Translater

08 نومبر 2014

پاکستان کی آتنک وادیوں سے مدد، امریکہ نے کی تصدیق!

ہندوستان سے ہمیشہ سے ہی یہ خیال رہا ہے کہ پاکستان ان جہادی دہشت گرد تنظیموں سے ہر طرح سے مدد لے رہا ہے اور ایک طرح سے ان آتنکی تنظیموں کی مدد سے پاکستان میں بھارت کے خلاف ایک درپردہ جنگ چھڑی ہوئی ہے۔اب اس کی تصدیق امریکی ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پنٹاگان نے کردی ہے۔ اس نے اپنی شش ماہی رپورٹ میں صاف طور پر لکھا ہے کہ پاکستان اپنے طاقتور پڑوسی کے خلاف آتنکی تنظیموں کا کھل کر سہارا لے رہا ہے۔ امریکی کانگریس نے پیش اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان یہ جانتا ہے کہ ہندوستانی فوج اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور وہ وقت آنے پر سیدھے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لئے وہ آتنکیوں کی مدد کرتا ہے۔ پینٹاگان نے اپنی رپورٹ میں افغانستان کے حالات کے بارے میں غور و خوض کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان اور بھارت میں حملے کو انجام دینے والے پاکستان کی سرزمیں سے مسلسل اپنا کام لے رہے ہیں۔ پاکستان اس کا استعمال افغانستان میں اس کے دبدبے میںآئی کمی کے خلاف اور ہندوستانی فوج کے مقابلے کیلئے کررہا ہے۔ 100 صفحات سے زیادہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے آتنکیوں کے ساتھ میں یہ تعلقات پاکستان کے اس کھلے موقف کے برعکس ہے جس کے تحت اس نے افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے علاقائی تعاون دینے کی حمایت کی تھی۔ افغانستان کے حیرات میں ہندوستانی سفارتخانے پر ہوئے حملے کا بھی پینٹاگان نے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے سے ٹھیک پہلے کیا گیا ۔ حملے کے پیچھے لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔ ادھر گذشتہ ایتوار کو واگھہ سرحد پر خوفناک دھماکہ کرنے والے دہشت گرد گروپوں نے بھارت کے خلاف زہر اگلتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار کے نام نہاد ترجمان احسان اللہ احسان نے پیرکو اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مودی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تم سینکڑوں مسلمانوں کے قاتل ہو، ہم کشمیر اور گجرات میں بے قصور لوگوں پر ظلم کا بدلہ لیں گے۔ مودی کو پچھلے15 روز کے دوران کم سے کم دو بار سرحد پار کے آتنکی جہادی گروپوں سے ہونے والے خطروں کے تئیں آگاہ کیا جاچکا ہے۔ جہادی گروپ پاکستان کے جنگ زدہ نارتھ مغربی حصے کے علاوہ بھارت میں ان کے اتحادی گروپ بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ جہادی تنظیمیں اور اس کے نیتا باز نہیں آرہے ہیں۔ آتنکی سرغنہ حافظ سعید پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے آتنکی ٹریننگ کیمپ میں ڈیرا ڈال کر باڑ میں چھپے نوجوانوں کو ورغلانے اور انہیں آتنکی آگ میں جھونکنے کی سازش رچ رہا ہے۔ اس کے لئے وہ لشکر اور طالبان جیسی تنظیموں کو اکسا بھی رہا ہے۔سیلاب سے بیروز گار ہوئے نوجوانوں کی سرکاری طور پر بھرتی کریں۔ بدامنی اور بے کاری کے انہی حالات کو حافظ اور اس کے گرگے اوزار بنانا چاہتے ہیں۔ ویسے ان کا نشانہ جموں وکشمیر کو آنے والے چناؤ میں رخنہ بھی ڈالنا ہے۔ ایسی کوششیں ہر بار ہوتی ہیں لیکن ریاست میں ہندوستانی جمہوریہ کے ماتحت جمہوری چناؤ اتنی بار پورا ہوچکا ہے کہ اب دنیا جھوٹی بکواس پر توجہ نہیں دیتی۔ سکیورٹی فورس وہاں بہت اچھا کام کررہی ہیں لیکن حافظ سعید جیسے سازشی کو بے نقاب اور ناکام کرنے کے ساتھ ہی کشمیری عوام سے سچے مدد گار کی شکل میں کھڑے ہوکر بھارت کو دوہرا کردار نبھانا ہوگا۔
(انل نریندر)

امریکی وسط مدتی چناؤ میں اوبامہ کو زبردست جھٹکا!

امریکی صدر براک اوبامہ کو وسط مدتی چناؤ میں زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کو اپوزیشن ری پبلکن پارٹی نے ان چناؤ میں پچھاڑ دیا ہے۔ منگل کو ہوئے اس چناؤ میں اپوزیشن ری پبلکن پارٹی نے نہ صرف سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی ہے بلکہ ایوان نمائندگان میں بھی آگے بڑھی ہے۔ ویسے نچلے ایوان پرتیندھی سبھا میں پارٹی پہلے سے ہی اکثریت میں ہے۔ مانا جاتا ہے کہ ان نتائج سے اوبامہ کے باقی بچے دو سال بیحد چیلنج بھرے ہوسکتے ہیں۔ ادھر سیاسی تجزیہ کاروں نے دیش بھر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے طاقتور لیڈروں کی ہار کو ری پبلکن پارٹی کی لہر کا نتیجہ بتایا۔ کہا جاتا ہے کہ چناؤ کو صدر براک اوبامہ کے کام کاج پر ریفرنڈم مانا جارہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی نے صدر اوبامہ کے پورے عہد میں بہت جارحانہ اور اڑیل رخ اپنایا تھا۔ امریکی سیاست کا یہ چلن ہے کہ وسیع اختلافات کے باوجود دونوں پارٹیاں پارلیمانی کام کاج میں تعاون دیتی ہیں اور یہ تعاون پچھلے کچھ برسوں سے بہت گھٹ گیا ہے اور اس سے صدر اوبامہ کئی اہم فیصلے نہیں لے پائے۔ ری پبلکن پارٹی نے اسے ایسے پروپگنڈہ کیا کہ اوبامہ ایک ٹیلنٹ اور چست ایڈمنسٹریٹر نہیں ہیں۔ ری پبلکن کو سینیٹ میں اکثریت کے لئے 6 سیٹیں چاہئے تھیں مگر اس نے چناؤ میں7 سیٹیں جیتیں ، جس سے اس کی پوزیشن کافی مضبوط ہوگئی ہے۔ 8 سال بعد ری پبلکن پارٹی کو سینیٹ میں اکثریت ملی۔ اس چناؤ میں ری پبلکن ایوان نمائندگان کی سبھی 435 سیٹیں سینیٹ کی 100 میں سے36 سیٹیں اور 50 میں سے36 ریاستوں کے گورنروں کے عہدے کیلئے چناؤ ہوئے تھے۔ تازہ اعدادو شمار کے مطابق ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ کی 100 میں سے52 سیٹیں حاصل کرلی ہیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی سیٹوں کی تعداد 43 ہے۔ ابھی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سیٹوں کی تعداد53 اور ری پبلکن کی تعداد43 ہے۔ ری پبلکن کو ایوان نمائندگان میں بھی اکثریت مل رہی ہے۔پارٹی ریکارڈ 246 سیٹوں پر آگے تھی۔ 60 سال میں پہلی بار صدر ہیری ٹیومن انتظامیہ کے دوران اسے سیٹیں ملی تھیں جبکہ 8 سیٹوں کے نقصان کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی 157 سیٹوں پر بڑھت بنائے ہوئے تھی۔ ابھی ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹیوں کی سیٹوں کی تعداد199 ہے جبکہ ری پبلکن کے پاس 237 سیٹیں ہیں۔ اس چناؤ کو صدر براک اوبامہ کے کام کاج اور پالیسیوں پر ریفرنڈم مانا جارہا ہے۔ صاف ہے امریکی عوام نے اس کی پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے۔ اوبامہ کی مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہا ہے۔ اس سے گھبرا کر تقریباً سبھی ڈیموکریٹک امیدواروں نے ان سے چناؤ کمپین سے دور رہنے کی درخواست کی تھی۔ دراصل عراق میں آئی ایس دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر اور دیش کی معیشت کو سنبھالنے کیلئے کارگر قدم نہ اٹھا پانے کے لئے اوبامہ کی نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔ اب بچے دو سال کا عہد ان کے لئے بیحد مشکل ہونے والا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ صدر اوبامہ کی مقبولیت اس وقت بہت کم ہوگئی ہے دو سال پہلے اچھی اکثریت کے ساتھ دوسری بار صدر چنے جانے کے بعد اوبامہ اچانک سست اور بے یقینی والے صدر لگنے لگے ہیں۔ چاہے ہیلتھ سیکٹر میں بہتری ہو یا وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی میں دراندازی کا معاملہ ہو، اوبامہ کی ساکھ کافی گری ہے۔ بطور منتظم ان کا گراف بھی گرا ہے۔ امریکہ میں بسے ہندوستانی لوگوں کے بڑھتے اثر کا انداز اس چناؤ کے نتیجوں سے لگنے لگا ہے۔ منگلوار کو ہوئے وسط مدتی چناؤ کی دوڑ میں شامل ہندوستانی امریکی امیدواروں میں سے کئی اپنی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔ مسلسل دوسری بار چن کر آنے والی ساؤتھ کیرولینا کی گورنر نکی ہیلی کیلیفورنیا کی آٹارنی جنرل کملا ہیرس اور تلسی گوارڈ کا نام اس فہرست میں سب سے اوپر آتا ہے۔ امریکی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ امریکہ کے چناؤ میں ہندوستانیوں کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔ قانون کی پڑھائی کرنے والے ہندوستانی نژاد نیرج اٹمی سب سے کم عمر میں امریکی چناؤ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار اٹمی محض23 سال کے ہیں۔ مغربی ورجینیا سے کامیابی حاصل کرنے والی سامرا بلیئر سب سے کم عمر کی امیدوار ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑی سامرا کی عمر محض18 سال ہے۔ انہوں نے 44 سالہ اپنے حریف کو ہرا کر ایوان نمائندگان میں جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے 63 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ اپوزیشن براک اوبامہ کو گھیرنے کی اب پوری کوشش کرے گی اور ان کی مقبولی کا گراف اور نیچے لانے میں لگی رہے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اوبامہ ان چیلنج کا سامنا کس طرح سے کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

07 نومبر 2014

کیا واگھہ بارڈر دھماکے کا نشانہ پاک نہیں بھارت تھا؟

پاکستان کے صوبے پنجاب میں واقع واگھہ بارڈر کے پاس ایک ہوٹل کے باہر ایتوار کی شام 5.50 منٹ پر ایک طاقتور بم پھٹا۔ اس خودکشی حملہ آور کے دھماکے سے کم سے کم55 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ واگھہ بارڈر پر ریٹریٹ سیریمنی کے فوراً بعداس دھماکے نے ہندوستانی سکیورٹی فورس کی بھی نیند اڑادی ہے۔ وی ایس ایف کا خیال ہے کہ سیریمنی کے دوران اگر دھماکہ ہوتا تو وہاں موجودہ15 ہزار سے زیادہ ہندوستانی ناظرین میں بھگدڑ مچ سکتی تھی۔ ایتوار ہونے کی وجہ سے ریٹریٹ سیریمنی دیکھنے آئے لوگوں کی تعداد عام دنوں سے بہت زیادہ تھی۔بی ایس ایف کے لئے راحت کی بات یہ تھی کہ شام 5:05 بجے پر دھماکے کے وقت اس طرف کے زیادہ تر ناظرین نکل چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی علاقے میں کوئی بڑا حادثہ ہونے سے ٹل گیا۔ پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل مشتاق کھوکھیڑا نے ایک سوال کے جواب میں بتایا بارڈر پر حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے لیکن خودکش دھماکے کو روکنا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا محرم کو دیکھنے ہوئے ایسی اطلاع تھی کہ کچھ ممنوعہ تنظیم شیعہ مسلمانوں اور مذہبی لوگوں اور پبلک پروگراموں اور اہم عمارتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ جہاں دھماکہ ہوا وہاں سے پریڈ تقریباً600 میٹر اندر فاصلے پر ہوئی تھی۔ فدائی حملہ آور 4 سکیورٹی چیک پوسٹ کو پارکرنے میں کامیاب رہا۔ وہ ریٹریٹ سیریمنی میں بھی بھیڑ آنے کا انتظار کررہا تھا۔ اس کا مقصد ریٹریٹ سیریمنی کو بالکل قریب سے دیکھنے کا تھا اور آخری چیک پوسٹ پر وہ پھنس گیا۔ اسے پریڈ کے گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔ اس نے وہیں خودکو دھماکہ کے ساتھ اڑالیا۔ القاعدہ سے وابستہ آتنکی تنظیم جوداللہ نے فدائی حملے کی ذمہ داری لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان احمد بھروال نے پاکستانی میڈیا کو فون پر بتایا یہ حملہ پاکستانی فوج کے ذریعے وزیرستان میں فوجی کارروائی جہادِ عجب کے خلاف جوابی کارروائی ہے۔ یہ معاملہ صرف پاکستان کا اندرونی معاملہ نہیں ہے اس سے بھارت کے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں کیونکہ سڑک راستہ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے لوگوں کی آمدورفت کا یہ سب سے بڑااور آسان راستہ ہے۔ یہ تو جانچ سے ہی پتہ چلے گا کہ حملے کے پیچھے یہی تنظیم ہے یا اور کوئی؟ ان کا اصل مقصدکیا تھا؟ ہندوستانی خفیہ ایجنسی کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے آتنکیوں کے نشانے پر پاکستان نہیں بھارت تھا۔ وہ بھارت کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور بیٹنگ ریٹریٹ پروگرام کے دوران ہی دھماکہ کرنا چاہتے تھے لیکن غلط اندازے کے چلتے انہوں نے پاکستان میں ہی دھماکہ کردیا۔ پاکستانی پولیس نے بتایا کہ سرحد کے پاس ہتھیاروں اور دھماکوں سامان کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ سے ہی ایک اور سوسائٹ جیکٹ ملی ہے جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد ایک سے زیادہ تھی۔ 20 سے زیادہ مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان مسلسل آتنکواد سے لڑ رہا ہے اسی کے چلتے وہاں کی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیر ستان میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی چھیڑ رکھی ہے۔اگر دوسری طرف سرکاری سطح پر پاکستانی طالبان سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرنے کے اشارے ملتے ہیں اگر یہ حملہ جیسا کہ اندیشہ جتایا جارہا ہے پاکستانی سکیورٹی فورس کو نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا تھا، تب تو وہاں کی پوری سکیورٹی مشینری کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ مگر دہشت گردی پر پاکستان دوہرانظریہ اپناتا آیا ہے جس سے نقصان خود پاکستان کو ہورہا ہے۔ یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں ہے پاکستان سے لگی افغان سرحدیں آتنکیوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہیں جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان ویسے ہی ایک ناکام ملک بن گیا ہے جو بدامنی کی گرفت میں آچکا ہے۔ حکومت کا فوج آئی ایس آئی، طالبان اور جہادی تنظیموں پر کنٹرول نہیں ہے۔ط آتنکی تنظیموں کی خودکش دستوں کے ذریعے آسان جگہوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی بہت خطرناک ہے اس لئے بھی ہمیں اپنے دیش کی خفیہ مشینری کو بہت مضبوط بنانے کی سخت ضرورت ہے۔ دہشت کے اس کھیل میں دہشت کی چنوتیاں خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہیں۔ واگھہ دھماکہ اس کا ایک ٹریلر ہے۔
(انل نریندر)

نقلی سونا رکھ کر 33 کروڑ کا قرضہ لینے والے شاطر جعلساز!

دھن لکشمی بینک کی شکایت پر دہلی پولیس کی اقتصادیات ونگ نے ٹھگی کرنے والے پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور15 سے زائد فی الحال پولیس کے ہاتھ نہیں لگ پائے۔ یہ سبھی ملزمان بینک سے 33 کروڑ روپے ٹھگنے کے معاملے میں شامل ہیں۔کرائم برانچ کے ڈی سی پی منگیشکر کا کہنا ہے کہ دھن لکشمی بینک کے افسر مرلی دھرن کی شکایت پر کرائم برانچ نے ملزم رام پرکاش ، وجے منچندہ، دشینت منچندہ، شتروگھن نائک اور رویندر کمار کو گرفتار کرلیاہے۔ ان کی گرفتاری سے دو معاملے سلجھ گئے ہیں۔ شکایت میں بتایا گیا ہے ان کا بینک دھن لکشمی سونے کے زیورات گروی رکھ کر لوگوں کو قرضے دیتا ہے۔ زیورات میں سونے کے وزن کو بینک کے افسر جانچنے کے بعد ہی رقم طے کرتے ہیں۔ بینک نے جب اپنے سطح پر جمع زیورات کی جانچ کرائی تو سومناتھ گوبل کے ذریعے رکھے گئے زیورات میں سونے کی مقدار نا کے برابر تھی۔ اس شکایت پرکرائم برانچ نے معاملہ درج کیا اور چھان بین شروع کردی۔ بینک کی طرف سے دوسری شکایت میں مرلی دھرن نے بتایا کہ وجے منچندہ اور ان کے 16 ساتھیوں نے بینک میں نقلی زیور رکھ کر 11 کروڑ روپے کا قرضہ لیا۔ جلد ہی ملزمان کی پہچان کرلی جائے گی۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سومناتھ گوبل اور وجے منچندہ سب سے پہلے سال2010ء میں بینک کے رابطے میں آئے تھے اور 2013ء میں سومناتھ گوبل نے اپنے14 ساتھیوں کے ساتھ77 بار سونا گروی رکھ کر21.60 کروڑ روپے کا قرضہ لیا۔ یہ لون قرولباغ ،کناٹ پلیس کی برانچ سے لیاگیا۔ ادھر وجے منچندہ نے اپنے 16 ساتھیوں سمیت نقلی سونا دے کر بینک سے الگ الگ 11 کروڑ روپے کا قرضہ لیا۔ ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے 12 فیصدی سالانہ سود پر بینک سے لون لیا۔ اس رقم کو بینک سے لیکر انہوں نے بازار میں کاروباریوں کو20 سے24 فیصدی سالانہ سود پر دے دیا۔ اس طرح سے اتنی بڑی رقم پر وہ 8 سے12 فیصدی سالانہ منافع کما رہے تھے تاکہ بینک کو کوئی شک نہ ہو اس لئے وہ بینک کو ماہانہ سود بھی وقت پر چکا رہے تھے۔ حالانکہ سونے کی جانچ پر ان کے ذریعے کی گئی جعلسازی سامنے آگئی اور پولیس کو دی گئی شکایت میں بینک کے حکام نے اپنے ہی ملازمین پر شبہ جتایا۔ شکایت میں بتایا گیا ہے کہ بغیر ان کی ملی بھگت کے اس طرح سے نقلی سونے کو گروی نہیں رکھا جاسکتا۔ایک طرف جہاں پولیس نے فی الحال اس معاملے میں کسی بھی بینک ملازم کو گرفتار نہیں کیا وہیں معاملے کو درج ہونے کے وقت سے بینک افسر درجن بھر سے زیادہ ملازمین کو معطل کر چکی ہے اور یہ ملازمین ان کی قرولباغ اور کناٹ پلیس کی برانچوں میں کام کرتے تھے۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سبھی ملزمان کم پڑھے لکھے ہیں۔ رام پرکاش 10 ویں پڑھا ہے، وجے منچندہ سرائے روہیلا میں رہتا ہے وہ بھی دسویں پاس ہے۔ اس کا بیٹا بھی اتنا ہی تعلیم یافتہ ہے۔ شتروگھن نائک نیتا جی نگر میں رہتا ہے وہ بھی اتنا ہی پڑھا ہے۔ راجندر کمار بدھ وہار میں رہتا ہے وہ بارہویں پاس ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ بیشک وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن جعلسازی میں ماہر ہیں تبھی تو نقلی سونا رکھ کر33 کروڑ روپے کا قرضہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔
(انل نریندر)

06 نومبر 2014

مودی ۔ شاہ دہلی میں جوڑ توڑ سے سرکار بنانے کے خلاف تھے!

دہلی اسمبلی چناؤ کو لیکر پچھلے کئی مہینے سے رکاوٹ اور سسپینس ختم ہوگیا۔ مرکزی حکومت نے دہلی اسمبلی کو بھنگ کرنے کی سفارش کربھی دی ہے۔ تازہ اطلاع کے مطابق اسمبلی صدر محترم نے بھنگ کردی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کیبنٹ نے یہ فیصلہ منگل کی شام دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی اس رپورٹ کے بعد لیا جس میں انہوں نے کہا تھا کوئی بڑی پارٹی سرکار بنانے کی خواہش مند نہیں ہے۔ اب صدر محترم کی مہر لگنے کے بعد اسمبلی بھنگ کردینے کانوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ پھر سے ہوں گے۔اسمبلی بھنگ ہوتے ہی تینوں اسمبلی سیٹوں کے ضمنی چناؤ کا عمل بھی منسوخ ہوگیا ہے۔ اگر یہ ہی فیصلہ پہلے آجاتا تو ممکن تھا جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر انتخابات کے ساتھ ہی دہلی اسمبلی کے چناؤ بھی ہوجاتے۔ دہلی کے شہریوں کونئی حکومت مل جاتی۔ اب قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ چناؤ جنوری یا فروری میں کرائے جاسکتے ہیں۔ دہلی میں 24گھنٹے کے اندر سرکار بنانے جیسے دعوؤں کے بعد آخر کار بھاجپا کے ممبران اسمبلی کو چناؤ میدان میں اترنے کا ہی فیصلہ لینا پڑا۔ زیادہ تر ممبر اسمبلی دہلی میں جوڑتوڑ سے سرکار بنانے کے حامی تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ایتوار کی دیر رات اس معاملے پر بھاجپا کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے صاف کہہ دیا ،دہلی میں چناؤ ہوں گے اور جوڑ توڑ کرکے سرکار بنانے کے وہ خلاف ہیں۔ امت شاہ نے تو دو دن پہلے ہی دہلی کے لیڈروں سے صاف کہہ دیا تھا کہ پارٹی سرکار بنائے گی تو بھرپور اکثریت کے ساتھ بنائے گی کیونکہ دہلی میں سیاسی صورتحال دوسری ریاستوں سے الگ ہے۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی کی حالت بھی مضحکہ خیز ہوگئی ہے۔ وہ پچھلے کچھ عرصے سے مانگ کررہی تھی چناؤ کرائے جانے چاہئیں۔ مگر اب پارٹی کے نیتاؤں کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر کو پہلے ہی اسمبلی بھنگ کرنے کا فیصلہ کرنا چاہئے تھا اور بھاجپا کو اتنے دن تک گول مول باتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں۔ مگر اسمبلی بھنگ کرنا یا نہ کرنا لیفٹیننٹ گورنر کے دائرہ اختیار میں ہے۔انہوں نے تقریباً 8 مہینے تک مختلف متبادل کی تلاش کرنے کے بعد پایا کے ریاست میں چناؤ کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں بچتا کیونکہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے بھاجپا نے دوسری بار حکومت بنانے سے لاچاری ظاہر کردی ہے اس لئے اب دوبارہ چناؤ کرانا ہی ایک واحد متبادل راستہ بچا ہے۔ مہاراشٹر ،ہریانہ میں جیت کے بعد بھاجپا بیحد گدگد ہے۔ سپریم کورٹ کے سخت تبصرے نے مرکزی سرکار پر دباؤ بنانے کا کام کیا۔ کیونکہ چناؤ کمیشن ضمنی چناؤ کا اعلان کردیا تھا اس لئے جلد فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوگئی تھی۔ امید کی جاتی ہے اس بار کے چناؤ میں جو پارٹی جیتے اسے واضح اکثریت ملے تب دہلی میں ٹھپ ترقیاتی کام شروع ہوسکیں گے۔ پنشن، راشن، بجلی پانی وغیرہ اشو پر منتخبہ سرکار بہتر فیصلہ کر سکے گی۔ مرکز میں متعلقہ بازاروں سے معاملوں کو منظور کرانے کیلئے ریاستی سرکار موثر قدم اٹھا پائے گی۔ کل ملاکر نئے چناؤ ہی سب سے بہتر متبادل تھا۔
(انل نریندر)

علاقائی پارٹیوں اور علاقائیت کے دور پر مودی بندش چاہتے ہیں!

1989ء کے عام چناؤ کے بعد بھاجپا اور لیفٹ مورچہ کی باہری حمایت سے وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی قیادت میں راشٹریہ مورچہ کی سرکار جب بنی تھی اس کے ساتھ ہی ایک پارٹی حکومت کی لمبی روایت پر بریک لگا تھا۔ تب سیاسی پنڈتوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ اب بھارت کی سیاست میں اتحادی سرکاروں کا بول بالا رہے گا۔ اس کے 25 برس بعد پہلی بار لوک سبھا میں کسی ایک پارٹی کو مکمل اکثریت ملی تو یہ اتحادی سیاست کو اور مضبوط کیا۔مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی چناؤ نتائجنے دکھا دیا ہے کہ وزیر اعظم نے من بنا لیا ہے کہ وہ ان صوبیداروں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ علاقائی پارٹیوں سے نجات چاہتے ہیں۔ کانگریس کو کمزور کرنے کے بعد اب مودی کے نشانے پر علاقائی پارٹیاں آنے والی ہیں۔ مودی دو بڑے صوبوں اترپردیش اور بہار میں بھاجپا کی سرکار بنوانے کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں چناؤ ہونے جارہے ہیں۔ مودی۔ شاہ کی جوڑی اب ان دونوں ریاستوں میں بھاجپا کا پرچم لہرانے کی کوشش میں لگ گئی ہے۔ مودی ۔ شاہ ایجنڈے کا مطلب یہ ہوا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی ۔ اترپردیش میں سپا۔بسپا کے لئے اور بہار میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے لئے چنوتی بڑھ گئی ہے۔ دونوں ہی ریاستوں میں کانگریس حاشیئے پر ہے اور ویسے بھی ان ریاستوں میں پارٹی سب سے آخری مقام پر پہنچی ہوئی ہے۔ بہار میں رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی پہلے ہی مودی کی پناہ میں آچکی ہے۔ یوپی میں انوپریا پٹیل کی پارٹی اپنا دل بھی لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے ساتھ آگیا تھا۔ مودی نے لوک سبھا چناؤ میں یوپی اور بہار میں جس طرح کا جادو دکھایاتھا اس کے پیش نظر یوپی میں ملائم سنگھ اور مایاوتی ، بہار میں لالو پرساد اور نتیش کمار کے لئے آنے والے دن چیلنج بھرے ہوں گے۔ جھارکھنڈ ۔جموں وکشمیر چناؤ کے بعد مودی۔ شاہ کی ٹیم پوری کوشش یوپی بہار میں علاقائی پارٹیوں کو صاف کرنے پر لگ جائے گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ سینٹرل اور مغربی اور نارتھ انڈیامیں بھاجپا کا دبدبہ تقریباً ویسا ہی ہوتا جارہا ہے جیسے1980 کی دہائی تک کانگریس کا ہوا کرتا تھا۔ ساؤتھ میں کرناٹک میں اس کی گہری پکڑ ہے جبکہ آندھرا اور تلنگانہ میں اس کی طاقت شباب پر ہے۔ یعنی آل انڈیا سطح پر پھیلنے کی سمت میں وہ گامزن ہے۔ اس دورے میں وہ کانگریس کو اس کے زیر اثر علاقوں سے تیزی سے بے دخل کررہی ہے ساتھ ہی اتحاد کی سیاست پر بھی روک لگانے میں مودی۔ شاہ کی ٹیم نے بریک لگایا ہے۔ سپا، بسپا ، آرجے ڈی، جے ڈی یو ، نیشنل کانفرنس جیسی علاقائی پارٹیوں کیلئے یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کے ساتھی اوم پرکاش چوٹالہ ، کلدیپ بشنوئی کا جو حال ہوا کیا وہی ان کا مستقبل ہے؟ لیکن اس پر اب انہیں ضرور سوچنا پڑے گا۔ اس وقت غیربھاجپائی سبھی پارٹیاں کسی نہ کسی وجہ سے کمزور حالت میں ہیں۔ تاملناڈو میں جے للتا کو قانونی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ بھاجپا اور مودی سے الگ راستہ اختیار کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتیں۔ مودی کا تاملناڈو ہی نہیں بلکہ کیرل تک بھاجپا کی مقبولیت قائم کرنے کا خواب ہے۔ اڑیسہ میں دیکھنا ہوگا کہ نوین پٹنائک اور ان کی پارٹی بیجو جنتادل کیا موقف اپناتی ہیں؟ بھاجپا اڑیسہ میں اپنا وجود قائم کرنا چاہتی ہے وہیں مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس لیڈر اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کی ساکھ دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں کا برا حال ہے۔ مودی سرکار ممتا کی گرتی مقبولیت کو بھنانا چاہ رہی ہے۔ مہاراشٹر میں این سی پی لیڈر شرد پوار اب بھاجپا سے قربت بنانے کیلئے بے چین ہیں۔ ان حالات میں علاقائی پارٹیوں کے سامنے اپنے وجود کو بتانے کی چنوتی منہ پھاڑے سامنے کھڑی ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے ایجنڈے کی پول کھول کر بھاجپا اپنا ایجنڈا کھڑا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر وزیر اعظم مودی چناوی ریلیوں میں اٹھائے گئے اشوز اور وعدوں پر آدھا بھی عمل کرسکیں تو بھاجپا وراثتی علاقائی پارٹیوں کو حاشیئے پر لے جاکر سب کا صفایا کرکے مکمل قومی سیاست کی شروعات کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

04 نومبر 2014

ٹو جی گھوٹالے میں منی لانڈرنگ کیس میں پھنسا کروناندھی پریوار!

ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کا بڑا گھوٹالہ تو نیلامی کے بجائے ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی بنیاد پر ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کو لائسنس دینے کا تھا۔ سی اے جی نے اس میں 1.76 لاکھ کروڑ کا نقصان ہونے کا دعوی کیا تھا لیکن نیرا راڈیہ کے ٹیپوں اور سی بی آئی جانچ سے پتہ چلا کہ سوان اور دیگر نااہل کمپنیوں نے لائسنس کے بدلے ہزاروں کروڑ کی رشوت دی۔ اس میں 200 کروڑ روپے کی رشوت کلیگنار ٹی وی تک پہنچائی گئی۔ اسی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر مواصلات اے۔ راجہ ، ڈی ایم کے کے چیف ایم کروناندھی کی بیوی دیالو امل اور ان کی بیٹی ایم پی کنی موجھی سمیت 16 لوگوں پر چارج شیٹ تیار کردی ہے۔یہ معاملہ ایک صنعتی گروپ کو ٹیلی کمیونی کیشن لائسنس دینے سے متعلق ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں200 کروڑ روپے کی رشوت لی گئی۔ کورٹ نے کہا پہلی نظر میں سبھی ملزمان پر معاملہ بنتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنا حکم سنانے کے بعد سبھی ملزمان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا الزام تسلیم کرتے ہیں؟ جس پر سبھی نے انکار کردیا۔ اس کے بعد عدالت نے کہا سبھی ملزمان پر مقدمہ چلایا جائے اور سبھی ملزمان پر 200 کروڑ روپے ڈی بی گروپ کے ذریعے کلیگن آر ٹی وی پرائیویٹ لمیٹڈ کو دینے کا الزام ہے۔ رشوت کی اس رقم کا لینا دینا حوالہ کے ذریعے کیا گیا۔ پٹیالہ ہاؤس نے اسپیشل جج او ۔پی سینی نے سبھی ملزمان کے خلاف مالی ترمیم روک تھام ایکٹ کی دفعہ 3-4 کے تحت الزامات طے کئے ہیں۔ اگر ان دفعات کے تحت وہ قصور وار پائے جاتے ہیں تو انہیں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ٹو جی گھوٹالے کے تار اتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں کہ اس سے جڑے تمام معاملوں کی جانچ اور عدالتی کارروائی کب تک چلے گی یہ بتانا فی الحال تقریباً ناممکن ہے۔ اس گھوٹالے کی جانچ سی بی آئی کررہی ہے لیکن معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ۔ سی بی آئی چیف رنجیت سنہا کو اس جانچ سے الگ کرنے کا بھی معاملہ چل رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ٹوجی گھوٹالے کے کچھ ملزمان نے ان کے گھر پر کئی بار ملاقات کی اور آزاد بھارت کی تاریخ میں جب بھی بڑے گھوٹالے کا ذکر ہوگا تو ٹوجی گھوٹالے کا نام خاص طور پر لیا جائے گا۔ قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کس طرح کی گئی ہے اس گھوٹالے سے پتہ چلتا ہے۔اس گھوٹالے کی وجہ سے دیش کو تو نقصان ہوا ہے ساتھ ہی دیش کی معیشت کی ترقی کی رفتار روکنے میں اس گھوٹالے کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس کی وجہ سے منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کو ایسا کرارا جھٹکا لگا کہ وہ اقتدار سے بھی باہر ہوگئے ہیں۔ نریندر مودی سرکار پر اب یہ منحصر کرتا ہے کہ وہ ایسے گھوٹالوں کو دوبارہ نہ ہونے دیں۔ دیش کے وسائل کے بٹوارے کی کارروائی شفافیت اور انصاف پر مبنی ہونی چاہئے مگر وسائل کا بٹوارہ وزرا کی خواہش اور بندر بانٹ کا ہوگا ایسے تو گھوٹالے ہوتے ہی رہیں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ سی بی آئی اس میں غیر جانبدارانہ اور ٹھیک ٹھاک کارروائی کررہی ہے اور قانون اپنا کام کررہا ہے۔ بیشک ملزمان نامی گرامی منتری اور بڑے صنعتکار اور کرپٹ صحافی و دلال ہی کیوں نہ ہوں۔
(انل نریندر)

سورگیہ اندرا گاندھی کی توہین!

31 اکتوبرایک ایسا دن ہوتا ہے جس دن ہندوستان کی ایکتا اور سالمیت میں اہم تعاون دینے والے دو بڑے نیتاؤں کو یاد کیا جاتا ہے۔ان میں سردار پٹیل کی جینتی و سابق وزیر اعظم سورگیہ اندرا گاندھی کی برسی بھی ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں کھوئے مرد آہن سردار بلبھ بھائی پٹیل کی یاد تازہ کر اور انہیں قومی اتحاد کی علامت میں بدل کر دیش نے خود اپنا احترام بڑھایا ہے۔ آزادی کے وقت تقسیم کا الزام جھیل رہے ہندوستان کے پاس سردار جیسا مرد آہن و ارادوں والا ہیرو نہ رہا ہوتا تو پتہ نہیں یہ دیش کتنے ٹکڑوں میں بنٹ جاتا۔500 سے زیادہ ریاستوں کا ہندوستان میں الحاق کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کوئی حکمراں اپنا رتبہ اور شان و شوکت کھونا نہیں چاہتا تھا۔ بھارت سے جانے پر مجبور انگریز کوئی مدد نہیں کررہے تھے کیونکہ وہ دیش کو بٹا ہوا بکھرا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن سردار پٹیل نے پختہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگریزوں کی امید کو توڑ کر ان ریاستوں کا ہندوستان میں الحاق کروادیا۔ اگر سردار پٹیل نہ ہوتے تو پتہ نہیں بھارت کا نقشہ کیسا ہوتا۔ دیش کی نئی نسل کو یقیناًسردار پٹیل جیسے فولادی اور قوت ارادی کے ماہر شخص کی جانکاری ہونی چاہئے اور مودی سرکار کے ذریعے سردار پٹیل کی 39 ویں جینتی کو قومی ایکتا دوس کی شکل میں منانے کا خیر مقدم کرنا چاہئے لیکن وہیں ہندوستان کی دوسری عظیم لیڈر سورگیہ محترمہ اندرا گاندھی کو بھی بھلایا نہیں جاسکتا، جیسا مودی سرکار نے کیا ہے۔ اندرا جی کا اشتراک کم نہیں ہے۔ کانگریس نے مرکزی سرکار کی اس بات کے لئے نکتہ چینی کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی شہادت کو بھلا رہی ہے۔ کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ نریندر مودی سرکار نے اندرا گاندھی کے یومِ شہادت کو جس طرح سے منایا وہ بہت خراب اور گھٹیا نظریئے کی علامت ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے کہا یہ چھوٹی ذہنیت کی علامت ہے اور جانبدارانہ رویہ ہے اور ان لوگوں کے تئیں بے عزتی ہے جنہوں نے دیش کے لئے اپنی جان قربان کردی۔ خاص کر اندرا گاندھی جنہوں نے دیش کے اتحاد کیلئے اپنی زندگی کی قربانی دی۔ کانگریس لیڈر شپ والی پچھلی سرکاریں اور میڈیا اور اسکیموں کے ساتھ اندرا جی کی شہادت کو منایا کرتی تھی۔ آنند شرما نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ مودی نے ایکتا دوڑ کو ہری جھنڈی دکھائی لیکن ہمارے وقت کی مہان لیڈروں میں سے ایک عظیم قربانی دینے والی شخصیت کا ذکر تک نہیں کیا۔ کانگریس نیتا منیش تیواری نے کہا اندرا گاندھی کی شہادت کا احترام کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی سرکار یہ نہیں کرتی تو وہ اپنے فرض سے بھاگ رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے جمعہ کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی شہادت پر ان کی سمادھی شکتی استھل پر منعقدہ تقریب میں بھی حصہ نہیں لیا۔ جہاں صدر پرنب مکھرجی، نائب صدر حامد انصاری و کانگریس کے بڑے نیتاؤں گلہائے عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے بھی اندرا گاندھی کی شہادت کے موقعے پر ان کی سمادھی جا کر انہیں شردھانجلی دی تھی۔ ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی کو اندرا گاندھی کی سمادھی شکتی استھل پر منعقدہ پروگرام میں شرکت کرنی چاہئے تھی۔ آپ دیش کے وزیر اعظم ہیں اور اندرا جی بھی دیش کی وزیر اعظم تھیں آپ کے ذاتی مفادات کے لئے اندرا جی جیسی عظیم لیڈر کو نظرانداز کرنا زیب نہیں دیتا۔
(انل نریندر)

02 نومبر 2014

دہلی میں دنگے بھڑکانے کی خطرناک سازش!

مشرقی دہلی کے ترلوکپوری علاقے میں دیوالی کے دن دو فرقوں کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی کے بادل اب آہستہ آہستہ چھٹنے لگے ہیں۔ کرفیو میں 12 گھنٹے کی ڈھیل دی گئی ہے لیکن محرم اور جاگرن ابھی بھی دہلی پولیس کے لئے چنوتی بنے ہوئے ہیں۔پولیس کو ان 6 لوگوں کی تلاش ہے جن پر دنگا بھڑکانے کے مقدمے درج ہیں اور فرار ہیں۔ علاقے میں ہوئی آتشزنی کے سبب ایتوار کودیر رات دفعہ144 لگا دی گئی تھی۔ اس روز ایک دوکان میں آگ لگانے کے بعد علاقے میں یہ دفعہ لگا کر پولیس نے حالات پر قابو پالیا۔ چھٹھ پوجا کے بعد پولیس اب محرم کے جلوس کی حفاظت کیلئے تیاری میں لگی ہے۔ لوگوں کو یہ بتانے کو کہا گیا ہے کہ وہ کس طرح منائیں گے تاکہ ٹھیک تیاریاں کی جاسکتیں۔ اسکول بند ہیں، جس کے سبب بچوں کی پڑھائی پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوکری پیشہ لوگ دفعہ144 کے سبب اپنے کام پر نہیں جا پارہے ہیں۔ علاقے میں ہوئے دنگے کے دوران پولیس 68 لوگوں اب تک گرفتار کر چکی ہے۔ ترلوکپوری میں پہلی بار منگلوار کو ڈرون جہاز کا استعمال کیا گیا۔جو علاقے پر نگرانی کررہا ہے۔ دیش میں پہلی بار دہلی پولیس نے دنگے کے دوران صبح ڈرون کیمرے سے علاقے کے 8 بلاکوں کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد پولیس نے ان بلاکوں کے گھروں کی چھت پر رکھی ہوئیں سودا اور شراب کی بوتلیں اور چاقو برآمد کئے ہیں۔ ڈرون سے معائنے کا مقصد گھروں کی چھتوں پر چھپا کر رکھے گئے پتھر اینٹیں اور دیگر ہتھیار برآمد کرنا تھا۔ ترلوک پوری میں بلوے کی رپورٹنگ کے دوران منگلوار کی صبح ایک رپورٹر راجیش سروہا کی پٹائی کا معاملہ میں سامنے آیا۔ وویک وہار تھانے کے انچارج نے بتایا کہ راجیش کی پٹائی پولیس والوں نے اس لئے کی کہ وہ بلاک11 کے پاس موجود پولیس والوں کے منع کرنے کے باوجود اندر جانے کیلئے بضد تھا۔دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے متعلقہ پولیس افسر کے خلاف کاروائی کا یقین دلایا ہے۔ دہلی پولیس اس وقت ہائی الرٹ پر ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کا کہنا ہے کہ محرم اور چناؤ سے پہلے دہلی کو دنگے کی آگ میں جھونکنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔ اس طرح کی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر دہلی پولیس کو چوکس کیا گیا۔ انٹیلی جنس کی رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ترلوک پوری میں حالات بگڑنے کے بعد سوشل سائٹ کے ذریعے افواہ پھیلا کر باقی علاقوں میں دنگا بھڑکانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ ان میں جمنا پار کا علاقہ خاص کر نشانے پر ہے۔ اس کے علاوہ خاص فرقے والے علاقوں میں فساد کرانے کی بھی سازش کی جاسکتی ہے۔افواہ پھیلانے والوں پر لگام لگانے کیلئے پولیس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دنگوں کی سازش کچھ شرارتی عناصر کررہے ہیں۔ اندیشہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو اکسانے میں انڈین مجاہدین سے رابطہ رکھنے والے عناصر ہو سکتے ہیں۔دہلی پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ علاقے میں پولیس مسلسل امن قائم کرنے کیلئے پوری نگرانی کررہی ہے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ دہلی کے باشندوں کو بھی چوکنا رہنا ہوگا تاکہ شرارتی عناصر اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
(انل نریندر)

125 فٹ لمبی سرنگ کھود کر لاکروں سے سنسنی خیز چوری!

ہریانہ کے گوہانا میں 21 ویں صدی میں دنیا بھر میں چونکانے والی حالیہ ایک چوری ہوئی، جس میں چوروں نے ایک12 فٹ لمبی سرنگ بنا کر پنجاب نیشنل بینک کے سیف ڈیپازٹ لاکر روم میں گھس کر بینک کے لاکروں سے کروڑوں روپے کے زیورات اور نقدی چوری کرلی۔ جس خالی گھر کا استعمال چوروں نے سرنگ بنانے کیلئے کیا تھا اس کے مالک نے اپنے خلاف معاملہ درج ہونے کے فوراً بعد مبینہ طور سے زہریلی چیز کھا کر خودکشی کرلی۔ پولیس کے مطابق گوہانا میں اس کے گھر کے ذریعے پنجاب نیشنل بینک کے لاکر تک 125 فٹ لمبی سرنگ کھودی گئی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ارون سنگھ نے بتایا کہ گذشتہ27 اکتوبر کو گوہانا کے پنجاب نیشنل بینک سے نقب زنی کرکے 86 لاکروں کو توڑ کر کروڑوں روپے مالیت کے زیورات چوری کرلئے گئے تھے۔ پولیس نے 72 گھنٹے کے اندر ان سنسنی خیز چوری کے ملزمان میں سے دو کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ان دونوں ملزمان سریندر عرف کالا،بلراج عرف بلو کوگاؤں کی لٹھ سرحد سے گرفتار کیا گیا۔ دونوں ملزمان نے پوچھ تاچھ میں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس واردات کو انجام دیاتھا۔ اس واردات کو انجام دینے کے لئے انہوں نے قریب ڈیڑھ ماہ پہلے بینک کے پیچھے خالی پڑے مکان کے اندر سے کرسی، کھرپا اور گیتی سے سرنگ کھودنے کا کام شروع کیا تھا اور ایک جیک کے ذریعے بینک کے فرش کو توڑا تھا۔ روہت رینج کے آئی جی اے۔ کے راؤ نے بتایا کہ ہم نے جمعرات کو تین لوگوں کو گرفتار کیا۔ یہ تینوں سونی پت ضلع کے کٹوال گاؤں کے باشندے ہیں۔ ہم نے ان سے قریب24 کلو گرام زیورات اور کچھ نقدی بھی برآمد کی ہے۔ پولیس کے مطابق قریب ڈیڑھ ماہ تک یومیہ چار پانچ گھنٹے کھدائی کر پانچ لوگوں نے سرنگ بنا کر اس واردات کو انجام دیاتھا۔ ملزم رات کے وقت چار پانچ گھنٹے کھدائی کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک ملزم سرنگ کھودتا تھا تو دوسرا مٹی اٹھا کر تیسرے کو دیتا تھا اور یہاں سے تیسرا مٹی کو کٹوں میں بھرتا تھا اور چوتھا ملزم دوسرے کمرے میں جاکر ڈال آتا تھا۔ اور ایک دوسرا آس پاس نظر بنائے رکھتا تھا۔ ان چورتوں نے 125 فٹ لمبی اور 2.5 فٹ چوڑی سرنگ کھودی تھی۔ 27 اکتوبر کی صبح بینک کی برانچ کھلنے پر معاملہ سامنے آیا۔ بلیک منی کیلئے اب سوئس بینک سیف نہیں رہ گئے ہیں لیکن جس پراپرٹی پر آپ نے ٹیکس چکایا ہے وہ بھی بینک لاکر میں محفوظ نہیں ہے۔ ریزرو بینک کی گائڈ لائنس کہتی ہیں کہ لاکر میں رکھنے والے سامان کے لئے بینک ذمہ دار نہیں ہے۔ بینک کا کام صرف لاکر کو محفوظ رکھا ہے۔ اس معاملے میں بینکنگ کورڈ اینڈ اسٹینڈرڈ بورڈ آف انڈیا کے سی ای او نارائن راجہ نے بتایا کہ لاکر میں کیا سامان رکھا ہے، بینک کو اس کا پتہ نہیں ہوتا اس لئے بینک کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ لاکر میں رکھے سامان کا تو بیمہ نہیں ہوتا۔ اس معاملے میں قانون کنزیومر کے خلاف اور کسٹومر کو نہ صرف یہ ثابت کرنا ہوتا ہے لاکر کو لوٹا گیا ہے بلکہ اسے نقصان کے ثبوت بھی دینے پڑتے ہیں۔ گوہانا کییہ فلمی اسٹائل چوری سب کے لئے ایک سنسنی بن چکی ہے۔چور ضرور کسی فلم کو دیکھ کر اس حکمت عملی میں کامیاب ہوئے ہوں گے۔ اس طرح فلموں کا اثر پڑتا ہی ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...