی میٹنگوں میں بھی باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔ دنیا میں اور کوئی ایسی دہشت گرد تنظیم موجود نہیں جس کے لوگ کسی دیش کی راجدھانی میں ہتھیار لے کر ریلیاں نکالتے ہیں اور کسی دیگر دیش پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں اپنے لوگوں کا نام اجاگر ہونے کے بعد بھی ان کی سرگرمیوں پر کوئی روک نہیں لگاتا نہ ہی اسے اس سے کوئی فرق پڑتاہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے ریڈل نے 26/11 سے جوڑ کر تین بڑی گرفتاریوں عامر اجمل قصاب، ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور ابو جندال کے بیانات کو بنیاد بنا یا ہے۔ ان تینوں کے بیانات میں ایک بات مشترک ہے کہ حملے کا خاکہ تیار کرنے میں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے کچھ افسر بھی شامل تھے۔ پاکستان آج بھی اس حملے کو نان اسٹیٹ ایکٹس کی کارروائی بتاتا ہے۔ الٹا پاکستان کے ایک وزیر نے تو کچھ دن پہلے یہاں تک کہہ دیا کہ 26/11 حملے میں بھارت کے اندر موجود لوگوں کا ہی اہم کردار تھا۔ پاکستان بیشک کتنا بھی انکارکرتا رہے لیکن ایک کے بعد ایک گرفتاری اس کے ملوث ہونے کو ثابت کرتی ہے۔ پاکستان بری طرح بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب حکومت نے ابوجندال کی گرفتاری میں جیسی سرگرمی دکھائی اگر ایسی سرگرمی دیگر خلیجی ملکوں کی حکومتیں لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو ملنے والے اقتصادی مدد اور سرپرستی دینے میں دکھائیں تو دیر سویر ان کی کمر بھی اسی طرح توڑی جاسکے گی جس طرح القاعدہ کی توڑی جارہی ہے۔ اصل مشکل تو یہ بھی ہے کہ خود امریکہ کے ذریعے پاکستان سرکار کو دی جانے والی مدد بھی تمام ذرائع سے پیسہ لشکر جیسے تنظیموں تک پہنچتا رہتا ہے اور جب تک امریکہ ان کو اپنے لئے خطرناک اور درد سر نہیں مانے گا تب تک ان کے علاج میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں بنے گی۔ آج لشکر طیبہ ، القاعدہ سے خطرناک دہشت گرد تنظیم اور پاکستان دنیا میں سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔

لو ، پراپرٹی اور دھوکہ:لیلیٰ کی سچی فلمی کہانی

گذرے زمانے کے سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ 2008 میں فلم وفا میں دکھائی دینے والی لیلیٰ خان کا فلمی کیریئر جتنا چھوٹا رہا اتنی ہی چھوٹی اس کی زندگی بھی رہی۔ اس قتل کانڈ میں نہ صرف لیلیٰ اور ان کی ماں نے جان گنوائی بلکہ خاندان کے دیگر افراد بھی مارے گئے۔ ممبئی کرائم برانچ نے ڈیڑھ سال سے لاپتہ پاکستانی نژاد بالی ووڈ اداکارہ لیلیٰ خان اور ان کے خاندان کے قتل کی گتھی سلجھانے کا دعوی کیا ہے۔ پولیس نے ناسک میں لیلیٰ کے فارم ہاؤس میں ملی چھ ڈھانچوں کی برآمدگی کے بعد یہ دعوی کیا ہے ۔ ان چھ انسانی ڈھانچوں میں سے پانچ خواتین کے اور ایک مرد کا ہے۔ان میں سے تین کے سر پر نشان ہیں۔ استعمال ہوئے تیز دھار چاقو اور لوہے کی چھڑ برآمد بھی ہوئی ہے۔ لیلیٰ کی ماں کے تیسرے شوہر پرویز ٹاک نے پولیس کو بتایا کہ پچھلے سال 7فروری کی رات کو انگت پوری فارم ہاؤس پر ان کا سلینا سے زبردست جھگڑا ہوا تھا۔ غصے میں اس نے کسی چیز کو سلینا کے سر پر مارا جو ان کی موت کا سبب بنی۔ سلینا پر ہوئے حملے اور ان کی چیخ سن کر فارم ہاؤس پر موجود خاندان کے دیگر افراد لیلیٰ (30 سال) ان کی بڑی بہن ازمینہ (32 سال) اور ان کے جڑواں بھائی ،بہن زارا اور عمران (25 سال) اور ایک اور رشتے دار ریشمہ موقعہ واردات پر دوڑے چلے آئے یہ دیکھ کر پرویز نے چوکیدار شاکر حسین وانی (جو کشتواڑ کا رہنے والا ہے) کو اندر بلایا۔ شاکر کو پرویز نے دو مہینے پہلے فارم ہاؤس میں رکھا تھا۔ دونوں نے مل کر پہلے عمران پر لوہے کی راڈ سے حملہ کیا، بعد میں انہوں نے عورتوں کو ایک ایک کرکے راڈ اور چاقو سے حملے کرکے مار ڈالا۔ ٹاک کے مطابق قالین اور چادر و کپڑوں سے ڈھک کر لاشوں کو دفنایا گیا تھا جس سے جانوروں تک ان کی خوشبو نہ پہنچے اور انہیں باہر نہ نکالیں۔ بعد میں انہوں نے ثبوت مٹانے کیلئے فارم ہاؤس کے ایک حصے کو جلا ڈالا۔ قتل کا مقصد تھا لیلیٰ کی پراپرٹی، لیلیٰ کی ماں سلینا نے اپنے دوسرے شوہر آصف شیخ کو انگت پوری کے فارم ہاؤس اور ممبئی میں واقع پراپرٹی کا نگراں بنانے کافیصلہ کرلیا تھا یہ بات ان کے تیسرے شوہر پرویز کو اچھی نہیں لگی اس لئے اس نے قتل کانڈ کو انجام دیا۔ تین شادیاں کرنے والی لیلیٰ کی ماں کا دوبئی میں بسنے کا ارادہ تھا۔ ان کے خاندان کے پاس بڑی پراپرٹی اور قتل کرنے والے پرویز کو یہ لگنے لگا کہ اسے دھوکہ دیا جارہا ہے۔ کل ملاکر ایک کرائم تھرلر فلم کے لئے جو مسالہ چاہئے وہ اصل زندگی کی اس کہانی میں ہے۔
ویسے اپنے آپ کو سخت سزا سے بچانے کیلئے پرویز ٹال پولیس کو یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے پراپرٹی پانے کیلئے کسی سازش کے تحت قتل نہیں کیا تھا۔ اس کا فارم ہاؤس پر سلینا سے جھگڑا ہوا تھا اور اس نے غصے میں قتل کئے ہیں لیکن یہ دلیل پولیس کے گلے شاید ہی اترے۔ لیلیٰ خان کے قتل کا راز کھل کگیا ہے لیکن کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس گتھی کو سلجھانے میں لیلیٰ کی دو بلیوں نے پولیس کی مدد کی تھی۔ لیلیٰ کبھی بھی ان بلیوں سے الگ نہیں رہتی تھی۔ جب پڑوسیوں نے ان بلیوں کو کھانے کیلئے بھٹکتے دیکھا تو انہیں شک ہوا اور راز کھلا۔

15 جولائی 2012

تتکال ٹکٹوں کے نئے سسٹم سے دلالوں پر روک لگے گی؟

بزنس کی طرح ریل ٹکٹ دلالی کا دھندہ میں راجدھانی میں زوروں پر جاری ہے۔ تمام شکایتوں اور انکشافات کے باوجود ناردرن ریلوے نے پہل کرتے ہوئے ٹکٹ بکنگ کے نئے سسٹم کا اعلان کیا ہے۔ دراصل ان دلالوں کا نیٹ ورک صرف دہلی تک ہی محدود نہیں ہے۔ ان دلالوں کا نیٹ ورک ریلوے کے اندر تک پھیلا ہوا ہے۔ ساتھ ہی دہلی کے باہر بھی ان کے تار جڑے ہوئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے اس نیٹ ورک کی بدولت یہ لوگ اپنے اس پیسنجر کے نام پر بھی ٹکٹ انتظام کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جنہیں ریزرویشن سینٹر پر جانے کے باوجود ناکامی ہاتھ لگتی ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ دلال ٹکٹوں کا ہر سطح پر انتظام کرلیتے ہیں یہاں تک کے شناختی ثبوت نہ ہو تب بھی دلال ٹکٹ کا انتظام کردیتے ہیں بشرطیکہ آپ ٹکٹ کے علاوہ ان کا کمیشن دینے کے لئے راضی ہوجائیں۔ شکایتیں تو یہاں تک ہیں کہ جو سکیورٹی ملازمین ریزرویشن کاﺅنٹر کے آس پاس نگرانی سنبھالے ہوئے ہیں وہ بھی ٹکٹوں کی غیر قانونی بکنگ اور کالا بازار ی میں شامل ہیں۔ بہرحال تتکال ریلوے ٹکٹ بکنگ کا نیا سسٹم نافذ ہوگیا ہے۔ نارمل ریزرویشن صبح 8 بجے سے ملے گا لیکن تتکال کاﺅنٹر10 بجے سے ہی کھلیںگے۔ ریلوے کا خیال ہے اس طرح دلالوں سے نپٹا جاسکے گا۔ دلالوں اور ایجنٹوں کی گڑ بڑی پر لگام لگانے کے تحت ریلوے نے ٹرینوں میںریزرویشن کے تتکال سسٹم کو منگل کے روز سے نافذ کردیا ہے اور اس کا رد عمل ملا جلا ہے۔ جہاں کچھ لوگوں نے نئے سسٹم کی تعریف کی وہیں دیگر کا خیال ہے کہ اس سے بڑا فرق نہیں آئے گا۔ فیملی سمیت دہلی سے کانپور جا رہے ایک مسافر کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے کی طرح ریزرویشن سینٹر پر جلدی نہیں جانا پڑا میں صبح 10 بجے سینٹر پر پہنچا اور فارم بھرا اور 25 منٹ کے اندر مجھے ٹکٹ مل گیا۔ وہیں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہیں کافی انتظار کے باوجود ٹکٹ نہیں ملا۔ تتکال سسٹم کا موٹے طور پر خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ نئے سسٹم سے دلالی پر تھوڑی روک لگے گی۔ جو پیسنجر تتکال ریزرویشن کرانے کے لئے رات سے ہی آکر کھڑکیوں پر لگ جاتے تھے اس سے انہیں چھٹکارا ملے گا۔ ٹرینوں میں تتکال ریزرویشن کے لئے افراتفری کا ماحول ختم ہوگا۔ ویسے نئے سسٹم کو لے کر یہ اندیشہ ضرور ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے ریزرویشن مراکز پر لوگوں کے درمیا ن رد عمل کے طور پر غلط فہمی اور افراتفری کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے یہ وہیں یہ خطرہ بھی لوگوں کو ستا رہا ہے کہ بکنگ اسٹاف اور غیر قانونی ایجنٹوں اور دلالوں کی ملی بھگت کا کوئی اور نیا طریقہ نکل آئے گا اور عام لوگوں کی مصیبت جوں کی توں بنی رہے گی۔ پھر جن لوگوں کو کچھ زیادہ پیسہ دے کر فون پر ٹکٹ مل جاتے تھے انہیں ریزرویشن کاﺅنٹروں پر جاکر ٹکٹ کی لائن میں لگنے میں دقت ضرور آئے گی۔ جہاں ہم ریلوے کے اس قدم کی تعریف کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہیںگے نئے سسٹم کو پوری طرح سے کامیاب کرنے میں ابھی اور مشکلیں آئیں گی۔

پاک سپریم کورٹ اور زرداری میں آر پار کی لڑائی

پاکستان میں سپریم کورٹ اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان شے مات کا کھیل آہستہ آہستہ کلائمکس پر پہنچ رہا ہے۔سپریم کورٹ نے حال ہی میں صدر زرداری کو لٹکانے ٹھان لی ہے جبکہ زرداری تمام مشکلات اور دباﺅ کے باوجود بھی اپنے عہدے پر جمے ہوئے ہیں۔ تازہ حالت یہ ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ نے موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو صدر زرداری کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں کرپشن کے معاملے کھولنے کے لئے خط لکھنے کے لئے 25 جولائی تک مہلت دی ہے۔ اس سے معاملے میں یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کی کرسی گنوا چکے ہیں۔ اس کے بعد ہی اشرف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسا کی سربراہی والی پانچ نکاتی بنچ نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیر اعظم سوئس حکومت کو خط لکھ کر25 جولائی کو ہونے والی سماعت کے دوران اس معاملے پر اپنی رپورٹ دیںگے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بنچ نے آئین کے تحت وزیر اعظم کے خلاف مناسب کارروائی کی بات بھی کہی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فرمان زرداری سرکارکے تازہ بل کے بعد آیا ہے۔ صدر زرداری نے فرمان آنے سے پہلے ایک توہین عدالت بل پر دستخط کئے ہیں۔ جس میں سینئر لیڈروں کو عدالتی توہین سے مستثنیٰ رکھنے کی سہولت رکھی گئی ہے۔ عدالتی توہین بل 2012 اب قانونی شکل لے چکا ہے یہ قانون موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ کی ممکنہ توہین سے بچانے کے لئے لایا گیا ہے اور صدر زرداری کی حفاظت کے لئے یہ کام آئے گا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں توہین عدالت کا بل2012 پاس ہونے کے بعد صدر نے بھی اسے اپنی منظوری دے دی ہے۔ کوئی بھی عدالت اس بل کے مطابق اب صدر ، وزیر اعظم اور فیڈرل وزیر اور گورنر کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ نہیں چلا سکے گی۔ زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میںکرپشن کے معاملے کھولنے سے متعلق مقدمے سپریم کورٹ میں شروع ہونے کے کچھ گھنٹے پہلے ہی صدر زرداری نے اس بل پر دستخط کئے تھے۔ یہ قانون سال 2003 اور 2004 میں اس وقت کے فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے ذریعے عدالت کی توہین سے متعلق جاری آرڈیننس کی جگہ لے گا۔ یہ بل نچلے ایوان یعنی نیشنل اسمبلی میں پیر کے روز پاس ہوا تھا۔ بڑے ایوان سینیٹ میں گرما گرم بحث کے بعد اس کو بدھ کو پاس کیا گیا۔ حکمراں پیپلز پارٹی کے ممبران کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ ایک سیاسی حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہا ہے اور ان کی سرکار گرانے پر آمادہ ہے۔ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کی لعنت سے لڑ رہا ہے دیش میں اس وقت بجلی کا بحران اور اقتصادی بحران جاری ہے اور دیش کی سیاست عدم استحکام کو ایک لمبے عرصے سے برداشت کررہی ہے۔ پاکستان کی سویلین حکومت اور پاکستان فوج میں جب سے پرویز مشرف کو 2008 میں ہٹایا گیا تھا زبردست اقتدار کے لئے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ نئے قانون کو یقینی طور سے قانونی چنوتی ملے گی۔ سارا تازہ 2007 سے شروع ہوا اور اس وقت صدر مشرف نے نیشنل ری کنسیلی ایشن آرڈیننس کے ذریعے قریب 8 ہزار لوگوں پر چل رہے کرپشن کے معاملے ختم کردئے تھے۔ اس کا فائدہ صدر زرداری اور رحمان ملک کو بھی ملا تھا۔ دسمبر2009ءمیں سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے صدر سمیت سبھی لوگوں کے خلاف معاملے پھر سے کھولنے کے احکامات دئے تھے۔ سال 2008 میں سوئس انتظامیہ نے پاکستان حکومت کی اپیل پر زرداری کے خلاف چھ کروڑ ڈالر کے غبن کے معاملے کو بند کردیا تھا اس جھگڑے میں پاکستانی عوام بری طرح پھنسی ہوئی ہے اور کچھ حد تک بٹ بھی گئی ہے ۔ کچھ کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ ضرورت سے زیادہ بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کا کہنا ہے کہ وہ دیش میں کرپشن کو ختم کرکے ہی دم لیںگے۔ جہاں تک صدر زرداری کا سوال ہے عوام میں بہت ہی غیر مقبول ہیں اور ان سے نجات چاہتے ہیں۔ لیکن عوام دیش سے جمہوریت کو ختم نہیں ہونے دینا چاہتی۔ انہیں ڈر ہے کہ سرکار اور سپریم کورٹ کی اس لڑائی کا فائدہ کئی پاکستانی فوج پھر سے نہ اٹھا لے اور اقتدار پر قابض ہوجائے۔ ایک راستہ ہے اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات ۔یہ زرداری کروانے کوتیار نہیں وہ زیادہ سے زیادہ دن اقتدار سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ کھیل کتنے دن اور چلے گا یہ دیکھنا باقی ہے۔